عالم برزخ میں اولیاء و انبیاء کی ارواح  سے توسل کے نظریاتی مبانی میں سے ایک اہم مبنی«سماع موتیٰ» یعنی  مُردوں کے اندر سننے کی صلاحیت کا ہونا  ہے۔بعض لوگوں نے ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کی پیروی کرتے ہوئے اولیاء کی ارواح سے توسل کا انکار  کیا ہے ۔  ان کا یہ ماننا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کی ارواح  زندہ لوگوں کی آواز  نہیں سن سکتیں اور عالم برزخ میں  زندہ لوگوں کے حالات کی انہیں کوئی خبر نہیں ہے۔  پس ان سے ہم کلامی  بالکل بے معنی اورایک  بیہودہ کام ہے۔ نہ فقط یہی بلکہ  اگر کوئی شخص  ان سے حاجت مانگے تو اس کامطلب ہے کہ اس نے انہیں خداوند متعال کی طرح حاضر و ناظر اور سمیع و بصیر مان لیا ہے، اور یہ کام مشرکانہ ہے یا کم از کم شرک کے مشابہ ہے۔ ارواح کے نہ سن سکنے کا یہ تصور بعض آیات کے ظواہر سے مستند کیا گیا ہے، جنہیں یہ لوگ آئے دن تکرار کرتے ہیں۔ حتی کہ اس نظریے کے خلاف جانے والی روایات  کو رد کرکے، اپنے نظریے کو ثابت کرنے کے لیے بعض علماء کے اقوال کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ  تلقین میت سے متعلق مسلمانوں کی علمی و عملی سیرت    ، ارواح کے اندر قوت ِسماعت پائے جانے کے عقیدے کی گواہ ہے۔ قرآنی آیات اور پیغمبر اسلام کی  واضح احادیث کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اس دنیا سے گزر جانے والے افراد کے ساتھ ہم کلام ہونا ، نہ صرف  شرک اور بُرا عمل  نہیں،  بلکہ سنت نبوی کے عین مطابق ہے اور مسلمانوں کی عمومی سیرت بھی اسی کی گواہ ہے۔ بالخصوص بعض روایات کی بنیاد پر مردہ حضرات زندہ لوگوں کے حق میں دعا  کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں، چنانچہ وہ سلام کا جواب دیتے ہیں اور یہی جواب ایک طرح سے سلام کرنے والے کے حق میں دعا شمار ہوتی ہے۔
مصنف :  صادق مصلحی- * محقق مؤسسہ دارالإعلام لمدرسۃ اہل‌البیت(ع)

 

«سماع موتیٰ» کا معنی و مفہوم

زبان دانوں کے نقطہ نظر سے "سمع " کا لفظ قرآن میں قوتِ سماعت کے ساتھ ساتھ   بعض اوقات کچھ دیگر  معانی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ جيسا کہ (سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا)[1]میں سمجھنے کے معنی میں ہے۔ یعنی «ہم نے سمجھ لینے کے بعد نافرمانی کی»۔ 

اسی طرح    بعض زبان دانوں آيتِ کریمہ : (إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء)[2] کا معنی  یوں بیان کیا ہے:

أي لا تفهمهم، لكونهم كالموتى في افتقادهم بسوء فعلهم القوّة العاقلة التي هي الحياة المختصّة بالإنسانيّة؛

یعنی اے پیغمبر آپ انہیں اپنی بات نہیں سمجھا سکتے ، کیونکہ یہ لوگ  مردوں کی مانند  سمجھ بوجھ کی صلاحیت کھو چکے ہیں،   جو انسانی زندگی کا خاصہ ہے۔[3]

اسی طرح قبول کرنے کے معنی میں بھی لیا گیا ہے؛ «أي لا تقدر أن توفق الكفار لقبول الحق؛ یعنی  اے پیغمبر  آپ کفار کو حق بات قبول کرانے میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے».[4]

عربی  زبان میں موت کا لفظ حیات کے مقابلے میں ہے۔ اور چونکہ  حیات کئی ایک طرح کی ہوتی ہے تو موت بھی اسی حیات کے تناسب سے  اس کے بالمقابل   ہوتی ہے، لہذا موتیٰ کے چند ایک معانی ہیں، جن میں دو  معنی زیادہ قابل توجہ  ہیں۔

ایک: مرے ہوئے لوگ وہ ہیں جو اس دنیا سے چل بسے، اور عام طور پر ان کے مردہ جسموں کو «موتیٰ» کہا جاتا ہے، کیونکہ موت حیات کے مقابلے میں ہے اور مرتے وقت جسم ہی مر تا ہے جبکہ  روح تو عالم برزخ میں  زندگی کا سفر جاری رکھتی ہے۔

دوسرے:گمراہ لوگ جو سمجھ بوجھ کی صلاحیت سے عاری ہیں، جیسے کفار جن  کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے اوراب  وہ ہدایت سے بے بہرہ  ہی رہیں گے۔ (إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء)۔[5]

پس مردوں  میں قوت ِسماعت نہ پائے جانے کا مطلب وہ کافر بھی ہو سکتے ہیں جو پیغمبر اکر م ص کی بات کو نہیں سمجھتے ، جیسا کہ اس سے مراد بے روح جسم بھی ہو سکتے ہیں  جو مٹی بن چکے اور سوائے ہڈیوں کے ان میں کچھ نہیں بچا اور آوازیں سننے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

بجا طور پر یہاں ایک سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ آیا حال ہی میں مرے لوگوں کو سننے کے لیے  اسی دنیا کے  سماعی آلات یعنی کانوں  کی ضرورت پڑتی ہے، یعنی روح دوبارہ بدن میں پلٹ آتی ہے  جس سے  کانوں میں سننے کی طاقت آجاتی ہے، جیسا کہ اہل سنت کی اکثریت کا عقیدہ ہے کہ منکر و نکیر کے قبر میں سوال  و جواب  کے وقت روح دوبارہ پلٹ آتی ہے، یا نہیں بلکہ روح  بغیر  مادی جسم اور کان  کی ضرورت محسوس کیے ، آوازیں سنتی اور سمجھتی ہے؛ چنانچہ بعض روایات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ پہلے نظریے کی بنیاد پر قبر میں سوال و جواب  اور جسم کےبوسیدہ ہو جانے کے بعد  مردہ اس دنیا کی کوئی آواز نہیں سنتا،  جبکہ دوسرے نظریے کی بنیاد پر وفات کے ابتدائی زمانے میں بھی سننے کے لیے جسم کی ضرورت نہیں ہے اور روح آوازوں کو بغیر کسی واسطے کے دریافت کرتی ہے، چنانچہ  تفسیر روح المعانی کے مصنف نے  یہ  احتمال دیا ہے۔[6]

اہل‌سنت کا نظریہ

کيا مردے سن سکتےہیں یا نہیں؟ اس حوالے سے اہل سنت کے درمیان تین نظریات پائے جاتے ہیں۔ [7]

پہلا نظریہ :

مردوں کے اندر آوازیں سننے کی صلاحیت ہمیشہ موجود ہے۔ابن‌عبدالبر کہتے ہیں:

الاکثرین علی ذلک و هو اختیار ابن جریر الطبری و کذا ذکر ابن قتیبه؛

اکثریت کی یہی رائے ہے اور طبری نے اسی قول کو اختیار کیا ہےاور ابن قتیبہ کی رائے بھی یہی ہے۔[8]

عبدالحق اشبیلی نے یوں فتوا دیا ہے:«مستحب ہے کہ جب  کسی شخص کی نظر قبروں پر پڑے تو اہل قبور پر سلام کرے»آگے چل کر لکھتے ہیں:«واجب ہے کہ  انہیں(اہل قبور کو)  ایسی باتوں کے ذریعے رنجیدہ خاطر نہ کرے جو  ان کے لیے  تکلیف دہ ہوں »  ۔[9]

اگرچہ ابن‌تیمیہ نے «سماع موتیٰ» کے مخالفین کی دلیل کے طور پر پیش کی جانے والی آیات کی تفسیر میں اس سماعت کی نفی کی ہے جو کفار کے لیے نفع مند ہو، لیکن  «سماع »کی باقی اقسام  کو جو غالبا اس دنیا میں جاری و ساری ہیں،  ثابت جانا ہے۔ [10]

ابن تیمیہ ہی کے شاگرد ابن قیم جوزی  نے اپنی کتاب الروح میں[11]  اور ابن رجب حنبلی دمشقی نے اہوال القبور[12]  میں ایک مستقل باب تشکیل دیا ہے جس کے اندر مردوں کے سنے جانے  کے متعلق جو کچھ  احادیث اور خوابوں میں تذکرہ ملتا ہے، انہیں بیان کیا ہے۔

ابن‌حجر نے فتح الباری[13]  اور سیوطی نے شرح الصدور[14] میں سماع کے نظریے کو تسلیم کیا ہے۔

دوسرا نظریہ :

مردے فقط بعض چیزیں سنتے ہیں، یعنی  صرف وہی چیزیں انہیں سنائی دے سکتی  ہیں جن کا ذکر  آیات و روایات  میں صراحت کے ساتھ ہوا ہے۔  

محمود آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں «سماع موتیٰ» کے موافق اور مخالف نظریات کے دلائل بیان کرنے کے بعد، اپنا نظریہ یوں بیان کیا ہے:

 «و الحق أن الموتى يسمعون في الجملة» حق یہ ہے کہ مردے  کچھ چیزیں سنتے ہیں۔

 اور اس کی وضاحت ميں کہتا ہے کہ :  «سماع موتیٰ» کا تصور  دو طرح سے ممکن  ہے

پہلے یہ کہ اللہ تعالی مردے کے بعض اجزاء کو ایسی طاقت عطا کرے کہ جب اللہ تعالی چاہے، وہ  سلام اور اس جیسی دیگر چیزیں سن سکے۔ اور دوسرے یہ کہ سننے کا عمل  روح  کے متعلق گردانا جائے جس میں جسم کا کوئی  عمل دخل نہ ہو۔[15]

تیسرا نظریہ:

مردے کسی بھی صورت زندہ لوگوں کی آواز نہیں سنتے، چنانچہ  اُمّ المٔومنین عائشہ  رسول اللہ کے جنگ بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کے ساتھ بات کرنے والی روایت میں (سماع)کو تسلیم نہیں کرتیں، بلکہ وہ اس حدیث کا معنی یوں کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام ص نے فرمایا  کہ «قتل ہونے والے میری اس بات کو جانتے ہیں ».[16]

محمود آلوسی کے فرزند علامہ نعمان آلوسی کہتے ہیں کہ حنفی علماء میں اموات کے اندر «سماع موتیٰ» کے نہ ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔[17]

علامہ نووی امام  مارزی مالکی  سے  نقل کرتے ہیں کہ ان کا یہ ماننا  ہے کہ بدر کے کنویں  میں پڑے مشرکین کے ساتھ  رسول خدا ص کی گفتگو سے متعلق روایت فقط انہی لوگوں کے ساتھ خاص ہے اور باقی اموات کے اندر سننے کی صلاحیت نہیں ہے۔[18]

قاضی ابویعلی حنبلی بھی اپنی کتاب جامع کبیر میں «سماع موتیٰ» کے حوالے سے ام‌المؤمنین عایشہ کی پیروی میں اسی منفی  موقف کو ترجیح دیتے ہیں۔[19]

نیز البانی نے الآیات البینات کے مقدمہ میں اور ابن‌جوزی نے  الفروع لابن‌مفلح میں «سماع موتیٰ» کی نفی کی ہے۔[20]

««سماع موتیٰ» » کے موافق علماء کے دلائل:

برزخی زندگی کا عقیدہ تمام شیعہ و سنی مسلمانوں کے ہاں مسلّمہ امر ہے۔[21] اس حوالے سے قرآن کریم کی متعدد آیات سے استناد کیا گیا ہے ؛مثلا ایسی آیات  جن میں منافقین کے حوالے سے دوبار   عذاب کا تذکرہ ملتا ہے،[22]یا  جن آیات میں  عالم برزخ میں شہداء کے رزق  حاصل کرنے ، [23] اور آل فرعون کے عذاب میں گرفتار ہونے کا تذکرہ ملتا ہے۔اسی طرح وہ روایات جو قبر کے عذاب سے متعلق وارد ہوئی ہیں۔  [24]

دیکھنا سننا،  شعور رکھنا  اور بعض افعال انجام دینے پر قادر ہونا  یہ سب زندگی ہی  کے  لازمی اجزاء ہیں اور  مندرجہ ذیل  آیات و روایات کی روشنی میں ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے خاص بندوں کی ارواح  عالم برزخ میں ایک دوسرے سے ہم کلام ہونے کے ساتھ ساتھ، انہیں  اس دنیا میں موجود زندہ لوگوں  کی آوازیں بھی سنائی دیتی  ہیں۔

۱۔ سوره اعراف، آیت نمبر 79: جب حضرت صالح  علیہ السلام کی قوم نے اونٹنی  جسے آپ کے معجزے کی حیثیت حاصل تھی،  کے پاؤں کاٹ دیے اورحکم خدا سے سرتابی کی اور کہا کہ اے صالح علیہ السّلام اگر تم خدا کے رسول ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے تھے اسے لے آؤ تو انہیں زلزلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا جس کے نتیجے میں  اپنے گھر ہی میں اوندھے پڑے رہ گئے:

(فَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَكِن لاَّ تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ)؛[25]

تو اس کے بعد صالح علیہ السّلام نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا کہ اے قوم میں نے خدائی پیغام کو پہنچایا تم کو نصیحت کی مگر افسوس کہ تم نصیحت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتے ہو ۔

ابن‌کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

هذا تقريع من صالح7 لقومه، لما أهلكهم اللّه بمخالفتهم إياه و تمردهم على اللّه و إبائهم عن قبول الحق و إعراضهم عن الهدى إلى العمى، قال لهم صالح ذلك بعد هلاكهم، تقريعاً و توبيخاً و هم يسمعون ذلك، كما ثبت في الصحيحين؛[26]

یہ در اصل حضرت صالح علیہ السّلام کا اپنی قوم کے لیے مذمتی بیان ہے ، جب  اللہ تعالی نے انہیں اپنی  نافرمانی ،  حق بات  ماننے سے انکار اور ہدایت سے منہ پھیر کر  گمراہی اختیار کرنے کے باعث ہلاک کر ڈالا،  تو صالح علیہ السّلام نے ان کے ساتھ یہ ملامت آمیز گفتگو کی جسے وہ سن رہے تھے، جیسا کہ صحیحین میں یہ بات ثابت ہے۔

ابوحیان محمد بن‌یوسف اندلسی نے اپنی تفسیر میں مذکورہ  آیت ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ

 (وَلَكِن لاَّ تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ)، (تم نصیحت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتے ہو ) يہ آیت ماضی کی حکایت کر رہی ہے۔ اس کے بعد ابوحیان نے مُردوں کو مخاطب قرار دیے جانے کی تائید میں  بدر  کے ہلاک شدگان والی روایت کو نقل کیا ہے۔ [27]

صاحب تفسیر بیان المعانی کہتے ہیں: حضرت صالح علیہ السّلام نے اپنی قوم کو انکی  ہلاکت کے بعد مخاطب کیا، جیسا کہ رسول خدا ص نے  غزوۂ بدر میں ہلاک ہونے والے قریش کے ساتھ گفتگو کی تھی۔[28]

محمد ثناء الله مظهری   اپنی تفسیر میں مذکورہ آیت کے ذیل میں کہتے ہیں:  اگر  اعتراض اٹھایا جائے کہ  حضرت صالح علیہ السّلام نے ان کے ساتھ کیونکر بات کی جبکہ وہ ہلاک ہو چکے تھے، تو جواب میں کہا جائے گا کہ ویسے ہی جیسے پیغمبر اسلام ص نے بدر کے ہلاک شدگان کے ساتھ انہیں کنویں میں ڈا لے جانے کے بعد بات کی تھی۔[29]

صاحبالتفسیر الواضح کا بیان ہے: حضرت صالح علیہ السّلام کا اپنی قوم کو  انکی  ہلاکت کے بعد آواز دینا، بالکل ویسے ہی تھا جیسے رسول خدا ص نے بدر  میں  ہلاک  ہونے والے مشرکین کو  آواز دی تھی۔[30]

قرطبی  نے بھی تفسیر الجامع لاحکام القرآن  میں یہی رائے اختیار کی ہے۔[31]

ابوالفرج عبدالرحمن بن‌علی ابن‌جوزى کی تفسیر میں  یوں منقول ہے:

 «قال قتادة: ذكر لنا أنّ صالحا أسمع قومه كما أسمع نبيّكم قومه، يعني: بعد موتهم».[32]قتادہ نے کہا : ہمیں  یہ بتایا گیا ہے کہ صالح نے بالکل ویسے ہی اپنی قوم کو یہ حقیقت بتائی جس طرح  تمہارے نبی اپنی قوم کو بتلا رہے تھے، یعنی ان کی موت کے بعد۔

  1. سوره اعراف آیه 93: (فَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالاَتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ فَكَيْفَ آسَى عَلَى قَوْمٍ كَافِرِينَ).

ابن‌کثیر نے اس آیت کی تفسیر  یوں بیان کی ہے:

أي فتولى عنهم شعيب7 بعد ما أصابهم من العذاب و النقمة و النكال، و قال مقرعاً لهم و موبخاً۔۔۔؛

حضرت شعیب علیہ السّلام  کی قوم پر جب عذاب نازل ہو چکا تو آپ نے اپنی قوم سے منہ موڑ لیا  اور ملامت بھرے  لہجے میں ان سے مخاطب ہو کر فرمایا:  اے قوم میں نے اپنے پروردگار کے پیغامات کو پہنچادیا اور تمہیں نصیحت بھی کی تو اب  تمہاری ہلاکت پر افسوس نہیں کروں گا، کیونکہ تم لوگوں نے  خداوند متعال کی طرف سےنازل ہونے والی ہدایت   کے متعلق کفر اختیار کیا ہے۔ [33]

اس کے علاوہ پہلی آیت کے بارے میں جن مفسرین  کے کلام سے شواہد پیش کیے گئے،  انہوں نے اس آیت کریمہ کو بھی  نزول ِعذاب  کے بعد  ہلاک شدہ قوم کو مخاطب کیے  جانے کی دلیل قرار دیا ہے۔

  1. پیغمبر اسلام ص کا غزوۂ بدر کے ہلاک شدگان کے ساتھ ہم کلام ہونا:

غزوہ ٔ بدر کے اختتام پر شہداء کے دفن کیے جانے کے بعد رسول اکرم  ص نے حکم دیا کہ مشرکین کے جنازے ایک کنویں میں ڈال دیے جائیں۔ جب ان کے جنازے کنویں میں ڈال دیے گئے، تو آنحضرت ص نے  ان میں سے ہر ایک کو اس کے نام کے ساتھ پکارا اور فرمایا: اے ابوجہل، عتبہ، شیبہ، امیہ! کیا ان چیزوں کو جن کا وعدہ تمہیں تمہارے پروردگار نے دیا تھا، تم نے حق و حقیقت پر مبنی پایا؟ میں نے تو ان تمام وعدوں کو جو میرے رب نے مجھے دیے تھے حقیقت  کے عین مطابق ديکھا۔ اس موقع پر کچھ مسلمان بولے: کیا مردوں کو آوازیں دے رہے ہیں؟ رسول اکرم ص نے جواب دیا: «والذی نفسی بیده ما أنتم بأسمع لما أقول منهم ولکنهم لایقدرون أن یجیبوا؛

اس ذات کی قسم جس کے قبضۂِ قدرت میں میری جان ہے تمہارے اندر میری ان باتوں کو سننے کی صلاحیت ان سے زیادہ نہیں ہے، فقط وہ جواب نہیں دے سکتے»۔[34]اہل سنت کے درمیان یہ ایک مسلّمہ روایت ہے، اگرچہ ام المؤمنین عائشہ نے ہلاک شدگان کے سننے (سماع)کو نہیں مانا اور کہا کہ حدیث در اصل یوں ہےکہ حضور)نے فرمایا « وہ جانتے ہیں  کہ جو میں انہیں  کہہ رہا ہوں وہ حق ہے »، تاہم انہوں نے بھی اصل روایت کا انکار نہیں کیا،منقولات کے اندر اختلاف کے باعث  زیادہ سے زیادہ اختلاف اس چیز میں ہے کہ بعض روایات میں  «الآن» یعنی ابھی کا لفظ آیا ہے،  جس سے  بعض لوگوں نے اس  کا یہ مطلب نکالا ہے کہ  مردوں میں اس خاص  وقت سے ہٹ کر  سننے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔

  1. رسول خدا ص کا شہداء اور اس دنیا سے گزرے ہوئے باقی مؤمنین سے ہم کلام ہونا:

حضرت رسول اکرم 6 اپنی عمر مبارک کے آخری ایام میں بقیع کے قبرستان تشریف لے جایا کرتے  اور اہل قبور سے یوں مخاطب ہوتے:

السلام عليکم دار قوم مؤمنين، أنتم لنا فرط و إنا بکم لاحقون ليهنئ لکم ما أصبحتم فيه؛

تم پر سلام ہو اے با ایمان   مقام  پر  ٹھہرے  والے لوگو،  تم نے ہم پر سبقت لے لی اور ہم عنقریب تم سے آملیں گے۔ زہے نصیب   تمہارے کہ ایسے مقام پر تمہیں جگہ ملی![35]

ابوہریرہ نقل کرتے ہیں کہ غزوۂ احد سے واپسی کے وقت رسول  اکرم ص  حضرت مصعب بن عمیر رض  اور ان کے ساتھیوں کی قبر پر ٹھہرے اور فرمایا: «أشهد أنکم أحیاء عند الله؛  میں گواہی دیتا ہوں کہ تم  اللہ کی بارگاہ میں زندہ ہو ». پھر مسلمانوں سے مخاطب ہو کر فرمایاکہ ان پر سلام کرو، کیونکہ یہ لوگ تمہارے سلام کا جواب دیتے ہیں۔[36]

  1. اہل قبور پر سلام کرنے کی تاکید: پیغمبر اکرم ص‌مسلمانوں کو اہل قبور پر سلام کرنے کی تاکید کیا کرتے اور فرماتے:

ما من أحد یمرّ بقبر أخیه المؤمن کان یعرفه فی الدنیا یسلم علیه الا عرفه و رد علیه؛

جب کوئی بھی آدمی  اپنے مومن بھائی کی قبر سے گزر ے  جسے وہ ا س دنیا میں جانتا ہو  اوروہ  اسے سلام کرے  تو صاحب ِقبر اسے پہچان لیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔  [37]

  1. تشییع جنازہ کرنے والوں کے قدموں کی آہٹ سنائی دینا: انس بن‌مالک سے روایت ہے :

إن العبد اذا وضع فی قبره و تولی عنه أصحابه و إنه لیسمع قرع نعالهم؛

جب مردے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور جنازے میں شریک لوگ واپس مڑتے ہیں تو میّت کو ان کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔[38]

  1. تشییع جنازہ کرنے والوں کی باتیں سنائی دینا:

میّت کو اپنے  کفن و دفن میں شریک افراد کی  باتیں سنائی دیتی   ہیں

أخرج ابو نعیم عن عمرو بن دینار قال ما من میّتٍ یَموتُ الا روحه فی یدِ ملکٍ یَنظُر إلی جسَدِه کیف یُغسَّل و کیف یُکفَّن و کیف یُمشی به و یقال له و هو علی سریره اسمع ثناء الناس علیک؛

عمرو بن‌دینار کہتا ہے کہ جو بھی اس دنیا سے جاتا ہے، اس کی روح فرشتے کے قبضے  میں ہوتی  ہے اور اسی حالت میں وہ اپنے غسل و کفن اور قبر کی طرف لے جائے جانے کی کیفیت کو مشاہدہ کر رہی ہوتی ہے۔ اسے کہا جاتا ہے جب وہ اپنے تخت (پھٹے) پر ہوتا ہے کہ لوگوں کی زبان پر جاری ہونے  والی اپنی تعریفیں سنو[39]

کتاب ابن‌طولون کے مصحّح کے نقطہ نظر سے، یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے سلسلہ سند میں موجود تمام راوی قابل وثوق ہیں۔[40]

  1. امیر المؤمنین حضرت علی7 کا مردوں سے باتیں کرنا: امیرالمؤمنین7 صفین سے واپسی کے موقع پر جب کوفہ پہنچے تو اہل قبور سے یوں ہم کلام ہوئے:

اے وحشتکدوں، خالی مکانوں اور تاریک منزلوں کے مکینو، اے خاک میں بسیرا کرنے والو، اے اجنبی لوگو، اے تنہا و بے کس لوگو، اے وحشت زدہ لوگو!  تم اس راستے میں ہم سے سبقت لے گئے اور ہم بھی عنقریب تم سے آملیں گے۔ تمہارے گھر تو دوسروں کی  رہائشگاہ بن گئے، تمہاری بیویاں بھی دوسرے لوگوں کی ہمسری میں چلی گئیں، اور تمہارے اموال بھی تقسیم ہو چکے، ہمارے پاس تمہارے لیے یہی خبریں تھیں۔ اب بتاؤ تمہارے پاس کیا خبر ہے؟ پھر اپنے اصحاب سے مخاطب ہو کر فرمایا: اگر انہیں بات کرنے کی اجازت مل جاتی تو تمہیں بتلاتے کہ بہترین زادِ راہ تقوا اور پرہیزگاری ہے۔[41]

مذکورہ بالا روایات جو لفظوں کے اختلاف کے ساتھ صحاح اور سنن میں نقل ہوئی ہیں، واضح طور پر اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ مردے زندہ لوگوں کی آوازیں سنتے ہیں۔ اور یہ روایات چونکہ مردوں کے  سننے کی صلاحیت کو  کسی خاص زمانے یا مکان   سے مخصوص نہین کرتیں، لہذا یہ نتیجہ لیا جا سکتا ہے کہ مردے ہر حالت میں زندہ لوگوں کی بات سن سکتے ہیں۔ چاہے وہ سلام ہو یا کوئی دوسری بات، اور چاہے دفن کے پہلے ہفتے میں ہو یا اس کے بعد کے اوقات میں ،  یوں پھر تفسیر روح المعانی  کے مصنف علامہ  آلوسی کی بات میں کوئی وزن باقی نہیں رہتا جنہوں نے مردوں میں سننے کی صلاحیت   کو مذکورہ موارد کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوشش کی ہے۔ [42]

شریف بن‌عبدالله حازمی، علامہ آلوسی کی اس بات کے جواب میں کہتے ہیں: وہ خدا جو قبر  میں سوال و جواب کے وقت میت کی روح کو لوٹا سکتا ہے، وہی خدا اس بات پر بھی  قادر ہے کہ جب کوئی آدمی  میت سے بات کرنا چاہے تو اس کی روح کو پلٹا دے تاکہ وہ   اس کی باتیں سن سکے۔  [43]

  1. علماء اور بزرگوں کے اقوال: محمد بن‌محمد عبدری مالکی نے المدخل نامی کتاب میں زیارت قبور کے عنوان سے ایک فصل قائم کی ہے،جہاں رسول اکرم ص کی زیارت کے آداب  کا ذکر  ہے ، منجملہ غسل کرنا اور  آپ کے مقبرے کے نزدیک احترام کا خاص خیال رکھنا اور صحابہ و تابعین پر درود بھیجنا وغیرہ، اسی کے ضمن میں وہ  یہ بھی لکھتے ہیں:

ثم یَتوسّل إلی الله تعالی بهم في قضاءِ مأربه و مغفرةِ ذبوبه و یَستغیث بهم و یَطلب حوائجَه منهُم ... فمَن توسَّل بِه أو طلَب حوائجَه منه فلا یُردُّ و لا یَخیبُ.... فالتّوسُل به علیه الصّلوة و السّلام هو محل حطّ الاوزار و أثقال الذنوب و الخطایا؛[44]

جو شخص آنحضرت ص سے توسل کرے یا حاجت مانگے تو وہ ناامید نہیں ہوگا۔۔۔لہذا پیغمبر اکرم ص سے توسل،  گناہوں کے جھڑنے اور خطاؤں کے بوجھ سے چھٹکارا پانے کا ذریعہ ہے۔

سمہودی نے ابوهریره کے ذریعے رسول خدا6 سے روایت کی ہے:

من زارنی بعد موتی فکأنّما زارنی و أنا حی و من زارنی کنت له شهیداً و شفیعاً یوم القیامة؛[45]

جو شخص  میری وفات  کے بعد میری زیارت کرے، گویا  اس نے میری  زندگی میں  میری زیارت کی، اور جس نے میری زیارت کی میں روز قیامت اس کا گواہ اور شفیع بنوں گا۔

ابن طولون نے اپنی کتاب تحریر المرسخ فی احوال البرزخ میں متعدد روایات ذکر کی ہیں جن میں مردوں کے زندہ لوگوں کی باتیں سننے اور ان کے حالات سے آگاہ رہنے کا پتہ ملتا ہے۔ ابن طولون اسی کتاب کے صفحہ نمبر ۲۵۹ پر   بیان کرتا ہے کہ مردے بلا شک و شبہہ سننے اور جاننے  کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  

اسی طرح صفحہ نمبر  265 پر ابن‌قیّم کی زبانی نقل کرتا ہے کہ احادیث اور مرویاّت اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھی زیارت کرنے والا کسی قبر پر جاتا ہے تو میت  کوپتہ چل جاتا ہے ، اس کی آواز سنتا ہے اور اس سے مانوس ہو جاتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔  مزید بر آن یہ ہے کہ رسول خدا  ص نے اپنی امت کو یہ  حکم دیا کہ اہل قبور پر سلام کریں، ایسا سلام جسے وہ سنتے اور سمجھتے ہیں۔ پھر وہ اس بات کی تایید میں کچھ روایات پیش کرتا ہے۔  

  • سماع موتی کے مخالفین کے دلائل

دوسری طرف «سماع موتیٰ» کے مخالفین نے بھی کچھ آیات اور روایات سے استدلال کیا ہے۔

یہ آیات  سماع (سننے)کے بجائے  قبروں میں دفن مردوں کے اسماع  یعنی سنانے کی نفی کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔ سیاق و سباق کے لحاظ سے بھی اور تفاسیر کی روشنی میں بھی ان آیات  کا شان نزول معاند کفار ہیں، یعنی یہ  ان کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ مندرجہ ذیل آیات سے انہوں نے دلیل قائم کی ہے:

  1. (وَ ما أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ)؛ « اور آپ قبروں میں مدفون لوگوں کو تو نہیں سنا سکتے ».[46]
  2. (فَإِنَّک لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ)؛[47] « آپ یقینا مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ان بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پشت پھیرے جا رہے ہوں ».

مفسرین نے ان آیات کو رسول خدا ص کے دو ر کے کفار کے متعلق جانا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مردوں سے مراد وہ کفار ہیں جن کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور اب انکی ہدایت کی توقع نہیں رہی۔ اور اگر اہل قبور کی طرف اشارہ ہوا بھی ہے تو اس جہت سے ہے کہ کفار کو قبروں میں پڑے مردہ جسموں سے تشبیہ دی گئی ہے ؛ یعنی  جیسا کہ قبروں میں پڑے مردے آوازیں سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ان کے ساتھ بات کرنا کسی طرح سے ان کے لیے نفع مند نہیں ہے، کفار بھی بالکل اسی طرح رسول خدا ص کی بات کے ادراک کی صلاحیت کھوچکے ہیں اور حضور ص کی باتیں انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔

««سماع موتیٰ»» کے مخالفین نے اس شان نزول کو نظر انداز کرتے ہوئے، آیت کا ظاہری معنی   لے لیا اور یہ مفہوم پیش کیا کہ اولیائے الہی کی ارواح میں سننے کی صلاحیت نہیں ہے۔

تاہم جو لوگ  ««سماع موتیٰ» »کا عقیدہ رکھتے ہیں، ان کے ہاں  ادراک کا اصلی عنصر روح  ہی ہے، جسے موت نہیں آئی، بلکہ جسم سے الگ ہوئی ہے اور عالم برزخ میں اس جسم کے ساتھ اپنے سابقہ تعلق  کے باعث ابھی بھی اس سے رابطے میں ہے۔ حتی کہ «سماع موتیٰ» کے منکرین بھی قبر میں سوال و جواب کے وقت روح کے جسم میں پلٹنے کے قائل ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے ہاں بھی روح ہی در اصل ادراک کا اصلی ذریعہ ہے اور کانوں کی ضرورت تو فقط عالم طبیعت میں ایک آلہ کار کی حد تک تھی۔

  1. (إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ)؛[48] « اگرتم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے دن وہ تمہارے اس شرک کا انکار کریں گے اورخدائے باخبر کی طرح تجھے کوئی آگاه نہیں کر سکتا ».

اس آیت سے مراد وہ بت ہیں جنہیں مشرکین پوجا  کرتے؛ اگرچہ بعض کا ماننا ہے کہ وہ لوگ در حقیقت اولیائے الہی کی ارواح کی پوجا کرتے تھے اور یہ بت تو صرف سیمبل یا علامت تھے۔ [49]

جبکہ ابن کثیر (إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءكُمْ)  کی تفسیر میں کہتے ہیں:  بت پرست لوگ جن بتوں  کی پوجا کیا کرتے تھے، انہیں سنائی نہیں دیتا تھا، کیونکہ وہ تو جمادات  ہیں جن کے اندر روح ہی نہیں ہے اور  آیت کریمہ میں اس جملے (وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ)  کا معنی یہ بنے گا کہ کہ تمہاری کسی بھی حاجت کو برلانے کی ان کے اندر طاقت  ہی نہیں ہے۔[50]

ان آیات کے بارے میں چند جوابات ذکر کئے گئے ہیں:

  1. آيت میں سماع کی صلاحیت کا فقدان  مراد ہے۔ کیونکہ بلاشبہہ قبروں میں پڑے بے روح جسم  کسی بھی آواز کو سننے کی صلاحیت  سے محروم ہیں، اور اسی وجہ سے اللہ تعالی نے کفار کو ان مردہ جسموں سے تشبیہ دی  اور اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ان کفار کو اپنی بات نہیں سمجھا  سکتے  جو حق  دشمنی کے باعث اس حد تک آگے جاچکے ہیں کہ حق بات سمجھنے کی صلاحیت ان میں نہیں رہی  اوریہ لوگ  قبروں میں پڑے مردوں کی طرح  سننے کی صلاحیت سے محروم  ہیں۔   ابن تیمیہ کے شاگرد ابن‌قيم جوزی  (لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: «اس آیت  میں سننے کی صلاحیت کی نفی مراد  ہے،  کیونکہ مشرکین کے دل مردہ ہیں ، اس لیے  اے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ آپ حقیقت اور سچائی کے پیغامات ان تک نہیں پہنچا سکتے، ان کی حالت بالکل مُردوں  کی طرح ہے»۔[51]
  2. دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آیت  سے مراد یہ ہے کہ جس طرح  مردوں کو زندہ لوگوں کی  آوازیں  سننے سے کوئی نفع نہیں ہوتا، کفار بھی اسی طرح رسول خدا ص کی باتوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ابن‌قيم   آیت کریمہ (وَ ما أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ)[52] کی تفسیر میں کہتا ہے: «یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اے رسول جس کافر کا دل مردہ ہو جائے  آپ  اس تک  حقائق  نہیں پہنچا سکتے جن سے وہ فائدہ اٹھائیں، بالکل ویسے ہی جیسے قبروں میں پڑے مردوں تک کوئی بات نہیں پہنچا سکتے کہ انہیں فائدہ حاصل ہو»[53]

3.بعض نے کہا ہے کہ آیت سے مراد یہ ہے کہ اے رسول ص آپ ہماری مرضی کے بغیر مردوں تک کوئی بات نہیں پہنچا سکتے۔ [54]

«سماع موتیٰ» کی نفی کے عقیدے پر روایات

1.بدر کے ہلاک شدگان فقط اسی وقت سن رہے تھے۔ غزوہ بدر میں مارے جانے والے مشرکین کے ساتھ رسول خدا ص کی ہم کلامی کے بیان پر مشتمل  بعض روایات میں  «الآن»  کا لفظ موجود ہے ؛ یعنی حضور کریم ص کی حدیث کو یوں نقل کیا گیا ہے: «إنهم الآن لیسمعون ما أقول لهم»[55]۔ بعض لوگوں نے اسی  «الآن»  کے لفظ کو اس بات کی دلیل قرار دیا ہے کہ ان کے اندر سننے کی صلاحیت اسی خاص وقت تک محدود ہے۔ اس کے بعد وہ نہیں سن سکتے۔ اس کے علاوہ ام المؤمنین عائشہ نے سماع کے لفظ سے متعلق پیغمبر اسلام کی تصریح کا انکار کیا ہے اور ان کا یہ ماننا ہے کہ رسول خدا ص نے جاننے کی بات کی ہے، یعنی وہ لوگ میری بات کو جانتے ہیں۔  [56]

  1. فرشتے مؤمنین کا سلام رسول خدا ص کی خدمت میں پہنچاتے ہیں ۔ عبدالله بن‌مسعود نے روایت کی ہے کہ حضور ص نے فرمایا: «ان للّه ملائکة سیاحین فی الارض یبلغونی من أمتی السلام؛

اللہ تعالی کے  کچھ فرشتے زمین میں سیر کرتے ہیں جو امت کے سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں »[57]. آلبانی کے مطابق اس روایت میں صراحت موجود ہے کہ حضور اکرم ص سلام کو نہیں سنتے، کیونکہ اگر سن سکتے تو فرشتوں کی ضرورت نہ ہوتی۔[58]

  1. قتاده کہتا ہے: اللہ تعالی نے بدر کے ہلاک شدگان کو زندہ کیا تاکہ رسول اللہ کی آواز سنیں اور ان کے لیے حسرت و پشیمانی اور مذمت و حقارت کا باعث بنے۔[59]

ان روایات کے جواب میں چند  نکات قابل ذکر ہیں:

  1. مذکورہ روایات سماع کی نفی پر کوئی مضبوط دلیل نہیں بن سکتیں، کیونکہ ان علماء میں سے ہر ایک نے روایت کے ایک حصے کو اپنے مدعا کے لیے دلیل کا درجہ دیا ہے اور باقی روایات سے چشم پوشی یا تغافل کیا ہے۔ مثلا «الآن» کا لفظ جو صرف بعض روایات میں ہے، انحصاریت کو ثابت نہیں کرتا کہ باقی اوقات میں وہ نہیں سن سکتے، کیونکہ اس بات کا اثبات کہ وہ ابھی سن رہے ہیں، نفی کو ثابت نہیں کرتا کہ وہ دوسرے زمانے میں نہیں سن رہے، لہذا یہ استدلال باقی روایات کے سامنے ٹھہرنے کی تاب نہیں رکھتا
  2. بدر کے کنویں والی روایت میں اُمّ المؤمنین عائشہ کا انکار جمہور اهل­سنت نے نہیں مانا اور اس رائے کو نادرست قرار دیا ہے۔[60] ابن‌رجب کہتا ہے کہ ام المؤمنین عائشہ واقعے کے عین شاہدین میں سے نہ تھیں اور «لیعلمون» کا لفظ «لیسمعون» کے ساتھ تضاد نہیں رکھتا؛ کیونکہ اگر میت کے لیے جاننا ممکن ہو، تو سننا بھی قطعا ممکن ہوگا؛ کیونکہ موت جس طرح سننے کے ساتھ نہیں جڑتی اسی طرح علم کے ساتھ بھی منافات رکھتی ہے۔ اور اگر موت کی وجہ سے سننے  کا امکان نہ رہے تو علم کا بھی تو امکان نہیں رہنا چاہیے.[61]مزید بر آں یہ کہ شنقیطی کہتا ہے کہ   ام المؤمنین عائشہ سے ایسی کلام بھی سامنے آئی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس روایت کے بارے میں اپنی تاویل سے دستبردار ہو چکی تھیں۔  [62]
  3. وہ روایت جس کا کہنا ہے کہ ملائکہ رسول خدا ص کو سلام پہنچاتے ہیں، وہ اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ جو لوگ دور سے سلام کرتے ہیں ان کے سلام ملائکہ کے ذریعے حضور ص تک پہنچتے ہیں۔ ابن‌عبدالهادی[63] کہتا ہے : اس سلام سے مراد وہی ہے جس کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے۔[64] ورنہ رسول خدا ص  کی قبر کے نزدیک جا کر کوئی سلام کرے تو باقی مسلمانوں کی طرح  حضور اسے سنتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں کچھ روایات رسول اللہ کے سلام سننے اور جواب دینے کا تذکرہ کرتی ہیں۔ «عن ابی هریره قال رسول الله6: ما من أحد یسلم علیّ الا ردّ الله علی روحي حتی أردّ علیه السّلام»  رسول اللہ ص نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص مجھ پر سلام کرے تو اللہ تعالی میری روح تک  اسے پہنچاتے ہیں تاکہ میں اس کا جواب دوں۔ اور جناب ابوهریره کی ایک اور روایت کے مطابق حضور ص نے فرمایا: «من صلّی علیّ عند قبري سمعتُه»[65]  جو شخص میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجے تو میں اسے سنتا ہوں۔ ابن‌تیمیہ  کی رائے بھی یہی ہے کہ نزدیک سے  کیے جانے والے سلام کو رسول اللہ 6 سنتے ہیں۔  [66]
  4. قتاده کی روایت کے متعلق آلوسی کہتے ہیں: اگر قتاده کی بات درست ہو تو حضور ص کو جناب عمر کے جواب میں یہ کہنا چاہیے تھا کہ : « جیسا آپ سوچ رہے ہیں ویسا نہیں ہے، بلکہ اللہ نے انہیں زندہ کر دیا ہے تاکہ میری بات سن سکیں »۔ اس کے علاوہ ام المومنین عائشہ نے  جب مردوں کے سننے کا انکار کیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے ہاں بھی زندہ ہونے کا کوئی عندیہ نہیں ملتا۔ [67]
  5. پنجگانہ نمازوں میں تمام اہل ایمان پر واجب کیا گیا ہے کہ وہ رسول اور آل رسول پر سلام بھیجیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آن حضرت اس سلام کو سنتے ہیں، دوسری صورت میں یہ حکم لغو و بے معنی ہو گا۔
  • «سماع موتیٰ» کے متعلق شبہات

پہلا شبہہ:

وہ آیت جو «سماع موتیٰ» کی نفی سے متعلق ہے واقعہ بدر کے بعد نازل ہوئی ہے جہاں رسول اللہ نے مردوں سے بات کی تھی۔ چنانچہ الدر المنثور میں ابوسهل سرى بن‌سهل جندي‌شاپورى کی زبانی آیت کریمہ (لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ)کے ذیل میں نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کہا کہ  رسول خدا6غزوۂ بدر میں مشرکین کے جنازوں کے قریب آن کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فلاں کا بیٹا فلاں، کیا پروردگار نے جو وعدہ تم سے کیا ہے اسے حق و حقیقت پر مبنی پایا؟ کیا تم ہی نہ تھے جس نے اپنے پروردگار کا کفر کیا؟ کیا تم ہی نہ تھے جس نے  پروردگار کے بھیجے ہوئے رسول کا انکار کیا؟  کیا یہ تم نہ تھے جس نے قطع رحم کیا؟ صحابہ (متعجبانہ انداز میں) پوچھ رہے تھے : يا رسول اللَّه6، کیا یہ لوگ آپکی باتیں سن سکتے ہیں ؟ فرمایا:تم زندہ لوگ میری باتیں ان  سے بہتر طور پر نہیں۔ اس وقت اللہ تعالی کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی  : (إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى‏ وَ ما أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُور)،الله تعالی نے کفار کے بارے میں یہ مثال دی کہ وہ مردوں کی طرح ، حضور کی دعوت کو نہیں سن سکتے۔

جواب:  

معروف شیعہ مفسر علامہ طباطبائی فرماتے ہیں  : اس روایت میں جعل سازی کی واضح نشانیاں پائی جاتی ہیں ؛ کیونکہ یہ بات شان رسول ص کے خلاف ہے کہ اپنے پروردگار کے حکم سے پہلے  اپنی طرف سے کوئی بات کہہ دے، پھر اللہ تعالی کو ایک آیت بھیج کر رسول اللہ 6کی بات جھٹلانے کی ضرورت پڑ جائے(معاذالله)۔  بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ  رسول خبر دیں کہ مردے تم زندہ لوگوں سے بہتر سن سکتے ہیں، پھر مذکورہ آیت نازل ہو اور کہے کہ نہیں مردے کچھ نہیں سنتے!مزید بر آں یہ  کہ جو آیت راوی نے نقل کی ہے، وہ قرآن کی کسی بھی آیت سے مطابق نہیں ہے، بلکہ اس کا پہلا حصہ سورت نمل کی ۸۰ ویں آیت سے اور دوسرا حصہ سورت فاطر کی بائیسویں آیت سے لیا گیا ہے۔   

قطع نظر اس کے خود آیت کا سیاق اس بات کا گواہ ہے کہ مذکورہ آیت  ،ما قبل وما بعد کی آیات کی طرح مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبکہ روایت کہتی ہے کہ یہ آیت غزوہ بدر میں نازل ہوئی ہے۔[68]

دوسرا شبہہ:

 واقعہ ِٔبدر میں رسول اللہ کا مردوں سے بات کرنا ایک معجزہ تھا!

جواب:

رسول اللہ کے معجزات کفار کے مقابلے میں اور چیلنج کے ہمراہ ہوا کرتے تھے تاکہ آپ کی نبوت کی دلیل بنیں، نہ کہ مسلمانوں کے  سامنے اور وہ بھی اس بات کی طرف  اشارہ  کیے  بغیر کہ یہ  غیر معمولی  امرہے۔ قطع نظر   اس کے  اموات  کے سننے کا یہ واقعہ تبھی نتیجہ خیز ہوگا، جب یہ بات حاضرین کے لیے قابل فہم ہو، ورنہ صرف یہ کہہ دینا کہ وہ لوگ تم سے بہتر سن سکتے ہیں، اس سے کوئی معجزہ وجود میں نہیں آتا۔  ان سب کے علاوہ  حضرت علی ع کا اہل قبور سے باتیں کرنا[69] صحابہ کرام کا رسول اللہ کی وفات کے بعد آنحضور سے مغفرت کی دعا منگوانا، ،[70]  اس بات کی دلیل ہے کہ مردوں کا سماع  نہ صرف نبی کریم ص بلکہ سلف صالح  کے لیے  بھی  ایک معمولی سی بات تھی۔

تیسرا شبہہ:

میت کو جنازے میں شریک افراد کے پاؤں کی آہٹ سنائی دینا اس  وقت سے  مربوط ہے  جب سوال و جواب کے لیے روح جسم میں لوٹ آتی ہے۔ اور مردے فقط اسی  دوران یہ آواز سنتے ہیں۔

جواب:

اس بات کے توڑ میں کئی ایک روایات موجود ہیں جن کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی جان پہچان رکھنے والا آدمی مردے پر سلام کرتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔  [71]  اور یہ پہلے ہفتے کے ساتھ  خاص  نہیں ہے بلکہ ممکن ہے سالوں بعد ہو۔

چوتھا شبہہ:

آواز کا سنائی دینا  سلام کی آواز وغیرہ جیسے موارد کے ساتھ خاص ہے جو روایات میں ذکر ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ مردوں کو کچھ سنائی نہیں دیتا۔

جواب:

اس دعوے پر کوئی دلیل نہیں ہے ؛  کیونکہ روایات  کے ذریعے مردوں کے اندر سننے کی طاقت کا وجود ثابت ہو جاتا ہے اورایسی  کوئی  دلیل نہیں ہے جو اسے خاص دائرے تک محدود کرے۔ جیسا کہ علماء  کے ہاں مشہور ہے کہ مورد «مخصّص» نہیں بنتا۔ مزید بر آن یہ کہ مرنے کے بعد کا عالَم اور روح کا مقام اس دنیا اور مادی جسم سے مختلف ہے، اور اللہ تعالی قبر میں سوال و جواب کے لیے روح کو دوبارہ لوٹا دیتا ہے تو مردوں سے ہم کلام ہوتے وقت بھی روح کو دوبارہ لوٹا سکتا ہے، تاکہ وہ آوازیں سن سکیں۔  [72]

پانچواں شبہہ:

حضرت عزير سو سال تک مردہ تھے، جب زندہ ہوئے تو ان کا گمان یہ تھا کہ فقط ایک آدھ دن  کے لیے سوئے  ہوئے تھے،    اس کا یہ مطلب ہے کہ انہیں اپنے ارد گرد کی کوئی خبر نہ تھی۔ 

جواب:

الله تعالی کا منشا یہ تھا کہ حضرت عزیر کو مار کر دوبارہ زندہ کرنے سے ، مردوں کے زندہ کرنے کی کیفیت  کو بیان کرے، اس لیے اللہ نے چاہا کہ حضرت عزیر سو سال تک  اپنے ارد گرد سے بے خبر رہیں۔ پس اس لیے ان کی جان لے لی اور شاید ان کا جسم بھی ان کے کھانے کی طرح بغیر کسی  خرابی کے  سو سال تک پڑا رہا، اور یوں سو سال کا عرصہ گزر گیا۔ سو سال بعد  جب   گدھے کی ہڈیاں بوسیدہ ہو چکی تھیں، اللہ تعالی نے اپنی قدرت دکھانے کے لیے  زندہ کیا جبکہ اس کا سوال ابھی تک اس کے ذہن میں تھا۔

پھر اللہ تعالی نے اسے   فرمایا کہ اپنے گدھے کی بوسیدہ ہڈیوں کو دیکھو تاکہ تمہیں  معلوم پڑے کہ میں کیسے مردوں کو زندہ کروں گا۔  

پس  اس خاص مورد کو جسے اللہ تعالی نے اپنی طاقت کے اظہار کے لیے دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مارا تھا، معمولی  مُردوں کے ساتھ قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔   اور معمولی مُردے اپنی برزخی زندگی میں یا عذاب کی حالت میں ہیں یا بہشت کی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔ .[73]   اس سے پتہ چلتا ہے کہ  انہیں ادراک  بھی ہے اور وقت گزرنے پر ان کی توجہ بھی ہے۔ جبکہ حضرت عزیر اس کیفیت میں نہ تھے، لہذا اس آیت پر استناد کرتے ہوئے سماع موتی کی نفی نہیں کی جا سکتی۔ 

چھٹا شبہہ:

 انسان کان سے سنتا ہے اور مرنے کے ساتھ باقی اعضاء کی طرح کان بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، پس مردہ آواز نہیں سن سکتا۔

جواب:

اگرچہ کان ہی  انسان کے سننے  کا  آلہ کار ہے، لیکن  زندہ انسان کے اندر سننے کی توانائی کا تعلق روح سے ہے اور اگر روح نہ ہو تو جسم   نہیں سن سکتا۔ اور کیونکہ مرنے کے بعد کا عالم اس دنیا سے بہت  زیادہ مختلف ہےجہاں روح جسم کی قید میں نہیں ہے، اس لیے عین ممکن ہے کہ روح بغیر کسی آلہ کار کےآوازیں سننے کی طاقت رکھتی ہو۔ 

«سماع موتیٰ» کا توسل سے  رابطہ

جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ عالم برزخ میں  اولیائے الٰہی کی ارواح زندہ ہیں اور بہت  اعلی درجات پر فائزہ ہیں اور زندہ لوگوں کی آوازیں سن سکتے ہیں، تو یہ بہت ہی قرین عقل و منطق ہے کہ مسلمان ان کی قبور پر زیارت کے لیے جائیں اور ان شخصیات کی سیرت سے سبق لیں،انہیں اپنے اور رب تعالی کے درمیان واسطہ قرار دیں اور انہی کے وسیلے سے اللہ تعالی کی طرف توجہ کریں۔ ان سے درخواست کریں کہ رب کے حضور ان کے لیے دعا گو ہوں۔اور اللہ سے دعا کریں کہ ان کی دعائیں قبول ہو۔ یوں  توسل کے مخالفین کے

و از خدا بخواهند که دعایشان را مستجاب کند و دلیلی وجود ندارد که مخالفینِ توسل، ما را از صدا زدن و سخن گفتن با آنان منع کنند؛ علاوه بر اینکه با استناد به برخی روایات می‌توان اثبات کرد مردگان توانایی دعا در حق زندگان را دارند؛ همان‌طور که جواب سلام نوعی دعاست و روایات صحیح وجود دارد که هم پیامبر6 و هم عموم مؤمنینِ از دنیا رفته، پاسخ کسانی را که بر آنها سلام می‌کنند، می‌دهند.[74]



 

  • مصادرتحقیق

 

  1. نہج‌البلاغہ.
  2. ابن‌تیمیہ، احمد: مجموع فتاوی، جمع و ترتیب عبدالرحمن بن محمد ابن قاسم، بی‌تا.
  3. ابن جوزى، ابوالفرج عبدالرحمن بن علی: زاد المسیر فی علم التفسیر، تحقیق عبدالرزاق المہدی، بیروت: دار الكتاب العربی، طباعت اول، 1422ق.
  4. ابن‌رجب حنبلی دمشقی، ابو‌الفرج زین‌الدین: اہوال القبور، تحقیق خالد عبد الطیف السبع العلمی، بیروت: دار الکتب العربی، طباعت ہفتم، 1422ق.
  5. ابن‌سعد: طبقات الکبری، بیروت: دارالفکر، 1405ق.
  6. ابن‌طولون، محمد بن‌علی: التحریر المرسخ فی احوال البرزخ، تصحیح عبید اللہ ابوعبدالرحمن اثری، مصر: دار الصحابۃ، 1411ق.
  7. ابن‌عبدالہادی: الصارم المنکی فی الرد علی السبکی، تحقیق عقیل بن محمد مقطری یمانی، بیروت: موسسۃ‌الریان، 1412ق.
  8. ابن‌قیم جوزی: الروح، تحقیق: یوسف علی بدیوی، بیروت: دار ابن­کثیر، طباعت چہارم، 1420ق.
  9. ابن‌كثیر دمشقى، اسماعیل بن‌عمرو: تفسیر القرآن العظیم، تحقیق محمد حسین شمس الدین، بیروت: دار الكتب العلمیۃ، منشورات محمدعلى بیضون، طباعت اول، 1419ق.
  10. ابن‌مفلح، شمس الدین ابوعبداللہ محمد: الفروع ، بیروت: عالم الکتب، طباعت سوم، بی تا.
  11. ابونعیم: حلیۃ الاولیاء ‌و طبقات الاصفیاء، تحقیق: مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت: دار الکتب العلمیۃ، بی‌تا.
  12. اشبیلی، عبدالحق: العاقبۃ، تحقیق: ابوعبداللہ محمد حسن اسماعیل، بیروت: دارالکتب العلمیۃ، 1415ق.
  13. آشتیانی، محمد جعفر، محمد رضا امامی: ترجمہ نہج البلاغۃ، قم: مدرسۃ الامام علی ابن‌ابی‌طالب، طباعت اول، 1384ش.
  • آل غازى، عبدالقادر ملاحویش: بیان المعانى، دمشق: مطبعۃ الترقى، 1382ق.
  • آلوسى، سید محمود: روح المعانی فى تفسیر القرآن العظیم، تحقیق علی عبدالباری عطیہ، بیروت: دارالكتب العلمیہ، 1415 ق.
  1. آلوسی، نعمان بن‌محمود: آلایات البینات فی عدم سماع الاموات عند الحنفیۃ‌السادات، تحقیق ناصر الدین آلبانی، المکتب الاسلامی، طباعت چہارم، 1405ق.
  • اندلسى، ابوحیان محمد بن یوسف: البحر المحیط فی التفسیر، تحقیق صدقی محمد جمیل، بیروت: دار الفكر، 1420ق.
  • البانی، محمد ناصر‌الدین: موسوعۃ العلامۃ الإمام الألبانی، صنعاء ـ یمن: مركز النعمان للبحوث والدراسات الإسلامیۃ و تحقیق التراث والترجمۃ، طباعت اول، 1431ق/2010م.
  1. بخاری، محمد بن‌اسماعیل: صحیح بخاری، ریاض: دارالسلام، 1417ق.
  • ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: الجامع الصحیح المختصر، تحقیق: مصطفى دیب البغا، بیروت: دار ابن‌كثیر ـ الیمامۃ؛ طباعت سوم، 1407ق/1987م.
  1. حازمی، شریف بن‌عبداللہ: دراسات عقدیۃ فی الحیاۃ البرزخیہ، بیروت: دار ابن حزم، طباعت اول، 1424ق.
  • حاکم نیشابوری، محمد بن‌عبداللہ: المستدرک علی الصحیحین، تحقیق: مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت: دارالکتب العلمیۃ، 1415ق.
  1. حجازى، محمد محمود: التفسیر الواضح، بیروت: دارالجیل الجدید، طباعت دہم، 1413ق.
  2. راغب اصفہانى، حسین بن محمد: المفردات فی غریب القرآن، تحقیق صفوان عدنان داود، دمشق ـ بیروت: دارالعلم الدار الشامیۃ، طباعت اول، 1412ق.
  3. سمہودی، علی بن‌احمد: وفاء الوفاء فی اخبار دار المصطفی، بیروت: داراحیاء التراث العربی، 1401ق.
  4. سیوطی، جلال‌الدین: شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور، تحقیق عبد المجید طعمہ حلبی، بیروت: دار المعرفۃ، طباعت سوم، 1421ق.
  5. شنقیطی، محمد امین بن‌محمد المختار: اضواء‌البیان فی ایضاح القران بالقرآن، بیروت: عالم الکتب، بی‌تا.
  6. شوکانی، محمد بن‌علی: نیل الاوطار شرح منتقی الاخبارمن احادیث سید الاخیار، مصر: دارالحدیث، بی‌تا.
  • طریحى، فخر الدین: مجمع البحرین، تحقیق سید احمد حسینی، تہران: كتابفروشى مرتضوى،طباعت سوم، 1375ش.
  1. عبدری مالکی، محمد بن‌محمد: المدخل، قاہرہ: مکتبۃ دار التراث، بی‌تا.
  2. عسقلانی، ابن‌حجر: فتح الباری علی الصحیح البخاری، مصر: المکتبۃ‌السلفیۃ، طباعت سوم، 1407ق.
  3. قرطبى، محمد بن‌احمد: الجامع لأحكام القرآن، تہران: انتشارات ناصر خسرو، طباعت اول، 1364ش.
  4. متقی ہندی، علاء الدین: کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال، سوریہ: دار الکتاب الاسلامی، بی‌تا.
  5. مظہرى، محمد ثناءاللہ: التفسیر المظہرى، تحقیق غلام نبی تونس، پاکستان: مكتبۃ رشدیہ، 1412ق.
  6. مناوی: فیض القدیر، بیروت: دارالفکر، طباعت دوم، 1391ق.
  7. موسوى ہمدانى، سید محمد باقر: ترجمہ تفسیر المیزان، قم: دفتر انتشارات اسلامى جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، طباعت پنجم، 1374ش.
  8. نسائی، احمد بن‌علی: سنن النسائی، مکتب تحقیق التراث الاسلامی، بیروت: دارالمعرفۃ، طباعت ہفتم، 1429ق.
  9. نمری قرطبی، ابن‌عاصم: الاستذكار، تحقیق: سالم محمد عطا، محمد علی معوض، بیروت: دارالكتب العلمیۃ، طباعت اول، 1421ق/2000م.
  10. نووی، أبوزكریا یحیى بن‌شرف: المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج، بیروت: دارإحیاء التراث العربی، طباعت دوم، 1392.
  11. نیشابوری، ابوالحسین مسلم بن‌حجاج: صحیح مسلم، بیروت: دارابن‌حزم و مکتبۃ المعارف، 1416ق.

 

 

 

[1]. سوره نساء(4)، آیت نمبر 46.

[2]. سوره نمل(27)، آیت نمبر 80.

[3]. راغب اصفہانى، حسین، المفردات في غریب القرآن، ص 426.

[4]. طريحى، فخر الدین، مجمع البحرین، ج4، ص 347.

[5]. سوره نمل(27)، آیت نمبر 80. راغب اصفہانی، حسین، سابقہ حوالہ، ص781 .

[6]. آلوسى، سید محمود، روح المعانی، ج11، ص57.

[7]. حازمي، شریف بن‌عبدالله، دراسات عقدیۃ فی الحیاۃ البرزخیہ، ص371.

[8]. ابن‌رجب، ابوالفرج، اهوال القبور، ص 133.

[9]. اشبيلي، عبدالحق، العاقبۃ، ص127.

[10]. ابن‌تیمیہ، احمد، مجموع فتاوی، ج4، ص298.

[11]. ابن‌قیم جوزی، الروح، ص 77.

[12]. ابن‌رجب، ابوالفرج، سابقہ حوالہ، ص132-140.

[13]. عسقلانی، ابن‌حجر، فتح الباری ، ج3، ص278.

[14]. سيوطی، جلال‌الدین، شرح الصدور، ص 201- 225.

[15]. آلوسى، سید محمود، سابقہ حوالہ، ج11، ص57.

[16]. بخاری، محمد بن‌اسماعیل، صحیح بخاری، كتاب الجنائز، ج1، ص462.

[17]. آلوسی، نعمان بن محمود، الآیات البینات، ص 67.

[18]. نووی، ابوذکریا، المنهاج شرح صحیح مسلم، ج17، ص206.

[19]. ابن‌رجب، ابوالفرج، سابقہ حوالہ، ص133.

[20]. ابن‌مفلح، شمس‌الدین ابی‌عبدالله محمد، الفروع، ج2، ص302.

[21]. حازمی، شریف، دراسات عقدیۃ فی الحیاۃ البرزخیۃ، ص39.

[22]. (سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ)(سوره توبہ(9)، آیت نمبر 101).

[23]. (وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ)(سوره آل عمران(3)، آیت نمبر 169).

[24]. رجوع کریں: بخاری، محمد بن اسماعیل، سابقہ حوالہ، ص461.

[25]. سوره اعراف(7)، آیت نمبر 79.

[26]. ابن‌كثير، اسماعيل، تفسير القرآن العظيم، ج‏3، ص 399.

[27]. اندلسى، ابوحيان، البحر المحيط في التفسير، ج‏5، ص 98.

[28]. آل‌غازى، عبدالقادر، بيان المعاني، ج‏1، ص 37.

[29]. مظهرى، محمد ثناءالله، التفسير المظهري، ج‏3، ص 376.

[30]. حجازى، محمد محمود، التفسير الواضح، ج‏1، ص 73.

[31]. قرطبى، محمد بن‌احمد، الجامع لأحكام القرآن، ج‏7، ص 242.

[32]. ابن‌جوزى، ابوالفرج، زاد المسير في علم التفسير، ج‏2، ص 13.

[33]. ابن كثير، اسماعیل، سابقہ حوالہ، ج‏3، ص404.

[34]. نیشابوری، مسلم بن‌حجاج، صحيح مسلم، ‌ج4، باب 17، ‌ح 77.

[35]. ابن‌سعد، طبقات الکبری، ج2، ص203.

[36]. حاکم نیشابوری، محمد، المستدرک علی الصحیحین، کتاب التفسیر، شماره 2977، ج2، ص271؛ ابونعیم، حلیۃالاولیاء، ج 1، ص 108؛ ابن سعد، سابقہ حوالہ، ج3، ص121.

[37]. نمری قرطبی، ابن‌عاصم، الاستذکار، ج1، ص185؛ مناوی، فیض القدیر، ج5، ص487؛ اشبيلي، عبدالحق، العاقبۃ، ص 118؛ شوکانی، محمد بن‌علی، نیل الاوطار، ج3، ص248.

[38].بخاری، محمد بن‌اسماعیل، باب المیت یسمع خفق النعال حدیث شماره 1273، ج1، ص448.

[39]. سیوطی، جلال‌الدین، سابقہ حوالہ، ص128؛  ابن‌طولون، محمد بن‌علی، التحریر المرسخ فی احوال البرزخ، ص 123، ح 347.

[40]. ابن‌طولون، محمد بن‌علی، سابقہ حوالہ، ص123.

[41]. نهج البلاغہ، ص 493، حکمت 130.

[42]. آلوسی، سید محمود، سابقہ حوالہ، ج 1، ص57.

[43]. حازمی، شریف، سابقہ حوالہ، ص388.

[44]. عبدری مالکی، محمد، المدخل، ج1، ص258.

[45]. سمہودی، علی، وفاء الوفاء باحوال دار المصطفی، ج4، ص1336 .

[46]. سوره فاطر(35)، آیت نمبر22.

[47]. سوره روم(30)، آیت نمبر 52.

[48]. سوره فاطر(35)، آیت نمبر 14.

[49]. آلوسی، نعمان، سابقہ حوالہ، ص24.

[50]. ابن‌كثير، اسماعیل، سابقہ حوالہ، ج3، ص482.

[51]. ابن قیم جوزی، سابقہ حوالہ، ص62ـ63.

[52]. سوره فاطر(35)، آیت نمبر 22.

[53]. ایضا

[54]. آلوسی، سید محمود، سابقہ حوالہ، ج‏11، ص5.

[55]. نسائی، احمد بن علی، سنن،‌کتاب الجنائز، ج4، ص417، ح2075.

[56]. بخاری، محمد بن‌اسماعیل، صحیح بخاری، كتاب الجنائز، ج1، ص462.

[57].نسایی، احمد بن‌علی، سابقہ حوالہ، کتاب السهو، باب 46، شماره1281، ج 3، ص50.

[58]. آلبانی، موسوعۃ  الآلبانی فی العقیدۃ، ج3، ص772.

[59].بخاری، محمد بن‌اسماعیل، سابقہ حوالہ، کتاب المغازی، شماره3757، ص1461.

[60]. عسقلانی، ابن‌حجر، سابقہ حوالہ، ج3، ص277؛ شنقيطي، محمد، اضواء‌البيان، ج6، ص421.

[61]. ابن رجب، ابوالفرج، سابقہ حوالہ، ص133.

[62]. شنقیطی، محمد، سابقہ حوالہ، ج6، ص429.

[63]. ابن عبدالہادی، الصارم، ص159-160.

[64]. (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) (سوره احزاب(33)، آیت نمبر 56).

[65]. متقی هندی، علاءالدین، کنز العمال، ج1، ص 498.

[66]. ابن‌تیمیہ، احمد، سابقہ حوالہ، ج27، ص 384.

[67]. آلوسی، سید محمود، سابقہ حوالہ، ج‏11، ص55.

[68]. موسوى ہمدانى، سید محمد باقر، ترجمہ تفسیر المیزان، ج17، ص53.

[69]. نہج البلاغہ، ص 493.

[70].  متقی هندی، علاء الدین، سابقہ حوالہ، ج1، ص506.

[71]. نمری قرطبی، ابن‌عاصم، سابقہ حوالہ، ج1، ص185؛ مناوی، سابقہ حوالہ، ج5، ص487؛ اشبیلی، عبدالحق، سابقہ حوالہ، ص 118؛ شوکانی، محمد، سابقہ حوالہ، ج3، ص 248.

[72]. حازمی، شریف، سابقہ حوالہ، ص 388.

[73]. رجوع  کریں:بخاری، محمد بن‌اسماعیل، سابقہ حوالہ، كتاب الجنائز،ج1ص461.

[74]. نمری قرطبی، ابن‌عاصم، سابقہ حوالہ، ج1، ص185؛ مناوی، سابقہ حوالہ، ج5، ص487؛ اشبیلی، عبدالحق، سابقہ حوالہ، ص 118، شوکانی، محمد بن‌علی، سابقہ حوالہ، ج3، ص 248.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ