عبد الوھاب کے امام ، احمد ابن تیمیہ جس کے آراء و افکار کی اس نے تقلید کی ہےاور جس کے عقائد کو اس نے اخذ کیا اور جس پر اپنے دین کی بنیاد رکھی اور نتیجہ میں صراط مستقیم سے نہ صرف خود بھٹکا  بلکہ اور بہت سے مسلمانوں کو بھی گمراہ کیا ہےاس کے بارے میں علماء کے اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔

حوالہ :  http://portal.tebyan.net/Portal /

چنانچہ علماء مکہ کے بقول جیسا کہ کتاب ” سیف الجبار المسلول علی اعداء الا برار،، طبع ترکیہ ۱۹۷۹ءء کے ص ۲۴ پر ہےکہ : بدبخت ابن تیمیہ کے دور کے علما نے اس کی گمراھی اور اس کے قید کر نے پر اجماع کیا ہےاور اعلان کیا گیا ہےکہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدوں پر ھو گا اس کا مال اور خون مباح ہے۔”کشف الظنون ،،ج۱ ص ۲۲۰ پر ہےکہ علماء نے اس کی رد میں بھت مبالغہ کیا ہےیھاں تک کہ تصریح کی ہےکہ یہ شخص (ابن تیمیہ ) جسے شیخ الاسلام کھا گیا ہے، کافر ہے، اس کی کتاب کی جلد ۲ ص ۱۴۳۸ پر ہے:ابن تیمیہ نے اپنی کتابالعرش وصفتہ ،، میں ذکر کیا ہےکہ خداوند عالم کرسی پر بیٹھتا ہےاور ایک جگہ خالی چھوڑ کر رکھی ہےجهاں رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم بیٹہیںگے۔ اس کو ابو حیان نے کتاب ” النھر،، میں قول خدا ”وسع کرسیہ السمٰوات والارض ،،کے ذیل میں لکھا ہے: میں نے احمد ابن تیمیہ کی کتاب ” العرش ،، میں اسی طرح پڑھاہے۔ انتھی

احمد ابن تیمیہ حرانی اور اس پر کئے گئے اعتراضات

          محمد ابن عبد الوھاب کے امام ، احمد ابن تیمیہ جس کے آراء و افکار کی اس نے تقلید کی ہےاور جس کے عقائد کو اس نے اخذ کیا اور جس پر اپنے دین کی بنیاد رکھی اور نتیجہ میں صراط مستقیم سے نہ صرف خود بھٹکا بلکہ اور بھت سے مسلمانوں کو بھی گمراہ کیا ہےاس کے بارے میں علماء کے اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔

چنانچہ علماء مکہ کے بقول جیسا کہ کتاب ” سیف الجبار المسلول علی اعداء الا برار،، طبع ترکیہ ۱۹۷۹ءء کے ص ۲۴ پر ہےکہ : بدبخت ابن تیمیہ کے دور کے علما نے اس کی گمراھی اور اس کے قید کر نے پر اجماع کیا ہےاور اعلان کیا گیا ہےکہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدوں پر ھو گا اس کا مال اور خون مباح ہے۔”کشف الظنون ،،ج۱ ص ۲۲۰ پر ہےکہ علماء نے اس کی رد میں بھت مبالغہ کیا ہےیھاں تک کہ تصریح کی ہےکہ یہ شخص (ابن تیمیہ ) جسے شیخ الاسلام کھا گیا ہے، کافر ہے، اس کی کتاب کی جلد ۲ ص ۱۴۳۸ پر ہے:ابن تیمیہ نے اپنی کتابالعرش وصفتہ ،، میں ذکر کیا ہےکہ خداوند عالم کرسی پر بیٹھتا ہےاور ایک جگہ خالی چھوڑ کر رکھی ہےجھاں رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم بیٹہیںگے۔

اس کو ابو حیان نے کتاب ” النھر،، میں قول خدا ”وسع کرسیہ السمٰوات والارض ،،کے ذیل میں لکھا ہے: میں نے احمد ابن تیمیہ کی کتاب ” العرش ،، میں اسی طرح پڑھاہے۔ انتھی اور اسی کتاب کے ص ۱۰۷۸ پر احمد ابن تیمیہ جنبلی کی ایک کتاب بنام ”الصراط المستقیم والرد علی اھل الجحیم ،، کا ذکر کیا ہےاور اسی میں ایسی باتیں لکھی ہیںجن کا تذکرہ کرنا مناسب نہیںہےمثلا عبد الله ابن عباس کو کافر قرار دینا ۔حصینی نے اپنی کتاب میں اس کی رد لکھی ہے۔ جامعہ ا زھر کے ایک عالم شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی نے اپنی کتاب ” تطھیر الفواد من دنس الا عتقاد ،،میںص۹ پر ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا ہےکہ اس نے اپنی کتاب ”الواسطہ ،، وغیرہ کی تالیف کی تو ایسی باتیں گڑہیںجن سے مسلمانوں کے اجماع کو پارہ کر دیا ۔اس نے کتاب خدا ، صریح سنت اور سلف صالح کی مخالفت کی ھے۔

اپنی فاسد عقل کا مطیع ھوا ہےاور جان بوجہ کر گمراہ ھواہے۔اس کا معبود اس کی ھوائے نفس ھے۔ اسے یہ گمان ھوا ہےکہ جو کچہ اس نے بیان کیا ہےحق ہےحالانکہ وہ حق نہیںہےبلکہ یہ جھوٹ اور قول منکر ہے،اور اسی کتاب کے ص۱۳پر ہے:یہ کتاب ابن تیمیہ کی بھت سی من گڑھت باتوں پر مشتمل ہےجوکتاب و سنّت اور جماعت مسلمین کے مخالف ہے۔

اور صفحھ۱۰ /۱۱پر ھے:وہ برابر اکابر کے پیچہےپڑا رھا یھاں تک کہ اس کے زمانے والے اس کے خلاف مجتمع ھوئے اسے فاسق قرار دیا اور بدعتی ٹھھرایا بلکہ ان میں سے زیا دہ لوگوں نے اسے کافر قرار دیا ۔

اور صفحہ ۱۷پر ہے:اپنے زمانے میں ابن تیمیہ کا وتیرہ ادب اورھر زمانے میں اس کے پیروٴوں کا یھی طریقہ رھا ہےکھ:

یقولون آمنّا بالله و بالیوم الاخروما ھم بمومنین ،یخادعون اللهوالذین آمنوا وما یخدعون الاانفسھم وما یشعرون ،،

 یہ لوگ کھتے ہیںکہ ھم الله اور روز قیامت پر ایمان لائے ہیںحالانکہ یہ مومن نہیںہیں۔یہ الله کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیںحالانکہ یہ خود اپنے کو دھوکہ دے رہےہیںاور انہیںاس کا احساس نہیںہے۔،،

موٴلف کھتا ہے:یہ منافقیں کی صفت ہےجسے خدا وند عالم نے اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔

اور یافعی نے ”مرآةالجنان ،،ج۴/ص۲۴۰طبع حیدرآباد دکن ۱۳۳۹ھئمطبع دائرةالمعارف النظامیہ میں ابن تیمیہ کے بعض مھمل اقوال کا ذکر کیا ہےمثلاًلکھا ھے:خدا حقیقتاًعرش پر بیٹھا ہےاور الفاظ وآواز سے گفتگو کرتا ہےپھرلکھا ہےکہ دمشق میںیہ اعلا ن کردیا گیا کہ جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدہ پر ھوگا اس کی جان اور اس کا مال مباح ہے۔

اور صفحھ۲۷۸پر۷۲۸ ئکے واقعات کے سلسلہ میں ہے:اس (ابن تیمیہ )کے عجیب وغریب مسائل ہیںجن کے بارے میں اس پر طعن وتشنیع کی گئی ہےاورجن کے سبب مذھب اھل سنّت ترک کرنے کی خاطر اسے قید کیا گیا ۔پھر اس کی بھت سی برائیوں کو شمار کراتے ھوئے لکھا ہےکھ:اس کی قبیح ترین برائی یہ تھی کہ اس نے پیغبر اسلام صلّی الله علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے منع کر دیا تھا ۔آپ پر اور دوسرے اولیاء خدا اور اس کے برگزیدہ بندوں پر طعن و تشنیع کی تھی اور اسی طرح مسٴلہ طلاق وغیرہ کے سلسلہ میں اس کا مسلک اور جھت کے بارے میں اس کا عقیدہ اور اس بارے میں جوباطل اقوال اس سے نقل ھوئے ہیںیہ سب اور اس کے علاوہ اور بھی بھت سی باتیں اس کے قبائح میں سے ہیں۔

شیخ ابن حجر ھیتمی نے ”تحفہ ،،میں لکھا ہے:خدا کی جسمیت یا اس کے جھت میں ھونے کا دعویٰ ایساہےکہ اگر کوئی اس کا عقیدہ رکہےتو کافر ہے۔سفینةالراغب ص۴۴ طبع بولاق مصر ۱۲۵۵ ئ

شیخ یوسف نبھانی نے اپنی کتاب ”شواھدالحق ،،کے صفحہ ۱۷۷پر لکھا ہے:چوتھا باب ،ابن تیمیہ کے اوپرعلماء مذاھب اربعہ کے اعتراضات کی عبارتیں اور اس کی کتابوں پر کئے گئے ایرادات اور بعض اھم مسائل جیسے خدا وندعالم کا ایک خاص جھت وسمت میں ھونا ،کے بارے میں اھل سنّت کی مخالفت کے بیان میں ۔پھر ایک جماعت کا ذکر کیا ہےجنھوں نے اس پر طعن کیاہےلکھا ہے:

انہیںطعن کرنے والوں میں سے امام ابوحیان ھیںجو ابن تیمیہ کے دوست تہے۔جب اس کی بدعتوں سے با خبر ھوئے تو اس کو بالکل چھوڑ دیا اور لوگوں کو اس سے دور رھنے کی تاکید کی ۔اور انہیںمیں سے امام عزالدین ابن جماعةہیںانہوں نے اس کی رد کی ہےاور اسے برا کھا ہے۔،،

انہیںمیں سے ملا علی قاری حنفی ہیںانہوں نے شفاء کی شرح میں لکھا ہے:

حنبلیوں میں سے ابن تیمیہ نے افراط سے کام لیا چنانچہ اس نے زیارت نبی کے لئے سفر کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔اسی طرح اس کے مقابل والے نے بھی افراط سے کام لیا ہےچنانچہ کھا ہے:زیارت کا باعث تقرب خدا ھونا ضرویات دین میں سے ہےاور اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔اور شاید یہ دوسرا قول حق سے قریب ہےکیونکہ جس کے مستحب ونے پر اجماع ھو اس کا حرام قراردینا کفر ھوگاکیونکہ یہ مباح متفق علیہ کے حرام قرار دینے سے بڑہ کر ھے۔

اور انہی میں سے شباب الدین خفاجی حنفی  ہیں جن کے کلام کو اس طرح ذکر کیا ہے:ابن تیمیہ نے ایسی خرافات باتیں لکھی ہیں جن کا ذکر کرنا مناسب نہیںکیونکہ یہ باتیں کسی عقلمند انسان کی ھو ھی نہیں سکتیں چہ جائیکہ ایک پڑہے لکھےآدمی کی زبان اورقلم سے صادر ہو ں ۔چنانچہ ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ ”قبر پیغمبر اسلام کی زیارت حرام کام ہے،،کذب محض،لغو  ہےاوربکواس ہے۔ اس کا یہ کھنا     ” اس کے بارے میں کوئی نقل موجود نہیں ہے،،باطل ہےکیونکہ امام مالک ،امام احمد ،اور امام شافعی رضی  الله عنھم کا  مذہب یہ ہےکہ سلام و دعا  میں  قبر شریف کی طرف رخ کرنا مستحب ہےاور یہ بات ان بزرگوں کی کتابوںمیں درج ہے۔

اور انہیں میں سے امام محمدزرقانی مالکی ہیں۔(بنھانی نے ان کے کچھ  کلام کو مواھب لدنیہ کی شرح میں نقل کیا ہےجسے ہم یہاں پیش کررہےہیں:

لیکن ابن تیمیہ نے اپنے لئے ایک جدید مذہب ایجاد کیا ہےاور وہ ہےقبروں کی تعظیم نہ کرنا ۰۰۰ کیا یہ شخص جس بات کا علم نہیں   رکھتا اس کے جھٹلانے سے شرماتاہے؟ اور ابن تیمیہ کی طعن وتشنیع کے سلسلے میں اپنی پھلی والی بات دہرائی ہے۔

اور انہیں میں سے امام کمال الدین ز ملکانی شافعی متوفی۷۲۷ ھ   نے  کشف الظنون میں ان کی ایک کتاب”الذرةا لمضیہ  فی الرد علی ابن تیمیہ ،،کا ذکر کیا ہےانہوں نے ان مسائل میں اس سے مناظرہ کیا ہےجن میں وہ  مذاہب  اربعہ سے منحرف ہوگیا ہےاور ان میں قبیح ترین مسئلہ اس کا انبیاء وصالحین خصوصاًسیدالمرسلین کی قبروں کی زیارت اور آپ کے وسیلہ سے خدا سے مانگنے کو منع کرنا ہے۔

اور انہیں میں سے امام کبیرشہیر تقی الدین سبکی شافعی ہیں(ابن تیمیہ پر اعتراضات کو ان کی کتاب شفاء السقام فی زیارت خیر الانام علیہ السلا م سے نقل کیا ہے) اس کتاب میں انہوں نے اسے بدعتی کہا ہے۔ اور انہیں میں سے حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی ہیں(انہوں نے اپنی کتاب فتح الباری فی شرح البخاری میں اس پر رد کی ہے)اور انہیں میں سے امام عبد الروٴوف منادی شافعی ہیں انہوں نے شرح شمائل میں کہا ہے :اور  ابن قیّم کا اپنے شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے یہ کھناکہ ”مصطفی صلّی الله علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے پرور دگارکو اپنے دونوں شانوں کے درمیان اپنے ہاتھ رکھ کر دکھائے تو خدااس جگہ کو بالوں کو نوازا ۔اس کی ردشارح یعنی ابن حجرمکّی نے اس طرح کی بات ان دو نوں (ابن تیمیہ وابن قیم)کی بد ترین گمراہی ہے  اور یہ ان دونوں کے اس عقیدہ پر مبنی ہےکہ خدا جھت اور جسم رکھتا ھے۔خدا وند عالم ظالموں کے اس قول سے کہیں بزرگ وبرتر ہےاس کے بعد منادی نے لکھا ہے :اب میں کھتا ہوں ان دونوںکا بدعتیوں میں سے ہونا مسلّم ہے۔

اور انہیں میں سے ہمارے دوست عالم با عمل ،فاضل کامل ، شیخ مصطفی ابن احمد سطی جنبلی دمشقی حفظ الله وجزا ہ الله احسن الجزا ء ہیں۔ مو صوف نے ایک مخصوص رسالہ تالیف کیا ہے جس کا نام ( النقول الشرعیہ فی الرد علی الو ھابیة ) ھے۔انہیںمیں سے امام شھاب الدین احمد بن حجر ھیثمی مکی شافعی ہیں انہوں نے ابن تیمیہ پر بھت سخت ردو تنقید کی ہے ۔

اور نبھانی نے شواھدالحق کے ص ۱۹۱ پر پھلے تو ان لوگوں کے نام نقل کئے ہیں جنہوں نے ابن تیمہ کو طعن و تشنیع کی اور جن کا ذکر ابھی گزرا ہے ۔ اس کے بعد کہتے ہیں : لھذا ثابت ہوا  اور آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہوا کہ علماء مذ ہب اربعہ نے ابن تیمیہ کی بد عتوں کے رد کرنے پر اتفاق کیا ہے اور کچہ علماء نے اس کی نقل کی صحت پر طعن کیا ہے تو بھلا جن مسائل میں دین سے انحراف کیا ہے اور اجماع مسلمین کی مخالفت کی ہے خاص کر ان مسائل میں جو سید المر سلین سے متعلق ہیں اس کی کھلی ہوئی غلطی پر سخت طعن وتشنیع کیوں نہ کرتے ۔

حنفیوں میں سے جنہوں نے اس کی نقل کے صحیح ہونے پر طعن کیا ہے شھاب الدین خفاجی شارح الشفا ء ہیں جن کا ذکر گزر چکا ہے ۔ اور مالکیوں میں سے امام زرقانی ہیںشرح مواہب میں ، یہ تذ کرہ بھی گزر چکا ہے۔ اور شافیوں میں سے امام سبکی  ہیں جیسا کہ ان کی کتاب شفاء السقام میں مذ کور ہےاس میں انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ ابن تیمیہ کی رائے غلط ہے بلکہ اس کے نقل کئے ہوئے وہ احکام شرعیہ بھی صحیح نہیں ہیںجس کے ذریعہ اس نے اپنی بدعت کی تقویت پر استدلال کیا ہےاور انہیںمذاھب اربعہ کی طرف منسوب کیا ہےحالانکہ ائمہ مذا ھب اربعہ نے وہ احکام نہیں بیان کئے ہیں ۔اسی طرح اس کے نقل کی عدم صحت کا ذکر امام ابن حجر ھیثمی نے بھی اس کے اوپر اپنے اعترا ضات میں کیا ہےاور یہ بات پو شیدہ نہیں ہےکہ یہ چیز ایک عالم کے اندر بہت بڑاعیب اور بہت بڑا اخلاقی جرم ہےجو اس پر اعتماد کو ضعیف کر دیتا ہےاور اس کے منقولات کے اعتبار کو ساقط کر دیتا ہےچاہےوہ احفظ حفاظ اورا علم علماء میں سے ہو اور ابن تیمیہ کے منقو لات کے معتبر نہ ہونے کی تقویت اس قول سے بھی ہوتی ہےجو اس کے بارے میں حافظ عراقی نے کہا ہے۔ کلام نھبانی تمام ہوا ۔شواھد الحق ص ۱۷۷تا ۱۹۱

ابن تیمیہ کا ذکر ڈاکٹر حامد حفنی داوؤد حنفی نے بھی اپنی کتاب ( نظرات فی الکتب الخالدة) ص ۳۱ مطبوعہ مصر ۱۳۹۹ء دارالمعلم للطباعة میں کیا ہےاور اسے بدعتی قرار دیا ہےاور حاشیہ میں اس کلمہ پر نوٹ لگایا ہےکہ : اکثر علماء اہل سنّت نے اس کے بد عتی ہونے کا قول اختیار کیا ہےرہ گئے صوفیہ تو انہوں نے اس پر اجماع کیا ہے، امام تقی الدین سبکی اور ابن تیمیہ کے درمیان فقہ وعقیدہ کے اکثر گوشوں کے بارے میں خط وکتابت ہوتی ہے۔دیکھئے ہماری کتاب (التشریع الا سلامی  فی مصر ) انتھی ۔

عبدالغنی حمادہ اپنی کتاب ( فضل الذاکرین والرد علی المنکر ین ) طبع سوریہ  اَدْلَبْ  ۹ ۱ ۱۳ء ص ۲۳ پر اس طرح وہا بیت  پر طعن کر تے ہیں:

شیخ  وھابیت ابن تیمیہ کے بارے میں علامہ مصر علاء الدین بخاری نے لکھاہےکہ : ابن تیمیہ کافر ہےجیسا کہ اس کے زمانے کے بزر گ عالم زین الدین حنبلی نے کہا ہےکہ میرا اعتقاد یہ ہےکہ ابن تیمیہ کافر ہےاور کہتے تھےکہ امام سبکی رضی الله عنہ ابن تیمیہ کی تکفیر سے معذور ہیں کیونکہ اس نے امت اسلامیہ کو کافرقرار دیا ہےاور اسے قول خدا :”اتخذ وااحبار ہم ورہبانہم ار بابا من دون الله ،،کی تفسیر کر تے ہوئے یہودو نصاریٰ سے تشبیہ دی ہے۔ علماء مذاھب نے لکھا ہےکہ : ابن تیمیہ زندیق ہےکیونکہ وہ پیغمبر اسلام اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی توہین کرتا تھا اور اس کی کتابیں خدا وند عالم کی تشبیہ اور اسے صاحب جسم قرار دینے سے بھری ہوئی ہیں۔

اور اس کے زمانے کے علامہ ابن حجر رضی الله عنہ نے کھا ہے۔ ابن تیمیہ ایک ایسا بندہ ہےجسے خدا نے رسوا ، گمراھ، اندھا ، بھرا اور ذلیل کیا ہے۔اس کے خلاف مذاھب اربعہ میں سے اس کے دور کے علماء اٹھ کھڑے ہوئے اور اکثر نے اس کو فاسق اور کافر قرار دیا ہے۔علماء نے کہا ہےکہ ابن تیمیہ نے صحابہ کرام رضی الله عنھم کو کافر قرار دینے میں خوارج کے مذ ھب کا اتباع کیا ہے۔

اور ائمہ حفاظ نے کہا ہےکہ ابن تیمیہ خوارج میں سے ہے،جھوٹا ہے، شریر ہے، افترا پر داز ہے۔”فضل الذا کرین ،،میں لفظ بہ لفظ مو جود ہے۔

اور ابو حامد مرزوق شامی نے اپنی کتاب ۔” التوسل بالنّبی  وبا لصالحین ،،مطبوعہ تر کیہ طبع آفسٹ ۸۴ ۱۹ ءء کے ص ۴ پر لکھا ھے:

ایک بار  ابن تیمیہ نے دمشق کے ممبر پر جانے کے بعد کہا : ” خدا وند عالم اسی طرح عرش سے اتر تا ہےجیسے میں ممبر سے اتر رہا ہوں اور ایک زینہ نیچے اتر کر دکھایا ہے، ، اس کے بعد ابو حامد نے لکھا ہےکہ اس واقعہ کو دیکھنے والوں میں فقیہ سیاح ابن بطوطہ مغری بھی ہیں اور ” التوسل بالنّبی وبالصالحین ،،کے ص ۶ پر ابن تیمیہ سے نقل کیا ہےکہ ابن تیمیہ نے لکھا ہےکہ ” خدا حق تعالیٰ عرش کے اوپر ہے،، اور اسی کتاب کے ص ۲۱۶ پر کتاب ”( دفع شبہ من شبّہ وتمرّد ،،طبع مصر ۵۰ ۱۳ء ہ م طبع عیسیٰ حلبی ، تصنیف ابو بکر حصنی  دمشقی متوفی ۸۲۹ ء )سے نقل کر تے ہوئے لکھا ہےکہ مصنف مذکور نے ابن تیمیہ کے بارے میں کہا ہے:” میں نے اس خبیث (ابن تیمیہ ) کے کلام کو دیکھا جس کے دل میں انحراف کا مرض ہےجو فتنہ پیدا کر نے کے لئے متشابہ آیات و احادیث کا اتباع کر تا ہےاور عوام و غیر عوام میں سے ان لوگوں نے اس کی پیروی کی جس کے ہلاک کر نے کا خدا نے ارادہ کیا تھا ، میں نے اس میں ایسی باتیں پائیں  جن کو  ا دا کر نے کی مجھ میں قدرت نہیں ہےاور نہ میری انگلیوں اورقلم میں انہیں تحریر کر نے کی جراٴت ہےکیو نکہ اس نے پر وردگار عالم کی  اس بات پر تکذیب  کی ہےکہ اس نے کتاب مبین میں اپنے کو منزہ قرار دیا ہے۔اسی طرح اس کے بر گزیدہ اور منتخب افراد خلفاء راشدین اور ان کے صالح پیروکاروں کی توہین اور عیب جوئی کی ہےلھذا میں نے ان کا ذکر کرنا مناسب نہ جانا اور صرف ان باتوں کو ذکر کیا  جنہیں   ائمہ متقین نے ذکر کیا تھا اور جن پر ان کا اتفاق ہےوہ یہ کی ابن تیمیہ بد عتی اور دین سے خارج  ہے۔

حافظ ابن حجر نے ” الفتاوی الحدیثیہ ،، ص ۸۶ پر لکھا ہےکہ ” ابن تیمیہ ایسا بندہ ہےجسے خدا نے رسوا ، گمراہ ، اندھا ، بھرہ ، اور ذلیل بنا دیا ہےاور اسی بات کی تصریح ان اماموں نے بھی کی ہےجنھوں نے اس کے فاسد ہونے اور اس کی باتوں کو جھوٹ ہونے کا بیان کیا ہےاور جو شخص اسے جاننا چاھتا ھو وہ امام مجتھد ابوالحسن سبکی جن کی ،امامت ، جلالت ، شان اور مرتبہ اجتھاد تک پھنچنے پر اتفاق ہےان کے اور ان کے فرزند تاج اور شیخ امام عزّ بن جماعہ اور شافعیہ ، مالکیہ ، حنفیہ ، میں سے ان کے ھم عصر علماء کے کلام کو ملا حظہ کریں ، ابن تیمیہ نے صرف متاخرین صوفیہ کے اوپر اعتراض کرنے پر اکتفاء نہیں کی ہےبلکہ عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب رضی الله عنھما ،، جیسے حضرات پر بھی اعتراض کیا ھے۔

خلاصہ یہ کہ اس کے کلام کی کوئی قدرو قیمت نہیںہےاور چاھئے کہ اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بد عتی گمراہ ،گمراہ کن ، جاھل اور غلو کر نے والا ہے، خدا اس کے ساتھ اپنے عدل سے معاملہ کرے اور ھمیں اس کے طریقہ ، عقیدہ ، اور عمل سے محفوظ رکہے۔ آمین ۔

کلام ابن حجر تمام ھوا اسے ھم نے تطھیر الفواد من دنس الا عتقاد ص ۹ طبع مصر ۱۳۱۸ ء ہ تصنیف شیخ محمد نجیت مطیعی حنفی سے نقل کیا ھے۔

اس کے بعد کھا کہ وہ خدا کے لئے سمت کا قائل ہےجس کا لازمی نتیجہ یہ ہےکہ وہ خدا کے لئے جسمیت ، محاذات ،اور استقرار کا قائل ہے۔

کتاب ”التوسل با لنّبی وبا لصالحین ،، میں ابن تیمیہ پر اور بھی بھت سے طعن ہیںجن کو چند عناوین کے تحت ذکر کیا ہے، جو حسب ذیل ہیں۔

۰ علّامہ شھاب الدین احمد بن یحییٰ حلبی کی جہت  کے بارے میں ابن تیمیہ پر رد۔

۰ ابن تیمیہ کے اس زعم کا ابطال کہ خدا حق تعالیٰ عرش کے اوپر ہے۔

۰ عقیدہ ابن تیمیہ جس کے سبب اس نے جماعت مسلمین سے مخالفت کی ہےاور انہیں  برا کہا ہےجسے قر آن میں طعن کر نے والے او باش ملحدین سے حاصل کیا ہے۔

۰ ابن تیمیہ کی تمام علماء اسلام سے مخالفت ۔

ابن تیمیہ کے فتوٴوں کے نمو نے

عالم کبیر شیخ محمد  بخیت حنفی  عالم جامعہ ا زھرنے اپنی کتاب ”تطھر الفواد من دنس الا عتقاد ،،طبع مصر مطبو عہ ۱۳۱۸ئکے ص ۱۲ پر اس شخص کے کچھ فتوؤں کا ذکر کیا ہےجن میں سے بعض نمو نے ہم یہاں پر پیش کر رہے  ہیں تا  کہ ایک غیر جانبدارقاری کو اس کے انحراف ، فاسد عقیدے اور منحرف فتوؤں میں علماء اسلام سے اس کی مخالفت کا زیا دہ سے زیا دہ علم ہو سکے ۔

اگر کو ئی شخص جان بو جہ کر نماز تر ک کر دے تو اس کی قضا وا جب نہیں ہے۔

حیض والی عورت کے لئے خانہ ء کعبہ   کا طواف کرنا جائز ہےاور اس پر کوئی کفارہ نہیں ھے۔

تین طلاق ایک طلاق کی طرف پلٹایا جائے گا“   اور   اس بات کا دعویٰ کر نے سے پھلے خود اسی نے نقل کیا ہےکہ اجماع مسلمین اس کے بر خلاف ہے۔

جس اونٹ کے پیر کی موٹی والی نسیں کاٹ دی گئی ھوں وہ کاٹنے والے کے لئے حلال ہےاور وہ جب تاجروں سے لے لیا جائے تو زکوٰة کے عوض کافی ہےاگر چہ زکوٰة کے نام سے نہ لیا گیا ہو ۔،،

 بھنے والی چیزوں میں اگر جاندار مثلا چوھا مر جائے تو یہ چیزیں نجس نہیں ہو تیں

 جنب کو چاہئے کہ حالت جنا بت میں نافلہ شب پڑہےاور تا خیر نہ کرے کہ فجر سے پھلے غسل کر کے پڑہےگا اگر چہ اپنے ہی شھر میں ہو ۔

 ” وقف کرنے والے کی شرط کا کوئی اعتبار نہیں ہےبلکہ اگر اس نے شا فعیہ پر وقف کیا ہےتو حنفیہ پر صرف کیا جائے گا اور بر عکس ،اور قاضیوں پر وقف کیا ہےتو صو فیہ پر صرف کیا جائے گا ۔،،

اسی طرح عقائد اور اصول دین کے مسائل میں بھی انحراف کا مر تکب ہوا ہے۔

 ْ خدا وند عالم محل حوا دث ہے“تعالیٰ عن ذالک علوا کبیرا

خدا مرکب ہےاس کی ذات ویسے ھی محتاج ہےجیسے کل اپنے جزء  کا محتاج ہوتا ہے”تَعَا لیٰ عَنْ ذَالِکَ،،

خدا جسم رکھتا ہے،وہ خاص سمت میں ہےایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ھوتا ہے،وہ ٹھیک عرش کے برابر ہےنہ چھوٹا نہ بڑا“(خدا وندعالم اس قبح وبد ترین افترا ء اور صریحی کفر سے کہیں بالا تر ہے۔خدا اس کے پیروٴوں کو رسوا کرے اور اس کے معتقدین کا شیرازہ منتشر کرے )

جہنم فنا ہوجائے گی ،انبیاء معصوم نہیں ہیں۔

رسول الله صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ان سے توسل نہ کیا جائے۔

پیغمبر اسلام کی زیا رت کے لئے سفر کرنا معصیت ہےاس سفر میں نمازقصر نہیں ہوگی۔

اقتباس از وھابیت :مسلمان علماء کی نظر میں آیت اللہ جعفر سبحانی

ٹیگس  : ابن تیمیہ ٖ،  اعتراضات ،  علماٰء ،  محمد بن عبداللہ وہاب ،

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ