اولیاء صرف وسیلہ ہیں وہ اللہ کے بندے اور ہر وقت اس کے محتاج ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان کو وسیلہ ہم نے نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ قرآن مجید کی اسی منطق کے مطابق کائنات میں ہونے والا ایک ہی فعل اپنے قریبی فاعل یعنی مخلوق سے بھی منسوب ہوتا ہے اور اپنے حقیقی فاعل یعنی خدا سے بھی۔ مخلوق سے اس لحاظ سے کہ اسی کے وسیلہ سے ظاہر ہوا ہے اور خالق سے اس لحاظ سے کہ اسی کی دی ہوئی قوت و اذن سے یہ فعل وجود میں آیا ہے۔
حوالہ :  اسلام ٹائمز

سید حسین موسوی
سلفی تحریک:

سلفی تحریک کے امام ، ابن تیمیہ (وفات:728 ہجری) نے اپنے افکار سے جس مذہب کی بنیاد رکھی وہ اس وقت وہابیت کے نام سے شہرت رکھتا ہے۔ اس مذہب نے جن چیزوں کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو مشرک قرار دیا ہے ان میں سے ایک مسئلہ استمداد بھی ہے۔ انکی نظر میں غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے۔ اسلئے وہ شیعہ، سنی اور صوفیا سب کو مشرک قرار دیتے ہیں اور ان کی جان، مال، عزت اور آبرو حلال جانتے ہیں۔ وہابیوں نے پہلے حرمین شریفین مکہ و مدینہ پر حاکم مسلمانوں سے جنگ کی، قتل عام کیا اور تلوار کے زور پر ان پر قبضہ کیا۔ حرمین کے رہنے والوں کو تلوار کے زور پر دوبارہ مسلمان کیا۔ حجاز کا نام بدل کر وہابی امیر کے خاندان کے نام پر سعودی عرب رکھ دیا۔ نجف و کربلا پر بھی حملے کئے، قتل عام کا بازار گرم کیا لیکن وہاں پر قبضہ نہ جما سکے۔

اس وقت اسلامی دنیا میں موجود تمام دہشتگرد تنظیمیں طالبان، القاعدہ، داعش اور بوکوحرام (تعلیم حرام) وغیرہ سب اسی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہابیت جب سے وجود میں آئی ہے اس کی دشمنی مسلمانوں سے ہی رہی ہے۔ عالم کفر سے اسکے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں بلکہ عالم کفر نے ہی سعودی بادشاہت کو تحفظ دیا ہوا ہے۔ وہابی دہشتگردی کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ اس کی فکری اساس کو توڑا جائے۔ استمداد کا مسئلہ بھی وہابیت کے ان بنیادی بہانوں میں سے ہے جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کو مشرک اور قابل گردن زنی قرار دیتے ہیں۔ اس مختصر مقالے میں اسی مسئلہ کی تحقیق قرآن مجید اور اہلسنت کی صحیح السند روایات کی روشنی میں کی گئی ہے اور یہ کوشش کی گئی ہے کہ روایات میں جتنا ممکن ہو اپنے آپ کو صحیحین تک محدود کیا جائے۔

مسئلہ کی تفہیم:
سب سے پہلے لازمی ہے کہ اس مسئلہ میں ان سلفی حضرات کا عقیدہ سمجھا جائے۔ ورنہ اس کی تائید یا تکذیب ممکن نہ رہے گی۔ ان کے عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ:
الف) توحید فکری چار اقسام میں تقسیم ہوتی ہے:
1. توحید ذات
2. توحید صفات
3. توحید افعال
4. توحید الوہیت
اللہ تعالیٰ کے افعال میں سے ایک فعل مخلوق کی مدد کرنا ہے یعنی اللہ مخلوق کا مددگار اور مشکل کشاء ہے۔ ناصر و مددگار ہونا اسی کی صفت ہے۔ اسلئے مخلوق میں سے کسی کو اپنا مددگار یا مشکل کشاء بنانا اصل میں مخلوق کو اللہ کے اس فعل اور صفت میں شریک کرنا ہے اور یہ بلاشبہ شرک ہے۔ آسان زبان میں یوں کہیں کہ اللہ کو مددگار اور مشکل کشاء ماننے کے بعد مخلوق کو بھی مشکل کشا سمجھنا شرک ہے۔

ب)۔ توحید عملی میں توحید عبادت اہم ترین قسم ہے:
ابن تیمیہ کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ کسی کو مدد کے لیے پکارنا "دعاء " کرنا ہے۔ جبکہ دعا عبادت ہے اسلیے غیر اللہ کو پکارنا اس کی عبادت کرنا ہے جو شرک جلی ہے۔
مقام بحث:
مسئلہ کی تفہیم سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس موضوع کا تعلق توحید اور شرک سے ہے۔ ان کے نظریہ کے مطابق غیر اللہ سے مدد مانگنا اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید افعالی اور توحید عبادت کے خلاف ہے۔ اس لیے نہایت ضروری ہے کہ سب سے پہلے توحید افعالی کو مختصر لیکن واضح اور مدلل طریقے سے بیان کیا جائے۔ جس کے بعد توحید عبادت پر بات کرینگے۔ پھر ان اعتراضات کا جواب بھی دینگے جو اکثر پیش کیے جاتے ہیں۔

الف: توحید افعالی
بیان:
پہلے ہم توحید افعالی کو بیان کریں گے پھر اسکے لیے دلیل دیں گے۔ قرآن مجید کی ان آیات کو سامنے رکھتے ہوئے جو اس موضوع سے متعلق ہدایت فرماتی ہیں توحید افعالی کی تعریف ہم اس طرح کر سکتے ہیں: "کائنات میں ہونے والے ہر فعل کا حقیقی فاعل صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔" اس تعریف کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ فاعل کی اقسام کو سمجھا جائے۔ اس حوالے سے فاعل دو طرح کے ہیں، ایک فاعل حقیقی اور دوسرا فاعل قریبی یا فاعل مجاری۔ فاعل حقیقی وہ ہے جو "اپنی قوت" سے فعل انجام دے۔ جبکہ فاعل قریبی وہ ہے جو "دوسرے کی دی ہوئی قوت" سے فعل انجام دے۔ اس پوری کائنات میں صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے جو اپنی قوت سے فعل انجام دیتا ہے، جبکہ باقی سب اللہ تبارک و تعالیٰ کی دی ہوئی قوت سے فعل انجام دیتے ہیں۔

اس لیے کائنات کے اندر کسی بھی مخلوق سے ظاہر ہونے والا فعل چونکہ ظاہر مخلوق سے ہوتا ہے اس لیے اس فعل کا فاعل قریبی، مخلوق ہے۔ لیکن چونکہ مخلوق یہ فعل اللہ کی دی ہوئی قوت و اذن سے انجام دیتی ہے اسلیے اسی فعل کا حقیقی فاعل اللہ تبارک و تعالی ہے۔ یاد رہے فعل ایک ہے، اسی ایک فعل کا فاعل قریبی مخلوق اور فاعل حقیقی اللہ تبارک و تعالی ہے۔ اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ قرآنی منطق کے مطابق یہ سارا عالم اللہ تبارک و تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ہر چیز اس کے علم، قدرت اور تدبیر کے تحت ہے اور اس مقام میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کائنات اس طرح بنائی ہے کہ اس میں علت و معلول اور اسباب و مسبب کا نظام جاری ہے۔ اس نے ہر معلول کے لیے علت اور ہر مسبب کے لیے سبب بنایا ہے لیکن یہ سلسلہ علل و اسباب اسی ذات واحد پر جا کر منتہی ہوتا ہے۔

"فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا" (النازعات/5) پھر وہ (فرشتے، اللہ کے اذن سے) معاملات کی تدبیر کرتے ہیں۔ یہ علل و اسباب دو قسم کے ہیں:
ایک: مادی اور دوسرے:معنوی یا غیر مادی۔ مادی وسائل میں ہم کسی دوسرے شہر تک پہنچنے کے لیے ہوائی جہاز استعمال کرتے ہیں اور اس کا توحید سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ معنوی علل و اسباب جیسے نماز، صدقہ، اور دعا وغیرہ اس کا بھی توحید سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ انہی معنوی اسباب میں سے ایک اولیاء اللہ کا اللہ سے "مقام قرب" ہے۔ جب قوم فرعون پر طاعون کا عذاب آیا تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: "وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُواْ يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَآئِيلَ" (الأعراف/134) اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ اے موسیٰ ! ہمارے لئے اپنے رب سے اس" عہد" کے وسیلے سے دعا کرو جو اس نے تجھ سے کر رکھا ہے۔ اگر تونے ہم سے یہ عذاب دور کر دیا تو ہم ضرور تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ضرور بھیج دیں گے۔

یہ عہد وہی شفاعت والا ہے جسے قرآن مجید نے بیان کیا ہے: "لَا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا" (مريم/87) شفاعت کا مالک کوئی نہیں ہے، سوائے اسکے جس نے رحمٰن کے پاس عہد لیا ہوا ہو۔ جو بھی مخلوق اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں شفاعت والا عہد رکھتی ہو اسے قرآنی زبان میں وجيه بھی کہا گیا ہے، "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا" (الأحزاب/69) اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ بن جانا جن لوگوں نے موسی کو اذیت دی تھی۔ ان لوگوں نے اس کے متعلق جو کچھ کہا اللہ نے اسے اس سے بری کردیا تھا وہ اللہ کی بارگاہ میں مقام رکھتا تھا۔ کیونکہ اولیاء اللہ اس ذات باری تعالیٰ سے عہد رکھتے ہیں ہم ان کے اس مقام عہد کو وسیلہ بناتے ہیں اور ان سے مدد مانگتے ہیں اور مدد مانگتے وقت دو نکتے ذہن میں رکھتے ہیں:

اول یہ کہ اولیاء صرف وسیلہ ہیں وہ اللہ کے بندے اور ہر وقت اس کے محتاج ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان کو وسیلہ ہم نے نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ قرآن مجید کی اسی منطق کے مطابق کائنات میں ہونے والا ایک ہی فعل اپنے قریبی فاعل یعنی مخلوق سے بھی منسوب ہوتا ہے اور اپنے حقیقی فاعل یعنی خدا سے بھی۔ مخلوق سے اس لحاظ سے کہ اسی کے وسیلہ سے ظاہر ہوا ہے اور خالق سے اس لحاظ سے کہ اسی کی دی ہوئی قوت و اذن سے یہ فعل وجود میں آیا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ مثال مفید ہےکہ ایک ٹرین جو بجلی سے چلتی ہے اسکے لیے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اسے ڈرائیور چلا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اسے بجلی چلا رہی ہے۔ چلانے کے فعل کو ڈرائیور سے اس لیے منسوب کرتے ہیں کیوںکہ ریل کو روکنے اور چلانے میں ڈرائیور کا ارادہ کارفرما ہے۔ بجلی سے اس لیے منسوب کہ ڈرائیور جس قوت سے چلاتا ہے وہ اسے بجلی سے ملتی ہے۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ