مسلمانوں کی تکفیر کےلیے وہابیوں کی مہم ترین اسناد میں سے ایک سند  اولیائے الہی کے ساتھ توسل ہے۔یہ تفکر کہ جس کی زیادہ تر ترویج ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوہاب نے کی ہے، شروع سے ہی  مسلمان علماٰء کی  تنقید کا نشانہ بنا ہے۔مذہب حنفی جوکہ اہل سنت کا سب سے بڑا مذہب ہے ، اس تفکر کے خلاف ہے۔ جو بات یہاں پر قابل ذکر ہےوہ یہ کہ وہابیوں  نے ابوحنیفہ اور حنفیوں کے عقاید کو  اپنے عقاید کے مطابق بیان کرنے کی  کوشش کی ہے اور یہ مسئلہ کئی بے گناہ مسلما نوں کے خون بہانے کا سبب بنا ہے۔اس  آرٹیکل  کی ابتداء میں  توسل کے متعلق وہابیوں کا نظریہ اور اس کی اقسام  اور پھر اس فرقے اور مذہب حنفی کے درمیان اختلافی موارد کو بیان کیا گیا ہے۔اختلافی موارد مندرجہ ذیل ہیں:اولیاء کے حق اور  ان کے مقام و منزلت سے توسل ،اولیاء کی دعا سے توسل ان کی وفات کے بعد،اولیاء سے مدد مانگنا ان کی وفات کے بعد،اولیاء کی قبور سے فیض طلب کرنا اور ان کی وفات کے بعد ان سے شفاعت طلب کرنا۔حنفیوں کی کتابوں میں جستجو کے بعد مشخص اور واضح ہوگیا کہ حنفیوں کے بزرگوں کی ایک بڑی تعداد نے توسل کے  مسئلے میں  وہابیوں کے  نقطہ نظر کو قبول نہیں کیا ہے اور وہابیوں کے نقطہ نظر کی  تردید میں کئی کتابیں بھی لکھی ہیں۔
مصنف :  محمدباقر حيدري نسب. مترجم :عاشق حسین

 

مقدمہ

وہابیوں کا مسلمانوں کو کافر قرار دینے اور ان کے خون  بہانے کو جائز قرار دینے کی ایک وجہ اور دلیل اولیاے الہی کے ساتھ توسل کا مسئلہ ہے۔جب سے ابن تیمیہ اور عبد الوہاب نے توسل کو شرک آمیز جانا ہے،مختلف مذاہب سے علماے اسلام کی ایک بڑی تعداد نے ان کی مخالفت کی ہے اور اس کی رد میں کچھ مطالب بیان کیے ہیں۔اہل سنت کے مہم ترین فرقوں میں سے ایک فرقہ جو وہابی افکار کے مقابلے میں کھڑا ہوا ہے ،حنفی فرقہ ہے۔یہ  مذہب  اہل سنت کے فقہی مذاہب میں سے  سب سے بڑا مذہب ہے اور ایک بڑی تعداد   میں مسلمان  اس کے پیروکار ہیں۔ حنفیوں کا وہابیوں سے اختلاف فقہی مسائل میں بھی ہے اور اعتقادی امور میں بھی ہے۔ یہاں پر ہم توسل کے متعلق حنفی علماء  کے نظریئے  اور   وہابیوں سے ان کے فکری تضاد  کو بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔توسل اور اس کی اقسام کے متعلق وہابیت کا نظریہ  ملاحظہ کریں:

توسل  کے ذریعے طلب حاجت اور شفاعت وہابیت کی نگاہ میں: اس کی دو صورتیں ہیں :

1۔خدا وند سے۔ اس کی تین قسمیں بنتی ہیں

اعمال صالح کے ساتھ توسل  :جائز ہے۔

اسماء و صفات الہی کے ساتھ توسل : جائز ہے۔

حق اور مقام و منزلت اولیاء سے توسل : حرام ہے۔

غیر خدا وند سے ۔ اس کی دو صورتیں ہیں ۔

بعد از وفات۔اس کی چار صورتیں ہیں:

اولیاء کی دعا سے توسل:شرک ہے۔

اولیاء  سے استغاثہ اور استعانت: شرک ہے۔

اولیاء کی قبور سے اسفادہ: شرک ہے۔

اولیاء سے طلب شفاعت: شرک ہے

زندگی میں : جائز ہے۔

  جن موارد میں وہابیت نے توسل کو جائز قرار دیا  ہے،حنفی علماء نے بھی اس کو جائز قرار دیا ہے لہذا یہاں پر اس حوالے سے تفصیل اور ان کے  نقطہ نظر کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔جو کچھ آگے بیان ہوگا وہ خاص ہے ان موارد سے کہ جہاں پر وہابیت توسل کو جائز قرار نہیں دیتی۔اگرچہ وہابیت نے پوری کوشش کی ہے کہ وہ دوسرے اسلامی فرقوں کو  اپنے ساتھ ملائے اور اس طرح سے اس مسئلے کو پیش کردے کہ ان  کے نظریئے سے  بہت سارے مسلمان  اتفاق کرتے ہیں من جملہ  ان میں حنفی بھی ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حنفی مذہب کے بڑوں نے اور علماء نے اس  نظریئے کو قبول نہیں کیا ہے ،  بعد میں   ان کی کچھ باتیں بیان کی جایں گئی۔

اولیاء کے حق اور مقام و منزلت سے توسل

اولیاء کے حق اور مقام و منزلت سے توسل  کا مطلب یہ ہے کہ اولیا ئے الہی کا مقام و مرتبہ اللہ تعالی کے نزدیک  مغفرت اور   حوائج  کے پوری ہونے کا واسطہ بنے۔البتہ حق اولیاء سے مراد وہ حق ہے جو خدا نے انہیں عطا کیا ہےاور ان کو صاحبان حق قرار دیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان صالح بندوں کا خدا وند پر کوئی   ذاتی حق ہو کہ خدا ہر حال میں اس کو ادا  کرے بلکہ سارے  حقوق اسی خدا کے دئیے ہوئے ہیں۔

اس قسم کے توسل  کی مشروعیت ابن تیمیہ اور وہابیت کے علاوہ   مسلمانوں کی اکثریت کا مورد اتفاق ہے اور بعض محققین معتقد ہیں کہ اس کی تحریم ابن تیمیہ کی بدعتوں میں سے ہے۔[1]

ابن تیمیہ کے بعدوہابیت نے اس  توسل کی حرمت کے پرچم کو اٹھایا۔ابن تیمیہ نے اس طرح سے بیان کیا  کہ حق اولیاء سے توسل اہل سنت کے تمام  علماء کا مورد اتفاق ہے من جملہ ان میں ابو حنیفہ بھی تھے۔لہذا وہ اس جملہ کے بیان کے بعد«أسألك بجاه نبيّنا أو بحقّه» کہتا ہے  حقیقت یہ ہے کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جس  کا انجام دینا بعض متقدمین سے نقل ہوچکا ہے،یہ ان کے درمیان مشہور نہیں تھا ،اور اس کو انجام دینے سے روکا گیا تھا، جیسا کہ ابو حنیفہ، ابو یوسف وغیرہ سے نقل ہوا ہے۔[2]

وہ معتقد ہے کہ ابو حنیفہ اس قسم کے توسل کو حرام جانتا  تھا ۔[3]

بن یاز، عربستان کا سابقہ مفتی کہتا ہے:

لیکن اس شخص کی بات جو کہتا ہے : «أسأل الله بحق أوليائه أو بجاه أوليائه أو بحق النبي أو بجاه النبي»،

شرک نہیں ہے،اہل علم کے جمہور کے نزدیک  بدعت اور اسباب شرک میں سے ہے؛ چونکہ دعا عبادت ہےاور دعا کی کیفیت امور توقیفیہ میں سے ہے اور پیامبر(ص) اسلام  سے ایسا کچھ جو  توسل کے مباح اور مشروع ہونے پر دلالت کرے ،ثابت نہیں ہے۔لہذا مسلمان کےلئے جائز نہیں ہے[4] کہ وہ ایک  ایسے توسل کو بیان کرے جوکہ خدا وند کی طرف سے صادر نہیں ہوا ہے۔

حنفی علماء کا نظریہ

حنفی کتابوں میں دقت کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس قسم کے توسل کو جائز سمجھتے ہیں اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱۔  وہ علماء جو خود اس طرح کا توسل کرچکے ہیں یا ان کے بیانات سے  جواز توسل سمجھ میں آتا ہے۔

۲۔  وہ لوگ جواس طرح کے توسل کو مکروہ سمجھتے ہیں۔

پہلا گروہ

پہلا گروہ  ان لوگوں کا ہے جو حق کے ساتھ اور مقام و منزلت کے ساتھ توسل کو جائز  سمجھتے ہیں  اور ان کی کتابوں  کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ  انہوں نے توسل کیا ہے۔ ان میں سے بعض علماء جیسے:

۱۔ ابو منصور  ماتریدی[5]: اپنی تفسیر میں  حق پیامبر(ص)کے ساتھ یہودی توسل کو قبل از بعثت بیان کرتا ہے اور کہتا ہے وہ کہتے تھے: اللهم انصرنا بحق نبيك الذي تبعثه...»[6].

۲۔ نصر بن­محمد بن­احمد بن­ابراهيم سمرقندي[7](م 373ق) بھی پیامبر اسلام (ص)  سے یہودیوں کے توسل کو بیان کرتا ہے[8]وہ ایک اور جگہ پر حضرت آدم علیہ السلام  کا  پیامبر(ص) اسلام کے حق کے ساتھ توسل کو بیان کرتا ہے[9]۔

3۔ ابو بكر محمد بن ابي­اسحاق كلاباذي[10](م380ق) کہتا ہے: " خدا وند سے مدد  مانگتا ہوں  اور اس پر توکل کرتا ہوں  اور پیامبر(ص) پر درودبھیجتا ہوں اور اس سے توسل کرتا ہوں۔"[11]

4۔ يوسف بن‌ابي‌بكر سكاكي خوارزمي[12] (م 626 ق)  کہتا ہے:خدا  وند  کا اس کے کمال کےلئے شکر ادا کرتا ہوں اور بحق محمد و آل محمد علیہم السلام اس کی بقا کی توفیق کےلئے ان سے  سوال کرتا ہوں۔[13]

5۔ عبدالقادر بن‌ابي‌الوفاء[14](م775ق) کہتا ہے: «أسأل الله العظيم بجاه رسول الله (صلى الله عليه وسلم

6۔ بدرالدين عينى[15] (م855ق) کہتا ہے : «میں  خدا وند سے چاہتا ہوں کہ  پیامبر(ص) ،اس کا خاندان اور صحابہ کرام کے واسطے کتاب کی تکمیل میں مدد کرے۔».[16]

7۔. زبيدي حنفي[17] (م893 ق) کہتا ہے: «خدا وند سے اس تک نفع پہنچانے کا طلبگار ہوں قدر و منزلت محمد (صلی الله عليه و آله و صحبه اجمعين) کے واسطے».[18]

 

8۔ . عصام الدين طاشْكُبْري‌زَادَهْ[19] (م968ق) کہتا ہے: «خداوندا اپنے پیامبر(ص) کی حرمت کے صدقے اس پر اپنی رحمت برسا اور میرے والد پر اپنی رحمت برسا، جیسا کہ جب میں چھوٹا تھا  تو انہوں نے میری تربیت کی اور میرے اور ان دو کے درمیان پایدار رحمت قرار دے».[20]

9۔ حاج خليفة حنفي[21] (م1067ق) کہتا ہے: «(خداوند) اپنے وحی کے امین کی حرمت کی خاطر ہمارے جسموں  کو بڑھکتی ہوئی آگ سے بچا لے».[22]

10۔ حسن بن‌عمار بن‌علي شرنبلالي حنفي[23] (م1069ق)کہتا ہے: «اللهم أني أتوسل إليك بحبيبك المصطفى»[24] ایک اور جگہ کہتا ہے: «خدا وند کے فضل سے بخشش اور سلامتی چاہتا ہوں ہمارے آقا محمدص کی عزت و شرف کے واسطے۔

11۔ شهاب‌الدين احمد خفاجي مصري حنفي[25] (م 1069ق)  نےپیامبر(ص) اسلام سے یہودیوں کے توسل کو نقل کیا ہے.[26]

12۔ عبدالرحمن بن‌محمد بن‌سليمان كليبولي[27] (م1078ق) کہتا ہے: «إيانا بجاه نبيه».[28]

13۔ حصفكي شامي[29] (م1088 ق) كتاب رد المحتار علی الدر المختار میں  کہتا ہے: «خدا سے قدر و منزلت پیامبر(ص) کے صدقے توفیق اور قبول مانگتا ہوں۔».[30]

14۔. اسماعيل حقي بن‌مصطفى استانبولي حنفي[31] (م1127ق) کہتا ہے :

حضرت  آدم   نے اپنی   دعا کی استجابت اور اپنی توبہ کی قبولیت کےلئے، سيد كونين کو خدا وند کی طرف توسل کا وسیلہ  قرار دیا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: جب حضرت آدم نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا  تو کہا : «يا رب أسألك بحق محمد أن تغفر لي...». اس کو بیہقی نے نقل کیا ہے اور یہ حضرت آدم کا پیامبر(ص) سے توسل ہے، جب انہوں نے کہا: «إلهي بحق محمد أن تغفر لي».[32]

15۔ احمد بن‌محمد بن‌اسماعيل طحطاوي حنفي[33] (م1231ق)  كتاب شرح مراقي الفلاح میں  كلام  «بجاه سيدنا محمد (صلى الله عليه وسلم)»  کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں : « اس کے ساتھ (توسل ) اپنی بات ختم کردی ،جو کچھ بیان ہوا ہے  اسےدلیل بنا کر میری منزلت سے توسل کریں ۔پس یقینا میری قدر و منزلت خدا وند کے ہاں عظیم ہے ».[34]

16۔ ابن‌عابدين[35] (م1252ق) کہتا ہے : « سيد الانبیاء و المرسلین کی عزت و شرافت کے واسطے ان کے والدین،ان کی اولاد، اور ان کے بزرگوں اور اس کو جس کا کوئی حق اس پر ہے بخش دے».[36]

وہ ایک شعر کی ابتدا میں یہ کہتے ہیں: «توسل إلی الله الجليل بأقطاب».[37]

17۔ محمود آلوسي بغدادي[38](م1270ق)روح المعاني میں لکھتے ہیں : « میں پیامبر(ص) کی قدر و منزلت کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دینے، چاہےپیامبر(ص) زندہ ہوں  یا مردہ کوئی مانع و مشکل نہیں دیکھتا».[39]

18۔ محمدخليل مراد حسيني حنفي[40] (م1206ق) کہتا ہے: «خداوندا، تیری طرف ہم  اس (پيامبر اکرم ) کے وسیلے سے متوجہ ہوتے ہیں ؛ چونکہ وہ ایک بہت بڑا وسیلہ ہے اس شخص کےلئے جو کہ پیامبر(ص) سے تمسک کرے، خدا یا اس پر پر درود بھیج دے  ».[41]

19۔ عبد الرحمن بن‌حسن جبرتي المؤرخ[42] (م1237ق) کہتا ہے: « اس مورد میں محمدص کے وسیلے سے خدا سے متوسل ہوتا ہے چونکہ وہ  خدا اور اس کی خلق کے درمیان وسیلہ ہے».[43]

20۔ احمد عارف[44] (م1275 ق)، تیرویں صدی کے علماء میں  سے، کہتا ہے: «خداوندا، اس مہربان بادشاہ کی سیدالمرسلین و خاتم النبیین  کی منزلت کے صدقے میں مد دکر».[45]

21۔ خليل احمد سهارنپوري[46] (م1346ق) علمائے دیوبند  کے نظرئیے کے بارے میں کہ جس کی تائید علمائے حرمین کے ایک گروہ نے، ایشیاء کے علما،مصر اور شام  اور دوسرے ممالک نے کی ہے،توسل کے بارے میں خاص طور پر کہتا ہے:

ہمارے نزدیک اور ہمارے بزرگوں کے نزدیک انبیاء، صلحا، اولیاء،شہدا اور صدیقیین سے اپنی دعاوں میں توسل ،چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں، اس طرح سے جائز ہے کہ شخص  اپنی دعا میں کہے: پروردگارا تمھیں فلاں کا واسطہ دیتا ہوں میری دعا کو قبول  فرمادے اور میری حاجت پوری  کردے.[47]

22۔ انورشاه كشميري[48] (1352ق) عمر کا عباس ،پیغمبر کا چچا ،سے توسل کو بیان کرنے کے بعد کہتا ہے: یہ توسل فعلی ہےایک اور توسل بھی ہے جسے توسل قولی کہا جاتا ہے، یہ کہ آپ کہیں:، «اللهم بوسيلة فلان أو بحرمة فلان أو ببركة فلان أو بحق فلان» شخص کے حضور کی  ضرورت نہیں.[49]

23۔ محمد زاهد كوثري[50] (م1371 ق) معتقد ہے کہ پیامبر(ص) کے مقام و منزلت سے توسل کو ابن تیمیہ نے حرام قرار دیا ہے اور کسی نے اس سے پہلے یہ حکم نہیں دیا ہے .[51]  اس نے  كتاب محق التقول في مسألة التوسل[52] میں کچھ  احادیث پیامبر(ص) کے مقام و منزلت سے توسل کی تائید میں  بیان کی ہیں  .

 

 

24۔ محمد زكريا كاندهلوي[53] (م1402ق)  كتاب فضائل اعمال میں  حضرت آدم کا حق پیامبرص  سے توسل کو  بيان کرتے ہیں.[54]

دوسرا گروہ

دوسرا گروہ ان لوگوں کا  ہے جو حق انبیاء اور اولیاء سے توسل کو مکروہ سمجھتے ہیں۔حنفی علماء کی فقہی کتابوں میں جو بیان ہوا ہے یہ ہے کہ ابو حنیفہ حق سے توسل کو مکروہ سمجھتے ہیں اور یہ مسئلہ مندرجہ ذیل علماء کی کتابوں میں بیان ہوچکا ہے:

1۔علاءالدين كاساني حنفي[55] (587ق) کہتے ہیں : کسی شخص کا دعا میں یہ کہنا مکروہ ہے: «أسألك بحق أنبيائك ورسلك وبحق فلان».[56]

2۔ علي بن‌ابي‌بكر فرغاني مرغيناني[57](م593ق) لکھتا ہے: مكروه ہے کہ شخص  اپنی دعا میں کہے: «بحق فلان أو بحق أنبيائك ورسلك».[58]

3۔  محمد بن‌فرامرز مشهور به ملا خسرو[59] (م 885ق) کہتا ہے: دعا کے دوران یہ کہنا مکروہ قرار دیا گیا ہے «بِحَقِّ فُلَانٍ» یا «بحق أنبيائك أو أوليائك أو رسلك أو بحق البيت أو المشعر الحرام».[60]

4۔ہندی علماء کا ایک گروپ  نظام الدين بلخي (م1036 ق)  کے حضور عرض کرتا ہے: مکروہ ہے ہر شخص کےلئے کہ وہ اپنی دعا میں یہ بولے : «حق فلان، وكذا بحق أنبيائك، وأوليائك أو بحق رسلك أو بحق البيت أو المشعر الحرام». [61]

اولیائے الہی کی دعا سے توسل ان کی وفات کے بعد

الف) ‌ابن‌تیمیه کا نظریہ

اس توسل سے مراد یہ ہے کہ شخص  اولیائے الہی سے  اس حال میں کہ وہ دنیا سے جاچکے ہوں ،ان سے چاہے کہ وہ  اس کےلئے دعا کریں۔محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے: مشرکین ہمارے زمانے میں جس طرح رات دن خدا کو پکارتے ہیں  اسی طرح ایک صالح مرد جیسے لات اور اور ہمارے نبی عیسی کو بھی پکارتے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ رسول اللہ نے اسی شرک کی وجہ سے کفار سے جنگ کی تھی اور ان کو خدا کی خالص عبادت کی طرف دعوت دی تھی۔رسول خدا کی ان سے جنگ اسی وجہ سے تھی  کہ دعا پوری کی پوری صرف خدا کےلئے ہے۔[62]

ب)  حنفی علماء کا نظریہ

عبدالله بن‌احمد بن‌محمود النسفي[63] (م710ق): اس آیت (و لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا[64]  «اگر وہ لوگ جس وقت انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا ،تمھارے پاس آتےاور اللہ سے طلب مغفرت کرتے اور رسول  ان کےلئے طلب مغفرت کرتے تو وہ یقینا اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے  »،  کی تفسیر میں ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی پیامبر(ص) کی قبر کے کنارے چلا گیا اور  یہ آیت پڑھی اور طلب مغفرت کی اور اس کی مغفرت ہوگئی .[65] احمد بن‌محمد بن‌إسماعيل طحطاوي حنفي(م1231ق کہتا ہے:بعض عرفاء نے ذکر کیا ہے، توسل میں ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ابو بکر اور عمر کے وسیلے سے پیامبر(ص) اکرم تک پہنچیں .[66]

  1. محمد حسن خان سرهندي مجددي[67] (1346ق) کہتا ہے: جن اصول پر مقلدین و غیر مقلدین کے درمیان لڑائی ہے چار چیزیں ہیں: غیر خدا کےلئے تعظیم،صالحین کی ارواح سے توسل اور ان سے مدد طلب کرنا، غائب کو پکارنا اور سماع الموتی، چاروں مذاہب کے بزرگوں کی پیروی اور تقلید. ان چار چیزوں کو وہابیت شرک و کفر و بدعت جانتی ہے .[68]
  2. محمد عابد سندي حنفي[69] (ت1257ق) ایک حدیث کے بیان میں جو کہتی ہے بلال بن حارث نے قبر پیامبر(ص) کے پاس بارش  کےلئے دعا کی،  کہتا ہے: اس داستان کے مطابق آنحضرت برزخ میں ، اپنے صحابی کی درخواست سے آگاہ ہے، اور اس کےلئے دعا کرتا ہے،اس بناء پر پیامبر(ص)  سے بارش اور غیر بارش کےلئے دعا مانگنا جائز ہے؛ جس طرح پیامبر(ص) کی زندگئ میں جائز ہے  .[70]
  3. محمد عاشق الرحمن قادري حبيبي کہتا ہے :

صحابه نے عمر اور عثمان بن عفان کے زمانے میں پیامبر(ص) سے توسل کے جواز پر اجماع کیا ہے، جب ایک  آدمی پیامبر(ص) کی قبر کی طرف آیا اور کہا : يارسول الله، استسق لامتك فإنهم قد هلكوا... .[71] پس  صحابہ میں سے  کسی نےبھی  جو حاضر تھے اور جو بعد میں آئے تھے، انکار نہیں کیا . پس یہ صحابہ اور تابعین کی طرف سے اجماع سکوتی ہے.[72]

محمد عمر ملازهي سربازي (م1428ق) کتاب مجالس قطب الارشاد میں اس سوال کے جواب میں  کہ   « آیا یہ جو کہا جاتا ہے  درست ہے کہ : اولیای خداوند متعال زندگئ اور موت کے بعد زندگئ میں کچھ تصرفات رکھتے ہیں» :

اگر  یہ  عقیدہ  بھی رکھتا ہو کہ فلاں  بزرگ اور ولی  جو کہ مر چکا ہے اگر خدا وند متعال چاہے کہ فرشتوں کے ذریعے  اس کو خبر دے کہ فلاں شخص کو کسی مشکل کا سامنا ہےاور مصیبت میں ہےتمھیں اجازت ہے اس کی  رفع مشکل کےلئے  میری بارگاہ میں دعا  مانگواور وہ پروردگار کی اجازت کے بغیر  تصرف نہیں کرسکتا، جائز  ہے.[73]

وہ اپنی ایک دوسری کتاب میں لکھتا ہے:

حضرت حكيم الامة   نے ، فتاوي امداديه (ج5، ص363) میں  استعانت و استمداد کی پانچ قسمیں بیان کی ہیں ...( تیسری قسم میں اس طرح کہتا ہے:)  یہ کہ انسان معتقد ہے کہ یہ زندہ یا مردہ علم غیب اور مستقل قدرت نہیں رکھتا اور اس کی استعانت کا طریقہ بھی شرعی طریقے سے ثابت ہے، یہ صورت جائز ہے؛ مثلا کو ئی شخص کسی بزرگ سے کہتا ہے کہ میری بیماری کی شفایابی  اور مشکل کےلئے دعا  کریں.[74]

 

6۔ عبدالهادي محمد الخرسه[75]  نے ایک کتاب بنام الإسعاد في جواز التوسل والاستمداد لکھی ہےاور اس میں  حدیث   «قبر پیامبر(ص) کے کنارے بارش کی طلب » کے بیان کے بعد کہتا ہے: محل استدلال  یہ ہے کہ وہ صحابی یا تابعی تھا ،عمر اور غیر  عمر نے بھی اسے منع نہیں کیا؛ پس اجماعی  ہے.[76]

7۔  وهبي سليمان غاوجي،[77] از علماي معاصر حنفي، اس طرح کہتے ہیں : توسل پیغمبروں کے درمیان اور رسول گرامی اسلام کے نزدیک ایک واضح اور روشن امر ہے۔رسول خدا کے صحابی اور ان کے تابعین نے بھی اس مسئلے کو قبول کیا ہے اور اس پر عمل کیا ہے۔ علماے دین بھی توسل  کو دعا کے طریقوں میں سے ایک طریقہ اور خدا اوند کی بارگاہ میں تقرب کا وسیلہ جانتے ہیں۔وہ توسل کو صرف خدا کی عبادت سمجھتے تھے اور ان کو اس طرح کا گمان بھی نہیں تھا کہ زندہ انسان ،چاہے وہ پیامبر(ص) ہی کیوں نہ ہو خدا وند کے ارادے کے بغیر، کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہےاور کوئی کام بغیر مشیت الہی کے انجام دے۔ مردوں کےلئے بھی اس طرح کا تصور ان کے ہاں نہیں تھا .[78]

ایک اور مورد جس سے پتہ چلتا ہے کہ حنفی علماء دعاے پیامبر(ص)  اور غیر پیامبر(ص) سے توسل کو  جائز سمجھتے تھے ۔ایک زیارت نامہ ہے  جسے  مشہور علماء نے  اپنی کتا بوں میں بیان کیا ہے،آگے چل کر  اس کے کچھ حصوں کی طرف اشارہ کیا جائیگا۔

عبدالله بن‌محمود بن‌مودود موصلي حنفي[79] (م683ق) كتاب الاختيار لتعليل المختار،[80] ابن‌همام حنفی[81](م861ق) كتاب فتح القدير،[82] و عبدالرحمن بن‌محمد بن‌سليمان كليبولي (م1078ق)  كتاب مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،[83] ظام‌الدين بلخى (م1036 ق) کی ریاست میں علماے ہند کا ایک گروہ  كتاب الفتاوي الهنديه میں ،[84]  اور  رشيد احمد گنگوهي[85] (م1323ق) ترجمه مولوي عبدالرحمن ملازهي[86] كتاب زبدة‌المناسک،[87]  محمد زكريا كاندهلوي (م1402ق)  كتاب فضائل حج[88] و عبدالحميد طهماز[89] (م1431ق)[90]  كتاب الفقه الحنفي في ثوبه الجديد، زیارت پیامبر(ص) کے ایک حصے میں یہ عبارت لائے ہیں : «يا رسول الله أسألک الشفاعة و أتوسل بک إلی الله في أن أموت مسلماً علی ملّتک و سنتک؛ اے پيامبر خدا، میں تم سے شفاعت طلب کرتا ہوں اور خدا کی بارگاہ میں تجھے وسیلہ قرار دیتا ہوں  کہ میں اس  حال  میں  کہ  مسلمان  ہوں تمھارے دین اور سنت پر مرجاوں ».

بعض حنفی علماء جیسے  عبدالله بن‌محمود بن‌مودود موصلي حنفي(م683ق)،[91] ابوالبقاء محمد بن‌أحمد بن‌محمد ابن‌الضياء مكي حنفي[92] (م854ق)،[93]  نظام‌الدين بلخى (م1036ق)،[94] کی صدارت میں ہندی علماء کا ایک گروپ ، رشيد احمد گنگوهي (م1323ق) ترجمه مولوي عبدالرحمن ملازهي[95] نے اپنی کتابوں میں خلیفہ اول اور خلیفہ دوم کا زیارت نامہ ذکر کیا ہے اس کے ایک حصے میں کچھ اس طرح سے آیا ہے : «...جئناكما نتوسل بكما إلى رسول الله ليشفع لنا».

قابل  توجہ نکتہ یہ ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں صرف پیامبر(ص) سے توسل جائز ہے؛ جب کہ اس زیارت نامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حنفی علماء غیر پیامبر(ص) سے بھی توسل کو جائز سمجھتے ہیں۔

 اولیائے الہی سے  ان کی وفات کے بعد مددمانگنا اور انکو پکارنا

الف)  ابن‌عبدالوهاب کا نظریہ

محمد بن‌عبدالوهاب کہتا ہے:اگر کوئی شخص کسی مخلوق جیسے ملک مقرب یا نبی مرسل یا ولی یا صحابی و غیر صحابی یا صاحب قبر سے شرک کرے یا اسے پکارے [96] یا اس سے مدد طلب کرے [97]  پس جہاں پر خدا کے علاوہ کسی سے طلب ممکن نہیں یا اس کو استغاثہ اور استعانت کی صورت میں طلب کرے،،،،یقینا اس نے شرک کیا ہے.[98]

ب)حنفیوں کا نظریہ

حنفی مذہب کے ماننے والوں کا نظریہ اس قسم کے توسل میں یہ ہے:

1۔ عبدالحق محدث دهلوي[99] (م1052 ق): ابو حنیفہ کی قبر سے شافعی کے توسل کو بیان کرنے کے بعد  کہتا ہے :

بزرگوں میں سے ایک نے فرمایا ہے: میں نے دیکھا کہ بزرگان میں سے چار بزرگ اپنی قبور میں تصرف کرتے ہیں مثل ان تصرفات کے جو اپنی حیات میں کرتے تھے یا اس سے زیادہ اور شیخ معروف کرخی اور شیخ عبد القادر جیلانی اور دو  شخص اور کو اولیاء شمار کیا ہے ،مقصود یہاں حصر نہیں ، جو کچھ اس نے دیکھا اور پایا ، کہا ہے۔

اور احمد بن مرذوق جو کہ دیار مغرب کے بڑے فقہا، حکماء اور بزرگان میں سے ہے،کہا کہ ایک دن شیخ ابو العباس حضرمی نے مجھ سے پوچھا:

زندہ کی مدد قوی تر ہے یا مردہ کی؟ میں نے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زندہ کی امداد قوی تر ہے اور میں کہتا ہوں مردہ کی امداد قوی تر ہے۔پھر شیخ نے کہا: جی؛ چونکہ وہ حق کے محضر میں ہے۔اور اس  طرح کی روایات   زیادہ ہیں۔

کتا ب و سنت اور اقوال سلف صالح میں ایسا کچھ پایا نہیں جاتا جو اس کے مخالف ہو  اور اس کی تردید کرتا ہو اور  از طریق آیات وروایات سے ثابت ہوچکا ہے کہ روح باقی ہے اور اس کو  زائرین اور ان کے احوال کا  علم و شعور ہے۔حضرت حق  کی بارگاہ میں ارواح کےلئے ایک خاص مقام  ومرتبہ ثابت ہے، جو کہ  ان کی زندگی میں تھا یا اس سے زیادہ، اور اولیاء کےلئے کرامات اور تصرفات  موجودات عالم میں ثابت ہیں ،اور وہ نہیں مگر ان کی ارواح کےلیے، اور ارواح باقی ہیں اور متصرف حقیقی نہیں ہیں  جو کچھ ہے خدا کی قدرت سے ہے اور وہ  زندگئ میں اور زندگی کے بعد جلال حق میں فنا ہیں۔پس اگر  کسی کو کچھ دیا جائے حق کے دوستوں میں سے کسی کے وساطت سے اور اس مقام کے  وساطت سے جو کہ نزد خدا ہے، یہ   بعید نہیں ہے، جیسا کہ زندگی میں تھا اور دونوں حالتوں میں تصرف صرف خدا کےلئے ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں جو ان دونوں میں فرق کرے اور اس پر کوئی دلیل بھی نہیں ملی ہے۔ .[100]

2۔ ابوسعيد خادمي[101] (م1156ق)، حنفی بزرگوں میں سے ،  کہتا ہے :اللہ تعالی کی بارگا ہ میں توسل انبیاء اور صالحین کی استعانت سے ان کی وفات کے بعد جائز ہے؛ چونکہ معجزہ اور کرامت ان کے مرنے کے ساتھ قطع نہیں ہوتے اور رملی سے بھی نقل ہوا ہے کہ کرامات  موت کے سبب  منقطع نہیں ہوتے اور امام الحرمین سے نقل ہوچکا ہے کہ کوئی بھی کرامت کا منکر نہیں اگرچہ موت کے بعد ، مگر رافضی ، اور اجھوری سے نقل ہوچکا ہے کہ ولی دنیا میں اس شمشیر کی مانند ہے جوکہ غلاف میں ہے ۔اور جب مرجاتا ہے ، دنیا سے آذاد ہوجاتا ہے ۔اور تصرف میں قوی تر ہوجاتا ہے اور اسی طرح یہی مطلب   نور الهدايه ابو‌علي سنجي سے بھی نقل ہوچکا ہے.[102]

3۔ محمد عابد سندي حنفي (ت1257ق) کہتا ہے: « جو کچھ  بزرگان مکاشفین  کی ارواح  سے مدد مانگنے اور ان  کی ارواح  سے استفادہ کرنے کے متعلق  نقل ہوچکا ہے محدودیت سے خارج ہے جو کہ ان کی کتابوں میں بیان ہوچکا ہے ».[103]

4۔ شاه فضل الرسول قادري[104] (م1289ق) کہتا ہے :

جان لو غیر اللہ سے فریاد کرنا اور اس کو پکارنا دو طرح سے ہے:

پہلا یہ کہ اس کو مستقل پکارے یعنی اس کو موثر اور موجد کل سمجھے اس کے شرک ہونے میں ذرہ برابر بھی شک  نہیں  اور دوسرا یہ کہ بعنوان کمک اور رہنمائی ،تدبیر اور شفاعت کی صورت میں یا دفع شر کےلئے اور اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ یہ شرک نہیں ہے: چونکہ احادیث میں بیان ہوا ہے : «يا عباد الله أعينوني ويا محمد إني أتوجه بک إلي ربي».[105]

5۔ احمدرضا خان بريلوي[106] (1340ق) کہتا ہے:

استعانت حقیقی یعنی اس کو قادر بالذات، مالک مستقل اور غنی و بے نیاز سمجھے کہ کسی کی عطا کے  بغیر اپنے آپ سے وہ دے دیتا ہے۔غیر خدا کے بارے میں اس طرح کا اعتقاد رکھنا  ہر مسلمان کے نزدیک شرک ہےاور کوئی بھی مسلمان غیر خدا کے متعلق اس طرح کا معنی قصد نہیں کرسکتا بلکہ غیر کو واسطہ وصول فیض اور وسیلہ قضاے حاجات جانتا ہےاور یہ بالکل درست ہے؛  جیسا کہ اللہ  تعالی نے   قرآن حکیم میں فرمایا ہے: (وَابْتَغُوا إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ[107] «خدا وند کی طرف وسیلے کی تلاش  کرو » استعانت بالغیر  کا یہ معنی هرگز  (إِياكَ نَسْتَعِينُ) نہیں .

اس کے سوال کا جواب خدا وند نے اس آیت کریمہ میں دے دیا ہے: (لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا)؛[108] «ااگر وہ لوگ جب وہ خود پر ظلم کرتے تھے آپ کے پاس آتے  اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول  ان کےلئے مغفرت مانگتے تو وہ اللہ تعالی کو توبہ قبول کرنے والا مہبان پاتے ». آیا خداوند تعالی خود معاف نہیں کرسکتا تھا ؟ پس کیوں کہا : اے نبی، آپ کی خدمت میں آئیں گے اور آپ ان کی مغفرت کےلئے اللہ سے دعا کریں.[109]

وہ اپنے اشعار میں سے ایک شعر میں کہتے ہیں :

سلام علی اشجع البوسياء[110]
أنا المستغيث به في الدعاء

 

و من في الجنان يطوف بماء
فنعم الوسيله نحو السماء[111]

«بہادروں میں سب  سے دلیر بہادر پر سلام  ہو (مقصود حضرت علي ہیں )  اور وہ شخص کہ بہشت میں پانی جس کے ارد گرد طواف کرتا ہے.

میں اپنی دعا میں  اس سے استغاثہ کرتا ہوں ، وہ آسمان کی طرف سب سے بہترین وسیلہ ہے».

6۔ محمد حسن جان سرهندي مجددي (1346ق)  كتاب اصول الاربعه  میں  مسئله حيات و ادراك و شعور و علم و سير و تصرف ارواح مقدس کے اثبات کے بعد کہتے ہیں:مسئلہ توسل اور استمداد  ؛ سمجھنا چاہیے انبیاء اور اولیاء زندگی میں خالق اورمخلوق کے دمیان واسطہ اور وسیلہ ہیں اور امداد الہی کا مظہر ہیں  کہ جن کے توسل سے مخلوق  اپنی دنیاوی اور دینی مقاصد میں کامیاب ہوتی ہے ، اسی طرح عالم برزخ میں امداد الہی کے مظاہر ہیں کہ جن کے روحانی فیوض وبرکات  توسل کے موقع پر سبب حل مشکلات اور قضاے حاجات  خلق ہوتے ہیں ، مشکلات کو دور کرنے  والا اور حاجتوں کو پورا کرنے والا  ہر  حال میں صرف خدا کی وحدہ لا شریک ذات ہے، مگر ارواح مقدسہ  وسیلہ محض اور واسطہ صرف ہیں۔ جیسا کہ زندگی میں تھے اسی طرح  وفات کے بعد بھی ہیں۔

وہ بعض صحابہ اور اہل سنت علماء کے توسل کو بیان کرنے  کے بعد از جملہ توسل ابو ایوب انصاری ،پیامبر(ص) [112]  کی قبر کے کنارے، توسل شافعی [113]   وغیرہ، کہتے ہیں :صدر اسلام سے لے کر ہمارے زمانے تک اسلامی کتابوں میں  معتبر روایات تواتر کے ساتھ نقل ہوچکی ہیں  کہ ہمیشہ علماء صالحین،اور بزرگان دین، اولیاء، صالحین اور اہلبیت پیامبر(ص) کی قبور سے  مدد طلب کرتے تھے .[114]

7۔ محمد بخيت حنفي،[115] از علماي الأزهر(م 1354ق) لکھتا ہے: «جائز ہے میت کی روح زندہ یا مردہ ، انجام مصلحت کےلئے واسطہ بنے اور فعل خدا وند کےلئے ہے ».[116]

8۔  شبیراحمد عثمانی[117] (1369ق)،برصغیر ہند کےدیو بند بزرگان میں سے ، اس آيه (إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ)[118] کی تفسیر  میں فرماتے  ہیں :  اس آیت سے سمجھا جاتا ہے  خدا کے علاوہ کسی سے مدد طلب کرنا جائز نہیں ، لیکن جب کوئی  ایک مقبول  شخص کو رحمت الہی کا واسطہ قرار دے اور اس سے مدد مانگے اس اعتقاد کے ساتھ کہ  وہ   مدد کرنے میں غیر مستقل ہے ، یہ جائز ہے؛ اس دلیل کے ساتھ کہ اس ولی سے مدد مانگنا در حقیقت خدا سے مدد طلب کرنا ہے .[119]

9۔ محمدزاهد كوثري (م1371ق) کہتے ہیں :

برا نہیں کہ  یہاں پر ہم  باب استعانت اور استغاثہ میں ایک لفظ کا اضافہ کریں : ان سب کا تعلق ایک ہی سلسلے سے ہے۔حدیث شفاعت کہ جسے بخاری نے نقل کیا ہے،  میں آیا ہے کہ لوگ قیامت کے دن حضرت آدم ، اس کے بعد حضرت موسی، پھر حضرت محمد  ص سے توسل کریں  گے .[120]  اور یہ روایت ہدف توسل کے ساتھ   استغاثہ کے جواز پر دلالت کرتی ہے[121]۔

10۔ مناظر احسن گيلاني[122](م1376 ق) کہتا ہے  : «ہم بزرگان کی ارواح سے استغاثہ کے منکر نہیں».[123]

11۔ سید احمد سعید کاظمی[124](م ۱۴۰6ق) اولیا ء کی مشکل کشائی کی قدرت کے بارے میں فرماتے ہیں : یہ ان کی ذاتی صفت نہیں ہے ،بلکہ یہ خدا وند کی تجلی کا سایہ ہےکہ جس نے  اس میں تجلی کیا ہےاور ہمیشہ محتاج اور غیر مستقل ہے۔ان  وضاحتوں  سے معلوم ہوگیا کہ ان کے تمام اعضاء و جوارح میں خدا وند کی صفات نے تجلی کیا ہے اور وہ خدا کی صفات کا مظہر ہیں۔ لہذا  ہمیں چاہیے کہ ہم اچھے سے غور کریں  اور جان لیں  کہ بندگان صالح کا مشکل کشاء ہونا ،عطای الہی ہے کہ خدا وند  ان کے اعضاء و جوارح کے ساتھ اپنے کاموں کو انجام  دیتا ہے اور ان کی مشکلات کو حل کرتا ہے پس جب بھی کسی بندے کے ہاتھ کوئی مشکل حل ہوتی ہے اور کسی کی حاجت پوری ہوجاتی  ہے تو وہ اللہ تعالی کی قدرت اور اجازت سے  ہوتی ہے.[125]

12۔ محمد عاشق الرحمن قادري حبيبي ایک مناظرہ کے بارے میں جو کہ انہوں نے نجد کے وہابیوں سے کیا تھا ، اپنی کتا ب میں اس طرح لکھا ہے: : رئيس محاكم وهابي اس طرح بیان کرتا ہے :  عقاید میں ،  ہمارے اور اور آپ کے درمیان اختلاف  کس چیز میں ہے ؟

وہ جواب میں کہتا ہے : «نحن نجوز الاستغاثة وانتم لاتجوزونها؛[126] ہم استغاثہ کو جائز سمجھتے ہیں اور آپ اس کو جائز نہیں سمجھتے ».

13۔محمد عبدالقیوم هزاروی[127]  کتاب عقائد و مسائل جوکہ برصغیر کے بریلوی حوزی علمیہ کی کتا بوں  میں سے ہے، لکھتے ہیں، :

غیر خدا وند سے طلب استغاثہ کرنا اس اعتبار سے  کہ وہ سبب اور واسطہ ہو ،جائز ہے۔اگرچہ استغاثہ حقیقت میں  صرف خدا وند سے ہے لیکن اس بات سے کوئی منافات نہیں کہ خدا وند استغاثہ کےلئے کچھ اسباب اور وسائل مہیا کرے.[128]

14۔  وهبي سليمان غاوجي،[129] از علماي معاصر حنفي، اس طرح کہتا ہے:اگر ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ پیامبران  اپنی قبروں میں زندہ ہیں تو یہ بات حق ہے اور اگر ہم معتقد ہیں کہ دنیا میں ان کے پاس کوئی کرامت تھی،موت کے بعد بھی یہ کرامت ان کے پاس ہے۔ تو پھر ان سے استغاثہ کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟چونکہ استغاثہ یعنی ایسے کسی شخص سے مدد طلب کرنا کہ جو کمک رسانی کی قدرت رکھتا ہو.[130]

15۔ عبدالرحمن آخوند تنگلي[131] كتاب لزوم الاقتصاد في العمل و الاعتقاد  میں معتقد  ہے کہ   اولیاء سے استغاثہ کے باب میں بعض تفریط کرتے ہیں  اور انبیاء اور اولیاء کو بت کی جگہ قرار دیتے ہیں  اور معتقد ہیں کہ وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے  اور کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور بعض افراط کرتے ہیں  اور ارواح کی طرف نگاہ مستقل رکھتے ہیں ۔ دونوں گروہ گمراہ ہیں  اور درمیانہ راستہ یہ ہے  کہ اللہ تعالی کے دوست انبیاء اور اولیاء سے استغاثہ کیا جائے ، اس بناء پر کہ وہ  خدا  کی ایسی مخلوق ہیں  کہ جو اس کے اور خدا کے درمیان واسطہ ہیں اور خدا کے ہاں صاحب عزت ہیں ۔ وہ اس بات کو جاری رکھتے ہوئے مخلوق سے استغاثہ کے جواز پر کچھ روائی اور قرآنی شواہد بیان کرتے ہیں.[132]

قبور اولیاء سے فیض طلب کرنا

الف) وہابیوں کا نظریہ

کچھ اور مسائل میں سے  کہ  جن کو وہابیت شرک سمجھتی ہے ، لیکن حنفی علماء جائز سمجھتے ہیں ،اولیاء کی قبور سے طلب فیض کرنا ہے۔صالح بن عثیمین  وہابی بزرگوں میں سے ، کہتا ہے:

جاننا چاہیے کہ خدا وند متعال عز وجل کھبی اس طرح کی  چیزوں کے ساتھ امتحان لیتا ہے۔لذا  کھبی انسان کسی قبر سے تعلق پیدا کرتا ہے اور صاحب قبر کو پکارتا ہے  یا اس کی قبر کی تھوڑی سی مٹی اٹھاتا ہے اور اس  میں برکت  تلاش کرتا ہے،پس جو چاہتا ہے اسے پالیتا ہے اور یہ خدا وند متعال کی جانب سے اس مرد کا امتحان ہے؛ چونکہ ہم جانتے ہیں یہ قبر ہماری دعا پوری نہیں کرتی  اور یہ خاک نقصان سے بچنے اور نفع پہنچانے کا سبب نہیں.[133]

ب) حنفی علماء کا نظریہ

لیکن حنفی علماء اس مورد کو جائز سمجھتے ہیں ۔

1۔ ابن عابدين (م1252ق)، از بزرگان حنفي: کہتا ہے: معروف كرخى، فرزند فيروز، از بزرگان ،مشايخ و مستجاب الدعوه تھے  اور اس کی قبر سے بارش طلب کیجاتی  تھی  . وہ   سرّى سقطى کے استاد تھے    اور دو سو ہجری میں فوت ہوگیے .[134]

2۔خلیل احمد سهارنپوری(م1346ق)  کتاب المهند علی المفند جو کہ حرمین کے علماء کے ایک گروہ کی تائید سے برصغیر کے دیوبند علماء  کی تائید سے ، مصر، سوریه  اور دوسرے ملکوں میں پہنچی ہے [135] ، اس طرح بیان کرتا ہے :

لیکن استفادہ کرنا بزرگوں کی روحانیت سےاور ان کے سینوں سے اور قبروں سے فیوضات باطنی کا حاصل کرنا  یہ ایسا امر ہے کہ بغیر شک کے  اس طریقے سے جو کہ اہل سلوک اور اس قوم کے خواص کے درمیان رائج ہے  اور معلوم ہے، درست  اور صحیح ہے، نہ اس طرح سے جو کہ عوام میں شایع ہے.[136]

  1. انور شاه كشميري (1352ق) علماي ديوبند میں سے کہتا ہے: «اہل قبور سے طلب فیض کرنا جائز ہے چونکہ یہ ارباب حقايق صوفيه کے نزدیک ثابت ہے ».[137]

 اولیاء سے شفاعت کی طلب کرنا ان کی وفات کے بعد

الف) وہابیوں کا نظریہ

شفاعت کا مسئلہ اور یہ کہ پیامبر اکرم (ص) حق شفاعت رکھتے ہیں تمام اسلامی فرقوں کامورد اتفاق ہے۔وہابیوں اور اسلامی فرقوں کے درمیان جو  مورد اختلاف ہےوہ اولیاِ الہی سے  ان کی وفات کے بعد ان سے طلب شفاعت کرنا ہے۔ جو لوگ پیامبر(ص) کی وفات کے بعد ان سے شفاعت  طلب کرتے ہیں وہابی ان کو کافر اور مشرک سمجھتے ہیں۔

محمد بن­عبدالوهاب کہتا ہے جو شخص اپنے اور خدا کے درمیان واسطے قرار دے تاکہ ان کو پکارے اور ان سے طلب شفاعت کرے تو وہ اجماعا کافر ہے .[138]

ب) حنفیوں کا نظریہ

حنفی پیامبر(ص) سے طلب شفاعت کو جائز سمجھتے ہیں ۔

1۔ابوحنيفه (م150ق): ابوحنیفه نے  بارگاه حضرت رسول  اکرم میں  اس طرح سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے :

يا مالكي كن شافعي من فاقتي
يا أكرم الثقلين يا كنز الورى
أنا طامع في الجود منك ولم يكن


 

إني فقير في الورى لغناكا
جد لي بجودك و ارضني برضاكا
لابن الخطيب من الأنام سواكا[139]

 

اے میرے مالک، میری شفاعت کرنے والا بن جا، حقیقت میں مخلوق کے درمیان  میں  تمہارے  غنا کا محتاج ہوں۔

اے  جنات اور انسانوں  میں سب سے کریم اور بزرگوار ، اے مخلوق کا خزانہ، مجھ پر اپنا کرم کر  لے اور اپنی رضا سے مجھے راضی کرلے۔

میں تمھاری بخشش سے امید رکھتا ہوں  اور تمھاری بخشش  کے سوا ،  لوگوں کے درمیان ابو حنیفہ کا کوئی نہیں۔

2۔ محمد عاشق الرحمن قادري حبيبي کہتا ہے: «زائر کےلئے ضروری ہے کہ وہ پیامبر(ص) کی بارگاہ میں بہت زیادہ دعا، تضرع، استغاثہ ،طلب شفاعت اور توسل  کرے».[140]

  1. مولوي محمد عمر سربازی[141] جمهور اهل­سنت کے ساتھ وہابیت کے اختلاف کو اس طرح بیان کرتے ہیں : «تیسرا: رسول کی بارگاہ میں عرض سلام کےلئے  حاضری کے دوران شفاعت کی درخواست کو جائز نہیں سمجھتے ».[142]

4۔ مولوي عبدالرحمن ملازهي[143] نے  ایک شعر پيامبر اسلام کے وصف میں کہا ہے:

چو طوطی نعت می‌خوانم، چو بلبل زار می‌نالم

 

 

به‌مدحت انگبین کامم، نبی جانم نبی جانم

غلامت عبد رحمانم، شفاعت از تو می‌خواهم

 

 

به روز حشر دریابم، نبیِ جانِ جانانم[144]

     

زيارت‌نامه پيامبر و طلب شفاعت


جس طرح کہ پہلے  بیان ہوچکا ، کہ پیامبر اسلام کے زیارت نامے میں جو کہ حنفی علماء کی کتابوں میں  بیان ہوا ہے، طلب دعا اور طلب شفاعت کا جائز ہونا واضح ہے۔یہاں پراس زیارت نامے کے کچھ حصے نقل کئے جاتے ہیں:

قاصدين... الاستشفاع بك إلى ربنا. فإن الخطايا قد قصمت ظهورنا، والأوزار قد أثقلت كواهلنا، وأنت الموعود بالشفاعة والمقام المحمود، وقد قال الله تعالى:(وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا)[145] وقد جئناك ظالمين لأنفسنا،مستغفرين لذنوبنا، فاشفع لنا إلى ربك؛

خدا کی بارگاہ میں تمھاری شفاعت کے طلبگار ہیں۔گناہوں نے ہماری کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔اور ان کی سنگینی  ہمارے کاندھوں پر   ناقبل تحمل ہے۔اور تجھ سے شفاعت اور مقام محمود کا وعدہ کیا گیا ہے اور خدا نے فرمایا ہے:" اگر وہ لوگ جس وقت انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تھا ،تمہارے پاس آتے  اور طلب مغفرت کرتے اور پیامبر(ص) بھی ان کی مغرت کےلئے دعا کرتے، تو وہ خدا کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے"۔

زیارت نامہ کے اس حصہ کو مندرجہ ذیل علماء نے بیان کیا ہے:

  1. عبدالله بن‌محمود بن‌مودود موصلي حنفي (م683ق)؛[146]
  2. بهاءالدين ابوالبقاء، معروف به ابن‌الضياء (م854ق)؛[147]
  3. حسن وفایي شرنبلالي (م1069ق)؛[148]
  4. الحاجة نجاح الحلبي؛[149]
  5. عبدالحميد طهماز (م1431ق).[150]

اس زیارت نامہ کی ایک اور عبارت میں بھی طلب شفاعت ہوئی ہے جو کہ ایک ایسے شخص سے مربوط ہے کہ جس نے وصیت کی تھی کہ  پیامبر(ص) تک اس کا  سلام پہنچایا جائےاور اس طرح سے بیان کرتے ہیں:

السلام علیک یا رسول الله من فلاں  بن فلاں  یستشفع بک الی ربک؛

فلاں بن  فلاں کی طرف سے تجھ پر سلام ہو اے رسول خدا  اور وہ اللہ کی بارگاہ میں  تمہار ے وسیلے سے شفاعت کا طلبگار ہے۔

اس مطلب کو ان علماء کے علاوہ کہ جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، جزءابن ضیا کے، نظام الدين بلخي (م1036ق)  کی ریاست میں  ہند کے علماء کے ایک گروہ نے كتاب فتاوي الهنديه[151]  میں اور  رشيد احمد گنگوهي (م1323ق)، از بزرگان ديوبند،  نے كتاب زبدة المناسک  میں  کہ جس کا ترجمہ مولوي عبدالرحمن ملازهي[152]  نے کیا ہے، بھی بیان کیا  ہے.

 

نتائج

جیسا کہ گزر چکا ،وہبی اور حنفی علماء کے درمیان تضاد فکری ،توسل کی بعض قسموں میں  کاملا  روشن ہے۔اور حنفیوں کا نظریہ  اس باب میں دوسرے مسلمانوں سے ہماہنگ ہے۔حق یا مقام و منزلت اولیاء سے توسل کے مورد میں  حنفی علماء کی ایک بڑی تعداد یا خود اس طرح سے متوسل ہوچکے ہیں یا اس کی جواز پر تاکید کی ہےاور ابن تیمیہ نے ابو حنیفہ سے منسوب کیا ہے کہ حق اور مقام و منزلت اولیاء سے توسل حرام ہے،یہ نسبت درست نہیں ہے ،بلکہ حنفی فقہا کے بیان کے مطابق ،ابو حنیفہ نے حق کے ساتھ توسل کو مکروہ جانا ہے۔ لیکن اولیائے الہی سے توسل ،استعانت اور استغاثہ کے مورد میں  اور اولیاء کی وفات کے بعد  ان سے طلب فیض اور طلب شفاعت کے مورد میں  کچھ حنفی علماء نے ان کے اثبات یا نفی میں  بات کی ہے  لیکن  حنفی علماء کی ایک بڑی تعداد نے مختلف زمانوں اور مختلف  مکانوں میں  ان موارد کو بھی جائز قرار دیا ہے۔پیامبر اکرم اور خلیفہ اول و دوم کا زیارت نامہ   جوکہ حنفی معتبر کتابوں میں بیان ہوا ہے،وہابیت اور مذہب حنفی کے درمیان تضاد فکری پر مہم ترین شواہد میں سے ہے ۔

 

 


 

  • كتابنامه
  1. أبشيهي، شهاب‌الدين محمد: المستطرف في كل فن مستظرف، بیروت: دار الكتب العلمية، چاپ دوم، 1986م.
  2. ابن تيمية حرانی، احمد: مجموع الفتاوى، محقق: أنور الباز - عامر الجزار، بي‌جا، دار الوفاء،چاپ دوم،1426ق.
  3. ابن‌إبراهيم سمرقندی، ابوليث نصر بن‌محمد: بحرالعلوم، تحقيق: د.محمود مطرجی، بيروت: دارالفكر، بی‌تا.
  4. ابن‌الهمام، كمال‌الدين محمد بن‌عبدالواحد سيواسی: شرح فتح القدير، بيروت: دارالفكر، بي‌تا.
  5. ابن‌عابدين، محمدامین: اجابة الغوث ببيان حال النقباء والنجباء والأبدال والأوتاد والغوث، تقديم و تحقيق: سعيد عبدالفتاح، قاهره: مكتبة القاهره، چاپ اول، 1427ق.
  6. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: حاشية رد المختار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار فقه أبو حنيفة، بيروت: دارالفكر للطباعة والنشر، 1421ق.
  7. ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: ردالمحتار على الدر المختار، بيروت: دارالفكر للطباعة والنشر، 1421ق.
  8. ابن‌عبدالوهاب، محمد: كشف الشبهات، المملكة العربية السعودية: وزارة الشؤون الإسلامية والأوقاف والدعوة والإرشاد، چاپ اول، 1418ق.
  9. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ : مؤلفات الشيخ الإمام محمد بن‌عبدالوهاب، تحقيق: عبد العزيز زيد الرومي, محمد بلتاجي. سيد حجاب، رياض:جامعة الإمام محمد بن‌سعود، بی‌تا.
  10. آخوند تنگلی، حاج عبدالرحمن: لزوم الاقتصاد فی العمل و الاعتقاد (استغاثه)، سايت حوزه علميه عرفاني عرفان آباد، http://www.erfanabad.org/fa/
  11. ارشد، عبدالرشيد: بزرگ مردان انديشه و تاريخ، اقتباس و ترجمه: محمد امين حسين بر، شيخ الاسلام تربت جام، احمد جام، چاپ دوم، 1388ش.
  12. افغانی، شمس‌الدين بن‌محمد بن‌أشرف: جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية، ریاض: دارالصميعي، چاپ اول، 1416ق.
  13. الألوسي، سید محمود: روح المعاني، بيروت: دار إحياء التراث العربي، بی‌تا.
  14. بريلوی، احمد رضاخان: المنظومه السلاميه في مدح خير البريه، شرح:حسين مجيب المصري، مصر: الدار الثقافيه، چاپ اول، 1420ق.
  15. بغدادی قادری، غلام غوث: حقیقت توحید و شرک تحریر مستدل از قرآن و سنت، مترجم مولوی عبدالرحیم رضوی، ارومیه: انتشارات حسینی اصل، چاپ اول، 1390ش.
  16. بن‌باز، عبد العزيز، محمد بن‌صالح عثيمين: فتاوى مهمة لعموم الأمة، تحقيق : إبراهيم الفارس، رياض: دار العاصمة،چاپ اول، 1413ق.
  17. جبرتی، عبدالرحمن بن‌حسن: تاريخ عجائب الآثار في التراجم والأخبار، بيروت: دارالجيل، بی‌تا.
  18. حاجی خليفة، مصطفى بن‌عبدالله كاتب جلبي قسطنطينی: كشف الظنون عن أسامی الكتب والفنون، بغداد: مكتبة المثنى، 1941م.
  19. حلبی، الحاجة نجاح: فقه العبادات على المذهب الحنفي، نرم افزار المكتبة الشامله.
  20. حنفی قادری، احمد رضا خان: استعانت از محبوبان خدا(بركات الامدادلاهل الاستمداد)، مترجم: سيد هاشم حسينی قادری، كراچی: دارالاسلام، بی‌تا.
  21. حنفی، محمد بخيت: تطهير الفؤاد من دنس الاعتقاد، بی‌جا، استانبول: مكتبة ایشيق، بی‌تا.
  22. خادمی حنفی، ابوسعيد: بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية، بی‌جا، مطبعة الحلبی، 1348ق.
  23. خفاجی مصری حنفی، شهاب‌الدين احمد بن‌محمد بن‌عمر: عناية القاضى وكفاية الراضى على تفسير البيضاوي، بيروت: دارصادر، بی‌تا.
  24. ذهبي، شمس‌الدين محمد: سير أعلام النبلاء، قاهرة: دارالحديث، 1427ق.
  25. الرحمن، سید طالب: جماعة التبليغ (في شبه القارة الهنديه)عقائدها-تعريفها، اسلام آباد:دارالبيان، چاپ اول، 1419ق.
  26. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ : عقائد علماء الديوبنديه، پاكستان: دارالكتاب و السنه، چاپ اول، 1417ق.
  27. رشدانی مرغيانی، علی بن‌أبی‌بكر بن‌عبدالجليل: الهداية شرح بداية المبتدي، المكتبة الإسلامية،بی‌جا، بی‌تا.
  28. رومی بابرتی، محمد بن‌محمد: العناية شرح الهداية، بی‌جا، دارالفكر، بي‌تا.
  29. زبيدی، زين‌الدين: التجريد الصريح لأحاديث الجامع الصحيح، دمشق: مؤسسة الرسالة، چاپ اول، 1430ق/2009م.
  30. زركلی دمشقی، خير الدين بن‌محمود بن‌محمد بن‌علی بن‌فارس: الأعلام، دارالعلم للملايين، چاپ پانزدهم، 2002م.
  31. زرندی حنفی، جمال‌الدين محمد بن‌يوسف بن‌حسن بن‌محمد: نظم درر السمطين، نرم افزار المكتبة الشامله.
  32. زيلعی حنفی، فخرالدين: تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشِّلْبِيِّ، قاهرة: المطبعة الكبرى الأميرية، چاپ اول، 1313ق.
  33. سُّبْكي، تقي‌الدين علی: السيف الصقيل في الرد علي ابن زفيل، با حاشيه محمد زاهد بن حسن كوثری حنفي، مصر: المكتبة الازهريه للتراث، بی‌تا.
  34. سرهندی مجددی، محمد حسن جان: الأصول الأربعة في ترديد الوهابية، تحقيق، تعليق: ابوالرياض مولوي حكيم محمد معراج الدين أحمد، استانبول، مكتبة ایشيق، بی‌تا.
  35. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: گفتمانی در نقد وهابيت، مترجم: مولوی عبدالخبير صمدانی‌فر، قم: مؤسسه مذاهب اسلامی، چاپ اول، 1389ش.
  36. سكاكی خوارزمی حنفی، يوسف بن‌أبی‌بكر: مفتاح العلوم، تحقيق:نعيم زرزور، بيروت: دارالكتب العلمية، بی‌تا.
  37. سندی، محمد عابد: الصارم المسلول، تحقيق و تعليق :محمد جان بن‌عبدالله نعيمی،كراچی: المكتبة المجددية ملير.
  38. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: توسل در يک نگاه، تعليق و تحقيق :وهبی سليمان غاوجی، نشر مشعر،1390ش.
  39. سهارنپوری، خليل احمد: عقائد اهل‌سنت و جماعت در رد وهابيت و بدعت، ترجمه المهند علی المفند و خلاصه عقاید علمای ديوبند با تأييدات جديده، سيد عبدالشکور ترمذی، مقدمه و ترجمه: عبدالرحمن سربازی، چابهار: مدرسه عربيه اسلاميه چابهار، چاپ اول، 1370ش.
  40. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: عقائد علماء اهل السنه الدیوبندیه، سيد عبد الشکور ترمذی، تحقیق و تعلیق: سید طالب الرحمن، ریاض: مکتبةفهد، 1326ق.
  41. شيخ نظام و گروهی از علمای هند: الفتاوى الهندية في مذهب الإمام الأعظم أبي حنيفة النعمان، بیروت: دارالفكر، 1411ق/1991م.
  42. ضميری، محمدرضا: كتاب‌شناسى تفصيلى مذاهب اسلامى، قم: مؤسسه آموزشى ـ پژوهشى مذاهب اسلامى،چاپ اول، 1382ش.
  43. طاشْكُبْری زَادَهْ، عصام‌الدين: الشقائق النعمانية في علماء الدولة العثمانية، بيروت: دارالكتاب العربی، بی‌تا.
  44. طحطاوی، أحمد ‌بن‌محمد بن‌اسماعيل: حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، تحقيق: محمد عبدالعزيز الخالدی، بيروت ـ لبنان: دار الكتب العلمية، چاپ اول، 1418ق.
  45. طهماز، عبدالحميد محمود: الفقه الحنفي في ثوبه الجديد، بيروت: الدارالشاميه، چاپ دوم، 1430ق.
  46. كليبولي، عبدالرحمن بن‌محمد بن‌سليمان ، شيخی‌زاده: مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، بيروت: دارالكتب العلمية، 1419ق/1998م.
  47. عثيمين، محمد بن‌صالح بن‌محمد: مجموع فتاوى و رسائل، جمع و ترتيب: فهد بن‌ناصر بن‌إبراهيم سليمان، دارالوطن، 1413ق.
  48. عسقلانی، أحمد بن‌علی بن‌حجر أبوالفضل: فتح الباري شرح صحيح البخاري، تحقيق: أحمد بن‌علي بن‌حجر أبو الفضل عسقلاني شافعي، بيروت: دارالمعرفة.
  49. عينى، بدر الدين: عمدة القاري شرح صحيح البخاري، بيروت: دار إحياء التراث العربي.
  50. فرغانی مرغينانی، علی بن‌أبي‌بكر بن‌عبدالجليل: بداية المبتدي في فقه الإمام أبي حنيفة، أبوالحسن برهان‌الدين، قاهرة: مكتبة و مطبعة محمدعلي صبح، بی‌تا.
  51. قادری، شاه فضل رسول: سيف الجبار، مركز الأبحاث العقائدية.
  52. قادری، محمد عاشق الرحمن: سيوف الله الاجلة و عذاب الله المجدي، بی‌جا، مكتبة الحقيقة، بي‌تا.
  53. قرشی عمری مكی حنفی، محمد بن‌أحمد بن‌الضياء محمد: تاريخ مكة المشرفة والمسجد الحرام والمدينة الشريفة والقبر الشريف، المحقق: علاء إبراهيم، أيمن نصر، بيروت: دارالكتب العلمية، چاپ دوم، 1424ق.
  54. قرشی، عبد القادر بن‌أبی‌الوفاء محمد بن‌أبی‌الوفاء: الجواهر المضية في طبقات الحنفية، تحقيق: ميرمحمد، كراچی: كتب‌خانه، بی‌تا.
  55. كاشانی، علاءالدين أبوبكر بن‌مسعود بن‌أحمد: بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، حنفی، بی‌جا.
  56. كشميری، محمد انور: فيض الباری علی الصحيح البخاری، بيروت: دارالكتب العلميه، اول، 2005م.
  57. كلاباذی بخاری، ابوبكر محمد بن‌أبي‌إسحاق بن‌إبراهيم بن‌يعقوب: التعرف لمذهب أهل التصوف، حنفی، بيروت: دارالكتب العلمية، بی‌تا.
  58. كوثری، محمد زاهد: إرغام المريد في شرح النظم العتيد لتوسل المريد، قاهره:المكتبة الازهريه للتراث، چاپ اول، بي‌تا.
  59. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: پاسخ به پندارهای توسل، مقدمه و تصحيح :وهبي سليمان غاوجی، قم: نشر مشعر، 1390ش.
  60. کوثری، محمد زاهد، محمد عابد سندی، وهبي سليمان غاوجی: محق التقول في مسألة التوسل و حول التوسل والإستغاثة و كلمة علمية هادية في البدعة وأحكامها، دمشق: درالبشائر، چاپ اول، 1427ش.
  61. گنگوهی، رشيد احمد: زبدة المناسك، مترجم،عبدالرحمن ملازهی (سربازی)، چابهار: مدرسه عربیه اسلامیه، چاپ اول، بی‌تا.
  62. ماتريدی، ابومنصور محمد بن‌محمد بن‌محمود: تفسير الماتريدی (تأويلات أهل السنة)، محقق: د.مجدي باسلوم، بيروت: دارالكتب العلمية، چاپ اول، 1426ش.
  63. محدث دهلوی، شيخ عبدالحق: اشعة اللمعات، تصحيح و تنظيم: عبدالمجيد مرادزهی خاشی، زاهدان: فاروق اعظم، 1389ش.
  64. محمد الخرسه، عبدالهادی: الإسعاد في جواز التوسل والإستمداد، دمشق: دارفجر العروبه، 1997ق.
  65. مراد الحسينی، محمد خليل بن‌علی: سلك الدرر في أعيان القرن الثاني عشر، بی‌جا، دارالبشائر الإسلامية، چاپ سوم، 1408ق.
  66. مراقی شرنبلالی، حسن بن‌عمار بن‌علی: الفلاح شرح متن نور الإيضاح، اعتنى به وراجعه: نعيم زرزور، المكتبة العصرية، چاپ اول، 1425ق.
  67. ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: نور الإيضاح ونجاة الأرواح في الفقه الحنفي، محقق: محمد انيس مهرات، المكتبة العصرية، 1246ق.
  68. ملا خسرو، محمد بن فرامرز بن‌علی: درر الحكام شرح غرر الأحكام، دار إحياء الكتب العربية.
  69. ملازهی(سربازی)، محمد عمر: تحقيقی در مورد توسل و نداء غيرالله، زاهدان: 1381ش.
  70. ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: فتاوای منبع العلوم، سرباز، مدرسه ديني منبع العلوم کوه ون، چاپ اول، 1385ش.
  71. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: مجالس قطب الارشاد، مدرسه دينی منبع العلوم کوه ون، سرباز، چاپ اول، 1390ش.
  72. موصلی حنفی، عبدالله ابن‌محمود: الاختیار لتعلیل المختار، تحقیق: عبداللطیف محمد عبدالرحمن، بیروت: دارالکتب العلمیة، چاپ سوم، 1426ق.
  73. مهاجر مدني، محمد زكريا: فضائل الاعمال، مترجم: محمد كريم صالح، كويته: مكتبه حنفيه.
  74. ميدانی دمشقی، عبدالرزاق بن‌حسن بن‌إبراهيم بيطار: حلية البشر في تاريخ القرن الثالث عشر، حققه ونسقه وعلق عليه حفيده: محمد بهجة بيطار، بيروت: دارصادر، چاپ سوم، 1413ق.
  75. نسفی، أبوالبركات عبد الله بن‌أحمد: تفسير النسفي (مدارك التنزيل وحقائق التأويل)، يوسف علي بديوي، محيي الدين ديب مستو، بيروت: دارالكلم الطيب، چاپ اول، 1419ق/1998م.
  76. نيشابوري، حاکم محمد بن‌عبدالله أبوعبدالله: المستدرك على الصحيحين، تحقيق: مصطفى عبدالقادر عطا، تعليقات ذهبي در التلخيص، بيروت: دارالكتب العلمية، چاپ اول، 1411ق.
  77. هزاروی، محمد عبدالقیوم: عقاید اهل سنت و جماعت (پاسخ به سؤالات و شبهات)، مترجم: محمد ذاکر حسینی بریلوی، بی‌جا، 1382ش.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[1] ۔ محمد زاید کوثری،از علماے ہند،سیف الصیقل،ص 115

[2]۔ «أَسْأَلُك بِجَاهِ نَبِيِّنَا أَوْ بِحَقِّهِ. فَإِنَّ هَذَا مِمَّا نُقِلَ عَنْ بَعْضِ الْمُتَقَدِّمِينَ فِعْلُهُ وَلَمْ يَكُنْ مَشْهُورًا بَيْنَهُمْ وَلَا فِيهِ سُنَّةٌ عَنْ النَّبِيِّ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) بَلْ السُّنَّةُ تَدُلُّ عَلَى النَّهْيِ عَنْهُ كَمَا نُقِلَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَغَيْرِهِمَا» (ابن‌تیمیه، احمد، مجموع الفتاوى، ج1، ص347).

[3] ۔گزشتہ، ج27، ص133

[4] بن‌باز، عبدالعزیز، العثیمین، محمد بن‌صالح، فتاوى مهمة لعموم الأمة، ج1، ص93.

[5] ۔ محمد بن‌محمد بن‌محمود ابومنصور ماتریدی سمرقندی حنفی مؤسس فرقه ماتریدیه، متکلم، فقیه و مفسر قرآن، ایک ایرانی عالم دین تھا۔وہ سمرقند کے نواحی ماترید میں پیدا ہوا .کلامی فرقہ ماتریدیہ، صاحب نظر شاگردوں کی تربیت اور اپنے پیچھے بہت سارے آثار چھوڑنا ماتریدیہ کے قابل ذکر نکات میں سے ہے۔

[6] [6] ماتریدی، محمد بن‌محمد، تفسير الماتريدي (تأويلات أهل السنة)، ج1، ص509.

.[7] «نصر بن‌محمد بن‌أحمد بن‌إبراهيم السَّمَرْقَنْدي، أبو الليث، الملقب بإمام الهدى، من أئمة الحنفية» (زرکلی، خیرالدین، الاعلام، ج8، ص27).

[8] ۔ وہ کہتا ہے: «اليهود الذين كانوا حوالي المدينة كانوا يقرون بالنبي (صلى الله عليه وسلم) قبل أن يخرج، وكانوا إذا حاربوا أعداءهم من المشركين يستنصرون باسمه فيقولون بحق نبيك أن تنصرنا، فلما أخرج النبي(صلّی الله علیه وسلم) وقدم المدينة، حسدوه وكذبوه وكفروا به فطفئت نارهم وبقوا في ظلمات الكفر» (سمرقندی، ابواللیث، بحر العلوم، ج1، ص30).

[9] ۔ سمرقندی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 37 کے ذیل میں ان کلمات کے متعلق بات کرتا ہے جو حضرت آدم علیہ السلام نے بیان کئے ہیں: «قال: بحق محمد أن تقبل توبتي. قال الله له: ومن أين عرفت محمداً؟ قال: رأيت في كل موضع من الجنة مكتوب لا إله إلا الله محمد رسول الله، فعلمت أنه أكرم خلقك عليك» (همان، ج1، ص45).

[10]. محمد بن إبراهيم بن يعقوب كلاباذی، اهل بخاری اور حفاظ حديث میں سے ہے۔ (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج5، ص295).

[11] ۔«باللَّهِ أستعين وَعَلِيهِ أتوكل وعَلى نبيه أُصَلِّي وَبِه أتوسل» (كلاباذي، أبوبكر محمد، التعرف لمذهب أهل التصوف، ص21).

[12]۔ يوسف بن ابی‌بكر بن‌محمد بن‌علی سكاكی. محل تولد  اور محل وفات خوارزم  ہےوہ مختلف علوم میں مخصوصا علم بیان اور معانی میں بہت بڑا  عالم اور تجربہ کار تھا۔

[13] ۔«الله المشكور على كماله و المسؤول أن يمنح التوفيق في الباقي بحق محمد وآله» (سکاکی، یوسف، مفتاح العلوم، ص72).

.[14] «عبد القادر بن محمد بن‌نصرالله القرشي، أبومحمد، محيي الدين: عالم بالتراجم، من حفاظ الحديث، من فقهاء الحنفية. مولده و وفاته بالقاهرة» (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ‌ج4، ص42).

[15]. «محمود بن‌أحمد بن‌موسى بن‌أحمد، أبومحمد، بدرالدين العيني الحنفي: مؤرخ، علامة، من كبار المحدثين. أصله من حلب ومولده في عينتاب» (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج7، ص163).

[16]. عینی، بدرالدین، عمدة القاري، ج1، ص 11.

[17]. «أحمد بن‌أحمد بن‌عبداللطيف الشرجي، شهاب الدين، المعروف بالزبيدي: محدث البلاد اليمنية في عصره» (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج1، ص91).

[18]. «المسؤول من الله تعالى أن ينفع بذلك، ... بجاه سيدنا محمد وآله وصحبه أجمعين» (زبیدی، زین‌الدین، التجريد الصريح لأحاديث الجامع الصحيح، ص15).

[19] - «أحمد بن مصطفى بن خليل: أبو الخير، عصام الدين طاشكبري زاده: مؤرخ ہے . تركی الأصل  ہے اور شهر بروسيا تركيه  میں پیدا ہوا ہےاور انقرہ میں اس نے زندگی گزاری ہے.وہ ترکی کے مختلف شہروں میں   فقه و حديث و علوم عربی  کے  مدرّسِ  تھے اور  سال 958ق میں   قسطنطنيه میں قضاوت میں مصروف ہوگئے. (زرکلی، خیرالدین، پیشین،‌ ج1، ص257).

[20]. «اللَّهُمَّ ارحمه وَارْحَمْ وَالِدی كَمَا ربياني صَغِيرا واجمع بيني وَبَينهمَا فِي مُسْتَقر رحمتك بِحرْمَة نبيك مُحَمَّد (صلى الله عَلَيْهِ وَسلم)» (طاشكبری زاده، عصام‌الدين، الشقائق النعمانية في علماء الدولة العثمانية، ص233).

[21]. «مصطفى بن‌عبدالله كاتب جلبي، المعروف بالحاج خليفة. مؤرخ بحّاثة. تركي الأصل، مستعرب. مولده ووفاته في القسطنطنية» (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج7، ص236).

[22]. «يحمي أعراضنا عن ناره الموقدة بحرمة أمين وحيه» (حاجی خلیفه، كشف الظنون، ج2، ص2054).

[23]. حسن بن‌عمار بن‌علی شرنبلالی مصری. فقيه حنفی. وہ اپنے والد کے ساتھ قاہرہ چلے گئے اور ازہر میں تحصیل میں مشغول ہوگئے اور مفتی بن گئے (‌ زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج2، ص208).

[24]. طحطاوی، أحمد، مراقي الفلاح شرح متن نور الإيضاح، ج1، ص212.

[25]. «أحمد بن‌محمد بن‌عمر، شهاب‌الدين الخفاجي المصري: قاضي القضاة وصاحب التصانيف في الأدب واللغة» (زرکلی، خیرالدین، پیشین،‌ ج1، ص238).

[26]. خفاجی، شهاب‌الدین، عِنَايةُ القَاضِى وكِفَايةُ الرَّاضِى، ج2، ص201.

[27]. «عبدالرحمن بن‌محمد بن‌سليمان، المعروف بشيخي زاده ويقال له الدّاماد. فقيه حنفي، من أهل كليبولي (بتركيا) من قضاة الجيش» (زرکلی، خیرالدین، ‌ پیشین، ج3، ص332).

[28]. کلیبولی، عبدالرحمن، مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، ج2، ص198.

[29]. علاءالدين محمد بن‌علی بن‌محمد حصنی حصفكی اپنے زمانے میں دمشق کے مفتی اور حنفی بزرگ تھے.

.[30] «فَنَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى التَّوْفِيقَ وَالْقَبُولَ، بِجَاهِ الرَّسُولِ» (ابن‌عابدین، محمد امین، رد المحتار على الدر المختار، ج1، ص78).

[31]. «إسماعيل حقي بن‌مصطفى الإسلامبولي الحنفي الخلوتي، المولى أبو الفداء. وہ  متصوف ،مفسر اور  اهل تركيه ہے » (‌ زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج1، ص313).

[32]. تفسير روح البيان، ج7، ص179. درباره توسل حضرت آدم به حق پيامبر اسلام. ر.ک: همان، ج1، ص113؛ ج2، ص370؛ ج3، ص495؛ ج4، ص291و391؛ ج5، ص439؛ ج7، ص230؛ ج9، ص9.

[33]. «احمد بن محمد بن إسماعيل طحطاوی. فقيه حنفي. اس نے ازہر میں تعلیم حاصل کی اور قاہرہ میں اس دنیا  سے چلے گئے اور اس کتاب   حاشية الدر المختار  کے مولف مشهور  ہوگئے(زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج1، ص245).

[34]. «ختم به لما ورد توسلوا بجاهي فإن جاهي عند الله عظيم» (طحطاوی، احمد، پیشین، ج1، ص547).

[35]. محمد امين بن‌عمر بن‌عبدالعزيز عابدين دمشقي. سرزمين شام   میں یہ فقیہ تھے  اور اپنے زمانے  میں حنفیوں کے امام تھے  (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج6، ص42).

.[36] «وغفر لهم ولأولاده ولمشايخه ولمن له حق عليه بجاه سيد الأنبياء والمرسلين» (ابن‌عابدین، محمد امین، پیشین، ج8، ص511).

[37]. همو، إجابة الغوث، ص77.

[38]. شهاب الدين محمود بن‌عبدالله حسينی فقيه ومفسر و محدث معروف حنفی است. وی در بغداد به‌دنيا آمد.

[39]. «أنا لا أرى بأساً في التوسل إلى الله تعالى بجاه النبي (صلّى الله عليه وسلّم) عند الله تعالى حياً وميتاً» (آلوسی، محمود، روح المعانی، ج3، ص297).

[40]. «محمد خليل بن‌علي بن‌محمد بن‌محمد مراد حسيني، أبو الفضل.شام کے  مورخ و مفتي تھے . وہ دمشق میں پیدا ہوئے اور حلب میں دنیا سے چلے گئے» (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج6، ص118).

[41]. «فنتوجه اللهم إليك به إذ هو الوسيلة العظمى لمن استمسك بسببه أن تصلي عليه» (مرادالحسینی، محمد خلیل، سلك الدرر في أعيان القرن الثاني عشر، ج1، ص2).

[42]. «عبدالرحمن بن‌حسن الجبرتی: مؤرخ مصر، ومدوّن وقائعها وسير رجالها، في عصره.ولد في القاهرة وتعلم في الأزهر» (زرکلی، خیرالدین،  پیشین،  ج3، ص304).

.[43] «يتوسل إليه في ذلك بمحمد (صلى الله عليه وسلم)؛ لأنه الواسطة بينه وبين خلقه» (جبرتی، عبدالرحمن، تاريخ عجائب الآثار في التراجم والأخبار، ج1، ص 344).

[44]. «أحمد عارف حكمت بن إبراهيم بن عصمت بن إسماعيل رائف باشا، قاض، تركي المنشأ، مستعرب. تقلد قضاء القدس، ثم قضاء مصر، فقضاء المدينة المنورة» (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج1، ص141).

[45]. «فأيد اللهم هذا السلطان الرحيم ... بجاه سيد المرسلين، وخاتم النبيين» (میدانی، عبدالرزاق، حلية البشر في تاريخ القرن الثالث عشر، ص146).

[46]. خليل احمد سهارنپوری دیوبند کے معروف چہروں میں سے ہے ۔اس کا تعلق سہار  نپور ہندوستان سے  ہے . دو كتاب المهند علی المفند، و بذل المجهود فی حل ابی داود اس کی معروف کتا بوں میں سے ہیں .

[47]. «عندنا و عند مشائخنا يجوز التوسل في الدعوات بالأنبياء و الصالحين من الأولياء و الشهداء و الصديقين في حياتهم و بعد وفاتهم بأن يقول في دعائه. اللهم إني أتوسل إليك بفلان أن تجيب دعوتي و تقضي حاجتي...» (المهند علی المفند، ص86).

[48]. محمد انور بن‌معظم شاه برصغیر کے مشہور علماء میں سے تھے اور مدرسه دارالعلوم ديوبند کے بڑے اساتیذ میں سے تھے  . وہ علوم قرآن و حديث  میں فقيهی ،مجتهد اور  امام  شمار ہوتے تھے.

[49]. ر.ک: کشمیری، محمد انور، ‌فيض الباری، ج4، ص484.

[50]. محمد بن‌زاهد بن‌حسن حلمي کوثري (1296ق) وہ ترکی کے ایک  دیہات  «دوزجه»  میں پیدا  ہوئے پندرا سال کی عمر میں آستانہ آگئے اور دار الحدیث میں رہائش اختیار کی . اور  سال 1325هجری    میں جب  وہ ۲۹  سال کے تھے  اور علمی رتبے تک پہنچ چکے تھے فاتح یونیورسٹی میں تدریس میں مشغول ہوگئے  ۔  سال 1341  کے بعد مصر اور شام کے کئی سفر کئے اور سر انجام مصر   میں اس دنیا سے چلے گئے ۔ اس  کی بہت ساری تالیفات ہیں . شيخ محمد ابوزهره  کہتے ہیں : میں  ان آخری سالوں میں امام کوثری کے سوا کسی ایسے دانشمند کو نہیں  جانتا کہ جس کی موت کے ساتھ اس کی خالی جگہ پر نہ ہو۔ (کوثری، محمد زاهد، پاسخ به پندارهای توسل، ص10ـ 12).

[51]. ر.ک: ‌سبکی، تقی‌الدین، السيف الصيقل، ص115.

[52]. کوثری، محمد زاهد، محق التقول في مسألة التوسل، ص104 ـ 105.

[53]. محمد زکريا کاندهلوی از بزرگان ديوبند  «کاندهله» هند میں پیدا ہوئےوہ اپنی تحصیل کے دوران اساتیذ جیسے خلیل احمد سے مستفید ہوئے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد جامعہ مظاہر العلوم میں شیخ الحدیث کے عنوان سے تدریس میں مشغول ہوگئے.(بیان http://www.beayan.net/Forum/viewtopic.php?t=4272  )

[54]. كاندهلوی، محمد زکریا، فضائل اعمال، فضائل ذكر، ص548.

[55]. «أبوبكر بن‌مسعود بن‌أحمد الكاشاني  [أو الكاساني، يروی بكليهما]،  علاء الدين. فقيه حنفي، من أهل حلب.توفي في حلب» (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج2، ص70).

[56]. کاشانی، علاءالدین، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج5، ص126.

[57]. «مرغيناني العلامة، عالم ما وراء النهر، برهان الدين، أبو الحسن علي بن أبي بكر بن عبد الجليل المرغيناني الحنفي، صاحب كتابي الهداية و البداية في المذهب (ذهبی، شمس‌الدین، سير أعلام النبلاء، ج15، ص386).

[58]. فرغانی، علی بن‌أبی‌بکر، بداية المبتدي، ج1، ص224.

[59]. «محمد بن فرامرز بن علي، المعروف بملّا أو منلا أو المولى خسرو. عالم بفقه الحنفية والأصول.رومي الأصل. فتبحر في علوم المعقول والمنقول» (زرکلی، خیرالدین، ‌پیشین، ج6، ص328).

[60]. ملاخسرو، محمد بن‌فرامرز، درر الحكام شرح غرر الأحكام، ج1، ص321.

[61]. شيخ نظام  اور ہندی علماء کا ایک گروپ ، الفتاوى الهندية في مذهب الإمام الأعظم أبي حنيفة النعمان، ج5، ص318.یہ کتاب فقہی احکام کا ایک مجموعہ ہے جو کہ حفی مذہب سے لیا گیا ہے  . الفتاوى الهندية  شیخ نظام الدین بلخی کی ریاست میں علماے ہند کے ایک گروہ کی کوشش سے بادشاہ ہند  ابوالمظفر محى‏الدينÛ Üاورنگ زيب کے حکم سے  تالیف ہوئی تاکہ لوگ  مذہب حنفی میں   روايات صحيح و اقوال مورد اعتماد و راجح  تک رسائی حاصل کر سکیں . تمام مولفین ملتزم تھے کہ جو عبارات وہ مختلف کتابوں سے نقل کررہے ہیں  مستند ہوں اور کتابوں کا نام بھی ذکر کریں . یہ  كتاب مذہب حنفی  کی   مشهورترين كتب مطول فقهى   میں سے ہے اور کچھ ایسے احکام پر مشتمل ہے جوکہ دوسری کتابوں میں نہیں پائے جاتے.ہند کے تقریبا ۲۳ بڑے علما نے اس کتاب کی تدوین میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔  (ضمیری، محمدرضا، كتاب‌شناسى تفصيلى مذاهب اسلامى، ص64).

[62]. ابن‌عبدالوهاب، محمد، كشف الشبهات، ص3ـ 4.

[63]. عبدالله بن‌احمد بن‌محمود نسفي، ابوالبركات، مفسر، متكلم، اصولی، حنفی فقہا میں سے ہے ، اهل ايذه  ہے ،خوزستان و  اصفهان کے درمیان  ایک شہر ہے   اور اسی شہر میں وفات پاگئے .  http://fa.wikipedia.org

[64]. سوره نساء(4)، آیه 64.

[65]. نسفی، ابوالبرکات، تفسير النسفی، ج1، ص370.

[66]. «ذكر بعض العارفين أن الأدب في التوسل أن يتوسل بالصاحبين إلى الرسول الأكرم (صلى الله عليه وسلم)» (طحطاوی، احمد، حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ج1، ص551).

[67]. محمدحسن خان سرهندی در سال 1278ق  میں  قندہار میں پیدا ہوئے .  زیارت اور کسب علم کی غرض سے اس نے حرمین شرفین کا سفر کیا  اور اساتید سے جیسے شیخ  زینی  دحلان اور شیخ رحمۃ اللہ مہاجر ہندی  سے کسب فیض کیا ۔محمد حسن خان . محمدحسن خان  شيخ احمد سرهندی مجدد الف ثانی کے فرزندوں میں سے تھے  (سرهندی مجددی، مولانا حسن خان، گفتمانی در نقد وهابيت، ص9ـ10) .

[68]. سرهندی مجددی، مولانا حسن خان، الأصول الأربعة في ترديد الوهابية، ص9ـ10. اس  كتاب  پر مولانا عبدالباقی همايونی، قاضی ايالت سند و بلوچستان، و مولانا محمدحسن جان كتباری، مفتی بلوچستان، و مولانا محمد قاسم سكهروی  نے تقريظ و تأیيديه  لکھی ہے.

[69].  یہ مسلمان  دانشمند  سال 1190ق  میں  پاکستان کے صوبہ سندہ میں ایک علم و فضیلت کے گھر میں پیدا ہوئے  . ان کے دادا ، علامه شيخ الاسلام محمد مراد انصاری،  نے فضيلت و دانش اس کو سکھائی .حصول علم  اور علمائے دین کی زیارت  کے واسطے اس  نے جدہ سے مکہ ، مدینہ اور طائف  بہت سارے سفر کئے،  اس نے یمن ہجرت کی تقریبا ۳۰ سال وہاں پہ رہے۔ پھر دوسری دفعہ مدینہ منورہ انہوں نے سفر کیا اور اپنے زمانے میں وہ مدینے کے علماء کے رئیس رہے۔ وہ  تا آخر عمر یہی پر رہے۔بہت سارے علمائےاہل سنت نے  از جملہ آلوسی اور شوکانی نے اس کی بڑی تعریف کی ہے  ( سندی، محمد عابد، توسل در يک نگاه، ص7ـ8؛ همو، الصارم المسلول، ص12ـ 14).

[70]. همو، توسل در يک نگاه، ص42ـ43.

[71]. «أخبرنا أبو نصر بن قتادة، وأبو بكر الفارسي قالا: أخبرنا أبو عمرو بن مطر، أخبرنا أبو بكر بن علي الذهلي، أخبرنا يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن مالِكِ قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ , فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَبْرِ النَّبِيِّ (صلى الله عليه وسلم), فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , اسْتَسْقِ لأُمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا , فَأَتَى الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ لَهُ: ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلامَ , وَأَخْبِرْهُ أَنَّكُمْ مُسْتَقِيمُونَ وَقُلْ لَهُ: عَلَيْك الْكَيْسُ , عَلَيْك الْكَيْسُ. فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَبَكَى عُمَرُ , ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ لاَ آلُو إلاَّ مَا عَجَزْت عَنْهُ؛  عمر بن‌خطاب  کے زمانے میں  ایک دفعہ  قحط سالی ہوئی. بلال بن‌حارث پیامبر(ص) اکرم کی قبر کے  كنار ے آئے اور عرض کیا : آپ  کی  امت نابود ہوگئی خدا کی بارگاہ میں باران رحمت کی دعا کرلیں ۔اس کے بعد پیامبر(ص) اس کو خواب میں آئے اور کہا: عمر کے پاس چلے جاو، اس تک میرا سلام پہنچاواور اس کو خبر دو  کہ باران رحمت ہوگی  اور اس سے کہو کہ لوگوں  پر بزل و بخشش زیادہ ہو.یہ شخص عمر کے پاس چلا گیا ۔عمر بہت رویا  کہ ہم اس سلام کے لائق نہیں تھے اور کہا مسلمانوں کی میں جتنی خدمت کرسکتا ہوں کروں گا اور اس میں کوتاہی نہیں کرونگا ۔ ابن حجر نے بھی کہا ہے  : «روى ابن أبي شيبة، بإسناد صحيح» (عسقلانی، احمد بن‌علی، فتح الباري، ج2، ص495).

[72]. قادری، محمد عاشق الرحمن، سيوف الله الأجلة و عذاب الله المجدي، ص65ـ 66.

[73]. ملازهی، محمد عمر، مجالس قطب الارشاد، ص316.

[74]. همو، توسل و ندای غير الله، ص42ـ43.

[75]. شيخ عبدالهادی الخرسه دمشق  میں پیدا ہوئے. وہ  علوم اعتقادی و علوم تربيتی و عرفانی  میں متخصص تھے   انہوں  نے شام وغیرہ سے کچھ اجازات بھی لئے تھے. http://abdalhadialkharsa.com

[76]. محمد الخرسه، عبدالهادی، ‌الإسعاد فی جواز التوسل والإستمداد، ص 28ـ29.

[77]. «وهبي سليمان غاوجي الألباني الدمشقی الحنفی، عالم دين سني سوري، ومن أبرز فقهاء الحنفية فيها».  http://fa.wikipedia.org

[78]. سندی، محمد عابد، پیشین، ص9.

[79]. عبدالله بن‌محمود بن‌مودود موصلی حنفی فقیہ اور  مذہب حنفی کے بزرگان میں سے ہے.اس کا تعلق موصل عراق سے ہے . کچھ عرصہ کوفے کا قاضی رہا پھر بغداد میں اقامت اختیار کی اور وہی پر فوت ہوگیا.  (ر.ک: زرکلی، خیرالدین، پیشین،‌ج4، ص135).

[80]. موصلی، عبدالله، الاختيار لتعليل المختار، ج1، ص189.

[81]. «محمد بن‌عبدالواحد بن‌عبدالحميد ابن‌مسعود، السيواسي ثم الاسكندري، كمال‌الدين، المعروف بابن الهمام: إمام، من علماء الحنفية. عارف بأصول الديانات والتفسير والفرائض والفقه والحساب واللغة والموسيقى والمنطق» (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج6، ص255).

[82]. ابن‌همام حنفی، فتح القدير، كِتَابُ الْحَجِّ، مَسَائِلُ مَنْثُورَةٌ، ج3، ص181.

[83]. كليبولي، عبدالرحمن، پیشین، ج1، ص313.

[84]. شيخ نظام  اور علمائے ہند کا ایک گروپ، پیشین، ج1، ص266.

[85]. رشيد احمد گنگوهی از محدثان و عرفای مجاهد هند و از مؤسسين مدرسه ديوبند بود.

[86]. مولوی عبدالرحمن ملازهی از علمای برجسته اهل‌سنت استان سيستان وبلوچستان و امام جمعه شهرستان چابهار است.

[87]. گنگوهی، رشيد احمد، زبدة المناسك، ص147.

[88]. فضائل حج، ص147، به نقل از جماعت التبليغ(في شبه القاره الهنديه)، ص233.

[89]. عبدالحميد طهمازشام کے شہر حماۃ میں پیدا ہوئے ۔اس کی بہت ساری تالیفات ہیں ان میں سے مشہور ترین تالیف تفسی موضوعی قرآن کریم ہے۔ طهماز سال 1431ق  میں  ریاض شہر میں فوت ہوگئے.

[90]. طهماز، عبدالحميد محمود، الفقه الحنفي في ثوبه الجديد، كتاب الحج، ج1، ص523.

[91]. موصلی، عبدالله، پیشین،کتاب حج، ج1، ص189.

[92]. «محمد بن‌أحمد بن‌الضياء محمد القرشي العمري المكيّ، بهاء الدين أبو البقاء، المعروف بابن الضياء: فقيه حنفي. ولد وتوفي بمكة». (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج5، ص332).

[93]. قرشی عمری، محمد، تاريخ مكة المشرفة والمسجد الحرام والمدينة الشريفة والقبر الشريف، ص345.

[94]. شيخ نظام و گروهی از علمای هند، پیشین،خَاتِمَةٌ في زِيَارَةِ قَبْرِ النبي، ج1، ص266.

[95]. گنگوهی، رشید احمد، پیشین،‌ ص149

[96]. کسی کو پکارنا اور حل مشکلات کی درخواست کرنا.

[97]. مدد مانگنا  ، اولیائے الہی کی ارواح سے مدد مانگنا بطور اعجاز و كرامت.

[98].ابن‌عبدالوهاب، محمد، مؤلفات الشیخ محمد بن‌عبدالوهاب، ج1، ص192.

[99]. عبدالحق محدث دهلوی فقيه حنفی اهل دهلی هند و ہ پہلا شخص ہےکہ جس نے ہند میں  علم حدیث کی ترویج کی۔اس نے چار سال حرمین شریفین میں زندگی گزاری اور وہاں کے علما سے استفادہ کیا ۔اس کے نظریات دیوبند اور بریلوی  علماء کی  توجہ کا مورد ہیں   (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج3، ص281ـ 282)

[100]. محدث دهلوی، عبدالحق، اشعة اللمعات، ج3، كتاب جنائز، ص237ـ 238.

[101]. «محمد بن‌محمد بن‌مصطفى بن‌عثمان، أبوسعيد خادمي. فقيه اصولی، از علمای حنفی. بخارا سے ان کا تعلق ہےاس کا محل تولد اور وفات  ایک دیہات  (خادم) ہے  ،قونیہ  کے توابع میں سے تھے » (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج7، ص68).

[102]. «وَيَجُوزُ التَّوَسُّلُ إلَى اللَّهِ تَعَالَى وَالِاسْتِغَاثَةُ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ؛ لِأَنَّ الْمُعْجِزَةَ وَالْكَرَامَةَ لَا تَنْقَطِعُ بِمَوْتِهِمْ. وَعَنْ الرَّمْلِيِّ أَيْضًا بِعَدَمِ انْقِطَاعِ الْكَرَامَةِ بِالْمَوْتِ، وَعَنْ إمَامِ الْحَرَمَيْنِ: وَلَا يُنْكِرُ الْكَرَامَةَ وَلَوْ بَعْدَ الْمَوْتِ إلَّا رَافِضِيٌّ وَعَنْ الْأُجْهُورِيِّ الْوَلِيُّ فِي الدُّنْيَا كَالسَّيْفِ فِي غِمْدِهِ. فَإِذَا مَاتَ تَجَرَّدَ مِنْهُ فَيَكُونُ أَقْوَى فِي التَّصَرُّفِ. كَذَا نُقِلَ عَنْ نُورِ الْهِدَايَةِ لِأَبِي عَلِيٍّ السِّنْجِيِّ» (خادمی، ابوسعيد محمد بن محمد، بريقة محمودية، ج1، ص 203، الْبَابُ الثَّانِي فِي الْأُمُورِ الْمُهِمَّةِ،الفصل الأول في تصحیح الاعتقاد؛ کوثری، محمد زاهد، إرغام المريد في شرح النظم العتيد لتوسل المريد، ص21ـ 22).

[103]. «و ما نقل عن المشايخ و المكاشفين في الاستمداد من ارواح المكمل و استفادتهم منهم فخارج عن الحصر مذكور في كتبهم، مشهور بينهم». کوثری، محمد زاهد، حول التوسل و الاستغاثه، ص198).

[104]. فضل الرسول قادری بدايونی ہندی علماء میں سے ہے اور  مختلف موضوعات میں خاص طور پر کلام اور عقائد میں بہت ساری کتابوں کا مالک ہے  ۔

[105]. قادری، شاه فضل رسول، سيف الجبّار، ص16.

[106]. احمدرضا بَریلوی، ملقب به عبدالمصطفی،  برصغیر کے  عرفا و دانشمندان اور  مؤلفین  میں سے ہے اور ہندستان میں مکتب بریلوی کا بانی ہے.

[107]. سوره مائده(5)، آیه 35.

[108]. سوره نساء(4)، آیه 64.

[109]. حنفی قادری، احمد رضا خان، استعانت از محبوبان خدا، ص44.

[110]. البوسياء: جمع البئيس و هو الشجاع، و المقصود به سيدنا الإمام علي (كرم الله وجهه).

[111]. بريلوی، احمد رضاخان، المنظومه السلاميه في مدح خير البريه، ص130.

[112]. حاکم نيشابوري و ديگران نے  بن‌ابی‌صالح سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: «أقبل مروان يوما فوجد رجلاً واضعاً وجهه على القبر فأخذ برقبته و قال: أتدري ما تصنع؟ قال: نعم. فأقبل عليه فإذا هو أبو أيوب الأنصاري (رضي الله عنه) فقال: جئت رسول الله (صلى الله عليه و سلم) و لم آت الحجر سمعت رسول الله (صلى الله عليه و سلم) يقول: لا Û Üتبكوا على الدين إذا وليه أهله و لكن ابكوا عليه إذا وليه غير أهله. هذا حديث صحيح الإسناد و لم يخرجاه تعليق الذهبي في التلخيص: صحيح ؛  ایک دن مروان پیامبر(ص) کی قبر پر آیا تو دیکھا کہ ایک  شخص  نے اپنا چہرہ  قبر کے اوپر رکھا ہے ۔مروان نے اس کی گردن پکڑ لی  اور اس سے کہا کیا تو جانتا ہے کہ تو کیا کررہا ہے۔ اس نے جواب دیا ؛جی ۔ مروان متوجہ ہوا کہ وہ ابو ایوب انصاری  ہے۔پس کہا: میں  رسول الله (صلى الله عليه و سلم) کے پاس آیا ہوں  میں اس پتھر کے پاس نہیں آیا ،   میں نے رسول اللہ سے سنا ہے  وہ فرماتے تھے : دین پر گریہ مت کرو  اگر کوئی مناسب شخص اس کا متولی ہو، لیکن دین پر گریہ کرو جب ایک نااہل شخص اس کا متولی ہو  (حاکم نیشابوری، محمد، مستدرك علی الصحيحين، ج4، ص560).

[113]. وہ کہتا ہے : «از امام شافعى (رحمة الله عليه)  سے روایت ہے کہ وہ فرماتے تھے  : قبر موسى الكاظم ترياق مجر لاجابة الدعاء اشعة اللمعات وغيره. امام شافعى کی یہ روایت  غیر مقلدین کی طبعت پر سخت گزری  کہ وہ کس طرح  سے پوری  شان و شوکت سے یہ فرماتے ہیں۔  کیا وہ نہیں جانتے تھے  کہ وہ ہمیشہ صلحا کی قبور سے توسل و تشفع کرتے تھے  خاص طور پر امام ابو حنیفہ کی قبر سے ۔ چنانچه علامه عزالدين بن‌جماعه محدث نے  اپنی کتاب  انس المحاضره  میں  اسی طرح  امام موفق بن احمد مكى نے   مناقب امام ابوحنيفه صفحۀ   199 میں ذكر کیا ہے. (سرهندی مجددی، محمدحسن خان، الأصول الأربعة في ترديد الوهابية، ص35).

[114]. سرهندی مجددی، محمدحسن خان، دوبارہ، ص37.

[115]. «محمد بخيت بن‌حسين المطيعي الحنفي. مفتي الديار المصرية، ومن كبار فقهائها. ولد في بلدة المطيعة من أعمال أسيوط. وتعلم في الأزهر، واشتغل بالتدريس فيه. وانتقل إلى القضاء الشرعي سنة 1297» (زرکلی، خیرالدین، پیشین، ج6، ص50).

[116]. «يجوز أن تتوسط روح ميت في قضاء مصلحة حي أو ميت والفعل لله وحده» (حنفی، محمد بخیت، تطهير الفؤاد من دنس الاعتقاد، ص15).

[117]. شبير احمد بن‌فضل الرحمن عثمانی  سال   1305 میں ہندستان میں پیدا ہوئے .وہ دیوبند کے بزرگوں میں  سے تھے ۔  سال 1936م  میں وہ   رئيس المدرسين دارالعلوم ديوبند منتخب ہوگئے. تفسير عثمانی و فتح الملهم اس کی مشہور کتابوں میں سے ہے۔ (ارشد، عبدالرشید، بزرگ مردان انديشه و تاريخ، ج1، ص133و136).

[118]. سوره فاتحه(1)، آیه 5.

[119]. «قال في تفسير قوله تعالى (إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ): علم من هذه الآية الشريفة أنه لا يجوز الاستمداد في الحقيقة من غير الله، ولكن إذا جعل شخص مقبول واسطة لرحمة الله، ويطلب منه العون على اعتقاد أنه غير مستقل في الإعانة، فهذا جايز؛ لأن هذه الاستعانة بهذا الولي في الحقيقة استعانة بالله تعالى» (تفسیر العثمانی به نقل از: افغانی، شمس الدین، جهود علماء الحنفية، ج2، ص787).

[120]. رسول خدا فرماتے ہیں : «إِنَّ الشَّمْس تَدْنُو حَتَّى يَبْلُغ الْعَرَق نِصْف الْأُذُن، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ اِسْتَغَاثُوا بِآدَم ثُمَّ بِمُوسَى ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ فَيَشْفَع لِيُقْضَى بَيْن الْخَلْق» (عسقلانی، احمد بن‌علی، ‌ فتح الباری، ج11، ص438).

[121] «لا بأس أن نزيد هنا كلمة في الاستغاثة والاستعانة، والكل من واد واحد ففي حديث الشفاعة عند البخاري بآدم ثم بموسى ثم بمحمد (صلى الله عليه و سلم) وهذا يدل على جواز استعمال الإستغاثة في صدد التوسل» (محق التقوّل في مسألة التوسل، ص145) اور  كتاب إرغام المريد في شرح النظم العتيد لتوسل المريد، ص22ـ23 میں استغاثہ کے بارے میں کچھ مطالب بیان کئے ہیں ۔

[122]. مناظر احسن كيلانی علمائے  دیوبند میں سے تھے   اور   محمد انور شاه كشميری و شبير احمد عثمانی و غيره  کے شاگردوں میں سے تھے . (الرحمن، سید طالب، عقائد علماء الديوبنديه، ص22).

[123]. «فلسنا ننكر الاستغاثه بأرواح المشايخ» (سوانح قاسمي، ج1، ص332، به نقل از: الرحمن، سید طالب، پیشین، ص22).

[124]. سید احمدسعید کاظمی برصغیر کے  بریلوی بزرگان میں سے ہے. اسے زمانے کے غزالی کا لقب دیا گیا ہے.

[125]. مقالات کاظمی حصه سوم، شماره 1، به‌نام توحید و شرک مطبوعه بزم سعید ملتان به نقل از توحید و شرک تحریر مستدل از قرآن و سنت، ص 75ـ 78.

[126]. قادری، محمد عاشق الرحمن، پیشین، ص14.

[127]. مفتی محمد عبدالقیوم قادری هزاروی برصغیر کے بریلوی علماء میں سے ہے.

[128]. هزاروی، محمد عبدالقیوم، عقاید اهل سنت و جماعت، ص10.

[129]. وهبی سليمان غاوجی ألبانی دمشقی حنفی، شام کے علماء میں سے ،  اور  مهم‌ترین  حنفی عماء میں سے.  http://fa.wikipedia.org

[130]. کوثری، محمد زاهد، پیشین، ص100.

[131]. عبدالرحمن آخوند تنگلی صوبہ گلستان کے علماء میں سے ہے .۷۰ سے زیادہ اس کی کتابیں  اور رسالے اس وقت موجود ہیں ۔

[132]. «الاقتصادُ اَن یستغیثَ باَحباب الله تعالی من الانبیاء و الاولیآءِ علی أنّهم هم المخلوقون الوُسطاءُ بینه و بین الله تعالی و الوجهاءُ عند ربهم» (ر.ك: آخوند تنگلی، حاج عبدالرحمن، لزوم الاقتصاد في العمل و الاعتقاد، ص2ـ 18).اس کی ایک اور کتاب تحت عنوان هدايت الخلق الی سبيل الحق توسل کی تائید میں موجود ہے.

[133]. العثیمین، محمد بن‌صالح، پیشین، ج2، ص229.

[134]. ابن‌عابدین، محمد امین، رد المحتار على الدر المختار، ج1، ص58.

[135]. المهند کے تصديق‌كنندگان: برصغیر کے علماء: 1. مولانا محمود الحسن؛ 2. مولانا حاج مير احمد حسن امروهوی؛ 3. مولانا عزيز الرحمن؛ 4. حكيم الامت مولانا اشرف علي تهانوی؛ 5. مولانا الحاج سيد عبدالرحيم رای پوری؛ 6. مولانا الحاج حكيم محمد حسن؛ 7. مولانا الحاج قدرت الله مرادآبادی؛ 8. مولانا حبيب الرحمن؛ 9. محمد احمد فرزند حجة الاسلام مولانا نانوتوی؛ 10. مولانا حاج غلام رسول؛ 11. مولانا محمد سهول؛ 12. مولانا عبدالصمد بجنوری؛ 13. محمد اسحاق دهلوی؛ 14. مولانا حاج رياض الدين؛ 15. مولانا مفتی كفايت الله؛ 16. مولانا ضياء الحق؛ 18. مولانا محمدعاشق الهی؛ 19. سراج احمد ميرتهی؛ 20. مولانا محمد اسحاق؛Û  Ü21. مولانا حاج محمد مسعود احمد فرزند مولانا گنگوهی؛ 22. مولانا محمد يحيی سهارنپوری؛ 23. مولانا كفايت الله سهارنپوری.

حرمین کے علماء کے نام : 1. شيخ مولانا محمد سعيد بابصيل شافعي شيخ العلماء مكه؛ 2. مولانا شيخ احمد رشيد حنفی؛ 3. شيخ محب الله مهاجر مكی؛ 4. مفتی محمد عابد مالكی مفتی مذهب مالكی؛ 5. شيخ محمد صديق افغانی مهاجر مكی؛ 6. مولانا مفتی سيد احمد برزنجی شافعی؛ 7. رسوحی عمر؛ 9. ملا محمد خان بخاری حنفی؛ 10. خليل بن‌ابراهيم؛ 11. محمد عزيز تونسی؛ 12. محمد سوس خيازی؛ 13. السيد احمد جزايری؛ 14. عمر بن‌حمدان محرسی؛ 15. محمد زكي البرزنجی؛ 16. احمد بن ميمون البلغيش؛ 17. موسی كاظم بن‌محمد؛ 18. سيد احمد معصوم؛ 19. حاج احمد بن‌محمد عباسی؛ 20. عبدالقادر بن‌محمد بن‌سوده العرس وليه؛ 21. محمد منصور نعمان؛ 22. ملا عبدالرحمن ؛ 23. محمود عبدالجواد؛ 24. احمد استاد حرم نبوی؛ 25.محمد حسن سندهی؛ 26. عبدالله النابلسی؛ 27. محمد بن‌عمر الفلانی؛ 28. احمد بن‌احمد اسعد؛ 29. شيخ ياسين دمشقی؛ 30. شيخ احمد بن‌احمد شنقيطی مالكی.

 جامعه الازهر مصر و سوريه اور دوسرے ملکوں کے علماء کے نام: 1. شيخ سليم بشری، شيخ الجامعه الازهر مصر؛ 2. شيخ محمد ابراهيم قايانی؛ 3. سليمان العبد، الازهر مصر؛ 4. شيخ محمد بن‌احمد بن‌عبدالغنی بن‌عمر عابدين شامی دمشقی؛ 5. شيخ محمود رشيد عطار؛ 7. شيخ محمد بوشی حموی ازهری، سوريه؛ 8. شيخ محمد سعيد حموی ازهری؛ 9. شيخ علی بن‌محمد دلال حموی، سوريه؛ 11. شيخ عبدالقادر شامی؛ 12. شيخ محمد سعيد لطفی حنفی شامی؛ 13. شيخ فرس بن‌احمد شفقه حموی شامی؛ 14. شيخ مصطفي الحداد شامی.

[136]. «و أما الاستفادة من روحانية المشايخ الأجلة  و وصول الفيوض الباطنية من صدورهم أو قبورهم فيصح على الطريقة المعروفة في أهلها و خواصِها لا بما هو شائع في العوام» (سهارنپوی، خلیل احمد، عقائد علماء أهل السنة الدیوبندیة (المهند علی المفند)، ص55).

[137]. «بأن الاستفاضه من اهل القبور تجوز لكونها ثابتة عند أرباب الحقائق الصوفيه» (فيض الباري، ج3، ص434، به نقل از: افغانی، شمس‌الدین، پیشین، ج2، ص786).

[138]. «من جعل بينه وبين الله وسائط يدعوهم ويسألهم الشفاعة كفر إجماعاً» (ابن‌عبدالوهاب، محمد، مؤلفات الشيخ الإمام محمد بن‌عبدالوهاب، ج1، ص112).

[139]. أبشيهي، شهاب‌الدين محمد، المستطرف في كل فن مستظرف، ج1، ص493.

[140]. «ينبغي للزائر أن يكثر من الدعاء والتضرع والاستغاثة والتشفع والتوسل به (صلى الله عليه وسلم)» (الرحمن، محمد عاشق، پیشین، ص87 ـ 88).

[141]. مولوی محمد عمر ملازهی صوبہ  سيستان وبلوچستان  کے اہل سنت عماء میں سے ہے اور حوزه علميه منبع العلوم كوه ون کا بانی ہے.

[142]. ملازهی، محمد عمر، فتاوای منبع العلوم، ج1، ص277.

[143]. مولوی عبدالرحمن ملازهی  صوبہ سيستان وبلوچستان  کے اہل سنت علماء میں سے ہے اور چابهار شہر  کا امام جمعہ ہے .

[144]. یہ  شعر ۱۳۸۹ میں  مذاهب اسلامی  کانفرنس چابہار میں پڑھا گیا تھا.

[145]. سوره نساء(4)، آیه 64.

[146]. موصلی حنفی، عبدالله، پیشین، ج1، ص189.

[147]. قرشی عمری، محمد، پیشین،‌ ص344.

[148]. شرنبلالی، حسن بن‌عمار، نور الإيضاح و نجاة الأرواح، ص155.

[149]. حلبی، الحاجة نجاح، ‌ فقه العبادات على المذهب الحنفي، ص270.

[150]. طهماز، عبدالحمید محمود، پیشین،كتاب الحج، ج1، ص523.

[151]. شيخ نظام و گروهی از علمای هند، پیشین، ج1، ص266.

[152]. گنگوهی، رشید احمد، پیشین، ص149.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ