بدعت کے حوالے سے ایک سب سے اہم مسئلہ بدعت کے عناصر و ارکان کی شناخت کا مسئلہ ہے جسمیں افراط و تفریط سے کام لینے کی وجہ سے اسلامی معاشروں میں بہت ساری  گڑبڑیاں اور انحرافات دیکھنے کو ملتے ہیں  ، یہ مضمون ، افراط وتفریط سے بچنے کے لیے قرآن مجید اور سنت کے نقطۂ نظر سے بدعت کے معیارات  کا جائزہ لیتا ہے تاکہ دین میں افراط و تفریط سے بچا جاسکے۔ اسلامی اسکالرز کے منابع و مأخذ اور انکی کتابوں میں ،بدعت کے ارکان کوکچھ یوں بیان کیا گیا ہےکہ: دین میں بدعت کی کوئی اساس و بنیاد نہیں ہے،بدعت دین میں ایک نئی اور جدید چیز کا نام ہے، کسی چیز کو دین  کی طرف منسوب کرنے کا نام بدعت ہے، دین میں اضافے کا قصد رکھنا، کسی چیز کو دین کے نام پر مشہور کرنا،دین کے نام پر کسی چیز کا مسلسل انجام دینا،شریعت کے مقاصد و اہداف سے مخالفت رکھنے والے افعال انجام دینا،اور کسی فعل کا پہلے کی تین صدی ہجری میں نہ ہونا؛ یہ ساری چیزیں بدعت کے ارکان و عناصر میں شمار ہونگی،آیات و روایات کا جائزہ لینے کے بعد  ، ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دین و مذہب میں کسی چیز کی اساس و بنیاد کا نہ ہونا،جدید اور حادث ہونا،دین میں کمی یا زیادتی کرنا،دین کی طرف کسی چیز کو منسوب کرنا، اور کسی چیز کی جانب جھکاؤکو بدعت کے ارکان و عناصر میں شمار کیا جائے گا، اور کچھ امور جیسے کہ مشہور ہونا،لگاتار انجام دیا جانا،شریعت کے اہداف و مقاصد سے  جدا ہونااور پہلے کی تین صدیوں میں کسی چیز کے نہ ہونے کو گرچہ بعض افراد نے انہیں بدعت کا ہی ایک عنصر اور اسکا رکن مانا ہےلیکن درحقیقت یہ بدعت کے ارکان میں شمار نہیں کیے جائیں گے۔
مصنف :  مرتضی مختاری(کارشناس ارشد کلام اسلامی ، موسسه امام صادق ع اور فارغ التحصیل موسسه دارالاعلام لمدرسة اهل البیت ع)- سید حسن آل مجدد شیرازی(استاد حوزه علمیه قم اور موسسه دارالاعلام لمدرسة اهل البیت ع)
حوالہ :  مجله سلفی پژوهی، نمبر 7

مقدمہ

بدعت ایک بہت ہی اہم اسلامی تصور ہے؛ اس مضمون میں بدعت کے ارکان و عناصت کو بیان کیا گیا ہے،وہ چیز جس نے ہمیں اس موضوع پر تحقیق و تفتیش کرنے پر مجبور کیا ہے وہ سنت اور بدعت کے باب میں افراط و تفریط کا مشاہدہ ہے، یہ انحرافات کچھ اس طرح سے اسلامی معاشرے میں جڑ پکڑ گئے ہیں کہ کچھ معاملات میں ،بعض افراد نے اپنے مخالفین کو تکفیر کی سرحد پر لا کھڑا کیا ہے، بدعت کے ارکان و عناسر کو واضح و روشن کرنے کے لیے اس موضوع پر کوئی جامع کتاب ابھی تک نہیں لکھی گئی ہے،گرچہ بعض کتب کہ جسمیں بدعت کی گفتگو ہوئی ہے اسمیں ضمناً بدعت کے ارکان و عناصر پر بحث ہوئی ہے ،یہ مقالہ تین اعتبار سے بعض دوسرے مقالات جو اس عنوان پر لکھے گئے ہیں  ممتاز ہے:

  • بدعت کے موضوع پر مبنی کتابیں عربی زبان میں اور مفصل ہیں ؛ لیکن یہ مقالہ آسان زبان میں اور مختصر طور پر شستہ رفتہ انداز میں حاشیہ پردازی کے بغیر لکھا گیا ہےاور خالص طور پر بدعت کے ارکان کی ہی وضاحت میں ہےتاکہ قارئین دلبرداشتہ نہ ہوں اور آسانی سے اسے پڑھ سکیں اور اسے سمجھ سکیں اور انہیں ذہنی تھکان بھی محسوس نہ ہو۔
  • یہ تحقیق، بدعت کے معیار کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل اور اسی دائرے میں اسکی تفتیش اور اسکا جائزہ لیتی ہے۔
  • اس تحقیقی مطالعے میں بدعت کے ارکان کا جائزہ لیا گیا ہے ، ساتھ ہی بدعت کے دوسرے آثار اور اسکی شاخوں کو بھی مجموعی طور پر مورد تفتیش قرار دیاگیا ہےاور بدعت کے ارکان پر دوسرے مباحث میں بھی  تبادلہ ٔخیال کیا گیا ہے۔

بدعت کے معنیٰ

لغت میں بدعت کے معنی کسی چیز کو ایجاد  کرنے کے ہیں کہ جو پہلے نہیں تھی [[1]] ، اسمیں کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہے کہ چاہے وہ ایجاد شدہ چیز دینی چیزوں میں سے ہو یا غیر دینی چیزوں میں سے ۔

بدعت کی اصطلاحی تعریف میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں؛ جنمیں سے کچھ تعریفات   متشددانہ نکات کی حامل اور مبالغہ آمیز ہیں اور کچھ رواداری  کےنکات پر مشتمل ہیں؛بعض افراد بدعت کو عام معاملات میں بھی ممکن خیال کرتے ہیں [[2]] جبکہ کچھ اسے مذہبی  اور دینی امور سے ہی مخصوص سمجھتے ہیں [[3]] کچھ افراد نے   بدعت کی بس ایک  ہی قِسم  مانی ہے اور وہ یہ کہ: بدعت ایک ایسی چیز ہے کہ جسکی دین و مذہب میں کوئی اساس و بنیاد نہیں ہے[[4]]، بعض افراد نے بدعت کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہےاور کہا ہے کہ وہ چیز کہ جو دینی تعلیمات کے مطابق ہو وہ ممدوحہ بدعت ہے اور جو چیز دین کے مخالف ہو وہ مذموم بدعت ہے[[5]]،بعض افراد نے احکام تکلیفی(واجب و مستحب و مباح و مکروه و حرام)  کی اساس پر بدعت کی پانچ قسمیں گنوائیں ہیں[[6]]، آیت اللہ سبحانی نے بدعت کے بارے میں لکھی گئی اپنی ایک کتاب میں بدعت سے متعلق شیعہ اور سنی علمائے کرام کی سولہ تعریفوں کا ذکر  کیا ہے[[7]] ، بدعت کی مختلف تعریفوں[[8]] اور دلائل و شواہد [[9]]کو دیکھتے ہوئے ، کہا جاسکتا ہے کہ بدعت کا مطلب دینی تعلیمات سے چھیڑچھاڑ اور اسمیں تصرف کرنا ہے ، جہاں دین ومذہب میں اسکی کوئی  اصل و بنیاد نہیں ہے ، وہیں اسکی نسبت بغیر کسی ٹھوس ثبوت کےدین و مذہب کی جانب دی جانے لگتی ہے؛بدعت کی جو تعریف  ہم نے پیش کی اسکی بنیاد پر اب ہم بدعت کے معیار اور اسکے ارکان و عناصر کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔

 

بدعت کے ارکان

بدعت سے متعلق منابع و مأخذ میں  بدعت کے ارکان و عناصر بیان کیے  گئےہیں، جنمیں سے کچھ یہ ہیں: دین ومذہب میں اسکی جڑ اور اساس و بنیاد کا نہ ہونا؛دین میں کمی بیشی کرنا،دین کی طرف کسی چیز کو منسوب کردینا،اس جانب متوجہ ہوجانا کہ یہ چیز بدعت ہے،مشہور ہوجانا کہ یہ کام بدعت ہے،لگاتار کسی کام کا انجام دیا جانا،شریعت کے مقاصد و اہداف سے اس چیز کا دور اور مخالف ہونااور ایسی چیز کا شروعاتی تین صدیوں میں نہ پایا جانا؛ بدعت کے سلسلے میں دعوایٰ کیے گئے ان ارکان و عناصرکا آنے والی بحثوں  میں قرآن و سنت کی روشنی میں  الگ الگ جائزہ لیا جائے گا۔

دین میں بدعت کی جڑوں کا نہ ہونا

بدعت کے مجموعی ارکان میں سے ایک دین میں بدعت کی جڑوں کا نہ ہونا ہے، بدعت کا یہ عنصر بعد میں آنے والے رکن سے  مختلف ہے ، من جملہ یہ کہ اس میں ایک فعل کے غیر مذہبی تعلقات پر توجہ  مرکوز ہوتی ہے،جبکہ  بعد میں آنے والے رکن میں  ایک فعل کے دین سے وابسطہ ہونے پر توجہ دی جاتی ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ یہ رکن بعد میں آنے والے رکن کے لیے مقدمہ کی حیثیت رکھتا ہے،اس رکن کا وجود بدعت کی تعریف میں واضح طور پر دیکھا جاتا ہے ، اور بہت سارے علماءنےاسے  بیان کیا ہے [[10]]، بہت ساری آیات اور روایات ہیں جو اس عنصر کی طرف اشارہ کرتی ہیں ، جن میں سے کچھ کا تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے:

آیت)   وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ؛[[11]]اللہ پر بہتان باندھنا(کہ جو درحقیقت بدعت ہی ہے)قابل مذمت قرار دیا گیا ہے؛جیسا کہ افترا[[12]] اور کذب کے معنیٰ سے واضح ہے، ایسے معاملات ایسی چیز کہ جسکی کوئی  حقیقت  نہیں ہوتی ہےاسے حقیقت واقعیت کے پیرائے میں پیش کیا جاتا ہے؛ لہذا ، جب کسی چیز کی اساس و بنیاد دین پر قائم ہوگی تو وہ افتراء نہیں کہلائے گی؛کیونکہ دین میں شامل اور دین کے جزء کو اگر خدا کی طرف منسوب کیا جارہا ہے تو جہاں یہ کام کذب پر مبنی نہیں ہوگا وہیں یہ افتراء بھی نہیں ہوگا۔

آیت).... وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ[[13]]؛ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ  کسی کو بھی  خدا کے فیصلہ کے خلاف فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہےاور اسے خدا کے حکم کے بالمقابل لانا کسی بھی صورت درست نہیں ہے، اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک ایسا حکم کہ جسکی بنیادیں دین میں ہوں وہ خدا کا حکم ہے ،اس بنیاد پر واضح ہوجاتا ہے کہ آیت میں ایسے حکم کی مذمت ہے کہ جسکی بنیادیں دین میں نہ ہوں اور دین سے باہر کی کوئی چیز ہو۔

آیت) ... إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ....[[14]]؛ یہ آیت بھی حکم کو صرف اور صرف ذات باری تعالیٰ سے ہی مخصوص بتاتی ہے؛یعنی ہر وہ حکم اور فیصلہ جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جس کی جڑ دین و مذہب میں نہ ہووہ مردود ہے۔

 احادیث نبوی میں بھی   اس طرح کی عبارتیں مذکور ہیں کہ جو اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہیں:

احادیث) «... شَرُّ اَلْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ»،[[15]] اور « مَنْ اَحْدَثَ فِيْ اَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ »،[[16]] اور «كُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ »،[[17]]یہ کچھ اس طرح کی احادیث کا ایک نمونہ ہے کہ جس میں  "محدث" یا "احدث" جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ جس کا مصدر "حدث" ہے کہ جو قدیم کا ضد اور جدید اور نو آوری کے معنوں میں ہے[[18]]،لسان العرب میں ابن منظور نے  حدیث «شر الامور محدثاتها»کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ: "حدیث کا مفہوم ایک ایسی چیز سے وابسطہ ہے کہ  جسے کتاب  و سنت اور اجماع میں تسلیم نہیں کیا گیا ہے[[19]] ابن حجر نے حدیث «من احدث فی امرنا»کے ضمن  میں کہا ہے کہ : اس سے مراد کچھ ایسی چیزیں ہیں کہ جنکا کوئی تعلق دین سے نہ ہو[[20]]؛لہٰذا ایک ایسا عمل کہ جسکی بنیاد اور حقیقت دین میں ہو اور دین سے وابسطہ اس پر بدعت کا حکم لاگو نہیں ہوگا۔

دین کی جڑ  اور اس کی بنیاد خاص بھی ہوسکتی ہے اور عام بھی[[21]]؛ کیونکہ عمومیت میں گرچہ عمل کی وضاحت نہیں ہوتی لیکن عام طور پر ، اس عمل  کو اپنے اندر شامل  کیے ہوتا ہے،  مثال کے طور پر ، جب کوئی شخص اسلام کے دفاع کے لئے ہتھیار اٹھاتا ہے اور دین کے دشمنوں سے جنگ کرنے جاتا ہے ، تو اسے بدعت گزار نہیں کہا جاتا ہے؛اگر چہ وہ اس کام کو انجام دینے کے لیے موجودہ زمانے کے  ہتھیار جیسے بندوق  یا دستی بم ، وغیرہ استعمال کرتا ہے کیونکہ  آیت شریفہ «وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ...»[[22]]،بطور عام اسکے اس عمل کو اپنے اند شامل اور اسکی تائید کرتی ہے،جبکہ اس سے بڑھکر کچھ ایسے افعال و اعمال  کہ جن کے لئے شریعت میں قانون موجود ہے اور وہ جائز  بھی ہیں اگر انہیں کسی  خاص طریقے پر انجام دیا جائے کہ اس خاص طریقہ پر انجام دینے کا کوئی قانون یا بنیاد دین میں نہ ہو تو ایسا کرنا بدعت شمار ہوگا؛ مثال کے طور پر ، نماز ایک مشروع اور جائز عمل ہے؛لیکن  اگر کوئی اپنے سلیقے سے اس بات کا مقید ہوجائے کہ وہ یومیہ نماز کو کسی خاص وقت پر کسی خاص طریقے سے پڑھے گا  اور اپنے اس عمل کو دین  سے منسوب  کرے تو اس کا یہ عمل بدعت شمار کیا جائے گا کیونکہ اس کو ثابت کرنے کے لئے نہ ہی کوئی عام اصول موجود ہے نہ ہی کوئی خاص اصول، جیزانی نےاس سلسلے میں کہا ہے کہ جائز اور مشروع عمل بھی  تین شرائط کے ساتھ  بدعت شمار کیا جائے گا: 1. اپنے ذاتی سلیقے اسے انجام دینا اور اسے لوگوں میں رواج دینا، ۲. تسلسل کے ساتھ اس عمل کو انجام دیتے رہنا، ۳. اس عمل کی فضیلت پر یقین رکھنا[[23]

دین میں کمی یا زیادتی

بدعت کے ارکان و عناصر میں سےایک کہ جسے بدعت کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا اضافہ یا کم کردیا جائے،علماءِ دین نے اس رکن کودین میں کمی یا زیادتی اور اس رکن کے جدید ہونے جیسی عبارتوں سے تعبیر  اور اسے بدعت کی حیثیت سے بیان کیا ہے [[24]] ،قرآن مجید کی متعدد آیات نے اس  کی مذمت کی ہے، جیسے آیت شریفہ:« قُلْ آللَّـهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّـهِ تَفْتَرُونَ »[[25]]،یہ آیت کریمہ استفہام توبیخی کے ذریعہ ان لوگوں کا مؤاخذہ کررہی ہے کہ  جو حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال کرتے ہیں، اور کہتی ہے کہ: اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟اس آیت میں لفظِ افتراء جھوٹ کی نسبت دینے کے معنوں میں ہے[[26]]؛دین میں اضامہ کی مذمت پر دلالت کرنے والی آیات میں سے ایک سورۂ البقرہ کی آیت نمبر 79 ہے، اللہ نے اس آیت میں ارشاد فرمایاہے: سو خرابی و بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے (جعلی) کتاب (تحریر) لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے (آئی) ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت (دنیوی فائدہ) حاصل کریں پس خرابی ہے ان کے لئے ان کے ہاتھوں کی لکھائی پر اور بربادی ہے۔ ان کے لئے ان کی اس کمائی پر [[27]]۔اس آیت میں یہودیوں کو سزا دینے کا وعدہ کیا گیا ہے جو اپنی تحریروں کو چھوٹی چھوٹی دنیوی مفادات کے لئے خدا سے منسوب کردیتے تھے اور اپنے بیان کو خدا کا کلام بناکر پیش کرتے تھے [[28]]، ایک اور آیت میں قرآن پاک کا ارشاد ہے: اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا [[29]]اس آیت میں بدعت کے لفظ کا  استعمال ہوا ہے  اور جو چیز دین میں نہیں ہے اسے دین بناکر پیش کرنے کو بدعت بیان کیا گیا ہے؛ کیونکہ در حقیقت ، عیسائیوں کی رہبانیت (یعنی عبادتِ الٰہی کے لئے ترکِ دنیا اور لذّتوں سے کنارہ کشی)دین کی جانب سے نہیں تھی جسے انہوں نے دین سے منسوب کردیا تھا جسکی اس  آیت میں  مذمت کی گئی ہے؛اس آیت کے فقرے «إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّـهِ»[[30]]،کے بارے میں دو نظریات موجود ہیں؛ بعض نے اسے استثناء منقطع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ:اسکے معنی یہ ہیں کہ ، ہم نے انکے لیے رہبانیت کا انتخاب نہیں کیا تھا؛بلکہ ہم نے تو ان کے لیے رضوان الٰہی کا انتخاب کیا تھا[[31]]؛جبکہ بعض دوسرے علماء نے اسے استثناءِ متصل قرار دیتے ہوئے[[32]]، لکھا ہے کہ:اللہ نے ان کے لیے من جملہ طور پر رہبانیت کا انتخاب تو کیا تھا؛ لیکن انہوں نے اس میں بدعتیں ایجاد کردیں اور اسکی عملی نگہداشت کا جو حق تھا وہ اس کی ویسی نگہداشت نہ کرسکے (یعنی اسے اسی جذبہ اور پابندی سے جاری نہ رکھ سکے)، پہلے معنی کے اعتبار سے من جملہ رہبانیت، اور دوسرے معنی کے اعتبار سے رہبانیت میں مداخلت اور تصرّف کو بدعت قرار دیا گیا ہے ، آیت شریفہ کی دونوں ہی تشریحات کے مطابق ، دین میں اضافہ بدعت اور مذموم حرکت ہے۔

پیغمبر اکرم(ص) نے بھی مختلف احادیث کی الگ الگ تعبیرات کے ساتھ دین میں اِحداث سے منع فرمایا ہے[[33]]،پیغمبر اکرم(ص) نے ایک حدیث میں فرمایا ہے: اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے[[34]

دین کی طرف انتساب

بدعت کے ارکان و عناصر میں سےایک غیر دینی چیز کو دین سے منسوب کرنا ہے؛ لہذا اگر ایک شخص دین سے ہٹ کر کوئی  کام کرتا ہے لیکن اس کو دین سے منسوب نہیں کرتا ہے تو ، اس کام کو بدعت نہیں کہا جائے گا، حدیث میں موجود فقرہ «فی امرنا هذا»،اسی رکن کی جانب متوجہ کرتا ہے، پیغمبراکرم(ص)نے اس روایت میں بدعت کو ایک مردود مسئلہ کے طور پر متعارف کرایا ہےاور فرمایا ہے کہ: جس نے ہمارے اس دین میں ایسا طریقہ ایجاد کیا جس کا تعلّق دین سے نہیں ہےتو وہ مَرْدُود  اور قابل قبول نہیں ہے[[35]]،اس روایت میں «امرنا»سے مراد دین ہے[[36]]، اور «ما لیس منه»،سے مراد ایسی چیزیں ہیں کہ جو کتاب و سنت سے خارج اور اسمیں موجود نہیں ہیں[[37]]،پیغمبر اکرم(ص) نے مختلف طریقوں سے اس عنصر کی جانب اشارہ فرمایا ہے،پیغمبر اکرم(ص) سے مسلم نیشاپوری نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر نے فرمایا:جو کوئی ایک ایسا عمل انجام دے کہ ہم سے وابسطہ اور ہم سے متعلق نہ ہو تو ایسا عمل مردود ہے[[38]

 

قصداً اضافہ کرنا

بدعت کے ارکان و عناصر میں سےایک جانتے بوجھتے قصداً کسی ایسی چیز کو کہ جو دین میں داخل نہیں ہے دین میں شامل کردینا ہے،یعنی مبتدع شخص خود اس بات کو پورے علم کے ساتھ جانتا ہو کہ وہ دین میں اضافہ کرنے کا مرتکب ہورہا ہے، اب جہاں تک بات ان جیسی روایات «إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها، أو إلى امرأة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه»[[39]]،کے بارے میں ہے کہ جو شیعہ[[40]]، اور سنی[[41]]، منابع و مأخذ میں کثرت سے پائی جاتی ہےتو اسکی بنیاد پر ایسا شخص کہ جو کسی مسئلہ کے بدعت ہونے کی جانب متوجہ نہ ہو تو اس پر مبتدع ہونے کا الزام نہیں لگایا جاسکتا اور وہ گنہگار بھی نہیں ہے،جیزانی نے بھی اس بات کو قبول کیا ہےاور ایسے شخص کے بارے میں کہ جو غلطی سے بدعت کا مرتکب ہوگیا ہے کے بارے میں لکھا ہے: اگر مسئلہ اس پر مشتبہ نہیں تھا اور اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ بدعت ہے ، تو وہ مجتہدِمخطی کی طرح ہی معذور ہے[[42]]؛مبتدعِ جاہل کے معذور ہونے کی بات ہونے کے بعد ، یہ بحث پیش آتی  ہے کہ آیا ایسے شخص پر مبتدع ہونے کااِطلاق  صحیح ہے یا نہیں؟اس مقام پر بحث کا موضوع بنیادی ہوجاتا ہے؛ اگر یہ کہا جائے کہ آیات و روایات میں مذکور ’’احداث‘‘ اور ’’افتراء‘‘کی لفظیں [[43]]،جب تک قصد و ارادہ محقق نہ ہو  انکے بھی کوئی معنیٰ نہیں ہیں تو ایسی صورت میں ایسا شخص کہ جو بغیر کسی قصد و ارادے کے کوئی انجام دیدے تو اسے مُبتدِع نہیں سمجھا جاسکتا، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ یہ الفاظ بغیر نیت اور بغیر قصد و ارادے کے بھی متحقق ہوسکتے ہیں یعنی اگر کوئی نیا کام بغیر ارادے کے بھی اگر انجام دے ڈالا ہے تو ایسے شخص پر مبتدع کا لیبل لگایا جاسکتا ہے اور مبتدع ہونے اور بدعت گزار ہونے کا یہ لیبل لگانا درست اور صحیح بھی ہوگا؛اگرچہ عمداً نہ ہونے اور اس کام کے بدعت ہونے کی جانب متوجہ نہ ہونے کی بنیاد پر بدعت گزار ہونے کا حکم اس سے اٹھالیا جائے گا اور اسکے لیے کسی طرح کی کوئی سزا اور عقاب نہیں ہوگا،  محقق آشتیانی نے بدعت کے متحقق ہونے میں قصد و ارادے کو دخیل مانتے ہوئے کہاہے کہ: بدعت یہ ہے کہ ایسی چیز کہ جسکے بارے میں ہم جانتے ہوں کہ وہ دین کا جزء نہیں ہےاور پھر جانتے بوجھتے ہوئے اسے دین میں داخل کردیں؛کچھ اس طرح سے کہ وہ شارع کا حکم شمار ہونے لگے[[44]]،  چونکہ یہ مکمل طور پر ایک علمی اور تحقیقی بحث ہے ، اس بنیاد پر چاہے ہم قصد و ارادے کو بدعت کے مفہوم  میں شامل کریں یا نہ کریں اسکا کوئی عملی اثر نہیں سامنے نہیں آئے گا،اسی لیے ہم اس سلسلے میں مزید بحث نہیں کرینگے اور اسکا فیصلہ اپنے ذہین اور معزز قارئین  پر چھوڑ دیں گے،اب تک جو کچھ مطالب بیان کیے گئے وہ قرآن و سنت کے نقطہ ٔنظر سے بدعت کے ارکان و عناصر کا بیان تھا؛  اب اس کے بعد ان مسائل پر گفتگو ہوگی کہ جنکے بارے میں یہ گمان کرلیا گیا ہے کہ وہ بھی بدعت کے ارکان و عناصر میں سے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ بدعت کے ارکان و عناصر میں سے نہیں ہیں۔

بدعت کے غیر موثق ارکان و عناصر

کچھ ایسی چیزیں جو بدعت کے ارکان و عناصر میں سے نہیں ہیں ، لیکن کچھ افراد نے انہیں بدعت کا ارکان و عناصر میں سے گمان کرلیا ہے، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

 

۱-مشہور ہونا[افواہ]

بعض افراد نے بدعت کے ارکان میں سے اشاعہ   یا افواہ یعنی کسی چیز کا عوام میں مشہور یا انکے درمیان پھیل جانے یا رائج ہوجانےکو قرار دیاہے[[45]]، ان لوگوں کا ایسا کہنا اس وجہ سے ہے کہ  بغیر کسی چیز کے مشہور ہوئے یا لوگوں میں رواج پائے کوئی بھی چیز نہ تو دین سے کم ہوسکتی ہے اور نہ ہی دین میں کسی صورت زیادتی کرسکتی ہے ، اور چونکہ بدعت کا مطلب دین سے تعلق نہ رکھنے والی چیزوں کو دین میں  داخل کرنا یاا اس سے کسی چیز کا خارج کرنا  ہے ، اس لیے اشاعہ کو بدعت کے ارکان و عناصر میں سے سمجھنا لازم و ضروری ہے،اس نظریہ کے حامی  لوگ کہتے ہیں کہ: دین میں کمی بیشی کی بات اسی وقت صادق آسکتی ہے کہ جب کوئی شخص علیٰ الاعلان بنام دین کسی چیز کو عوامی سطح پر رائج کرنے کی کوشش کرے  اور لوگوں کو اس کی جانب دعوت دے ، جبکہ اسکے برعکس گھر میں بیٹھے بیٹھے  دین میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا ہے[[46]]،وہ اپنے مفروضہ دعوؤں کے لئے بطور دلیل کچھ اس طرح کی احادیث سے استفادہ کرتے ہیں کہ جو بشمول صحیح مسلم میں مندرج ہے،اس روایت میں رسول اللہ [ص] فرماتے ہیں: جس شخص نے مسلمانوں میں کسی ‘‘نیک طریقہ ’’ کی ابتدا کی اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا تو اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہیں ہو گی، اور جس شخص نے مسلمانوں میں کسی برے طریقے کی ابتداء کی اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا تو اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اس شخص کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی [[47]]، اسی طرح وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ روز قیامت پیغمبر (ص)کو خطاب کرتے ہوئے کہا جائے گا: «إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك»[[48]]،جوکہ اس بات پر دلیل ہے کہ بدعت کا مفہوم اس وقت متحقق ہوگا کہ جب وہ مشہور ہوجائے؛ کیونکہ دین میں تبدیلی ایک یا دو شخص کے عمل سے نہیں آتی[[49]

نقد و نظر

اس استدلال کے طریقۂ کار پر بہت سارے اعتراضات وارد ہیں؛منجملہ اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ کسی ایک شخص کا تنہا ایک عمل بھی دین میں اضافہ کا باعث بن سکتا اور یہی ایک ایک فرد ملکر ایک معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں؛اگر فرض یہ ہوکہ ہرایک شخص اپنی اپنی طرف سے دین میں اضافہ کرتا رہے یا دین سے کم کرتا رہے تو پھر تو دین میں کچھ بچے گا ہی نہیں،گرچہ وہ افراد دین میں کچھ اضافہ یا کم کرنے کا قصد وارادہ نہ بھی رکھتے ہوںاور لوگوں کو اپنے اس عمل کی جانب نہ بھی بلاتے ہوں؛ اگر اشاعہ کو بدعت کا ہی ایک رکن اور عنصر مان لیاگیا تو پھر ایسی صورت میں ایسا شخص کہ جو دین میں کمی یا زیادتی تو کرتا ہو لیکن اشاعہ کا قصد وارادہ نہ رکھتا ہو تو پھر ایسے شخص کو ان آیات و روایات کا مخاطب نہیں سمجھنا چاہیئے جوکہ بدعت کی مذمت میں آئی ہیں، اور پھر ایسی صورت میں  کوئی بھی چیز اسکے فعل کی حرمت کو ثابت نہیں کرپائے گی؛جبکہ بعض محققین نے اشاعہ کو تو بدعت کے ارکان میں سے مانا ہے جبکہ مداومت [تکرار] کو بدعت کے ارکان و عناصر میں سے نہیں مانا ہے؛جبکہ وہی دلیل کہ جسے انہوں نے اشاعہ کے اثبات میں استعمال کیا ہے [[50]]،وہی مداومت کے بارے میں بھی استعمال میں لائی جاسکتی ہے اور موجود بھی ہے، یہ روایت: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا، فَهُوَ رَدٌّ»[[51]]،اس مطلب کی تائید میں موجود ہے کہ ایک شخص کا بھی عمل دین میں اضافہ اور بدعت ہےگرچہ اسمیں اشاعہ یا مداومت نہ پائی جاتی ہوکیونکہ حدیث میں موجود عبارت« مَنْ عَمِلَ»سبھی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

2-مداومت و تسلسل

مداومت و تسلسل ان چیزوں میں سے ایک ہے جو بدعت کے ارکان و عناصرکا حصہ نہیں ہے؛ لیکن بعض نے اسے بدعت کا ہی ایک رکن قرار دیا ہے،شاطبی نے بدعت کو کبیرہ اور صغیرہ میں تقسیم کیا ہے ، اور صغیرہ کے لیے تین شرائط بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ہر ایسی بدعت کہ جسمیں ان شرائط میں سے کوئی ایک نہ ہو وہ کبیرہ ہے؛منجملہ ان شرائط کے کہ جسے شاطبی نے بدعت صغیرہ کے لیے ذکر کیا ہےاسمیں کسی فعل پر مداومت نہ رکھنا ہے،شاطبی نے مداومت کو بدعتِ کبیرہ کے شرائط میں سے قرار دیا ہے[[52]

نقد و نظر

اس موضوع پر تحقیق کرنے سے واضح ہوجائے گا کہ مداومت بھی اشاعہ کی طرح ہی بدعت کے ارکان و عناصر میں سے نہیں ہے، وہ شخص جو کم از کم ایک بار بھی  دین میں کسی فعل کو اپنی طرف سےشامل یا اضافہ کرتا ہے ، تو اس کا یہ ایک کام بھی بدعت کی تعریف کے مطابق دین میں اضافہ شمار کیا جائے گااور ایسا کا م کرنے والا بدعت گزار مانا جائے گا، اور آیات و روایات میں وارد نہی و مذمت کا بھی مخاطب قرار پائے گا،جبکہ واضح رہنا چاہیئے کہ بدعت میں مداومت کے شرط نہ ہونے پر روایت موجود ہے اس بنا پر مداومت بدعت کے ارکان و عناصر میں سے نہیں ہے؛روایت «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا، فَهُوَ رَدٌّ»[[53]] ،یہ روایت بطورمطلق  دین سے باہر کسی بھی فعل کو یکسر مسترد کرتی ہے ؛اس بات سے قطع نظر کہ اس عمل پر مدامت کی جاتی ہو نہ کی گئی ہو،جیزانی اور آیت اللہ سبحانی جیسے ماہرین مداومت کو بدعت کا رکن و عنصر نہیں مانتے ہیں[[54]

 

۳-شریعت کے مقاصد کے ساتھ متصادم ہونا

کسی چیز کاشریعت کے مقاصد سے  مخالفت رکھنا بدعت کےارکان و عناصر میں سے نہیں ہے؛ لیکن بعض افرادجن میں جیزانی بھی شامل ہیں ، نے گمان کیا ہے کہ صرف وہی چیزیں بدعت مانی جائیں گی کہ جو شریعت کے مقاصد کے مخالف ہوں[[55]]،  جیزانی نے اس قدر اس موضوع کو بدعت سے  مربوط جانا ہے کہ بدعت کے حرام ہونے کی اصل وجہ کو اسے ہی قرار دیا ہے[[56]

نقد و نظر

اس رکن میں بھی متعدد خامیاں پائی جاتی ہیں،سب سے پہلے تو یہ کہ ، کسی بھی عنصر کو ثابت کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت پڑتی اور اس رکن کے اثبات پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے، دوسرے یہ کہ ، خود شریعت کے اغراض و مقاصدکے مصادیق مختلف اور الگ الگ ہیں کہ جنکے بارے میں بعض مقامات پر علماء کے نظریات میں اختلاف پایا جاتا ہے، لہذا ،  بدعت کو شریعت کے مقاصد سے مخالف ہونے میں محصور کردینا ایک اچھا معیار نہیں فراہم کرسکتا ہے،تیسری بات یہ کہ ، بعض معاملات میں ، بدعت اور غیر بدعت کے درمیان فرق صرف ایک شخص کی نیت ہے؛ مثال کے طور پر ، وہ شخص جو غیر دینی فعل انجام دیتا ہے ، اگر وہ اس فعل کو دین کے نام پر انجام دیتا ہے تو وہ بدعت ہے ، لیکن اگر اسی فعل کودین کی طرف منسوب کیے بنا انجام دے تو وہ بدعت نہیں کہلائے گا، کیا اس بات کو مشخص کرنا ممکن ہے کہ یہ واحد فعل ، ایک لحاظ سے ، شریعت کے مقاصد سے متصادم ہے اور دوسرے لحاظ سے ، شریعت کے مقاصد کے مطابق ہے؟

۴-کسی فعل کا اوائل کی تین صدی ہجری میں نہ پایا جانا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اور صحابہ کے زمانے میں ، یا پہلی تین صدیوں میں ، کسی فعل کا انجام نہ دیا جانا بدعت کے ارکان و عناصر میں سے نہیں ہے؛بعض افراد نے گمان کرلیا ہے کہ کسی چیز کے بدعت ہونے کا معیار اس چیز کا اس زمانے میں انجام نہ پانا ہے[[57]]؛اگرچہ اس طرح کے بیانات میں امتیاز کیوں برتا گیا ہے اس کا ذکر نہیں  ہے کہ کیوں پہلے کی ہی ان تین صدیوں کو یہ امتیاز حاصل ہےاور نہ ہی پہلے کی ہی ان تین صدیوں  میں اس امتیاز کو محصور کردینے پر کسی طرح کی کوئی دلیل موجود ہے؛لیکن اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس گروہ کی اصل دلیل وہ روایات ہیں جن میں صحابہ کی تعریف و تمجید ہوئی ہے اور انہیں بہترین انسان کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، ایک روایت کی بنیاد پر پیغمبر(ص) کا ارشاد ہے: «خیر امتی قرنی ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم»[[58]

نقد و نظر

حقیقت تو یہ ہے کہ پہلی تین صدیوں میں انجام نہ دیئے گئے کسی کام کو بدعت میں شامل نہیں کیا جاسکتا،اس بات پر کسی طرح کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ  بدعت اور سنت کے درمیان حدِّفاصل پہلی تین صدی کو قرار دے دیا جائے، کیونکہ بعض اوقات ایک ایسا فعل کہ جو بدعت ہوتا ہےلیکن وہ صحابہ کے زمانے میں انجام دیا جاتا رہا ہے یہاں تک کہ خود صحابہ نے بھی اسے انجام دیا ہے، خوارج اور مرجئہ کی بدعتیں اسی ضمن میں آئیں گی،ساتھ ہی یہ بھی واضح رہے کہ بنیادی طور پر وہ آیات و روایات جن سے بدعت کی ممانعت ہوتی ہے اسکے سب سے پہلے مخاطب پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے والے ہیں جس میں صحابہ بھی شامل ہوجاتے ہیں؛اس بنیادپراس  بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی فعل کو اس زمانے میں انجام دیا جاتا تھا یا نہیں اس وجہ سےاس چیز کو بدعت کے ارکان و عناصر میں شمار نہیں کیا جاسکتا ہے،وہ چیز جو اہم ہے وہ یہ ہےکہ وہ فعل دین کا ایک جزء ہے یا نہیں؛کیونکہ فارمولہ واضح ہے کہ  اگر  کوئی فعل دین کا جزء نہ ہواور ایک شخص آکر اسے دین میں شامل کرنے لگے تو ایسا کرنا بدعت کہلائے گا؛چاہےصحابہ انجام دیں یا صحابہ کے زمانے میں انجام پائےیا چاہے اسکے بعد کے زمانے میں انجام پائے؛ اسی طرح اگر کوئی فعل دین کا جزء ہو اور کوئی آئے اور اس جزءدین فعل کو دین سے ہٹا دے تو اسکا ایسا کرنا بھی بدعت کہلائے گا؛چاہے یہ فعل کسی صحابی کے توسط سے ہی کیوں  نہ انجام پائے، یا اسکے زمانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو،ایک اور خامی جو اس بدعت گمان کیے گئے رکن میں پائی جاتی ہےوہ یہ ہے کہ اس طرح کے رکن کے ہوتے ہوئےبدعت کو پہچاننے کی کوئی خاص نشانی باقی نہیں رہ جائے گی،کیونکہ ہر صدی کے لئے کوئی مقررہ حد نہیں ہے اور تین صدیوں کے اختتام کا پتہ نہیں ہے،ہر صدی کی مقدار معین کرنے میں بہت سارے اقوال پائے جاتے ہیں،ابن حجر نے ہر صدی کی مقدار بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ۱۰ سال سے لیکر ۱۲۰ سال تک میں اختلافِ رائے موجود ہے[[59]]،جبکہ مشہور قول کی بنیاد پر ایک صدی کی مقدار ۱۰۰سال پر محیط ہے[[60]]،اگر خیر القرون کو سمجھنے اور حساب لگانے کے لیے مشہور کے قول کو معیار بنائیں تو شروعاتی دور کےتقریباً ۳۰۰ سال  شامل ہوجائیں گے اور پھر سنت و بدعت کو اسی زمانے کے حساب سے پرکھیں گے؛جبکہ ابن حجر عسقلانی کا کہنا ہے کہ:تقریباً ۲۲۰ ہجری میں مسلمانوں کے یہاں بدعت رواج پاگئی تھی،اور پھرابن حجرنے اس مسئلہ کو آج کے زمانے تک جاری مانا ہے[[61]]، قرون کی تشخیص کے معمہ سے پَرے ،اچھائی اور برائی کی کسوٹی بھی غیر واضح ہے ؛اور پھرآخر کار یہ مانتے ہوئےکہ  پہلے کی تین صدیاں سب سے اچھی ہیں تب بھی ، اس کا بدعت کے مسئلہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، کیونکہ خیر القرون میں بھی لوگ بدعت کا ارتکاب کرسکتے ہیں، کیونکہ اسی جانب قرآن مجید کی یہ آیت اشارہ کرتی ہے: وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ؛[[62]]یہ  آیت صحابہ کے زمانہ میں بدعت کے امکان کی تصدیق کرتی ہے ، ساتھ ہی  اس طرح کی روایات: «انک لا تدری ما احدثوا بعدک»[[63]]،اس مسئلہ کو پایۂ ثبوت تک پہنچاتی ہے،آخر میں یہ بھی واضح کردینا ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانے میں محض کسی فعل کی عدم انجامدہی اس فعل کے بدعی ہونے پر دلیل نہیں ہے؛بلکہ بعض دوسرے نکات پر بھی توجہ رکھنا نہایت ضروری اور لازمی ہے؛واضح رہے کہ کسی فعل کو انجام دینے کے سارے اسباب فراہم ہوں اور کسی طرح کی کوئی رکاوٹ سامنے نہ ہوساتھ ہی  آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ کے لیے بھی اس فعل کو انجام دینے کے سارے زمینے فراہم ہوں اور پھر  آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ نے جان بوجھ کر اور عمداً اس فعل کوچھوڑ دیا ہو تاکہ ایسا کرکے وہ اس کام سے لوگوں کو روک سکیں تو پھر ایسی صورت میں وہ فعل دین سے باہر مانا جائے گا اور اس کام کو انجام دینے والا بدعت گزار کہلائے گا۔

نتیجہ

اسلامی اسکالرز نے بدعت کے ارکان و عناصر کی وضاحت کی ہے،اس مختصر سے مقالے میں، قرآن و سنت کو معیار و میزان قرار دیتے ہوئے بدعت کے تمام ارکان و عناصر کا جائزہ لیا گیا ہے،حقیقتِ مطلب یہ کہ قرآن و سنت رُو سے بدعت کے ارکان و عناصر یہ ہیں:دین سے عدم وابستگی،جدید ہونا،دین میں کمی بیشی کرنا،دین سے منسوب دین کی طرف تمائل پیدا کروانا، ساتھ ہی اس تحقیق کے توسط سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ؛ اشاعہ، مداومت،شریعت کے مقاصد سے جدا ہونا،اور پہلی تین صدیوں میں کسی فعل کا نہ ہونا، بدعت کے ارکان و عناصر میں سے نہیں ہیں؛اگرچہ بعض افرد نے انہیں بھی بدعت کے ارکام و عناصر میں سے گمان کیا ہے۔

ترجمہ: سیدلیاقت علی

 .........................................................

منابع و مأخذ

۱. قرآن کریم.

۲. ابن ابی حاتم، عبدالرحمن، تفسیر القرآن العظیم، عربستان سعودی: مكتبة نزار مصطفى الباز، 1419ق.

۳. ابن اثير، مبارک، النهاية في غريب الحديث والأثر، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى، محمود محمد طناحی، بیروت: المكتبة العلمية، 1399ق.

۴. ابن جوزی، عبدالرحمن، تلبیس ابلیس، محقق: سيد جميلی، بیروت: دارالكتاب العربي، چاپ اول، 1405ق.

۵. ابن حبّان، محمّد، الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، بیروت: مؤسسة الرسالة، چاپ اوّل، 1408ق.

۶. ابن حجر عسقلانى، احمد، فتح الباري شرح صحيح البخاري، بیروت: دارالمعرفة، 1379ق.

۷. ابن حنبل شيبانی، أحمد، مسند أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و ديگران، بیروت: مؤسسة الرسالة، چاپ اوّل، 1421ق.

۸. ابن رجب حنبلی، عبدالرحمن، جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وإبراهيم باجس، بیروت: مؤسسة الرسالة، چاپ هفتم، 1422ق.

۹. ابن عساكر، علی، تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الإمام أبي الحسن الأشعري، بیروت: دارالكتاب العربی، چاپ سوم، 1404ق.

۱۰. ابن كثير دمشقی، اسماعيل، تفسير القرآن العظيم، تحقيق: سامي بن محمد سلامة، بیروت: دارطيبة للنشر والتوزيع، چاپ دوم، 1420ق.

۱۱. ابن ماجه قزوينى، محمّد، سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي، بی جا: دارإحياء الكتب العربية، بى تا.

۱۲. ابن منظور، محمّد، لسان العرب، بیروت: دارصادر، چاپ سوّم، 1414ق.

۱۳. ابوداود سجستانى، سليمان، سنن أبى داود، بیروت: المكتبة العصرية، بى تا.

۱۴. احسائی، ابن ابی جمهور، عوالی اللآالی، قم: سيد الشهداء7، 1405ق.

۱۵. امين، محسن، کشف الارتياب في اتباع محمّد بن عبدالوهاب،تحقیق: حسن الامين، بی جا: بی نا، چاپ دوّم، 1382ق.

۱۶. آشتیانی، محمد حسن، بحر الفوائد، قم: کتابخانه حضرت آیت الله العظمی مرعشی نجفی، 1403ق.

۱۷. بخارى، محمّد، صحيح بخارى، تحقيق: محمد زهير بن ناصر، دمشق: دارطوق النجاة، چاپ اوّل، 1422ق.

۱۸. بيضاوی، عبدالله، أنوار التنزيل وأسرار التأويل، تحقيق: محمد عبدالرحمن المرعشي، بیروت: دارإحياء التراث العربي، چاپ اوّل، 1418ق.

۱۹. جیزانی، محمد، قواعد معرفة البدعة، عربستان: دار ابن الجوزی، چاپ ششم، 1433ق.

۲۰. جیزانی، محمد، معیار البدعه، عربستان: دار ابن الجوزی، چاپ اول، 1431ق.

۲۱. راغب اصفهانی، حسین، تفسير الراغب الأصفهاني، تحقيق: محمد عبدالعزيز بسيوني، بی جا: كلية الآداب، جامعة طنطا، 1420ق.

۲۲. زبيدی، محمّد، تاج العروس من جواهر القاموس، تحقیق: علی شیری، بیروت: دارالفکر، 1414ق.

۲۳. زركشی، محمد، المنثور في القواعد الفقهية، کویت: وزارة الأوقاف الكويتية، چاپ دوم، 1405ق.

۲۴. زمخشری، محمود، الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل، بیروت: دارالكتاب العربي، چاپ سوّم، 1407ق.

۲۵. سبحانی، جعفر، البدعة مفهومها حدها و آثارها، قم: موسسه امام صادق، 1416ق.

۲۶. سخاوی، محمّد، فتح المغيث بشرح الفية الحديث للعراقي، تحقيق: علی حسين علی، مصر: مكتبة السنة، چاپ اوّل، 1424ق.

۲۷. سلمی دمشقی (سلطان العلماء)، عزالدين عبدالعزيز، قواعدالأحكام في مصالح الأنام، تعلیق: طه عبدالرؤوف سعد، قاهره: مكتبة الكليات الأزهرية، 1414ق.

۲۸. سیوطی، جلال الدین، حقيقه السنة والبدعة الأمر بالاتباع والنهي عن الابتداع، محقق: ذيب بن مصري بن ناصر القحطاني، بی جا: مطابع الرشيد، 1409ق.

۲۹. سيوطی، جلال الدین، «جمع الجوامع أو الجامع الكبير»، سایت ملتقی اهل الحدیث، http://www.ahlalhdeeth.com

۳۰. سيوطی، عبدالرحمن، الحاوي للفتاوي، بیروت: دارالفكر للطباعة والنشر، 1424ق.

۳۱. شاطبی، ابراهیم، الاعتصام، تحقیق: محمد بن عبدالرحمن الشقیر، عربستان: دار ابن جوزی، چاپ دوم، 1431ق.

۳۲. شریف مرتضی، علی، رسائل الشریف المرتضی، بی جا: دارالقرآن الکریم، 1405ق

۳۳. طبرانى، سليمان، المعجم الأوسط، تحقيق: طارق بن عوض الله و عبد المحسن الحسيني، قاهره: دارالحرمين، بی تا.

۳۴. طبری، محمّد، جامع البيان في تأويل القرآن، تحقيق: أحمد محمد شاكر، بیروت: مؤسسة الرسالة، چاپ اوّل،1420ق.

۳۵. طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، تحقیق: سید احمد حسینی، تهران: کتابفروشی مرتضوی، 1416ق.

۳۶. عسکری، حسن، معجم الفروق اللغوية الفروق اللغوية بترتيب وزيادة، تحقیق: بيت الله بيات، قم: مؤسسة النشر الإسلامي، 1412ق.

۳۷. غزالی، محمد، إحياء علوم الدين، بيروت: دارالمعرفة، بی تا.

۳۸. فيروز آبادى، محمد، القاموس المحيط، تحقيق: مكتب تحقيق التراث في مؤسسة الرسالة، بیروت: مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع، چاپ ششم، 1426ق.

۳۹. قرافی، احمد، الفروق أنوار البروق في أنواء الفروق، بی جا: عالم الكتب، بی تا.

۴۰. قرطبی، محمد، تفسير القرطبي، محقق: هشام سمير البخاری، ریاض: دار عالم الكتب، 1423ق.

۴۱. قسطلانی، احمد، إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، مصر: المطبعة الكبرى الأميرية، چاپ هفتم، 1323ق.

۴۲. لهيميد، سلیمان، قرة العينين في شرح أحاديث مختارة من الصحيحين، عربستان: رفحاء، بی تا.

۴۳. مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، بیروت: مؤسسة الطبع و النشر،1410ق.

۴۴. منياوی، أبوالمنذر، البدعة الشرعية، مصر: المكتبة الشاملة، چاپ اول، 1432ق.

۴۵. نسفی، عبدالله، تفسير النسفي مدارك التنزيل وحقائق التأويل، تحقيق: يوسف علی بديوی، بیروت: دارالكلم الطيب، چاپ اول، 1419ق.

۴۶. نوری طبرسی، حسین، مستدرك الوسائل ومستنبط المسائل، بیروت: موسسه آل البیت، 1408ق.

۴۷. نووی، يحيی، تهذيب الأسماء واللغات، بیروت: دارالكتب العلمية، بی تا.

۴۸. نيشابورى، مسلم، صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقى، بیروت: دار إحياء التراث العربى، بى تا.

۴۹. هيتمی، ابن حجر، الفتاوى الحديثية، بی جا: دارالفكر، بی تا.

۵۰. هيتمی، ابن حجر، الفتح المبين بشرح الأربعين، جده: دارالمنهاج، چاپ اول، 1428ق.

 

[1] ابن منظور، محمّد، لسان العرب، ج8، ص6؛ فيروزآبادى، محمد، القاموس المحيط، ص702۔

[2] غامدی، سعید، حقيقة البدعة وأحكامها، ج1، ص256۔

[3] «عبادی مسائل میں بدعت اعتقادات کے ساتھ ہی اعضاء و جوارح سے انجام دیئے جانے والے امور کو بھی اپنے اندر شامل کرلیتا ہے؛ علماء کے مطابق ان دونوں چیزوں میں ممکن ہے،شاطبی نے اس طرح کی بدعات کے لیے قدریہ،مرجئہ،اور خوارج جیسے مذاہب کی مثال پیش کی ہے۔ »؛ (شاطبی، ابراهیم، الاعتصام، ج1، ص47؛ ج2 ص416)؛ «آیت الله سبحانی ، روزمرہ کے کاموں کے لیے بدعت جیسے لفظ کا استعمال مناسب نہیں سمجھتے»؛ (سبحانی، جعفر،  البدعه مفهومها حدها و آثارها و مواردها، ص75)؛ «جیزانی نے اس اختلاف کو، لفظی اختلاف مانتے ہوئے کہا ہے کہ:انمیں سے ہر ایک عادت سے مراداس چیز کے علاوہ ہے کہ جسے دوسرے نے اردادہ کیا ہے»؛ (جیزانی، محمد بن حسین، معیار البدعه ضوابط البدعه علی طریقة القواعد الفقهیه، ص204- 203)۔

[4] ابن رجب حنبلی، عبدالرحمن، جامع العلوم والحكم، ج2، ص131۔

[5] ابن جوزی، عبدالرحمن، تلبیس ابلیس، ص28 -26 ؛ سیوطی، جلال الدین، حقيقه السنة والبدعة الأمر بالاتباع والنهي عن الابتداع، ص91؛ ابن رجب حنبلی، عبدالرحمن، جامع العلوم والحکم، ج2، ص131؛ ابن عساكر، علی، تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الإمام أبي الحسن الأشعري، ص97؛ جیزانی، محمد، معیار البدعه، ص80-79؛ غزالی، محمد، إحياء علوم الدين، ج2، ص3؛ ابن اثیر، مبارک، النهاية في غريب الحديث والأثر، ج1، ص106؛  ابن حجر عسقلانی، احمد، فتح الباری، ج4، ص253؛ گزشتہ حوالہ، ج13، ص253۔

[6] قرافی، احمد، أنوار البروق في أنواء الفروق، ج4، ص278 و 219؛ السلمی الدمشقی (سلطان العلما)، عزالدین، قواعد الأحكام في مصالح الأنام، ج2، ص204؛ نووی، يحيی، تهذيب الأسماء واللغات، ج3، ص22؛ زرکشی، محمد، المنثور في القواعد الفقهية، ج1، ص219؛ هيتمی، ابن حجر، الفتاوى الحديثية، ص109؛ سيوطی، عبدالرحمن، الحاوي للفتاوي، ج1، ص221؛ سخاوی، محمّد، فتح المغيث بشرح ألفية الحديث، ج3، ص160۔

[7] سبحانی، جعفر، البدعة مفهومها، حدها و آثارها، ص30-26۔

[8] «البدعه ما احدث مما لا اصل له فی الشریعه یدل علیه»؛ (ابن رجب حنبلی، عبدالرحمن، جامع العلوم الحکم، ص160)؛ «ما احدث و لیس له اصل فی الشرع و یسمی فی عرف الشرع بدعه»؛ (ابن حجر عسقلانی، احمد، فتح الباری، ج5، ص156؛ گزشتہ حوالہ، ج17، ص9)؛ «البدعه ما احدث علی خلاف امر الشرع و دلیله الخاص او العام»؛ (ابن حجر هیتمی، احمد، الفتح المبين بشرح الأربعين، ج1، ص476)؛ «بدعه زیادة فی الدین او نقصان منه من اسناد الی الدین»؛ (شریف مرتضی، علی، الرسائل، ج2، ص265)؛ «البدعه الحدث فی الدین و ما لیس له اصل فی الکتاب و السنه»؛ (طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، ج4، ص298)؛ «البدعة ادخال ما علم انه لیس من الدین فی الدین ولک یفعله بانه امر من الشارع»؛ (محقق آشتیانی، محمد حسن، بحر الفوائد، ص80)؛ «البدعة ادخال ما لیس من الدین فی الدین»؛ (امین، سید محسن،کشف الارتیاب، ج1، ص119 و 94)۔

[9] و رهبانیة ابتدعوها ما کتبناها علیهم الا ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق رعایتها(؛ (سوره حدید، آیه27)؛ «ان افضل الهدی هدی محمد و شر الامور محدثاتها و کل بدعة ضلاله»؛ (ابن حنبل شيبانی، أحمد، مسند أحمد بن حنبل، ج3، ص310)؛ «کل محدثة بدعه و کل بدعة ضلالة»؛ (ابن حنبل شيبانی، أحمد، مسند أحمد بن حنبل، ج4، ص127و 126)؛ «ما احدثت بدعة الا ترک بها سنة»؛ (مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، ج2، ص264؛ گزشتہ حوالہ، ج84، ص101)؛ «من غش أمتى فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين قالوا يا رسول الله6 وما الغش قال أن يبتدع لهم بدعة فيعمل بها»؛ (سیوطی، جلال الدین، جمع الجوامع أو الجامع الكبير للسيوطي، ص23663)۔

[10] ابن رجب حنبلی، عبدالرحمن، جامع العلوم الحکم، ص160؛ ابن حجر عسقلانی، احمد، فتح الباری، ج5، ص156؛ گزشتہ حوالہ، ج17، ص9؛ طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، ج4، ص298؛ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج74، ص203-202۔

[11] «اس سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے جو خدا پر بہتان باندھے اور اس کی آیات کی تکذیب کرے -یقینا ان ظالمین کے لئے نجات نہیں ہے»؛(سوره انعام، آیه21)۔

[12] «الافتراء: الكذب في حق الغير بما لا يرتضيه»؛ (عسکری، حسن، معجم الفروق اللغوية بترتيب وزيادة، ص449)۔

[13] «۔۔۔۔اور جو بھی ہمارے نازل کئے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے گا وہ سب کافر شمار ہوں گے»؛(سوره مائده، آیه44)۔

[14] حکم صرف اللہ کے اختیار میں ہے (سوره انعام، آیه57)۔

[15] ( بدترین ایجاد بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے)ابن حنبل شيبانی، أحمد، مسند أحمد بن حنبل، ج3، ص310۔

[16] «نیشابوری، مسلم، صحیح مسلم، ج5، ص133»؛ (جس نے ہمارے اس دین میں ایسا طریقہ ایجاد کیا جس کا تعلّق دین سے نہیں ہےتو وہ مَرْدُود ہے)؛ (ابن حنبل شيبانی، أحمد، مسند أحمد بن حنبل، ج6، ص270)۔

[17] « ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے»؛ (ابن حنبل شيبانی، أحمد، مسند أحمد بن حنبل، ج4، ص127-126)۔

[18] زبيدی، محمّد، تاج العروس من جواهر القاموس، ج3، ص189۔

[19] «وھی ما لم يكن معروفا في كتاب، ولا سنة، ولا إجماع»؛ (ابن منظور، محمّد بن مکرم، لسان العرب، ج2، ص131)۔

[20] ابن حجر عسقلانی، احمد، فتح الباری، ج5، ص156؛ گزشتہ حوالہ، ج17، ص9۔

[21] ابن حجر عسقلانی، احمد، فتح الباری، ج13، ص254۔

[22] «اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو»؛ (سوره انفال، آیه60)۔

[23]  جیزانی، محمد، قواعد معرفة البدع، ص52۔

[24] جیزانی، محمد، قواعد معرفة البدع، ص18۔

[25] (اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟)سوره یونس، آیه59۔

[26] فیروز آبادی، محمد بن یعقوب، تنوير المقباس من تفسير ابن عباس، ص176۔

[27] «فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـٰذَا مِنْ عِندِ اللَّـهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ]؛ (سوره بقره، آیه79)۔

[28] طبری، محمّد بن جرير، جامع البيان في تأويل القرآن، ج2، ص267؛ رازی، ابن ابی حاتم، تفسیر ابن أبي حاتم، ج1، ص153؛ راغب اصفهانی، حسین بن محمد، تفسير الراغب الأصفهاني، ج1، ص240۔

[29] «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّـهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا»؛(سوره حدید، آیه27)۔

[30] سوره حدید، آیه27۔

[31] زمخشری، محمود بن عمرو، الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل، ج4، ص482؛ بيضاوی، عبدالله بن عمر، أنوار التنزيل وأسرار التأويل، ج5، ص190؛ نسفی، عبدالله بن احمد، تفسير النسفي، ج3، ص443۔

[32] قرطبی، محمد بن احمد، تفسير القرطبي، ج17، ص263؛ ابن كثير دمشقی، اسماعيل، تفسير القرآن العظيم، ج8، ص29۔

[33] بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج3، ص184؛ نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج3، ص1343؛ ابن ماجه قزوينى، محمّد، سنن ابن ماجه، ج1 ص7؛ ابوداود سجستانى، سليمان، سنن أبى داود، ج4، ص181۔

[34] «۔۔۔ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»؛ (ابو داود سجستانی، سلیمان، سنن أبى داود؛ ج4، ص201)؛ (ابن ماجه قزوینی، محمد، سنن ابن ماجه، ج1، ص18)۔

[35] « مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ »؛ (بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج3، ص184)؛ (نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج3، ص1343)۔

[36] لهيميد، سلیمان، قرة العينين في شرح أحاديث مختارة من الصحيحين، ص55۔

[37] قسطلانی، احمد بن محمّد، إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، ج4، ص421۔

[38] ابن حنبل شيبانی، أحمد، مسند أحمد بن حنبل، ج6، ص270؛ نیشابوری، مسلم، صحیح مسلم، ج5، ص133۔

[39] «گزشتہ حوالہ ، اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہےجس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی جانب ہے تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ ہی کی جانب ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا کےلیے ہے کہ اسےکمائے یا عورت کے لیے ہے کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت انہی کی جانب ہے»؛ (بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج1، ص6)۔

[40] مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، ج67، ص249 و 211؛ احسائی، ابن ابی جمهور، عوالي اللآلي، ج1، ص32؛ نوری طبرسی، حسین، مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل، ج1، ص90۔

[41] ابن ماجه قزوینی، محمد، سنن ابن ماجه، ج2، ص1413؛ ابوداود سجستانی، سلیمان، سنن أبى داود، ج2، ص262؛ ابن حبّان، محمّد، الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان، ج11، ص211؛ طبرانى، سليمان، المعجم الأوسط، ج1، ص17۔

[42] جیزانی، محمد، معیار البدعه، ص126۔

[43] وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ(؛ (سوره انعام، آیه21)؛ «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»؛ (بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج3، ص184)؛ (نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج3، ص1343)۔

[44] «البدعة: إدخال ما علم أنّه ليس من الدين في الدين، ولكن يفعله بأنّه أمَرَ به الشارع»؛ (آشتیانی، محمد حسن، بحر الفوائد، ص80)۔

[45] سبحانی، جعفر، البدعة مفهومها حدها واثرها، ص38۔

[46] گزشتہ حوالہ۔

[47] « مَنْ سَنَّ فِيْ الْاِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ کُتِبَ لَهُ مِثْلُ اَجْرٍ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَيْئٌ وَ مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ کُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرٍ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ اَوْزَارِهِمْ شَيْئٌ»؛ (نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج4، ص2060)۔

[48] « آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات گھڑی ہیں»؛ (بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج6، ص55)؛ (گزشتہ حوالہ، ج6، ص97)؛ (گزشتہ حوالہ، ج8، ص109)؛ (گزشتہ حوالہ، ج8، ص119)؛ (نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج4، ص1795)۔

[49] سبحانی، جعفر، البدعة مفهومها حدها واثرها، ص38۔

[50] جیسا کہ بیان کیاجاچکا،انکا ماننا تھا کہ: بغیر اشاعه کے دین میں کمی بیشی کا امکان نہیں ہے ؛ لہٰذا چونکہ دین میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے اس لیےبدعت بھی متحقق نہیں ہوئی ہے۔

[51] بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج3، ص69؛ نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج3، ص1343۔

[52]  «شاطبی کے نکتۂ نظر سے بدعت صغیرہ کی شرطیں: 1۔ مداومت نہ رکھنا 2۔ اس بدعی عمل کی جانب دعوت نہ کرنا 3۔ عام مجمع میں اس بدعت پر عمل نہ کرنا»؛ (شاطبی، ابراهیم بن موسی، الاعتصام للشاطبی، ج2، ص404)۔

[53] بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج3، ص69؛ نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج3، ص1343۔

[54] «آیت الله سبحانی نے کتاب البدعه مفهومها حدها وآثارها، کے صفحہ نمبر ۳۱ پر بدعت کے ارکان و عناصر کو تین ارکان میں منحصر مانا ہے جسمیں مداومت شامل نہیں ہے»؛ (جیزانی، محمد بن حسین، قواعد معرفة البدعه، ص38)۔

[55] جیزانی، محمد بن حسین، قواعد معرفة البدعة، ص36۔

[56] جیزانی، محمد بن حسین، قواعد معرفة البدعة، ص29۔

[57] نجدی، سلیمان بن سحمان، الهدیة السنیه، ص51؛ جیزانی، محمد، قواعد معرفة البدعه، ص36۔

[58] بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج5، ص3؛ ابوداود سجستانی، سلیمان، مسند أبي داود الطيالسي، ج1 ص239؛ جوهری، علی بن جعد، مسند ابن الجعد، ص196۔

[59] «واختلفوا في تحديدها من عشرة أعوام إلى مائة وعشرين»؛ (ابن حجر عسقلانی، احمد، فتح الباري، ج7، ص5)۔

[60] ابن حجر عسقلانی، احمد، فتح الباري، ج7، ص5۔

[61]  ابن حجر عسقلانی، احمد، فتح الباري، ج7، ص6۔

[62] « اور تمہارے گرد دیہاتیوں میں بھی منافقین ہیں اور اہل مدینہ میں تو وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماہر اور سرکش ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہو لیکن ہم خوب جانتے ہیں -عنقریب ہم ان پر دوہرا عذاب کریں گے اس کے بعد یہ عذاب عظیم کی طرف پلٹا دئیے جائیں گے »؛ (سوره توبه، آیه101)۔

[63] «آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے کیسی کیسی بدعتیں ایجاد کیں»؛ (بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج6، ص97 و 55)؛ (گزشتہ حوالہ، ج4، ص1795)۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ