اندراج کی تاریخ  9/15/2020
کل مشاہدات  97
اسلام تمثال کا مخالف ہے تمثیل کا نہیں، ہمارے سُنی علماء کو ابھی تک تمثال اور تمثیل کا فرق ہی معلوم نہیں ہوسکا۔

محمد فاروق علوی ۔ برمنگھم 

اسلام بُت پرستی کے ہر مظاہرے سے ناخوش ہے، بُت سازی و بُت گری تمثال ہے۔
کسی واقعہ کو ڈرامائی شکل دیکر اس کی یاد برقرار رکھنا تمثیل ہے۔ اور تمثیل بہت سے اسلامی احکام کی جان ہے۔
صفا و مروہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا بذات خود کوئی مقصود بالذات عبادت نہیں ہے بلکہ سیدہ ہاجرہ سلام اللہ علیہا کی اُس تگ و دو اور اُس اضطراب کی ایک تمثیل ہے جس کا بے ساختہ اظہار ان کی جانب سے اپنے تشنہ لب بچے کی جان بچانے کی خاطر پانی کی تلاش کے سلسلہ میں ہوا۔
صفاومروہ کے درمیان سعی کی یہ رسم اس بات کی واضح علامت ہے کہ اسلام تمثیل کو جائز اور مستحسن قرار دیتا ہے۔
اسی طرح ؛ رمی جمار؛ شیطان پر پتھراؤ کرتے وقت شیطان کوئی وہاں بیٹھا ہوا نہیں ہوتا ، یہ اُسی تمثیل کاایک حصہ ہے جب ابراھیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو قربان گاہ کی طرف لے جارہے تھے تو شیطان نے انہیں اس ارادے سے باز رکھنے اور بہکانے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو پتھر مارے ۔
قربانی کی رسم بھی اسماعیل علیہ السلام کی قُربانی کی تمثیل ہے جسے دنیا بھر کے مسلمان بڑے اہتمام کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔
جس پتھر پر کھڑے ہوکر ابراھیم علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا تھا وہ آج بھی صحن کعبہ میں زریں بکس کے اندر محفوظ ہے جسے قرآن نے مقام ابراھیم کہا اور اس کے پاس نماز پڑھنے کا حکم دیا، ابراھیم کے تلووں کا یہ پتھر کوئی قبلہ نہیں لیکن وہابی ازم کے پیروکار بھی اسے نہ ہٹا پائے جبکہ انہوں نے پیغمبر اکرم اور دیگر انبیاء کے آثار تک مٹا ڈالے، یہ پتھر باقی ہے اس لیے کہ کعبہ کے معمار اوّل کی تعمیر کی تمثیل ہے ۔
حج کے تمام مناسک بھی ایثار و قُربانی ابراھیم و اسماعیل علیہما السلام ہی کی تمثیل ہیں ۔
اس بنا پر واقعہ کربلا کی یاد تازہ رکھنا ضروری ہے کیونکہ ابراھیم و اسماعیل علیہما السلام کے واقعہ سے کربلا کا واقعہ زیادہ فکر انگیز اور عبرت خیز ہے ، شاعر مشرق علامہ اقبال نے ٹھیک ہی تو کہا ہے :
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتداہے اسماعیل
کیا یہ محض اتفاق تھا کہ وادی فرات سے ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی اور اکلوتے بیٹے کو لیکر چلا اور حجاز کی بے آب و گیاہ وادی میں اُس نے ایثاروقُربانی کی ایسی درخشاں روایت قائم کی کہ نسل انسانی کی امامت کا اعزاز اس کے سر بندھا:
انی جاعلک للناس اماما۔
اور پھر تین ہزار برس کی طویل مسافت طے کرنے کے بعد تاریخ نے خود کو دُہرایا، اب کی بار وادی حجاز سے ادھیڑ عمر کا ایک شخص اپنی بیوی بچوں اور کُنبے کے چھوٹے بڑے مردو عورت سبھی افراد کو لیکر اُسی وادی فرات کے بے آب و گیاہ صحرا میں اُترا جس فرات کی وادی سے تین ہزار برس پہلے قافلہ چلا تھا ، اور پھر اس نے اپنے باپ ابراہیم کی وادی میں قُربانی و ایثار کی وہ جوت جگائی کہ پوری کائنات ارضی و سماوی اس کی ضیا باریوں سے جگمگا اٹھی ، اور تب اس کے سر اقدس پر امامت کُبری کا وہ لازوال تاج رکھ دیاگیا کہ تلواروں جھنکار اور نیزے کی انی بھی اس مقدس و مطہر سر سے اس تاج کو جُدا نہ کرسکی گو کہ دُشمنان اہلبیت رسول آج تک تلملا رہے ہیں کہ حُسین کے نام کے ساتھ امام کا لفظ کیوں استعمال کیاجاتا ہے، ہم انہیں یہی کہہ سکتے ہیں ؛ مُوتُوا بغیظکُم؛
یہ تاج امامت آج بھی کربلا میں قُربان ہونے والے فرزند ابراہیم و اسماعیل کے کٹے سر کی زینت ہے اور رہتی دنیا تک رہے گی۔ صلوا ت اللہ وسلامہ علیہ ۔
ان دونوں واقعات میں جو گہری مماثلت موجود ہے اس کے پیش نظر اگر ذی الحجہ کی دس تاریخ ابراہیم و اسماعیل کی عزیمت و ایثار و قُربانی کی یادگار کا تہوارہے اور ہرسال بڑے اہتمام کے ساتھ اسے منایا جاتا ہے تو عاشور محرم کی تابندہ روایت کا باقی رکھنا بھی عین تقاضا ہے اسلام ہے کہ :
اوّل بہ آخر نسبتے دارد۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ