کربلا کے فاتح امام حسین ع ہیں یا یزید؟، اگر امام حسین ع فاتح کربلا ہیں تو پھر جشن کی بجائے عزاداری کیوں منائی جاتی ہے، جشن منانا۰۰۰۰۰

محمد عادل
اعتراض ١: کربلا کے فاتح امام حسین ع ہیں یا یزید؟، اگر امام حسین ع فاتح کربلا ہیں تو پھر جشن کی بجائے عزاداری کیوں منائی جاتی ہے، جشن منانا چاہئے۔
جواب: اگرچہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ظاہری حوالے سے کربلا میں فتح یزید کو ہوئی لیکن یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی، اس لئے کہ کسی بھی جنگ میں فتح اور شکست کا معیار قتل کردینا یا قتل ہو جانا نہیں ہوتا اور نہ ہی معیار یہ ہوتا ہے کہ کس فریق کے کتنے فوجی مارے گئے بلکہ فتح اور شکست کا معیار وہ تنازعہ ہوتا ہے جس پر جنگ چھڑتی ہے۔ مثال کے طور پر حزب اللہ لبنان اور اسرائیل کے مابین جنگ کا فاتح حزب اللہ لبنان کو اس لئے قرار دیا گیا کہ جس بات پر جنگ شروع ہوئی تھی وہ تھی اسرائیلی فوجیوں کی حزب اللہ کے ہاتھوں گرفتاری اور اس قسم کے دیگر مسائل۔ اب اگرچہ اسرائیل کی نسبت لبنان کا نقصان بہت زیادہ ہوا لیکن چونکہ جس مقصد کے حصول کیلئے اسرائیل نے جنگ شروع کی تھی اس کے حصول میں ناکام رہا لہٰذا فاتح حزب اللہ لبنان کو قرار دیا گیا۔ اسی طرح کربلا میں بھی تا دم آخر یزیدیوں کا مطالبہ یہی رہا کہ یزید کی بیعت کر لو۔ اب چونکہ وہ امام حسین ع سے تو کیا، امام ع کے لشکر میں موجود جون غلام سے یا کسی بچے سے بھی بیعت نہ لے سکے اور دوسرا امام حسین ع کا اس قیام سے مقصد امر بالمعروف اور نھی از منکر، اپنے نانا محمد ص اور اپنے والد حضرت علی ع کی سیرت کو زندہ کرنا تھا جس میں حسینی قافلہ مدینہ سے لیکر شام تک اور پھر شام سے مدینہ تک کامیاب رہا بلکہ آج بھی اور تاقیامت اگر اسلام زندہ ہے تو اس قیام حسینی کی بدولت زندہ ہے اور رہے گا لہٰذا بلاشک و شبہ کہنا چاہئے کہ کربلا کے فاتح امام حسین ع ہیں۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے                               اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
رہی بات یہ کہ پھر شیعہ لوگ جشن فتح منانے کی بجائے غم اور عزاداری کیوں مناتے ہیں تو اس کی تین وجوہات ہیں:
١۔ محمد و آل محمد علیہم الصلاۃ والسلام نے خود عزاداری کا حکم دیا ہے۔ اسکی وضاحت اعتراض نمبر ٤ کے جواب میں ملاحظہ فرمائیں۔ سید ابن طاؤوس جو کہ بہت بڑے شیعہ عالم دین ہیں کا بھی فرمان ہے کہ اگر یہ حکم عزاداری نہ ہوتا تو میں آئمہ ع کی شہادت کے دن جشن مناتا۔
٢۔ جو کچھ امام حسین ع یا آپ کے اصحاب و اہل بیت ع نے کیا، ہماری عزاداری اور اظہار غم اس پر نہیں بلکہ ہماری عزاداری ایک احتجاج ہے اُس ظلم کے جواب میں جو یزیدیوں نے امام حسین ع، آپ کے اہل بیت ع، اصحاب اور بالخصوص عورتوں اور بچوں پہ کیا۔
٣۔ جشن منانے کی صورت میں وہ برائیاں پھیلنے کا خطرہ ہے جو حضرت عیسی ع کے سولی پر چڑھائے جانے کی مناسبت سے ہر سال ہونے والے پروگراموں میں پھیلتی ہیں۔ جبکہ عزاداری کرنے کی صورت میں تمام مومنین کی علمی، اخلاقی، اجتماعی، سیاسی و سماجی تربیت ہوتی ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیم ملتی ہے اور اس وجہ سے ہمارے آئمہ علیہم السلام نے جشن کی بجائے عزاداری کا حکم دیا ہے۔
اعتراض ٢: امام حسین ع شہید ہیں اور شہید زندہ ہوتا ہے اور زندہ شخص کو رونا یا اسکی عزاداری کرنا درست نہیں؟
جواب: یہ درست ہے کہ امام حسین ع (بل احیاءٌ عند ربِّھم) کا اولین مصداق ہوتے ہوئے زندہ ہیں لیکن یہ نتیجہ کہ زندہ کو رونا درست نہیں بالکل سمجھ آنے والی بات نہیں ہے۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کوئی شخص امام حسین ع کیلئے اس زندگی کا تو منکر ہو اور قتل امام حسین ع کے بعد انہیں زندہ نہ سمجھتا ہو لیکن جب امام حسین ع کی ولادت ہوئی کہ جس وقت امام ع کو ہر شخص زندہ تسلیم کرے گا اس وقت ''نبی اکرم ص نے اسماء بنت عمیس کو حکم دیا کہ میرے بیٹے حسین ع کو لے آؤ۔ اسماء نے امام حسین ع کو سفید کپڑے میں لپیٹا اور حضرت نبی اکرم ص کے پاس لائیں۔ حضرت ص نے امام حسین ع کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی۔ پھر اپنی گود میں رکھا اور گریہ کرنا شروع کیا۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میرے ماں باپ قربان! آپ کیوں گریہ فرما رہے ہیں؟۔ آنحضرت ص نے فرمایا: اس بیٹے پر۔ اسماء نے کہا وہ تو ابھی پیدا ہوا ہے؟، نبی اکرم ص نے فرمایا: اے اسماء! میرے اس بیٹے کو ظالم گروہ قتل کرے گا (اس لئے رو رہا ہوں)، خداوند انہیں میری شفاعت نصیب نہیں کرے گا۔ اے اسماء، یہ بات فاطمہ کو نہ بتانا"۔، حافظ ابوالمؤید خوارزمی و ذخائر العقبیٰ حافظ محب الدین طبری بحوالہ پاسخ بہ شبہات عزاداری ص٧٠)، (مزید وضاحت کیلئے اعتراض نمبر ٤ کے جواب کی طرف رجوع کریں)۔

اگر امام حسین ع کی شہادت کے بعد اُن کا غم منانا درست نہ ہوتا تو اُن کی ولادت کے وقت اسی شہادت کو یاد کر کے غم منانا بدرجہ اولیٰ درست نہ ہوتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت وہ رسول اکرم ص غم منا رہے ہیں جن کا قول و فعل حجت ہے۔ پس یہ کہنا کہ زندہ شخص کا غم منانا درست نہیں ہوا کرتا یہ بات نبی اکرم ص کے قول و فعل کو رد کرنے کے مترادف ہے، توبہ کرنا چاہیئے۔
اعتراض ٣: قرآن کریم کے اندر مومنین کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ (الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالو انا لِلّٰہ و انا الیہ راجعون) لہٰذا واقعہ کربلا کے اندر جو کچھ ہوا اگر اسے مصیبت بھی کہا جائے تو صاحبان ایمان کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے۔ واویلا کرنا، گریہ کرنا، سینہ زنی یا اس قسم کے دوسرے کام صفات مومنین کے خلاف ہیں۔
جواب: یہ درست ہے کہ قرآن کریم کے اندر کافی آیات میں صبر و تحمل پر زور دیا گیا ہے اور یہ آیت بھی مصیبت کے وقت صبر و تحمل سے کام لینے کی طرف رہنمائی کر رہی ہے، واویلا اور کلام باطل سے منع کر رہی ہے لیکن اظہار غم یا عزاداری سے تو بالکل منع نہیں کر رہی۔ اور نہ ہی مصیبت کے وقت اظہار غم خلاف صبر ہے ورنہ تمام مسلمانوں کو یہ حکم نہ دیا جاتا کہ جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے (چاہے اپنے بستر پر طبعی موت سے مرے) تو سب مسلمان جمع ہو کر اسکے پسماندگان کو تعزیت و تسلیت پیش کریں اورکم از کم تین دن تک کھانا پکا کر انہیں اور اُن کے مہمانوں کو پیش کریں۔ تین دن تک اُس گھر سے کھانا کھانا دوسروں پر مکروہ قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ سب کچھ اظہار غم نہیں؟۔ کیا یہ صبر و تحمل کے منافی ہے؟ نہیں ایسا نہیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسانی عواطف و احساسات کو تسلیم کیا ہے اور خارجی حقایق کو مانا ہے۔ مصیبت کے وقت دکھ اور غم کا اظہار کرنا یعنی عزاداری منانا اپنے اپنے علاقے کے رسم و رواج کے مطابق ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انسانی عواطف اور احساسات کا تقاضا ہے کہ انسان خوشی کے وقت خوش ہوتا ہے اور غمی کے وقت غمگین ہوتا ہے۔ ہاں کچھ لوگ خوشی کے وقت حدود الٰہی کو کراس کر جاتے ہیں یا غمی کے وقت خلاف شریعت کام کرتے ہیں تو اُن غلط کاموں سے روکا گیا ہے۔ جیسے کسی کے مرنے کے وقت خداوند عالم سے گلہ شکوہ کرنا، اس قسم کے کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن اصل خوشی یا عزاداری سے منع نہیں کیا گیا۔ اور نہ صرف یہ کہ منع نہیں کیا گیا بلکہ قرآن کریم نے چند آیات میں عزاداری کا ذکر بھی کیا ہے۔ ہم یہاں نمونے کے طور پر ایک آیت ذکرکرتے ہیں:
یَا اَسَفَا عَلیٰ یُوسُفَ وَا بْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الحُزنِ فَھُوَ کظیم (سورہ یوسف آیہ ٨٤)
حضرت یعقوب ع اللہ کے نبی ہیں۔ وہ خلاف صبر و تحمل کوئی کام نہیں کر سکتے۔ اب قرآن کہہ رہا ہے کہ حضرت یوسف ع کی جدائی اور فراق کی وجہ سے گریہ کرتے کرتے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔ یعنی کوئی معمولی گریہ نہیں تھا، ہم تو ایسا رو ہی نہیں سکتے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ع نہ شہید ہوئے، نہ ہی اُنکی بہن بیٹیوں پر وہ مظالم ڈھائے گئے جو امام حسین ع اور انکی بہن بیٹیوں پر ڈھائے گئے۔ حضرت یوسف ع تو زندہ تھے اور حضرت یعقوب ع علم نبوت کے ذریعے یہ سب کچھ جانتے بھی تھے۔ لیکن قرآن نے اُنکے گریہ کے ذکر کو اپنے لئے زینت سمجھا اور ذکر کیا۔ اس لئے کہ زینت نہ سمجھتا تو پھر اس گریہ کے ذکر کو کسی اور انداز میں پیش کرتا اور اس سے روکتا۔ معلوم ہوا عام گریہ عام غم تو کیا اس حد تک غم منانا بھی درست ہے کہ آنکھوں جیسی عظیم نعمت کی بینائی غم کی وجہ سے ختم ہو جائے۔ اور یہ صبر وتحمل کے خلاف نہیں۔
اعتراض ٤: عزاداری بدعت ہے، لہٰذا مجالس عزاداری میں جانے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ 
جواب: بدعت وہ چیز ہوتی ہے جس کا ثبوت قرآن وسنت یا صحابہ کے عمل سے نہ ہو جبکہ عزاداری کا ذکر جیسا کہ اعتراض ٣ کے جواب میں عرض کیا گیا سورئہ یوسف کی آیت نمبر٨٤ اور فعل رسول اکرم ص سے ثابت ہے۔ جیسا کہ اعتراض نمبر٢ کے جواب میں فعل رسول اکرم ص پیش کیا گیا لیکن مزید وضاحت کیلئے ہم یہاں پر چند اور نمونے ذکر کرتے ہیں۔
١۔ قرآن: لَا یُحِبُّ اللّٰہ الجھر بالسُّوء ِمِن القول اِلَّا من ظُلِمَ۔۔۔ (سورہ نساء آیت ١٤٨)

اب جو لوگ مجالس عزاداری میں جانے سے روکتے ہیں ان کا ایک بہانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہاں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ہم اس بات سے سو فیصد متفق نہیں لیکن یہ آیت بتا رہی ہے کہ جس پر ظلم ہو وہ ظالم کو برا بھلا کہہ سکتا ہے اور مجالس عزاداری کے اندر عموماً مظلوم کی مظلومیت بیان کی جاتی ہے۔ ہاں البتہ ہمارے ماتمی جلوس وغیرہ مظلوم کربلا کی مظلومیت کے علاوہ ظالم کے ظلم کے خلاف ایک احتجاج کی حیثیت رکھتے ہیں اور آیت مجیدہ ان کے لئے سند جواز ہے۔
٢۔ انس بن مالک کا گریہ: پیامبر ص کے بہت سارے ایسے باوفا اصحاب بھی تھے جو کہ شہادت امام حسین ع پرعزادار نظر آئے۔ اُن میں سے ایک حضرت انس بن مالک ہیں۔ ابن حجر نے روایت کی ہے کہ "جب امام حسین ع کا سر مبارک عبیداللہ ابن زیاد کے پاس لایا گیا تو اس نے سرمبارک کو ایک طشت میں رکھوایا اور اپنی چھڑی حضرت کے دانتوں پر مارتا رہا۔ اُس وقت انس بن مالک وہاں موجود تھے۔ انہوں نے جب یہ ظلم دیکھا تو گریہ کیا اور کہا حسین ع سے زیادہ رسول اکرم ص کے مشابہ کوئی نہیں"۔ ( الصواعق المحرقہ بحوالہ پاسخ بہ شبہات عزاداری ص ١٢٨)۔
٣۔ صحابیات کا گریہ: ابن ہشام نقل کرتا ہے: "جب پیامبر اکرم ص (جنگ احد سے) مدینہ واپس آئے اور شہید ہونے والوں پر گریہ و نوحہ کی آواز سنی تو آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے پر ہو گئیں اور فرمایا: لیکن حمزہ پر رونے والا کوئی نہیں۔ یہ سن کر بنی اشھل کی عورتیں آئیں اور رسول اکرم ص کے چچا پر گریہ کیا"۔ (السیرہ النبویہ، ج٣، ص ١٠٥۔ بحوالہ واقعہ عاشورا و پاسخ بہ شبہات ص ١٥١)۔
پس معلوم ہوا کہ عزاداری کا حکم جہاں قرآن و روایات میں ملتا ہے وہاں پیامبر ص، اصحاب و صحابیات کی سیرت میں بھی ملتا ہے۔ لہٰذا قرآن کو ماننے والے، رسول اکرم ص کا کلمہ پڑھنے والے اور اصحاب و صحابیات کے قائل کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عزاداری کو بدعت کہے۔ اور یہیں سے ضمناً یہ اعتراض بھی دور ہو جاتا ہے کہ اصحاب نے عزاداری نہیں کی لہذا ہمیں بھی عزاداری سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
اعتراض ٥: سیاہ لباس جہنمیوں کا لباس ہے لہٰذا یہ لباس نہیں پہننا چاہیئے۔
جواب: اس اعتراض کے چند جواب موجود ہیں۔
١۔ جن روایات میں سیاہ لباس کو جہنمیوں کا لباس کہا گیا ہے علماء نے انہیں کراہت پر حمل کیا ہے۔
٢۔ ان روایات کی سند ضعیف ہے۔
٣۔ سیاہ لباس خود مکروہ نہیں۔ یعنی اس کی کراہت ذاتی نہیں بلکہ اس وجہ سے مکروہ قرار دیا گیا ہے چونکہ بنی عباس کا شعار بن چکا تھا، لیکن اب نہ بنی عباس ہیں اور نہ انکا یہ شعار۔
٤۔ ان روایات کے مقابلے میں چند روایات موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ اسلام کی بزرگ شخصیات سیاہ لباس پہنا کرتی تھیں۔
(الف) عمادالدین ادریس قرشی نے ابونعیم اصفہانی سے انہوں نے حضرت ام سلمیٰ سے نقل کیا ہے کہ جب امام حسین ع کی شہادت کی خبر ان )ام سلمیٰ( تک پہنچی تو انہوں نے مسجد نبوی میں سیاہ خیمہ لگا لیا اور خود بھی سیاہ لباس پہن لیا۔ (عیون الاخبار وفنون: الآثار، ص ١٠٩ بحوالہ واقعہ عاشورا و پاسخ بہ شبہات)۔
(ب) ابن ابی الحدید نے اصبغ بن نباتہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ''امیر المومنین حضرت علی ع کی شہادت کے بعد میں مسجد کوفہ میں داخل ہوا، حسن و حسین علیہما السلام کو دیکھا کہ انہوں نے سیاہ لباس پہنے ہوئے تھے۔
ایک مسلمان کیسے یہ سوچ سکتا ہے کہ حضرت امّ المومنین امّ سلمیٰ یا امام حسن و حسین علیہما السلام جہنمیوں والا لباس زیب تن فرمائیں۔ یہ تو جنتی لباس پہنتے ہیں۔
اعتراض ٦: کہا جاتا ہے کہ شیعوں کو حضرت زینب س کی بددعا ہے لہٰذا یہ قیامت تک روتے رہیں گے۔
جواب: یہ بات حضرت زینب س کے اس خطبے کے حوالے سے کہی جاتی ہے جو بی بی نے کوفہ میں دیا تھا۔ البتہ افسوس اس بات پر ہے کہ کچھ اس قسم کا ماحول شام میں بھی تھا لیکن وہاں کے لوگوں کی نسبت یہ بات کیوں نہیں کہی جاتی؟ یہ ایک ناانصافی ہے اور دوسری ناانصافی یہ کہ اگر بی بی نے کہا بھی ہے تو اہل کوفہ کو کہا ہے لیکن شیعوں کے ذمہ ڈال دیا گیا اور وہ بھی شیعیان حیدر کرار کے ذمہ۔ حالانکہ اس وقت شیعہ تو سب ہی تھے اور تو کوئی مذہب موجود ہی نہ تھا۔ ہاں تھوڑے سے لوگ شیعیان حیدر کرار تھے جو شیعیان علی ع کہلاتے تھے اور اکثریت یزید یا شیعیان معاویہ یا شیعیان عثمان کہلاتے تھے۔
لہٰذا اس اعتراض کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ اُن لوگوں کے بارے میں تحقیق کی جائے کہ جنہیں 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ