قرآن مجید میں ایسے چار مقامات ہیں جہاں مردار، خون، خنزیر کے گوشت اور ان جانوروںکو جن پر بوقتِ ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو حرام قرار دیا گیا ہے، وہ مقامات یہ ہیں:
مصنف :  ڈاکٹر طاھر قادری
حوالہ :  کتاب توحید

1۔ سورۃ البقرۃ میں ارشاد فرمایا:

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْـزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌo

’’اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ  جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو حرام کیا ہے، پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے نہ تو نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (زندگی بچانے کی حد تک کھا لینے میں) کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

(1) البقرۃ، 2: 173

2۔ سورۃ المائدۃ میں فرمایا:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ...

’’تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے اور (بہایا ہوا) خون اور سؤر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو...‘‘

(2) المائدۃ، 5: 3

3۔ سورۃ الانعام میں فرمایا:

قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌo

’’آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سُؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘

(1) الانعام، 6: 145

4۔ سورۃ النحل میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

 إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالْدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌo

’’اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو، حرام کیا ہے، پھر جو شخص حالتِ اضطرار (یعنی انتہائی سخت مجبوری کی حالت) میں ہو،نہ (طلبِ لذت میں احکامِ الٰہی سے) سرکشی کرنے والا ہو اور نہ (مجبوری کی حد سے) تجاوز کرنے والا ہو، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘

(2) النحل، 16: 115

ان آیات میں وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللہ  یا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ (وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو) کے الفاظ آئے ہیں جن کا بعض لوگ غلط اطلاق کرتے ہیں۔ یہی خود ساختہ اطلاق کسی کے ایصالِ ثواب کے لئے دیئے گئے صدقہ و خیرات اور نذر و نیاز پر بھی کیا جاتا ہے۔ ان قرآنی آیات کی غلط اور من گھڑت تاویل کی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس پر صدقہ اور نذر و نیاز کے لئے غیراللہ کا نام لیا جائے أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِاللهِ میں داخل ہے، جس کے باعث وہ شے حرام ہے۔ اس طرح ان کے باطل خیال کے مطابق وہ صدقہ و خیرات اور گیارہویں شریف جو سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیص یاد دیگر اولیاء و بزرگانِ دین اور صالحین کی طرف منسوب ہوتی ہے نہ صرف حرام ہے بلکہ یہ عمل معاذ اللہ شرک ہے۔ یہ ان قرآنی آیات کی غلط تفسیر ہے اور ایسی چیزیں جو فقط ایصالِ ثواب کے لئے کسی بزرگ ہستی کی طرف منسوب کی جائیں ہرگز وَ مَا أُهِلَّ لِغَيْرِاللہ بِهِ کے زمرے میں داخل نہیں، نہ ہی انہیں شرک پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ دراصل نذر کے تعین میں یہ اختلاف حرمت پر مبنی آیاتِ کریمہ کا معنی و مفہوم غلط سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ ذیل میں ہم وَ مَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِاللهِ اور اس کے متعلقات پر تفصیلاً بحث کرتے ہیں۔

1۔ ’’أُهِلَّ‘‘ کا لغوی معنی و مفہوم دراصل لفظِ ’’أُهِلَّ‘‘ ثلاثی مزید فیہ کے باب اِفعال ’’إِهْلَالٌ ‘‘ سے مشتق صیغہ ماضی مجہول ہے۔ اہلِ لغت نے ’’اِھْلَال‘‘ کے متعدد معانی بیان کیے ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

1. وانهلت السماء إذا صبت، واستهلت إذا ارتفع صوت ’وقعها‘ و کان استهلال الصبي منه.

’’انْھَلَّتِ السَّمَائُ ‘‘ اس وقت کہا جاتا ہے جب بارش برسے اور اسْتَھَلَّتْ اس خاص وقت کو کہتے ہیں جب بارش کے قطرے بلند آواز کے ساتھ زمین پر گریں۔ اسی سے اسْتِھْلَالُ الصَّبِیِّ (عین پیدائش کے وقت بچے کا رونا) بھی ہے۔‘‘

ابن منظور، لسان العرب، 11: 701

زبیدی، تاج العروس، 15: 809

2. و استهل الصبي بالبکائ: رفع صوته و صاح عند الولادة، و کل شيء ارتفع صوته فقد استهل. والإهلال بالحج: رفع الصوت بالتلبية، و کل متکلم رفع صوته أو خفضه فقد أهل و استهل.

’’اسْتَھَلَّ الصَّبِيُ کا معنی ولادت کے وقت بچے کا بلند آواز اور چلاّ کر روناہے۔ (اس معنی میں) ہر وہ چیز جس کی آواز بلند ہو اسے ’’اسْتَھَلَّ‘‘ کہتے ہیں۔ حج کے موقع پر بلند آواز کے ساتھ تلبیہ پڑھنے کو اھْـلَال کہا جاتا ہے، اور ایسا ہی ہر بولنے والے کی آواز بلند کرنے کو اَھَلَّ اور اسْتَھَلَّ کہا جاتا ہے۔‘‘

ابن منظور، لسان العرب، 11: 701

زبیدی، تاج العروس، 15: 810

3. و أصل الإهلال رفع الصوت. و کل رافع صوته فهو مهل، و کذلک قوله ل: {وَ مَا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ} هو ما ذبح للآلهة و ذلک لأن الذابح کان يسميها عند الذبح، فذلک هو الإهلال.

’’اِھْلَال کا اصل معنی آواز بلند کرنا ہے۔ ہر آواز بلند کرنے والا مُھِلٌّ ہے، اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: {وَمَا اھِلَّ لِغَيْرِاللہ بِہِ} ۔ اس سے مراد ہر وہ جانور ہے جسے جھوٹے معبودوں کیلئے ذبح کیا گیا ہو اور یہ مفہوم اس بنا پر ہے کہ ذبح کرنے والا عین ذبح کے وقت اس بت کا نام لیتا تھا۔ پس یہی اِھْلَال ہے۔‘‘

ابن منظور، لسان العرب، 11: 701

4. قال أبو العباس: وسمي الهلال، هلالاً لأن الناس يرفعون أصواتهم بالإخبار عنه.

’’ابو العباس نے کہا: چاند کو ہلال اس لئے کہتے ہیں کہ لوگ اسے دیکھتے ہی اپنی آوازیں بلند کر کے اس کا اعلان کرتے ہیں۔‘‘

ابن منظور، لسان العرب، 11: 703

زبیدی،تاج العروس، 15: 108

2. ’’أُهِلَّ‘‘ کا صحیح اطلاق ائمہ لغت کی درج بالا تصریحات کی روشنی میں ’’أُهِلَّ‘‘ کا اطلاق کئی معانی پر ہوتاہے جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ اھلال: پہلی رات کا چاند دیکھ کر آواز بلند کرنا

ہر اسلامی ماہ کی پہلی تاریخ کو طلوع ہونے والے چاند کو ہلال کہتے ہیں جس کا مختلف وجوہ کی بنا پر لوگ شدت سے انتظار کرتے ہیں لہٰذا نیا چاند دیکھنے والوں کی طرف سے ایک آواز بلند ہوتی ہے: استجابة الإهلال ’’وہ چاند نظر آ گیا‘‘ اس خاص وقت میں بلند ہونے والی آواز کو ’’اِھْلَال‘‘ کہتے ہیں جبکہ کسی اور آواز کو اھلال سے موسوم نہیں کیا جاتا۔

2۔ اھلال: پیدائش کے وقت بچے کا آواز بلند کرنا

اِھْلال کا ایک معنی ہے ’’پیدائش کے وقت بچے کا رونا‘‘ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو پیدا ہوتے ہی اس کے منہ سے رونے چیخنے کی آواز نکلتی ہے۔ جسے عربی میں ’’اَھَلَّ الصَّبِيُ‘‘ کہا جاتا ہے۔ عام حالات میں بچے کا چیخنا اور رونا ’’اھلال الصبی‘‘ نہیں کہلاتا بلکہ عین پیدائش کے وقت آواز بلند کرنے اور چیخنے کو ’’اھلال الصبیّ‘‘ کہتے ہیں۔

3۔ اھلال: عین وقتِ ذبح آواز کو بلند کرنا

کفار و مشرکین جب کسی جانور کو ذبح کرتے تو وہ یہ اعلان کرنے کے لئے کہ وہ اپنے کس بت کے نام پر اسے ذبح کر رہے ہیں۔ آواز بلند کرتے جسے رَفْعُ الصَّوْتِ عِنْدَ الذِّبْحِ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ آواز وہ اس لیے لگاتے کہ ان کے معبودانِ باطلہ بے شمار تھے۔ لہٰذا وقتِ ذبح آواز بلند کرتے ہوئے اپنے خاص بت کا نام لیتے۔ اس بلند کی جانے والی آواز کو ’’اِھلال‘‘ کہا جاتا۔

4۔ اھلال: خاص مواقع پر آواز بلند کرنا

کسی خاص موقع پر کوئی اعلان کرنے کے لئے آواز بلند کرنا بھی اِھْلَال کے معنی میں لیا جاتا ہے۔

5۔ اھلال: تلبیہ پڑھتے ہوئے آواز بلند کرنا

اِھْلَال کا ایک معنی بلند آواز سے تلبیہ پڑھنا بھی ہے جیسا کہ دورانِ حج حجاجِ کرام بلند آواز سے تلبیہ پڑھتے ہیں۔

عربی لغت کے حوالے سے درج بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ بنیادی طور پر ’’اہلال‘‘ میں کسی خاص موقع پر آواز بلند کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس کے لغوی معنی کی رو سے آیتِ مبارکہ وَمَا أُهِلَّ میں بھی لازماً رفعِ صوت کا مفہوم موجود ہوگا۔ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِاللہ ِ سے محدّثین اور مفسرینِ کرام نے کیا معنی مراد لیا ہے؟ ذیل میں ہم اسی پہلو پر تفصیلی بحث رقم کریں گے تاکہ اس آیت میں بیان کردہ قرآن مجید کا صحیح منشا اور مقصود اہلِ حق کے لئے قلبی سرور کا باعث بن سکے اور اہلِ باطل کے بطلان کا قلع قمع ہونے کا ساماں فراہم ہوسکے۔

3. {وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ} کا معنی ائمہ حدیث کی نظر میں

محدثینِ کرام اور شارحینِ حدیث وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ سے مراد بآوازِ بلند بتوں کے نام پر ذبح کئے جانے والے جانور لیتے ہیں جن میں سے چند ایک کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔

1۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے ہاں اُھِلَ کا معنی و مفہوم

محمد بن اسماعیل البخاری کے مقام سے کون واقف نہیں۔ اہلِ علم نے انہیں امیر المؤمنین فی الحدیث کا عظیم الشان لقب دیا ہے جبکہ آپ کی شہر آفاق کتاب ’صحیح بخاری کو اصحح الکتب بعد کتاب اللہ کا درجہ حاصل ہے۔ حضرت امام بخاری کو روایتِ حدیث اور فہمِ حدیث کا جو درک حاصل تھا وہ خال خال محدثین کے حصہ میں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُمت کی اکثریت انہیں حدیث میں حجت مانتی ہے۔ انہوں نے حدیث مبارکہ سے جو معنی و مفہوم اخذ کرکے اپنی کتاب کی زینت بنایا وہ درست اور مقبول ہے۔ اُھِلَّ کا جو معنی انہوں نے بیان فرمایا اور پھر شارحین بخاری نے جن معانی کو اختیار کیا ان کی موجودگی میں ہمیں کسی اور کی طرف التفات کرنے کی ضرورت نہیں۔ اُن کے بیان کردہ مفہوم کے مطابق اہل کا اطلاق کسی مخفی امر یا چھپی ہوئی نیت پر نہیں ہوتا اور نہ یہ لفظ ایصالِ ثواب کے لئے منسوب جانوروں کے ساتھ خاص ہے۔ اسی بات کو ہم ذیل میں قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

امام بخاری نے صحیح البخاری کتاب الحج میں اس لفظ کو حج و عمرہ کے اعمال کے ضمن میں استعمال کیا ہے مثلاً انہوں نے حدیث نمبر 1473 جس میں بلند آواز کے ساتھ تلبیہ پڑھنے کا ذکر ہے۔ اس بحث کا عنوان اس طرح قائم کیا ہے: ’’بَاب رفْعِ الصَّوْتِ بِالاهْلَالِ‘‘ ’’بآواز بلند تلبیہ پڑھنے کا باب‘‘ پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مبارکہ کو روایت کیا ہے۔

عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: صَلَّی النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم بِالْمَدِینَةِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَکْعَتَيْنِ وَسَمِعْتُهُمْ يَصْرُخُوْنَ بِهِمَا جَمِيْعًا.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی چار اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور میں نے تمام لوگوں کو بلند آواز سے حج اور عمرہ دونوں کا نام پکارتے ہوئے سنا۔

(1) بخاری، الصحیح، 2: 561، کتاب الحج باب رفع الصوت بالاھلال، رقم: 1473

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام بخاری نے ’’اھلال‘‘ کو رفع الصوت کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ جبکہ اس سے متصل دیگر ابواب درج ذیل عنوان کے تحت قائم کئے ہیں:

{بابُ التَّحْمِيْدِ وَالتَّسْبِيْحِ وَالتَّکْبِيْرِ قَبْلَ الإْهْلَالِ عِنْدَ الرُّکُوْبِ عَلَی الدَّابَّةِ}

’’جانور پر سوار ہونے کے وقت لبیک سے پہلے تحمید، تسبیح اور تکبیر کہنا‘‘

(1) بخاری، الصحیح، 2: 562، باب: 26

اس باب میں حدیث نمبر 1476 درج ہے۔

اس سے اگلے باب کا عنوان ہے:

{بَابُ مَنْ أهَلَّ حِيْنَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً}

’’کسی شخص کا اس وقت تلبیہ پڑھنا جب سواری اس کو سیدھی لے کر کھڑی ہو‘‘

(2) بخاری، الصحیح، 2: 562، باب: 27

اس کے تحت حدیث نمبر 1477 درج ہے۔

اس سے اگلے باب کا عنوان ہے:

{بَابُ الإهْلَالِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ}

’’قبلہ رخ ہو کر تلبیہ پڑھنا‘‘

(2) بخاری، الصحیح، 2: 562، باب: 28

اس کے تحت حدیث نمبر 1478 درج ہے۔

پھر امام بخاری نے آگے جاکر ایک اور باب باندھا جس کا عنوان قائم کیا ہے:

{بَابُ کَيْفَ تُهِلُّ الْحَائِضُ وَالنُّفَسَائُ؟}

’’حیض اور نفاس والی عورتیں کس طرح احرام باندھیں؟‘‘

یہاں امام بخاری نے اھلَّ کے لغوی معنی کی وضاحت کی ہے وہ لکھتے ہیں:

أهَلَّ: تَکَلَّمَ بِهِ: وَاسْتَهْلَلْنَا وَأَهْلَلْنَا الْهِلَالَ، کُلُّهُ مِنَ الظُّهُوْرِ. وَاسْتَهَلَّ الْمَطَرُ خَرَجَ مِنَ السَّحَابِ {وَمَا أهِلَّ لِغَيْرِ اللہ بِهِ} ]المائدة، 5: 3[ وَهُوَ مِنَ استِهْلَالِ الصَّبِیِّ.

’’اھلَّ کا معنی ہے: اس نے کلام کیا (یعنی زبان سے کہا) اور اسْتَھْلَلْنَا اور اھْلَلْنَا، الْھِلاَلَ یہ سب ظہور سے ہے۔ اسْتَھَلَّ الْمَطَرُ کے معنی ہیں: بادل سے بارش نکلی اور آیہ کریمہ (وَمَا اھِلَّ لَِغَيْرِ اللهِ بہِ) میں اھل کا معنی پیدائش کے وقت بچہ کے رونے سے ماخوذ ہے (یعنی جس طرح بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالتا ہے اسی طرح جانور کو ذبح کرتے وقت بلند آواز سے تکبیر کہی جائے گی)

(1) بخاری، الصحیح، 2: 563، باب: 30

امام بخاری نے اھلال کے لغوی معنی بیان کرکے اس اشکال کو دور کر دیا جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اھل جانوروں کے ساتھ خاص ہے اور کسی جانور کو اگر کسی کے ایصال ثواب کے لئے منسوب کر دیا جائے تو وہ اھل بہ لغیر اللہ میں شامل ہو کر حرام ہو جاتا ہے۔

امام بخاری کی تشریح اور توضیح اس مفہوم کے برعکس ہے انہوں نے احرام اور تلبیہ کے لئے اھلال کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے۔

پتہ چلا کہ اھلال اور اھل اللہ شریعت کے حرام کردہ امور میں سے کوئی امر نہیں۔ دوسرے یہ کہ اھل کا اطلاق چھپی ہوئی نیت یا کسی اور مخفی امر پر نہیں ہوتا بلکہ اھل اور اھلال کا مفہوم ان شرائط کے ساتھ واضح ہوتا ہے:

کوئی امر واقع جو ایک خاص وقت میں وقوع پذیر ہوا ہو۔

مادہ ’’ھلال‘‘ سے جتنے الفاظ بھی نکلتے ہیں سب کے معنی میں ظہور ضروری ہے اخفاء سے معنی پورا نہیں ہوتا۔

تیسرے یہ کہ اھل میں آواز بلند ہونا ضروری بھی ہے۔

لا محالہ ان ساری چیزوں کا تعلق کسی دائمی اور مستمر عمل سے نہیں۔ پس اگر جانور کی بات ہو تو پھر اھلال کا اطلاق عین ذبح کے وقت زیادہ موزوں ہے کہ جب جانور کو لٹا کر ذبح کیا جا رہا ہو تو دیکھا جائے گا کہ اس وقت وہ کس کے نام ذبح کیا جا رہا ہے؟ بت اور اصنام جیسے لات، منات، ھبل اور عزیٰ یا اللہ تعالیٰ ل کے نام پر۔

لہٰذا وہ جانور جسے کوئی شخص اپنے والدین اعزہ و اقارب یا کسی بزرگ کے ایصال ثواب کے لئے ان سے منسوب کر دے مثلاً یہ کہے کہ یہ جانور فلاں بزرگ کے ایصال ثواب کے لئے ہے تو امام بخاری کے مطابق یہ ہرگز اھل بہ لغیر اللہ میں شامل نہیں کیونکہ نذر و نیاز اور ایصال ثواب میں نہ کوئی خاص واقعہ ظہور پذیر ہوا ہے نہ کوئی آواز نکالتا ہے اور نہ کوئی ظہور کی صورت ہے۔

تاریخ عرب پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے نظام الاوقات کا تعلق قمری مہینے سے ہوتا تھا۔ وہ ماہ و سال کا تعین قمری حساب سے کرتے تھے حج و عمرہ اور تجارتی سفر وغیرہ کا دارو مدار بھی چاند کی رؤیت پر تھا۔ پس اسی وجہ سے انہیں چاند نکلنے کا شدت سے انتظار رہتا تھا اور جس دن چاند نکلتا وہ اپنی عادت کے مطابق خوشی کا اظہار کرتے اور بآواز بلند شور کرکے کہتے: وہ چاند، اسی وجہ سے پہلے دن کے چاند کو بھی ھلال کہا گیا۔ امام بخاری نے بھی مہینوں کے تعین میں چاند کی اس اہمیت کو واضح کیا اور ایک باب درجہ ذیل عنوان سے قائم کیا۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الحج میں ایک باب یوں باندھا:

بابُ قولِ اللہ تعالی: {اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰت فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ} ] البقرة، 2: 197[ وقوله: { يَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَهِلَّةِط قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ} ] البقرة، 2: 189

’’حج کے چند مہینے معیّن ہیں (یعنی شوّال، ذوالقعدہ اور عشرئہ ذی الحجہ) تو جو شخص ان (مہینوں) میں نیت کر کے (اپنے اوپر) حج لازم کرلے تو حج کے دنوں میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے اور نہ کوئی (اور) گناہ اور نہ ہی کسی سے جھگڑا کرے‘‘ اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’(اے حبیب!) لوگ آپ سے نئے چاندوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرمادیں یہ لوگوں کے لئے اور ماہِ حج (کے تعیّن) کے لئے وقت کی علامتیں ہیں‘‘

(1) بخاری، الصحیح، 2: 565، باب: 32

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور حدیث بیان کی ہے جس میں احرام باندھنے کو اھلال سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حدیث مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں:

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنه أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ. وَأَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لَمْ يَحِلُّوا حَتَّی کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ.

’’حضرت عُروہ بن زُبَیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ پس ہم میں سے بعض نے عمرہ کا، بعض نے حج و عمرہ دونوں کا اور بعض نے صرف حج کا احرام باندھا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا۔ پس جس نے حج کا احرام باندھا یا حج و عمرہ کو جمع کیا تو انہوں نے قربانی کے دن تک احرام نہیں کھولا۔‘‘

(2) بخاری، الصحیح، 2: 567، کتاب الحج، باب التمتع والإقران و الإفراد بالحج و فسخ الحج لمن لم یکن معہ ھدی، رقم: 1487

اس حدیث مبارکہ میں حج و عمرہ کے موقع پر احرام باندھنے کو پر اھلال سے تعبیر کیا گیا جو کسی مخفی امر یا دل کی خفیہ نیت کا معاملہ نہیں بلکہ حجاج کرام ایک مخصوص وقت میں احرام باندھ کر بآواز بلند تلبیہ پڑھتے ہیں تو سب لوگوں کو علم ہو جاتا کہ یہ زائر حرمین ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ اھلال میں ظہور ضروری ہے۔

امام بخاری نے اھل کے جو لغوی معنی بیان کئے ہیں ان میں نمایاں اور اہم بات ’’ظہور‘‘ ہے مثلاً زبان سے اونچی آواز میں کوئی بات کہنا تکلم ہے اور بارش جب زمین پر گرتی ہے تو اس سے جو آواز نکلتی ہے اُسے استھل المطر کہتے ہیں۔ نو مولود بچہ جب بطن مادر سے ظاہر ہوتا ہے تو روتا ہے تو عربی میں اسے استھل الصبی کہا جاتا ہے۔ پہلی رات کا چاند جب ظاہر ہوتا ہے تو اسے اھلہ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح بوقت ذبح جب جانور کو لٹا کر کسی کا نام پکارا جاتا ہے تو وہ بھی اھلال ہے۔

مدعائے کلام یہ ہے کہ محض نسبت سے حرام ہونا ثابت نہیں بلکہ صحیح احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی شخص جس جانور پر بوقت ذبح نام لینا بھول گیا تو اس کا کھانا حلال ہے۔ اسی طرح صحابہ نے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعراب کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کا گوشت کھانے سے متعلق دریافت کیا کہ معلوم نہیں وہ ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتے بھی ہیں یا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسا گوشت کھانا حلال ہے۔ چنانچہ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے:

أَنَّ قَوْمًا قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم إِنَّ قَوْمًا يَاْتُوْنَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذُکِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا؟ فَقَالَ: سَمُّوا عَلَيْهِ أَنْتُمْ وَکُلُوهُ. قَالَتْ: وَکَانُوا حَدِيثِي عَهْدٍ بِالْکُفْرِ.

’’کچھ لوگ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ ہم ایسے لوگ ہیں جن کے پاس گوشت آتا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں؟ (اس کا کیا حکم ہے، کھائیں یا نہ کھائیں) ارشاد ہوا کہ تم اس پر بسم اللہ پڑھ کر کھا لیا کرو۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یہ زمانہِ کفر کے قریب کی بات ہے۔ ‘‘

(1) بخاری، الصحیح، کتاب الذبائح، باب ذبیحۃ الأعراب و نحوھم، 5: 2097، رقم: 5188

اس حدیث مبارکہ کے بعد امام بخاری نے اگلے باب کے ترجمۃ الباب میں امام زہری اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے خواہ ان کا عقیدہ کفر کا کیوں نہ ہو یعنی وہ حضرت عیسی ں کو خدا مانیں تب بھی اور اگرچہ وہ ذبح کرتے ہوئے کسی کا نام نہ بھی لیں تو بھی وہ ذبیحہ حلال ہے۔ باب کا عنوان اس طرح ہے:

بَاب ذَبَائِحِ أَهْلِ الْکِتَابِ وَشُحُومِهَا مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ وَغَيْرِهِمْ وَقَوْلِهِ تَعَالَی {الْيَوْمَ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِيْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ حِلٌّ لَکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَهُمْ}. وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: لَا بَاْسَ بِذَبِيحَةِ نَصَارَی   الْعَرَبِ وَإِنْ سَمِعْتَهُ يُسَمِّي لِغَيْرِ اللهِ فَلَا تَاْکُلْ وَإِنْ لَمْ تَسْمَعْهُ فَقَدْ أَحَلَّهُ اللهُ لَکَ وَعَلِمَ کُفْرَهُمْ وَيُذْکَرُ عَنْ عَلِیٍّ نَحْوُهُ. وَقَالَ الْحَسَنُ وَإِبْرَاهِيمُ لَا بَاْسَ بِذَبِيحَةِ الْأَقْلَفِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ طَعَامُهُمْ ذَبَائِحُهُمْ.

’’اہل کتاب اور حربی کافروں وغیرہ کے ذبیحہ سے متعلق باب میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے) اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے (سورہِ المائدہ، 5)زہری کا قول ہے کہ عرب کے نصاریٰ کے ذبح کئے ہوئے میں کوئی حرج نہیں اور اگر تم سنو کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام لے کر ذبح کیا تو نہ کھاؤ اور اگر تم نہ سنو تو اللہ نے اسے تمہارے لئے حلال کیا اور وہ ان کا کفر جانتا ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ حسن بصری اور ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ غیر مختون کے ذبیحہ میں کوئی حرج نہیں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کا کھانا ہی ان کے ذبائح ہیں۔‘‘

پتہ چلا کہ اھل میں ’’ظہور‘‘ نہایت ضروری امر ہے اس کے بغیر کسی پر اھل لغیر اللہ کا حکم لگا کر حرام اور شرک قرار دینا شرعاً جائز نہیں۔ شارحینِ کرام نے بھی اھل کا یہی معنی لیا ہے۔

مندرجہ بالا عنوان باب کی شرح کرتے ہوئے امام ابن حجر عسقلانی نے بڑی تفصیلی بحث کی ہے امام زہری کے حوالے سے انہوں نے لکھا ہے کہ

و إهلاله ان يقول باسم المسيح.

’’اھلال سے مراد یہ ہے کہ وہ ذبح کرتے ہوئے یوں کہیں باسم المسیح یعنی حضرت عیسیٰں کے نام پر ذبح کرتا ہوں۔‘‘

(1) ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 9: 637

اگر بوقت ذبح ان سے اس طرح کے الفاظ نہ سنیں تو پھر گوشت حلال ہے وجہ یہ ہے کہ اصل دین ان کا برحق تھا اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ ان روایات کو پڑھ کر ان لوگوں پر نہایت تعجب ہوتا ہے جو صحیح البخاری کی رٹ لگاتے رہتے ہیں لیکن ان احادیث سے واقف نہیں مذکورہ احادیث میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، صحابہ کرام اور ائمہ عظام سے صراحتہً اس حکم کی اجازت مل رہی ہے کہ اگر اہل کتاب یا اور غیر مسلم اجنبی کا ذبحہ آپ کو پہنچے جس کی حقیقت سے آپ واقف نہ ہوں تو اللہ کا نام لے کر کھالیں۔ جب غیر مسلموں کے ذبیحہ کا یہ حکم ہے تو جو مسلمان اولیاء اللہ کے لئے ایصال ثواب کی نیت سے منسوب کر کے جانور اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہیں یقینا وہ بدرجہِ اتم حلال اور پاک ہیں، ان میں کسی قسم کی کوئی حرمت یا شرک کا عمل دخل نہیں۔

2۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف

شارحینِ صحیح بخاری میں حافظ ابن حجرعسقلانی کا علمی مقام و مرتبہ اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں۔ حدیث کی شرح اور رجال میں ان کی بات سند کا درجہ رکھتی ہے۔ انہوں نے بھی امام بخاری کے بیان کردہ معنی کی مزید تائید کی ہے، لکھتے ہیں:

(قوله باب رفع الصوت بالإهلال) قال الطبري: الإهلال هنا رفع الصوت بالتلبية، وکل رافع صوته بشيء فهو مهل به وأما أهل القوم الهلال فأری أنه من هذا لأنهم کانوا يرفعون أصواتهم عند رؤيته انتهی.

’’امام بخاری نے باب قائم کیا ہے {باب رفع الصوت بالاھلال} امام طبری نے کہا: یہاں اھلال سے مراد تلبیہ پڑھتے ہوئے آواز بلند کرنا ہے اور ہر وہ شخص جو کسی بھی چیز پر آواز بلند کرے وہ مھل ہے۔ لوگوں کا چاند کے وقت اھل کا معنی بھی اسی سے ماخوذ ہے کیونکہ وہ اس کو دیکھتے ہی آواز بلند کرتے ہیں۔‘‘

(1) عسقلانی، فتح الباری، 3: 408

ابن حجر مزید لکھتے ہیں:

أن أصل الإهلال رفع الصوت لأن رفع الصوت يقع بذکر الشيء عند ظهوره.

قوله {وَمَا أَهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ} وهو من استهلال الصبي أي أنه من رفع الصوت بذلک فاستهل الصبي أي رفع صوته بالصياح إذا خرج من بطن أمه وأهل به لغير اللہ أي رفع الصوت به عند الذبح للأصنام، ومنه استهلال المطر والدمع وهو صوت وقعه بالأرض و من لازم ذلک الظهور غالبا.

’’اھلال کا اصل معنی آواز بلند کرنا ہے کیونکہ کسی چیز کے ظہور میں آتے وقت آواز بلند ہوتی ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ {وَمَا اَھِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِہِ} کا معنی استھلال الصبی (بچے کے رونے سے) ماخوذ ہے یعنی یہ معنی آواز کی بلندی سے ماخوذ ہے۔ استھل الصبی کا معنی ہے جب وہ بطن مادر سے نکلا تو اس نے چیخ کے ساتھ اپنی آواز بلند کی۔ اور اھل بہ لغیر اللہ کا معنی ہے بتوں کے ذبح کرتے وقت آواز بلند کرنا اور اسی سے بارش اور آنسوؤں کا برسنا ہے جب وہ زمین پر گرنا ہے پس ان معانی سے لازم ٹھہرا ہے کہ (اھلال میں) ظہور نمایاں ہو۔‘‘

(2) عسقلانی، فتح الباری، 3: 415

3۔ امام بیہقی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا قول اس آیت {وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ} کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:

يعني ما أهل للطواغيت کلها.

’’اس سے مراد وہ جانور ہیں جنہیں بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔‘‘

(1) بیہقی، السنن الکبری، 9: 249

ایک اور مقام پر امام بیہقی رقمطراز ہیں:

{وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ} ما ذبح لآلهتهم.

’’وَمَا اھِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِہِ کا معنی وہ جانور ہیں جو مشرکین اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ذبح کیا کرتے تھے۔‘‘

(2) شعب الایمان، 5: 20، رقم: 56277

4۔ امام ابن عبد البر

وأصل الإهلال في اللغة رفع الصوت، وکل رافع صوته فهو مهل. ومنه قيل للطفل: إذا سقط من بطن أمه فصاح قد استهل صارخا. والاستهلال والإهلال سوائ. ومنه قول اللہ عزوجل {وَ مَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ} لأن الذابح منهم کان إذا ذبح لآلهة سماها ورفع صوته بذکرها.

’’اھلال کا اصل لغوی معنی آواز بلند کرنا ہے لہٰذا آواز بلند کرنے والا ہر شخص مُھِلٌّ ہے اور اسی سے بچے کا استھلال کرنا ہے یعنی جب عین پیدائش کے وقت وہ بلند آواز سے روتا ہے۔ استھلال اور اھلال ہم معنی ہیں۔ اسی مفہوم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد {وَ مَا اھِلَّ بِہِ لِغَيْرِ اللهِ} ہے کیونکہ کفار و مشرکین میں سے ذبح کرنے والا جب اپنے بت کے نام پر ذبح کرتا تو اس کا نام لیتے وقت آواز کو بلند کرتا۔‘‘

(1) ابن عبدالبر، التمھید، 13: 1688

امام ابنِ حجر عسقلانی نے صحیح البخاری کی شرح فتح الباری (3: 415) اور امام نووی نے صحیح مسلم کی شرح (8: 89) میں بھی یہی معانی بیان کئے ہیں۔

4. {وَ مَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ} ائمہ تفسیر کی نظر میںں

ذیل میں ہم آیت {وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ} کی تشریح و تفسیر معروف ائمہ تفسیر کی آراء کی روشنی میں بیان کریں گے۔ جن سے یہ بات مترشح ہے کہ کسی ایک مفسرِ قرآن نے بھی ایصالِ ثواب کے لئے ذبح کیے گئے جانور کا تعلق ان حرمت والی آیات سے نہیں جوڑا اور نہ کسی نے اولیاء و صالحین کے ایصالِ ثواب کے لئے اللہ کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کو حرام قرر دیا۔۔

سورۃ البقرۃ کی آیتِ کریمہ ملاحظہ کیجئے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْـزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌo

’’اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو حرام کیا ہے، پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے نہ تو نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (زندگی بچانے کی حد تک کھا لینے میں) کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

(1) البقرۃ، 2: 173

اس آیتِ مبارکہ میں أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ کے جو الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ ان کا مفسرینِ کرام نے شرعی معنی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ جانور ہے جس پر عین وقتِ ذبح غیر اللہ کا نام بلند کرکے چھری پھیر دی جائے۔ ذیل میں مشہور ائمہ تفسیر کے حوالے درج کئے جاتے ہیں۔

1۔ تفسیر ابنِ عباس

رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی تفسیر ’’تنویر المقباس‘‘ میں {وَمَآ اُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ} کا معنی یہ لکھا ہے:

{وَمَآ اُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ} ماذبح لغیر اسم اﷲ عمداً للأصنام.

{وَمَآ اُھِلَّ بِہِ لِغَيْرِ اللهِ} کا معنی ہے وہ جانور جس کو جان بوجھ کر اللہ کا نام لیے بغیر بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔‘‘

(2) ابن عباس، تنویر المقباس: 244

2۔ تفسیر عبدالرزاق

عن قتادة فی قوله: {وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِاللهِ} قال: ما ذبح لغير اﷲ مما لم يسم عليه.

’’حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ وہ {وَ مَا اھِلَّ بِہِ لِغَيْرِاللهِ} سے مراد وہ جانور ہے جس کو اللہ تعالیٰ کا نام لیے بغیر غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہو۔‘‘

(1) تفسیر عبدالرزاق، 1: 301، رقم: 1555

عن الزهری قال: الإهلال أن يقولوا: باسم المسيح.

’’امام زھری فرماتے ہیں کہ اِھلال کا مطلب ہے کہ بوقت ذبح یوں کہا جائے: باسم المسیح (یعنی حضرت عیسی ں کے نام پر ذبح کرتا ہوں)۔‘‘

(2) تفسیر عبدالرزاق، 1: 01 3، رقم: 156

نوٹ: واضح ہو کہ امام زھری نے اِھْلَال کے حوالے سے اپنی تفسیر میں ان عیسائیوں کا معمول بیان کیا ہے جو حضرت عیسیٰ ں کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے۔

3۔ تفسیر طبری

و أما قوله: {وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِاللهِ} فإنه يعنی به وما ذبح للآلهة والأوثان يسمی عليه بغير اسمه أو قصد به غيره من الأصنام. و إنما قيل {وَمَا أُهِلَّ بِهِ} لأنهم کانوا إذا أرادوا ذبح ما قربوه لآلهتهم سموا اسم آلهتهم التي قربوا ذلک لها وجهروا بذلک أصواتهم. فجری ذلک من أمرهم علی ذلک حتی قيل لکل ذابح يسمی أو لم يسم، جهر بالتسمية أو لم يجهر مُهل. فرفعهم أصواتهم بذلک هو الإهلال الذی ذکره اﷲ تعالی فقال: {وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ} ومن ذلک قيل للملبی فی حجة أو عمرة مهل لرفعه صوته بالتلبية. و منه استهلال الصبی إذا صاح عند سقوطه من بطن أمه. واستهلال المطر وهو صوت وقوعه علی الأرض کما قال عمرو بن قميئة:

ظلم البطاح له انهلال حريصةة

’’اللہ تعالیٰ کے ارشاد {وَمَا اُھِلَّ بِہِ لِغَيْرِ اللهِ} سے مراد وہ جانور ہیں جو معبودانِ باطلہ یعنی بتوں کے لئے ذبح کیے گئے ہوں جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو یا اس کے علاوہ بتوں میں سے کسی ایک کا نام لینے کا ارادہ کیا گیا ہو۔ وَمَا اُھِلَّ بِہِ اس لیے ارشاد فرمایا گیا: کیونکہ جب مشرکین اپنے جھوٹے معبودوں کے تقرب کے لئے کسی جانور کو ذبح کرنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس مخصوص بت کا نام لیتے جس کے تقرب کے لئے وہ جانور ذبح کیا جانا ہوتا اور اس پر وہ اپنی آواز کو بلند کرتے پس پھر یہ ان کا معمول بن گیا حتی کہ ہر ذبح کرنے والے کو خواہ اس نے بآواز بلند اپنے معبود کا نام لیا ہو یا نہ مُھِلٌّ کہا جانے لگا۔ پس ان کا جانور پر آواز بلند کرنا اِھلَال کہلاتا ہے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {وَمَا اُھِلَّ بِہِ لِغَيْرِ اللهِ}۔ اسی بلندیِ آواز کے مفہوم کی وجہ سے حج اور عمرہ کے دوران بلند آواز سے تلبیہ پڑھنے والے کو بھی مُھِلٌّ کہا گیا۔ اسی مفہوم میں استھلال الصبی ہے جب بچہ پیدائش کے وقت اپنی ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی روتا ہے۔ اسی سے استھلال المطر ہے، یہ وہ آواز ہے جو بارش کے قطرے زمین پر گرتے وقت پیدا ہوتی ہے جیسا کہ عمر بن قمیئہ نے اپنے ایک شعر میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے: وادیوں کی ظلمت زور دار بارش کا ہونا ہے‘‘

(1) ابن جریر طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 2: 500

4۔ تفسیر قرطبی

قوله تعالی: {وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ} أی ذکر عليه غير اسم اﷲ تعالی، و هي ذبيحة المجوسی والوثنی والمُعَطِّل. فالوثنی يذبح للوثن، والمجوسی للنار، والمُعَطِّل لا يعتقد شيئًا فيذبح لنفسه. والإهلال: رفع الصوت، يقال: أَهَلَّ بکذا، أي رفع صوته.

ومنه إهلال الصبیّ و استهلاله، و هو صياحه عند ولادته. و قال ابن عباس وغيره: المراد ما ذبح للأنصاب والأوثان..

’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد {وَمَا اُھِلَّ بِہِ لِغَيْرِ اللهِ} سے مراد وہ جانور ہے جس پر اللہ کے غیر کا نام لیا گیا ہو اور یہ مجوسی، بت پرست اور معطل کا ذبیحہ ہے۔ بت پرست اپنے بت کے لئے ذبح کرتا ہے، مجوسی آگ کے لئے اور معطل کا کسی چیز پر اعتقاد نہیں ہوتا وہ صرف اپنی ذات کے لیے ذبح کرتا ہے۔

(1) قرطبی، الجامع لأحکام القران، 2: 2233

اھلال آواز بلند کرنے کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے: اس شخص نے اس طرح آواز بلند کی۔

اسی سے اھلال الصبی اور نومولود بچے کا استھلال ہے جس سے مراد عین پیدائش کے وقت اس کا چیخنا ہے۔ حضرت ابن عباسص اور دیگر ائمہ فرماتے ہیں: اس سے مراد وہ جانور ہے جس کو نصب شدہ مورتیوں اور بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔‘‘

5۔ تفسیر فتح القدیر

الإهلال: رفع الصوت، يقال أهلّ بکذا: أي رفع صوته، قال الشاعر يصف فلاة: تهلّ بالفرقد رکبانها کما يهلّ الراکب المعتمر

و منه إهلال الصبیّ، واستهلاله: وهو صياحه عند ولادته، والمراد هنا: ما ذکر عليها اسم غير اللہ کاللات والعزّیٰ.

’’اھلال: کا معنی آواز بلند کرنا ہے، کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اس طرح آواز بلند کی۔ یعنی اپنی آواز کو اونچا کیا۔ کسی شاعرنے بنجر بیابان زمین کی تعریف یوں بیان کی ہے:

’’بنجر و ہموار زمین میں چلنے والے مسافروں نے زور سے آواز دی جیسے عمرہ کرنے والا سوار بآوازِ بلند تلبیہ کہتا ہے۔

اسی سے اھلال الصبی اور استھلال الصبی ہے، جس سے مراد عین پیدائش کے وقت بچہ کا بآواز بلند چیخنا ہے۔ یہاں اس آیت کا مطلب ہے کہ وہ جانور جس پر غیر اللہ مثلاً لات و عزیٰ کا نام لیا گیا ہو۔‘‘

(1) شوکانی، فتح القدیر الجامع بین فنی الروایة والدرایة من علم التفسیر، 1: 169

6۔ تفسیر ابن کثیر

(وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ): أی ما ذبح فذکر عليه اسم غير اﷲ فهو حرام.

’’یعنی وہ جانور جسے ذبح کرتے ہوئے اللہ کے غیر کا نام لیا جائے پس ایسا جانور حرام ہے۔‘‘‘

(2) ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 2: 8

علاوہ ازیں دیگر معروف تفاسیر میں بھی مفسرین کرام نے

{سورة البقرة، 2: 173 اور سورة المائدة، 5: 3}

 کے تحت مذکورہ بالا تمام معروف معانی بیان کئے ہیں کسی ایک مفسر نے بھی ان آیات کی یہ تاویل نہیں کی جو عام طور پر معترضین کرتے اور ایصالِ ثواب کے عمل کو شرک سے منسلک کرتے ہیں۔ مزید تفصیل درج ذیل تفاسیر میں دیکھئے:

1ـ ابن ابی حاتم، تفسیر القرآن العظیم، 5: 1407

2ـ امام فخر الدین رازی، التفسیر الکبیر، 5: 11

3ـ ابن جوزی، تفسیر زاد المسیر فی علم التفسیر، 1: 175

4ـ امام بغووی، معالم التنزیل، 1: 140

5ـ امام خازن، تفسیر لباب التأویل فی معانی التنزیل، 1: 119

6ـ امام بیضاوی، تفسیر البیضاوی، 1: 162

7ـ علامہ زمخشری، تفسیر الکشاف، 1: 215

8ـ امام نسفی، تفسیر مدارک التنزیل و حقائق التأویل، 1: 110

9ـ امام صاوی، تفسیر الصاوی، 1: 143

10ـ امام جلال الدین سیوطی، تفسیر الدر المنثور، 3: 15

11ـ أیضاً، تفسیر الجلالین

12ـ امام آلوسی، تفسیر روح المعانی، 2: 42

13ـ قاضی ثناء اللہ پانی پتی، تفسیر المظہری، 1: 190

14ـ علامہ عجیلی، تفسیر الجمل، 1: 207

15ـ احمد مصطفی، تفسیر المراغی، 1: 47

16ـ ابن عادل الدمشقی، تفسیر اللباب فی علوم القرآن، 7: 188

17ـ امام ابی سعود، تفسیر ارشاد العقل السلیم إلی مزایا القرآن الکریم، 1: 191

18ـ ابن عجیبہ، تفسیر البحر المدید، 2: 142


نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ