انسان ضعیف ، قصور  اور گناہ گار  ہوتے ہیں  اسی لیئے کمال کی منزل تک پہنجنے  کے لئے  اور اللہ سے رابطہ حاصل کرنے کے لئے  اور اپنی حاجت  پورا کرنے کے لئے  نیک بندوں اور اولیاء الٰہی کے  ذریعہ  کو شش  کرنا چاہئے اللہ  اور خود کے درمیان ان  کو   واسطہ قرار  دینا   چاہئیے   تا کہ جلد ہی نتیجہ حاصل ہوجایے۔  قرآن کریم نے بھی اسی کی طرف دعوت دی ہے لیکن کچھ  لوگ توسلات کے حدود اور اقسام کو بیان کرنے میں خطا کی ہے آسانی سے  دوسرے مسلمانوں پر شرک کی تھمت لگا تے  ہیں اسی لئے  توسل کی حقیقت کو کشف کرنے کے لئے  اور اسکی مشروعیت کو ثابت کرنے کے  لئے ضروری ہے کہ ہم ائمہ معصومینؑ(جو کہ توحید میں فنا  اور ہر قسم کی شرک سے بری  ہیں)کی  سیرت پر نظر ڈالیں تا کہ ہمیں معلوم ہوجائیں کہ معصومین نے کس حد تک توسل کو قبول کیا ہے اس مقالہ میں ائمہ معصومین(جو کہ وارثان علم ہے ) کی سیرت پر  تحقیق کر کے  اور انکے سیرت کا کچھ نمونہ بیان کرتا ہوں۔
مصنف :  مجید حیدری  آذر؛ مترجم : سید اعجاز موسوی

 مقدمہ

ایک اہم مسئلہ جو کہ آخری صدی میں مسلمانوں کے درمیان  مطرح ہوا ہے وہ توسل اور اسکی رابطہ توحید عبادی کے بارے میں ہے  جو کہ  گذشتہ صدیوں میں مسلمانوں کے درمیان  اس موضوع پر بہت کم بحث ہوتے تھے کیونکہ تمام مسلمانوں  نے ایک طرح سے توسل  کوقبول کر لیا تھا یا کراہت کی حد تک یا فقھی حکم کی حد تک بحث کرتے تھے لیکن آخری صدیوں میں وہابیت دنیا میں گسترش پایا اور توسل کی حکم کو فقہی حکم سے بڑھ کراعتقادی حکم اور شرک اور کفر  تک   پہنچا دیا ۔ یہ لوگ کہتے ہیں  کہ توسل عبادت غیر خدا ہے اسی لئے غیر خدا  سے مدد مانگنا  شرک ہے ۔اسی لئے تو ضرور ہے توسل کے مسئلہ کو مختلف پہلو   سےبحث کیا جائے ۔اس آرٹیکل توسل میں اہل البیت کی سیرت   کیا تھی اس پر بحث کروںگا ۔

نیک بندوں سے  اور اولیاٰء الٰہی سے توسل کرنا حضرت آدم کے زمانے سے آج تک لوگوں کے درمیان رواج ہے قرآن  نےبھی ا کی طرف دعوت  کی ہے [1]شیعہ اور سنی سے بہت سے روایات نقل ہوے   ہیں جو توسل کی جوازیت کو ثابت کرتے  ہیں جیسا  کہ عثمان بن حنیف کی روایت ،ایک نابینا شخص پیامبر اکرم کی خدمت میں آ کر      پیامبر گرامی سے تقاضا کرتا ہے کہ   انہیں شفا ءدے اور حضور نے اسکو  اس دعا  کی تعلیم دی کہ اسکو  پڑھیں:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَ أَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضِي لِي اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ؛[2]

 اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری طرف نبی رحمت محمد ﷺ کے وسیلہ سے متوجہ ہوتا ہوں۔یا محمد  میں آپ کے وسیلہ سے اپنی رب کی طرف توجہ کرتاہوں تاکہ یہ حاجت پوری ہوجائے  آپ میری حاجت کو  پورا کردے  اے اللہ میرے حق میں حضور کی شفاعت قبول فرماء۔

اور بھی بہت سے مقام ہیں  جہاں صحابہ، تابعین اور بزرگان اہل سنت سے توسل کے بارے میں نقل ہوا ہے لیکن آٹھویں صدی کے بعد ابن تیمیہ اور اسکے بعد محمد بن عبدالوہاب اور اسکے پیروان نے توسلات کی جائز  ہونے کی دا ئرہ  کو محدود کر دیا اور توسل کے کچھ اقسام کو شرک کے برابر سمجے اسی لئے اس مقالہ میں اہل البیتؑ ۔ جو کہ تمام مسلمان  انکے احترام کرتے ہیں اور شیعہ کے نظر میں آیہ تطہیر کے مطابق انہیں معصوم  سمجھتے ہیں اور حدیث ثقلین  جو کہ شیعہ اور سنی سے متواتر نقل ہوا ہے  اہل البیت ؑ قرآن کے  برابر ہیں  اور قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے اہل البیت         ؑ      قرآن کے        واقعی مفسر ہیں  اور ہر قسم کی شرک انکے اعمال، رفتار اور تائیدات میں تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ اہل البیت ؑکے کچھ افراد اصحاب میں سے تھے اور سنت صحابہ، اہل سنت کے درمیان ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور اسی طرح اہل البیت ؑکے کچھ ذات اہل سنت کے فقہی ائمہ کے استاد میں شمار ہوتے ہیں بطور کلی یہ سب لوگ اپنے زمانہ کے پرہیزگاروں  اور موحدین میں گنا جاتے  ہیں  عامہ اور خاصہ کے درمیان  ایک خاص تقدس اور ایک خاص مقام رکھتے تھے  اسی لئے  انکے کردار اور تائیدات حق اور باطل کا معیار بن سکتا ہے اور جو شرک کا تہمت عاملین توسل پر لگا ہے توسل میں اہل البیت سیرت سے اس تہمت کو رفع کرسکتا ہے ۔

توسل کے کئی  اقسام ہوتے ہیں

 1۔ ذات، اسما  ء اور صفات الٰہی سے توسل کرنا،
2۔ پیامبر اکرم،انکی جاہ ، مقام اور حق سے توسل کرنا             
3۔ ا ولیاء اور صالحین سے توسل کرنا                
4۔ قرآن سے توسل کرنا                
5۔ ایمان اور عمل صالح سے توسل کرنا ،۔۔۔۔۔۔

اہل البیت نے ذات،صفات اور اسماء الٰہی سے بھی توسل کئے  ہیں  انکی  دعا اور مناجات اس قسم کی توسل سے بھرے ہوئے ہیں

جیسے دعاے کمیل ، دعاے سحر، جوشن کبیر،دعاے سمات اور صحیفہ سجادیہ کی دعاؤں  میں  پائے جاتے  ہیں ۔ اس قسم کی  توسلات ائمہ معصومین سے تفصیل کے ساتھ  موجود ہے  اور  یہ توسلات  خدا شناسی اور توحید کی تعلیم سے بھرے ہوے  ہیں اور اسکے لئے ایک علیٰحدہ بحث کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اہل البیت ؑپیامبر اکرم کے جاہ اور مقام سے اور ایک دوسرے سے بھی توسل کرتے تھے اور قرآن مجید اور تربت حسینی سے بھی توسل کرتے تھے اس قسم کے توسل کے بارے میں بحث کیا جائے گا

اہل البیت نے کبھی توسل کو عبادت کا معنی نہیں لیا      بلکہ توسل کو اللہ سے مدد مانگنے کے لئے اور اسے تقرب حاصل کرنے کے لئے ( کہ عین توحید عبادی  ہے ) معرفی کیا ہے ۔

توسل حضرت علیؑ  کی سیرت میں

بدون  شک حضرت علی ؑ   دین کے تمام شعبوں   اور  تمام دستورات پر علم رکھتے تھے دوسرے لوگ  دینی تعلیم میں حضرت علی  ؑ  کے محتاج تھے  اسی لئے  اس حضرت  کے رفتار اور کردار  تمام مسلمانوں کے لئے سر مشق  بن سکتا  ہے  ۔ کیا  توسل حضرت علیؑ  کے سیرت میں تھا  ؟ اور اسکا  کیا طریقہ  تھا ۔ حضرت   علی کے سیرت کو مطالعہ کرنے سے  ہمیں یہ  ملتے ہیں کہ  مختلف طرح کی  توسل آن حضرت کے سیرت میں  تھا  جیسا  کہ   پیامبر اکرم سے توسل کرنا ، اہل البیت ؑ سے توسل کرنا ، اور   در ود شریف سے توسل لینا ۔

انکے کچھ   نمونہ  یہاں  پر ذکر کرتا ہوں :

1 :   امام صادق ؑ سے نقل ہوا  ہے کہ ایک شخص حضرت علی کی خدمت میں آکر عرض کیا  اے مولا  میرا  حاجت دیر سے قبول ہوتا ہے  تو  حضرت نے  اسکو   یہ  دعا تعلیم دی:

 ... و أتوجّه إليک بمحمد و أهل بيته  و أسألک بک و بهم، أن تصلّی علی محمّد و آل محمّد و أن تفعل بي...؛[3]

محمد اور آل محمد کے وسیلے  سے آپ کی بارگاہ  میں  متوجہ ہوا  ہوں  آپ سے   اور ان سے  متوسل ہو کر  آپ سے التجا  کرتا ہوں کہ   محمد اور آل محمد پر   رحمت نازل  فرماء   اور میرے ساتھ ایسا کر دے ۔

یہ دعا  دعای سریع  الاجابت سے معروف ہے اس دعا میں یہ تعلیم دی  ہے  کہ  دعا  کو جلدی  قبول ہونےکے لئے   محمدؐ اور  آل محمد کو  واسطہ قرار دینا  چاہئے ۔ اس عبارت «أسألک بک و بهم»  کے سیاق عطف   سے یہ بیان کرنا چاہتا ہے  محمد اور آل محمد  اللہ  کی بارگاہ میں  بڑی  شرف اور ایک خاص مقام رکھتے ہیں اسی لئے تو  دعا جلدی قبول ہونے کے لئے   محمد اور آل محمد کو واسطہ قرار دیتا ہوں ۔

2: امام صادق سے نقل ہوا  ہے کہ حضرت علی ّ نے فرمایا : جو شخص نماز سے پہلے یہ کلمات پڑھے  تو وہ  محمدؐ اور آل محمد کے ساتھ محشور ہو جائے گا

أللّهمّ إنّي أتوجّه إليک بمحمّد و آل محمّد و أقدّمهم بين يدی صلاتي و أتقرّب بهم إليک. فاجعلني بهم وجيهاً في الدنيا و الآخرة و من المقربين...؛[4]

 اے اللہ  میں  محمد اور آل محمد کے وسیلہ سے آپ کی بارگاہ میں  متوجہ ہوتا ہوں  میں اپنی نماز سے  پہلے انکو مقدم کر دیتا ہوں اور انکے واسطہ  سے آپ سے تقرب حاصل کرنا چاہتا  ہوں  اور ان ہی کے برکت سے  مجھے دنیا  اور  آخرت میں آبرومند قرار  دے اور   میں مقربین  میں  سے قرار دے ۔

اس دعا   میں جو توجہ کرنے کی لایق ہے  وہ یہ عبارت «و أقدّمهم بين يدی صلاتي» ہے  کیونکہ انسان  ضعیف اور گناہ گار ہوتے ہیں  اسی وجہ سے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا  اور ان سے  مستقیم صحبت کرنے  کےلایق  نہیں ہوتا ۔ اسی لئے  اللہ تعالٰی نے ایک ایسا  راستہ کھولا  کہ جسکے  ذریعہ  ہم اللہ کی بارگاہ سے تقرب  حاصل کرسکتے ہیں  اور  وہ   راستہ  اہل البیت اطہار  ہے  انسان اہل البیت  اطہار کے توسل سے  اللہ  کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرے۔   نماز سے پہلے  اہل البیت سے توجہ کرنے کا فائدہ   یہ  ہے  کہ نماز میں  حضور قلب زیادہ   حاصل ہوتی ہے   علامہ مجلسی نے  اس  حدیث ( نماز مؤمن   کی معراج ہے ) کی تفسیر میں بیان کیا ہے نماز مؤمن کی  معراج ہے  اسکے  وسیلہ سے قرب الٰہی حاصل ہوتی ہے  لیکن اس مقصد  پر راہنما  کے بغیر    پہنچنا     ممکن  نہیں ہے [5]

اسی پرحضرت  علیؑ نے  ایک ایسی  دعا تعلیم دی ہے جس کے ذریعہ  گھر  کی مشکلات   اور مال اور دولت کی مشکلات  اور جو مشکلات  بادشاؤں کےذریعہ  پیش   آتے ہیں  ان کو رفع  کر سکتا  ہے  اور اس دعا میں   پیامبر گرامی  اور اہل البیت اطہار سے  توسل کیا ہے [6]

3: حضرت علیؑ نے ایک یمنی شخص کی درخواست سے ایک ایسی دعا لکھی    جو دعای یمانی سے معروف ہے اس دعا میں کئی  قسم کی توسل ذکر ہوا ہے : ایمان  اورعمل صالح سے توسل، صفات الٰہی سے توسل اور  محمد ﷺ   آل  محمد سے توسل :

فَإِنِّي‏ أَتَوَسَّلُ‏ إِلَيْكَ‏ بِتَوْحِيدِكَ‏ وَ تَمْجِيدِكَ وَ تَحْمِيدِكَ وَ تَهْلِيلِكَ وَ تَكْبِيرِكَ وَ تَعْظِيمِكَ وَ بِنُورِكَ وَ .... وَ بِمُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّاهِرِينَ أَلَّا تَحْرِمَنِي رِفْدَكَ وَ فَوَائِدَك؛[7]

 

4: نهج البلاغہ میں  حضرت علی سے  نقل ہوا  ہے :

إذا كانت لك إلى الله سبحانه حاجة فابدأ بمسألة الصلاة على رسوله (صلى الله عليه وآله) ثم سل حاجتك؛[8]

                                                                                                                                                 جب بھی آپ   اللہ کی بارگاہ  میں  کوئی  حاجت طلب کرتے ہو  تو پہلے   اسکے رسول پر  درود بھیجے  پھر اپنی حاجت کو  طلب  کرنا  

اسی  طرح اور  امیر المؤمنین  سے روایت ہوا ہے  کہ حضرت نے  فرمایا :

كلُّ دُعاء محجوب عن السّماء حتی یصلّی علی محمد و آل محمد؛[9]

 جب تک محمد اور آل محمد پر درود   نہ  بھیجے   تب تک کوئی بھی دعا  آسمان  تک نہیں پہنچتا ۔

  • سیرت حضرت فاطمه زهرا (س)

حضرت زہراؑ  نے   جو خطبہ مدینہ کی مسجد میں بیان کئ اس  میں حضرت نے فرمایا :

و احمدوا الله الذي لعظمته و نوره يبتغي من في السموات و الأرض إليه الوسيلة و نحن وسيلته في خلقه و...؛[10]

اس اللہ کا سپاس گزار  ہوں  جسکی عظمت اور نور کے لئے ، جوبھی آسمان اور  زمین  میں ہے  سب  اسکی بارگاہ  میں وسیلہ کی تلاش میں ہے  اور  ہم اللہ اور اسکے  مخلوق کے درمیان وسیلہ ہیں

حضرت زہرا ؑ  اپنی اس نورانی کلام میں  یہ بیان کی ہے   کہ کسی چیز کو وسیلہ  قرار دینا  سب لوگوں کے درمیان ایک عام   بات ہے اور اہل بیت ؑ کو  خدا  اور مخلوق کے درمیان  وسیلہ  کے عنوان سےمعرفی  کر دیا ۔ البتہ اس قسم کی توسل    میں توسل بعد ازمرگ بھی شامل ہوتا ہے ۔

سیرت امام حسینؑ علیه السلام

1:امام حسین ؑ نے دعا ی عرفہ میں   پیغبر اکرم ﷺ کی  عظیم  صفتوں کو  ذکر کرکے  آنحضرت کو واسطہ قرار دے  کر اللہ کی بارگاہ سے درخواست کر تے ہیں :

اَللّهُمَّ اِنّا نَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ في هذِهِ الْعَشِيَّةِ الَّتى شَرَّفْتَها وَ عَظَّمْتَها بِمُحَمَّد نَبِيِّكَ وَ رَسُولِكَ، وَ...؛[11]

اے اللہ اس رات میں جسکو آپ نے  شرف اور عظمت بخشا  ہےآپ   کی بارگاہ میں  آپ کے رسول  اور نبی حضرت  محمد  کو واسط قرار دے کر حاضر ہوا  ہوں ۔2: معاویہ   کےمرنے کے بعد  یزید نے حاکم مدینہ  کو  حکم دیا کہ ا مام حسین ؑ سے بیعت لے اور   بیعت نہ کرنے کی صو رت میں امام کے سر کوکاٹ کر بھیج دینا

یہ  پیشنہاد  امام کے لئے  بہت سخت ہوے     امام حسینؑ  پیامبر اکرم سے متوسل ہوےتین رات  تک پیامبر  کی قبر شریف   کی زیارت کرتے رہے تیسری رات  قبر کے پاس دو     رکعت   نماز پڑھی اور اسکے بعد یہ دعا  کی :

اَللّهُمَّ إِنَّ هذا قَبْرُ نَبِيِّكَ مُحَمَّد وَ أَنَا ابْنُ بِنْتِ مُحَمَّد وَ قَدْ حَضَرَنِي مِنَ الاَمْرِ ما قَدْ عَلِمْتَ. اَللّهُمَّ وَ إِنِّي اُحِبُّ الْمَعْروُفَ وَ أَكْرَهُ الْمُنْكَرَ، وَ اَنَا أَسْأَلُكَ يا ذَالْجَلالِ وَ الاِكْرامِ بِحَقِّ هذَا الْقَبْرِ وَ مَنْ فيهِ مَا اخْتَرْتَ مِنْ أَمْري هذا ما هُوَ لَكَ رِضىً؛[12]

اے  اللہ یہ آپ کے رسول  محمد کی قبر ہے  اور میں اسکا  نواسا  ہوں  جو  امرمجھے   پیش آیا ہے آپ اسے آگاہ  ہے   اے اللہ میں نیکیوں سے دوست رکھتا ہوں اور برائیوں سے دوری رکھتا ہوں  اے صاحب  جلال اور اکرام  آپ کی بارگاہ میں  اس قبر شریف   اور  جو اس میں دفن ہیں واسطہ قرار دیتا  ہوں میرے لئے ایک ایسا  راستہ اختیار کر لے  جس پر آپ راضی  ہو ۔

امام حسین ؑ  کی یہ عمل   زیارت اور توسل کی جواز پر تائید کرتے ہیں  اور ان لوگوں  کےلئے   عملی جواب  ہے جو  لوگ  مردگان  سے توسل کرنے پر اشکال کرتے ہیں   اور ان لوگوں کی دعوا  کو   باطل   کر دیتے  ہیں  جو لوگ کہتے  ہیں   اللہ کے نزدیک  کسی چیز یا شخص کی قسم دینا جائز نہیں ہے۔ حقیقت میں یہ ایسا حق ہے  جو اللہ تعالٰی نے انکو دیا ہے  اور  حق مطلق صرف اللہ کا ہی ہے

سیرت امام زین‌العابدین علیه السلام

 امام علی بن حسین  علیه السلام  اپنے زمانے  کی حالت  کو مد نظر  رکھ  کر  دعاؤں  اور مناجات کے ذریعہ   لوگوں  کو ہدایت اور ارشاد  فرماتے تھے   اور اسی راہ سے معارف کی تعلیم دیتے تھے  ۔   اس میں سے  کچھ  دعائیں صحیفہ سجادیہ میں  جمع آوری ہوا ہے    اس کتاب کو مطالعہ کرنے سے توسل میں امام سجاد کی سیرت  حاصل کر سکتے ہیں ۔

صحیفہ سجادیہ  سند کے لحاظ  سے  متواتر کی حد پر   ہے   پہلے سے ہی  علمای اسلام  کی نظر اس کتاب پر رہا  اور اس پربہت    سے شرح لکھی گئی ہے   ۔

طنطاوی عالم اہل سنت ، مفتی   اسکندر   صاحب کتاب  الجواہر       فی تفسیر القرآن نے   صحیفہ سجادیہ کے بارے میں یوں لکھتے ہیں :

اسکو ایک ایسا کتاب ملا  جو کہ علوم ، معارف اور حکمت   پر مشتمل  ہے  جو  کہ دوسروں میں نہیں پا ئےجاتے  ہیں  حقیقتا   ہم بد بخت ہیں کہ آج تک اس قیمتی کتاب جو کہ  نبوت اور اہل بیت ؑکا میراث  ہے اسے دور رہا ۔ جتنا  ہم اس کتاب کو مطالعہ  کریں   تو یہ نظر آئے گا کلام مخلوق سے اوپر اور کلام خالق سے نیچے ہے [13]۔

یہاں پر امام سجاد ؑکی توسلات کا کچھ نمونہ بیان  کر ونگا :

  1. 1. توسل به خدا و پیامبر و آل پیامبرﷺ:

...فَأَسْأَلُكَ بِكَ وَ بِمُحَمّدٍ وَ آلِهِ،صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِمْ، أَن لَا تَرُدّنِي خَائِباً؛[14]

میں آپ سے سوال کرتا ہوں  آپ کے واسطہ اور محمد اور آل محمد کے واسطہ  ، آپ کی رحمت ان پر رہے مجھے آپ کی بارگاہ سے نا امید واپس نہ کر دے۔  حضرت  امام سجاد ؑنے  اللہ  کی بارگاہ   میں پیغبر اور آل پیغبر  کے عظمت اور شرافت کو دیکھانے کے لئے  توسل کرتے وقت اللہ کے ساتھ ان سے بھی توسل کیا ۔

  1. توسل به حق پیامبر اور اهل‌بیت:

امام رضا ؑ نے امام کاظم سے  امام  کاظم نے امام صادق سے نقل کرتے ہیں کہ امام سجاد نے  حضرت امام علی ؑ  کی زیارت کی اور قبر کے پاس بیٹھ کر  رویا  اور یہ دعا پڑھی :

اللّهم فاستجب دعائي، و اقبل ثنائي، و أعطني جزائي، واجمع بيني و بين أوليائي بحق محمد و علي و فاطمة و الحسن و الحسين؛[15]

اے اللہ محمد و علي و فاطمة و الحسن و الحسين    علیہم  السلام کے واسطہ میری دعا کو  مستجاب فرماء   اور میرے حمد اور ثنا کو قبول فرماء  اور مجھے جزا  دے  اور مجھے محمد اور آل محمد کے ساتھ قرار دے۔ 

یہ  زیارت ،زیارت امین اللہ کے نام سے معروف ہے  اور معتبرترین زیارت میں سے گنا جاتا ہے   اور یہ  زیارت محمد و  آل محمد کے حق میں قسم  دینے  کی جواز کو تائید کر تے ہیں ۔

  1. توسل به پیامبر و علیؑ

 اللّهُمّ فَإِنّي أَتَقَرّبُ إِلَيْكَ بِالْمُحَمّدِيّةِ الرّفِيعَةِ، وَ الْعَلَوِيّةِ الْبَيْضَاءِ، وَ أَتَوَجّهُ إِلَيْكَ بِهِمَا أَنْ تُعِيذَنِي مِنْ شَرّ كَذَا وَ كَذَا؛[16]

اے اللہ  میں محمد کا بلند  مرتبہ  اور  علی ؑکی روشنی   کے واسطہ آپ کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرنا چاہتا ہوں اور ان ہی کو  وسیلہ دیکر  آپ سے متوجہ ہوتا ہوں  مجھے فلاں۔۔۔ شر سے پناہ دے ۔

. توسل به پیامبر و ائمه و اولیای صالح و  چنے ہوئے  نیک  بندے :

یہاں پر ان افراد کی قسم دیکر ان سے متوسل ہوا ہے اور دعای عرفہ میں اس طرح مناجات کر تا ہے

1بَرِيّتِكَ وَ مَنِ اجْتَبَيْتَ لِشَأْنِكَ، بِحَقّ مَنْ وَصَلْتَ طَاعَتَهُ بِطَاعَتِكَ وَ مَنْ جَعَلْتَ مَعْصِيَتَهُ كَمَعْصِيَتِكَ، بِحَقّ مَنْ قَرَنْتَ مُوَالَاتَهُ بِمُوَالَاتِكَ وَ مَنْ نُطْتَ مُعَادَاتَهُ بِمُعَادَاتِكَ، تَغَمّدنِي فِي يَوْمِي هَذَا بِمَا تَتَغَمّدُ بِهِ مَنْ جَارَ إِلَيْكَ مُتَنَصّلًا، وَ عَاذَ بِاسْتِغْفَارِكَ تَائِباً؛[17]

اے اللہ   انکی قسم دیتا ہوں  جن کو   آپ نے اپنے  مخلوق میں سے چن لیا   ، اورانکی قسم دیتا ہوں  جنکو آپ نے اپنے لیئے پسند کیا   اور ان کی قسم  دیتا ہوں  جنکو آپ نے اپنے  بندوں میں  سے اختیار کیا   اور ان کو اپنے لئے  چنا،   اور انکی قسم دیتا ہوں جن  کی اطاعت کو آپ کی اطاعت سے ملا   دیا  اور انکی نافرمانی کو آپ کا نافرمانی قرار دیا  اور انکی قسم دیتا ہوں جن سے دوستی آپ  سےدوستی  اور  جن سے دشمنی آپ سے دشمنی قرار دیا  اس دن مجھے  آپ کی رحمت میں شامل کر دے  جس طرف آپ نے  ان بندوں کو شامل کر دیا  جنہوں نے اپنی گناہوں سے بیزار  ہو کے آپ کی بارگاہ میں پناہ لیا  اور توبہ کرتے ہوئے واپس آیا ۔

  1. توسل به ذکر صلوات:

جو دعائیں امام سجاد ؑ سے نقل ہوئی ہے    ان میں  محمد اور آل محمد  پر صلٰوت زیادہ  آیا ہے   بالخصوص  پانچویں  اور  آڑتالیسویں دعاوں کے ہر  جملہ  کی ابتدا   یا  انتہا   میں صلوٰت  آیا ہے اور تیرہ ویں دعا میں فر ماتے ہیں :

وَ صَلّ عَلَى مُحَمّدٍ وَ آلِهِ، صَلَاةً دَائِمَةً نَامِيَةً لَا انْقِطَاعَ لِأَبَدِهَا وَ لَا مُنْتَهَى لِأَمَدِهَا، وَ اجْعَلْ ذَلِكَ عَوْناً لِي وَ سَبَباً لِنَجَاحِ طَلِبَتِي؛[18]

محمد اور انکی آل پر رحمت نازل فرماء ، ایسی رحمت جو دائمی اور روز افزوں ہو ، جسکا زمانہ غیر مختم اور انکی مدت بے پایاں ہو اور اسے میرے لیے معین اور بر آری کا ذریعہ قرار دے ۔

اس دعا سے یہ معلوم ہوتا  ہے   ان صلواتوں کےذکر کرنے کا  ایک دلیل یہ ہے کہ دعائیں قبول ہوجائیں  اور حاجتیں پوری ہوجائیں   یہ بھی ایک قسم کا توسل ہے ۔

  1. توسل به اسلام و حرمت قرآن و به محبت و دوستی پیامبر اکرم

دعای  ابو حمزہ  ثمالی میں امام زین العابدینؑ نے  بارگاہ ا لٰہی  اس طرح عرض کرتے ہیں :

اللَّهُمَ‏ بِذِمَّةِ الْإِسْلَامِ‏ أَتَوَسَّلُ‏ إِلَيْكَ وَ بِحُرْمَةِ الْقُرْآنِ أَعْتَمِدُ عَلَيْكَ وَ بِحُبِّ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ الْعَرَبِيِّ التّهَامِيِّ الْمَكِّيِّ الْمَدَنِيِّ اَرْجوُ الزُّلْفَةَ لَدَيكَ؛[19]

اے اللہ   اسلام کی عہد و پیمان کو   آپ کی بارگاہ میں واسطہ قرار دیتا  ہوں اور قرآن کی حرمت کے واسطہ آپ پر اعتماد کرتا ہوں   اور نبی امی  قریشی ہاشمی عربی تہامی مکی مدنی کے محبت سے  آپ کی تقرب کا امید رکھتا ہوں۔

  1. توسل به ماه رمضان اور ان لوگوں سے جنہوں نے اس مہینے میں بندگی اور عبادت کرنے  میں سعی  کی

اللّهُمّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِحَقّ هَذَا الشّهْرِ، وَ بِحَقّ مَنْ تَعَبّدَ لَكَ فِيهِ مِن ابْتِدَائِهِ إِلَى وَقْتِ فَنَائِهِ مِنْ مَلَكٍ قَرّبْتَهُ، أَوْ نَبِيّ  أَرْسَلْتَهُ، أَوْ عَبْدٍ صَالِحٍ اخْتَصَصْتَهُ، أَنْ تُصَلّيَ عَلَى مُحَمّدٍ وَ آلِهِ وَ أَهّلْنَا فِيهِ لِمَا وَعَدْتَ أَوْلِيَاءَكَ مِنْ كَرَامَتِكَ، وَ...؛[20]

اے اللہ  میں  تجھ سے اس مہینہ کے حق  و حرمت اور نیز ان لوگوں کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جنہوں نے تیری عبادت کی ہو وہ مقرب فرشتہ ہو یا نبی مرسل یا کوئی مرد صالح  و برگزیدہ ، کہ تو محمد اور انکے آل پر رحمت نازل فرمائے اور جس عزت  و کرامت کا تونے اپنی دوستوں سے وعدہ کیا ہے اس کا ہمیں اہل بنا ۔

اس دعا میں امام   ماہ رمضان  سے متوسل ہوا  ہے  کیونکہ اس مہینہ  کو دوسرے مہینوں پر فضیلت دیا ہے اور اس طرح  ان لوگوں سے متوسل ہوا ہے  جنہوں اس مہینہ کی اول سے لے کر  آخر تک اللہ کی بندگی میں گزار  نے کی  کو شش کی

جیسے ملک مقر ب یا نبی مرسل ،  یہی سے ہمیں  یہ معلوم  ہوتا ہے کہ ہر وہ  چیز بارگاہ  ا لٰہی میں  مقام  رکھتے ہیں ان  سے توسل کر سکتے ہیں ۔ 

  1. توسل به جاه پیامبر:

امام زین العابدین ؑ   رمضان کی چھبیسویں دن کے دعا میں  پیامبر کی  جاہ  و مقام سے متوسل ہوا ہے جاہ یعنی پیامبر کا مقام اور منزلت اللہ کی بارگاہ میں ۔

أَسْأَلُكَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ بِجَاهِ‏ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تُجِيرَنِي مِنَ النَّارِ فِي يَوْمِ الدِّين؛[21]

محمد اور آل محمد  کے واسطہ دے کے آپ سے  اس وقت سوال  کرتا ہوں  محمد اور آل محمد پر  رحمت نازل فرما  اور مجھے جہنم  کے آگ سے نجات دے ۔

سیرت امام باقرعلیه السلام

  1. توسل به حق پیامبر و اهل­بیت: ابوعبیدہ کہتے ہیں امام باقر سے سنا کہ سجدہ    کی حالت میں فرماتے تھے :

أسألك بحق حبيبك محمد إلا بدّلت سيئاتي حسنات و حاسبتني حساباً يسيراً؛

اے اللہ تیرے حبیب  محمد  کے  حق سے  متوسل ہوکے   تجھ سےسوال کرتا ہوں  کہ  میری   گناہوں کو  حسنات میں تبدیل  کرے اور میرے  حساب  و کتاب  میں آسانی  فرما  ۔

دوسرے سجدہ میں یہ فرما  یا :

أسألك بحق حبيبك محمد إلا كفيتني مؤونة الدنيا و كل هول دون الجنة؛

 اے اللہ  تیرے حبیب محمد   کی حق کا واسطہ دےکر  تجھ سے سوال کرتا ہوں  میری زندگی  میں اس  روزی سے کفایت کر دے  جو جنت میں جانے سے روکتا  ہے۔

اور تیسرے سجدہ میں فرمایا :

أسألك بحق حبيبك محمد لما غفرت لي الكثيرمن الذنوب و القليل و قبلت منّي عملي اليسير؛

اے اللہ تیرے حبیب  محمد  کے  حق سے  متوسل ہوکے   تجھ سے سوال کرتا ہوں میرے بڑے  اور چھوٹے  گناہوں کو بخش دے  اور میرے  قلیل عمل کو قبول فرماء ۔

اور چوتھے  سجدہ میں فرمایا :

أسألك بحق حبيبك محمد لمّا أدخلتني الجنة و جعلتني من سكّانها ولمّا نجيتني من سفعات النار برحمتك و صلّى الله على محمد و آله؛

 اے اللہ تیرے حبیب  محمد  کے  حق سے  متوسل ہوکے  تجھ سےسوال کرتا ہوں مجھے  جنت میں داخل فرماء   اور مجھے  ساکنین  جنت  میں سے  قرار  دے  اور جہنم کی آگ کی شعلوں سے نجات دے آپ  کی رحمت کا واسطہ  اور محمد اور  اسکی آل پر آپ کا رحمت نازل فرماء۔

امام باقرؑ  زیارت عاشورا میں فرماتے ہیں 

و أسأل الله بحقّكم و بالشأن الذي لكم عنده؛[22]

آپ کے  حق سے متوسل ہو کے اور  آپ کے اس مقام  جو پیش گاہ   الٰہی میں ہے    اسے متوسل ہوکے  اللہ سے سوال کرتا  ہوں

زیارت عاشورا کے اس جملہ میں  امام    اہل البیت   کی مقام سے بھی متوسل ہوا ہے  اورانکی شان سے  بھی توسل کیا  ہے ۔

. توسل به پیامبر

امام باقر ؑ سے نقل ہوا ہے   جب بھی اللہ کی بارگاہ  میں کوئی حاجت رکھتا   ہو وضو کامل بجا لانے کے بعد دو رکعت نماز پڑھے  اللہ کی تعظیم کرنا اور محمد اور آل محمد پر درود بیجنا اور سلام کے بعد کہنا :

اللّهم إني أتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة 9 يا محمد يا رسول الله إني أتوجه بك إلى الله ربك و ربي لينجح لي طلبتي، اللهم بنبيك أنجح لي طلبتي بمحمد؛[23]

اے اللہ تیرے نبی محمد  نبی رحمت   کے وسیلہ سے آپ سے متوجہ ہوا  ہوں  اے محمد اے رسول اللہ  میں آپ   کے وسیلہ سے  اللہ   جو آپ اور میرے رب ہے سے متوجہ ہوا ہوں تاکہ میری حاجت پوری ہوجایے اے اللہ تیرے نبی  کا واسطہ دیتا ہوں میری حاجت پوری کر دے ۔ اسی مضموں سے ایک اور حدیث محمد بن مسلم نے امام سےنقل کیا ہے ۔

  1. توسل به قرآن:

زرارہ  امام محمد باقر ؑسے  نقل کرتے ہیں  کہ امام نے فرمایا : رمضان کے دوسرےعشرہ  میں  قرآن کو کھول کر اپنےسامنےرکھ کر  یہ دعا پڑھیں:

اللّهم إني أسألك بكتابك المنزل و ما فيه و فيه اسمك الأعظم الأكبر و أسماؤك الحسنى و ما يخاف و یرجى أن تجعلني من عتقائك من النار؛[24]

اے اللہ بے شک میں تجھ سے   سوال کرتا ہوں تیرے نازل کردہ کتاب  کے واسطہ اور جو کچھ اس میں ہے اور اس میں تیرا   بزگتر نام  ہے  اور تیرے اچھے اچھے نام ہے  اور وہ جو خوف اور امید دلاتا ہے  کہ مجھے ان میں قرار دے  جن کو تو نے آگ سے آزاد کردیا۔

امام صادق ؑ اور امام کاظمؑ سے بھی    یہی روایت تھوڑی ہی   فرق سے نقل ہوا ہے  اس میں قرآن کے علاوہ  ائمہ ؑ سے بھی توسل ہوا ہے ۔

  1. توسل به امام حسینؑ:

 امام باقرؑ نے  فرمایا : جو بھی شخص  غصہ ، اندوھ ، گناہ ، پیاسہ  یا اور کوئی عیب رکھتا ہو تو امام حسین ؑ کی زیارت کو آنا  اور انکے پاس دعا کرنا اور انکو  واسطہ دے کر اللہ سے تقرب حاصل کرنا  اللہ   ا ن سے غم و اندوہ    کو دور کر دے گا  اور  انکے حاجت کو پورا  کر دیگا   اور انکے گناہوں کو  بخش دے  گا  اور  انکے عمر کو طولانی کر  دے گا  اور انکے رزق و  روزی میں  برکت   دے  گا ۔پس اے صاحب بصیرت ان سے عبرت حاصل کر لے ۔

امام باقر ؑ زیارت عاشورا  میں امام حسین ؑ سے  متوسل  ہوکے فرماتے   ہیں :

اللهم اجعلني عندك وجيهاً بالحسينؑ في الدنيا و الآخرة؛

 

                                                                                                                                                                                                                    اے معبود    حسینؑ کے واسطہ مجھے دنیا اور  آخرت میں آپ کے پاس  آبرو مند قرار  دے

امام باقرؑ نے اس جملہ میں اللہ سے یہ درخواست کی  حسین کے واسطہ دنیا  اور آخرت میں آبرو مند بنا    دے

  1. توسل به تربت امام حسینؑ

وہ لوگ  جو یہ  کہتے ہیں  کہ  مردہ  سے توسل نہیں  کر سکتا  ہے ان   کے بر خلاف    کبھی   اولیا کی قبر کی تربت  سے بھی  توسل کیا ہے   جو کہ کسی چیز سے توسل کرنے کا معیار  جو اللہ  کی بارگاہ میں پاکی  و کرامت رکھتا ہے   جس میں بھی یہ صفت  ہوتا ہے اس سے توسل کرسکتا ہے  جیسا کہ   زم زم کا پانی  اللہ  تعالٰی نے اس میں شفا قرار دیا ہے  اسی لئے  ائمہ ؑ  تربت امام حسین ؑ   سے متوسل  ہوتا ہے  اوراسی امر ؎پر سفارش کرتا ہے  اس لئے  کہ  یہ تربت  بارگاہ الٰہی  میں شرافت اور کرامت رکھتا  ہے ۔

امام باقر ؑ کی سیرت میں بہت  سےایسے مقام ملتے  ہیں  کہ  جو  تربت امام حسینؑ سے متوسل ہوے،   اسکا کچھ نمونہ یوں ہے ۔ امام نے فرمایا : جب بھی تربت  امام حسینؑ کو اٹھایے  تو  یہ دعا پڑھنا   :

اللّهم بحق هذه التربة و بحق الملك الموكل بها و بحق الملك الذي كربها و بحق الوصي الذي هو فيها، صلّ على محمد و آل محمد و اجعل هذا الطين شفاءًا لي من كل داءٍ و... ؛[25]

اے معبود  اس تربت کی حق  کا واسطہ  اور   اس   فرشتہ  کی حق  کا واسطہ    جو  یہاں پر موکل ہے   اور اس  فرشتہ کی حق کا  واسطہ  جس  نے اس کو  کھودا 

اور اس وصی کے   حق  کاواسطہ جو یہاں  دفن ہے  کہ محمد اور آل محمد  پر  رحمت نازل فرماء  اور یہ تربت  میرے ہر درد کے لیے  شفاء قرار  دے ۔

اس طرح  کی عبا  رات  «بحق هذه التربة و بحق هذه الطینة» روایات میں زیادہ نقل ہوا ہے  اور کچھ  روایات کی سند نہایت معتبر ہے  حقیقت میں یہ   امام حسینؑ کے تربت سے توسل کرنے کی جواز کو ثابت کر دیتے ہیں  اور  پیغبر کا مرنا اور ائمہ کا مرنا  عام انسان کےمرنے کے برابر نہیں ہوتا ہے  جہاں تربت سے توسل کر سکتا ہے  تو صاحب قبر سے توسل کرنا بطریق اولٰی  جائز 

  1. توسل به ولایت اهل‌بیت: و بیزاری از دشمنان اہل البیت :

امام باقر ؑ نے زیارت عاشورا میں   اہل البیت کی محبت اور انکے دشمنوں  سے بیزاری  کو اللہ سے تقرب حا صل کرنے کا  وسیلہ قرار دیا  ہے   جیسا  کہ:

 اللهم إني أتقرب إليك في هذا اليوم و في موقفي هذا و أيام حياتي بالبرائة منهم و اللّعنة عليهم و بالموالاة لنبيّك و آل­نبيك عليه وعليهم السلام؛[26]

اے معبود بے شک  میں  تجھ سےقریب   ہونا چاہتا ہوں کہ آج کے دن میں اس جگہ پر جہاں کھڑا ہوں اور اپنی زندگی کے دنوں میں ان سے بیزاری کرنے کے ذریعے اور ان پر نفرین بھیجنے کے ذریعے اور بوسیلہ اس دوستی کے جو مجھے تیرے نبی  اور  تیرے نبی کی آل سے ہے   سلام ہو تیرے نبی اور ان کی آل پر

جہاں کہ   اولیا  الٰہی سے دوستی اور انکے دشمنوں سے بیزاری  فروع دین میں سے ہے  اور اس پر عمل کرنا واجب ہے لذا اس قسم کے توسل ، توسل بہ اعمال کے اقسام میں گنا جاتا ہے ۔

  1. توسل به ذریه پیامبر:

امام صادق ؑ فرماتے ہیں : میں اپنے والد  کے پاس بیٹھا تھا اور وہاں ایک شخص بھی  تھا  کہ اسکا ایک ہاتھ کام نہیں کرتاتھا  اس شخص نے دالد گرامی سے درخواست کی کہ انکے لئے دعا کریں  اور بولا  آپ کی دست مبارک میرے ہاتھ پر پھیرے  حضرت نے ایسا کیا  اور فرمایا :نماز شب پڑھتے وقت سجدہ میں  یہ  دعا پڑھنا

...اللهم لا طاقة لي على بلائك ولاغناء بي عن رحمتك و روحك و هذا ابن نبيك و حبيبك صلواتك عليه به أتوجه إليك فإنك جعلته مفزعاً للخائف و... ؛[27]

اے معبود تیرے بلاء کی طاقت نہیں رکھتا ہوں اور تیرے  رحمت سے بے نیاز نہیں ہوں اور یہ تیرے نبی  اور تیرے حبیب کا بیٹا  ہے  اور اسکے وسیلہ سے آپ سے متوجہ ہوا ہوں کیونکہ آپ نے ان کوخایفین کےلیے پناہ  گاہ قرار دیا ہے ۔

سیرت امام صادقعلیه السلام

شیعہ مذہب کی نظر میں  تمام ائمہ نور واحد ہے  اور وہ سب  اللہ کی طرف سے حجت ہے     حجت  کے لحاظ سے       ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ان سب کے سیرت اور سنت  ایک ہی اندازمیں ہمارے لیے  حجت ہے لیکن امام صادق کے زمانے  کی خاص  شرایط   اور مذہب شیعہ   کے رئیس  ہونے کے  عنوان سے اور دوسرے مذاہب کے اماموں کے استاد ہو نے کے ناطے  عام اور خاص کے درمیان  ایک خاص مقام رکھتے تھے  لذا   سب لوگ انکے سیرت  پر توجہ کرنا چاہئے  اور سب کے لیے  حجت ہونا چاہئے امام صادق کے سیرت میں بہت سے ایسے مقام موجود ہیں جہاں انہوں نے توسل کیا اسکے کچھ نمونہ یہاں بیان کرتا ہوں :

  1. توسل به پیامبر

امام صادق نے فرمایا : جب بھی چاہے  نماز کے لئے کھڑا ہو  جایے تو یہ دعا   پڑھئے:

اللهم إني أقدم إليك محمداً 9 بين يدي حاجتي و أتوجه به إليك. فاجعلني به وجيهاً عندك في الدنيا و الآخرة و من المقربين. اجعل صلاتي به مقبولة و ذنبي به مغفوراً و دعائي به مستجاباً إنك أنت الغفور الرحيم؛[28]

اے اللہ  میں محمد کو  اپنی  حاجت   کے لئے  آپ کی  بارگاہ میں   مقدم کرتا ہوں  اور  انکے وسیلہ سے  آپ کی  طرف متوجہ ہوتا ہوں  اور مجھے دنیا اور  آخرت میں    آپ کی بارگاہ  میں آبرومند اور مقربین میں سے قرار دے  اور انکے واسطہ میری نماز قبول فرماء    اور میری  گناہوں  کی مغفرت   فرماء   اور میری دعا  کو مستجاب فرماء  بیشک تو   غفور اور رحیم ہے ۔

  1. توسل به پیامبر و آل پیامبر

امام صادق نے فرمایا : جب بھی چاہے  نماز  شب کے لئے کھڑا ہو  جایے تو یہ دعا   پڑھئے :

 

اللهم إني أتوجه إليك بنبيك نبي الرحمة و آله و أقدّمهم بين يدي حوائجي. فاجعلني بهم وجيهاً في الدنيا و الآخرة و من المقربين. اللهم ارحمني بهم و لا تعذبني بهم و اهدني بهم و لا تضلني بهم و ارزقني بهم و لا تحرمني بهم و اقض لي حوائجي للدنيا و الآخرة. إنك على كل شیء قدير و بكل شیء عليم؛[29]

 اے اللہ میں تیرے نبی رحمت  اور انکے آل کے وسیلہ سے  آپ   سے متوجہ ہوتا ہوں اور انکو اپنی حاجت  کےبرابر قرار    دیتا ہوں   پھر  انکے واسطہ  مجھ کو  دنیا اور آخرت  میں  آبرومند اور مقربین  میں سے قرار دے۔   اے معبود   انکے واسطہ  مجھ پر رحم فرما   اور مجھے عذاب  نہ  دے  اور انکے وسیلہ سے   مجھے ہدایت فرما   اور مجھے گمراہ نہ کر دے     اور انکے ذریعہ  مجھے رزق عطا کرے اور مجھے محروم  نہ کردے  اور میری دنیا و آخرت  کی حاجت  کو  پورا کر دے  بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے  اور  ہر  چیز پر علم  رکھتا  ہے ۔

ایک شخص نے  امام صادق سے عرض کیا  کہ میں اپنے لئے ایک دعا بنایا ہوں امام نے فرمایا  اس کو ترک کرنا ۔ جب بھی تجھ پر کوئی مشکل  پیش آجا ئے تو  رسول خدا    سے  پناہ  لینا  اور غسل کر کے دو  رکعت نماز پڑھ لینا  اور اپنی داڑی کو بائیں  ہاتھ سے  پکڑ لینا  اور رونا یا  رونے کی حالت میں لا نا اور  پڑھنا :

يا محمد يا رسول الله أشكو إلى الله و إليك حاجتی و أشكو إلى أهل بيتك الراشدين حاجتی و بكم أتوجه إلى الله فی حاجتی؛[30]

اے محمد اے رسول اللہ   میں اپنی حاجت کو   اللہ اور آپ  سے  شیکوہ کرتا ہوں   اور  اپنی  حاجت کو آپ کی اہل بیت   راشیدین سے شیکوہ  کرتا ہوں اور آپ لوگوں  کے وسیلہ سے  اپنی حاجت  کے لئے   اللہ سے متوجہ  ہوتا ہوں ۔

  1. توسل به حق پیامبر:

محمد جعفی نے  اپنےباپ سے نقل  کیاہے  کہ میں آنکھ کی بیماری میں  مبتلا ہوا   اورمیں امام صادقؑ کے پاس اپنی اس درد کی شکایت کی امام نے فرمایا  : کیا تیری دنیا  و آخرت  کےلئے  ایک دعا یاد  دلا  دوں جسے تیری آنکھ کی درد بھی  شفاءٰ  ہوجائے   میں   نےعرض کیا : ہاں

امام نے فرمایا :نماز صبح  اور نماز  مغر ب کے  بعد     یہ  دعا پڑھ لینا

اللهم إني أسألك بحقّ محمد و آل محمد عليك أن تصلي على محمد و آل محمد، و أن تجعل النور في بصري و البصيرة في ديني و... .[31]

اے اللہ  محمداور آل محمد  حق کے واسطہ  تجھ سے سوال کرتا ہوں  کہ   آپ محمداور آل محمد   پر رحمت نازل فرما  اور میری  آنکھوں میں نور اور میرے دیں  میں بصیرت  عطا فرما   ۔ اسی طرح امام  فرماتے ہیں : جوبھی نماز غفیلہ   اور اسکی قنوت  میں دعا کے بعد   یہ دعا پڑھئے :

اللَّهُمَّ أَنْتَ وَلِيُّ نِعْمَتِي وَ الْقَادِرُ عَلَى‏ طَلِبَتِي‏ تَعْلَمُ حَاجَتِي. فَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ لَمَّا قَضَيْتَهَا لِي؛[32]

اے معبود تو میری نعمت کا مالک  ہے اور  میری  حاجت پر علم رکھتا ہے پھر  محمد اور آل محمد  (تیرا  سلام  ان پر  رہے )کے واسطہ میری حاجت پوری   کر لے ۔

یہ دعا پڑھنے کے بعد  اللہ کی بارگاہ سے اپنا  حاجت مانگنا  جو بھی مانگے  وہ پورا ہو جائے گا ۔

  1. توسل به پیامبر و امیرالمؤمنینؑ

امام کاظم ؑ نے اپنے والد گرامی سے نقل کیا ہے جو اپنےگھر میں وضو کر ے  اور اپنے  آپ کو تمیز اور معطر   کرے   آرام اور سکون کے ساتھ  مسجد کی طرف  جایے   وہ قدم نہیں اڑھا ئے  گا  مگر اسکوایک حسنہ لکھا  جائے گا اور اسکی ایک  گناہ کو مغفرت کردیگا   اور اسکے درجہ میں اضافہ ہوجائے گا  پھر جب بھی مسجد میں داخل ہوجائے تو  یہ دعا  پڑھئے:

اللّهم إني أتوجه إليك بمحمد و علي أميرالمؤمنين و اجعلني من أوجه من توجه إليك بهما و أقرب من تقرب إليك بهما و قربني بهما منك زلفى و لا تباعدني عنك آمين يا ربّ العالمين؛[33]

اے معبود  میں محمد  اور   امیر المؤمنین  علی ؑکے واسطہ  تیری بارگاہ میں متوجہ ہوا ہوں  مجھے ان  آبرومند ترین افراد میں  سے قرار دے   کہ جو آپ سے متوجہ ہوے  ہیں   اور مجھے  ان مقرب ترین افراد میں سے  قرار  دے  کہ جنہوں تیری بار گاہ سے  تقرب حاصل کی ہیں    اور انکے واسطہ مجھے آپ سے نزدیک کر دے  اور مجھ کو آپ سے دور نہ کر دے ۔

5. توسل به امام حسین ؑ اور توسل  بہ  قبر شریف  امام حسین: ؑ

امام صادقؑ سے  امام حسینؑ  کی زیارت میں نقل ہوا ہے :

و إني استشفع بك إلى الله ربك و ربي من جميع ذنوبي، و أتوجه بك إلى الله في حوائجي و رغبتي في أمر آخرتي و دنياي... اللهم إني أسألك بحق هذا القبر و من فيه، و بحق هذه القبور و من أسكنتها... يا سيدي أتيتك زائراً موقراً من الذنوب، أتقرب إلى ربي بوفودي إليك و بكائي عليك و عويلي و حسرتي و أسفي و بكائي؛[34]

میں  اپنے   گناہوں   سے مغفرت حاصل کرنے کےلئے آپ کو   تمہارے اور  اپنے  پروردگار کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتا ہوں  میں اپنی    دنیا  و آخرت کی   حاجتوں میں آپ کے  واسطہ سے     اللہ کی بارگاہ  سے متوجہ ہوتا ہوں۔

اے اللہ اس قبر  کی حق کے واسطہ  اور جو اس میں  ہے  اور ان  قبور کے حق کی  واسطہ  اور جو  ان میں دفن ہیں ۔۔۔  اے مولا  مین زائر بن کے  اور اپنی  گنا ہوں  کا   اقرار  کرتے  ہوئے آپ کی بارگاہ میں آیا ہوں   آپ کے پاس آنے  سےاور آپ پر بلند آواز سےرونے   کے ذریعہ سے  اور اپنی   حالت پر  حسرت اور افسوس  اور روتے ہوئے  اپنے پروردگار سے تقرب حاصل  کرنا چاہتا  ہوں

  1. توسل به تربت امام حسین ؑ :

ایک شخص نے امام صادقؑ سے عرض کیا : میں ہمیشہ بیمار رہتا  ہوں اور کوئی دوائی نہیں   رہا جو میں نے نہیں کھایا  ہو  امام صادقؑ نے اس سے فرمایا  : امام حسینؑ   کی قبر کی تربت سے  کیوں استفادہ نہیں  کرتے  ہو ؟  کہ اس میں ہر درد کےلئے شفاء ہے اور خوف کے لئے امن ہے جب بھی اس تربت کو اٹھائے  تو د یہ دعا پڑھئے:

اللهم إني أسألك بحق هذه الطينة و بحق الملك الذي أخذها و بحق النبي الذي قبضها و بحق الوصي الذي حلّ فيها، صلّ على محمد و أهل بيته و اجعل لي فيها شفاءًا من كل داء و أماناً من كل خوف؛[35]

اے اللہ  اس تربت  کی حق  کے واسطہ  اور  اس ملک  کی حق کے واسطہ  جس نے اسکو اخذ  کیا اور اس نبی کی حق  کےواسطہ  جس نے اس کو قبض کیا  اور اس ولی کی حق کے واسطہ  جو یہاں دفن ہے  کہ محمد اور  انکی اہل  بیت  پر  رحمت نازل  فرما   اور اس تربت میں میری  ہر درد کےلئے شفاء قرار   دےاور  ہر خوف کےلئے امن قرار دے ۔

 7. توسل به حق اهل‌بیت و تمام ملائک و انبیا, و رسولان:

امام صادقؑ نے فرمایا :جب بھی تربت  حسینؑ  کو  اٹھائے  تو یہ دعا پڑھو:

اللهم بحق محمد عبدك و رسولك و حبيبك و نبيك و أمينك، و بحق أميرالمؤمنين على بن­أبي­طالب عبدك أخي رسولك، و بحق فاطمة بنت نبيك و زوجة وليك، و بحق الحسن و الحسين، و بحق الأئمة الراشدين، و بحق هذه التربة، و بحق الملك الموكل بها، و بحق الوصي الذي حل فيها، و بحق الجسد الذى تضمنت، و بحق السبط الذى ضمنت و بحق جميع ملائكتك و أنبيائك و رسلك، صل على محمد و آل محمد و اجعل لي هذا الطين شفاءًا من كل داء و لمن يستشفى به من كل داء و سقم و مرض، و أماناً من كل خوف. اللهم بحق محمد و أهل بيته، اجعله علماً نافعاً و رزقاً واسعاً و شفاءًا من كل داء و سقم و آفة و عاهة و جميع الأوجاع كلها. إنك على كل شىء قدير؛[36]

اے معبود  محمدﷺ کی  حق کے واسطہ     جوکہ تیرا بندہ ،رسول ، ، حبیب ،  نبی  اور تیرا  امین  ہے  اور  امیرالمؤمین علی بن ابی طالب ؑ  کے واسطہ  جو کہ  تیرا بندہ   اورتیرے رسول کے بھائی ہیں اور تیرے نبی کی بیٹی فاطمہ  کی حق کے واسطہ   جو کہ تیرے ولی کا زوجہ ہے  اور حسن ؑ اور حسینؑ   کے حق کے واسطہ اور ائمہ ؑ راشیدین کے  حق کے واسطہ اور اس تربت کی حق  کے واسطہ اور اس ملک   کی حق  کےواسطہ جو اس  پر موکل ہے  اور اس وصی کے حق  کے واسطہ جو یہاں دفن ہے    اور اس جسم  کی حق کے واسطہ جو کہ اس تربت سے ملاوٹ ہوا ہے  اور پیامبر کے اس نواسہ کے واسطہ جو یہاں دفن ہے  اور تیرےتمام ملائک ، انبیاء اور  رسل   کے واسطہ  محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما   اور میرے لئے اور  ہر کسی کےلئے جو اس سے شفاء مانگتے  ہیں  ہر درد  اور مریض کے لئے  شفاء قرار دے اور  ہر خوف  و ڈر کے لئے  امن قرار دے  ۔اے معبود محمد اور آل محمد  کے واسطہ  اس خاک   کو رزق کی فراوانی ، علم میں نفع  اور  ہر بیماری سے شفا کا ذریعہ بنا دے  بیشک تو  ہر شی  پر قدرت رکھتا ہے ۔

  1. توسل به­حق پیامبر و انبیای گذشته آسمانی کتابیں:

ابان بن تغلب  نے  امام صادق ؑ سے ایک دعا نقل کیا ہے  جس میں   حفظ  قرآ ن اور ہر قسم کےعلم  اللہ کی بارگاہ سے  درخواست کرنے کی تعلیم دی ہے اس دعا میں  پیامبر کی حق سے ،انبیاء گذشتہ   کی حق سے   آسمانی کتابیں اور اسماء و صفات الٰہی  سے متوسل  ہوا ہے ۔[37]

سیرت امام کاظمعلیه السلام

سماعہ نے ا مام کاظمؑ  نے  نقل کیا  ہے کہ امام نے فرمایا :جب بھی اللہ کی بارگاہ میں کوئی حاجت رکھتا ہے تو  یہ دعا پڑھو :

اللهم إني أسئلك بحق محمد و علي فإن لهما عندك شأناً من الشأن و قدراً من القدر فبحق ذلك الشأن و بحق ذلك القدر أن تصلي على محمد و آل محمد و أن تفعل بى...؛[38]

اے اللہ محمد اورعلیؑ کے حق کے  واسطہ  کیونکہ انکو آپ کی بارگاہ میں ایک شان   و مقام ہے  اور ان شان و مقام کی حق کے واسطہ  محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما  اور میری حاجت کو پورا کردے ۔

2۔ کتاب  مصباح المجتہد میں سوتے وقت پڑھنے کےلئے  کچھ دعائیں  امام کاظم سے  نقل ہوا ہے ان میں سے ایک دعا  یہ ہے کہ اگر کسی  مردہ کو خواب میں  دیکھنا  چاہے تو  یہ دعا پڑھے :

وَ أَسْأَلُكَ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ‏ وَ بِحَقِّ حَبِيبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ سَيِّدِ النَّبِيِّينَ وَ بِحَقِّ عَلِيٍّ خَيْرِ الْوَصِيِّينَ وَ بِحَقِ‏ فَاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ وَ بِحَقِّ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ الَّذين جَعَلْتَهُمَا سَيِّدَيْ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ السَّلَامُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ أَنْ تُرِيَنِي مَيِّتِي فِي الْحَالِ الَّتِي هُوَ فِيهَا؛[39]

تجھ سے سوال کرتا  ہوں بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ‏ کے واسطہ سے   اور تیرے حبیب محمد سید النبیین کے واسطہ سے  اور  علیؑ  خیر الوصیین کے واسطہ سے  اور فاطمہؑ سیدۃ الناس العالمین کے واسطہ     سے   اور   حسن ؑ اور حسینؑ  ( جن کو  آپ نے   جنت کے جوانوں کے سردار بنایا ) کے واسطہ سے  کہ محمد اور آل محمد پر   رحمت نازل فرما  اور فلان میت کو کہ وہ  ابھی جس حالت میں ہو  مجھے دیکھائے

سیرت امام رضاؑعلیه السلام

امام رضا  سے نقل ہوا ہے :

إِذَا نَزَلَتْ‏ بِكُمْ‏ شَدِيدَةٌ فَاسْتَعِينُوا بِنَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ هُوَ قَوْلُهُ‏: (وَ لِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى‏ فَادْعُوهُ بِها)؛[40]

جب تجھے کوئی مشکلات پیش آجائے تو ہمارے  وسیلہ سے اللہ سے مدد  مانگنا  کہ اللہ نے فرمایا ہے : ( اللہ کے لئے نیک  اسماء  ہیں ان کے ذریعہ اللہ سے مانگنا۔  امام رضاؑ کے اس کلام   میں واضح طور پر بیان ہوا ہے مشکلات اور سختی کے وقت  اہل بیت  کی توسل  سے اللہ سے مدد مانگنا  اور سورہ اعراف کی آیہ نمبر 127  پر استناد کیا ہے  کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے : اللہ  کو اسماء الحسنی کے ذریعہ  پکار و   یعنی ہم اسماء الٰہی  ہیں  اور ہمارے وسیلہ سے  بارگاہ الٰہی میں  حاضر ہوجائے  اور اصول کافی میں بھی امام صادقؑ سے  روایت آیا ہے  کہ امام ؑ فرماتے ہیں خدا کی قسم ہم اسماء حسنی الٰہی  ہے  ائمہؑ  بندگی الٰہی میں اس درجہ پر فائز ہیں جن کو خدا کے علاوہ  کوئی دوسری نہیں ہیں  لھٰذا   خدا  کی  اسماء اور صفات   کو پہچاننے کا ذریعہ ہے پس  خدا اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہے ۔

سیرت امام جواد علیه السلام

امام جواد   فرماتے ہیں :   ماہ رجب کی    پہلی  رات   میں یہ عا   پڑھنا مستحب ہے  

اللهم إني أسألك بأنك مليك و أنك على كل شیء مقتدر و أنك ما تشاء من أمر يكن. اللهم إني أتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة6.يا محمد، يا رسول الله، إني أتوجه بك إلى الله ربك و ربي لينجح لي بك طلبتي.اللّهم بنبيك محمد و الأئمة من أهل بيته صلى الله عليه و عليهم، أنجح طلبتي؛[41] 

اے اللہ  میں تچھ سے سوال کرتا ہوں  بیشک  تو   ملیک ہے   اور  ہر چیز پر  قدرت رکھتا ہے  اور  جس چیز کا  تو  ارادہ کرتے  وہ تحقق پاتے ہیں 

اے معبود میں آپ  کی نبی محمد  نبی  رحمت  کے  وسیلہ سے آپ سے متوجہ  ہوتا ہوں  ۔ اے محمد  اے ر سول اللہ   میں آپ کے   واسطہ  سے اللہ     تمہا رے اور اپنے   پرور دگار کی طرف متوجہ    ہوں تاکہ  آپ کی وسیلہ سے میری حاجت پورا ہوجائے     ۔ اے معبود  تیرے نبی  محمد  اور   انکے اہل بیت کے  سے  مجھے  میری درخواست میں کامیابی عطا  فرما۔

اس دعا کے بعد اپنی حاجت  کو طلب کرنا ۔

اس دعا  کی ابتدا ء میں امام جوادؑنے     اللہ  تعالٰی کی  قدرت مطلق  اور قدرت لا  انتہا  کی اعتراف کیے  ہیں ا  ور اسکے بعد  پیامبر رحمت  اور اہل بیت سے توسل کئے ہیں  یہ دعا اس نکتہ کی طرف اشارہ   کرتا ہےکہ  ہر کام اللہ کی  ارادہ سے  ہی تحقق ؎پاتا ہے (إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ)  لیکن  ضعیف اور گناہ گار بندہ   اللہ کی بارگاہ  میں  ان بزرگوں کو وسیلہ  قرار دیتا ہے کیونکہ یہ لوگ اللہ کی بارگاہ میں  عزت اور احترام  رکھتے ہیں

سیرت امام هادیعلیه السلام

 امام ہادی ؑ  نے ایک شیعہ کی درخواست  کی جواب  میں ایک زیارت تعلیم   دی جو زیارت جامعہ کبیرہ سے معروف ہے( یہ ایک ایسی زیارت ہے  جو بلیغ اور کامل   ہر ائمہ  کےلئے زیارت ہے )   اور اس  زیارت میں  امام شناسی کا ایک کامل دورہ ہے   اور اس زیارت  میں اہل بیت سے توسل  کرنا آشکار ہے  جیسے کہ یہ جملہ   :

. مستشفع إلى الله عزّ و جلّ بكم، متقرب بكم إليه و مقدمكم أمام طلبتي وحوائجي و إرادتي في كل أحوالي و أموري؛

اللہ کی  حضور میں   آپ کو شفیع قرار دیتا ، آپ   کے ذریعہ اس کا  تقرب   چاہتا ہوں  اور میں ہر  اپنی ہر   حاجتوں، ہر ارادوں   ،  ہر حالات میں اور ہر امور  پر آپ کو مقدم قرار  کرتا ہوں۔

 اولا۔  اس جملہ   میں اہل بیت  سے شفاعت کی درخواست کی ہے ا للہ کی بار گاہ میں  اور شفاعت بھی ایک قسم کا توسل ہے۔

 دوما۔  ائمہ کےوسیلہ  سے  اللہ کی بارگاہ میں تقرب کی درخواست کی ہے ۔ سوما   ۔ہر حاجات اور ہر درخواست پر ائمہ کو مقدم کی ہے ۔یعنی  میری  ہر حوایج  کو آپ کے وسیلہ سے اللہ سے درخواست کرتا ہوں۔ اس کلام سے مراد وہی امام علیؑ کا فرمایش ہے کہ حضرت نے فرمایا : پہلے محمد اور آل  محمد پر درود بیجیں  اور  اسکے بعد اپنی حاجت کو اللہ کی بارگاہ   سےطلب  کریں ، یہ وہی توسل ہے ۔

2.من قصَدَه توجّه بكُم؛

جو بھی  چاہتا ہے   اللہ کی طرف  رخ   کرے وہ آپ   (اہل بیت ) کی طرف توجہ کرتا ہے

یعنی آپ کے وسیلہ  سے اللہ کی بارگاہ میں آیا ہوں جیسا  کہ یہ جملہ «أتوجه إلیك بنبیك» جو زیارت اور دعاؤں میں آیا  ہے  اسی طرح  اللہ کی شناخت کےلئے بھی   اہل بیت سے  مدد لینا چاہئے

  1. يا ولي الله إن بيني و بين الله عزوجّل ذنوباً لا يأتي عليها إلا رضاكم؛

اے  اللہ کے ولی بیشک میرے  اور اللہ کے درمیاں  کچھ گناہ حائل   ہے    جو آپ چاہئے تو معاف ہو سکتے ہیں

یعنی اسی لئے  کہ آپ درگاہ الٰہی   میں بڑا مقام رکھتے  ہیں  اور قدر اور منزلت  حق شفاعت رکھتے ہیں آپ کے رضایت  باعث بن سکتے ہیں کہ ہم آپ کے شفاعت میں شامل ہوجائے اور میری گناہوں   کی مغفرت  ہو سکتے ہیں   جیسا کہ امام ہادی  نے فرما  تےہیں کہ امیر المؤمنین  کے قبر شریف   پر یہ زیارت  پڑھی جاتی ہے  اس میں  امام فرماتے ہیں

يا ولي الله إن لي ذنوباً كثيرة فاشفع لي إلى ربك فإن لك عند الله مقاماً معلوماً و إن لك عند الله جاهاً وشفاعة؛[42]

اے  ولی خدا  بیشک میں میرے گناہ بہت زیادہ ہے پس اللہ کے بارگاہ میں میری شفارش کریں بیشک آپ اللہ کی بارگاہ میں  نمایاںمقام رکھتے ہیں خدا کی ہاں آپ کی بڑی عزت  اور شفاعت کا حق ہے

  1. لما استوهبتم ذنوبي و كنتم شفعائی؛

آپ میرے گناہ  معاف کروائیں اور میرے سفارشی بن جائیں

یہ جملہ  قرآن کے مطابق ہے اور اسی سے الہام لیا ہے حضرت یعقوب کی اولاد  اپنے والد سے چاہتے ہیں کہ انکے لئے استغفار کرے  حضرت یعقوب نے ان سے وعدہ  کیا کہ  انکے لئے  مغفرت مانگوں گا   یہاں بھی ائمہ سے یہی  درخواست کی ہے  اللہ سے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کر یں

  

  1. اَللّهُمَّ إنّى لَوْ وَجَدْتُ شُفَعاءَ أقْرَبَ إلَيْكَ مِنْ مُحَمِّدٍ وَ أهْلِ بَيْتِهِ الأخْيارِ الأئِمَّةِ الأبْرارِ لَجَعَلْتُهُمْ شُفَعائي. فَبِحَقِّهِمُ الَّذى أوْجَبْتَ لَهُمْ عَلَيْكَ أسْاَلُكَ أنْ تُدْخِلَني في جُمْلَةِ الْعارِفينَ بِهِمْ وَ بِحَقِّهِمْ وَ فى زُمْرَةِ الْمَرْحُومينَ بِشَفاعَتِهِمْ؛[43]

اے  معبود  اگر تیری    بارگاہ  میں محمد اور  انکے اہل بیت  جو نیک اور خوش کردار    ہے  سے مقرب تر  شفیع ملتا تو انکو  واسطہ قرار  دیتا   پس  انکے حق کے واسطہ جو تو نے  خود پر لازم  کر  رکھا  ہے تجھ سے  سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں داخل فرما جو انکی اور انکے حق کی معرفت رکھتے ہیں  اور مجھے اس گروہ میں رکھ  جس  انکی  سفارش سے رحم کیا گیا

اس جملہ میں کچھ مطالب بیان ہوا ہے :

1۔  اہل بیت کی عظمت  اور شرافت کو بیان کرتا  ہے ۔بارگاہ الٰہی  ان سے زیادہ  مقام رکھنے والے اور کوئی نہیں ہے اسی لئے اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کا مقام رکھتے ہیں   اور شفاعت کی درخواست  حقیقت میں وہی توسل ہے

2۔ حق مطلق  اللہ کےلئے مخصوص ہے  لیکن اللہ تعالٰی  اپنی فضل و کرم سے  کچھ افراد کو کچھ حق عطا کیا ہے   جیسےکہ اس عبارت میں کلمہ  «اوجب» آیا ہے نہ واجب۔

 

نتیجه‌گیری

اس مقالہ  سے یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ توسل (جو ابن تیمیہ جیسے لوگ انکار کرتے تھے اور بدعت سمجھتے تھے  ) پیامبر اکرم

اور ائمہ ؑ کے سیرت میں موجود تھا اور واضح ہے کہ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان قدیم زمانہ سے تھا   جو کہ پیامبر اکرم  اور  ائمہ اہل بیت اور سلف کے سیرت سے لیئے  گئے ہیں  اسی لیئے  توسل سنت ہے نہ بدعت اس مقالہ میں بیان ہوا کہ  اہل بیت کے سیرت میں  ( پیامبر سے توسل کرنا  ، اہل بیت سے،  انکےجاہ و مقام  سے،اور توسل بہ محبت ، ایمان اور ان مقدس مقام سے جو ان سے منسوب ہے )  وجود تھا  اگر کوئی منصف    مصنف   اہل سنت کی کتابوں میں  مراجعہ کریں  تو صحابہ اور  انکے علما کے سیرت میں اس قسم کے توسل   دیکھ سکتے ہیں ۔

 

 

 


 

 كتابنامه

  1. نهج البلاغه: مترجم مصطفی زمانی، مؤسسه انتشارات نبوی، چاپ یازدهم، 1377ش.
  2. ابن ابی‌الحدید، عبدالحميد بن‌هبة‌الله: شرح نهج البلاغه، تحقیق محمد ابوالفضل ابراهیم‏، قم: مكتبة آية‌الله المرعشي النجفي‏، چاپ اول‏ ، ‏1404ق.
  3. ابن بابویه، محمد بن‌على: عيون أخبار الرضا7، تحقیق مهدی لاجوردى، تهران: نشر جهان‏، چاپ اول، ‏1378ق‏.
  4. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: من لا يحضره الفقيه، تحقیق على اكبرغفاری، قم: دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم‏، چاپ دوم‏،13‏14ق‏.
  5. ‌ابن طاووس، عبدالكريم بن احمد: فرحة الغري في تعيين قبر أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب7 في النجف‏، قم: منشورات الرضي‏، بی‌تا.
  6. ابن‌طاووس، على بن موسى‏: إقبال الأعمال، تهران: دار الكتب الإسلاميه‏، چاپ دوم‏، ‏1409ق.
  7. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: فلاح السائل و نجاح المسائل، قم: بوستان كتاب‏، چاپ اول، ‏1406ق.
  8. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: مهج الدعوات و منهج العبادات، تحقیق ابوطالب کرمانی و محمد حسن‏ محرر، قم: دارالذخائر، چاپ اول، ‏1411ق‏.
  9. ابن‌اعثم کوفی، احمد: کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت: دارالاضواء، چاپ اول، 1411ق.
  • ابن‌تيميۀ حراني، أحمد بن‌عبدالحليم: مجموع الفتاوی، تحقیق عبد الرحمن بن‌محمد بن‌قاسم، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، 1416ق.
  • ابن‌حنبل، احمد: المسند، بیروت: دارصادر، بی‌تا.
  • ابن‌قولويه، جعفربن محمد: كامل الزيارات، بیروت: موسسه الاعلمی للمطبوعات، چاپ اول، 1430ق.
  • ابن‌باز، عبدالعزيز بن‌عبدالله: مجموع فتاوی، گردآورنده: محمد بن سعد الشويعر، بی‌جا، بی‌تا.
  • ابن‌عبدالوهاب، محمد: كشف الشبهات، وزارة الشؤون الإسلامية والأوقاف والدعوة والإرشاد، عربستان سعودی،چاپ اول، 1418ه.
  • جابر الجزائری، ابوبکر: عقیدة المومن، قاهره: مکتبة العلوم والحکم، 1423ق.
  • شريف رضي: خصائص الائمه:، تحقيق: محمد هادی امينی،مجمع البحوث الاسلاميه،چاپ موسسه طبع ونشر آستانه رضوی، 1406ق.
  • شیخ صدوق: ثواب الاعمال وعقاب الاعمال، قم: نشر اخلاق، چاپ یازدهم، 1388ش.
  • شیخ مفید، محمد بن­محمد: الإختصاص، تحقیق على اكبرغفاری و محمودمحرمى زرندى، قم: المؤتمر العالمى لألفية الشيخ المفيد، چاپ اول، ‏1413ق.
  • ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد، قم: تحقیق مؤسسة آل البيت:‏، كنگره شيخ مفيد، چاپ اول، 1413ق.
  • ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: الأمالي، تحقیق: حسين استاد ولى و على اكبرغفارى، قم:كنگره شيخ مفيد، چاپ اول، 1413 ق‏.
  • صحیفه سجادیه: با مقدمه آیت الله مرعشی، مترجم: سيد صدر الدين بلاغى، تهران: دار الكتب الاسلاميّة، 1369ق.
  • صحیفه کامله سجادیه: ترجمه وشرح علامه شعرانی، قم: انتشارات قائم آل محمد،چاپ ششم، 1386ش.
  • طباطبایی، سیدمحمد حسین: المیزان فی تفسیر القرآن، تهران: دارالکتب اسلامیه، چاپ چهارم، 1362ش.
  • طبرانی، ابوالقاسم سلیمان بن‌احمد: معجم الاوسط، تحقیق طارق بن‌عوض‌الله بن محمدوعبدالمحسن بن ابراهیم الحسینی، قاهره: دارالحرمین، 1415ق.
  • طبرسی، حسن بن فضل:‏ مكارم الأخلاق، قم: شريف رضى‏، چاپ چهارم‏،‏ 1370ش.
  • ‏طبرى، محمد بن‌جرير: دلائل الإمامة، قم: قسم الدراسات الإسلامية مؤسسة البعثة، چاپ اول‏،‏1413ق‏.
  • طوسى، محمد بن‌حسن: الأمالي، قم: دارالثقافة، چاپ اول‏،‏ 1414ق‏.
  • ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ:‏ تهذيب الأحكام، تحقیق حسن موسوى‏ خرسان، تهران: دار الكتب الإسلاميه‏، چاپ چهارم‏، 1407ق.
  • ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: مصباح المتهجّد و سلاح المتعبّد، بیروت: مؤسسة فقه الشيعة، چاپ اول، ‏1411ق.
  • عاملى‏ كفعمى، ابراهيم بن‌على: البلد الأمين و الدرع الحصين، بیروت: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات‏، چاپ اول، ‏1418ق.
  • ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: المصباح للكفعمي (جنة الأمان الواقية)، قم: دارالرضي، چاپ دوم‏، 1405ق.
  • عده‌اى از علما: الأصول الستة عشر، تحقیق ضياءالدين محمودی، قم: مؤسسة دار الحديث الثقافية، چاپ اول، 1381ش.
  • قطب الدين راوندى، سعيد بن‌هبة الله: الدعوات (سلوة الحزين)، قم: مدرسه امام مهدى، چاپ اول،‏ 1407ق.
  • كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي: تحقیق على اكبر غفارى و محمد آخوندى،تهران: دارالكتب الإسلامية، چاپ چهارم‏.
  • مجلسى، محمد باقر بن محمدتقى‏: زاد المعاد- مفتاح الجنان، تحقیق علاءالدين‏ اعلمى، بیروت: موسسة الأعلمي للمطبوعات‏، چاپ اول‏ ،‏1423ق.
  • ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ: مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، تحقیق هاشم‏ رسولى محلاتى، تهران: دار الكتب الإسلامية، چاپ دوم‏، ‏1404ق.
  • محمد بن‌عیسی: سنن ترمذی، بیروت: مکتبة العصریه، بی‌تا.
  • محمد بن­محمد، شعیری: جامع الأخبار، نجف: مطبعة حيدرية، چاپ اول.
  • نیشابوری، حاکم ابو‌عبدالله: المستدرک علی الصحیحین، بیروت: دارالکتب العربی.

 

 


 

[2]. ابن‌حنبل، احمد، مسند، ج4، ص138؛ محمد بن‌عیسی، سنن ترمذی، ج5، ص336؛ حاکم نیشابوری، ابوعبدالله، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص139.

[3]. کلینی، محمد بن‌یعقوب، الکافی، ج 2، ص583، ح 17.

[4]. همان، ص544، ح 1.

[5] مجلسی، محمد باقر، مرآة العقول، ج12، ص331.

[6] شریف رضی،‌ خصائص الائمة، ص48؛ راوندی، قطب الدین،  الدعوات، ص 64.

[7]. ابن‌طاووس، علی بن‌موسی، مهج الدعوات ومنهج العبادات، ص110ــ 119.

[8]. نهج البلاغه، حکمت 367، ص999.

[9]. شیخ صدوق، ثواب الاعمال وعقاب الاعمال، ص332؛ شعیری، محمد بن‌محمد، جامع الأخبار، ص61؛ طبرسی، حسن بن‌فضل، مكارم الأخلاق، ص312؛ طبرانی، ابوالقاسم سلیمان ابن احمد، معجم الاوسط، ج1، ص220.

[10]. ابن ابی‌الحدید، شرح نهج البلاغة، ج16، ص211؛ طبری، محمد بن‌جریر، دلائل الإمامة، ص114.

[11]. ابن‌طاووس، علی بن‌موسی، اقبال الاعمال، ج1، ص346؛ عاملی کفعمی، ابراهیم بن‌علی، البلد الامین والدرع الحصین، ص257؛ مجلسی، محمدباقر، زادالمعاد- مفتاح الجنان، ص181.

[12]. ابن‌عثم کوفی، احمد، الفتوح، ج5، ص19.

[13] صحيفه سجّاديّه، بلاغی، ص 37 ـ 38.

[14]. صحیفه سجادیه، شعرانی، ص98.

[15]. ابن‌قولویه، جعفر بن محمد، كامل الزيارات،ص42، باب 11، ح 1 .

[16]. صحیفه سجادیه ، شعرانی، ص 341.

[17]. همان، ص302.

[18]. همان، ص 98.

[19]. طوسی، محمد بن‌حسن، مصباح المتهجد، ج2، ص590، ابن‌طاووس، علی بن‌موسی، پیشین، ج1، ص72؛ عاملی کفعمی، ابراهیم بن‌علی،پیشین، ص290.

[20]. صحیفه سجادیه، شعرانی، ص265.

[21]. ابن‌طاووس، علی بن‌موسی، پیشین، ج‏1، ص225.

[22]. ابن‌قولویه، جعفر بن‌محمد، پیشین، ص184ــ186، باب 71، ح7.

[23]. کلینی، محمد بن‌یعقوب، پیشین، ج3، ص478؛ طوسی، محمد بن‌حسن، تهذيب الاحكام، ج3، ص314، ح17.

[24]. کلینی، محمد بن‌یعقوب، پیشین، ج2، ص629؛ ابن‌طاووس، علی بن‌موسی، پیشین، ج1، ص186، با عبارت «ثلاث لیال» آمده.

[25]. همان، ص 279، باب93، ح4.

[26]. همان، ص 184 ـ 186، باب 71، ح7.

[27]. ابن‌طاووس، علی بن‌موسی، مهج الدعوات و منهج العبادات،ص324

[28]. کلینی، محمد بن‌یعقوب، پیشین، ج3، ص306؛ ابن‌بابویه، محمد بن‌علی، من لا یحضره الفقیه، ج1، ص302؛ طوسی، محمد بن­حسن، پیشین، ج2، ص287.

[29]. ابن‌بابویه، محمد بن‌علی، پیشین، ج1، ص483.

[30]. کلینی، محمد بن‌یعقوب، پیشین، ج3، ص476؛ ابن‌بابویه، محمد بن‌علی، پیشین، ج1، ص560.

[31]. کلینی، محمد بن‌یعقوب، پیشین، ج2، ص550؛ شیخ مفید، أمالى، ص 179؛ طوسی، محمد بن‌حسن، أمالي، ص196؛ راوندی، قطب‌الدین، پیشین،‌ ص196؛ عاملی کفعمی، ابراهیم‌بن علی، مصباح کفعمی، ص175.

[32]. طوسی، محمد بن‌حسن، مصباح المتهجد و سلاح المتعبد، ج‏1،ص107.

[33]. عده‌ای از علما، اصول الستة عشر، ص 192.

[34]. ابن‌قولویه، جعفر بن‌محمد، پیشین، ص242ــ 249و23.

[35]. ابن‌قولویه، جعفر بن‌محمد، پیشین، ص282، باب 93، ح10؛ طوسی، محمد بن‌حسن، ‌تهذیب الاحکام، ج6، ص75؛ همو،  امالی، ص318؛ مجلسی، محمدباقر، پیشین،‌ ص506.

[36]. ابن‌قولویه، جعفر بن‌محمد، پیشین، ص283، باب93، ح12.

[37] کلینی،‌ محمد بن‌یعقوب، پیشین،‌ ج2، ص576، ح 1. «اللّهم إني أسألك و لم يسأل العباد مثلك أسألك بحق محمد نبيك و رسولك و إبراهيم خليلك...».

 .[38] همان، ص526، ح21.

[39]. طوسی، محمد بن‌حسن، مصباح المتهجد و سلاح المتعبد، ج‏1، ص 123.

[40]. شیخ مفید، الاختصاص، ص252.

[41]. طوسی، محمد بن‌حسن، پیشین،‌ ج2، ص798.

[42]. ابن‌قولویه، جعفر بن‌محمد، پیشین، ص43، باب11، ح2؛ طوسی، محمد بن‌حسن،  تهذیب الاحکام، ج6، ص28؛ کلینی، محمد بن‌یعقوب، پیشین، ج4، ص569.

[43]. ابن‌بابویه، محمد بن‌علی، پیشین، ج2، ص609ــ617؛ طوسی، محمد بن‌حسن،‌ پیشین،‌ ج 6، ص95ــ 101؛ ابن‌بابویه، محمد بن‌علی، ‌عيون اخبار الرضا، ج2، ص272ــ277.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ