اندراج کی تاریخ  9/17/2020
کل مشاہدات  189
یزید کے اقدامات سےاللہ ورسول کو کتنی تکلیف ہوئ ہوگی ؟   اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ! جب عام مسلمانوں کو تکلیف پہونچانا اللہ و رسول کو تکلیف دینا ہے  جیسا کہ ارشاد ہے  *عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم *ومن اذے مسلما فقد اذانی فقد اذے اللہ* (سراج المنیر شرح جامع صغیر ص 280)
مصنف :  ریاض قادری


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کونین صلی'اللہ تعالٰی علیہ و آلہ وسلم  ارشاد فرماتے ہیں
 کہ جس نے کسی مسلمان کو اذیت دی تو اس نے حقیقتا مجھے تکلیف پہنچائ اور جس نے مجھے اذیت پہنچائ تو اس نے در حقیقت اللہ کو اذیت پہنچائ
*من اذی شعرتہ منی فقد اذانی ومن اذانی فقد اذے اللہ*فزاد ابو نعیم *فعلیہ لعنتہ اللہ* ۔
(سراج المنیر شرح جامع صغیر ص280)
امیرالمومنین حضرت علی مرتضی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
جس نے میرے ایک بال کو اذیت پہنچائ تو اس نے حقیقتا مجھے اذیت پہنچائ اور جس نے مجھے اذیت پہنچائ اس نے اللہ کو اذیت پہنچائ ابو نعیم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
ظاہر سی بات ہے کہ نورنگاہ مصطفی کو *الحسین منی وانا من الحسین* کے مصداق کو اذیتیں پہونچانے والا کتنا برالعنتی ہوگا ؟
بعض اکابرین امت نے یزید پر کفر تک کا حکم لگایاہے  جیسے:حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے
 *ماقال الامام احمد بتکفیرہ کما ثبت عندہ نقل تقریرہ*(شرح فقہ اکبر)ص88
اسی طرح سے علامہ شیخ محمد بن علی الصبان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
*وقد قال الامام احمد بکفرہ*(اسعاف الراغبین )ص 210
*وفقہ علی ذالک جماعتہ کابن الجوزی*
کفر یزید کے قول پر علماء کی ایک جماعت نے انکی موافقت کی ہے جیسے ابن جوزی وغیرہ
*وقالت طائفتہ انہ کافر سبط ابن الجوزی وغیرہ المشھور انہ لماجاء راس الحسین رضی اللہ عنہ جمع اھل الشام وجعل ینکتہ راسہ بالخیزران وینشدابیات الزبعری**لیت اشیاخی ببدرشھدواالابیات المعروفتہ وازادفیھما بیتین مشتملین علی صریح الکفر*
*وقال ابن جوزی فیما حکاہ سبطہ عنہ لیس العجب عن قتال ابن زیاد للحسین وانما العجب من خذلان  یزید وضربہ بانقضیب ثنایا الحسین وحملہ آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعلی اقتاب الجمال*
(الصواعق المحرقہ) ص218
کفرکے ساتھ ساتھ اس پر لعنت کرنا جائز قرار دے دیا ہے، چنانچہ حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت صالح رضی اللہ عنہ نے یزید پر لعنت کرنے کے بارے میں پوچھا تو حضرت امام احمد بن حنبل نے فرمایا:
*یا بنی ھل یتولی یزید احد مومن باللہ ولم لا العن من لعنہ اللہ فی کتابہ*
*فقلت این لعن اللہ یزید فی کتابہ فقال فی قولہ تعالی*
*فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم فھل یکون فساد اعظم من ھزاالقتل*
 (الصواعق المحرقہ)
ترجمہ !
 بیٹا کوئ اللہ پر ایمان رکھنے والا ایسا بھی ہوگا جو یزید سے دوستی رکھے اور میں اس پر کیوں  لعنت نہ کروں جس پر اللہ نے اپنی کتاب میں لعنت بھیجی ہو،عرض کیا اللہ نے یزید پر اپنی کتاب میں کہاں لعنت بھیجی ہے ؟؟
تو فرمایا اس آیت ،،
*فھل عسیتم*،، الخ
کہ پھر تم سے یہی تو توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم ملک میں فساد برپا کروگے اور قطع رحمی کروگے ایسے ہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے پھر انکو اندھا اور بہرہ کردیا،پھر امام صاحب رضی اللہ عنہ نے  فرمایا کہ بیٹا کیا قتل حسین سے بھی بڑھ کر کوئ فساد ہوسکتا ہے
دوسری جگہ ارشاد باری ہے
*ان الذین یوذون اللہ و رسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والآخرتہ واعدلھم عذابا الیما*(سورتہ الاحزاب )
بیشک وہ لوگ جو اللہ و اسکے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور انکے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اس آیت کریمہ کی رو سے یزید مستحق لعنت بھی ہوا اور جہنمی بھی جیسا کہ اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ اللہ ورسول کو ایذا دینے والے پر اللہ کی لعنت ہے یزید پلید سے بڑھ کر اللہ اور رسول کو تکلیف کس نے دی ہوگی ؟
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئ کیوں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگائ تھی(در منثور ص 220 )

  صحیحین ، وفاءالوفاء ، جذب القلوب ، صحیح ابن حبان، سراج المنیر،  جیسی کتنی ہی کتب معتبرہ و مستندہ سے ثابت ہے کہ اہل مدینہ کو اذیت دینے والوں ،  ستانے والوں ، برائ کرنے والوں ، ظلم سے خوفزدہ کرنے والوں ، پر اللہ اور اس کے فرشتو ں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کا فرض قبول ہوگا نہ نفل وہ دوزخ میں ہونگے .


کفرِ یزید پلید لعین کا زبردست ثبوت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
یزید پلید لعین کے کفر کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو کہ جب شہداء کربلا کے کے سروں کو یزید کی مجلس میں لایاگیا اور یزید لکڑی کو امام حسین ع کے لبہائے مبارک اور دندانِ مبارک پر مار رہا تھا اور یہ کفریہ اشعار پڑھ رہا تھا:
لعبت ھاشم بالملک فلا
خبر جاء ولا وحی نزل
لیت اشیاخی ببدر شھدوا
جزع الخزرج من وقع الاسل
لاھلوا واستھلوا فرحا
ولقالوا یا یزید لاتشل
فجزیناہ ببدر مثلا
واقمنا مثل بدر فاعتدل
لست من خندف ان لم انتقم
من بنی احمد ما کان فعل۔

بنی ہاشم ع کی اولاد (رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے حکومت کو بازیچہ بنایا اور حقیقت یہ ہے کہ (خداوند عالم کی طرف سے ) نہ کوئی خبر آئی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی !
جنگ بدر میں میرے خاندان سے جو بزرگ قتل ہوئے تھے کاش کہ وہ آج ہوتے اور دیکھتے کہ کس طرح قبیلہ خزرج نیزوں کی چوٹ سے نالہ وزاری کررہے ہیں !اس وقت وہ خوشی سے چیختے اور کہتے : اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں ۔آج ہم نے بدر کے واقعہ کا انتقام لے لیا اور بدر کی طرح ان سے حساب و کتاب کرلیا اور اب ہم برابر ہوگئے ۔
میرا تعلق ""خندف"" کی اولاد سے نہیں ہے جو میں احمد (رسول اکرم ص) کی اولاد سے انتقام نہ لوں ۔
کفریہ اشعار کا حوالہ:
  ; تاريخ طبرى، ج 8، ص 188; البداية و النهاية ابن كثير، ج 8، ص 208; مقاتل الطالبيين، ص 80; اخبار الطوال دينورى، ص 267; تفسير ابن كثير، ج 1، ص 423 و شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 4، ص 72.۔
*یزید ملعون پلید کے افعال بد* 
 مؤرخ و مفسر  ابن کثیر اپنی کتاب البدایہ والنھایہ  میں لکھتے ہیں کہ:*یزید شرابی ، بدکردار اور تارک الصلوۃ تھا۔* 
یزید شرابی تھا، فحاشی و عریانی کا دلدادہ تھا اور نشے میں رہنے کے باعث تارک الصلوٰۃ بھی تھا۔ اُس کے انہی افعال کی بناء پر اہل مدینہ نے اس کی بیعت توڑ دی تھی، جس کا ذکر امام ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں یوں کیا ہے: 
ذکروا عن يزيد ما کان يقع منه من القبائح في شربة الخمر وما يتبع ذلک من الفواحش التي من اکبرها ترک الصلوة عن وقتها بسبب السکر فاجتمعوا علي خلعه فخلعوه. عند المنبر النبوي(البدايہ و النہايہ، 6 : 234) 

*ترجمہ:* یزید کے کردار میں جو برائیاں تھیں ان کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا، فواحش کی اتباع کرتا تھا اور نشے میں غرق ہونے کی وجہ سے وقت پر نماز نہ پڑھتا تھا۔ اسی وجہ سے اہل مدینہ نے اس کی بیعت سے انکار پر اتفاق کر لیا اور منبر نبوی کے قریب اس کی بیعت توڑ دی۔ 
 اہل مدینہ نے تو یزید کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے تھے، انہوں نے تو اہل بیت کے قتل اور یزید کے کردار کے باعث محض بیعت سے انکار کیا تھا جس پر یزید نے مسلم بن عقبہ کی قیادت میں مدینہ پر حملہ کروایا۔۔۔
فلما بلغ ذالک بعث اليهم سرية يقدمها رجل مسلم بن عقبه . . . . . فلما ورد المدينة استباحها ثلاثة ايام فقتل في عضون هذه الايام بشراً کثيراً . . . . الف بکر (البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 6 : 234) 
*ترجمہ:* جب اسے(یزید)  اس بات کی خبر ملی تو اس نے ان کی طرف لشکر بھیجا، جس کی قیادت مسلم بن عقبہ نامی شخص کر رہا تھا۔۔۔۔پس جب وہ مدینہ منورہ پہنچا تو اس نے تین دن کے لئے مدینہ کو (قتل و غارت گری کے لئے) حلال کر دیا۔ ان دنوں میں کثیر تعداد میں لوگ قتل ہوئے۔۔۔۔۔ (ایک روایت کے مطابق) وہ ایک ہزار (مقتول) تھے۔ 
وقال عبدالله بن وهب عن الامام مالک قتل يوم الحره سبعمائة رجل من حملة القرآن (البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 6 : 234) 
*ترجمہ:* اور عبداللہ بن وھب امام مالک کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یوم الحرہ کو سات سو ایسے افراد قتل کئے گئے جو حافظ قرآن تھے۔ 
*یزید  700 حفاظ قرآن کا قاتل بھی ہے*  
یزید نے مدینہ کی طرف لشکر روانہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگر اہل مدینہ بیعت نہ کریں تو میں مدینہ کو تمہارے لئے حلال کر رہا ہوں۔۔۔ اور پھر کیا ہوا، امام ابن کثیر سے پوچھئے کہ ایک بدبخت نے اپنے کردار کو دیکھنے اور کفر سے توبہ کرنے کی بجائے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کروایا۔ ہزاروں مسلمانوں، جن میں بیشتر صحابہ کرام بھی تھے، کو قتل کروانے والا جہنمی اگر لعنت کا مستحق نہ قرار پائے تو اور کیا اسے پھول مالا پیش کی جائے؟
*مسلمان عورتوں کی عصمت دری* 
بدبخت یزیدی لشکر نے صرف سینکڑوں صحابہ کرام  کو شہید ہی نہیں کیا بلکہ بے شمار عصمت شعار خواتین کی عزتیں بھی لوٹیں: 
ووقعوا علي النساء في قيل انه حبلت الف امرة في تلک الايام من غير زوج . . . . . قال هشام بن حسان ولدت الف امرة من اهل المدينه بعد وقعة الحرة من غير زوج
(البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 8 : 221) 
*ترجمہ:* اس واقعہ کے دوران میں انہوں نے عورتوں کی عصمت دری بھی کی۔ ایک روایت ہے کہ ان دنوں میں ایک ہزار عورتیں حرامکاری کے نتیجے میں حاملہ ہوئیں۔۔۔۔۔۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی ایک ہزار عورتوں نے جنگ حرہ کے بعد ناجائز بچوں کو جنم دیا۔ 
*• بدبختوں نے حرم نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گھوڑے باندھے۔* 
*• مسلمان صحابہ و تابعین کو شھید کیا۔* 
*• مسلمان خواتین کی عزتیں لوٹیں۔* 
*• تین دن تک مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آذان اور نماز معطل رہی۔* 
عن سعيد بن مسيب رايتني ليالي الحرة .... وما يتني وقت الصلاة الا سمعت الاذان من القبر. 

*ترجمہ:* سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حرہ کے شب و روز مسجد نبوی میں (چھپ کر) گزارے ۔۔۔۔۔ اس دوران میں مجھے صرف قبرِ انور میں سے آنے والی اذان کی آواز سے نماز کا وقت معلوم ہوتا۔ 
جب یزید کے سامنے امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک لایا گیا تو اس نے کیا کہا۔۔۔؟
ابن کیثر لکھتے ہیں :
ذکر ابن عساکر في تاريخه، ان يزيد حين وضع راس الحسين بين يديه تمثل بشعر ابن الزبعري يعني قوله:
ليت اشياخي ببدر شهدوا
جزع الخزرج من وقع الاسل(البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 8 : 204) 
*ترجمہ:* امام ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے کہ جب یزید کے سامنے سیدنا امام حسین علیہ السلام کا سر انور پیش کیا گیا تو اس نے اس موقع پر ابن زبعری کے اس شعر کا انطباق کیا: 
"کاش میرے غزوہ بدر میں مارے جانے والے آباء و اجداد دیکھیں کہ ہم نے کیسے ان کے قتل کا بدلہ لے لیا ہے۔" 
*بیت اللہ کی توہین* 
یزید ملعون پلید اپنی بیعت کے منکروں کو قتل کروانے کے لئے حرم نبوی اور کعبۃ اللہ کی حرمت کا بھی حیاء نہیں کرتا اور عبداللہ بن زبیر  کو شہید کرنے کے لئے بیت اللہ کا محاصرہ کرواتا اور اس پر پتھر اور آگ کے گولے برساتا ہے۔ 
ثم انبعث مسرف بن عقبه (مسلم بن عقبه) الي مکه قاصداً عبدالله بن الزبير ليقتله بها لانه فر من بيعة يزيد (البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 6 : 234) 
*ترجمہ:* پھر اس نے مسرف بن عقبہ (یعنی مسلم بن عقبہ) کو عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنے کے لئے مکہ مکرمہ بھیجا، کیونکہ وہ یزید کی بیعت سے انکاری تھے۔۔۔
یزید پلید کے مزید شیطانی افعال اور امام حسین علیہ السلام کے قتل کا حکم دینا 

عظیم مؤرخ حضرت علامہ طبری رحمۃ اللہ علیہ  اپنے مشہور کتاب "التاریخ طبری " میں لکھتے ہیں کہ یزید نے ابن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا اور اسے حکم دیا کہ حضرت  مسلم بن عقیل  کو جہاں پاؤ قتل کردو یا شہر سے نکال دو۔ (تاریخ طبری ، 4/176)
پھر جب حضرت مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ  کو شہید کردیا گیا تو ابن زیاد نے ان دونوں کے سرکاٹ کر یزید پلید کے پاس دمشق بھیجے ۔ اس پر یزید خبیث  نے ابن زیاد کو خط لکھ کر اس کا شکریہ اداکیا۔تاریخ کامل ، 6/36)
یہ بھی لکھا ، جو میں چاہتاتھا تونے وہی کیا تونے عاقلانہ کا م اور دلیر انہ حملہ کیا ۔ (تاریخ کامل4/173)
علامہ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ابن زیاد نے امام حسین ع کا سراقدس آپ کے قاتل یزید کے پاس بھیج دیا ۔اس نے وہ سر اقدس یزید لعین کے سامنے رکھ دیا ۔ اس وقت وہاں صحابی رسول حضرت سیدنا ابوبرزۃ الاسلمی رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ یزیدمردود نے ایک چھڑی امام حسین   کے مبارک لبوں پر مارنے لگا،
حضرت سیدنا ابوبرزۃ الاسلمی رضی اللہ عنہ سے برداشت نہ ہوسکا اور انہوں نے فرمایا: اے یزید! اپنی چھڑی ہٹالو۔ خداکی قسم ! میں نے بارہا دیکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  اس مبارک منہ کو چومتے تھے۔( تاریخ طبری ،4/181)(البدایہ والنہایہ ، 8/197)
مشہورمؤرخین علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اور علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ کامل میں اس  واقعہ کو تحریر فرمایا  ہے۔
اب آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ  سیدنا امام حسین علیہ السلام  کی شہادت پر یزید کتنا  خوش ہوا ہوگاارے وہ سنگدل ،ظالم، فاسق، فاجر، بدکار ، شرابی ، مردود ، ملعون، ہے جو نواسہ رسول اعظم کے سراقدس کو اپنے سامنے رکھ کر متکبرانہ شعر پڑھتا تھا اور ان مبارک لبوں پر اپنی چھڑی مارتا ہے جو حبیبِ خداعزوجل سیدنا  محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم  اکثر چوما کرتے تھے، کیا وہ لعنت وملامت کا مستحق نہیں ہے؟
جب اہل بیت نبوت کا یہ مصیبت زدہ قافلہ ابن زیاد  نے یزید  لعین کے پاس بھیجاتو اس نے ملک شام کے امراء اور درباریوں کو جمع کیا پھر بھرے دربار میں خانوادۂ نبوت کی خواتین اس کے سامنے پیش کی گئیں اور اس کے سب درباریوں نے یزید کو اس فتح پر مبارکباد دی۔ (طبری،4/181)(البدایہ والنہایہ ،8/197)
اس عام دربار میں ایک شامی شیطان نما انسان کھڑا ہوا اور اہل بیت میں سے سیدہ  فاطمہ بنت حسین  کی طرف اشارہ کرکے یہ کہنے لگے یہ مجھے بخش دو۔معصوم سیّدہ یہ سن کر لزرگئی اور اس نے اپنی پھوپھی سیّدہ زینب سلام اللہ علیہا کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیا۔ حضرت  رینب سلام اللہ علیہا  نے گرج کر کہا، تو جھوٹ بکتا ہے یہ نہ تجھے مل سکتی ہے اور نہ اس یزید کو یزیدلعین یہ سن کر طیش میں آگیا اور بولا، تم جھوٹ بولتی ہو ۔ خداکی قسم! یہ میرے قبضے میں ہے اور اگر میں اسے دینا چاہوں تو دے سکتا ہوں۔
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے گرجدار آواز میں کہا ، ہرگز نہیں ۔ خداکی قسم! تمہیں ایساکرنے کا اللہ تعالی نے کوئی حق نہیں دیا  ہے ۔ (طبری ،4/181)(البدایہ والنہایہ ، 8/197)
 قتل امام حسین علیہ السلام  کایزید نے حکم دیا 
 ابن زیاد بدنہاد کا اقراری بیان
ابن زیاد بدنہاد نے خود اقرار کیا کہ یزید پلید نے اسے سید الشہداء سیدنا امام حسین علیہ السلام  کو شہید کرنے کا حکم دیا ورنہ خود اسے قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔جیساکہ ابن اثیر ،تاریخ کامل میں ابن زیاد کا قول نقل کرتے ہیں : اما قتلی الحسین فانہ اشار علی یزید بقتلہ اوقتلی فاخترت قتلہ۔
اب رہا امام حسین  کو میرا شہید کرنا تو بات دراصل یہ ہے کہ یزید نے مجھے اس کا حکم دیا تھا بصورت دیگر اس نے مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی تھی تو میں نے انہیں شہید کرنے کو اختیار کیا ۔  (التاریخ الکامل ،4/474)
لعنت بر یزید پلید اور حامیانِ پلید:

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: من اخاف اھل المدینہ ظلما اخافہ اللہ تعالیٰ وعلیہ لعنة اللہ والملائکة والناس اجمعین لا یقبل اللہ منہ یوم القیامة صرفاً ولا عدلاً۔
ترجمہ: جس شخص نے ازراہ ظلم اہل مدینہ کو خوفزدہ کیا اللہ تعالیٰ اسے خوفزدہ کرے گا اور اس پراللہ تعالیٰ کی ، اس کے فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ قیامت کے دن اس سے کوئی بدلہ اور معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
(مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدِ الْمَدَنِيِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ ... » حَدِيثُ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ أَبِي سَهْلَةَ، رقم الحدیث 16214)
یزید پلید کے عہدِ حکومت میں نواسہِ رسول، جوانانِ جنت کا سردار حسین ابن علی شہید کیے گئے جبکہ اسی پلید کے عہدِ حکومت میں تین روز تک مدینہ کو تاراج کیا جاتا رہا، اہلِ مدینہ کو قتل کیا گیا، ہزاورں عورتوں کی عصمت لوٹی گئی۔ پھر مکہ پر حملہ کروایا اس ظالم نے، اور خانہ کعبہ کا غلاف اور کچھ تبرکات جل گئے۔


اس کی حکومت کے سیاہ کارنامے:


ابتداء میں امام حسین کی شہادت
درمیان میں مدینہ پر حملہ
آخرِ عہد میں مکہ پر حملہ اور کعبہ کو آگ لگائی گئی
امام ذہبی کے الفاظ:
اس نے اپنی حکومت کا آغاز حسین  علیہ السلام تعالی عنہ کی شھادت سے کیا اوراس کی حکومت کا اختتام واقعہ حرہ سے ہوا ، تولوگ اسے ناپسند کرنے لگے اس کی عمرمیں برکت نہیں پڑی ، اورحسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد کئی ایک لوگوں نے اس کے خلاف اللہ تعالی کے لیے خروج کیا مثلا اھل مدینہ اور ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ
(سیر اعلام النبلاء جلد 4 / صفحہ 38 )
وقال الذهبي فيه كان ناصبياً فظاً غلیظاً جلفاً یتناول المسكر ویفعل المنكر افتتح دولته بقتل الحسين وختمها بوقع الحرة فمقته الناس ولم یبارك في عمرہ
ذهبی نے یزید کے متعلق کہا ہے کہ وہ ناصبی ، اکهڑ، غليظ اور شرابی تها اور اس نے منکرات کا ارتکاب کيا۔ اس نے اپنی دور کا آغاز حسين کے قتل سے کيا اور اختتام واقع حرہ پر کيا لہٰذا لوگوں نے اس سے نفرت کی اور اللَّہ نے اس کی عمر ميں برکت نہيں کی۔ (شذرات الذھب، ابن عماد حنبلی، ج 1 ص 69)
شہادت امام، واقعہِ حرہ اور مکہ پر حملہ یہ سب کام یزید کے حکم پر ہوئے۔
یزید کی شقاوت و بے دینی دیکھ کر صحابی رسول حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے فرمایا:
اللہ کی قسم ! ہم یزید کے خلاف اس وقت اُٹھ کھڑے ہوئے جبکہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش نہ ہوجائے ،وہ ایسا شخص ہے جو ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح جائزقرار دیتا ہے ، شراب نوشی کرتا ہے ،نماز چھوڑتا ہے، اللہ کی قسم !اگر لوگوں میں سے کوئی میرے ساتھ نہ ہوتب بھی میں اللہ کی خاطر اس معاملہ میں شجاعت وبہادری کے جوہر دکھاؤں گا

(طبقات کبری لابن سعد ج 5ص۶۶)
شارحِ بخاری علامہ قسطلانی اپنی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں رقمطراز ہیں:
وقد اطلق بعضھم فیما نقلہ المولی سعد الدین اللعن علی یزید لما انہ کفر بقتل حسین واتفقوا علی جواز اللعن علی من قتلہ او امر بہ او اجازہ ورضی بہ والحق ان رضا یزید بقتل الحسین واستبشارہ بذلک واھانتہ اھل بیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لما تواتر معناہ وان کان تفاصیلھا احاد او نحن لا نتوقف فی شانہ بل ایمانہ لعنة اللہ علیہ وعلی انصارہ واعوانہ
(ارشاد الساری ص ۱۴۲، جلد ۵)
ترجمہ: جس طرح علامہ سعد الدین تفتازانی نے نقل کیا ہے۔ بہت سے علماء نے یزید پر لعنت بھیجنے کا قول کیا ہے، کیونکہ وہ سیدنا امام حسین علیہ السلام کے قتل سے دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا اور سب علماء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جس نے آپ کو قتل کیا، جس نے آپ کے قتل کا حکم دیا، جس نے آپ کو قتل کرنے کی اجازت دی اور جو اس قتل پر راضی ہوا۔ اس پر لعنت بھیجنا جائز ہے اور حق یہ ہے کہ یزید امام حسین علیہ السلام کے قتل پر راضی ہوا، اور اس پر بہت خوش ہوا، اور اہلِ بیت کی اس نے اہانت کی۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو معناً متواتر ہیں۔ اگرچہ ان کی تفاصیل احاد ہیں اور ہم اس کے بارے میں توقف نہیں کرتے ( اس پر لعنت سمجھتے ہیں) بلکہ اس کے ایمان میں توقف کرتے ہیں (اس کا مسلمان ہونا مشکوک ہے) ۔ اللہ تعالیٰ اس پر، اس کے دوستوں پر اس کے مددگاروں پر لعنت بھیجے۔
یزید پلید لعنتی کا کردار صحابہ کرام اور اس کے بیٹے کی زبانی
آج کے یزیدی اپنے بھائ معاویہ بن یزید بارے کیا فتوہ دینگے
ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یزید راگ ورنگ کا متوالا تھا، شراب پیتا تھا ، خوبصورت لڑ کیوں اور لڑ کوں کو اپنے پاس رکھتا تھا ، گانے والی عورتیں اس کے دربار میں موجود ہوتیں ، شراب کے نشے میں مست ہوتا ، کتوں کا شکاری تھا ۔ بندروں کے سروں پر سونے کی ٹوپیاں پہناتا تھا ، جب ان میں سے کوئی مرجاتا تو افسوس کرتا تھا ۔البدایہ والنھایۃ ج8 ص335


یزید شراب کے بارے میں شعر کہا کرتا تھا


ترجمہ : کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں شراب حرام ہے ۔ تو عیسائی بن کر شراب پئے جا ۔صواعق المحرقہ ص134
حضرت حنظلہ غسل الملائکہ کے صاحبزادے عبد اللہ فرماتے ہیں کہ یزید پر ہم نے اس وقت حملہ کی تیاری کی اور اس کی بیعت توڑ ی جب ہم لوگوں کو اندیشہ ہو گیا کہ اس کی بدکاریوں کے سبب ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہو گی ، اس لئے کہ یزید کے فسق و فجور کا یہ عالم تھا کہ وہ ماؤں ، بہنوں بیٹیوں سے زنا کرتا تھا ، شراب پیتا تھا اور نماز چھوڑ دیتا ۔ تاریخ الخلفاء 209 ، طبقات الکبریٰ ص66ج5 ۔
یزید کی موت کے اسباب میں ایک سبب یہ تھا کہ وہ ایک بندر سے شرارتیں کر رہا تھا کہ بندر نے اسے کاٹ لیا ، البدایہ والنھایۃ ص231 ج8

یزید کا کردار اس کے بیٹے کی زبانی

یزید کے بیٹے نے چند دن حکومت میں رہ کر حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میرے باپ یزید نے حکومت سنبھالی حالانکہ وہ اس قابل نہ تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے امام حسین سے اس نے جنگ کی اور اس کی عمر کم ہوگئی ، اور وہ اپنے گنا ہوں کو لیکر قبر میں جا پھنسا ، پھر یزید کا بیٹا رو پڑ ا، کہا ہمارے لئے بڑ ا صدمہ یزید کے برے انجام کا ہے اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قتل کیا ، شراب کو حلال کیا ، کعبہ کو تباہ کیا 
۔صواعق المحرقہ 224
حاصل نتیجہ"""""
ہمیں صحابہ کرامؓ کے قاتلوں اور دشمنوں کو صحابی جیسے مقدس لفظ سے یاد نہیں کرنا چاہیے۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ