مسلمانوں کے درمیان رائج طریقہ یہ ہے کہ وہ رسول اعظم اسلام علیہ الصلاة والسلام سے محبت کرتے ہیں اور آپ (ص) کو اپنا اور رب العالمین جل جلالہ کا محبوب شمار کرتے ہیں۔ وہ ربیع الاول کے مہینے میں کچھ مجالس برپا کرتے ہیں جن میں رسول اکرم علیہ ا الصلاة والسلام کی سیرت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه

پہلا حصہ: جشن کے بارے میں اہم قواعد


لیکن بعض لوگ جن کے دلوں میں پیغمبر اکرم علیہ الصلاہ والسلام کی محبت نہیں ہے یا بے رغبت ہیں وہ ایسی مجالس منعقد  كرنےمیں تردد کا شکار ہوتے ہیں۔ اور ان مجالس سے انکار کرتے ہیں۔ چونکہ ہر سال اس ماہ  ان کی طرف سے انکار اور تردید کا سلسلہ جاری رہتا ہے لہذا ان سے پوچھنا ضروری ہے کہ کیوں ایک کام جسے رسول اکرم علیہ الصلاة والسلام نے انجام نہیں دیا وہ جائز نہیں ہوتا۔
محفل دستار بندی اور ختم بخاری
آپ کیسے ایک عظیم الشان حافظ قرآن کے لیئے دستار بندی کی محفل منعقد کرتے ہیں اور دستار فضیلت کو حافظ قرآن کے سر پر رکھتے ہیں؟ کیا رسول اعظم نے ایسی مجالس کا اہتمام کیا ہے؟ کیا صحابہ نے ایسا عمل انجام دیا ہے؟ کیا امام ابو حنیفہ اور دیگر تابعین اور علماء نے انجام دیا ہے؟ آپ ہمیں ضرور یہ جواب دینگے کہ انہوں نے ایسا عمل انجام نہیں دیا۔ پس اگر انہوں نے انجام نہیں دیا ہے تو آپ نے کیسے اسے جائز سمجھا اور انجام دیا؟ اور دوسری مجالس جو کہ تمام مسلمانوں کے درمیان ختم بخاری کے نام سے معروف ہیں اور انہیں برپا کرتے ہیں۔ تمام چھوٹے اور بڑے مدارس جن میں بخاری شریف پڑھائی جاتی ہے ان میں دورہ کبری اور دورہ کلام مشہور ہے۔ جب دورہ کلام پورا ہوتا ہے  تو ختم بخاری انجام دیتے ہیں اور ایک محفل کا اہتمام کرتے ہیں جس میں بعض افاضل کو دستار فضیلت دے دیتے ہیں۔
اگر اسلامی تاریخ کو دیکھا جائے تو رسول اکرم علیہ الصلاة والسلام نے یہ کام انجام نہیں دیا اور صحابہ کرام نے بھی انجام نہیں دیا۔
دلیل کو ترک کرنا نہی شمار نہیں ہوتى
جب پیغمبر اکرم علیہ الصلاہ والسلام نے ایک کام انجام نہیں دیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کام حرام ہے؛ کیونکہ قرآن عظیم الشان کا فرمان ہے:
"و ما آتاکم الرسول فخذوه و ما نهاکم عنه فانتهوا" یہاں قرآن کریم نے یہ نہیں کہاکہ "وما ترکوہ فاترکوہ"یعنی جو چیز بھی رسول اکرم علیہ الصلاة والسلام نے ترک کی ہے تم بھی اسے ترک کرو۔
علماء اسلام فرماتے ہیں: "الترک لیس حکما شرعیا؛ ترک کوئی حکم شرعی نہیں" یعنی اگر کوئی کہے کہ رسول اکرم علیہ الصلاةوالسلام کا ترک کرنا عدم جواز کی دلیل ہے تو یہ بات غلط ہے۔

عدم الرواية (عدم وجود روایت) اور رواية العدم (وجود روایت بر عدم) میں فرق ہے
دوسری بات یہ کہ یہ مطلب ایک اور انداز میں بھی بیان ہوا ہے کہ علما ءفرماتے ہیں: ہمارے پاس شریعت اسلامی میں ایک "روایت العدم" ہے اور ایک "عدم الروایہ" ہے۔ عدم الروایہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی مورد کے بارے میں کوئی روایت موجود نہیں جیسے مسئلہ دستار بندی اور محفل دستار بندی جس کے بارے میں کوئی روایت موجود نہیں۔
یا دوسری محافل، جب ختم بخاری انجام پاتا ہے تو تفسیر کو پورا کرتے ہیں اور ایک مجلس کا اہتمام کرتے ہیں، ان امور کو پیغمبر اکرم علیہ السلام نے اس عنوان کے ساتھ انجام نہیں دیا، لہذا چونکہ پیغمبر  نے انجام نہیں دیا اس لیئے اس مورد کو عدم الرویہ کہا جاتا ہے۔ اور عدم الروایہ عقلاء اور علماء کے نزدیک دلیل نہیں۔ دوسرا مورد روایت العدم ہے جس کا مطلب کسی کام سے نہی (منع) کرنا ہے۔ اور پیغمبر اکرم علیہ الصلاة والسلام یا اصحاب رسول علیہ السلام نے اس کام کو انجام دینے سے منع کیا ہے۔ اس مورد کو روایت العدم کہا جاتا ہے جو کہ شریعت اسلامی میں دلیل شمار ہوتا ہے۔
اس بنا پر ہر مجلس اور ہر محفل اور ہر قسم کا فعل جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے نہ ٹکرائے اسلام اسے قبول کرتا ہے۔ مثلا جلسہ دستار بندی جس میں پیغمبر اکرم علیہ السلام کی احادیث پڑھی جاتی ہیں، قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے، علماء وعظ ونصیحت کرتے ہیں اور صفات پیغمبر اکرم علیہ السلام کی فضیلت، سیرت اور مدح بیان ہوتی ہے۔ اس کے بعد بعض لوگوں کی طرف سے صدقات اور خیرات عطا کی جاتی ہیں۔ یہ مجلس اسلامی اصول کی مخالف نہیں اور جب ان میں سے ہر کام جائز ہے تو یہ جلسہ حرام اور شرک کے زمرے میں نہیں آتا۔
آپ دیکھیں کہ جب محفل میلاد کے کسی جلسے میں تلاوت قرآن کے بعد کچھ اشخاص ممبر پر چڑھتے ہیں اور پیغمبر اکرم علیہ الصلاةوالسلام کی مدح سرائی کرتے ہیں اور ان کی صفات بیان کرتے ہیں، تو یہ وہی عمل ہے جسے صحابہ نے انجام دیا ہے۔

صحابہ نے مدح پیغمبر کی خاطر مجلس کا اہتمام کیا
ایک دن پیغمبر اکرم علیہ السلام خطاب کے دوران اپنی عبا بچھاتے ہیں اور حسان بن ثابت سے فرماتے ہیں: ادھر بیٹھیں اور شعر پڑھیں، وہ بیٹھتے ہیں اور مدح پیغمبر میں شعر پڑھتے ہیں۔ بعد میں کہتے ہیں کہ " سیعینک روح القدس" روح القدس یعنی جبرئیل علیہ السلام آپ کی مدد کرے گا۔  
پس رسول اکرم علیہ الصلاة والسلام کی مدح کرنا صحابہ کا فعل ہے۔ اور پیغمبر علیہ الصلاةوالسلام کی مدح کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں آپ (ص) کے لیئے محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس جہت سے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: "توقروہ وتعزروہ" یعنی رسول اکرم (ص) کی توقیر وتعظیم اور احترام کریں اور ان کی مدد کریں جو کہ مدح کے ذریعے ممکن ہے۔
طبیعی سی بات ہے کہ جب وہ اشعار پڑھے جائنگے اور اقوال بیان ہونگے تو یہ رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم وتوقیر ہے۔ پس یہ عمل قرآن کریم سے ثابت ہے۔

یہ جلسے نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہیں
اس کے علاوہ دوسرا کام جو ہم شب میلاد میں انجام دیتے ہیں وہ ایک نیک کام اور رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی خاطر جمع ہونا ہے۔ اس عمل کو خداوند متعال نے قرآن کریم ميں عظیم کام شمار کیا ہے: "تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان" نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ ہم سب ایک دوسرے سے تعاون اور محبت رسول خدا علیہ الصلاةوالسلام بڑھانے کی خاطر اکھٹے ہوتے ہیں۔ خداوند متعال سورہ انسان کی آیت نمبر آٹھ میں ارشاد فرماتا ہے: "ويطعمون الطعام على حبه" اسی عنوان سے فرماتا ہے کہ مسلمان اور مومنین اس کی محبت میں ایک دوسرے کاوکھانا کھلائیں۔ اور مجلس کے آخر میں اہل اسلام اور وہاں جمع ہونے والے مسلمانوں کے لیئے دعا کی جاتی ہے۔ ان کاموں میں سے کونسا کام جو میلاد کی محفلوں میں انجام پاتا ہے قرآن کریم کا مخالف ہے؟
میں دوسرے مرحلے میں ان شاء اللہ قرآن اور احادیث پیغمبر سے کچھ دلائل پیش کرونگا جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ زمانہ سلف میں میلاد پیغمبر اکرم علیہ السلام کے کچھ بابرکت جلسے منعقد ہوئے ہیں یہاں تک کہ خود رسول خدا علیہ السلام نے بھی اہتمام کیا ہے۔ اور صحابہ نے میلاد پیغمبر اکرم کو مبارک قرار دیا اور اس میں خوشی ومسرت کا اظہار کیا ہے۔ اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ کہ کیوں آپ جشن میلاد مناتے ہیں؟ تو اس سے کہو کہ کیونکہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنے پیغمبر کو ہمارے لئیے رحمت للعالمین بناکربھیجا اور ہم پر احسان کیا ہے۔
جشن میلاد نعمت خداوندی کا ذکر ہے
پیغمبر اکرم نے ہمیں کفر وگمراہی سے نجات دی اور اپنی شفاعت کے زریعے ہمیں عذاب الہی سے بچائینگے۔ جب یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ اللہ نے فرمایا: " و أما بنعمة‌ ربک فحدث " لہذا ہم اس دن اس نعمت کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اہل اسلام کے لئیے یہ ایک عظیم نعمت ہے۔
پس جو بھی پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے لئیے نعمت سمجھتا ہے وہ اسے بیان کرتا ہے اور ان ایام میں سیرت رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام لوگوں کے سامنے بیان ہوتی ہے تاکہ لوگ اپنے محبوب پیغمبر کی سیرت سے آگاہ ہوجائیں۔ جب ايسى  مجالس میلاد پیغمبر،  کا اہتمام کرنے کی  وجہ سے مسلمان سیرت پیغمبر سے آشنا ہوتے ہیں تو اس راستے کو ان کے لیئے كيوں بند کر دیں؟
دوستو ایک اور بات کو بھی ذہن میں رکھ لیں کہ جس محفل میں کوئی خلاف شریعت کام انجام پاتا ہے تو وہ محفل قابل قبول نہیں۔ ایسا نہیں کہ جشن میلاد ہی قبول نہیں۔ مثلا اگر کوئی میلاد کے نام محفل منعقد کرتا ہے جس میں ساز وسرود کا بھی اہتمام ہے اور مرد اور خواتین ایک جگہ اکھٹے ہیں! یہ کام جو انجام دے رہے وہ قبول نہیں۔ اور اگر کوئی کہے کہ میلاد کی تمام محفلیں خراب ہیں تو یہ بات درست نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے جشن میلاد کیوں نہیں منایا؟
کئی لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ میلاد جسے تم منا رہے ہو، پيغمبر، صحابہ اور تابعین نے اس کا اہتمام نہیں کیا، یعنی سلف میں سے کسی نے بھی اس عمل کو انجام نہیں دیا۔ اگر یہ کام نیک ہوتا تو وہ اس کار خیر میں ہم پر سبقت لے جاتے۔
بالکل اسی طرح کا اعتراض بعض صحابہ نے ایک واقعے میں بیان کیا اور اس کا جواب  بهى دیا ہے۔ صحیح بخاری (2) میں آیا ہے کہ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ چھڑ گئی تو بہت سارے صحابہ جن میں قاری اور حافظ قرآن بھی تھے، شہید ہوگئے اور عمر نے ایک قاری صحابی کی شہادت دیکھی تو ابو بکر سے کہا: " إِنَّ القَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ يَوْمَ اليَمَامَةِ بِقُرَّاءِ القُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ القَتْلُ بِالقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ القُرْآنِ" یعنی جنگ یمامہ کے دن قتل شدت اختیار کرگیا اور قاریوں کو ہم سے چھین لیا اور مجھے ڈر ہے کہ دوسرے قاری صحابہ اور حافظین قرآن کی شہادت کے بعد قرآن سے کچھ نہیں بچے گا۔ فیذھب کثیر من القرآن۔ خدانخواستہ اکثر قرآن ضایع ہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ ایک قاری قرآن کا ایک حصہ اپنے سینے ميں محفوظ رکھتا تھا اور دوسرا حصہ دوسرے صحابہ۔ لہذا کہتا ہے: "وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ القُرْآنِ" میرے خیال میں قرآن جمع کرنے کا حکم صادر کریں۔ ابو بکر عمر سے کہتا ہے: " كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" آپ کیسے ایک کام کو انجام دے سکتے ہو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے انجام نہیں دیا؟ تو دیکھیئے یہ بالکل وہی استدلال ہے۔ جس طرح آپ جشن میلاد برگزار کرتے ہو جبکہ پیغمبر نے میلاد نہیں منائی؟ پس یہاں بھی حضرت ابو بکر نے حضرت عمر سے کہا: تم کیسے کسی کام كو انجام دے سکتے ہو جسے رسول اللہ علیہ السلام نے انجام نہیں دیا؟
عمر جواب میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے: "ھذا واللہ خیر" خدا کی قسم یہ کام یا بات مسلمانوں کے لیئے کار خیر ہے۔ اس کے بعد ابو بکر صدیق کہتا ہے:" فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِذَلِكَ"  عمر واپس نہیں لوٹے نہیں تھے کہ خدا نے میرے سینے کو وسعت عطا کی " وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ" اور جو حکمت یا بہتری عمر لوگوں کے لیئے دیکھ رہا تھا میں نے بھی دیکھی۔
اس کے بعد زید فرماتا ہے: " قَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لاَ نَتَّهِمُكَ» تو جوان عاقلی هستی که تو را به کذب و نسیان متهم نمی کنیم «وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ابو بکر نے کہا کہ تم ایک عقلمند جوان ہو اس لیئے تم  پرجھوٹ اور نسیان کی تہمت نہیں لگاتے۔ " وقد کنت تکتب الوحی لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" اور تم رسول اکرم علیہ السلام کے لیئے وحی لکھتے تھے۔ لہذا آپ ہی قرآن کی جمع آوری کا اہتمام کریں۔ اس کے بعد خود زید ابو بکر سے کہتے ہیں: کیسے اس کام کو انجام دے سکتے ہو جسے رسول خدا نے انجام نہیں دیا۔ ابو بکر کہتا ہے: "خدا کی قسم یہ کار خیر ہے" اس کے بعد زید کہتے ہیں: خداوند نے میرے سینے کو وسعت عطا کی " شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَتَتَبَّعْتُ القُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ العُسُبِ وَاللِّخَافِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ" یہاں پر ہمارا ہدف اور استدلال صحابہ کا وہ کام ہے جسے رسول خدا نے انجام نہیں دیا "ھو واللہ خیر" یہاں پر رسول خدا علیہ الصلوۃ والسلام کی صفات، خصوصیات، ولادت، قیام وقعود، بیداری، نیند اور پیغمبر اکرم علیہ الصلاةوالسلام کی خصوصیات بیان ہونگی۔ اگر کوئی کہے کہ یہ کام پیغمبر اکرم علیہ السلام اور صحابہ نے انجام نہیں دیا تو ہم کہیں گے: "ھو واللہ خیر"۔ پس اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو بھی عمل نیک ہے اس کو انجام دینے میں کوئی شرعی مانع موجود نہیں بلکہ جو بھی عمل نیک ہو اسے انجام دینا جائز ہے جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے قول سے معلوم ہوگیا۔
پس یہ کام خیر ہے اور اسے انجام دینے میں کوئی مشکل نہیں اگرچہ رسول اکرم علیہ السلام نے اسے انجام نہیں دیا ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم نے قرآن کو جمع نہیں کیا لیکن صحابہ نے کیا۔ کیونکہ یہ ایک نیک عمل تھا۔
اسی طرح صحیح بخاری میں آیا ہے: " عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى" عائشہ فرماتی ہیں کہ میں رسول خدا کو نماز ضحی پڑھتے نہیں دیکھا لیکن میں یہ نماز پڑھتی ہوں۔ ایک عمل جسے پیغمبر نے انجام نہیں دیا لیکن عائشہ رضی اللہ عنھا اسے انجام دیتی ہیں۔
یہاں پر عائشہ نے ایک ایسا عمل بجا لایا جسے پیغمبر نے انجام نہیں دیا اور صحابہ نے کبھی نہیں کہا کہ آپ ایسا کام مت کریں جسے پیغمبر نے انجام نہیں دیا۔ ان سے نہیں کہا کہ اگر نماز ضحی عمل خیر ہوتی تو رسول خدا اسے انجام دیتے۔
امام شافعی رحمت اللہ علیہ اپنے استاد سے ایک داستان نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ: مدینہ کے دروازے کے پاس امام مالک کو دیکھا کہ اس كے پاس دو خراسانی گھوڑے تھے اور مصری  خچر۔ مجھے وہ گھوڑے اچھے لگے۔ امام مالک نے کہا یہ لو، یہ میری طرف سے آپ کے لیئے تحفہ ہیں۔ میں نے کہا ایک اپنے لیئے رکھیں اور اس پر سوار ہو جائیں۔ اس نے کہا مجھے پسند نہیں کہ جس جگہ پیغمبر آرام فرما رہے ہیں اور آپ (ص) کی تربت ہے وہاں گھوڑے پر سوار ہو جاوں (4)۔
یہاں پر امام شافعی نے امام مالک سے یہ نہیں کہا کہ آپ پیغمبر سے زیادہ محبت کرتے ہیں یا صحابہ! صحابہ اس شہر میں گھوڑوں کے ساتھ چلے پھرے ہیں اور آپ گھوڑے پر سوار نہیں ہوتے؟  اور ولادت نبی کے موضوع میں بھی یہی حکم ثابت ہے۔

ایک مخصوص رات میلاد منانا در اصل  رسول خدا کی شان  كم كرنا ہے
دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ: صرف ایک خاص رات کو جشن میلاد منانا رسول اکرم کی شان کو کم کرنا ہے کیونکہ آپ صرف ایک مخصوص دن میں رسول اکرم کا ذکر کرتے ہیں اور باقی ایام میں یاد نہیں کرتے۔ یہ بات رسول اکرم کی شان کو کم کرتی ہے۔
ہم عزیز بھائیوں کے جواب میں کہتے ہیں کہ: ایسا نہیں کہ پیغمبر اکرم کا ذکر ایک مخصوص میں دن کرتے ہیں بلکہ اس دن ہم رسول اکرم کی مدح زیادہ کرتے ہیں۔ ورگرنہ یہ اعتراض سید الاولین والآخرین پر بھی ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے (5)، جب رسول اکرم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا: "ذلک یوم ولدت فیه" یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی ہے۔ لہذا ہم یہ کہیں گے کہ رسول خدا صرف پیر کے دن شکر خدا بجا لاتے ہیں اور دوسرے ایام میں شکر خدا نہیں کرتے۔ ایسا بالکل نہیں۔ بلکہ پیر کے دن رسول اکرم زیادہ شکر بجا لاتے تھے۔ پس ہم بھی ایام میلاد میں شکر خدا کو زیادہ انجام دیتے ہیں۔ اگرچہ دوسرے ایام میں بھی انجام دیتے ہیں۔
اسی طرح جب نبی اکرم مدینے کی طرف نکل پڑے تو دیکھا کہ بعض لوگ روز عاشورا کو روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اکرم نے ان سے پوچھا کہ آپ عاشورا کو روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: خدا کا شکر بجا لانے کی خاطر، وہ اس لیئے کیونکہ خداوند متعال نے اس دن حضرت موسی کو فرعون سے نجات دی۔ رسول اکرم نے فرمایا: ہم موسی کے نزدیک ہیں اور وہ ہمارا بھائی ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ انہوں نے بھی روزہ رکھا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا رسول خدا نے صرف ایک دن شکر خدا بجا لایا کہ جس دن خدا نے موسی كو فرعون سے نجات دی تھی۔ کیا دوسرے ایام میں شکر کو ترک کیا؟ نہیں۔ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اس روز شکر کو بیشتر انجام دیا۔ پس جب زیادہ شکر ادا کرنا مطلوب ہے تو دوسرے ایام میں بھی شکر ادا کرتے ہیں لیکن ان ایام میں زیادہ شکر کرتے ہیں۔

کونسے علماء میلاد کو جائز اور کونسے علماء اسے بدعت سمجھتے ہیں؟
اگر ہم مبالغے سے کام نہ لیں تو ہمارے پاس تقریبا 40-50 کتابیں میلاد کے مسئلے پر موجود ہیں۔ لیکن ہم اس مسئلے کو کسی اور جہت سے دیکھتے ہیں۔ آج کل ہم ایک پرآشوب اور پرفتن زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، معاشرے کے بعض گروہ اور افراد ایسی مجالس منعقد کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور جو لوگ ان مجالس کے حق میں ہيں  وہ بھی اس معاشرے کے افراد ہیں اور ایک کثیر تعداد ان مجالس کو پسند کرتی ہے اور وه  ان میں شرکت کرتے ہیں اور ان مجالس کو خیر ونیکی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
گذشتہ علماء میں سے حضرت علامہ جلال الدین سیوطی، ابن حجر ھیتمی، علامہ ابن کثیر، علامہ ابن حجر مکی، علامہ شامی، مقدسی، ابن رجب، حافظ حنبلی، خطیب شربینی، شیخ محمد بناتی، شیخ دردیل، شیخ ساوی، شیخ محمد علیش، امام شعرانی، حافظ ومجتہد ملا علی قاری، علامہ سخاوی، قسطلانی رحمت اللہ علیہم اجمعین اور اسی طرح بہت سارے علماء جو استقامت کے پہاڑ تھے، جو علم کے جبل راسخ تھے، علامہ ذہبی اور علامہ شمس الدین خزری، اور بہت سارے علماء رسول خدا (ص) کا جشن میلاد منانا جائز قرار دیتے ہیں۔
لیکن در مقابل جب ہم تلاش کرتے ہیں اور تو دیکھتے ہیں کہ کونسے علماء میلاد کو جائز نہیں سمجھتے ہیں تو معلوم ہوگا کہ: ابن باز، ابن عثیمین، ابن فوزان، عبد العزیز آل شیخ، البانی، عبد الرحمن دمشقیہ، اور ابو اسحاق حوینی جو کہ اس زمانے کے ہیں یا ہم سے دس سال پہلے وفات پا چکے ہیں یا ابھی زندہ ہیں، اور ان سب کا نہ ہمارے مذہب سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہمارے علماء سے، یہ میلاد منانا جائز نہیں سمجھتے۔
پس ہم اپنی عقل سے پوچھتے ہیں کہ کیا جلال الدین سیوطی زیادہ علم رکھتے تھے یا ابن باز، جلال الدین کا فہم زیادہ تھا یا ابن عثیمین کا، کیا جن علماء کو ہم علم میں جبل راسخ سمجھتے ہیں، جنہوں نے سینکڑوں کتابیں اور تفاسیر لکھی ہیں اور موت کے بعد انہیں خیر کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے، کیا وہ علماء بدعت اور گمراہی کا شکار تھے؟ کیا جو علماء ہم سے 500 سال پہلے تھے وہ فتنوں میں پھنسے تھے یا ہم فتنوں کے زمانے میں ہیں؟ ہماری عقل فیصلہ کرتی ہے کہ جو علماء آج سعودی ریال اور امریکی ڈالر کے تحت پلتے ہیں اور امریکہ اور سعودیہ کے حق میں فتوے صادر کرتے ہیں وہ ہمارے لیئے حجت اور دلیل نہیں ہیں۔ جب ہم ان کی بات قبول کرینگے کہ پیغمبر کی میلاد اور جشن منانا مذموم فعل ہے تو گویا ہم نے گذشتہ علماء کے منہ ميں خاک ڈال دی اور انہیں بدنام کیا اور ان پر بدعت اور فسق کا حکم لگایا حالانکہ ہم اس لیول پر نہیں کہ ملا علی قاری کو برا بلا کہیں جنہوں نے کتاب المورد الروی فی میلاد النبی لکھی ہے، آپ دیکھیں کہ ملا علی قاری افغانستان سے ہیں، وہ ایک مفسر اور محدث ہیں اور تقریبا 500 سال پہلے زندگی گزاری ہے۔ وہ حنفی مذھب سے تعلق رکھتے تھے، اور مکہ معظمہ میں زندگی گزاری ہے۔ ایک سال میلاد کا دن آیا لیکن ان کے پاس پیسے نہیں تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اب کیسے پیغمبر اکرم کے وجود پر خوشی اور مسرت کا اظہار کروں، میں اٹھا اور قلم ہاتھ میں لیا اور اثبات میلاد پر ایک رسالہ لکھا اور کہا پروردگار اس سال میرا ہاتھ خالی ہے اور میرے پاس خوشی منانے کے لیئے کچھ نہیں، لہذا میں پیغمبر اکرم (ص) کا جشن میلاد منانے کے جواز پر یہ رسالہ لکھ رہا ہوں۔

اثبات میلاد پر حنفی علماء کے اقوال کا بیان
محدث شہید امت اسلامی عبد الحي لکھنوی رحمت اللہ تعالی علیہ مجموعہ الفتاوی کی جلد چہارم کتاب الکراھیہ صفحہ 335 میں کہتا ہے: میلاد شریف منانا جائز ہے۔ یہ ایک اجماعی مسئلہ ہے۔ عبد الحي لکھنوی رحمہ اللہ کہتا ہے: ولادت رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام منانا جائز ہے اور اس میں کوئی مشکل نہیں۔
فتاوی کاملیا در مذھب امام ابو حنیفہ کے صفحہ 263 میں شیخ محمد کامل بن مصطفی بن محمود الطرابلسی کہتا ہے کہ اس طرح سے میلاد منانا کہ لوگ خوشی ومسرت کی خاطر جمع ہوجائیں ایک ممدوح فعل ہے۔ یعنی ایک جائز ونیک اور پسندیدہ عمل ہے۔ کیوں؟
کیونکہ یہاں جمع ہونا رسول اکرم علیہ السلام کی تعظیم اور علامات نبوت کا اظہار ہے۔ اس کے بعد شرح علقمی علی جامع الصغیر سے نقل کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے: إن عمل المولد الشريف النبوي الصواب أنه من البدع الحسنة المندوبة، یعنی میلاد رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام منانا اس صورت میں کہ منکرات شرعی سے خالی ہو، بدعت حسنہ میں سے ہے۔
پھر ملا علی قاری رحمہ اللہ سے بھی نقل کرتا ہے اور کہتا ہے: ملا علی قاری کہتا ہے کہ میلاد شریف منانا جس میں تلاوت قرآن، مدح رسول اکرم علیہ السلام، كهانا اور صدقات کا اہتمام ہو، ایک نیک عمل ہے اور حسن نیت سے اس کو انجام دینے والے کے لیئے اجر وثواب ہے۔ اگرچہ مذکورہ عمل میلاد، تنیوں صدیوں میں سلف صالح سے منقول نہیں۔ بلکہ اس کے بعد انجام پایا ہے۔ لہذا اصحاب علم کے نزدیک یہ ایک بدعت حسنہ ہے۔
اس کے بعد کہتا ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ زمین کے مختلف حصوں میں میلاد رسول اکرم علیہ السلام کی محفلیں سجائی ہیں۔ (6)
ایک اور مشہور حنفی و مفسر امت اسلامی صاحب تفسیر روح البیان علامہ اسماعیل حقی ہے۔ اس نے بھی اپنی تفسیر  ميں یہ مسئلہ بیان کیا ہے۔ (7) اور اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
مشہور محدث امت اسلامی علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ میلاد النبی کے بارے میں کہتا ہے:
اگرچہ اصل میلاد کا عمل شروع کی صدیوں میں انجام نہیں پایا لیکن اس کے بعد نیک مقاصد اور خالص نیتوں کے ساتھ انجام پایا ہے اور ماہ میلاد میں تمام اہل اسلام نے دنیا کے ہر مسلم ملک میں جشن کا انعقاد کیا ہے اور لوگوں کی مختلف ولذید قسم کی غذاوں سے مہمان نوازی کی ہے۔ اور اس مہینے میں میلاد کی نیت سے صدقہ دیا ہے۔
لیکن کچھ کام جیسے میوزک وغیرہ شکر خدا نہیں اس لیئے اسے انجام نہیں دینا چاہیئے۔ پس یہ بات قابل ذکر ہے کہ جو کام یہاں خوشی اور مسرت کا باعث بنے وہ مباح ہے۔ لیکن جو عمل بھی حرام اور مکروہ ہے وہ محافل میلاد میں ممنوع ہے۔
اس کے بعد ملا علی قاری مناقب پیغمبر کے حوالے سے معتبر کتابیں پڑھنے کی نصیحت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میلاد کے بارے میں غیر معتبر کتابوں کا مطالعہ نہیں کرنا چاہیئے بلکہ اتنا کافی ہے کہ قرآن پڑھا جائے اور كهانا اورصدقہ دیا جائے اور مدح پیغمبر اور زہد کی طرف بلانے والے اشعار پڑھے جائیں۔
ان اشخاص میں سے ایک شخص جو تمام علما کے نزدیک قابل اعتماد ہے وہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ہے۔ مولانا تھانوی رحمہ اللہ جو کہ سن 1362 کو دار فانی سے رخصت ہوگیا اکابرین دیوبند کے نزدیک ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کے خطبے ہیں۔ البتہ اردو میں ہیں لیکن ان كے بیچ ایک رباعی ہے جو کہ عربی زبان میں ہے۔ میں آپ کے لیئے اسے ذکر کرتا ہوں۔ ماہ ربیع الاول کی فضیلت بیان کرتا ہے:
لهذا الشهر في الإسلتم فضل تطوق على الشهور
اسلام میں اس مہینے کے لیئے ایک خاص فضیلت ہے جو باقی مہینوں سے زیادہ ہے۔
ربيع في ربيع في ربيع ونور فوق نور فوق نور
کس لیئے یہ ماہ باقی مہینوں سے افضل ہے؟ یقینا میلاد رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے۔
حنفی علماء میں سے ایک اور عالم شاہ احمد سعید مجددی دہلوی ہے جو کہ دہلی کے معروف علمائے دین میں سے تھا۔ اس نے میلاد رسول اکرم علیہ السلام کے اثبات پر پورا ایک رسالہ لکھا ہے۔

قاعدہ العبرہ بالمقاصد
اسلام میں ایک قاعدہ ہے جو کہتا ہے: (کسی بھی کام میں) مقاصد اور اہداف معتبر ہیں، جب مجلس منعقد ہوجائے تو آپ ایک بار پوچھ لیں کہ اس مجلس کا مقصد کیا ہے؟ آپ مقصد کو سمجھ جائینگے، اگر آپ سالم عقل اور قلب کے مالک ہیں تو جان جائینگے کہ یہ مجالس، نیکی کی مجالس ہیں، پھر آپ پوچھیں کہ کس دلیل کی بنا پر یہ مجالس منعقد ہوتی ہیں، تو وہ کہینگے کہ یہاں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے، نعت پڑھی جاتی ہے، ذکر خدا ہوتا ہے، علماء تقریر کرتے ہیں، ہمارے لیئے سیرت پیغمبر اکرم (ص) کو بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا کا اخلاق کیسا تھا، سیاست کیسی تھی، کس طرح حکومت کی، کیسے ہجرت کی، اسی طرح صحابہ کے ساتھ کیسا برتاو کیا، معاشرے میں کس طرح زندگی گزاری، ہمیں کفار کے برابر جھکنے سے منع کیا، ہمیں آزادی کا درس دیا وغیرہ۔۔ یہ ساری چیزیں ان مجالس میں بیان ہوتی ہیں۔ اگر وہ بھائی کہے کہ محفل میلاد بدعت ہے، تو آپ کہیں کہ بھائی سیرت النبی کی محفل کہاں کی سنت ہے؟ جب ہم اس محفل کے مقاصد سے آشنا ہوتے ہیں تو جائز سمجھتے ہیں، اور جو محفل آپ بعنوان قرائت قرآن کانفرنس منعقد کرتے ہو وہ کس طرح جائز ہے؟ کیا وه  ثابت ہے؟ نہیں، ثابت نہیں ہے۔ پس جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک محفل بخاطر شناخت قرآن منعقد ہوئی ہے تو اسے جائز قرار دیتے ہیں اور اس میں کوئی مشکل نہیں، شرعی قواعد اور ضوابط کا اس سے کوئی ٹکراو نہیں۔ لہذا جب مجالس مثل محفل میلاد، برپا کرنے کی صورت میں مسلمان پیغمبر سے زیادہ آشنا ہوتے ہیں تو پھر کیوں وہ راستہ ایک دوسرے کے لیئے بند کریں؟
ہم ایسی مجالس برپا نہیں کرتے جس میں برے کام انجام پاتے ہوں، اور مرد اور عورت مخلوط ہوں، کیونکہ یہ مجالس شرعی طریقے کے مطابق نہیں، لیکن اس دن خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا خداوند کا حکم ہے، اللہ سبحانہ وتعالی قرآن میں فرماتا ہے: " قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَ بِرَحْمَتِهِ فَبِذلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ" (یونس:58)
اے رسول! کہہ دو خداوند کے فضل اور رحمت سے خوشی مناو۔ قرآن نے کس چیز کو رحمت کہا ہے؟ وما ارسلناک الا رحمة للعالمين (انبياء: 107) اے رسول! ہم نے آپ کو دو جہاں کے لیئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔
اس دن شیطان مایوس ہوتا ہے، ایک کتاب بنام آکام المرجان فی احکام الجان لکھی گئی ہے، اس میں آیا ہے: إن الشيطان رن رنة عظيمة.
شیطان نے چار مرتبہ بلند آواز میں فریاد کی ہے:
اول: جب اس پر لعنت ہوئی
دوم: جب پیغمبر اکرم (ص) کی ولادت ہوئی، اس رات شیطان نے چیخ ماری اور اسی شب زمین وآسمان میں ایک تبدیلی آئی، شاعر کہتا ہے:
زمین اور آسمان میں انقلاب رونما ہوا

ایک ہمیشہ چمکتا ہوا سورج ظاہر ہوا


رسول اكرم كى رحلت اور وفات ایک ہی دن ہوئی ہے۔

ایک اور شبہہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کیسے 12 ربیع الاول کو جشن مناتے ہو جبکہ اسی دن پیغمبر دنیا سے رحلت کر گئے ہیں؟
اس شبہے کے جواب میں ہم کہتے ہیں: روز ولادت اور روز وفات کا ایک ہونے سے روز ولادت کی فضیلت کی نفی لازم نہیں آتی۔ روز ولادت کی فضیلت رحلت کے باوجود ختم نہیں ہوتی۔ ہماری بات کی دلیل سنن نسائی کی ایک حدیث ہے۔ رسول اکرم نے فرمایا: "إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة، فيه خلق آدم عليه السلام، وفيه قبض، وفيه النفخة، وفيه الصعقة، فأكثروا علي من الصلاة، فإن صلاتكم معروضة علي" (8) بہترین ایام میں سے روز جمعہ ہے، روز جمعہ کی فضیلت اس لیئے ہے کیونکہ حضرت آدم اس روز خلق ہوئے ہیں اور اسی دن دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔
یعنی باوجود اس کے کہ حضرت آدم کی وفات اسی دن ہے، روز جمعہ عید شمار ہوتا ہے۔
اس بنا پر جس طرح روز جمعہ حضرت آدم کی ولادت اور رحلت اسی دن ہوئی ہے، عید شمار ہوتا ہے، اور 12 ربیع الاول کو بھی تولد اور وفات کی مناسبت منائی جا سکتی ہے۔
دوسرا جواب جناب سیوطی نے کتاب المقصد فی عمل المولد میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شریعت نے ہمیں روز ولادت خوشی منانے کا حکم دیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ جس وقت کوئی فوت ہوجائے تو جزع وفزع کریں بلکہ شریعت نے ہمیں جزع وفزع (گریہ وپکار) سے منع کیا ہے۔ (9)
اس کتاب میں سیوطی کی عبارت یوں مذکور ہے:
أولاً: إن ولادته صلى الله عليه وسلم أعظم النعم علينا، ووفاته أعظم المصائب لنا، والشريعة حثت على إظهار شكر النعم، والصبر والسلوان والكتم عند المصائب،
ولادت پیغمبر ہمارے لیئے ایک عظیم نعمت ہے اور ان کی وفات ایک عظیم مصیبت ہے۔ اور شریعت نے نعمت کا شکر ادا کرنے پر مامور کیا ہے اور مصائب میں صبر کرنے کی تلقین کی ہے۔
اسی طرح شارع نے حکم دیا ہے کہ ولادت کے بعد عقیقہ کریں۔ اور عقیقہ کرنا بھی مولود کی خاطر شکر اور خوشی کا اظہار ہے۔ لیکن شریعت نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ موت کے وقت جانور ذبح کریں اور نہ ہی کوئی اور کام بلکہ شریعت نے گریہ وفساد سے منع کیا ہے۔
اس بنا پر شرعی قواعد اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس مہینے میں ہم ولادت رسول اکرم کی خاطر خوشی اور مسرت کا اظہار کریں لیکن شریعت نے ہمیں آپ (ص) کی وفات پر حزن وملال ظاہر کرنے کا حکم نہیں دیا۔

[1] وہ اہل سنت کے اساتذہ میں سے ہیں جو وہابی منحرف افکار پر نقد وتنقید کرتے ہیں۔

[2] مجلد دوّم صفحه (250)، چاپ مکتبه رحمانیه، حدیث شماره4986

[3] . بخارى، محمّد، صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر، دار طوق النجاة، چاپ اوّل، 1422ق، ج2، ص58، ح1117

[4] . قال انا استحیی من الله ...بحافر الدابه...

[5]صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقى، دار إحياء التراث العربى، بيروت، بى تا.( ج2 ص 819)

[6] صفحه 263 فتاوای کاملیه مکتب حقانیه

[7] تفسیر روح البیان علامه اسماعیل حقی ، مجلد نهم صفحه 53-57 زیر آیه 29 سوره فتح

[8] . نسائي، احمد، السنن الصغرى، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، چاپ دوّم، 1406ق، ج3، ص91، ح1374.

[9] . هذا مع أن الشهر الذي ولد فيه صلى الله عليه وسلم وهو ربيع الأول هو بعينه الشهر الذي توفي فيه، فليس الفرح فيه بأولى من الحزن فيه. وهذا ما علينا أن نقول، ومن الله تعالى نرجو حسن القبول. حسن المقصد في عمل المولد السيوطي، ص17. مکتبه الشامله.

 

 

 

لنك: https://alwahabiyah.com/fa/Occation/View/1010/جشن-گرفتن-میلاد-پیامبر-(صلی-الله-علیه-وآله)-از-نگاه-استاد-محمد-جاوید-حنفی-سیفی

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ