وہابی تبرک کو متعدد موارد میں حرام ، بدعت یا شرک سمجھتے ہیں اور اس کے جواز کو چند ایک موارد میں منحصر کرتے ہیں؛ جبکہ اہل سنت کے اصلی روائی منابع میں صحابہ کےطلب تبرک کے بارے میں کچھ روایات موجود ہیں جو وہابیوں کے اس ادعا کو کہ تبرک چند ایک موارد میں منحصر ہے،رد کرتی ہیں۔ان روائی منابع میں سے ایک صحیح بخاری ہے۔اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ یہ کتاب قرآن کریم کے بعد اہل سنت کےنزدیک چاہے وہ سلفہ ہوں یا مقلد،مقبول ترین اور مہم ترین کتاب ہے،اس کتاب سے روایات پیش کرنا جوجواز تبرک پر دلالت کرتی ہیں،اس بات کی نشاندہی ہوگی کہ وہابی اعتقادات ، جمہور اہل سنت کے عقاید کے مخالف ہیں۔
حوالہ :  مجله سراج منیر شماره 26

رائٹر: محمد جعفر میلان نورانی - * ایم فل فرام مؤسسۀ مذاهب اسلامسی اینڈ ریسرچ سکالر مؤسسۀ دار الإعلام لمدرسة أهل البیت(.

مقدمه

قرآن کریم کے بعد ، صحیح بخاری اهل سنت  کے لئے ان کے تمام مختلف فقہی اور مذہبی رجحانات کے ساتھ سب سے اہم کتاب ہے اور کوئی کتاب اس کی مقبولیت کو نہیں چھو سکتی۔ عموم اہل سنت اس کتاب کی مخالفت سے پرہیز کرتے ہیں لیکن مختلف موارد میں  وہابیوں کی نظر  ان سے تعارض رکھتی ہے۔ان موارد میں سے ایک،تبرک ہے۔صحیح بخاری میں تبرک کے متعلق روایات موجود ہیں جو کہتی ہیں کہ یہ صحابہ کے درمیان رایج تھا لیکن وہابی اس کو اکثر موارد میں جایز نہیں سمجھتے۔

یہ مقالہ ،اہل سنت کے نزدیک صحیح بخاری کی عظمت کو مد نظر رکھتے ہوئے،اس کتاب میں  تبرک کے جواز کا جائزہ لیتا ہےاور جو روایات جواز تبرک پر دلالت کرتی ہیں ان کو بیان کرکے وہابیوں کی آراء کو ان روایات سےتطبیق کرتا ہے۔

چونکہ وہابی اپنے آپ کو حقیقی اهل سنت  کے طور پر متعارف کرواتے ہیں ، اور کچھ اصل سنی عقائد کو مسترد کرتے ہیں ، صحیح بخاری میں تبرک کا جواز زیادہ نمایا ہوجائے گا۔

اس مضمون میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ:

۱۔ بخاری تبرک پر اعتقاد رکھتا ہے اور اس کو جایز سمجھتا ہے۔

۲۔تبرک کےبارے میں وہابیوں کی نظر  اور صحیح بخاری میں   موجود روایات کے بیچ کھلا تضاد ہے۔

۳۔ تبرک کے مخالفین،از جملہ وہابی،اس کتاب کے پابند نہیں ہیں۔

کوئی  مقالہ یا کوئی ایسی کتاب نہیں ملی جس نے  صحیح بخاری  کے نقطہ نظر سے مستقل طور پر تبرک  سے بحث کی ہو۔البتہ اہل سنت اور شیعوں کے چند ایک مقالے اور کتابیں  موجود ہیں جن میں تبرک کے بارے میں بحث موجود ہے اور بخاری سے بھی کچھ مثالیں ذکر کی ہیں۔کتابیں  :

 

  1. ۱. التبرك، تألیف آیت‌الله علی احمدی میانجی؛
  2. ۲. النور الباهر في تبرك الصحابة بالزکي الطاهر، تألیف علی محمد زینو؛
  3. ۳. الرد علی السقاف في مسئلة التبرك، تألیف عبدالعزیز عبدالفتاح القاری؛
  4. ۴. تبرك الصحابة بآثار رسول الله و بیان فضله العظیم، تألیف محمدطاهر کردی مکی.

مقالات:

  1. ۲. «نقد دیدگاه وهابیت در مسئلۀ تبرک با تکیهبر نظر علمای معاصرِ وهابی»، نوشتۀ مصطفی ورتابی کاشانیان؛[1]
  2. ۳. «بررسی و نقد دیدگاه وهابیان دربارۀ تبرک با نگاهی به تفسیر آیۀ 93 سورۀ یوسف»، نوشتۀ مرتضی محیطی؛[2]
  3. ۴. «تبرک از دیدگاه علمای اهل‌سنت»، نوشتۀ مولوی محمد اسفندفر.

مذکورہ آثار کے برعکس اس تحقیق کا پورا فوکس کتاب صحیح بخاری پر ہے۔

 

 

 

مفهوم تبرک

لغت میں «تبرک» برکت سے لیا گیا ہے۔ فیروزآبادی لکھتا ہے: «برکت، نماء و منفعت اور کسی چیز کی سعادت ہے  اور  تبرک، یعنی برکت طلب کرنا ہے».[3] 

طریحی «تبرک» و «تیمن» کوطلب برکت کے مترادف سمجھتا ہے[4]۔ اسی طرح سے  کسی چیز میں رشد،زیادت اور ثبوت خیر الہی کو بھی برکت کہا گیا ہے.[5]

تقریبا تمام وہ اہل لغت جنہوں نے تبرک کے معنی میں غور وفکر کیا ہے انہوں نے تیمن کو تبرک کا مترادف جانا ہے اور کسی نے  تبرک کے  معنی میں عبادت کے مفہوم کو بیان نہیں کیا ہے۔

اصطلاح میں بھی تبرک کا معنی خیر الہی کو طلب کرنا ہے جسے خدا نے کسی چیز میں قرار دیا ہے.[6]

اہل سنت کے نزدیک صحیح بخاری کی اہمیت

اہل سنت کے نزدیک اس کتاب کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔حاکم نیشابوری حدیث کی پہلی کتاب کو صحیح بخاری اور اس کے بعد مسلم کو جانتا ہے اور اس کا اعتقاد ہے کہ یہ دونوں کتابیں ، قرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتا بیں ہیں.[7]

اسی طرح سے قسطلانی شافعی جو کہ صحیح بخاری کے شارحین میں ہے،ادعا کرتا ہے کہ بخاری نے اپنی کتاب کی تالیف میں بهترین الفاظ، و بلیغ‌ترین و عالی‌ترین عبارات  کا استعمال کیا ہے اور اس کا تفقہ سابقہ نہیں رکھتا.[8]

نووی شافعی کا بھی یہی  عقیدہ ہے کہ قرآن کے بعد صحیح ترین کتابیں صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہیں البتہ وہ بخاری کو صحیح تر اور مفید تر سمجھتا ہے.[9]

بخاری نے بھی اس کتاب کی جمع آواری کے بارے میں کہا ہے:

ایک دن میں اپنے استاد اسحاق بن ‌راهویه، کے پاس تھا، انہوں نے کہا: کیا بات ہوتی اگر سنت نبی کے بارے میں کوئی کتاب فراہم کرتے!»یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی اور میں نے صحیح احادیث کو جمع کرنا شروع کردیااور اپنی صحیح کو میں نے ۶ سو ہزار حدیثوں سے  اکھٹا کیا.[10]

ابن‌رجب حنبلی،صحیح بخاری کے دیگر شارحین میں سے ہیں ،اس کتاب کو برترین تألیف، پرنفع‌ترین، پربرکت‌ترین، سهل‌الوصول‌ترین و مقبول‌ترین کتاب نزد موافق و مخالف جانتا ہے اور اسی طرح وہ کہتا ہے اس کتاب میں زیادہ تر احادیث صحیح ہیں اور اس میں غلطیاں بہت کم ہیں اور عام و خاص کے نزدیک اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے.[11]

ابن عثیمین، از بزرگان معاصر وهابی، صحیح بخاری  کو علم کےلیے مفید جانتا ہے؛ نہ صرف  مفید ظن و گمان.[12]اسی طرح سے مدینہ یونیورسٹی کے بزرگوں کی نظر یہ ہے کہ بخاری، محدثین،بزرگ حفاظ اور متقین کا غیر متنازعہ امام ہے اور وہ ادعا کرتے ہیں کہ بخاری سے زیادہ  حافظ تر اور دانا تر احادیث رسول خدا(ص میں ہم نے کسی کو نہیں دیکھا ہے اور جو کچھ بخاری نے اپنی کتاب میں جمع کیا ہے،ہمارے مدعا پر بہترین دلیل ہے اور وہ روایت و درایت رکھتا ہے.[13]

ہم دیکھ رہے ہیں کہ بزرگان اہل سنت ،باوجود اس کے کہ مذاہب  کے درمیان اختلاف موجود ہے،سب کے سب اس کتاب کے بہترین ہونے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں۔

صحیح بخاری میں تبرک کے بارے میں بخاری کا نقطہ نظر

صحیح بخاری میں بہت ساری روایات تبرک کے بارے میں موجود ہیں جو کہ مکررات کے حذف کے ساتھ ۲۵ روایات تک پہنچتی ہیں۔ان روایات کی تقسیم بندی یوں کی جاسکتی ہے:

۱۔ بعض روایات  میں پیامبر خدا  کے وضو کے پانی ، لباس یا بال سے صحابہ کا تبرک کرنا ہے[14]  اور بعض روایات ان کے مصلے کے بارے میں ہیں.[15]

۲۔ روایات کے ایک گروپ میں، رسول خدا(ص) صحابه کو امر کہتے ہیں کہ وہ برکت طلب کریں[16] اور ایک دوسرے گروپ میں ،خود صحابہ تبرک طلب کرتے ہیں  بغیر اس کے کہ ان سے کچھ سیکھ لیں.[17]

۳۔ کچھ روایات پیامبر کی زندگی میں  ان کے آثار سے  تبرک کرنے کے بارے میں ہیں اور کچھ ان کی زندگی کے بعد ان کے آثار سے تبرک طلب کرنے کے بارے میں ہیں.[18]

۴۔بعض روایات ان کے  آب دہن سے شفا طلب کرنے کے متعلق ہیں[19] اور بعض دفعہ طلب تبرک ان کی محبت میں  کیا گیا ہے.[20]

تبرک کے بارے میں وہابیوں کی آراء اور کتاب صحیح بخاری سے ان کی تطبیق

یہاں پر کچھ وہابی مشہور علماء جیسے محمد بن‌ عبدالوهاب، ابن‌عثیمین، بن‌جبرین و بن‌باز کی آراء تبرک کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں اور ان کے ادعا کے صحیح یا غلط ہونے کی صورت میں صحیح بخاری سے اس کی تطبیق کی جاتی ہے:[21]

۱۔ تبرک کا بدعت و شرک ہونا

ابن عثیمین حجر الاسود کے علاوہ کسی اور چیز سے تبرک کرنے کو جایز نہیں سمجھتا۔وہ کعبہ کو مس کرنے کے بارے میں کہتا ہے:" کعبہ سے برکت طلب کرنا بدعت ہے،چونکہ پیامبر اسلام نے ایسا کام نہیں کیا ہے».[22] وہ حجر الاسود   کے مس کرنے کو صرف اس لیے جایز سمجھتا ہے چونکہ پیامبر اسلام نے یہ کام کیا ہے لیکن کہتا ہے اگر یہ عمل حجر اسود کے ارد گرد زیادہ رش کا سبب بنے یا مرد اور عورتوں کے درمیان اختلاط کا سبب بنے یا وسوسہ شیطان کا سبب بنے تو اس صورت میں اسے ترک کیا جائے۔اسی طرح سے اس کا عقیدہ ہے کہ رکن یمانی کی طرف اشارہ کرنا اس کو مس کرنے سے افضل ہے، چونکہ پیامبر نے اس کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کیا ہے۔

ابن عثیمین کی نظر میں ،پیامبر اسلام کا حجر اسود کو مس کرنا  خود اس پتھر کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ تعظیم  خدا وند کےلیے تھا، جیسا کہ اس کو مس کرتے وقت انہوں نے تکبیر پڑھی تھی.[23]

کتاب صحیح بخاری کے ساتھ تبرک کے شرک  اور بدعت ہونے کی تطبیق

ابن عثیمین کی  تبرک کے بارے میں  ادلہ کا  یوں خلاصہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ صرف اس تبرک کو جایز سمجھتا ہے جو روسول خدا سے ہم تک پہنچا ہے؛ اس بناء پر جو تبرک آنحضرت نے انجام نہیں دیا ہے، بدعت اور حرام ہے اور شرط صرف حجر اسود کے متعلق موجود ہے۔

اس کے ادعا کی نقد کےلیے پہلے ضروری ہے کہ خود لفظ بدعت کا جائزہ لیا جائے۔لغت میں بدعت ایک نئی چیز یا ایک نئے امر کے ظہور کو کہا جاتا ہے[24] ۔ اصطلاح میں بھی اس کےلیے چند ایک تعریفیں بیان ہوئیں ہیں:دین کے کامل ہونے کے بعد اس میں کسی چیز کا اضافہ کرنا[25]،دین میں کسی ایسی چیز کا اضافہ کرنا جو دین کا حصہ نہ ہو[26]، بغیر بنیاد کے کو ئی چیز بنانا[27]، اور  خلاصہ یہ کہ ہر وہ نئی چیز جس پر بطور عام یا خاص دین سے دلیل موجود نہ ہو  وہ بدعت ہے.[28]

اہل سنت کے نزدیک حتی وہابیوں کے نزدیک «عمل صحابه» مستقل طور پر حجیت رکھتا ہے،پس حامل اصل ہے اور «دین میں کسی چیز کا اضافہ » شمار نہیں ہوتا[29]، لہذا صحابہ کا کسی چیز سے برکت طلب کرنا ،اس عمل کے جایز ہونے پر دلیل ہے۔

صحیح بخاری کی طرف رجوع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ بعض صحابہ رسول خدا کے آثار سے برکت طلب کرتے تھے، جبکہ تبرک طلب کرنا یہ انہوں نے آنحضرت سے نہیں سیکھا تھا اور یہ ان کی اپنی ایجاد تھی۔جیسا کہ بخاری ،عاصم احول سے نقل کرتا ہے:

میں نے انس بن مالک کے پاس رسول خدا کے پانی کا پیالہ دیکھا۔وہ یہ دعوی کررہا تھا کہ میں نے رسول خدا کو اس پیالے میں زیادہ پانی دیا ہے۔ابن سیرین نے کہا: "ایسا لگتا تھا کہ  اس پیالے کا ایک حصہ ٹوٹا ہوا تھا  اور لوہے کے ساتھ ویلڈ ہوا تھا اور انس چاہتا تھا کہ اسے اٹھائے اور اس کے اوپر چاندی اور سونے کا غلاف چڑھائے، لیکن ابوطلحہ نے تجویز دی کہ جو  چیزیں  رسول خدا کی باقی ہیں ،ان کی شکل تبدیل نہیں ہونی چاہیے».[30]

ابو طلحہ کا آنحضرت کے آثار کو تبدیل کرنے  سےمنع کرنے کا مطلب تبرک پر  اس کا عقیدہ رکھنا ہے،چونکہ اس زمانے میں میوزیم نام کی کوئی چیز نہیں تھی بلکہ آثار کا معنوی پہلو مد نظر ہوتا تھا۔ مذکورہ ظرف سے تبرک طلب کرنا مسلمانوں میں نسل در نسل رواج پایا ہے یہاں تک کہ صحیح بخاری کے شارحین بھی ادعا کرتے ہیں  کہ خود بخاری نے بھی ظرف مذکور سے تبرک کیا ہے .[31]

ایک اور روایت میں یوں آیا ہے:

ابن‌سیرین کہتا ہے: رسول خدا کا یک بال میرے ہاتھ لگا اور اس سے پہلے وہ انس  کے پاس تھا اور اس کے بعد ان کے وارثوں کے پاس تھا، اور اب جبکہ یہ میرے پاس ہے، یہ بہتر ہے اس سے کہ ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ،میرے اختیار میں ہو».[32]

عسقلانی اس روایت کے ذیل میں  کہتا ہے:ابو طلحہ  نے پیامبر کے بال کو اپنے پاس محفوظ رکھا تھا۔یہ بال اس کے بعد اس کے وارثوں  کو ملا اور انہوں نے یہ بال اپنے غلام سیرین اور اس کے بیٹے کو دیا».[33]

عینی نے روایت ابن سیرین سے جواز تبرک کو استنباط کیا ہے اور نقل کیا ہے کہ خالد بن ولید ہمیشہ  رسول خدا کا ایک بال  عرق چین میں رکھتا تھا اور جب اسے گم کردیا،بہت  ناراحت ہوا.[34]شحود نے بھی اس طرح کا استنباط کیا ہے اور اس کو جواز تبرک پر حتی پیامبر کی وفات کے بعد دلیل جانا ہے.[35]

عثمان بن‌ عبدالله بن ‌موهب سے یوں نقل ہوا ہےکہ وہ کہتا تھا:میری فیملی نے مجھے ام سلمہ کے گھر بھیجا تھا تاکہ وہاں سے وہ  ظرف اٹھا لوں جس میں رسول خدا کا بال رکھا ہوا تھا».[36]

ابوہریرہ سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے:" عبداللہ بن سلام نے مجھ سے کہا: گھر چلتے ہیں  تاکہ میں آپ کو اس برتن میں پانی پلاوں جس میں رسول خدا پانی پیا کرتے تھے اور وہاں تم نماز پڑھو جہاں پر پیامبر اکرم نماز پڑھتے تھے"».[37]

اسی طرح  بخاری ، ابو ہریرہ سے ایک اور روایت نقل کرتا ہے، اسی مضمون کے ساتھ:"ابن سلام نے کہا: کیا میں اس ظرف میں آپ کو پانی نہ دوں جس میں رسول خدا نے پانی پیا تھا؟ کئی لوگ آئے اور انہوں نے اس میں پانی پیا۔ عمر بن عبد العزیز نے بعد میں اس کو ہدیہ کے عنوان سے مانگا اور اس کو ہدیہ دیا گیا».[38]

مذکورہ دو روایتوں میں، ہم دیکھتے ہیں صحابہ رسول خدا کے پانی والے برتن سے طلب برکت کرتے تھے اور یہ برتن ان کے لیے اتنا اہم تھا کہ اپنے مہمانوں کی تکریم کےلیے اسی برتن میں انہیں پانی پیش کرتے تھے۔

بخاری انس سے ایک روایت میں نقل کرتے ہیں:

جب پیامبر اکرم نے اپنے سر کے بال کاٹے،ابو طلحہ پہلا شخص تھا کہ آنحضرت کے بال اٹھالیے.[39]

اسی طرح انس کی ماں،ام سلیم کہتی ہے:" جب رسول خدا سوئے،اس کے بال اور پسینہ میں نے اکھٹے کرلیے اور ایک ظرف میں رکھے۔بعد میں جب انس کو موت آئی،اس نے وصیت کی  اس برتن میں سے کچھ اس کے حنوط میں رکھیں».[40]

عسقلانی اس  روایت کے ذیل میں ادعا کرتا ہے کہ یہ روایت بھی تبرک اور  رسول خدا کی خوشبو اور  ان سے عشق پر دلالت کرتی ہے.[41]

بخاری نے اسہل سے نقل کیا ہے:

ایک عورت رسول خدا کےلیے ایک کپڑا ہدیہ لے کر آئی اور آنحضرت لوگوں کے درمیان اس حال میں تشریف لائے جب وہ کپڑا آپ نے اپنے بدن پر لپیٹا تھا۔صحابہ میں سے ایک نے یہ کپڑا ان سے ہدیہ کے طور پر مانگا اس کے باوجود کہ پیامبر اسلام کو اس کی ضرورت تھی انہوں نے پھر بھی اسے ہدیہ کردیا، جب لوگوں نے  اس کی سرزنش کی تو اس نے کہا :یہ صرف میں نے اپنے کفن کےلیے مانگا ہے اور آخر میں یہ اس کا کفن ہی بنا.[42]

عسقلانی، قسطلانی و عینی نے اسی روایت سے،   آثار صالحان سے تبرک کے جواز کو لیا ہے اور صحیح بخاری کے دوسرے نسخے میں اس کا اضافہ کیا ہے: مجھے امید تھی جب میں یہ پہن لوں گا ،تو اس لباس کی وجہ سے مجھے کوئی برکت ملے گی».[43]

بخاری اسی طرح سے کہتا ہے:

معاویہ ارکان مسجد الحرام  سے تبرک کررہے تھے اس کے باوجود کہ ابن عباس نے کہا تھا ارکان سے تبرک کرنا وارد نہیں ہوا ہے، اس نے کہا ارکان سے  کوئی چیز  بغیر طلب برکت کے نہ رہے اور زبیر کے بیٹے نے بھی سارے ارکان  کو لمس کیا.[44]

عینی  کا ایک کلام ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ  تبرک  طلب کرنے میں مستقل طور پرعمل کرتے تھے۔ وہ کہتا تھا: عمر رسول خدا کے آثار کے بارے میں  "طَلوب و بَحوث" تھا.[45] یعنی فوق العادہ آثار رسول خدا کا مشتاق تھا۔خلیفہ دوم کا عمل یقینا اہل سنت کےلیے مشروعیت رکھتا ہے اور شرک و بدعت نہیں۔

ملاحظہ کریں کہ بعض صحابہ رسول خدا کی زندگی اور ان کی زندگی کے بعد بھی  کچھ تبرکات انجام دیتے تھے جنہیں رسول خدا نے انجام نہیں دیئے تھے اور خود صحابہ ان تبرکات کے موجد تھے، جبکہ رسول خدا نے انہیں ان کاموں سے نہیں روکا اور انہیں شرک وکفر قرار نہیں دیا۔ان کا منع نہ کرنا ان کے جواز پر دال ہے اور اس بات پر توجہ کرتے ہوئے معیار شرک(عبادتِ غیرِخدا) تخصیص ناپذیر ہے،اگر کوئی عمل شرک ہو ،تو فرق نہیں کرتا وہ عمل صحابہ سے صادر ہوتا ہے یا کسی اور سے۔

2۔تبرک کا غلو ہونا

وہابیوں کا مشہور  عالم ،بن‌جبرین،تبرک کے بارے میں یوں کہتا ہے:

اولیائے الہی کے بارے میں دو قسم کے لوگ منحرف ہوگئے۔ بعض نے غلو کیا اور بعض نے جفا کیا۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے  جو اولیاء اور نیک لوگوں کی پرستش کرتے ہیں،وہ گمان کرتے ہیں چونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں  کچھ فوق العادہ کام انجام دیئے ہیں پس وہ عبادت کے لائق ہیں۔وہ اس نیک آدمی کی زندگی میں اس کے بدن، لباس اور پانی جسے وہ مس کرتا ہے،اس سے تبرک کرتے ہیں.[46]

کتاب صحیح بخاری سے نظریہ غلو کی تطبیق

بن جبرین نیک انسان سے محبت میں زیادہ روی اور غلو کو مذموم اور ایک طرح کا انحراف سمجھتا ہے اور بال یا باقی ماندہ  پانی سے تبرک کرنے کو  بھی اس کے مصادیق میں سے سمجھتا ہے اور اس نے رسول خدا اور دوسرے لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔

اس کے نظریئے کو نقد کرنے سے پہلے غلو کے معنے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔اصحاب لغت نے اس کا معنی حد سے گزر جانا کیا ہے(شرعی یا عرفی) .[47]اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ  حدود شرعی کی تعیین کےلیے جو موازین  اہل سنت کے نزدیک موجود ہیں ، ان میں سے ایک فعل پیامبر(ص) یا عمل صحابه ہے[48]۔ بخاری نے باب تبرک میں بہت ساری روایات ذکر کی ہے جن میں  یا رسول خدا(ص) اپنے وضو کے پانی سے یا آب دہن سے، صحابہ کو متبرک فرماتے ہیں یا وہ  خود ہی  تبرک کےلیے پہل کرتے ہیں۔ان حالات میں  تبرک کی شرعی حیثیت بھی مشخص ہوجاتی ہے۔بخاری  ، ابو ہریرہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں:

میں نے رسول خدا سے کہا:" میں آپ سے بہت زیادہ روایتیں سنتا ہوں لیکن انہیں فراموش کرتا ہوں" حضرت نے فرمایا:"اپنا دامن پھیلاو" میں نے وہی کیا ۔انہوں نے اپنا ہاتھ پانی سے بھر دیا اور مجھے پینے کا حکم دیا۔ میں نے پیا اور اب میں کوئی چیز فراموش نہیں کرتا.[49]

عینی اوپر والی روایت کے بارے میں یوں استنباط کرتا ہے کہ یہ روایت ،عبارت کے نکرہ ہونے کی وجہ سے" مَا نَسِیتُ شَیْئًا»؛(اب میں کوئی چیز نہیں بھولتا) عموم پر دلالت کرتی ہے؛یعنی ابوہریرہ نے اس کے بعد کوئی چیز فراموش نہیں کی۔اور بعض کا عبارت سے یہ مطلب لینا کہ شاید روای کی مراد یہ ہو کہ صرف یہ روایت یا روایات دیگر جو اس نے پیامبر(ص) سے سنی ہیں،فراموش نہیں کرتا اور دوسرے موارد کو شامل نہیں،غلط ہے۔ابوہریرہ ان لوگوں کو یہی جواب دیتا تھا جب  لوگ تعجب کرتے تھے کہ وہ کیسے پیامبر سے اتنی ساری روایتیں نقل کرتا ہے.[50]

عسقلانی بھی اس روایت کی عمومیت کو قبول کرتا ہے اور یہاں تک کہ اس کو معجزات پیامبر(ص) میں سے سمجھتا ہے؛چونکہ نسیان ہر انسان کا لازمہ ہےاور پیامبر(ص) نے اسے دور کردیا.[51]

اور یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ پیامبر اسلا م دعا کے ذریعے بھی ابوہریرہ کے نسیان کا علاج کرسکتے تھے لیکن انہوں نے پانی سے اس کا علاج کیا۔

اہل سنت کے نزدیک ابوہریرہ کے مقام کو مد نظر رکھتے ہوئے تبر ک کا جواز اور عدم غلو پہلے سے زیادہ روشن ہوجاتا ہے۔

روایت «رایة» میں بھی ایک شاہد موجود ہے جو کہ رسول خدا(ص) کے آب دہن سے برکت طلب کرنے پر دال ہے:

رسول خدا(ص) نے جنگ خیبر میں فرمایا:میں کل علم اس کو دونگا جس کے ہاتھوں اللہ تعالی ہمیں فتح نصیب کرے گا۔وہ خدا اور رسول سے محبت کرتا ہے اور خدا و رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر پوچھا:" علی بن طالب کہاں ہے؟" بتایا گیا:" آشوب چشم کی وجہ سے تکلیف میں ہے"۔جب رسول خدا کے پاس آئے تو آنحضرت نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں پر ملا اور ان کےلیے دعا کی ۔علی علیہ السلام کی آنکھیں یوں  ٹھیک ہوگئیں گویا ان میں کھبی درد تھا ہی نہیں.[52]

اسی طرح صحیح بخاری سے ایک روایت پیش خدمت ہے کہ انس بن مالک نے کہا : رسول خدا نے وضو کیا اور پھر اپنے ہاتھ صحابہ کے سامنے پھیلا دیئے اور ان کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھوں کے پانی سے وضو کریں۔پانی آنحضرت کے ہاتھوں  سے  چھلکتا  رہا یہاں تک کہ سب صحابہ نے وضو کرلیا».[53]

ایک اور حدیث میں آیا ہے:" ابو جحیفہ سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا  وضو کررہے تھے اور لوگ بھی ان کے وضو کا پانی  اپنے بدن اور چہرے پر ملتے تھے».[54]

اس سے ملتی جلتی ایک روایت میں ابو حنیفہ سے نقل  ہوا ہے: میں نے بلال کو دیکھا کہ وہ آنحضرت کے وضو کا پانی لیتا تھا اور دوسرے بھی یہی کرتے تھے۔جس جس کا ہاتھ بھی آنحضرت کے وضو کے پانی تک نہیں پہنچتا اپنے دوست کے وضو کے پانی   سے جسے اس نے  آنحضرت کے وضو کے پانی سے لمس کیا تھا، استفادہ کرتا».[55]

وہابی بزرگان میں سے سعید قحطانی اس قسم کے تبرکات کو مشروع جانتا ہے.[56]شحود نے بھی اس روایت کی صحت کو قبول کرکے،نماز کے بعد جواز مصافحہ کا جائزہ لیا ہے.[57] بن باز بھی ان روایات سے اسفادہ کرتا ہے کہ وضو کے باقی ماندہ پانی کا استعمال جائز ہے.[58]

 اوپر والی حدیث کے متعلق عینی کی نظر ،یہ ہے  کہ یہ روایت نہ تنہا جواز تبرک اور پیامبر کے وضو کے پانی سے وضو کے جواز پر دلالت  کرتی ہے بلکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پیامبر کے ہاتھوں سے لگنے کے بعد پانی کی طہارت میں اور اضافہ ہوگیا ہے.[59]

عسقلانی بھی روایت ابوجحیفه کی توضیح میں لکھتا ہے:" صحابہ رسول خدا کے وضو سے جو پانی بچتا تھا اسےاپنے درمیان تقسیم کرتے تھے اور بعید نہیں اسے پیتے بھی تھے.[60]یہاں پر عینی و قسطلانی اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ صحابہ رسول خدا کے شریف آثار سے طلب برکت کرتے تھے.[61]

عینی کی ایک اور عبارت ہے جس سے یہ دریافت کیا جاسکتا ہے کہ اس نے بخاری کی عبارت سے تبرک کی مشروعیت کا استنباط کیا ہے؛ چونکہ اس نے کہا ہے آنحضرت کے وضو کا پانی طاہر بھی  ہےاور مطہر بھی بلکہ ان کے منہ کا پانی مشک سے زیادہ پاکیزہ تر ہے.[62]

 

صحیح بخاری میں ایک اور روایت مسور سے نقل ہوئی ہے:" جب رسول اکرم وضو کرتے تھے تو وضو کے پانی کی  خاطر  صحابہ لڑائی  کے نزدیک ہوجاتے تھے».[63]

عسقلانی اس حدیث کے ذیل میں کہتا تھا:قریشیوں میں سے ایک نے یہ منظر دیکھا اور مکہ جاکر  لوگوں کو   پیامبر اکرم کےلیے صحابہ کرام کے احترام اور تعظیم  کی تعریف کی ».[64]

بخاری جابر کے نقل کے متعلق لکھتا ہے:" پیامبر اسلام میری عیادت کےلیے تشریف لائے اور میں شدت بیماری سے کچھ بھی سمجھ نہیں رہا تھا۔انہوں نے وضو کیا اور وضو کا پانی میرے اوپر چھڑکا اور مجھے ہوش آگیا».[65]

عینی روایت جابر کے بارے میں یوں توضیح دیتا ہے کہ یہ روایت اس بات پر دال ہے کہ پیامبر کا دست مبارک ہر بیماری کو دور کرتا ہے.[66]البانی بھی اس روایت کو جو کہ کتاب سنن الترمذی میں نقل ہوئی ہے،صحیح جانتا ہے.[67]

بخاری ایک اور حدیث میں قول سائب بن یزید سے نقل کرتا ہے:" میں بستر بیماری میں تھا ، میری خالہ نے رسول خدا سے عرض کی : اے رسول خدا میری بہن کا بیٹا بیمار ہوا ہے" آنحضرت نے میرے سر کو ہاتھ لگایا اور دعا کی،وضو کیا اور میں نے وضو کا پانی پیا».[68]

عینی اس روایت سے استنباط کرتا ہے کہ حضرت کا باقی ماندہ پانی چاہے وہ وضو کا ہو یا  پینے کا پانی ہو، اس کا پینا جایز ہے اور اس میں برکت ہے.[69]

اسی طرح بخاری نے حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے: پیامبر اکرم مریض سے  فرماتے تھے؛"خدا کے نام سے یہ شہر جس کی زمین  ہمارے کچھ آب دہن سے مخلوط ہے،خدا کے اذن سے بیماروں کو شفا دیتی ہے"».[70]

قسطلانی عائشہ کی اس روایت کے متعلق یوں توضیح دیتا ہے که رسول خدا(ص) اپنی  شہادت  والی انگلی کو اپنے آب دہن سے مرطوب کرتے تھے اور پھر انگلی مٹی پر رکھتے تھے اور مریض کے درد کی جگہ پر ملتے تھے.[71]

عسقلانی کا بھی یہی نظریہ ہے کہ صرف آب دہن کو مٹی سے مخلوط کرنا ،اس کی کوئی تاثیر نہیں  بلکہ مٹی اللہ تعالی کے نام اور اس کے رسول کے آثار سے متبرک ہوجاتی ہے.[72]

آیا ایک پیامبر جو خود مٹی کو متبرک کرتا ہے اور مریض کے بدن پر ملتا ہے، وہ غلو سے متہم ہے؟

بخاری نے یوں بیان کیا ہے:" ابو موسی کہتا ہے:" پیامبر اکرم نے پانی کا برتن مانگا اس میں اپنا  ہاتھ اور چہرہ دھویا اور اپنے منہ کا پانی دوبارہ اس میں ڈال دیا اور حکم دیا کہ ہم اسے نوش کریں اور اپنے چہرے پر لگایں"».[73]

عینی کا عقیدہ کہ پیامبر اکرم کے منہ کا پانی پینا جایز ہے،چونکہ وہ مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے اور صحابہ بھی اس برکت کی وجہ سے جو اس میں موجود ہوتی تھی اس پانی کو اپنے چہرے پر ملتے تھے.[74]عسقلانی کا بھی نظریہ یہ ہے کہ اس کام سے غرض رسول خدا(ص) یہ تھا کہ لوگ اس کے منہ کے مبارک پانی سے تبرک کریں.[75]

بخاری ایک اور روایت میں قول جابر سے نقل کرتا ہے: رسول خدا  نے ،عبدالله بن ‌ابی مقداری کی موت کے بعد اس کے بدن پر اپنا لعاب دہن لگایا اور اپنا لباس اسے پہنایا».[76]

عینی اس روایت کے ذیل میں تصریح کرتا ہےکه آب دہن رسول خدا(ص) موردِ تبرک و استشفا ہے.[77] عسقلانی بھی اس کو آثار صلحان سے طلب برکت کے جواز پر دلیل سمجھتا ہے، چاہے ہمیں پتہ چلے یا نہ کہ یہ حال میت پر تاثیر گزار ہے یا نہ.[78]

بخاری قول برا سے نقل کرتا ہے:" حدیبیہ کے دن ہم نے ایک کنواں کھودا لیکن کنویں کے پانی تک نہیں پہنچ پائے، رسول خدا وہاں پر تشریف فرما ہوئے اور کوئی دعا پڑی اور اپنا آب دہن کنویں میں ڈال دیا۔ابھی ایک لحظہ ہی نہیں گزرا تھا کہ کنویں  سے پانی پھوٹنا شروع ہوگیا».[79]

قسطلانی حدیث براء اور حدیث رایہ کے بارے میں یوں وضاحت دیتا ہے کہ جب خدا کا مقدس نام رسول خدا  کی مقدس زبان پر جاری ہوتا ہے اور ان کے منہ کا مقدس پانی وسیلہ بنتا ہے تو پھر حدیبیہ کا کنواں بھی پانی سے بھر دیتا ہے اور حضرت علی(ع) کی آنکھ کو بھی شفا یاب کر دیتا ہے.[80]

بن جبرین  کے گمان کے مطابق اگر عمل صحابہ زیادہ روی اور غلو ہوتا،تو رسول خدا(ص) انہیں اس عمل سے روکتے اور  انہیں تذکر دیتے  جب کہ اس کے برعکس رسول خدا نے  خود  بھی طلب برکت میں ان کی مدد کی۔اس طرح کی ایک روایت ام عطیہ سے بھی نقل ہوئی ہے:" رسول خدا کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی فوت ہوگئی۔حضرت نے فرمایا:" جب تم تجہیز بدن سے فارغ ہوجاو گے تو مجھے بتانا۔"پھر اپنی قمیص ہمیں دے دی اور کہا اس میں میت کو کفن کریں».[81]

وہابی اس روایت سے بحث احکام اموات میں  اپنے فقہی استنباطات کےلیے استفادہ کرتے ہیں.[82]

جو  کچھ کہا گیا اس کی روشنی میں،برکت طلب کرنا غلو نہیں،چونکہ صحابہ رسول خدا سے طلب برکت کرتے تھے اور ان کا یہ عمل قرآن کریم،سنت پیامبر اور دوسرے اصحاب کے فعل سے متعارض نہیں تھا۔

تبر ک کا رسول خدا کے آثار سے مختص ہونا

وہابیت کا بانی، محمد بن عبد الوہاب،ابتدا میں ان آیات  سے استناد کرکے جو بت پرستوں کی مذمت کرتی ہیں،تبرک کو شرک جانا ہے اور اس کی اصل پر سوال اٹھا تا ہے[83] لیکن جب سورہ یوسف کی آیت نمبر۹۳ کا سامنا کرتا ہے جس میں حضرت یعقوب(ع) نے حضرت یوسف(ع) کی  قمیص سے تبرک کیا ہے،[84] تو  اس کےلیے استثناء کا قایل ہوتا ہے اور کہتا ہے:علاج معالجے کی نیت سے تبرک کرنا شرک نہیں ہے،جیسا کہ بعض افراد نے رسول خدا کے آثار سے تبرک کیا ہے۔یہ  ایک نیک عمل ہے.[85]وہ ایک اور جگہ کہتا ہے:ذات  اور آثار رسول خدا سے برکت طلب کرنا  توحید کے ساتھ کسی قسم کا تعارض نہیں رکھتا اور شرک نہیں ہے؛چونکہ پیامبر اس سے نہیں روکتے تھے».[86]

  اسی طرح وہابی معاصر علماء میں سے بن باز،اس سوال کا سامنا کرتا ہے: بعض لوگ عمل صحابہ  سے استناد کرکے،تبرک کو جایز سمجھتے ہیں؛ کیا یہ عمل غیر پیامبر کی پیامبر سے تشبیہ نہیں؟ وہ اس کا یہ جواب دیتا ہے: رسول خدا کے علاوہ کسی اور سے تبرک کرنا جایز نہیں ہے، حتی صحابہ اور خلفا ء سے۔اوریہ   رسول خدا کی عظمت کی وجہ سے ہے کوئی اور اس قدر با عظمت نہیں ہے تبرک اس وجہ سے حرام ہے چونکہ یہ شرک اور عبادت غیر خدا کا سبب بنتا ہے.[87]

اسی طرح بن باز کے شاگردوں میں سے شبل،شروع میں میں تبرک کی مطلقا نفی کرتا ہے  اور مقامات مقدسہ اور آثار سے تبرک[88] کو بدعت اور شرک کی طرف  ایک راستہ قرار دیتا ہے[89] لیکن ایک اور جگہ پر ،دو شرطوں کے ساتھ تبر ک کو جایز سمجھتا ہے، ایک یہ کہ صرف رسول خدا سے تبرک ہو اور دوسری شرط یہ کہ ان کی زندگی میں ہو[90] ۔ اپنے اس مدعا پر وہ دو دلیل پیش کرتا ہے:ایک یہ کہ بزرگ  صحابہ میں سے کسی نے  تبرک نہیں کیا اور دوسری دلیل یہ کہ از باب سد ذرایع، تبرک کو حرام قرار دینا چاہیے تاکہ یہ شرک اکبر کا سبب نہ بنے.[91]

وہابی محققین میں سے ناصر بن ‌عبدالرحمن، کہتا ہے:جایز تبرک یہ ہے کہ انسان بزرگان دین کی مجالس،ان کی باتیں سننے اور ان کی نصیحتوں پر عمل کرنے کے ذریعے،  استفادہ کرے اور ان کی موت کے بعد بھی  ان کی باتوں کو یاد کرکے اسی طرح جو علوم ان سے سیکھے ہیں ان کو یاد کرکے،ان کے نام کو زندہ رکھے۔اس کے علاوہ ، باقی حرام اور غیر شرعی ہیں؛ از جملہ ان کی ذوات سے تبرک کرنا۔اس قسم کا تبرک ،فقط رسول خدا کے بارے میں جایز ہے۔جو تبرکات ممنوع ہیں  یہ ہوسکتے ہیں: ان کے بدن کو چومنا اور لمس کرنا،(ان کی زندگی میں)یا ان کی قبر کو چومنا اور لمس کرنا(ان کی موت کے بعد)؛منبر سے اترتے وقت خطیب کو لمس کرنا،نیک لوگوں کی باقیات اور آثار سے تبرک کرنا جیسے بال اور لباس؛ ان کے وضو کا پانی پینا اور اس کو مس کرنا.[92]

تبرک کو رسول خدا  میں منحصر کرنے والے نظریئے کی کتاب صحیح بخاری سے تطبیق

صحیح بخاری مندرجہ بالا نظریئے کی تطبیق سے پہلے،لفظ اثر کا لغوی معنی جاننے کی ضرورت ہے۔«اثر» لغت میں کسی چیز کا باقی ماندہ ہے جب وہ چیز ختم ہوجاتی ہے تو اس سے باقی بچتا ہے.[93]اس بناء پر، عرف میں بال،بچا ہوا وضو کا پانی، آپ دہن، و لباس رسول خدا(ص) پر اثر کا اطلاق ہوتا ہے لیکن جس جگہ انہوں نے نماز پڑھی ہے یا وہ بیٹھے تھے اس کو اثر نہیں کہتے ہیں[94] ۔

خاص طور پر جب وہ جگہ ان کے گھر میں  نہ ہو ۔ جبکہ بخاری لکھتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے انصار میں سے کسی کی درخواست پر، ان کے گھر  جاکر نماز پڑھی۔اس روایت میں آیا ہے: «عتبان بن ‌مالک انصاریِ نابینا نے پیامبر سے کہا :  اے رسول خدا  ، میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لایں اور ایک جگہ نماز پڑھ لیں تاکہ میں اس جگہ کو اپنے لیے مصلے کے عنوان سے انتخاب کروں" آنحضرت نے فرمایا انشااللہ ایسا ہی کروں گا"».[95]

جس جگہ رسول خدا(ص) نے نماز پڑھی اور اس جگہ کو متبرک کیا ،ان کا اثر شمار نہیں ہوتا۔

قسطلانی نے عتبان کی روایت سے یوں استفادہ کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے آیات 23 و 24 سورۀ کهف[96] سے استناد کرکے اس کو مشیت خداوند جانا ہے.[97]چونکہ اعمال نامشروع کےلیے «ان‌شاء‌الله» نہیں بولا جاتا،پس آیت جواز تبرک کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ اس بات پر بھی توجہ کرتے ہوئے کہ قسطلانی نے تصریح کی ہے کہ  انصاری شخص کی درخواست،تبرک ہے۔

اسی طرح سے صحیح بخاری میں ایک اور روایت میں آیا ہے:" جب بھی فرزند عمر کعبہ میں داخل ہوتا تھا، تو اس جگہ نماز پڑھتا تھا جس جگہ کے  بارے میں بلال نے انہیں بتایا تھا کہ رسول خدا نے وہاں نماز پڑھی تھی».[98]

ایک اور روایت میں کہتا ہے:عبد اللہ بن عمر نے کہا: صلح حدیبیہ کے اگلے سال دوبارہ ہم  درخت  رضوان – جو کہ بہت بڑی رحمت--- اس کے پاس اکھٹے ہوگئے"».[99]

درخت رضوان اس وجہ سے صحابہ کرام کے نزدیک محترم شمار ہوتا تھا چونکہ پیامبر(ص) اس درخت کے نیچے بیٹھے تھے اور صحابہ نے  ان کی بیعت کی تھی اور اللہ تعالی نے  آیت نازل کرکے مومنین سے اپنی رضایت کا اعلان کیا تھا[100] اور یہ قید" کہ اللہ کی طرف سے رحمت"[101] اوپر والی آیت میں، اس ادعا کےلیے موید ہے۔

اس درخت کے مقدس ہونے کی وجہ کچھ بھی ہو (رسول خدا(ص) کا اس کے نیچے بیٹھنایا نزول آیۀ فوق‌الذکر جب آنحضرت اور اور اس کے صحابہ اکھٹے تھے)لیکن اس درخت پر اثر کا اطلاق نہیں ہوتا؛ لیکن پھر بھی عند الصحابہ یہ متبرک ہے۔اسی طرح ایک اور اشکال جو نظریہ «انحصار جواز تبرک از آثار پیامبر(ص)» پر وارد ہے، یہ مطلب ہےکہ آنحضرت پر واجب تھا  جب صحابہ ان سے تبرک کررہے تھے،ان کو طلب تبرک از  غیر آثار سے نہی کرتے لیکن اس طرح کی کسی نہی کے بارے میں معلوم نہیں۔

پس خلاصہ یہ کہ صحابہ نے ایسی چیزوں سے بھی تبرک کیا ہے جو اثر شمار نہیں ہوتیں اور عقیدہ«انحصار جواز تبرک در آثار رسول خدا(ص)» مورد خدشہ قرار پاتا ہے۔

۴۔تبرک کا  زمان حیات رسول خدا سے مختص ہونا

وہابی معاصر علماء میں سے ،حازمی کہتا ہے:

آثار رسول خدا یقینا تبرک ہیں اور ان کا پاک مطہر بدن شفا بخش ہے؛لیکن یہ اثر ان کی زندگی کے ساتھ خاص ہے اور ان کی وفات کے بعد اس تبرک کی قانونی اور شرعی حیثیت نہیں؛ چونکہ  صحابہ سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے  پیامبر کی رحلت کے بعد ، ان کی قبر سے کسی قسم کی برکت طلب نہیں کی ہے اور اسی طرح کسی دنیوی امر کی ان سے طلب نہیں کی ہے.[102]

تبرک کو  زمان رسول خدا  میں منحصر کرنے والے نظریئے کی کتاب صحیح بخاری سے تطبیق

حازمی کا عقیدہ یہ ہے کہ تبرک ،صرف آنحضرت کی زندگی میں جایز ہے اور ان کی رحلت کے بعد ،صحابہ میں سے کسی نے  ان سے تبرک طلب نہیں کیا؛ جبکہ صحیح بخاری میں کچھ ایسی روایات موجود ہیں کہ صحابہ وفات رسول خدا(ص) کے بعد بھی ان  کے آثارسے تبرک کرتے تھے، ان روایت میں من جملہ  روایت انس و ابوطلحه کا پیامبر کے ٹوٹے ہوئے پانی کے پیالے سے تبرک کرنا ہے[103]،اب سیرین کا تبرک کرنا،[104] عثمان بن عبدالله کا رسول خدا(ص(  [105]کے بال سے تبرک کرنا۔جس کا ذکر بحث بدعت و شرک میں ہوچکا ہے کہ صحابہ پیامبر کی رحلت کے بعد ان کے آثار سے تبرک کرتے تھے۔

نتیجه

جواز تبرک کے بارے میں وہابی آراء کا صحیح بخاری کی روایات کے ساتھ تطبق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تحریم تبرک کے بارے میں ان کا نظریہ  کتاب صحیح بخاری کے ساتھ ہم آھنگ اور ساز گار نہیں ہے۔ان میں سے بعض نے تبرک کو بدعت اور شرک کہا ہے؛ لیکن حجیت فعل صحابہ سے یہ  سمجھ آتی ہے کہ کچھ ایسے تبرکا ت صحابہ نے انجام دیئے ہیں جو کہ مستقل تھے  اور پیامبر کو اس میں  نمونہ عمل قرار نہیں دیا گیا اور دین میں بھی ان کے اس عمل کا کوئی مخالف نظر نہیں آیا۔ صحیح بخاری میں بھی اس طرح کے تبرکات سے مربوط روایات جمع کی گئی ہیں۔بعض دیگر وہابیوں نے ادعا کیا ہے کہ بال اور باقی ماندہ پانی سے تبرک غلو ہے۔انہوں نے غلو اور افراط  کا سد باب کرنے کےلیے ان مفاہیم کی حدود کی تعیین  پر بھی تاکید کی ہے اور اس کےلیے دینی منابع کی طرف ،جن میں سے ایک فعل صحابہ ہے اور جس کی حجیت پہلے ثابت ہوچکی ہے،رجوع کرنے پر زور دیا ہے اور شاہد مثال کے طور پر کچھ مواراد کا ذکر کیا گیا جیسے وضو کے پانی سے تبرک کرنا،آب دہن سے یا رسول خدا کے بال سے  تبرک کرنا۔ایک اور گروہ کا یہ عقیدہ تھا کہ تبرک کا جواز پیامبر اکرم کے آثار میں منحصر ہے اور اس کے علاوہ حرام ہے، اس سلسلے میں اثر کا لغوی معنی بیان ہوا  اور صحیح بخاری سے چند ایک موارد کا ذکر ہوا کہ کچھ ایسی چیزوں سے بھی تبرک کیا گیا ہے جو کہ شرعا اور عرفا اثرِ پیامبر(ص) شمار نہیں ہوتیں؛ اس بناء پر تحریم تبرک میں وہابی ادلہ کتاب صحیح بخاری کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔

 

 

حوالہ جات

 

کتابنامه

  1. ۱. قرآن کریم.
  2. ۲. ابن ‌عبدالوهاب، محمد،أصول الدین الإسلامي؛ مع قواعده الأربع، مکه: دارالحدیث الخیریة، بی‌تا.
  3. ۳. ابن عبدالوهاب، محمد،الجواهر المضیة، ریاض: دارالعاصمة، ریاض: چاپ سوم، 1412ق.
  4. ۴. ابن عبدالوهاب،محمد، تفسیر آیات من القرآن الکریم (مطبوع ضمن مؤلفات الشیخ محمد بن‌ عبدالوهاب، الجزء الخامس)، تحقیق: محمد بلتاجی، ریاض: جامعة الإمام محمد بن ‌سعود، بی‌تا.
  5. ۵. ابن‌ عبدالوهاب، محمد،کتاب التوحید، ریاض: دارالطویق، 1428ق.
  6. ۶. ابن عبدالوهاب، محمد،مجموعة الحدیث على أبواب الفقه، تحقیق: خلیل ابراهیم ملا خاطر، ریاض: جامعة الإمام محمد بن سعود، بی‌تا.
  7. ۷. ابن عبدالوهاب، محمد،مختصر الإنصاف و الشرح الکبیر، تحقیق: عبدالعزیز بن زید رومی، ریاض: مطابع الریاض، بی‌تا.
  8. ۸. ابن‌تیمیه، احمد بن عبدالحلیم،مجموع الفتاوى، تحقیق: عبدالرحمن‌ بن ‌محمد، مدینه: مجمع الملك فهد، 1416ق.
  9. ۹. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی،فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، مصر: دارالبیان العربي، 2007م.
  10. ۱۰. ابن‌عثیمین، محمد بن صالح،شرح ریاض الصالحین، ریاض: دارالوطن، 1426ق.
  11. ۱۱. ابن‌عثیمین، محمد بن صالح،فتاوى أرکان الإسلام، ریاض: دارالثریا، چاپاول، 1424ق.
  12. ۱۲. ابن‌عثیمین، محمد بن صالح،مجموع فتاوى العثیمین، بی‌جا: بی‌نا، بی‌تا.
  13. ۱۳. ابن‌عثیمین، محمد بن صالح،مجموع فتاوى و رسائل فضیلة الشیخ محمد بن ‌صالح العثیمین، عربستان: دارالوطن، 1413ق.
  14. ۱۴. ابن‌عثیمین، محمد بن صالح،الشرح الممتع و الفتاوی و الرسائل، بی‌جا: بی‌نا، بی‌تا.
  15. ۱۵. امین، سیدمحسن،کشف الإرتیاب؛ في أتباع محمد بن‌ عبدالوهاب، بی‌جا: دارالکتب الإسلامي‏، 1371ق.
  16. ۱۶. البانی، محمد ناصرالدین،صحیح و ضعیف سنن الترمذي، اسکندریه: برنامج منظومة التحقیقات الحدیثیة من إنتاج مرکز نور الإسلام لأبحاث القرآن و السنة بالإسکندریة، بی‌تا.
  17. ۱۷. بخارى، محمد بن ‌اسماعیل،صحیح البخاري، قاهره: دارابن‌حزم، 1429ق.
  18. ۱۸. بن‌باز، عبدالعزیز بن عبدالله،الحلل الإبریزیة من التعلیقات البازیة؛ على صحیح البخاري، عربستان: دارالتدمریة، چاپاول، 2007م.
  19. ۱۹. بن‌باز، عبدالعزیز بن عبدالله،مجموع فتاوى ابن ‌باز، بی‌جا: بی‌نا، بی‌تا.
  20. ۲۰. بن‌جبرین، عبدالله بن عبدالرحمن،الإسلام بین الغلو و الجفاء و الإفراط و التفریط، بی‌جا: بی‌نا، بی‌تا.
  21. ۲۱. جدیع، ناصر بن ‌عبدالرحمن،التبرك أنواعه و أحکامه، ریاض: مکتبةالرشد، 2000م.
  22. ۲۲. حازمی، احمد،شرح کتاب التوحید، دروس صوتیة قام بتفریغها موقع الشیخ الحازمي، بی‌جا: بی‌نا، بی‌تا.
  23. ۲۳. حاکم نیشابوری، محمد بن عبدالله،معرفة علوم الحدیث، بیروت: دارالآفاق الجدیدة، ۱۴۰۰ق.
  24. ۲۴. حنبلی، ابن‌رجب،فتح الباري؛ في شرح صحیح البخاري، بی‌جا: دارابنالجوزي، 1430ق.
  25. ۲۵. دانشگاه اسلامی مدینه،مجلةالجامعة الإسلامیة بالمدینة المنورة، بی‌جا: بی‌نا، بی‌تا.
  26. ۲۶. ذهبی، محمد بن احمد،سیر أعلام النبلاء، بیروت:‌ مؤسسةالرسالة، چاپنهم، ۱۴۱۳ق.
  27. ۲۷. راغب اصفهانى، حسین بن محمد،المفردات في غریب القرآن، بیروت و دمشق: دارالقلم و الدارالشامیة، 1412ق.
  28. ۲۸. شاطبی، ابراهیم بن موسی،الموافقات، تحقیق: ابوعبیده مشهور به حسن آل‌سلمان، بی‌جا: دارابنعفان، چاپاول، 1997م.
  29. ۲۹. شبل، علی بن عبدالعزیز،التنبیه علی المخالفات العقدیة في فتح الباري، بی‌جا: بی‌نا، بی‌تا.
  30. ۳۰. شحود، علی بن نایف،موسوعة البحوث و المقالات العلمیة، بی‌جا: بی‌نا، بی‌تا.
  31. ۳۱. شحود، علی‌ بن نایف،موسوعة فقه العبادات، بی‌جا: بی‌نا، بی‌تا.
  32. ۳۲. طریحى، فخرالدین بن محمد،مجمع البحرین، تهران: مرتضوی، چاپسوم، 1375ش.
  33. ۳۳. عینی، محمود بن احمد،عمدة القاري؛ شرح صحیح البخاري، لبنان: دارالفکر، 2005م.
  34. ۳۴. فراهیدى، خلیل بن احمد،کتاب العین، قم: نشرهجرت، چاپ دوم، 1409ق.
  35. ۳۵. فیروزآبادى، محمد بن یعقوب،القاموس المحیط، بیروت: دارالکتب العلمیة، چاپاول، بی‌تا.
  36. ۳۶. قحطانی، سعید بن علی،نور الهدى و ظلمات الضلال؛ في ضوء الکتاب و السنة، ریاض: مطبعةسفیر، بی‌تا.
  37. ۳۷. قسطلانی، احمد بن محمد،إرشاد الساري، لبنان: دارالفکر، 2009م.
  38. ۳۸. محیطی، مرتضی، «بررسی و نقد دیدگاه وهابیان دربارۀ تبرک با نگاهی به تفسیر آیۀ 93 سورۀ یوسف»،پژوهشنامۀ نقد وهابیت سراج منیر، شمارۀ 21، بهار1395ش.
  39. ۳۹. ورتابی کاشانیان، مصطفی، «نقد دیدگاه وهابیت در مسئلۀ تبرک با تکیه بر نظر علمای معاصر وهابی»،پژوهشنامۀ نقد وهابیت سراج منیر، شمارۀ 18، تابستان1394ش.
  40. ۴۰. وزارت اوقاف و امور اسلامی کویت،الموسوعة الفقهیةالکویتیة، کویت و مصر: طبعالوزارة و دارالصفوة، 1427ش.

سایت‌ها

  1. ۱. http://www.ajurry.com/

 

[1]. پژوهشنامۀ نقد وهابیت سراج منیر، شمارۀ 18، ص49.

[2]. پژوهشنامۀ نقد وهابیت سراج منیر، شمارۀ 21، ص71.

[3]. فیروزآبادى، محمد بن یعقوب، القاموس المحیط، ج3، ص399 تا 441.

[4]. طریحى، فخرالدین بن محمد، مجمع البحرین، ج‏6، ص334.

[5]. وزارت اوقاف و امور اسلامی کویت، الموسوعة الفقهیة الکویتیة، ج10، ص69.

[6]. ایضا.

[7]. حاکم نیشابوری، محمد بن عبدالله، معرفة علوم الحدیث، ص۲۰.

[8]. قسطلانی، احمد بن محمد، إرشاد الساري، ج1، ص3.

[9]. ذهبی، محمد بن احمد، سیر أعلام النبلاء، ج۱۲، ص۵۶۷.

[10]. ایضا ، ج۱۲، ص۴۰۱ و ۴۰۲.

[11]. حنبلی، ابن‌رجب، فتح الباري، ج1، ص5.

[12]. ابن‌عثیمین، محمد بن ‌صالح، مجموع فتاوى العثیمین، ج7، ص9.

[13]. دانشگاه اسلامی مدینه، مجلة الجامعة الإسلامیة بالمدینة المنورة، شمارۀ 75 و 76.

[14]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الوضوء، ص31، ح170؛ و کتاب الجنائز، ص152، ح1258.

[15]. ایضا ، کتاب الحج، ص194، ح1599؛ همان، کتاب الصلاة، ص60، ح425.

[16]. ایضا ، کتاب الوضوء، ص33، ح188؛ همان، کتاب المغازي، ص519، ح4328؛ ص489، ح4039.

[17]. ایضا ، کتاب الحج، ص194، ح1597؛ ص194، ح1605.

[18]. ایضا ، کتاب المرضی، ص692، ح5638؛ همان، کتاب الأشربة، ص31، ح170.

[19]. ایضا ، کتاب حفظ العلم، ص25، ح119.

[20]. ایضا ، کتاب الوضوء، ص33، ح189.

[21]اس مقالے میں،وہابیت کے بارے میں کچھ نظریات بیان ہونگے جن کے بارے میں صحیح بخاری میں کوئی روایت ملتی ہے۔وہابیوں نے کچھ اور اشکالات تبرک پر کیے ہیں جن کے بارے میں بخاری خاموش ہے۔چونکہ اس کتا ب کی توجہ بخاری پر ہے،لہذا دوسرے اشکالات کو یہاں پر بیان نہیں کیا جاتا؛ اگرچہ ممکن ہے اہل سنت کے دوسرے روائی منابع میں تبرک پر جتنے اشکالات ہوئے ہیں ان کا کوئی جواب مل جائے

 

وہابیوں کی آراء کے متعلق مذید مطالہ کےلیے،باب تبرک میں ، مراجعہ کریں  نک: محیطی، مرتضی، «بررسی و نقد دیدگاه وهابیان دربارۀ تبرک با نگاهی به تفسیر آیۀ 93 سورۀ یوسف»، پژوهشنامۀ نقد وهابیت سراج منیر، شمارۀ 21، ص76 تا 82.

[22]. ابن‌عثیمین، محمد بن‌ صالح، فتاوى أرکان الإسلام، ص548.

[23]. ابن‌عثیمین، محمد بن صالح، مجموع فتاوى و رسائل فضیلة الشیخ محمد بن ‌صالح العثیمین، ج22، ص396 تا 398.

[24]. فراهیدى، خلیل بن احمد، کتاب العین، ج‏2، ص54.

[25]. فیروزآبادى، محمد بن ‌یعقوب، القاموس المحیط، ج3، ص5.

[26]. امین، سیدمحسن، کشف الإرتیاب، ص82.

[27]. راغب اصفهانى، حسین بن محمد، المفردات في غریب القرآن، ص110.

[28]. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج13، ص294.

[29]. اس بات پر کہ اہل سنت کے نزدیک عمل صحابہ مستقل طور پر حجت ہے کچھ شواہد بیان کرتے ہیں:

شاطبی لکھتا ہے: «سنت صحابه ایک ایسی سنت ہےجس پر عمل کیا جاتا ہے اور جس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے.کچھ آیات کو اس مطلبپر بعنوان دلیل بیان کیا جاسکتا ہے جن و ان کی مدح کرتی ہیں؛ از جمله آیۀ )کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَر( (سورۀ آل‌عمران، آیۀ 110) اور روایات جن میں انہیں ستارے کہا گیا [«أصحابي کالنجوم»] اور ان کی پیروی کو رسول کی پیروی کہا گیا». (شاطبی، ابراهیم بن موسی، الموافقات، ج4، ص446 تا 449).

اس کی عبارت میں یہ روایت پیامبر بھی جلب توجہ کرتی ہے: «خداوند نے میرے اصحاب کو تمام لوگوں پر برتری دی ہے، سوائے پیامبروں کے». (همان، ص451).

ابن‌تیمیه کہتا ہے: «اگر صحابہ کے درمیان کوئی عمل مشہور  ہوجائےاور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا ہے،تو اس کا مطلب اس فعل کا اقرار ہے اور اس کا نام  "اجماع اقراری" اور صحابہ کسی برے کام کا اقرار نہیں کرتے». (ابن‌تیمیه، احمد بن عبدالحلیم، مجموع الفتاوى، ج1، ص283).

ابن‌عثیمین بھی کہتا ہے: «اگر صحابی جزوِ فقها ہو، دو شرطوں کے ساتھ اس کا فعل حجت ہے: اولاً با کتاب و قول رسول-، و ثانیاً با قول صحابیِ دیگری مخالفت نہ رکھتا ہو». نک: «ابن عثيمين: إذا كان الصحابي من الفقهاء فإنّ قوله حجة بشرطين»، سایت الآجري، آدرس:

http://www.ajurry.com/vb/showthread.php?t=3706

پس پہلی بات یہ ہے کہ قول صحابہ مذکورہ دو شرطوں کے ساتھ مستقل طور پر حجت ہے اور کسی قسم کی نہی قرآن اور رسول خدا سے تبرک کے بارے میں وارد نہیں ہوئی،ان کے زمانے میں تبرکات کے بارے میں اور ان کی رحلت کے بعد تبرکات کے بارے میں۔دوسری بات:  کچھ اشخاص جیسے جابر، ابوهریره، خلیفۀ دوم  جس کے فرزند کا نام تبرک والی روایات میں آیا ہے،مشہور اصحاب میں سے ہے۔

[30]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الأشربة، ص692، ح5638.

[31]. قسطلانی، احمد بن محمد، إرشاد الساري، ج12، ص370؛ ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج10، ص118.

[32]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الوضوء، ص31، ح170.

[33]. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج1، ص328.

[34]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج2، ص484.

[35]. شحود، علی بن نایف، «هل هذا الکلام فیه ما یخالف معتقد أهل السنة و الجماعة»، موسوعة البحوث و المقالات العلمیة، ص۱.

[36]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب اللباس، ص719، ح5896.

[37]. ایضا ، کتاب التوحید، ص873، ح7342.

[38]. ایضا ، کتاب الأشربة، ص692، ح5637.

[39]. ایضا ، کتاب الوضوء، ص31، ح171.

[40]. ایضا ، کتاب الإستئذان، ص757، ح6281.

[41]. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج11، ص81.

[42]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الجنائز، ص154، ح1277؛ و کتاب الأدب، ص731، ح6036.

ابن‌عثیمین نے اس روایت سے قربانی  کی اچھائی اور طمع و بخل کا برا ہونا.  استفادہ کیا ہے(ابن‌عثیمین، محمد بن‌ صالح، شرح ریاض الصالحین، ج3، ص423).

[43]. قسطلانی، احمد بن محمد، إرشاد الساري، ج3، ص351؛ عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج6، ص86؛ ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح‌‌ الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج3، ص169.

[44]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الحج، ص195، ح1608.

ابن‌عثیمین نے اس حدیث کو باب حج میں بیان کیا ہےاور اس سے فقہی استفادہ کیا ہے. (ابن‌عثیمین، محمد بن‌ صالح، الشرح الممتع و الفتاوی و الرسائل، باب الحج، ح57).

[45]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج7، ص181.

[46]. بن‌جبرین، عبدالله بن عبدالرحمن، الإسلام بین الغلو و الجفاء و الإفراط و التفریط، ج1، ص14.

[47]. فراهیدى، خلیل بن احمد، کتاب العین، ج4، ص446؛ فیروزآبادى، محمد بن ‌یعقوب، القاموس المحیط، ج‏4، ص420.

[48]. نک: بحث پیشین دربارۀ حجیت فعل صحابه.

[49]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب حفظ العلم، ص25، ح119؛ و کتاب المغازي، ص487، ح4039.

[50]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج2، ص258.

[51]. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج1، ص260.

[52]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب المغازي، ص508، ح4210.

[53]. ایضا ، کتاب الوضوء، ص31، ح169؛ و کتاب الأشربة، ص693، ح5639.

[54]. ایضا ، کتاب الوضوء، ص33، ح187؛ و کتاب المناقب، ص430، ح3553.

[55]. ایضا ، کتاب الصلاة، ص55، ح376؛ و کتاب اللباس، ص715، ح5859.

[56]. قحطانی، سعید بن علی، نور الهدى و ظلمات الضلال، ج1، ص303.

[57]. شحود، علی بن نایف، موسوعة فقه العبادات، باب المصافحة، ص3.

[58]. بن‌باز، عبدالعزیز بن عبدالله، الحلل الإبریزیة من التعلیقات البازیة، ج1، ص63.

[59]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج2، ص536.

[60]. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج1، ص353.

[61]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج3، ص323؛ قسطلانی، احمد بن محمد، إرشاد الساري، ج2، ص39.

[62]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج2، ص537.

[63]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الوضوء، ص33، ح189.

[64]. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج1، ص354.

[65]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الوضوء، ص34، ح194؛ و کتاب الفرائض، ص803، ح6723.

[66]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج2، ص554.

[67]. البانی، محمد ناصرالدین، صحیح و ضعیف سنن الترمذي، ج7، ص15.

[68]. بخاری، محمد بن‌ اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الوضوء، ص33، ح190.

[69]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج2، ص542.

[70]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الطب، ص704، ح5745.

[71]. قسطلانی، احمد بن محمد، إرشاد الساري، ج12، ص466.

[72]. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج10، ص239.

[73]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الوضوء، ص33، ح188؛ کتاب المغازي، ص519، ح4328.

[74]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج2، ص537.

[75]. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج1، ص354.

[76]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الجنائز، ص154، ح1270؛ ص163، ح1350.

[77]. عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج6، ص228.

[78]. ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج3، ص162.

[79]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب المناقب، ص432، ح3577؛ و کتاب المغازي، ص502، ح4150 و 4151.

[80]. قسطلانی، احمد بن محمد، إرشاد الساري، ج12، ص466.

[81]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الجنائز، ص152، ح1258.

[82]. نک: ابن عبدالوهاب، محمد، مجموعة الحدیث على أبواب الفقه، ج2، ص253؛ ابن عبدالوهاب، محمد، مختصر الإنصاف و الشرح الکبیر، ج1، ص211.

[83]. مثلاًکہتا ہے: «دلیل اس بات پر کہ درختوں ، پتھروں اور قبروں سے تبرک شرک ہے، قولِ خداوند ہے : آیات 19 و 20 سورۀ نجم می‌فرماید: )أَفَرَأَیتُمُ اللَّاتَ وَ الْعُزَّى @ وَ مَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى(». (ابن عبدالوهاب، محمد، أصول الدین الإسلامي، ج1، ص32).

وہ اسی طرح لکھتا ہے: «اگر یہ مشرک یعنی تبر ک کرنے والا بولے کہ میرا قصد صرف تبرک ہے اور جانتا ہوں کہ نفع و ضرر فقط خدا کی طرف سے ہے،تو اس کو جواب دیا جائے:"اسرئیل کے مشرکوں کا بھی یہی عقیدہ تھااس کے باوجود کہ ان کا اللہ پر ایمان تھا حضرت موسی سے انہوں نے درخواست کی  یا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهاً کَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ( (سورۀ اعراف، آیۀ 138)"». (ابن عبدالوهاب، محمد، الجواهر المضیة، ج1، ص26).

اسی طرح وہ لکھتا ہے: «جو شخص بھی کسی پتھر یا درخت سے تبرک کرے یا کسی قبر یا قبہ کو مس کرے، اور ان کو اپنے لیے معبود قرار دے، اس دلیل کی بنیاد پر کہ جب رسول خدا سے صحابہ نے کہا کہ ان کےلیے بھی مشرکوں کی طرح کوئی نشانی قرار دے،آنحضرت نے ان کے جواب میں اس آیت کی تلاوت کی )اجْعَلْ لَنَا إِلَهاً کَمَا لَهُمْ آلِهَة( (سورۀ‌ اعراف، آیۀ 138)». (ایضا، ص39).

[84]. )اذْهَبُوا بِقَمیصي‏ هذا فَأَلْقُوهُ عَلى‏ وَجْهِ أَبي‏ یأْتِ بَصیراً(.

[85]. ابن عبدالوهاب، محمد، تفسیر آیات من القرآن الکریم، ج1، ص173 و 174.

[86]. ابن عبدالوهاب، محمد، کتاب التوحید، ص112.

[87]. بن‌باز، عبدالعزیز بن عبدالله، مجموع فتاوى ابن ‌باز، ج7، ص65.

[88]. ظاهرِ این کلمه اطلاق دارد و شامل آثار رسول خدا$ و غیرِ ایشان است.

[89]. شبل، علی بن عبدالعزیز، التنبیه علی المخالفات العقدیة في فتح الباري، ص23.

[90]. ایضا ، ص33.

[91]. ایضا ، ص44 تا 46.

[92]. جدیع، ناصر بن‌ عبدالرحمن، التبرك أنواعه و أحکامه، ص381 و 382.

[93]. فراهیدى، خلیل بن احمد، کتاب العین، ج‏8، ص236؛ فیروزآبادى، محمد بن‌ یعقوب، القاموس المحیط، ج‏2، ص3.

[94]. اگر پیامبر$ رحلت کریں ان کے بال ان کی ایک نشانی ہے؛منبر اور مصلے کے برعکس جن کا وجود آنحضرت کے وجود سے متصل نہیں۔شاہد یہ ہے  کہ عسقلانی ،قسطلانی اور عینی ،تینوں نے لباس پیامبر کو ان کے آثار میں سے قرار دیا ہے. (نک: بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الجنائز، ص154، ح1277، روایتِ بخاری از سهل دربارۀ هدیه‌ دادنِ پارچه به پیامبر$).

عسقلانی عاشہ والی روایت میں آنحضرت کا اپنے لعاب دہن کو مدینے کی مٹی سے مخلوط کرنے کے بارے میں (ایضا، کتاب الطب، ص704، ح5745) بھی  کلمۀ «آثار» کو ان کے آب دہن پر، اور روایت جابر در مورد دفن ابن ابی (ایضا ، کتاب الجنائز، ص154، ح1270).بھی اس لفظ کا اطلاق ان کے لباس پہ کرتا ہے

ابوجحیفه کی روایت میں عینی ان کے وضو کے پانی پر (ایضا، کتاب الوضوء، ص33، ح187؛ و کتاب الصلاة، ص55، ح376) ؛ لیکن کسی نے بھی ان کے مصلے کے متعلق اس طرح کا اطلاق نہیں کیا ہے.

[95]. ایضا ، کتاب الصلاة، ص60، ح425؛ و کتاب الأطعمة، ص669، ح5401.

[96]. )وَ لا تَقُولَنَّ لِشَي‏ءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً @ إِلاَّ أَنْ یشاءَ اللَّه‏(.

[97]. قسطلانی، احمد بن محمد، إرشاد الساري، ج2، ص84؛ نک: عینی، محمود بن احمد، عمدة القاري، ج3، ص419؛ ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباري؛ شرح صحیح البخاري، ج1، ص616.

[98]. بخاری، محمد بن ‌اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الحج، ص194، ح1599.

[99]. همان، کتاب الجهاد و السیر، ص358، ح2958.

[100]. سورۀ فتح، آیۀ 18: )لَقَدْ رَضِي اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنینَ إِذْ یبایعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَة(.

[101]. کانت رحمة من الله.

[102]. حازمی، احمد، شرح کتاب التوحید، ج24، ص9.

[103]. بخاری، محمد بن‌ اسماعیل، صحیح البخاري، کتاب الأشربة، ص692، ح5638.

[104]. ایضا ، کتاب الوضوء، ص31، ح170.

[105]. ایضا ، کتاب اللباس، ص719، ح5896.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ