شیعوں پر عبداللہ ابن سبا کی پیروکاری اور صحابہ کی توہین کا الزام لگا کر کافر کہنے والے مخالفین دراصل خود پیروکارِ ابن سبا اور صحابہ کی توہین کرنے والے ہیں
حوالہ :  https://www.facebook.com/1564062957163959

یوں تو شیعان علی کے خالف پروپگینڈے کے لیئے کئی جھوٹی کہانیاں گڑھی گئی ہیں لیکن ان تمام کہانیوں میں سے سب سے زیادہ جس کہانی پر مخالفین انحصار کرتے ہیں وہ عبداللہ ابن سبا کی کہانی ہے۔
ان کے مطابق عبداللہ ابن سبا عرف "ابن السوداء" کے نام کا ایک یہودی مسلمانوں کی صفحوں میں شامل ہوا جس نے حضرت علی (ع) کی امامت کا دعوٰی کیا اور ان کے دشمنوں سے برات کا اظہار کیا اور حضرت عثمان کے خلاف بغاوت و قتل کی قیادت بھی اسی نے کی۔ ان سب باتوں کی بنیاد پر مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ شیعہ مذہب کی بنیاد عبداللہ ابن سبا نے رکھی۔ مخالفین ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ ایک ایک صحابی کی عزت کی جائے اور ان کو برا کہنے والے کافر ہیں اور دوسری طرف خود صحابہ و تابعین کو عبداللہ ابن سبا کا پیروکار بھی مانتے ہیں۔
اب آتے ہیں حوالہ جات کی طرف۔ شیعہ دشمنی میں مشہور "شیخ عثمان بن محمد الخمیس" کے نام سے کون واقف نہیں۔اپنی کتاب میں یہودی عبداللہ ابن سبا عرف ابن السعوداء اور وہ لوگ جنہوں نے اس کے نظریات کو پھلایا، ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں
"
اور اس کے وہ وکلاء جنہوں نے اس کے عقائد کے پھیالنے میں حصہ لیا ان میں شامل ہیں الغافقی بن حرب، عبدالرحمان بن عدیس البلوی، کنانہ بن بشر، سودان بن حمران، عبداللہ بن زید بن ورقاء، عمرو بن الحمق الخزاعی، حرقوص بن زہیر، حکیم بن جبلہ، قتیرہ بن السکونی"
حقبہ من التاریخ، ص 131-130
اسی طرح اہل سنت کے قدیم علماء میں سے ایک علامہ احمد بن مسکویہ (421 ھ) نے اپنی کتاب "تجارب االمم" ص 293 میں لکھا ہے
"
خرج أهل مصر و معھم ابن السوداء، و كنانة بن بشر، و سودان بن حمران، و في أهل الكوفة زید بن صوحان، و األشتر النخعي، و في أهل البصرة حكیم بن جبلة و بشر بن شریح و أمیرهم حرقوص بن زهیر"
ترجمہ
"
اہل مصر نے خروج کیا اور ان میں شامل تھے ابن السوداء ، کنانہ بن بشر، سودان بن حمران اور اہل کوفہ جن میں شامل تھے زید بن سوہان، اشتر النخعی اور اہل بصرہ میں شامل تھے حکیم بن جبلہ اور بشر بن شریح اور ان کے سردار تھے حرقوص بن زہیر"
تو یہ وہ ان صحابہ و تابعین کی وہ فہرست ہے جو شیعہ مخالفین کے مطابق یہودی عبداللہ ابن سبا کے پیروکار تھے۔
آیئے اب حجت تمام کرنے کی غرض سے اس فہرست میں شامل ناموں پر مختصر سی روشنی ڈالتے ہیں۔ خیرالدین زرکلی جو اپنی کتاب "الاعلام" کی وجہ سے اہلسنت میں شہرت کے حامل ہیں جس میں انہوں نے مشہور و معروف شخصیات کی ایک کثیر تعداد کا تذکرہ یکجا کیا ہے، اپنی کتاب کی جلد 2 ص 316 میں لکھتے ہیں
"
عبدالرحمن بن عدیس بن عمرو البلوي شجاع صحابي ممن بایع تحت الشجرة شھد فتح مصر ثم كان قائد الجیش الذي بعثه ابن ابي حذیفة )والي مصر( إلى المدینة لخلع عثمان"
ترجمہ
"
عبدالرحمان بن عدیس بن عمرو البلوی، بہادر صحابی، جنہوں نے شجر کے نیچے بعیت کی تھی، وہ فتح مصر میں بھی شامل رہے، وہ اس فوج کے سربراہ تھے جسے ابن ابی حذیفہ (مصر کے حاکم) نے حضرت عثمان کو ہٹانے کی غرض سے مدینہ روانہ کی تھی۔"
یاد رہے کہ اہل سنت میں یوں تو تمام صحابہ کو اہمیت حاصل ہے لیکن شجر کے تحت جن صحابہ نے بیعت دی تھی انہیں ایک خاص مقام حاصل ہے اور ایسے ہی صحابہ میں سے ایک ہیں حضرت عبدالرحمان بن عدیس بن عمرو البلوی (رض) اور (بقول مخالفین) اس پیروکار ابن سبا سے اہل سنت کے کتاب میں احادیث میں روایت کی گئیں ہیں، دیکھیے المعجم الکبیر از امام طبرانی۔
اب ایک اور پیروکار ابن سبا کا ذکر ہوجائے جسے شیخ عثمان الخمیس نے اپنی فہرست میں شام کیا۔ خیرالدین زرکلی اپنی کتاب " الاعلام" ج 5 ص 67 میں تحریرکرتے ہیں
"
عمرو بن الحمق بن كاهل الخزاعي الكعبي صحابي من قتلة عثمان"
ترجمہ
"
عمرو بن الحمق الخزاعی الکعبی، صحابی تھے اور قاتالن عثمان میں شامل تھے"
گو کہ عبداللہ ابن سبا سے روایت شدہ ایک بھی حدیث کسی بھی شیعہ کتب میں موجود نہیں لیکن اس پیروکار ابن سبا سے روایت شدہ احادیث اہل سنت کے کتابوں میں دستیاب ہیں جن میں مسند احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ، المستدرک، سنن بیھقی، سنن النسائی، المعجم الطبرانی شامل ہیں۔
اب چلتے ہیں کنانہ بن بشر کی طرف۔ تاریخ دمشق، ج 55 ص 356 میں ہم پڑھتے ہیں
"
كنانة بن بشر بن سلمان ویقال بن بشر بن عتاب التجیبي األیدعاني أحد من سار إلى حصر عثمان وممن تولى قتله روى عنه حیان بن األعین بن نمیر بن سلیع الحضرمي"
ترجمہ
"
کنانہ بن بشر بن سلمان، جو کہ ابن بشر بن عتاب التجیبی االیدعانی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے عثمان کو محصور کیا تھا اور ان لوگوں میں بھی جنہوں نے عثمان کو قتل کیا تھا۔ ان سے عیان بن االعین بن نمیع بن سلیع الحضرمی نے روایت کی ہے"
آگے بڑھتے ہیں۔ خیرالدین زرکلی اپنی کتاب "الاعلام" ج 3 ص 362 میں تحریرکرتے ہیں
"
حرقوص بن زهیر بن السعدي الملقب بذي الخویصرة صحابي من بني تمیم"
ترجمہ
"
حرقوص بن زہیر بن سعدی جو کہ زی خویصرہ کے نام سے مشہور ہیں، صحابی تھے اور بنی تمیم سے تعلق رکھتے تھے"
ایک اور ابن سبا کے پیروکار کا تذکرہ کرتے ہیں جنہیں شیخ عثمان الخمس نے اپنی فہرست میں شمار کیا ہے۔ خیرالدین زرکلی اپنی کتاب "الاعلام" ج 3 ص 379 میں تحریرکرتے ہیں
"
حكیم بن جبلة العبدي من بني عبد القیس صحابي كان شریفا مطاعا من أشجع الناس والہ عثمان إمرة السند ولم یستطع دخولھا فعاد إلى البصرة واشترك في الفتنة أیام عثمان"
ترجمہ
"
حکیم بن جبلہ العبدی، ان کا تعلق بنی عبدالقیس سے تھا، صحابی تھے، شرفاء میں شمار ہوتا تھا، بہارد ترین لوگوں میں سے ایک تھے، عثمان نے انہیں فوج کا سربراہ بنا کر سندھ بھیجا تھا لیکن وہ فتح کرنے میں ناکام رہے لہٰذا وہ بصرہ لوٹ آئے اور عثمان کے دنوں میں فتنے میں حصہ لیا"
چلیں یہاں سے تو شیخ عثمان الخمیس کی کہی ہوئی بات کی تصدیق بھی ہوگئی کہ یہ مشہور و معروف جلیل القدر و بہادر صحابی رسول حضرت عثمان کے ایام حکمرانی میں ہونے والے فتنے میں بھی ملوث تھے۔ ظاہر ہے خیرالدین زرکلی نے انہیں اپنے انداز میں ابن سبا کا پیروکار کہدیا کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ نواصب حضرت عثمان کے خالف بغاوت و قتل کا سارا الزام ابن سبا کے سر ہی ڈالتے ہیں۔ اب بات ہوجائے اہل سنت کے مشہوراسکالر ابن خلدون۔ ابن خلدون اپنی تاریخ میں تحریر کرتے ہیں
"
وتأخر عمار بن یاسر بمصر واستماله ابن السوداء وأصحابه خالد بن ملجم وسودان بن حمران وكنانة بن بشر"
ترجمہ
"
عمار یاسر نے مصر سے واپس لوٹنے میں دیر کی جس پر ابن السوداء نے انہیں اپنی طرف مائل کرلیا ساتھیوں کے ساته جن میں شامل تھے خالد بن ملجم، سودان بن حمران اور کنانہ بن بشر۔"
دیکھ لے دنیا کے صحابہ کا احترام کون کرتا ہے اور انہیں یہیودی کا پیروکار کون کہتا ہے ! اختتام پر ہم آج کے دور کے سلفی عالم دین حسن بن فرحان المالکی کے الفاظ پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب "نحوالنقازالتاریخ" ص 63 میں تاریخ کے راوی و مصنف سیف بن عمر کی بیان کردہ روایات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں
"
فأنت تجد في روایاته أن أبا ذر وعمار بن یاسر من تالمیذ عبدهللا بن سبأ"
ترجمہ
"
سیف ابن عمر کی روایات میں آپ کو ملے گا کہ اس نے ابو زر اور عمار بن یاسر کو عبداللہ ابن سبا کے شاگردوں میں شمار کیا ہے"
اسی کتاب کے ص 349 پر لکھتے ہیں
"
فھو یذكر أبا ذر وعمار بن یاسر وعدي بن حاتم رضي اللہ عنھم وغیرهم یذكرهم في أعوان عبداللہ بن سبأ"
ترجمہ
"
سیف بن عمر نے ابو زر، عمار بن یاسر عدی بن حاتم رضی اللہ عنہم اور دیگر کو عبداللہ ابن سبا کا مددگار تحریر کیا ہے"
اس اڑٹیکل کو پڑھنے کے بعد قاریئن، مخالفین کے ان 3 متضاد عقائد کو سمجھنے کے قابل ہوجائینگے
1
۔ ایک ایک صحابی عزت کے قابل ہے، ان میں سے کسی کی بھی توہین کرنے واال کافر ہے۔ فلاح پانے کی لیئے کسی بھی صحابی کی پیروی کی جاسکتی ہے۔
2
۔ عبداللہ ابن سبا ایک یہودی تھا اور دشمن اسلام تھا اور شیعہ مذہب کا بانی تھا اور شیعہ مذہب کے عقائد اسی نے متعارف کرائے تھے۔ اسی نے حضرت عثمان کے خالف بغاوت اور ان کے قتل کی قیادت کی۔
3
۔ بعض صحابہ و تابعین عبداللہ ابن سبا کے پیروکار تھے۔
ظاہر ہے کہ یہ تینوں عقائد آپس میں متصادم ہیں ۔ اگر صحابی کی توہین کرنے والا کافر ہے تو خود یہ عقیدہ رکھنے والے افراد بھی خود کافر ٹھہرے کیونکہ انہی کا عقیدہ ہے کہ بعض صحابہ ایک دشمن اسلام یہودی کے پیروکار بن گئے تھے ۔
اور اگر شیعہ مخالفین اپنی پرانی رٹ لگاتے ہیں کہ شیعہ عبداللہ ابن سبا کے پیروکار ہیں تو خود ساتھ میں یہ بھی تو مانتے ہیں کہ صحابہ و تابعین بھی عبداللہ ابن سبا کے پیروکار تھے۔ اس کا کیا کیجیئے گا؟
یہاں ہم شیعہ مومنین کو مخاطب کرنا چاہتے ہیں اور کہنا چاہتے ہیں کہ بات ساری یہ ہے کہ جو لوگ آپ کو عبداللہ ابن سبا کا پیروکار ہونے کا الزام دیتے ہیں انہیں لوگوں نے اپنے صحابہ کو بھی نہ بخشا جن کی عزت کرنے کا لیکچر یہ لوگ ہر وقت دیتے رہتے ہیں انہیں بھی ابن سبا کا پیروکار قرار دے دیا تو آپ کیا چیز ہیں ان مخالفین کی نظروں میں؟

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ