مصنف :  ڈاکٹر فیض احمد چشتی

حکیم الامت دیوبند صاحب میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عید میلاد لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں ہم اسے باعث برکت سمجھتے ہیں اور جس مکان میں عید میلاد منائی جائے اس میں برکت ہوتی ہے ۔ (ارشاد العباد فی عید میلاد صفحہ نمبر 4)

حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وجود سب سے بڑی نعمت ہے یومِ ولادت پیر اور تاریخ ولادت بارہ (12) ربیع الاوّل باعث برکت ہیں اس دن و یوم میلاد سے برکتیں حاصل ہوتی ہیں ۔ (ارشاد العباد فی عید میلاد صفحہ نمبر 5)

حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وجود سب سے بڑی نعمت ہے اور تمام نعمتیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے ملی ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اصل ہیں تمام نعمتوں کی ۔ (اِرشادُالعِبَاد فِی عِیدِ المیلاد صفحہ نمبر 5 ، 6)

حکیم الامت دیوبند لکھتے ہیں : ذکر ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم دیگر اذکار خیر کی طرح ثواب اور افضل ہے ۔ (امدادُالفتاویٰ جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 351 مطبوعہ انڈیا،چشتی)

مکتبہ فکر دیوبند کے دوستو آؤ منکرات کے خلاف مل کر کام کریں آواز اٹھائیں مگر خدا را ہماری نہ مانو اپنے حکیم الامت صاحب کی مان لو اور وہابیت کے راستے پر چل کر میلاد جیسے ثواب کے کام کا مذاق مت اڑاؤ پڑھو تھانوی صاحب کیا لکھ رہے ہیں ۔ اب آپ کی مرضی ہے اس ثواب کے کام کا مذاق اڑاؤ یا منا کر ثواب کماؤ ۔

حکیم الامت دیوبند تھانوی صاحب فرماتے ہیں : میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلّم مستحب عمل ہے اس شامل منکرات کو ترک کرنا چاہیئے نہ کہ مستحب عمل کو ۔ (مجالس حکیم الامت صفحہ نمبر 160 مطبوعہ دارالاشاعت اردو بازار کراچی )

اے اہلیان دیوبند آپ کے حکیم الامت علامہ اشرف علی تھانوی صاحب میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلّم کو مستحب عمل قرار دے رہے ہیں ذرا بتایئے مستحب عمل کرنے پر ثواب ملتا ہے یا گناہ ؟ سنیئے ہم بھی مستحب سمجھ کر میلاد مناتے ہیں فرض یا واجب نہیں ۔

رہی بات منکرات کی تو ہم سخت مخالف ہیں اور رد کرتے ہیں ان غیر شرعی افعال کا جو کچھ جہلا شامل کر لیتے ہیں آیئے منکرات کا رد کریں مستحب عمل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلّم کو دھوم دھام سے منائیں ۔

حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب فرماتے ہیں : میلاد ہر جگہ تو بدعت ہے مگر کالج میں منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ واجب ہے ۔ (ملفوظات حکیم الامت انفاس عیسیٰ جلد نمبر 21 حصّہ اوّل صفحہ نمبر 326،چشتی)
اب دیوبندی حضرات سے سوال ھے کہ میلاد ہر جگہ بدعت کیوں ہے ؟ اور کالج میں جائز بلکہ واجب کیوں ھے ؟ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس تضاد بیانی کا جواب دیا جائے اوٹ پٹانگ باتوں سے پرھیز فرمائیں موضوع اور پوسٹ کے مطابق جواب عنایت فرمائیں جاہلانہ کمنٹ کرنے والوں سے ایڈوانس معذرت ایسے لوگ پوسٹ سے دور رہیں ۔

بانی دیوبند سے سوال کیا گیا مولانا عبد السمیع رامپوری میلاد مناتے ہیں آپ کیوں نہیں مناتے کہا انہیں حب رسول صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا بڑا درجہ حاصل ہے دعا کرو مجھے بھی حاصل ہو جائے۔ ( مجالس حکیم الامت صفحہ 124)

معلوم ہوا میلاد محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم والے ہی مناتے ہیں آؤ میلاد منائیں محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں ڈوب کر ۔

حکیم الامت مکتبہ فکر دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب فرماتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا ذکر پاک طاعون سے چھٹکارے کا سبب ہے محفل میلاد ہر روز مناؤ سرکار صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا ذکر پاک کرو آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے ذکر کی کتاب پڑھنے سے مصائب دور ہوتے ہیں ۔ (خطبات میلاد رسالہ النور صفحہ نمبر 112،113 ،)

یہی ہم کہتے ہیں مٹھائی بانٹنا یا لنگر کا اہتمام شرط میلاد نہیں ہے اور نہ اہلسنت یہ کہتے ہیں ہاں اگر کوئی اہتمام کرے تو ناجائز بھی نہیں ہے علمائے دیوبند و اہلسنت دونوں سے ایصال ثواب ثابت ہے

 

5998--1--587987465851212.png

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ