وسیلہ ، وہ واسطہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز تک پہونچا جائے اور اس کا قرب حاصل کیا جائے،اور شر یعت کی زبان میں بارگاہ الہی میں قرب حاصل کر نے کے لئے یا حصول مراد کے لئے بوقت دعا کسی مقبول عمل،صالح بزرگ یا با بر کت چیز وغیرہ کا واسطہ پیش کر نے کو وسیلہ کہتے ہیں ۔

 ڈاکٹر فیض احمد چشتی  

وسیلہ کے جواز پہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بہت سے دلائل موجود ہیں ، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں ۔

 ارشاد باری تعالیٰ ہے : یا یھا الذین آمنو ا اتقوا للّٰہ و ابتغو الیہ الو سیلۃ۔(سورہ مائدہ،آیت:۳۵) ائے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور (اس کی بارگاہ تک پہونچنے کے لئے) وسیلہ تلاش کرو ۔

اس آیت کر یمہ میں اللہ تعالی نے خود ہی اپنے بندوں کو اپنی بارگا ہ تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کر نے کا حکم دیا ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ وسیلہ بلا شبہ جا ئز ہے۔

 جب مدیینہ طیبہ میں قحط پڑ جاتا تو خلیفہ عمر  ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا کرتے ہو ئے کہتے’’اللھم انا کنا نتوسل الیک بنبینا فتسقینا و انا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا‘‘ اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے وسیلے سے دعا کرتے تھے تو ،تو ہم پر بارش نازل فرما تا تھا ۔ اور اب ہم تیری بارگا میں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم) کے چچا جان کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ ہم پر بارش نازل فر ما۔راوی کہتے ہیں تو پھر ان پر (اس دعا کی بدولت) بارش بر سائی جاتی۔(صحیح بخاری ،کتاب الاستسقاء ،باب سوال الناسِ الامام َ الاستسقاء اذا قحطوا، حدیث :۱۰۱۰)

اس حدیث شریف سے معلوم ہو کہ حضرت عمر ، صحابہء کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ  کے چچا کے وسیلے سے دعا مانگتے تھے ۔ مگر کسی صحا بی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے اعتراض نہ کیا ۔ گویا وسیلہ کے جواز پر تمام صحابہ  کا اجماع ہو گیا ۔ اس لئے اس کے جواز میں کسی مسلمان کو ذرّہ برابر بھی شبہ نہیں ہونا چاہئے ۔

 بعد از وصال وسیلہ کی حدیث پر اعتراض کا جواب

 أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ وَأَبُو بكر الفارسي قالا: حدثنا أبو عمر بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مَالِكٍ مَالِکٍ الدَّارِ رضی الله عنه قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ ص، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلٰی قَبْرِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، اسْتَسْقِ لِأُمَّتِکَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَکُوْا، فَأَتَی الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيْلَ لَهُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْ هُ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ أَنَّکُمْ مَسْقِيُوْنَ وَقُلْ لَهُ : عَلَيْکَ الْکَيْسُ، عَلَيْکَ الْکَيْسُ، فَأَتَی عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ، فَبَکَی عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ، لَا آلُوْ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ.رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّلَاءِلِ. وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ.

ترجمہ : حضرت مالک دار روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانہ میں لوگ قحط پڑا، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کی قبر شریف پر حاضر ہوکر عرض کیا: ”یا رسول اللہ ! اپنی امت کیلئے بارش کی دعا فرمائیں وہ ہلاک ہورہی ہے ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم اس شخص کے خواب میں تشریف لاۓ اور فرمایا: ”عمر کے پاس جاؤ ،میرا سلام کہو اور بشارت دو کے بارش ہوگی اور یہ بھی کہو کے نرمی اختیار کریں“، اس شخص نے حاضر ہوکر خبر دی (تو) خبر سن کر حضرت عمر کی آنکھیں نم ہو گئیں اور فرمایا اے رب جو چیز میرے اختیار میں ہے اس میں تو میں نے کبھی کوتاہی سے کام نہیں لیا۔

 اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے۔ امام ابن کثیر نے فرمایا : اِس کی اسناد صحیح ہے۔امام ابن ہجر عسقلانی نے بھی فرمایا : امام ابن ابی شیبہ نے اسے اسنادِ صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔

 سب سے پہلے تو ان اعتراض کے جواب میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ

اس حدیث کو مخالفین و موافقین سب کے نزدیک مسلم ائمہ و محدثین الحافظ ابن حجر العسقلانی اور امام ابن کثیر نے اس کی سند کو " صحیح " کہا ہے، (الفتح الباری ٢/ ٤٩٥)(البداية والنهاية ٨ / ٨٤)

یہاں ہی حجت تمام ہو جاتی ہے، لیکن اعتراض کا تھوڑا تفصیلی جواب بھی ضروری ہے ، مالک الدار کی توثیق ! آپ مشہور تابعی ہیں اور آپ حضرت عمر کے خادم اور وزیر خزانہ تھے.علّامہ ابن سعد نے مالک الدار کو تابعین میں شمار کیا ہے اور فرمایا کہ وہ حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام تھے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے روایت کرتے ہیں اور ان سے ابو صالح السمّان نے اور فرمایا " کان معروفا ".(الطبقات الکبیر ، ٦ / ١٢/ ١٤٢٣)

امام ابن حبان نے کتاب الثقات میں فرمایا، مالک بن عیاض الدار،حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام تھے اور حضرت عمر اور ابو صالح السمّان سے روایت کی ہیں.(" الكتاب: الثقات جلد ٥ ص ٣٨٤")

الحافظ امام شمس الدین ذھبی نے تجريد الأسماء الصحابه میں فرمایا،مالك الدار مولي عمر بن خطاب ٠روي عن ابي بكر٠حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام تھے اور حضرت ابوبکر روایت کرتے ہیں.( تجريد الأسماء الصحابه ٢ / ٤٤ )

الحافظ امام ابن الحجر العسقلانی مالک الدار کو صحابی رسول شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے نبی کریم علیہ السلام کو دیکھا اور تفصیل سے آپ کے حالات نقل کئیے.("الاصابة في تميز الصحابة ٦ / ١٦٤ ")

اسی لئے کہتے جھوٹ کے پیر نہیں کذاب البانی نے التوسل میں اس حدیث پر ضعیف کا حکم لگایا مالک الدار کو مجہول کہ کر مگر صحیح الترغیب و الرھیب میں مالک الدار والی ایک روایت پر البانی حسن کا فتویٰ صادر کر رہے ہیں ؟

 یہ البانی کا ایک دجل اور ملاحضہ فرمائیں َ (صحیح الترغیب و الرھیب ١/ ٩٢٦)

جواب : امام اعمش کی تدلیس ، امام اعمش بخاری و مسلم کے باالجماع ثقہ راوی ہیں،

ایک اہم نقطہ، وہابیوں کا کذاب محدث و امام ناصر الدین البانی نے بھی اس حدیث پر امام اعمش کی ممکنہ تدلیس پرکوئی اعتراض نہیں کیا جس کا شور شرابہ آج کا جاہل وہابی کرتا پھرتا ہے.

تدلیس کے اعتبار سے محدثین نے رواۃ حدیث کے مختلف طبقات بنائے ہیں،بعض طبقات کی روایات کو صحت حدیث کے منافی جبکہ دوسرے بعض کی روایات کو مقبول قرار دیاہے۔ مذکورہ راوی کے بارے میں تحقیق پیشِ خدمت ہے : امام اعمش مدلس ہیں مگر انکی حدیث ٢ امور کی بنا پر مقبول ہے، چاہے سماع کی تصریح کرے یا نا کرے، امام اعمش کا شمار مدلسین میں مرتبہ ثانیہ میں ہوتا ہے.

اور محدثین نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ طبقہ ثانیہ کے مدلس کی روایت مقبول ہے، طبقہ ثانیہ کے مدلسین کی تدلیس مضر نہیں . (التدلیس والمدلسون للغوری ص104،)( جامع التحصیل فی احکام المراسیل ص113، روایات المدلسین للعواد الخلف ص32")

امام اعمش طبقہ ثانیہ کے مدلس ہیں ہیں جن کے بارے میں الحافظ امام ابن الحجر العسقلانی فرماتے ہیں.من احتمل الائمة تدليسه وأخرجوا له في الصحيح ،

یعنی اس طبقے میں ان آئمۃ حدیث کو شمار کیا گیا ہے جن سے تدلیس کا احتمال ہے اور ان سے( بخاری اور مسلم نے اپنی )صحیح روایت لی.

علامہ ابن حزم محدثین کا ضابطہ بیان کرتے ہوئے ان مدلسین کی فہرست بتاتے ہیں جن کی روایتیں باوجود تدلیس کے صحیح ہیں اور ان کی تدلیس سے صحت حدیث پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ منهم كان جلة أصحاب الحديث وأئمة المسلمين ١.كالحسن البصري ٢.وأبي إسحاق السبيعي و٣.قتادة بن دعامة و٤.عمرو بن دينار٥. وسليمان الأعمش ٦.وأبي الزبير و٧.سفيان الثوري و٨.سفيان بن عيينة.("الاحکام لابن حزم ج2،ص141 ،142 فصل من یلزم قبول نقلہ الاخبار"،چشتی)

اور اس میں یہی سليمان الأعمش بھی ہیں. اگر بالفرض وہابیوں کے اس اعتراض کو تسلیم بھی کرلیا جاے کہ اس حدیث کو سماع کی تصریح کی وجہ سے ہی قبول کریں جیسا کہ اہل مرتبہ ثالثہ اور بعد کے مدلسین کا مقام ہے پھر بھی یہ حدیث مقبول ہے کیوں کہ یہاں امام اعمش نے ابن ابی صالح سے اسکو روایت کیا ہے ، اور امام الائمہ فی الحدیث امام شمس الدین ذھبی " میزان الاعتدال" میں رقمطراز ہیں.ومتى قال: عن تطرق إليه احتمال التدليس إلا في شيوخ له أكثر عنهم كـ إبراهيم وأبي وائل وأبي صالح السمان فإن روايته عن هذا الصنف محمولة على الاتصال.(ميزان الاعتدال ٢ / ٢٢٤)

ترجمہ : امام اعمش جب " عن " کہیں تو تدلیس کا احتمال عارض ہوتا ہے، مگر علاوہ ان شیوخ کے جن سے وہ اکثر روایت لیتے ہیں، جسے، ابراہیم : ابی وائل اور ابی صالح السمّان.بلا شبہ اس نوع سے ان کی روایت اتصال پر محمول ہوتی ہے ( ال- ١تصال).(ميزان الاعتدال ٢ / ٢٢٤)

 امام محمود آلوسی حنفی رحمۃ اللہ علیہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان نقل فرماتے ہیں:حجة الإسلام امام ابو حامد محمد ابن محمد الغزالي رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٥٠٥ ھجری فرماتے ہیں ، جب کسی کو کوئی مشکل پیش آے، تو اسے چاہیے کہ مدد مانگے اصحاب قبور سے.جو ( مقدس ) ارواح ہیں لیکن اس دور سے گزر چکے ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کوئی انکے پاس جائے گا تو روحانی مدد اور فائدہ حاصل کرے گا اور جب انکا وسیلہ الله کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے تو مشکلات حل ہوتی ہیں ۔ (.تفسیر روح المعانی ج ٣٠ ص ٢٤)

 إمام الائمة في الحديث امام ذھبی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ثمرقند میں قحط پڑا، لوگوں نے بہت کوشش کی، کچھ نے نماز استسقاء کا کہا، لیکن بارش نہیں ہوئی. ایک شخص جو مشہور تھا صالح نام سے قاضی ثمرقند پاس آیا اور کہا، میرے خیال میں آپ کو اپنے لوگوں کے ساتھ امام محمّد بن اسماعیل بخاری کی قبر پر جانا چاہیے ہے جو خرتنک میں ہے، ہمیں وہاں جاکر دعا کرنی چاہیے ہے، پھر الله شاید بارش نازل فرما دے . قاضی نے اس پر ہاں کہا اور وہ اور لوگ مل کر قبر کی طرف گئے، پھر وہاں لوگوں کے ساتھ دعا کی.. لوگوں نے قبر کے قریب رونا اور انکو وسیلہ بنانا شروع کردیا ۔ الله نے بارش کے بادل بھیج دیے. سب لوگ خرتنک میں7 روز ٹھرے رہے.

کوئی بھی ان میں سے ثمرقند واپس جانا نہیں چاہتا تھا جبکہ ثمرقند اور خرتنک کے درمیان صرف ٣ میل کا فاصلہ تھا ۔ (سيرأعلام النبلاء جلد 12 ص469،چشتی)

 شیخ السلام حافظ أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي رحمۃ اللہ علیہ متوفی (852) ھجری کا عقیدہ توسل : فتح الباری,شرح صحیح بخاری میں آپ وسیلے کی حدیث حضرت عمر کو سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں.حضرت عبّاس رضی الله تعالی عنہ کے واقعے سے یہ نکتہ حاصل ہوتا ہے کہ اہل خیر اور اہل بیت نبی صلّی الله علیہ وسلم کے وسیلہ سے شفاعت طلب کرنا مستحب ہے.اور اس کے علاوہ اس واقعے سے حضرت عبّاس رضی الله تعالی عنہ کی فضیلت بیان کرنا، حضرت عمر کا حضرت عبّاس کی تواضع کرنا اور ان کے مقام و مرتبہ کو پہچاننا ہے ..(فتح الباری شرح صحیح بخاری ج ٢ ص ٥٧٧ )

انبیاء کرام علیھم السلام اور بالخصوص نبی کریم صلی الله علیہ وسلم حیات حقیقی و جسمانی کے ساتھ اپنی نورانی قبروں میں زندہ ہیں .امیر المومنین فی الحدیث الحافظ ابن الحجر العسقلانی الشافعی رحمہ اللّہ فرماتے ہیں،" وأحسن من هذا الجواب أن يقال : إن حياته - صلى الله عليه وسلم - في القبر لا يعقبها موت بل يستمر حيا ، والأنبياء أحياء في قبورهم ۔ ترجمہ : قبر انوار میں کبھی موت آپ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر طاری نہیں ہوگی بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم ہمیشہ زندہ رہیں گے کیوں کہ:والأنبياء أحياء في قبورهم ، انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں ۔ (فتح الباری ٨ / ٣٥٣)

 تو زندہ ہے واللہ ! تو زندہ ہے واللہ

میری چشم عالم سے چھپ جانے والے

 امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ متوفی (٥٤٤ ھ) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ خلیفہ ابو جعفر منصور (١٥٨ ھ) مدینہ منورہ آیا اور اس نے امام مالک رح سے دریافت کیا.اے، ابو عبدللہ : کیا میں (زیارت قبر نبوی صلی الله علیہ وسلم ) کے وقت دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہوں یا حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف رخ کروں ؟امام مالک رح نے فرمایا کے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے کیوں رخ پھیرتا ہے جبکہ وہ تمہارے اور تمہارے جد اعلی کے حضرت آدم علیہ السلام کے لیے روز قیامت وسیلہ ہیں.( الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ج ٢ ص ٥٢٠)

 فقيه ومحدِّث وصاحب المذهب الحنبلي في الفقه الإسلامي أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني الذهلي رحمۃُ اللہ علیہ (164-241هـ ) فرماتے ہیں ۔ امام احمد بن حنبل رحمۃُاللہ علیہ سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو منبر النبی صلی الله علیہ وسلم کو چھوتا ہے اور چھوکر اور چوم کر اس سے وہ برکت حاصل کرتا ہے. اور قبر کے ساتھ اس کے مثل کرتا ہے، اور اس سے وہ الله کا قرب حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے.آپ رحمۃُاللہ علیہ نے فرمایا: "لا باس بذلك " یہ ٹھیک ہے.اس میں کچھ حرج نہیں ہے ۔۔(العلل و معرفة الرجال ج 2 ص 492)

 اللہ تعالی نے بغیر کسی چیز کو خاص کئے ہو ئے مطلق ارشاد فر مایاکہ : ائے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی بارگا ہ تک پہو نچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو ۔

تو اب ہر اس چیز کو وسیلہ بنا نا جائز ہو گا جو اس کی بارگاہ میں مقبول و محبوب ہو اور جس کے ذریعے اس کی رحمت کو اپنی طرف متو جہ کیا جا سکتا ہو ۔ چا ہے وہ نیک اور مقبول عمل ہو یا نیک اور مقبول ذات ۔ چا ہے وہ زندہ ہو ںیا وفات فرماچکے ہوں ۔ ہاں ہمیں اپنے کسی عمل کے بارے میں یقین کے ساتھ نہیں معلوم کہ وہ بارگا ہ الہی میں مقبول ہے یا مردود ؟ مگر کچھ مقدس ہستیوں کے بارے میں ہمیں صرف معلوم ہی نہیں بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگا ہ میں مقبول اور محبوب ہیں جیسے کہ انبیائے کرام علیہم السّلام ، صحابہ کرام اور اولیائے کرام علیہم الرّحمہ وغیرہ ۔ اس لئے ان کے وسیلے سے دعا کرنے میں قبولیت کی امید زیادہ ہے ۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے خود اپنے صحابی کو اپنی ذات اقدس کا وسیلہ بنا کر دعا کر نے کی تعلیم دی ۔ چنانچہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نا بینا شخص نبی کر یم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے پاس آیا ا ور اس نے کہا : میر ے لئے اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالی مجھے عا فیت بخشے ۔ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں مؤخر کردوں اور وہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر چاہو تو دعا کر دوں ۔ تو انہوں نے کہا :دعا کر دیجئے،تو اس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑ ھے اور اس طر ح سے دعا کرے:ائے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف رحمت والے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے وسیلے سے متوجہ ہو تا ہوں ، یا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم بے شک میں نے آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف لَو لگائی اپنی اس ضرورت میں تاکہ میری یہ ضرورت پو ری ہو جائے ،اے اللہ تو میری اس ضرورت کو پو ری فر ما ۔ (سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث:۱۳۸۵،چشتی)(جامع ترمذی ،رقم الحدیث: الحدیث:۳۵۷۸)

 بزرگوں کے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے

 کیو نکہ قرآن حکیم اور احادیث طیبہ سے ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام کے پیدا ہونے سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے وسیلے سے دعا فر مائی ۔ تو اللہ تعالی نے ان کی دعاء قبول فر مائی ۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے فرمایا : جب حضرت آدم علیہ السّلام سے خطائے اجتہادی سرزد ہوئی ، تو انہوں نے دعا کی : اے میرے رب میں تجھ سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما۔اس پر اللہ رب العزت نے فر مایا:ائے آدم !تونے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم) کو کس طرح پہچان لیا حالانکہ ابھی میں نے انہیں پیدا بھی نہیں کیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا :مولا! جب تونے اپنے دست قدرت سے مجھے پیدا کیا اور اپنی روح میرے اند ر پھونکی میں نے اپنا سر اوپر اٹھایاتو عرش کے پایوں پر لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا ،میں نے جان لیا کہ تیرے نام کے ساتھ اسی کا نام ہو سکتا ہے جو تمام مخلوق میں سے تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔اس پر اللہ تعالی نے فر مایا:ائے آدم !تو نے سچ کہا:مجھے ساری مخلوق میں سب سے زیادہ وہی محبوب ہیں ۔اب جبکہ تم نے اس کے وسیلے سے مجھ سے دعا کی ہے تو میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم)نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہیں کرتا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔( المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب تواریخ المتقدمین من الانبیاء والمر سلین ،باب ومن کتاب آیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم التی ھی دلائل النبوۃ ،حدیث:۴۲۲۸)

 اسی طرح بنی اسرائیل کے لوگ اپنے دشمنوں کے خلاف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کی پیدائش سے پہلے حضور علیہ السلام کے وسیلے سے دعا کرتے تھے تو اللہ تعالی انہیں کامیابی عطا فر ماتا تھا۔چنانچہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّمکے اعلان نبوت کے بعد ان لوگوں نے سرکشی اختیار کی تو اللہ تعالی نے ان لوگوں کے اس رویہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فر مایا:اور اس سے پہلے وہ اس نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح(کی دعا)مانگتے تھے۔پھر جب تشریف لایا وہ ان کے پاس جانا پہچانا ہوا(یعنی اس حال میں کہ وہ لوگ اس نبی کی صفات کو خوب جانتے اور پہچانتے تھے)تو ان لوگوں نے انکار کردیا تو اللہ کی لعنت ہے منکروں پر۔ (سورہ بقرہ،آیت:۸۹

مذکورہ آیت کریمہ اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی ایسے بزرگ کے وسیلے سے بھی دعا کرنا جائز ہے جو ابھی پیدا بھی نہ ہوئے۔در اصل وسیلہ میں خا ص نکتہ یہی ہے کہ جس کو ہم وسیلہ بنا رہے ہیں وہ اللہ کی بارگا ہ میں پسندیدہ اور مقبول ہو ۔چا ہے وہ ابھی دنیا میں موجود ہو یا دنیا سے جا چکا ہو یا ابھی آیا ہی نہ ہو۔ان سب کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔اور جو اللہ کی بارگا ہ میں مردود ہو، اس کو وسیلہ بنانا ہر گز جائز نہیں چاہے وہ دنیا میں موجود ہو یا جا چکا ہو یا ابھی آیا ہی نہ ہو۔چنانچہ ہم ایک فاسق وفاجر یاکافر،مشرک کی ذات کو کسی صورت میں وسیلہ نہیں بنا سکتے ۔چا ہے وہ زندہ ہو یا مردہ ۔اور اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہستیوں جیسے انبیائے کرام ،صحابہ عظام اور اولیائے کرام وغیرہ کو ہر حال میں وسیلہ بنا سکتے ہیں۔ کیو نکہ وہ ہر حال میں اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہیں۔بہت سارے سادہ لوح قسم کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے ۔اس لئے اس نکتہ کو خوب سمجھ لیں کہ وسیلہ بنانے کے لئے اُس ذات کا زندہ یا موجود ہونا شرط نہیں بلکہ اس کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہونا شرط ہے۔

 بعد وصال بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم اور دیگر بزرگانِ دین کے وسیلے سے دعا کر نا جائز ہے : وصال کر جا نے سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کی مقبولیت اور محبوبیت ختم نہیں ہوئی بلکہ اب بھی ہی ہے جیسے حیات مبارکہ میں تھی،بلکہ اب تو اور زیا دہ بڑھ گئی کہ قرآن حکیم میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے تعلق سے ارشاد ہو ا’’وللاٰ خرۃخیر لک من الاولی‘‘کہ آپ کی ہر آنے والی گھڑی پچھلی گھڑی سے بہتر ہے ۔ اس لئے جس طرح آپ کی حیات مبارکہ میں آپ کے وسیلے سے دعا کر نا جائز تھا ویسے ہی اب بھی جائز ہے بلکہ قبولیت دعا کا سب سے عظیم ذریعہ ہے ۔

 چنانچہ امام دارمی اپنی سنن میں اوس بن عبد اللہ سے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کر تے ہیں کہ:ایک مر تبہ مد ینہ شر یف کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ  سے اپنے حالات کی شکایت کی،تو آپ رضی اللہ عنھا نے فر مایا :حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کی قبر انور کے پاس جائو اور اس کی ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھول دو کہ قبر مبارک اور آسمان کے درمیان کو ئی پر دہ نہ رہے۔راوی کہتے ہیں کہ : انہوں نے ایسا ہی کیا،تو خوب بارش ہو ئی۔اور اُس سال خوب سبزہ اُگا جس کی وجہ سے اونٹ اتنے موٹے ہوگئے کہ محسوس ہوتا کہ چربی کی وجہ سے پھٹ پڑیں گے ۔ اس لئے اُس سال کا نام ہی’’ عام الفتق‘پیٹ پھٹنے کا سال رکھ دیا گیا ۔ (سنن دارمی،باب ما اکرم اللہ تعالیٰ نبیہ ﷺ بعد موتہ، حدیث:۹۲)

 اب آپ خود ہی سوچیں کہ مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سید ھے اللہ پاک سے کیوں نہ دعا کی ؟ پھر اس وقت صحابہ کرام اور جلیل القدر تابعین بھی تو زندہ تھے۔ انہوں نے شر ک کا فتوی کیوں نہ لگایا؟کیا آج کے اہل حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ کرام اور تابعین عظام سے بڑھ کے تو حید پر ست ہیں؟اگراِن سوالوں میں سے ہر ایک کا جواب’’ نہیں ‘‘ہے تو بلاشبہ جس طر ح باحیات بزرگوں کے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے ۔اسی طر ح وفات یافتہ بزرگوں کے وسیلہ سے بھی دعا کرنا جائز ہے ۔

 وسیلہ ،کے جواز اور اس کے استحسان پر تمام علمائے اہل سنت و جماعت متفق ہیں ۔چنانچہ ائمہ اربعہ،امام طبرانی،امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی،امام فخر الد ین رازی،امام قر طبی،علامہ ابن حجر عسقلانی،امام احمد بن محمد شہاب الدین قسطلانی،ملا علی قاری ،علامہ جلال الدین سیوطی،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے علاوہ بے شمار علمائے امت علیھم الرحمۃ والرضوان نے اس کے جواز کا فتوی صادر فرمایا ۔ہم یہاں پر بنظر اختصار صرف امام ابو زکریا محی الدین بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر اکتفا کر تے ہیں ۔

 امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ’کتاب الاذکار‘کے باب ’الاذکار فی الاستسقائ‘میں کسی بزرگ کے وسیلے سے دعا کرنے کے جواز پر اس طرح سے اظہار خیال فر ماتے ہیں۔’’جب تم میں کو ئی ایسا آدمی ہو جس کا زہد و تقوی مشہور ہو تو اس کی ذات کے وسیلے سے بارش طلب کیا کرو ،اور یوں دعا مانگا کرو’’ائے اللہ! ہم تیرے فلاں بندے کے وسیلے سے بارش اور شفاعت طلب کر تے ہیں ۔جس طرح بخاری شر یف میں ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے بارش طلب فر مائی۔(کتاب الاذکار ،صفحہ ۱۴۰،چشتی)

 فقيه ومحدِّث وصاحب المذهب الحنبلي في الفقه الإسلامي أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني الذهلي رحمۃ اللہ علیہ(164-241هـ) اور عقیدہ توسل: فرماتے ہیں، میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا، میں نے پانچ مرتبہ حج کیا، تین مرتبہ پیدل( قدموں سے ) اور دو مرتبہ سواری پر، یا تین مرتبہ سواری پر اور دو مرتبہ پیدل ( قدموں سے ).ایک مرتبہ جب میں پیدل سفر میں تھا تو میں اپنا راستہ بھول گیا، تو میں نے یہ پکارنا شروع کیا،اے الله کے بندوں " دلوني على الطريق" مجھے راستہ دکھاؤ...میں یہی دوہراتا رہا جبتک میں راستے پر نہیں آیا.(شعب الايمان ج 6 ح 7696)

 انبیاء علیہم السّلام اور صالحین علیہم الرّحمہ کے وسیلے سے دعا کرنا

 الإمام الحافظ الشافعي محمد ابن الجزري، شيخ القرّاء، متوفی 833 هـ نے دعا کرنے کے کل ٣٣ آداب بیان فرماتے ہیں.ان تمام آداب کے درمیان میں آپ یہ بھی فرماتے ہیں،اور دعا کرتے وقت چاہیے کہ الله سے انبیاء اورصالحین بندوں کے وسیلے سے سوال کرے.(الحصن الحصين من كلام سيد المرسلين ص 25)

 شیخ السلام امام ابن الحجر العسقلانی الشافعی رحمۃُ اللہ علیہ اور عقیدہ توسل:آقا علیہ السلام اور اولیاء الله سے مدد مانگنا اور ان کا وسیلہ بارگاہ الہی میں پیش کرنا یہ اہل حق کا ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے.شیخ السلام امام ابن الحجر عسقلانی تہذیب التھذیب میں لکھتے ہیں،وقال الحاكم سمعت أبا على النيبورى يقول : كنت فى غم شديد فرأيت النبي – صلى الله عليه وسلم – فى المنام كأنه يقول لي سر إلى قبر يحي بن يحي واستغفر وسل نقض حاجتك ، فأصبحت ففعلت ذلك فقضيت حاجتي"امام حاکم رح نے فرمایا ، انہوں نے ابو علی نیشا پوری سے سنا، میں شدید غم و پریشانی میں تھا، میں نے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا، یحییٰ بن یحییٰ کی قبر پر جاؤ اور استغفار کرو اور مدد کا سوال کرو ، تمہاری پریشانی دور ہوجاے گی .ابو علی نیشا پوری نے فرمایا، میں نے ایسا کیا اور میری پریشانی صبح میں حل ہو گئی".(تہذيب التہذيب ج 4 ص 398،چشتی)

 محمد بن عبد الوہاب نجدی لکھتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کا وسیلہ جائز ہے اور صالحین علیہم الرّحمہ کے وسیلہ میں کوئی مسلہ نہیں ہے ہم وسیلہ اختیار کرنے والوں کو غلط نہیں کہتے ۔ (فتاویٰ ابن وہاب نجدی صفحہ68)

 محمد بن عبد الوہاب نجدی کا اقرار ، صالحین کے وسیلے پر ان کا کہنا کہ صالحین کے ذریعے توسل میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ، اور امام احمد کا قول کہ توسل نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے . مخلوق کے ذریعے مدد طلب کرنے کو نہیں کہا جا سکتا.فرق بالکل واضح ہے، یہ بات ایسی نہیں جو ہمیں اپنے آپ میں ملتی ہو.بعض نے توسل با لصالحین کو جائز کہا اور بعض نے اسکو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص کیا اور اکثر علماء نے اس سے منع کیا اور نا پسند کیا.یہ مسئلہ، مسائل فقہ میں سے ہے .باوجود اسکے کہ حق ہمارے ساتھ ہے یعنی جمہور کے اقوال، کہ وہ اس کو پسند نہیں کرتے، تب بھی ہم اس شخص کا انکار نہیں کرتے جو یہ کرتا ہے . مسائل اجتہاد میں کوئی انکار نہیں ہے.(فتاوى و مسائل محمد بن عبد الوہاب ص 68)

 امام ابن حجر الهيتمي نے آقا علیہ السلام کے روضۂ انور کی زیارت کے فضائل پر پوری کتاب لکھی ہے .اور اس کتاب میں آپ لکھتے ہیں:ابن تیمیہ کے خرافات میں سے ہے، جس کا اعلان پوری دنیا میں اس سے پہلے کسی نے بھی نہیں کیا وہ ہے انکار توسل اور استغاثہ کا آقا دو جہاں حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی ذات مبارکہ سے.توسل حضورنبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے تمام حالات میں( حسن ) اچھا ہے،آپ علیہ السلام کی خلق یعنی آپ علیہ السلام کے مبعوث ہونے سے پہلے اور بعد میں اور دنیا اور آخرت میں . (الجوهر المنظم في زيارة القبر المكرم ص171)

 وسیلہ کے جواز پر قرآن کریم ، احادیث مبارکہ،معمولات صحابہ اور اقوال ائمہ سے ، بہت سارے دلائل فراہم کئے گئے ہیں جو متلا شیان حق کے لئے کافی سے زائد ہیں ۔ مگر اس کے باوجود کوئی انکار کرے ،اسے شر ک و بدعت اورناجائز وحرام کہے اور مسلمانوں کے درمیان بلا وجہ لڑائی جھگڑے کی صورت پیدا کرے اور اپنی مخصوص ذھنیت لوگوں پر مسلط کرنا چاہے تو دنیا میں اس کا کو ئی علاج نہیں ۔ ہاں البتہ جب میدان محشر بپا ہو گا اور لوگ اس دن کے سخت مصا ئب و الام سے گھبرا کر انبیائے کرام علیہم السّلام کو پر یشانیوں سے نجات پانے کے لئے وسیلہ بنا ئیں گے اور ان کی بارگا ہوں میں جا کر ان سے فر یاد کریں گے ۔ سب دوسرے کے پاس جانے کا مشورہ دیں گے اور آخرمیں حضو ر رحمۃ للعا لمین صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم ’’اَناَ لَھاَ‘‘ کا مژدہ سنائیں گے ، تب جا کے لو گوں کو سکون نصیب ہو گا ۔ تو یقینا اس دن یہ لوگ مان جائیں گے کہ : ہاں ہم بغیر وسیلہ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے بارگاہ خدا وندی میں نہیں پہنچ سکتے ۔ مگر اس دن ماننے سے فائدہ بھی کیا ہو گا جبکہ دنیا میں انکار کر چکے ۔ پھر انجام کیا ہوگا ؟ ٹھنڈے دل سے سو چئے ۔ (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ