گذشتہ دنوں دعوت اسلامی کے ادارے مکتبۃ المدینۃ سے دار الافتاء اہل سنت والجماعت کے لیٹر پیڈ پر ایک فتوا شایع ہوا، جس میں امیر شام کے حضرت علی ّ پر سب ّ و شتم کے انکار پر دلائل دیے گئے تھے۔ بنیادی دلیل یہ تھی کہ آیت کریمہ میں صحابہ کو آپس میں مہربانی اورمحبت کا نمونہ بتایا گیا ہے، جبکہ تاریخی روایات اس آیت سے ٹکراتی ہیں، لہذا سب و شتم کا مطلب تنقید ہے ، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔(ریفرنس نمبر۹۸۰۹Lar)
مصنف :  (خیرخواہ مسلمان)ميم . ف
حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه

اس تحریر میں  مذکورہ  فتوے کو علمی بنیادوں پر دلائل کی روشنی میں  پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عربی زبان دانوں کے کلام کی روشنی میں  کہا جا سکتا ہے کہ  سب و شتم  ، گالم گلوچ یا   شدید مذمتی الفاظ  پر مشتمل  کلام کو کہا جاتا ہے جس میں اہانت کا پہلو شامل ہو۔ اس کے علاوہ  قرآن بت پرستوں پر سبّ وشتم  سے روکتا ہے، اس  کا مطلب تنقید سے روکنا نہیں ہے، ورنہ انبیاء علیہم السلام پر قدح لازم آتی ہے۔ مزید بر آن    حدیث  کی روشنی میں  بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ سبّ و شتم  عام تنقيد کا مفہوم نہیں دیتی۔ اگلے مرحلے میں بنیادی  دلیل یعنی  قرآنی آیت میں تمام صحابہ پر رحماء بینھم  کے اطلاق کی درستگی کا اندازہ  لگایا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن  انسانوں کو پرکھنے کا  معیار اور کسوٹی دیتا ہے۔  یہ تاریخ کی کتاب نہیں ہے کہ شخصیات کے کردار پر جرح یا تعدیل کرے۔  اگلے مرحلے میں حضرت علی (ع) پر  سب و شتم کرنے والی روایات  کی روشنی میں بتلایا گیا ہے کہ بنی امیہ اس فعلِ شنیع سے  کیا کیا اہداف مدنظر   رکھے ہوئے تھے۔  آخری مرحلے میں اس روایت کا جائزہ لیا گیا ہے جسے   امیر شام کی فضیلت کا بیان ہے، نتیجہ یہ تھا کہ رجالی قواعد کی روشنی میں یہ روایت  کسی بھی طرح سے مقبول واقع نہیں ہو سکتی۔

پہلا مرحلہ

سب و شتم عربی زبان دانوں کی نظر میں

تمام اہل لغت کا اتفاق ہے کہ سب و شتم آپس میں مترادف ہیں یعنی ایک ہی معنی دیتے ہیں۔

صاحب بن عباد کہتے ہیں

السَّبُّ: الشَّتْمُ، و السِّبَابُ: المُشَاتَمَةُ، ۔۔۔و السَّبُّ: القَطْعُ. و يُقال للسَّيْفِ: سَبّابُ العَرَاقِيْبِ.و أصْلُ السَّبِّ: العَيْب

سب اور شتم مترادف ہیں۔ سباب ایک دوسرے کو گالم گلوچ کرنے کو کہتے ہیں۔ کاٹنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ تلوار کو اسی وجہ سے سباب العراقیب کہا جاتا ہے۔ سب کی بنیاد عیب جوئی پر ہے۔

جوہری نے صحاح میں سب و شتم کو ایک ہی معنی میں لیا ہے،

وہ لکھتے ہیں

السَّبُّ: الشَتمُ؛ و قد سَبَّهُ يَسُبُّهُ. و سَبَّهُ أيضا بمعنى قَطَعَهُ....و التَّسَابُّ: التشاتم. و التَّسَابُّ: التقاطُعُ.و رجلٌ مِسَبٌّ بكسر الميم: كثيرُ السِّبَابِ.و يقال: صار هذا الأمر سُبَّةً عليه، بالضم، أى عاراً يُسَبُّ به.و رجل سُبَّةٌ، أى يَسُبُّهُ الناس

«سب کا مطلب شتم ہے۔ اسی طرح کاٹنے کے معنی میں بھی ہے۔ دونوں ايک دوسرے کو گالی دیں تو (تساب) کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ زیادہ گالی دینے والا آدمی (مسبْ)کہلاتا ہے۔  جب کوئی چیز کسی کے لیے شرم کا باعث بن جائے تو کہا جاتا ہے کہ وہ اس پر (سبّۃ) بن گئی ہے۔ ایسا شخص جسے سب گالی دیتے ہوں اسے (سبّہ) کہاجاتا ہے»۔      (الصحاح - تاج اللغة و صحاح العربية، ج‌1، ص: 145‌)

باقی اہل لغت نے بھی سب و شتم کو مترادف ذکر کیا ہے۔

رجوع کریں، ابن فارس کی (معجم مقائيس اللغة، ج3، ص63)، حمیری کی کتاب (شمس العلوم، ج5، ص2924)

راغب اصفہانی نے سبّ کو ایسی گالی کے معنی میں لیا ہے جو انسان کو دکھ اور رنج پہنچائے۔

کہتے ہیں

   السَّبُّ: الشّتم الوجيع، (مفردات الفاظ القرآن، ص۳۹۱)۔

 راغب اصفہانی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ  کسی کو کھری کھری سنانا بھی سبّ  کہلاتا ہے۔

أن يقال: أَسْمَعْتُ فلانا: إذا سببته، و ذلك متعارف في السّبّ،(مفردات الفاظ القرآن، ص۴۲۵)

پس یہاں تک واضح ہو گیا کہ عربی زبان میں سب و شتم کا حقیقی معنی ، سوائے گالم گلوچ کے اور کھری کھری سنانے کے اور کوئی نہیں بنتا۔

یہاں اصولی اعتبار سے جب  کسی لفظ کو حقیقی معنی سے نکال کر   مجازی معنی کی طرف لایا جائے تو اس میں قرینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر کوئی قرینہ نہ ہو تو وہی حقیقی معنی مراد ہوگا۔

دوسرا مرحلہ :سب و شتم کے قرآنی مفہوم کا بیان

قرآن کریم میں  ارشاد باری ہے۔

وَ لاَ تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ

ایسے لوگوں کو جو بتوں کی پوجا کرتے ہیں، سبّ نہ کرو، نہیں تو وہ اللہ پر سبّ کریں گے۔

اگر اس سے مراد تنقید لے لیا جائے تو اس کا مطلب ہے قرآن تمام انبیاء کے کاموں کو مذمت کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ سب انبیاء ، بت پرستوں پر تنقید کیا کرتے تھے۔

تیسرا مرحلہ روایات میں سب ّ کا مفهوم

48 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ المُرْجِئَةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سِبَابُ المُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»

بخاری کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ص نے ارشاد فرمایا مسلمان کو سبّ کرنا فسق يعني گناه ہے۔   اور اس کے ساتھ جھگڑنا کفر ہے۔

اب اس حدیث سے کیا سمجھیں کہ کسی مسلمان پر جائز تنقید بھی فسق و فجور اور حرام ہے؟؟

اور  برفرض  سبّ و شتم  کی کوئی  تاویل و توجیہ  نکال بھی لیں، جنگ صفین و جمل میں  قتال کا انکار کیسے کریں گے، جو سبّ و شتم  سے بھی آگے ہے۔  

چوتھا مرحلہ

 بنیادی دلیل پرتبصرہ

قرآن کریم کا اصل مقصد ہدایت ہے، یہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔قرآن کریم معیار اور اصولوں کی بات کرتا ہے۔  تزکیہ نفس اور پاکیزگی کردار کے اصول سمجھاتا ہے۔ لہذا  ہدایت کا تقاضا یہ ہے کہ  افراد کو ان معیارات پر پرکھاجائے  جو قرآن نے دیے ہیں، نہ کہ ان افراد کو معیار بنا کر قرآن  سے تاویل و توجیہ پیش کرنے کی رسم پوری کی جائے۔

اب آتے ہیں اس استدلال کی جانب جو آیہ کریمہ کے ذریعہ پیش کیا گیا، تو گزارش یہ ہے کہ آیت کو مکمل پڑھیں۔

آیت یوں ہے:

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَ الَّذينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُمْ تَراهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَ رِضْواناً سيماهُمْ في‏ وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْراةِ وَ مَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوى‏ عَلى‏ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَ أَجْراً عَظيماً ۔(سورہ فتح، آیت ۲۹)

(محمد(ص) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین اور آپس میں انتہائی رحمدل ہیں تم انہیں دیکھوگے کہ بارگاہ ِاحدیّت میں سر خم کئے ہوئے سجدہ ریز ہیں اور اپنے پروردگارسے فضل وکرم اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں ،کثرتِ سجود کی بنا پر ان کے چہروں پر سجدہ کے نشانات پائے جاتے ہیں یہی ان کی مثال توریت میں ہے۔ اور ان کی صفت انجیل میں  یہ ہے  کہ جیسے کوئی کھیتی ہو جو پہلے سوئی نکالے پھر اسے مضبوط بنائے پھر وہ موٹی ہو جائے اور پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے کہ کاشتکاروں کو خوش کرنے لگے تاکہ ان کے ذریعہ کفار کو جلایا جائے اور اللہ نے ان لوگوں میں ، صاحبانِ ایمان وعمل صالح سے مغفرت اور عظیم اجر کا وعدہ کیا ہے)۔

قرآن کریم نے اس آیت میں چند ایک معیار دیے۔

حضرت محمد ص کا واقعی ساتھ دینے والے وہ لوگ ہیں جو  ان صفات کے حامل ہیں

۱۔ اشداء علی الکفار۔ کافروں کے مقابلے میں سخت رویہ رکھتے ہیں۔

۲۔ رحماء بینھم ۔ آپس میں مہربان اور محبت  آمیز رویہ رکھتے ہیں۔

۳۔تراھم رکّعا سجّدا۔ ایسے لوگ رکوع و سجود کی حالت میں رہتے ہیں۔

۴۔ یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا۔ ان لوگوں کا اصل ہدف اللہ کی رضامندی ہوتا ہے۔

۵۔ سیماھم فی وجوھہم من اثر السجود۔ ان لوگوں کے چہروں  پر سجدے کے نشان ہیں۔

یہ توریت کی مثال تھی۔

اب انجیل کی مثال کی طرف آتے ہیں

جیسے کوئی کھیتی ہو جو پہلے سوئی نکالے پھر اسے مضبوط بنائے پھر وہ موٹی ہو جائے اور پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے کہ کاشتکاروں کو خوش کرنے لگے تاکہ ان کے ذریعہ کفار کو جلایا جائے۔

یعنی یہ ایک ایسی کھیتی ہے جو پھلتی ہے، پھیلتی ہے، پھولتی ہے اور اس سے کاشتکار خوش و خرم  ہوتا ہے۔

اب بتائیے کہ اس کھیتی کا کاشتکار کون تھا؟

یقینا اس کھیتی کا کاشتکار وہی ہے جس نے اس کھیتی کو اپنے خون  دل سے سینچا۔  طائف میں پتھر کھائے۔ مشرکین مکہ  کے  مذاق سہے۔

اب اس کی آل کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والوں سے کونسا اس کاشتکار نے خوش ہونا ہے؟ یا پھر اس کاشتکار کی کھیتی (امت) کو دو حصوں میں بانٹ کر، قبائلی جنگ میں دھکیلنے والے  سے وہ کاشتکار کیسے راضی ہو سکتا ہے؟۔

آخری صفت جو انجیل میں ہے وہ سب سے عظیم ہے۔

یغیظ بہم الکفار۔ اس سے کفار کو  جلن ہوتی ہے۔

اس صفت کو تاریخ کے دامن میں پرکھنے کی ضرورت ہے،   ایک نمونہ  ، مصری عالم رشید رضا کا بیان  ہے ، جو انہوں نےاپنی کتاب الخلافۃ کے اندر بیان کیا ہے، کہتے ہیں کہ جرمن دانشورنے  نے حجازی شرفاء میں سے کسی ایک کے سامنے بیان کیا کہ ہمیں امیر شام کا مجسمہ برلین کے میدان میں   لگانا چاہیے، کیونکہ وہ اگر اسلامی سیاست کے اندر انحراف ایجاد نہ کرتا، تو آج ہم سب اپنے مذہب پر نہ ہوتے اور مسلمان ہو چکے ہوتے۔ (کتاب الخلافۃ، باب۱۲)

اس بیان کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس نے  کسقدر کفار کو جلایا ہے؟  اور کتنی انہیں ٹھنڈک پہنچائی ہے؟

اب اس آیت کا آخری حصہ دیکھیں

 وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَ أَجْراً عَظيماً ۔

یہاں منھم کے لفظ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی ان صحابہ  میں سے،  اللہ نے صرف ان لوگوں سے  اجر عظیم  کا وعدہ ، کیا ہے جو  صاحبانِ ایمان وعمل صالح ہیں۔ یعنی وہ نشانیاں اپنی جگہ، لیکن مجموعی طور پر اگر ایمان و عمل صالح نہ ہوتو یہ وعدہ نہیں ہے۔

یہ وہ آفاقی اصول ہیں جن کی روشنی میں حضرت محمد مصطفی(ص ) کے دور و نزدیک کے ساتھیوں سمیت اس کی راہ پر چلنے والے ہر انسان کو پرکھ سکتے ہیں۔  آج بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کون یہود و نصارا اور ہنود کے ساتھ  سیاسی ، اقتصادی اور تجاری روابط بنا رہا ہے، کون اپنوں کے کھتے میں لگا ہوا ہے۔ اور مسلمانوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر انہیں مشرک ثابت کرنے کے درپے ہے۔

مزید یہ ہے کہ یہ آیات فتح مکہ  کے موقع پر نازل ہوئی ہیں۔ فتح مکہ قریش  اور بالخصوص بنو امیہ کے خلاف اسلام کی آخری جنگ شمار ہوتی ہے۔ پس کم از کم جن لوگوں کے  خلاف یہ آیات  نازل ہوئی ہیں، کم از کم انہیں تو شامل نہ کیا جائے۔

اس سے قطع نظر، یہ کام قرآن کا نہیں ہے کہ وہ بتائے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ کس کس کے چہرے پر سجدے کا نشان تھا۔ کون رات کوکھڑے ہو کر عبادت کیا کرتا تھا، کون نہیں؟

یہ کام تاریخ کے ذمے ہے۔ اگر ماضی کو کھنگالنا ہے تو تاریخ سے پتہ چلے گا کہ کون کس پانی میں  تھا۔ ہم اپنے سماج کو تاریخی حقائق سے دور کر کے جس خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں، اس کی سزا  ایک یوٹوپیائی قسم کے معاشرے کی تشکیل ہے  جو ماضی کے دھندلکوں میں اپنے موجودہ تعصبات کی پروش کر  رہا ہے۔

یہ صرف تاریخ  ہی بتلا سکتی ہے  کہ کس نے کونسے کارنامے سر انجا م دیے۔ کس نے مسلمانوں پر داخلی جنگ مسلط کی۔ یہ تاریخ کا کام ہے، قرآن کا نہیں۔

اب تاریخ  کی جزئیات میں پڑے بغیر ، مسلّمہ تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ حضرت علی ع کے زمانہ خلافت میں  تین  اہم جنگیں ہوئیں۔ جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ کسی بھی با ضمیر شخص سے پوچھیں کہ ایک دوسرے پر نیزے، خنجروں اور  تلواروں سے وار کرنے والے ، کیا رحماء بینھم (آپس میں مہربان)ہو سکتے ہیں۔ ؟ قطعا نہیں۔

پس اس آیت کا صحیح رخ پیش کیا جائے۔

آیت شریفہ میں جو جملہ استعمال ہوا ہے، منطقی لحاظ سے قضیہ مہملہ کہلاتا ہے۔ یعنی ایسا جملہ ہے جس کے اندر کلیت یا جزئیت کا تعین نہیں ہوا۔ یہ نہیں کہا گیا کہ حضرت محمد ص کے ساتھ جو لوگ ہیں وہ سب کے سب ایسے ہیں یا  بعض ان صفات پر پورا اترتے ہیں، بعض نہیں؟ آیت اس لحاظ سے مکمل خاموش ہے۔ یہ کام آیت شریفہ کے ذمہ ہی  نہیں ہے۔ اس نے صفات بیان کر کے اپنی آئیڈیالوجی کو آپ کے سامنے رکھ کر انسانوں کو پرکھنے کا معیار دیا۔ اب یہ آپ کا کام ہے کہ تاریخ میں پھیلے انسانوں کو پرکھیں کہ وہ اس کسوٹی پر پورا اترتے ہیں یا نہیں؟

پس اصل معیار اللہ کا حکم ہے۔  یہ حکم صحابہ کرام کے لیے  بھی بعد والی نسلوں کی طرح برابر کی  رہنمائی  کا حامل ہے ، یعنی انہیں بھی بتلا رہا ہے کہ اگر واقعی حضرت محمد ص کا ساتھ دینا ہے تو یہ صفات اپناو۔ اس آیت میں کوئی ایسی گارنٹی نہیں ہے کہ سب ساتھ دینے والے ان صفات پر پورے اترتے ہیں۔

حضرت علی ع نے فرمایا تھا کہ حق و باطل کا معیار شخصیات کو قرار دینے والے ہمیشہ بھٹکتے رہتے ہیں۔ (اعرف الحق تعرف أهله‏) حق و حقیقت کو پہچانو، اہل حق خود بخود معلوم ہو جائیں گے۔ باطل کی شناخت کرو، اہل باطل کا پتہ خود لگ جائے گا۔ (انساب الاشراف، ج۲، ص۲۷۴،تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۲۱۰)

آج ہمارا معاشرہ شخصیت پرستی کے جال میں جکڑا جا چکا ہے۔ اصل حقائق تاریخ میں ملیں گے۔ وہاں حضرت علی ع اور  امیر شام کے درمیان  لکھے گئے خطوط بتائیں گے کہ کون کس پانی میں تھا۔ کون طلیق تھا، کون مہاجر؟  کس نے بیعت شجرہ انجام دی، اور یہ بیعت کس کے خلاف انجام پائی؟  کس نے ہزاروں مسلمانوں پر تلوار مسلط کر دی؟ کس نے  حیلوں بہانوں سے امام حسن ع کی خلافت کا خاتمہ کرکے اپنی ملوکیت کا اعلان کر دیا؟ آج خلافت عثمانیہ کے سقوط کا رونا رونےوالے، نجانے خلافت راشدہ کے  جبری اختتام کی کیا توجیہ پیش کرتے ہیں؟

حدیث فقط کٹی ہوئی بعض تصاویر دکھائے گی، مکمل کہانی تاریخ میں ملے گی۔ حدیث فقط اتنا بتائے گی کہ رسول خدا ص قیامت کےدن اصحابی اصحابی کہتے رہ جائیں گے، اور انہیں جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ (وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ أَصْحَابِي أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ)صحیح بخاری، حدیث نمبر ۳۳۴۹۔

اب یہ اصحاب کون تھے، حدیث کبھی نہیں بتائے گی۔ یہ بھی احسان مانیے کہ پرانے محدثین میں کچھ نہ کچھ انصاف تھا۔ آج کے متعصب ہوتے تو یہ والی احادیث بھی سینسر ہوجاتیں۔

کیا واقعی معاویہ  نے حضرت علی (ع) کے فضائل سن کر  آنسو بہائے؟

عجیب  ہے کہ  حلیۃ الاولیاء کی جس روایت کو تاریخی مسلمات کے رد کے لیے پیش کیا گیا، وہ نہ صرف ضعیف بلکہ جعلی روایت ہے۔اس لیے کہ علمائے رجال  نے اس روایت  کے سات میں  سے  تین راویوں   کو جعل ساز یعنی من گھڑت روایات کا بانی  قرار دیا ہے۔

روایت کی سند ، یوں ہے

حدثنا سليمان بن أحمد، حدثنا محمد بن زكريا الغلابي، حدثنا العباس، عن بكار الضبي، حدثنا عبد الواحد بن أبي عمرو الأسدي، عن محمد بن السائب الكلبي، عن أبي صالح، قال: دخل ضرار بن ضمرة الكناني علي معاوية فقال له: صف لي علياً۔۔۔(حلية الاولياء، ج1، ص44)

ایک: محمد بن زکريا

وقال الدَّارَقُطْنِيّ: محمد بن زكريا الغلابي، بصري يضع. «الضعفاء والمتروكون» (484) .

دارقطنی کا کہنا ہے کہ بصرہ کا رہنے والا ہے جو حدیث گھڑتا ہے۔

دوسرا: عباس بن بکار

وہ  منکر الحدیث ہے۔

1184- عباس بْن بكار الضبي بصري. منكر الحديث عَن الثقات وغيرهم.(الکامل في الضعفاء، ج6، ص6)

تیسرے: عبد الواحد بن أبي عَمْرو الأسدي

عن عطاء. استنكر العقيلي حديثه عن عطاء، عَنِ ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعا: أنا مع عمر وعمر معي حيث حللت من أحبه فقد أحبني ومن أبغضه فقد أبغضني. وهذا كذب، انتهى.

(میزان الاعتدال، ج۲، ص۶۷۵۔ لسان الميزان، ج5، ص295)

یہ راوی نہ صرف منکر الحدیث ہے، بلکہ اس نے جھوٹی حدیثیں صحابہ کی مدح میں گھڑی ہیں، جیسا کہ  علامہ ذہبی اور ابن حجر عسقلانی جو کہ متاخرین کے ہاں حدیث کے میدان میں مانی ہوئی شخصیت ہیں،  نے اس حدیث  پر   جو حضرت عمر کی شان میں گھڑی کہ میں عمر کے ساتھ ہوں اور عمر میرے ساتھ، جس نے عمر سے پیار کیا، اس نے مجھ سے پیا کیا،  عقیلی کا  تبصرہ  یوں پیش کیا، وهذا كذب،  یہ ایک جھوٹی حدیث ہے۔

 آپ دیکھیں کہ اس قدر تاریخی مسلمات کا انکار ان جھوٹے راویوں کی  روایت سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔

پانچواں مرحلہ

مدعی کا اصل دعوا جو کہ آیت شریفہ تھی، اس کا  تفصیلی ردّہم نے پیش کر کے بتا دیا کہ آیت کو تاریخ کی گواہی کے بجائے ایک میزان اور کسوٹی کے طور پر دیکھیں گے تو سب صاف سمجھ میں آ جائے گا کہ آیت کیا کہنا چاہتی ہے۔ پھر نہ کسی من گھڑت روایت کی گواہی پر یقین کرنا پڑے گا اور نہ ہی تاریخی مسلمات کے انکار  کی نوبت آئے گی۔

اس مرحلے میں ہم ، حضرت علی (ع) کو گالی ملنے والی روایات کے الفاظ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ حضرت علی ع کی توہین رپورٹ کرنے والی روایات کیا صرف سبّ کے لفظ میں منحصر ہیں۔ یا مختلف الفاظ سے نقل ہوئی ہیں، لہذا لفظی  بحث کے ذریعے فرار ممکن نہیں ہے۔  تاکہ  اگر سبّ  کو محض تنقید کے  معنی میں لے بھی لیں تو باقی قرائن و شواہد کی روشنی میں بات واضح ہو سکے۔

ویسے  ہماری رائے میں  صرف سب ّ  کا لفظ  ہی  کافی ہے ، کیونکہ  اس سے مراد اہانت آمیز رویہ ہے، اس سے کم کچھ نہیں۔  کیونکہ نہ زبان دانوں کے کلام میں، نہ قرآن کی روشنی میں اور نہ ہی روایات کی روشنی میں، کسی میں بھی  معمولی تنقید کے لیے  یہ لفظ استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ کسی کو نہایت سخت الفاظ اور توہین آمیز رویہ کے ساتھ پکارنے کو ہی سبّ  کہاجاتا ہے۔ بقول راغب اصفہانی کے ایسی گالی  جو درد اور تکلیف پہنچائے۔

طبری اپنی تاریخ میں  اور بلاذری انساب الاشراف میں لکھتے   ہیں کہ

حدثني المدائني عن عبد الله بن فائد و سحيم بن حفص قالا: كتب معاوية الى المغيرة بن شعبة: أظهر شتم عليّ و تنقّصه،.( انساب الاشراف، ج5، ص23)

معاویہ نے مغیرہ کو خط لکھا، حضرت علی ع کو کھلم کھلا گالی دو۔ (واضح رہے کہ یہاں شتم کی بات ہے، سب کی نہیں)۔ اور اس کی تنقیص کرو۔ یعنی شان گھٹاو۔ 

بلاذری اسی جلد میں ایک اور مقام پر لکھتے ہیں

(و ولّى معاوية المغيرة بن شعبة الكوفة، فأقام بها تسع سنين و هو أحسن رجل سيرة و أشدّه حبّا للعافية، غير أنّه لا يدع ذمّ عليّ و الوقيعة فيه، و العيب لقتلة عثمان و اللعن لهم، و كان معاوية حين أراد توليته قال له: يا مغيرة:

         لذي الحلم قبل اليوم ما تقرع العصا            و ما علّم الإنسان إلّا ليعلما

و قد يجزئ عنك الحلم  بغير تعليم، و قد أردت أن أوصيك بأشياء كثيرة، فتركت ذلك اعتمادا على بصرك بما يرضيني و يشدّد سلطاني و يصلح رعيّتي، غير انّي لا أدع إيصاءك بخصلة: لا تكفكفنّ   عن شتم عليّ و ذمّه، و الترحّم على عثمان و الاستغفار له، و العيب لأصحاب عليّ و الإقصاء لهم و ترك الاستماع منهم، و الإطراء لشيعة عثمان و الإدناء لهم و الاستماع منهم. فقال المغيرة: قد جرّبت و جرّبت، و عملت قبلك لغيرك، فلم يذمم لي رفع و لا وضع، و ستبلو فتحمد أو تذمّ، فقال: نحمد إن شاء الله. فسمع حجر المغيرة يقول يوما: لعن الله فلانا- يعني عليّا- فإنّه خالف ما في كتابك، و ترك سنّة نبيّك، و فرّق الكلمة و هراق الدماء، و قتل ظالما، اللّهم العن أشياعه و أتباعه و محبّيه و المهتدين بهديه و الآخذين بأمره‏)(انساب الاشراف، ج5، ص243)

ترجمہ اور وضاحت

بلاذری لکھتے ہیں کہ مغيره  بن شعبہ کا طرز حکمرانی اچھا تھا، لیکن ایک بری خصلت تھی کہ حضرت علی (ع) اور آپ کےاصحاب پر لعنت بھیجا کرتا اور عثمان اور اس کے اصحاب کی مدح و ثناء کیا کرتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔بلاذری آگے چل کر لکھتے ہیں کہ معاویہ نے اسے کوفہ بھیجتے وقت ایک ہی نصیحت کی کہ ہمیشہ حضرت علی ع کو برا بھلا کہتے رہنا۔  مغیرہ کہتا ہے کہ میرا تجربہ بہت زیادہ ہے۔ یہ تو انسان کے جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ کس کی مذمت ہوتی ہے، کس کی نہیں۔ معاویہ کہتا ہے ، ان شاءاللہ ہماری مدح و ثناء ہی ہوتی رہے گی۔  روایت یہاں کٹ جاتی ہے۔ آگے والا حصہ یوں ہے کہ کوفہ میں حجر بن عدی نے ایک دن مغیرہ سے سنا کہ وہ  کہہ رہا تھا اللہ لعنت کرے علی علیہ السلام پر (معاذ اللہ)، جس نے اللہ کی کتاب کی مخالفت کی، اس کے نبی  ع کی سنت کو ترک کیا،  مسلمانوں کا بٹوارا کیا،  ان کا خون بہایا،  انہیں ظلم و ستم سے قتل کیا۔ اے اللہ اس کے پیروکاروں اور دوستداروں پر لعنت بھیج دے۔

اسی پر حجر بن عدی کی مغیرہ کے ساتھ چپکلش ہوئی ، جو کہ ان کی شہادت پر جا ٹھہری۔

اسی روایت کو طبری نے کچھ ہلکے انداز میں پیش کیا ہے، مراجعہ ہو(تاريخ طبري، ج5، ص254)

سب و شتم کے علاوہ ایک اور لفظ جو استعمال ہوتا ہے وہ ہے نال منہ یعنی  کسی کو برا بھلا کہنا،

حدثني محمّد بن اسماعيل الواسطي عن الفرات العجلي عن أبيه عن قتادة قال: خطب معاوية بالمدينة فحمد الله و أثنى عليه، و ذكر عليّا فنال منه و نسبه إلى قتل عثمان و إيواء قتلته،  (انساب الاشراف، ج۵، ص۱۱۳)

یعنی علی ع کو برا بھلا کہا، عثمان کے قتل کی تہمت دی اور اس کے قاتلون کو پناہ دینے کا الزام دیا۔

دوسری روایت اس حوالے سے ابن ماجہ کی ہے جسے البانی نے بھی صحیح قرار دیا ہے

حدثنا علي بن محمد قال: حدثنا أبو معاوية قال: حدثنا موسى بن مسلم، عن ابن سابط وهو عبد الرحمن، عن سعد بن أبي وقاص، قال: قدم معاوية في بعض حجاته، فدخل عليه سعد، فذكروا عليا، فنال منه، فغضب سعد، وقال: تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من كنت مولاه فعلي مولاه» وسمعته يقول: «أنت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه لا نبي بعدي» ، وسمعته يقول: «لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله»

اسی کتاب کے حاشیے میں 

 محمد فؤاد عبد الباقي اس حدیث کی وضاحت میں لکھتے ہیں

 [ش (فنال منه) أي نال معاوية من علي ووقع فيه وسبه] .

یعنی نال منہ کا مطلب معاویہ کا علی ع کو سب و شتم کرنا اور برا بھلا کہنا ہے۔

پھر لکھا ہے کہ

حكم الألباني] صحيح یعنی البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

ملاحظہ ہو (سنن ابن ماجہ، ج۱، ص۴۵، ص۱۲۱)

قابل غور امر یہ ہے کہ معاویہ کا یہ رویہ  سعد بن ابی وقاص جیسے صحابہ کے لیے  بھِی قابل قبول نہ تھا۔ جو حضرت علی ع سے کوئی خاص عقیدت بھی نہ رکھتے تھے، اور  حضرت علی ع کو اہم ترین جنگوں میں تنہا چھوڑ دیا۔ یہ رویہ ایسے لوگوں کو بھی اچھا نہ لگا اور بالآخر انہوں نے احتجاج کیا۔ آج  اس رویے کو محبت آمیز رویہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے؟

بنیادی سوال یہ ہے کہ معاویہ کے لیے سیاست کے میدان میں حضرت علی ع  کی تنقیص اتنی اہم کیوں تھی؟

وجہ صرف شخصی بغض و عنا د نہ تھا، اگرچہ  جنگ بدر و احد و احزاب کی شکست  اورعتبہ و شیبہ اور ولید کے قتل  کی بابت کچھ بعید نہیں ہے ، لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ آل علی ع واحد سیاسی رقیب تھے، جنہیں اسلامی معاشرہ اپنی سیاسی اگوانی اور مذہبی  رہنمائی کے لیے چن سکتا تھا۔  اس لیے انہیں پیچھے دھکیلنا ضروری تھا۔ لہذا یہ گالم گلوچ بھی اسی طرز کی تھی۔ یعنی ایسے معائب بیان کیے جاتے تھے جو حقیقت میں تہمتیں تھیں۔    خلیفہ سوم کے قتل کا بے بنیاد الزام ان میں سے ایک تھا۔ جیسا کہ بلاذری کی روایت میں ذکر ہو چکا۔ لہذا معاویہ کے لیے عثمان و علی ع دونوں سیاسی ہتھیار تھے۔ ایک کی مخالفت اور دوسرے کی مظلومیت  ۔  یہی تو ملوکیت ہے۔

چھٹا مرحلہ

اب آتے ہیں اس روایت کی طرف جس میں معاویہ کی مدح و ثناء ہے۔

دلچسپ وعجیب بات یہ ہے کہ جب ہم اس روایت  کا جائزہ لیتے ہیں تو  یہ بھِی من گھڑت روایت ہے۔

أخبرنا أبو محمد طاهر بن سهل أنا أبو الحسن بن صصرى إجازة نا أبو منصور نا أبو القاسم نا إسحاق نا عبيد الله بن الحسن بن خزيمة نا إبراهيم بن محمد بن الشافعي نا عمرو بن يحيى السعدي عن جده يروي

 إن النبي صلى الله عليه وسلم محمد المصطفى نبي الرحمة كان ذات يوم جالسا بين أصحابه إذ قال يدخل عليكم من باب المسجد في هذا اليوم رجل من أهل الجنة يفرحني الله به فقال أبو هريرة فتطاولت لها فإذا نحن بمعاوية بن أبي سفيان قد دخل فقلت يا رسول الله هذا هو فقال النبي صلى الله عليه وسلم نعم يا أبا هريرة هو هو يقولها ثلاثا ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم يا أبا هريرة إن في جهنم كلابا زرق الأعين على أعرافها شعر كأمثال أذناب الخيل لو أذن الله تبارك وتعالى لكلب منها أن يبلغ السموات السبع في لقمة واحدة لهان ذلك عليه يسلط يوم القيامة على من لعن معاوية بن أبي سفيان

پہلی بات یہ ہے کہ خود ابن عساکر نے اسے روایت پر جو تبصرہ کیا ہے وہ یہ ہے

( هذا منقطع) یعنی یہ روایت کٹی ہوئی ہے، متصل نہیں ہے۔ لہذا ضعیف ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ

اس روایت کا  ایک  راوی ، اسحاق السوسی ہے۔

ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں

- إسحاق بن محمد بن إسحاق السوسي.

ذاك الجاهل الذي أتى بالموضوعات السمجة في فضائل معاوية رواها عُبَيد الله السقطي عنه فهو المتهم بها أو شيوخه المجهولون. (لسان الميزان، ج۲، ص۷۵)۔

ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہ وہی جاہل ہے،  جو بہت ساری من گھڑت روایات معاویہ کی شان میں لایا ہے، اور سقطی نے انہیں روایت کیا ہے۔ لہذا ان روایات کو گھڑنے کا اصلی ملزم وہ اور اس کے مجہول الحال اساتذہ ہیں۔

سیوطی نے  بھی اسے اپنی   اس کتاب میں جو من گھڑت   احاديث  کے حوالے سے ہے، اس حدیث کا شمار من گھڑت احادیث میں کرتے ہوئے لکھا ہے۔ (رجوع کریں الزيادات على الموضوعات، ويسمى «ذيل الآلئ المصنوعة»ج 1 ص 301)

نتیجہ

مذکورہ شواہد کی روشنی میں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ سیاست کے میدان میں جو کچھ ہوتا ہے وہی کچھ امیر شام کا قصہ تھا۔ تاہم مد مقابل کوئی عام شخصیت نہ تھی، بلکہ وہ شخص تھا جس  سے دشمنی اور بغض، صحیح السند روایات کے مطابق  منافقت کی علامت شمار ہوتی ہے۔ (صحیح مسلم،سنن الترمذی، ج۶، ص۹۳، سنن النسائی، ج۸، ص۱۱۵)

میری تمام مسلمان  اہل تحقیق  سے مودبانہ گزارش ہے کہ اگر اسلامی موضوعات میں دلچسپی ہے تو  تاریخ کا دامن نہ چھوڑیں۔ اسے تنقیدی انداز میں مطالعہ کریں تاکہ گذشتگان کی اندھی تقلید کا شکار نہ ہوں، تاکہ سلفیت و تکفیریت  کے   بظاہر مقدس لیکن واقعیت سے  کوسوں دور نعروں کی زد سے بچ سکیں۔   ہمارے معاشرے  کو  ایسے  متوازن  انسان کی ضرورت ہے جو  اپنے جیسے تمام انسانوں کو اپنی طرح جائز الخطا سمجھ کر معاف کرنے کا قائل ہو۔ 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ