امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے پر سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی انتہا پسندی اور دہشت گردی ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور سعودی عرب نے متعدد یورپی ممالک میں ہونے والے دہشت گردانہ کاروائیوں میں دہشت گردوں کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کیا۔نیو یارک ٹائمز اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار اور سابقہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا حوالہ بھی دیا جس میں ہیلری کلنٹن نے سعودی عرب کی طرف سے دنیا بھر کے دینی مدارس میں انتہا پسندی کی سوچ پھیلانے اور نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کی تلقین دینے پر افسوس کا اظہار کیا۔
حوالہ :  iblagh

رپورٹ میں اس بات کی بھی یاد دہانی کرائی گئی کہ داعش کے دینی مدارس میں بھی وہی تعلیم دی جا رہی ہے جو سعودی عرب کے دینی مدارس میں دی جا رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈانلڈ ٹرمپ کا بھی ذکر کیا ہے، جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ سعودی عرب دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا درآمد کار ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق ہیلری کلنٹن اور ڈانلڈ ٹرمپ ہر چیز میں اختلاف رکھتے ہیں، مگر دونوں اس بات پر ضرور اتفاق کرتے ہیں کہ سعودی عرب دہشت گردی اور انتہا پسندی کی حمایت کرتا ہے۔ رپورٹ کے ایک حصے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے صرف اسامہ بن لادن کو ہی نہیں بنایا بلکہ 9/11 حملے کرنے والے 19 دہشت گردوں میں سے 15 کو بھی بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2003ء میں امریکہ کے عراق میں داخل ہونے کے بعد سعودی عرب نے عراق میں سب سے زیادہ خودکش بمبار بھیجے، علاوہ ازیں داعش میں بھرتی غیر ملکی جنگجوؤں میں سب سے بڑی تعداد تیونسیوں کی ہے اس کے بعد سعودیوں کی ہے۔
80 ممالک کا دورہ کرنے والی پہلی امریکی ایلچی برائے اسلامی معاشرہ فرح باندیت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اسلامی عادات اور ثقافت کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور اگر سعودی عرب کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت سے نہ روکا گیا تو اس کے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی حوالوں سے خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔امریکہ کے تجزیہ نگار اور مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر فرید زکریا واشگنٹن پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ سعودی عرب عالم اسلام میں ایک مصیبت کو جود میں لایاہے، سعودی عرب ہی دنیا بھر میں تشدد اور دہشت گردی کا سبب ہے۔ نیو یارک ٹائمز کےایک اور کالم میں ’’ نیکلو لاس کریسٹف‘‘ کہتے ہیں کہ سعودی عرب انتہا پسندی کو دنیا بھرمیں پھیلا رہا ہے، کریسٹف کا مزید کہنا تھا کہ ’’اگر آپ بروکسل یا سانٹ بیر نارڈینو اور دیگر شہروں میں دھماکے روکنا چاہتے ہیں تو آپ کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کا دہشت گردی کی حمایت کو روکنا ہو گا۔ امریکہ اخبارات میں آئے دن سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے دہشت گردی کی اصل وجہ قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ سعودی عرب انتہا پسندی اور تشدد کی سوچ کو پوری دنیا میں پھیلا رہا ہے۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ