اندراج کی تاریخ  7/20/2019
کل مشاہدات  618
جن ذوات مقدسہ کو وسیلہ بنایا جا رہا ہے یا استعانت طلب کی جار ہی ہے ان کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ ان کا جو علم و قدرت وہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اور ان کا ہر کام رضاۓ الہیٰ اور اذنِ الہیٰ کے تابع ہوا کرتا ہے تو یہ عقیدہ یقینا صحیح اور قرآن و حدیث اور ارشادات ائمہ اہل بیت کے عین مطابق ہے اور ہم سب کا یہی عقیدہ ہے، اور اگر کوئی یہ خیال کرتے ہوۓ کسی نبی یا امام یا کسی ولی کو وسیلہ کر رہا ہے، کہ ان کا علم وقدرت ذاتی ہے جو چاہیں اپنی منشاء و مرضی سے کر سکتے ہیں خواہ اللہ تعالیٰ کی مرضی شامل ہو یا نہ ہو ،انہیں اللہ تعالیٰ کے اذن اور رضا کی ضرورت نہیں ہے تو ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص چاہے وہ سامنے یا غائبانہ طور پر وسیلہ اختیار کر ے دونوں صورتوں میں ایسا عقیدہ یقینا خلاف شریعت اور کفر ہے۔

القران:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُواْ فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَO

  1. اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اس تک (تقرب یا رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔

(سورۃ المائدہ آیت35)

وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُااللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُولُ لَوَاجَدُوااللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا '

''اور (اے حبیبۖ) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے تھے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو جا تے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت طلب کر تے تو وہ ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے ''(سورہ نساء آیت٦٤)

تفسیر:

'کنت جا لسًا عند قبر النبی ۖ فجاء اعرابی فقال السلام علیک یا رسول اللہ سمعت واللہ یقول:'' ولواُنُّھُمْ اذا ظلمو انفسھم جا ؤ ک فاستغفرواللہ۔۔۔۔الخ وقدجئتک مستغفرلذنبی مستشفعًابک الی ربی''

عتبی کہتے ہیں کہ میں قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ ،میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا ہے کہ اگر ''بے شک وہ لو گ جب کہ انہوں نے اپنی جا نوں پر ظلم کیا تھا ،تیرے پا س آتے وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور ان کے لیے رسول ۖ بھی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا تو وہ ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے اس لیے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے لیے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاںسفارشی پیش کر نے آیا ہو ں اس کے بعد اس نے درد دل سے چند اشعار پڑھے اور اظہار عقیدت اور جذبہ محبت کے پھول نچھا ور کر کے چلا گیا بعدازاں خواب میں اس کو کامیابی کی بشارت بھی مل گئی رسول اکرم ۖنے فرمایا :

اے عتبیٰ جاکر اس اعرابی سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ہے ۔ (اور اس روایت کو کثیر التعداد علماء نے بنا کسی اختلاف کے اپنی کتب میں درج فرمایا ہے، جن کے حوالہ جات کچھ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔)

محدث نووی: کتاب الا زکار ص١٨٥ طبع مصر

علامہ ابو البرکات النسفی: تفسیر المدارک جلد اول ص٢٩٩

علامہ تقی الدین سبکی: شفا و السقام '' ص٤٦ طبع قدیم

شیخ عبد الحق دہلوی: جذب القلوب ص٢٨٠ طبع کلکتہ

علامہ بحرالعلوم عبد العلی: رسائل الارکان ،ص٢٨٠طبع لکھنو

علامہ قسطلانی اور علامہ زرقانی: المواھب اللدنیہ مع شرحہ، ج ٨، ص٣٠٦

شیخ محمد بخیت الحنفی: تطہیر الغواد من دنس الاعتقاد'' ص٥١۔٥٢ طبع مصر۔

مولانا قاسم نانوتوی: آب حیات ص٤٩ طبع دہلی

مولانا ظفر عثمانی الدیوبندی: شفاء السقام ص١٢٨

علامہ سمہودی: وفاء الوفا،ج٢،ص٤١١

''وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِےُعَذِّ بَھُمْ وَاَنْتَ فِےْھِمْ ''

اور اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل نہیں کر ے گا جب تک آپ ان کے درمیان موجود ہیں ۔ (سورہ انفال آیت ٣٣)

تفسیر:

اس آیت مبارکہ میں ''وانت فیھم ''کی قطعی دلیل سے نبی کریم علیہ الصلوة والتسلیم کا وجود مبارک رحمت الہٰی کا سبب بنا

دیا گیا ہے نبی پا ک ۖ کے تو سل سے امت پر عذاب ٹل جا تا ہے ۔

صَدَقَةً تُطَھِّرُھُمْ وَتُزَکِّیْھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ۔ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنُ لَّھُمْ۔ وَاللّٰہُ سَمِیْع عَلِیْم ''

(اے رسول ۖ)آپ ان کے اموال میں سے صدقہ لیجیے اس کے ذریعے آپ انہیں پاکیزہ اور بابرکت بنائیں اور ان کے حق میں دعا بھی کریں یقینا آپ کی دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے ۔(سورہ توبہ آیت ١٠٣)

تفسیر:

اس آیت مبارکہ میں نبی کریم ۖ کی دعا کو موجب تسکین قرار دیا گیا ہے اور یہ تو سل بالدعا ہے ۔

'فَتَلَقّٰی آدَمُ مِنْ رَّبِّہ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہ' ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ '

پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے آدم کی توبہ قبول کر لی بے شک وہ بڑا توبہ قبول کر نے والا ،مہربان ہے۔ (سورہ بقرہ آیت ٣٧)

تفسیر:

روایت میں یہ ہے کہ حضرت آدم نے یوں کہا

'اللھم انی اسئلک بحق محمد وآل محمد سبحانک لاالہ الا انت عملت سواء وظلمت نفسی فاغفرلی انک انت الغفور الرحیم فھولاء الکلمات التی تلقی آدم ۔'

الٰہی میں تجھ سے سوال کر تا ہوں کہ محمد ۖ اور آل محمد ۖ کے وسیلے سے، تو پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے جان پرظلم کیا ہے، میری توبہ قبول فرمابے شک تو تو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے پس یہ کلمات تھے جو آدم کو سکھائے گئے ۔

(مسند الفردوس، ج٣،ص١٥١،رقم الحدیث ٤٤٠٩، طبع بیروت)

شاہ عبد الحق محدث الدھلوی: اپنی تصنیف ''جذب القلوب الی دیار المحبوب''ص٣١١ طبع کلکتہ ١٢٦٢ھ میں توبہ کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ، نبی کریم ۖسے وسیلہ چاہنا حاجت پوری ہو نے کا سبب اور مقصد میں کا میابی کا باعث ہے جب دیگر انبیاء صلوات اللہ علیھم اجمعین سے بعد از وفات توسل جائز ہوا تو سید الا نبیا علیہ افضل الصلوة واکملہا سے بعد وفات توسل بدرجہ اولی جائز ہو گا ۔

'فَلَمَّا َنْ جَائَ الْبَشِیرُ َلْقَاہُ عَلَی وَجْہِہِ فَارْتَدَّ بَصِیرًاً'

پھر جب خوش خبری سنانے والا آپہنچا اس نے وہ قمیض حضرت یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا تو اسی وقت ان کی بینائی لوٹ آئی ''

تفسیر:

اس آیت مبارکہ میں توسل با ثار النبی ہے۔

حضرت یعقوب کے چہرہ انور پر قمیض ڈالتے وقت بشارت دینے والے نے زبان سے کچھ نہ کہا، لہذا قمیض کے توسل سے بینائی کا لوٹ آنا توسل نفسی ہے ۔ جب نبی کی قمیض سے توسل جائز ہے تو اس سے توسل باثآر الانبیا اور توسل بالصالحین ثابت ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں ایک مقدس تابوت کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

وَقَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْکِہ اَنْ یَّْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَة مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّة مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ھٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰئِکَةُ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْن'

''اور ان سے ان کے پیغمبر (شموئیل )نے کہا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ وہ تابوت تمہارے پاس آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے سکون واطمینان کا سامان ہے اور جس میں آل موسی و ہارون کی چھوڑی ہو ئی چیزیں ہیں جسے فرشتے اٹھائے ہو ں گے اورتم ایمان والے ہو تو یقینا اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے۔

(سورہ بقرہ آیت ٢٤٨)

تفسیر:

یہ تابوت شمشاد کی لکڑی سے بنا ہو اتھا جو حضرت آدم پر نازل ہو اتھا یہ زندگی کے تمام لمحا ت تک ان کے پاس ہی رہا پھر بطور میراث یکے بعد دیگر آپ کی اولاد کو ملتا رہا ،یہاں کہ یہ حضرت یعقوب کو ملا اور آپ کے بعد آپ کی اولاد بنی اسرائیل کے قبضے میں رہا اورپھر حضرت موسی کو مل گیا تو آپ اس مقدس تابوت سکینہ میں تو رات اور اپنا خاص خاص ساماں رکھا کر تے تھے بعد ازاں یہ تابوت بنی اسرائیل میں ہی چلا آیا جس میں حضرت موسی کا عصا مبارک ان کی جو تیاں اور حضرت ہارون کے تبرکات تھے ۔جب بھی بنی اسرائیل کسی جنگ میں اس تابوت کو اپنے ساتھ لے جاتے تو اللہ تعالیٰ اس تابوت کے وسیلے سے انہیں عظیم فتح و کامرانی عطا فرما دیتاتھا اور مد مقابل کوفاش شکست ہو جا تی تھی ۔

اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ وَیَرْجُوْنَ رَحْمَتَہ وَیَخَافُوْنَ عَذَابَہ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا ً '

''یہ لو گ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کر تے ہیں کہ ان میں سے زیادہ مقرب کو ن ہے اور (وہ خود)اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے خائف ہیں بے شک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے ۔(سورہ بنی اسر ائیل آیت ٥٧)

تفسیر:

یعنی یہ مشرک لوگ (؛یہود و نصاری) جن نیک لوگوں کی عبادت کرتے ہیں، وہ تو خود اللہ کا تفرب حاصل کرنے کیلیۓ وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔۔ یعنی اللہ کے نیک بندے بھی اللہ کا قرب حاصل کرنے کیلیۓ وسیلہ مانگتے ہیں۔

توسل ازروئے احادیث مبارکہ :

اس سلسلہ میں بکثرت احادیث پائی جاتی ہیں،جن سے تو سل بالذات ،توسل فی الدعاء اور توسل للدعاء کا اثبات موجود ہے ۔سب احادیث کا نقل کرنا تو نہایت دشوار ہے البتہ چند حدیثیں ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں۔۔

 

(1) چنانچہ حضرت عثمان بن حنیف سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی اے اللہ کی نبی ۖ آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا فرمادیں کہ میری آنکھیں تندرست ہو جائیں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو چاہتا ہے تو تیرے لیے دعا کرتا ہوں اور اگر تو چاہتا ہے تواس پر صبر کر کیونکہ یہ تیرے لیے بہتر ہے ۔

اس نے عرض کی کہ حضور ۖ آپ دعا فرمادیں تو آپ نے اسے فرمایا وضو کرو اور دو رکعت نماز نفل ادا کر و اور پھر یہ دعا مانگو:

''اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمة یا محمد انی اتو جھت بک الیٰ ربی حاجتی ھذہ فتقضی لی اللھم شفعہ فی ''

اے اللہ !میں تجھ سے سوال کر تا ہو ں اور تیری رحمت والے نبی محمد کے وسیلے سے ،تیری طرف متوجہ ہو تا ہوں یا محمد ۖ میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی حاجت کے لیے متوجہ ہو تا ہوں ۔پس میری اس حاجت کو پورا فرما ا ے اللہ ! میرے حق میں نبی کریم ۖکی شفاعت کو قبول فرما۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ'' ففعل الرجل فابصر''اس شخص نے اس طرح کیا تو آنکھ والا ہو گیا (بینائی حاصل ہو گئی )

ملاحظہ ہو۔۔۔۔۔۔

مسند احمد ج ٤ ،ص١٣٩،حدیث ١٧٢٤٠،

سنن ابن ما جہ ج ،١،ص٤٤١حدیث ١٣٨٥،باب صلوة الحاجت

مستدرک للحاکم ج ١ ،ص٣١٣ طبع دائرة المعارف حیدر آباد دکن

محقق محمد فواد عبد الباقی اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں''ھذا حدیث صحیح ''  یہ حدیث صحیح ہے ۔

امام حاکم او ر علامہ ذہبی نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ہے ''ھذا حدیث صحیح علی شرط الشخیین ولم یخرجاہ '' اور دوسرے مقام پر امام بخاری کی شرط پرصحیح کہتے ہیں (مستدرک ج١ ص٥٢٦)

علامہ خفاجی کہتے ہیں: '' ھذا الحدیث مسند صحیح ''

(نسیم الریاض ج ٣، ص١٠٦طبع قسطنطنیہ ١٣١٥ھ )۔

محدث طبرانی: ۔''والحدیث صحیح'' یہ حدیث صحیح ہے (المعجم الصغیر ص١٠٤ مطبع انصاری دہلی ١٣١١ھ )

ابن تیمیہ: رواہ اہل السنن وصححہ الترمذی،اہل سنن نے یہ حدیث روایت کی ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے (مجموع فتاویٰ ج ٤ ،ص٣٧١ طبع سعودیہ )

علامہ سہمودی کہتے ہیں ،صححہ البیھقی (وفاء الوفا ج ٢ ٤٢٠)

المعجم الکبیرللطبرانی ج ٩ ،ص٣٠،٣١حدیث ٨٣١١ طبع بغداد

علامہ محمد انور شاہ کشمیری فیض الباری ج٤ ،ص٦٨ طبع ڈاھبیل میں اس حدیث کے ذیل میں ابن تیمیہ کا رد کر تے ہو ئے لکھتے ہیں،'فثبت منہ التوسل القولی ایضاً وحینذ انکار الحافظ ابن تیمےةتطاول' اس حدیث سے توسل قولی بھی ثابت ہو گیا لہذا حافظ ابن یتیمہ کا اس سے انکار کرنا زیادتی ہے ۔

 

حدیث:

بخاری شریف کی ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں بارش نہ ہونے سے لوگ پریشان تھے، تو خلیفہ دوم سیدنا عمر ابن خطاب نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس کے وسیلہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہم تیرے حضور میں اپنے نبی مکرم کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اب ہم تیرے محبوب کے چچا کو وسیلہ پیش کر رہے ہیں، تو اسے قبول فرما۔ اس دعا کے فوری بعد بارش شروع ہو جاتی تھی۔

 

حدیث:

حضرت آدم علیہ السلام نے ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے اپنی خطا کی معافی کے لیے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا۔

ابن ابی شیبہ، مصنف، عبد الرزاق۔

 

جب اتنے بڑے محدثین نے وسیلہ کو نہ صرف جائز بلکہ دعاؤں کی قبولیت کے لیے لازم لکھا، اور توثیق کر دی ہے اور امام حاکم و ذہبی اور طبرانی و خفاجی نے وضاحت کے ساتھ اس کی تصحیح کر دی ہے، تو پھر مٹھی بھر ایک طبقہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ توسل کا تصور قرآن وسنت او ر تعامل صالحین میں نہیں ہے، کیا یہ بعد میں پیدا ہونے والا فرقۂ نجدیۂ وھابیۂ جس کو بہت سارے آج کے بھی جید علماء فتنۂ عظیمہ اور فرقۂ قادیانئ ثانی کا خطاب دیتے ہیں، یہ ٹھیک ہوا؟؟ یہ مومن ہوا؟؟ اور اتنے سارے محدّثین اور سلف صالحین کیا بھٹکے ہوئے گمراہ ہوئے؟؟ سوچنے کی بات ہے، جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال پاک کو گدھے کے خیال سے بھی برا جانتے ہو، اور اپنی کتب میں لکھتے ہو، اور قران پاک کا جلانا حلال سمجھتے ہو، کیا وہ سچے توحیدی ہو سکتے ہیں؟؟؟

کیا یہ ہی مسلمانی ہے؟؟؟ استعفراللہ من کل ذنب و اتوب الیہ۔۔۔

 

جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِدنیویہ میں َ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست باعثِ سعادت تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سے دعا کی درخواست سعادتِ عظمیٰ کا باعث ہے ۔

اللہ عزّوجل سے دعا ہے، کہ وہ منافقوں کی دوستیوں اور منافقین کے فتنوں سے محفوظ فرماۓ، اور ہمیں اپنی جانب سیدھی راہ چلنے کی توفیق عطا فرماۓ، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلنے کی ترکیب عنایت فرمائی۔۔۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ان فتنوں اور فتنہ پرورں کو ھدایت عطا فرماۓ، کہ یہ بھی دین مبین کی پیروی کرنا نصیب ہو۔  آمین ثم آمین۔۔

 

صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا

 

طالب دعا: (سعد حمید).

 

 

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ