اندراج کی تاریخ  10/6/2020
کل مشاہدات  319
سلفی اور وہابیوں کا دعوی ہے کہ کوئی مذہب نہیں ہے اور عصر سلف یعنی صحابہ، تابعین اور تابع تابعین کی طرف رجوع کرکے مذاہب سے ہٹ کر اسلام کو اختیار کرنا چاہیے۔ ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد اور اسکے مکتب کے پیروکار، اسلام سلف، کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت کا بہانہ بناکر مختلف اسلامی مسائل کے بارے میں – خاص طور پر توحید اور شرک کے حوالے سے- بے بنیاد نظریات اور عقائد بیان کرنے لگے ہیں، ان نظریات کی بنیاد پر مسلمانوں کے بہت سارے نظریات اور اعمال پر اعتراض ہوا اور بہت سارے توحید پرست، اسلام کے دائرہ سے نکل جاتے ہیں۔ اس مقالے میں ابن تیمیہ کے بارے میں اہل سنت علماء کی آراء اور نظریات بیان کیے جائنگے۔
مصنف :  علي اصغر رضواني

مقدمہ

تفکر اسلامی کی تاریخ اپنے اندر فراز و نشیب لیے ہوئے اور تحول و تبدل اور مختلف نظریات اور نقطہ نظرات سے بھرپور ہے۔ ان تبدیلیوں سے بھرپور تاریخ میں مختلف اہداف اور نظریات کے ساتھ مختلف فرقے اور مذاہب وجود میں آگئے اور ان میں سے بعض تو کچھ عرصہ کے بعد بھلا دیے گئے اور کچھ تبدیلی کا سفر طے کرتے ہوئے اب بھی اسلامی معاشروں میں تاثیر رکھتے ہیں، لیکن ان فرقوں میں سے وہابی فرقے کا ایک خاص سیر و سفر ہے، کیونکہ اسلامی مفکرین اور صاحب نظر افراد کے درمیان یہ فرقہ مضبوط تفکر کا حامل نہ ہونے کے باوجود اس کوشش میں ہے کہ اپنے نادرست اور قدامت پسند تفکرات دیگر مسلمانوں پر تھونپ دیے اور اپنے آپ کو اسلامی سوچ اور تفکر کے میدان میں حاضر واحد فرقہ کے طور پر منوائے ۔

اسی وجہ سے اس فرقہ کے راز و رموز اور تغیر و تبدل کے سفر اور تفکر کی شناخت کے لیے تحقیق کی ضرورت ہے اور گراں قدر استاد محترم جناب علی اصغر رضوانی نے مسلسل جد و جہد اور قابل تقدیر کوشش کے ساتھ اس تفکر کے آشکار اور پس پردہ پہلووں پر تحقیق کی ہے اور بہت سارے تحقیقاتی منابع سے استفادہ کرتے ہوئے اس فرقہ کے تفکر اور نظریات کی جانچ پڑتال کی ہے۔ 

انکی زحمتوں اور کوششوں کا شکریہ کرتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس طرح کی تحقیقات اس منحرف فرقہ سے آشنا ہونے کا باعث ہوں اور مفکرین اور دانشوروں کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے اس مجموعہ کی آئندہ کی اشاعتوں کی کیفیت میں بہتری لائی جائے۔

انه ولی التوفیق

مرکز تحقیقات حج

کلام اور اسلامی تعلیمات گروپ

اسلام نے لوگوں کو متحد رہنے اور تفرقہ سے دور رہنے کی دعوت دی ہے۔ قرآن کریم واضح ہدایات کے ذریعے تمام انسانوں کو توحید کے محور پر اکھٹا ہونے کی دعوت دیتا ہے اور اختلاف، تفرقہ اور گروہوں میں تقسیم ہونے کو سیدھے راستے سے دور ہونے باعث قرار دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے :  

 “وَلاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِهِ” (انعام: 153)

مختلف راستوں کی پیروی نہ کرو کیونکہ یہ کام تمہیں راہ حق پر چلنے سے روک دیتا ہے۔

رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) جو اسلام اور مسلمانوں کی عزت و عظمت کے خواہاں تھے اور چاہتے تھے کہ دین اسلام کے اقدار اور اصولوں کے مطابق زندگی گذاریں  نے بھی ہمیشہ اصول اور مبانی کے پابند ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور اپنی امت کو دین میں بدعت ایجاد کرنے والوں کے جال میں پھنسنے سے ڈراتے تھے و نیز تفرقہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے نقصانات سے بچنے کے راستے بتاتے تھے۔

یہ تمام نصیحتین اس لیے تھیں کہ آخری آسمانی دین کے پیروکار اپنے گذشتہ بزرگوں کی راہ پر نہ چلیں اور انکی طرح مخالف گروہوں میں تقسیم نہ ہوں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے :

“وَلاتَکُونُوا کَالَّذِینَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ ما جآءَهُمُ الْبَیناتُ” (آل عمران: 105)

ان لوگوں جیسے مت بنو جو منتشر ہوگئے ہیں اور روشن دلائل پیش کیے جانے کے بعد بھی اختلاف کا شکار ہوگئے ہیں۔

لیکن بہت کم عرصے کے اندر اسلامی امت تفرقہ کا شکار ہوگئی اور مسلمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور قرآن اور رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی ہدایات کے برخلاف پورا اسلامی معاشرہ فرقہ پرستی کی لپیٹ میں آگیا۔

فرقہ پرستی کی نشونما اور اسکا پھیلاؤ اور اسکے جاری رہنے کی وجہ سے بعض مفکرین اس کا کوئی راہ حل ڈھونڈنے لگے اور یہ حقیقت انکے لیے واضح ہوگئی کہ ایک طرف مسلمانوں کی آپس میں بدگمانیوں اور فاصلوں کے اسباب کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف اسلام کے بنیادی منابع میں زیادہ تحقیق اور تفحص کر کے دین کے حقیقی اقدار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

واضح ہے کہ ان دو اقدامات کے بہت فائدہ مند نتائج نکل سکتے ہیں، ان اقدامات کے ذریعہ اسلامی امت متحد ہوکر اسلام کے دشمنوں اور بدخواہوں کے مقابلہ میں کھڑی ہوسکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ کوشش ناکام رہ گئی اور بدخواہوں نے ہمکاری اور مدد کرنے کے بجائے تفرقہ اور جدائی کا نعرہ بلند کیا اور چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے دشمن کے اہداف کی مدد کی اور اسلام کے بدخواہوں کے ساتھ ہم آواز ہوکر مسلمانوں کو مسترد کر کے فرقوں کو پھیلانے لگے۔

سلفیوں کا وجود میں آنا

سلفی فرقہ ایک ناپسدیدہ اور بہ نسبت نیا فرقہ ہے جو انحصار طلبی کے ساتھ مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہے اور اپنے سوا سب کو کافر سمجھتا ہے۔ ایک خودخواہ فرقہ جس نے سلف صالح کی پیروکاری کا لباس زیب تن کر کے وحدت کا دعوی کرتے ہوئے وحدت کی بنیاد کے مخالف ہیں۔

سلفیہ وہ ہیں جہاں پر وہابیت پروان چڑھی، جس کا دعوی ہے کہ کوئی مذہب موجود نہیں ہے، عصر سلف یعنی صحابہ، تابعین، تابع تابعین کے زمانہ کی طرف پلٹنا چاہیے اور بغیر مذہب کے اسلام کو اپنانا چاہیے۔ وہ اس بات کی طرف دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں: آجاؤ تمام مذاہب کو چھوڑ کر اتحاد کی جانب قدم بڑھاتے ہیں لیکن دوسرے ہاتھ سے تکفیر کی شمشیر کھینچ کر دوسروں کو اسلامی معاشرے سے نکال کر کفار میں شامل کر کے معاشرے کو چند حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

واضح اور روشن  ہے کہ لوگوں کو مذاہب کے ثمرات کو چھوڑ دینے کی دعوت دینا ایک نہ ہونے والا کام ہے، کیونکہ مذاہب کے پیروکار آسانی سے اپنا مذہب چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں اور ایسے تاریک اور مبہم نقطہ کی طرف نہیں دوڑتے جس کا دعوی سلفی کرتے ہیں، خاص طور اس نکتہ کے پیش نظر کہ اس بے مذہبی کی طرف بلانے کے پشت پردہ ایک مذہب پوشیدہ ہے وہ بھی ایسا مذہب جو جمود اور تنگ نظری کا شکار ہے جو اسلام کی ایک بے تحرک، بے روح، ناقص، کمزور اور بے کشش تصویر پیش کرتا ہے اور شدت پسندی اور تعصب کی روح زندہ کر کے ایک دوسروں کے نزدیک ہونے کے لیے ہر قسم کی کے راستوں کو بند کرتا ہے اور لڑائی جھگڑا اور بدگمانی کی فضا ایجاد کرتا ہے اور سب کو تلوار ہاتھ میں لینے پر مجبور کرتا ہے۔

ابن تیمیہ سلفی تفکر کے راہنما

آگاہ اور متعہد علماء کی جانب سے اسلامی وحدت ایجاد کرنے کی راہ میں رکاوٹ بننے والے لوگوں میں سلفی اور انکے پیروکار اور وہابیوں کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد اور اس کے مکتب کے پیروکار اسلام سلف کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت کا مسئلہ اٹھا کر اس بہانہ سے مختلف اسلامی مسائل کے بارے میں- خاص طور پر توحید و شرک کے بارے میں- بے بنیاد نظریات اور عقائد بیان کیے ہیں، ان نظریات کی بنیاد پر مسلمانوں کے بہت سارے افکار اور اعمال پر اعتراض ہوتا ہے اور بہت سارے توحید پرست دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں۔

ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں کا دعوی تھا کہ وہ سلف صالح کے اسلام کے مطابق گفتگو کرتے ہیں اور گذشتہ صدیوں میں جو انحرافات وجود میں آئے ہیں انکو سلف صالح کی سیرت کی شناخت کرنے کے ذریعے ختم کریں گے جبکہ اسلام کے حقیقی اقدار معلوم کرنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت معصومین(علیہم السلام) کی طرف رجوع کرنا ہے اور اس بات سے آگاہ ہونا ہے کہ دین لانے والے نے کونسی روش پیش کی ہے اور کونسی باتوں کا حکم دیا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ دردمند علماء مسلسل جد و جہد کے ذریعہ ابن تیمیہ کے افکار کی جانچ پڑتال کریں اور تمام مسلمانوں پر واضح کر دیں اس کے نظریات نہ صرف حقیقی اسلام کے مطابق نہیں ہیں بلکہ سلف صالح کی سیرت کے ساتھ بھی سازگار نہیں ہیں۔

جی ہاں اسلامی مسائل کے حوالے سے ابن تیمیہ کا جو رویہ تھا اس سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور بہت سارے اسلامی عقائد اور آداب کی نفی کرنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں تھا، لیکن اسلامی علماء اور دانشوروں کا اس کے ساتھ ڈائرکٹ روبرو ہونا باعث ہوا کہ یہ مکتب کچھ ہی عرصہ میں آگے بڑھنے سے رک گیا۔ اس کے شاگردوں میں صرف ابن قیم جوزی اپنے استاد کے افکار پر ڈٹا ہوا تھا اور اس حوالے سے چند کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن ابن تیمیہ کے بعد کی چار صدیوں کے دوران اسکے افکار کو مقبولیت نہیں ملی اور اس کے بہت سارے نظریات بھلا دیے گئے۔

ابن تیمیہ، اہل سنت مفکرین کی نظر میں

وہابی، ابن تیمیہ کے لیے بہت اہمیت اور قدر و قیمت کے قائل ہیں اور اس کو اپنا شیخ الاسلام مانتے ہیں اور ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ ابن تیمیہ تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک سنت کا دفاع کرنے کے حوالے سے ایک خاص مقام کے حامل ہیں جبکہ خود ابن تیمیہ کے زمانے سے لے کر آج تک اہل سنت علماء اس کے تفکر پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اور اب انکے نظریات اور آراء کی جانچ پڑتال کرتے ہیں:

اول: ابن تیمیہ کے بارے میں شافعی علماء کا نظریہ

  1. شیخ علاء الدین علی بن اسمح یعقوب شافعی (م710ه‍. ق)

ابن حجر اس کے بارے میں کہتا ہے : “شدید الحطّ علی ابن تیمیة”[1] “وہ ابن تیمیہ پر سخت تنقید کرتا تھا ”

  1. صفی الدین محمّد بن عبدالرحیم ارموی شافعی (م715ه‍. ق)

وہ ہندوستان کے علماء میں سے تھا پھر دمشق میں رہنے لگا علم اصول فقہ اور کلام میں اسکی بہت ساری تصنیفات ہیں۔

ذہبی اسکے بارے میں کہتا ہے:

العلامة الأوحد صفی الدین... کان حسن الإعتقاد علی مذهب السلف.[2]

منفرد علامہ صفی الدین۔۔۔۔۔۔ وہ مذہب سلف کے بارے میں اچھا عقیدہ رکھتا تھا۔

کتاب “طبقات الشافعیة” میں تاج الدین سبکی نے ابن تیمیہ کے ساتھ صفی الدین کا مناظرہ ذکر کیا ہے۔ [3]

  1. صدرالدین محمّد بن عمر بن مکّی شافعی (م716ه‍. ق)

اہل سنت کے فقیہ، مفتی اور محدث ہیں جو ابن مرحل اور ابن وکیل سے معروف ہیں اور شافعی بزرگ اماموں میں سے شمار ہوتے ہیں، تاج الدین سبکی اسکے بارے میں کہتا ہے:

و له مع ابن تیمیة المناظرات الحسنة و بها حصل علیه التعصب من اتباع ابن تیمیة...[4]

ابن تیمیہ کے ساتھ اسکے اچھے مناظرے ہوئے ہیں اسی وجہ سے ابن تیمیہ کے پیروکار اس کے بارے میں تعصب سے کام لیتے تھے۔

ابن کثیر جو ابن تیمیہ کا شاگرد ہے اسکے بارے میں کہتا ہے:

و کان ینصب العداوة للشیخ تقی الدین ابن تیمیة و یناظره فی کثیر من المحافل و المجالس.[5]

وہ شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کے ساتھ عداوت رکھتے تھے اور اسکے ساتھ بہت ساری مجالس اور محافل میں مناظرہ کرتے تھے۔

  1. نور الدین علی بن یعقوب بکری شافعی (م724ه‍. ق)

اہل سنت کے مفتی اور امام ہیں ابن قاضی شعبہ اس کے بارے میں کہتا ہے:

واشتغل و افتی و درس، و لمّا دخل ابن تیمیة إلی مصر قام علیه و انکر مایقوله و آذاه.[6]

وہ علم حاصل کرنے میں مصروف تھے اور فتوی دینے اور تدریس کا کام کرتے تھے، جب ابن تیمیہ مصر میں داخل ہوگئے تو اس کے خلاف کھڑے ہوگئے اور جو کچھ کہتا تھا اس کا انکار کر کے اس کو اذیت پہنچاتا تھا۔

ذہبی اس کے بارے میں کہتا ہے:

الإمام المفتی الزاهد نورالدین علی بن یعقوب بن جبرئیل... وکان دیناً متعففاً، مطرحاً للتجمّل، نهّاء عن المنکر حتّی نفاه السلطان بعد ان همّ بقطع لسانه، وکان قد وثب مرّة علی الشیخ تقی الدین و نال منه.[7]

امام مفتی زاہد نورالدین علی بن یعقوب جبرائیل۔۔۔۔۔ دیندار اور پاک دامن انسان تھے اور عیش و عشرت کی زندگی گذارنے کے قائل نہیں تھےاور نہی از منکر بہت کرتے تھے یہاں تک کہ وقت کے بادشاہ نے اس کی زبان کاٹنے کا ارادہ کیا پھر اس کو جلاوطن کیا۔ ایک دفعہ شیخ تقی الدین(ابن تیمیہ) پر حملہ کیا اور اس پہ ہاتھ اٹھایا۔

  1. کمال الدین محمّد بن علی بن عبدالواحد زملکانی انصاری شافعی (م727ه‍. ق)

شام میں امام، مفتی اور قاضی القضات تھا مذہب شافعی کی سربراہی، تدریس، فتوی اور مناظرہ کی ذمہ داری اس کو ملی تھی اور وہ من جملہ ان لوگوں میں سے ہیں جس نے ابن تیمیہ کی رد میں “العمل المقبول فی زیارة الرسول” نام کی کتاب لکھی ہے.[8]

  1. ابوالمحاسن جمال الدین یوسف بن ابراهیم محجی شافعی (م738ه‍. ق)

شافعیوں کا امام، قاضی، اور اس مذہب کے فقیہ تھے، ذہبی اس کے بارے میں کہتا ہے۔

وکان یبالغ فی اذی ابن تیمیة وجماعة، ویتمقت ویعجب بنفسه، ولکنّه یحبّ الله ورسوله ویؤذی المبتدعة وفیه دیانة وحسن معتقد.[9]

ابن تیمیہ اور اسکی جماعت کو بہت تنگ کرتا تھا اور اس پر غصہ کرتا تھا اور اپنی رائے کو پسند کرتا تھا، لیکن خدا اور اسکے رسول سے محبت کرتا تھا اور بدعتیوں کا جینا حرام کرتا تھا اور دیندار اور اچھے عقیدہ کا مالک تھا۔

  1. شمس الدین محمّد بن احمد بن عثمان ذهبی (م748ه‍. ق)

ابن تیمیہ کے بارے میں لکھتا ہے:

... وقد تعبت فی وزنه وفتشه حتی مللت فی سنین متطاولة، فما وجدت أخرّه بین اهل مصر و الشام و مقتته نفوسهم وازدروا به وکذّبوه وکفّروه إلاّ الکبر والعجب وفرط العزام فی رئاسة المشیخة و الازدراء بالکبار...[10]

 ... میں نے اس کے حالات زندگی کے بارے بڑی محنت سے تحقیق کی ہے اور اس کے بارے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مصر اور شام والوں کی طرف سے اس کو تنہا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اور اسکے تکبر اور خودخواہی اور علماء کی رہبری کرنے کے شوق اور انکی توہین کی وجہ اسکی مذمت اور تکذیب و تکفیر کرتے تھے۔۔۔۔

وہ کسی اور شخص کے بارے میں بھی کہتا ہے:

فان برعت فی الأصول وتوابعها من المنطق والحکمة والفلسفة وآراء الأوائل ومحاورات العقول، واعتصمت مع ذلک بالکتاب والسنة واصول السلف، ولفقت بین العقل والنقل، فما أظنّک فی ذلک تبلغ رتبة ابن تیمیة ولا والله تقاربها، وقد رأیت ما آل امره إلیه من الحطّ علیه والهجر والتضلیل والتکفیر والتکذیب بحق وبباطل...[11]

اگر تم اصول اور اسکے توابع من جملہ منطق، حکمت اور فلسفہ اور متقدمین کے آراء اور عقلی ابحاث میں نمونہ تھے تو اس کے باوجود قرآن و سنت اور قدماء کے اصول سے تمسک کی ہے اور عقل و نقل کو جمع کیا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ان امور میں آپ ابن تیمیہ کے درجہ تک پہنچے ہوں اور خدا کے لیے اس مرتبہ کے نزدیک بھی نہ ہونا، لیکن آپ نے دیکھا کہ اس کا سرانجام کیا ہوا کس طرح پست اور خوار اور ذلیل ہوا لوگوں نے اسکی تکفیر کر کے کبھی حق اور کبھی ناحق اسکی تکذیب کی ہے۔۔۔۔

ابن تیمیہ کو ذہبی کی نصیحت

747 ه ق کو وفات پانے والے اہل سنت کے علم رجال کے بزرگ عالم دین شمس الدین محمد بن احمد ذهبی ہیں۔ وہ ابن تیمیہ کے شاگرد تھے جب وہ دیکھتا ہے کہ انکے استاد مسلمانوں کی تکفیر اور تفسیق کرنے لگا ہے تو اس کو نصیحت کرتا ہے اور چند نکات کے بارے میں اسے متنبہ کرتا ہے۔ یہ نصیحت نامہ جو “النصیحة الذهبیة الی ابن تیمیة” کے نام سے مشہور ہے علیحدہ طور تحقیق کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ یہاں پر اس کا متن ترجمہ اور تحقیق کے ساتھ ذکر کیا جا رہا ہے۔

بسم الله الرحمن الرحیم، الحمدلله علی ذلتی، یا ربّ ارحمنی و أقلنی عثرتی و احفظ علی ایمانی، و احزناه علی قلة حزنی، وا أسفاه علی السنة و ذهاب اهلها، و اشوقاه إلی اخوان مؤمنین یعاونوننی علی البکاء، وا حزناه علی فقد اناس کانوا مصابیح العلم و اهل التقوی و کنوز الخیرات. آه علی وجود درهم حلال و أخ مؤنس.

طوبی لمن شغله عیبه عن عیوب الناس، و تباً لمن شغله عیوب الناس عن عیبه، إلی کم تری القذاة فی عین اخیک و تنسی الجذع فی عینک؟ إلی کم تمدح نفسک و شقاشقک و عباراتک و تذم العلماء و تتبع عورات الناس مع علمک بنهی الرسول (صلّی الله علیه وآله وسلّم): (لاتذکروا موتاکم إلاّ بخیر؛ فانّهم قدأفضوا إلی ماقدموا)[12]، بلی اعرف انّک تقول لی لتنصر نفسک، انّما الوقیعة فی هؤلاء الذین ماشمّوا رائحة الإسلام ولا عرفوا ما جاء به محمّد (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و هو جهاد، بلی والله عرفوا خیراً ممّا إذا عمل به العبد فقد فاز و جهلوا شیئاً کثیراً ممّا لایعنیهم. و: (من حسن اسلام المرء ترکه مالایعنیه).[13]

یا رجل! بالله علیک کفّ عنّا؛ فانّک محجاجٌ علیم اللسان لاتقرّ و لاتنام، ایاکم و الأغلوطات فی الدین. کره نبیک (صلّی الله علیه وآله وسلّم) المسائل وعابها و نهی عن کثرة السؤال و قال: (انّ اخوف ما اخاف علی امّتی کل منافق علیم اللسان).[14] و کثرة الکلام بغیر دلیل تقسی القلب إذا کان فی الحلال و الحرام فکیف إذا کان فی العبارات الیونسیة و الفلاسفة و تلک الکفریات التی تعمی القلوب! والله قدصرنا ضحکة فی الوجود. فإلی کم تنبش دقائق الکفریات الفلسفیة لنردّ علیها بعقولنا. یا رجل! قد بلعت سموم الفلاسفة و مصنفاتهم مرّات، و بکثرة استعمال السموم یدْمِنُ علیها الجسم و تکمن والله فی البدن. و اشوقاه إلی مجلس فیه تلاوة بتدبّر، و خشیة بتذکر، و صمت بتفکّر. واهاً لمجلس یذکر فیه الأبرار. فعند ذکر الصالحین تنزل الرحمة، لا عند ذکر الصالحین یذکرون بالإزدراء و اللعنة. کان سیف الحجاج و لسان ابن حزم شقیقین واخَیتَهما. بالله خلّونا من ذکر بدعة الخمیس و اکل الحبوب، وجدوا فی ذکر بدع کنّا نعدها رأساً من الضلال قد صارت هی محض السنة و اساس التوحید، و من لم یعرفها فهو کافر أو حمار، و من لم یکفّر فهو اکفر من فرعون. و تعد النصاری مثلنا. والله فی القلوب شکوک ان سلم لک ایمانک بالشهادتین فانت سعید.

یا خیبة من اتبعک فانّه مُعرّض للزندقة و الانحلال، و لاسیما إذا کان قلیل العلم و الدین باطولیاً شهوانیاً، لکنّه ینفعک و یجاهد عنک بیده و لسانه و فی الباطن عدوّ لک بحاله و قلبه. فهل معظم أتباعک إلاّ قعید مربوط خفیف العقل، او ناشف صالح عدیم الفهم، فان لم تصدقنی ففتّشهم وزنهم بالعدل.

یامسلم! اقدم حمار شهوتک لمدح نفسک، إلی کم تصادقها و تعادی الأخیار؟ إلی کم تصدقها و تزدری بالأبرار، إلی کم تعظمها و تصغر العباد، إلی متی تخالِلها و تمقت الزهاد، إلی متی تمدح کلامک بکیفیة لاتمدح بها والله احادیث الصحیحین. یا لیت احادیث الصحیحین تسلم منک بل فی کل وقت تغیر علیها بالتضعیف و الإهدار او بالتأویل و الإنکار.

أما آن لک ان ترعوی؟ أما حان لک ان تتوب و تنیب؟ أما انت فی عشر السبعین و قد قرب الرحیل. بلی والله ما أذکر انّک تذکر الموت، بل تزدری بمن یذکر الموت، فما اظنّک تقبل علی قولی و لاتُصغی إلی وعظی، بل لک همّة کبیرة فی نقض هذه الورقة بمجلدات و تقطع لی أذناب الکلام، ولاتزال تنتصر حتّی اقول لک و البتة سکتت.

فإذا کان هذا حالک عندی و أنا الشفوق المحبّ الوادّ، فکیف یکون حالک عند اعدائک، و أعدائک والله فیهم صلحاء و عقلاء و فضلاء، کما انّ اولیائک فیهم فجرة و کذبة و جهلة و بطلة و عور و بقر.

قد رضیت منک بأن تسبّنی علانیة و تنتفع بمقالتی سراً: (رحم الله امراً اهدی إلی عیوبی)، فانّی کثیر العیوب، عزیز الذنوب، الویل لی ان أنا لا أتوب، و وافضیحتی من علاّم الغیوب، و دوائی عفوالله و مسامحته و توفیقه و هدایته، و الحمدلله ربّ العالمین، و صلّی الله علی سیدنا محمّد خاتم النبیین و علی إله و صحبه اجمعین.

شروع اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا اور مہربان ہے۔ تعریف اللہ سے مخصوص ہے میری ذلت پر، اے میرے رب! مجھ پر رحم فرما اور میری خطا پر پردہ ڈال دے میرے ایمان کو محفوظ فرما۔ ہائے افسوس میرے غم کی کمی پر، ہائے افسوس سنت اور سنت پر عمل کرنے والوں کے جانے پر۔ کس قدر اپنے مومن بھائیوں کا مشتاق ہوں تاکہ رونے میں میری مدد کریں اور کس قدر ان شخصیات کے فقدان پر غمگین ہوں جو علم کے چراغ ، اہل تقوی اور نیکیوں کا خزانہ تھے۔ ہائے افسوس حلال درہم اور ہمدم بھائی کی مجھ حسرت ہے۔ کتنا خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا اپنا عیب اسکو دوسروں کے عیوب دیکھنے سے روکے اور کتنا بد نصیب ہے وہ شخص جو لوگوں کے عیوب دیکھنے میں مشغول ہونے  کی وجہ سے اپنے عیوب نہ دیکھ سکے۔ کب تک اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکہ دیکھو گے لیکن درخت کا پورا تنہ اپنی آنکھ میں نہیں دیکھ رہے ہو؟ کب تک اپنی اور اپنی گفتار اور عبارات کی تعریف کرو گے اور علماء کی مذمت کرو گے اور لوگوں کی غلطیوں کا پیچھا کرو گے جبکہ جانتے ہو کہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) نے اس کام سے منع کیا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں: (اپنے مرحومین کو سوائے نیکی کے یاد نہ کرو، کیونکہ انکو وہ چیز ملی ہے جو انہوں نے آگے بھیجا تھا)۔

جی میں جانتا ہوں کہ میرا جواب دے دو گے تاکہ اپنی مدد کر سکو، مصیبت ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کو اسلام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور محمد (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی شریعت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہےجبکہ یہ کام جہاد ہے۔ ہاں خدا کی قسم ! انہوں نے اتنی اچھائی سمجھ لی ہے کہ اگر بندہ اس پر عمل کرتا تو کامیاب ہوجاتا لیکن بہت سارے ایسے امور کے بارے میں جاہل ہیں کہ جن کو انجام دینے کے لیے خدا نے حکم نہیں دیا ہے۔ اور حدیث میں ہے: ( انسان کے اسلام کی اچھائی اس میں ہے کہ بے مقصد چیزوں کو ترک کر دے)۔

اے مرد! آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں! ہمارا پیچھا چھوڑ دے؛ کیونکہ تم چرب زبان ہونے کے ساتھ اہل بحث و تکرار ہو، جس کو کوئی آرام اور قرار نہیں ہے، دین میں غلطی کرنے سے پرہیز کرو۔ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) بعض مسائل کو چھیڑنا، پسند نہیں کرتے تھے اور اعتراض کرتے تھے زیادہ سوال کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ( اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ ایسے شخص سے ڈرتا ہوں جو چرب زبان ہے)۔ اور بغیر دلیل کے زیادہ باتیں کرنا دل کو مردہ کر دیتا ہے اگرچہ حلال اور حرام کے بارے میں ہو فلاسفہ اور یونسیہ کی عبارات تو دور کی بات ہے یہ کفریات تو دل کو اندھا کر دیتی ہیں۔

خدا کی قسم  عالم وجود میں ہم مذاق بنے ہوئے ہیں۔ پس کب تک کفر اور فلسفہ کے دقیق مسائل کو کھودو گے تاکہ ہم اپنی عقلوں سے ان کو رد کریں۔ اے مرد! تم نے فلسفیوں کے زہر اور انکے تصنیفات کو کئی مرتبہ نگل لیا ہے اور زہر کو زیادہ استعمال کر نے کی وجہ سے جسم موٹا ہوگیا ہے اور خدا کی قسم بدن میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ کس قدر ایسی مجلس کا مشتاق ہوں جس میں قرآن تدبر کے ساتھ خشوع، تذکر اور سکوت  کے ساتھ ہو۔ اور کس قدر ایسی مجلس کا مشتاق ہوں جس میں نیک لوگوں کا ذکر ہو؛ کیونکہ نیک لوگوں کی یاد کرتے وقت برکت نازل ہوتی ہے، نہ یہ کہ نیک لوگوں کی یاد کرتے وقت ذلت اور لعنت بھیجتے ہوئے انکی یاد کریں۔ گذشتہ زمانے میں حجاج کی تلوار اور ابن حزم کی زبان دو بھائیوں کی طرح تھیں اور تم نے دونوں کو اکھٹا کیا ہے۔

خدا کی قسم! ہمیں جمعرات کی بدعت کا ذکر کرنے اور اناج کھانے سے آزاد کردیں۔ انکو ایسی بدعتوں کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جو گمراہی کی بنیاد تھیں، لیکن اس وقت حقیقی سنت اور توحید کی بنیاد کے طور پر پیش کی گئی ہے، جو شخص اس کو نہ پہچان لے وہ کافر یا کھوتا ہے، اور جو شخص تکفیر نہ کرے فرعون سے بھی زیادہ کافر ہے اور عیسائی ہماری طرح سمجھے جاتے ہیں۔ خدا کی قسم! دلوں میں ایسے شک پائے جاتے ہیں کہ اگر آپ کا ایمان کلمہ شہادتین پڑھنے سے آپ کے لیے سالم رہے تو تمہیں خوشبختی ملی ہے۔ خسارے میں ہے وہ شخص جس نے تیری پیروی کی ہے، وہ کفر اور بکھرنے کی زد میں ہے، خاص طور پر جب تھوڑے سے علم اور ایمان کا حامل ہو اور طویل شہوانی آرزوئیں رکھتا ہو لیکن کیا ایسا شخص تمہیں نفع پہنچا سکتا ہے اور اپنے ہاتھ اور زبان سے تمہارا دفاع کر سکتا ہے جبکہ باطن میں دلی طور پر آپ کا دشمن ہے۔ کیا آپ کے اکثر پیروکار نادار، غیر مستقل اور کم عقل یا نیک مگر ناسمجھ اور بیشعور افراد نہیں ہیں؟! اگر میری بات کی تصدیق نہیں کرتے ہو تو تحقیق کرو اور انکو انصاف کے ساتھ تولو۔

اے مسلمان! اپنی تعریف کرنے کے لیے اپنی شہوت کا گدھا آگے کرو، کب تک اس کے ساتھ صداقت سے پیش آتے رہو گے اور نیک لوگوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہو گے؟ اور کب تک اسکی تعظیم کر کے اللہ کے بندوں کی تحقیر کرتے رہو گے، کب تک اس کے ساتھ دوستی کرو گے لیکن زاہدوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہو؟! اور کب تک اپنی بات اور گفتگو کی تعریف کرتے رہو گے یہاں تک کہ – خدا قسم – صحیحین کی احادیث کی تعریف نہیں کرتے ہو؟! کاش صحیحین کی احادیث تمہاری زبان سے محفوظ رہتیں، تم ہر وقت انکو تضعیف کر کے ان پر حملہ کر کے اور تاویل کر کے غصہ کا اظہار کرتے ہو۔ کیا اب ان کاموں کو ترک کرنے کا وقت نہیں ہوا ہے؟! کیا توبہ کرنے اور واپس پلٹنے کا وقت نہیں ہوا ہے؟! کیا تم اپنی عمر کی ساتویں دہائی میں نہیں ہو کیا تمہارے جانے کا وقت نزدیک نہیں ہے؟ ہاں مجھ یاد نہیں ہے کہ تم نے موت کو کبھی یاد کیا ہو، بلکہ جو بھی موت کی یاد کرتا تھا تو تم اسکی مذمت کرتے تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ میری بات مان لو گے اور میری نصیحت پر عمل کرو گے کیونکہ تم اس ورق میں لکھی ہوئی باتوں کو چند جلدوں پر مشتمل کتاب لکھ کر نقض کرنے کی ہمت رکھتے ہو اور مجھ اپنی باتوں کے درپی رہنے سے روکتے ہو اور ہمیشہ اپنا دفاع کرتے ہو تاکہ میں تم سے کہوں میں خاموش ہو گیا ہوں۔

اگر میں آپ کا مخلص دوست ہونے کے باوجود میرے نزدیک آپ کی حالت  یہی ہے تو آپ کے دشمن  آپ کو کس نظر سے دیکھتے ہونگے۔ خدا کی قسم تمہارے دشمنوں میں صالح، عاقل اور فاضل افراد موجود ہیں، جس طرح تمہارے دوستوں میں فاسق و فاجر، جھوٹے، جاہل، ناحق، اندھے اور گائے(احمق) موجود ہیں۔ میں راضی ہوں کہ آپ مجھ سرعام برا بلا کہہ دیں مگر درپردہ میری گفتگو سے فائدہ اٹھائیں، جیسا کہ روایت میں ذکر ہے: ( خدا رحمت کرے اس شخص پر جو مجھے میرے عیبوں کا تحفہ دے دے)۔ میرے بہت سارے عیب ہیں، افسوس ہے اگر توبہ نہ کروں، خدا کی طرف سے رسوا ہونے پر افسوس ہے جس کا علم غیب بہت زیادہ ہے، خدا کا عفو اسکی بخشش، چشم پوشی، توفیق اور ہدایت میرا علاج ہے۔ اور تعریف فقط اس خدا کی ہے کہ تمام مخلوقات کا پروردگار ہے اور درود ہو ہمارے سردار محمد پر جو خاتم النبیین ہے اور اسکی آل اور انکے تمام اصحاب پر درود ہو۔

نصیحت نامہ کے خطی نسخہ پر تحقیق

اس نصیحت نامہ کا خطی نسخہ قاہرہ کے “دارالکتب المصریة” میں اس نمبر (18823 ب)  کے ساتھ ابن قاضی شہبہ کے دستخط میں موجود ہے جس نے قاضی القضات برہان الدین جو ابن جماعہ سے معروف ہے کے دستی نسخہ سے نقل کیا ہے اس نے ابوسعید علائی کے خطی نسخہ سے اور اس نے ذہبی کے خطی نسخہ سے نسخہ برداری کیا ہے۔

ابن قاضی شہبہ، فقیہ اور مؤرخ ہے اور وہی ابوبکر بن احمد بن محمد بن عمر اسدی دمشقی شافعی ہیں جو 779 ہج ق کو دمشق میں پیدا ہوئے۔ اس نے فتوی اور تدریس کی ذمہ داری سنبھالی اور اپنے شہر اور بیت المقدس میں حدیث بیان کرتے تھے۔ وہ آثار کے مالک ہیں من جملہ:  

 “طبقات الفقهاء الشافعیة”، “شرح منهاج الطالبین” نووی وغیرہ.[15]

اور ابن جماعۃ وہی قاضی القضات ، مفسر برهان الدین ابراهیم بن عبدالرحیم بن محمّد بن سعدالله بن جماعۃ ہیں جو مصر میں 725 ہج ق کو پیدا ہوئے ہیں۔  وہ شام کی طرف سفر کرتے ہوئے مزی اور ذہبی کے ساتھ تھے اور ان دونوں سے بہت نقل کیا ہے اور بعد میں علماء کی سربراہی ان کو ملی اور مصر اور شام میں قضاوت کا عہدہ سنبھالا ۔ اس لیے اس کا شرح حال لکھتے وقت  فقیہ اور مفید محدث کے طور پر اسکی معرفی کی گئی ہے۔[16]

اور حافظ ابوسعید علائی وہی اصولی فقیہ ابوسعید صلاح الدین خلیل بن کیکلوی علائی دمشقی شافعی ہیں جو 694 ہج ق کو  دمشق میں پیدا ہوئے ہیں اور بہت سارے علماء سے استفادہ کیا ہے۔ اس نے دمشق اور قدس کے مختلف مدارس میں تدریس کی ذمہ داری سنبھالی ہے اور علم حدیث کو شام ، مصر اور حجاز میں سیکھا تھا، فتوی دیتے تھے اور تصنیفات کے مالک تھے۔[17]

اس نصیحت نامہ کا ایک اور نسخہ دمشق کے “دار المکتبة الظاهریة” میں (1347) نمبر کے ساتھ موجود ہے۔

شبہہ

بعض لوگ کہتے ہیں: ذہبی کی طرف سے ابن تیمیہ کے لیے یہ وصیت نامہ لکھنے کی بات درست نہیں ہے؛ کیونکہ ذہبی نے اپنی کتابوں میں اپنے استاد ابن تیمیہ کی تعریف کی ہے۔ جبکہ ابن قاضی شہبہ اسکے دشمنوں میں سے تھا۔ لہذا اس قسم کے وصیت نامہ کے موجود ہونے بارے میں اسکی گواہی قبول نہیں ہے۔

جواب

پہلی بات: بعید نہیں ہے کہ کوئی شخص پہلے کسی شخص کی تعریف کرے لیکن بعد میں اس کے برے کام دیکھنے کی وجہ سے اسکی نظر تبدیل ہوجائے اور بالآخر اس کی مذمت کرے۔ ذہبی کے بارے میں بھی ایسا ہے۔

دوسری بات: ذہبی کی دیگر عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن تیمیہ کے بارے میں اسکی نظر تبدیل ہوگئی ہے۔

ذہبی اپنی کتاب “بیان زغل العلم و الطلب” میں ایک شخص سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھتا ہے:

فان برعتَ فی الأصول و توابعها من المنطق و الحکمة و الفلسفة و آراء الأوائل و محاورات العقول و اعتصمتَ مع ذلک بالکتاب و السنة و اصول السلف، و لفقت بین العقل و النقل، فما اظنّک فی ذلک تبلغ رتبة ابن تیمیة ولا والله تقاربها. و قد رأیت ما آل أمره الیه من الحطّ علیه و الهجر و التضلیل و التکفیر و التکذیب بحقّ و بباطل. فقد کان قبل ان یدخل فی هذه الصناعة منوّراً مضیئاً علی مُحَیاه سیماء السلف، ثم صار مظلماً مکسوفاً علیه قتمة عند خلائق من الناس، و دجّالا افّاکاً کافراً عند اعدائه...[18]

اگر آپ نے اصول اور اسکے توابع من جملہ منطق، حکمت، فلسفہ، متقدمیں کے اراء اور عقلی ابحاث میں مہارت حاصل کی ہے اور ان کے ذریعے قرآن و سنت اور سلف سے تمسک کیا ہے اور اس پر اعتماد کیا ہے اور عقل اور نقل کو جمع کیا ہے تو میں نہیں سمجھتا ان امور میں آپ ابن تیمیہ کے مرتبہ تک پہنچ جائیں یا اس کے علم کے نزدیک ہو جائیں اور آپ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا اور کس طرح ذلیل و خوار ہوا اور دھتکارا گیا اور اس کی طرف حق اور باطل اور گمراہی اور کفر کی نسبت دی گئی ۔ وہ اس کام میں داخل ہونے سے پہلے ایک نورانی شخص تھا اور سلف کی جھلک اس کے چہرے میں نظر آتی تھی لیکن لوگوں کے نزدیک اس کا چہرہ سیاہ ہوگیا اور اسکی عزت چھن گئی اور اس کے دشمنوں کے نزدیک دجال، تہمت لگانے والے اور کافر کے طور پر پہچانا گیا۔۔۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے ذہبی سے نقل کیا ہے کہ اس نے ابن تیمیہ کے بارے میں کہا ہے:

و أنا لا اعتقد فیه عصمة، بل أنا مخالف له فی مسائل اصلیة و فرعیة.[19]

میں اسکے بارے میں عصمت کا قائل نہیں ہوں بلکہ اصلی اور فرعی مسائل میں، میں اسکا مخالف ہوں۔

گویا ابن تیمیہ کی زندگی کے آخری ایام میں اس نصیحت کا اس پر اثر ہوا ہے:

ذہبی، اشعری کا شرح حال لکھتے ہوئے کہتا ہے:

رأیت للأشعری کلمة اعجبتنی وهی ثابتة رواها البیهقی، سمعت أبا حازم العبدوی، سمعت زاهر بن احمد السرخسی یقول: لمّا قرب حضور أجل أبی الحسن الأشعری فی داری ببغداد، دعانی فأتیته، فقال: أشهد علی انّی لا أکفر أحداً من أهل القبلة؛ لانّ الکل یشیرون إلی معبود واحد، وانّما هذه کلّه اختلاف العبارات.

قلت: وبنحو هذا ادین، وکذا کان شیخنا ابن تیمیة فی أواخر ایامه یقول: أنا لا اکفّر أحداً من الأمة، ویقول: قال النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم): (لا یحافظ علی الوضوء إلاّ مؤمن)، فمن لازم الصلوات بوضوء فهو مسلم.[20]

ابوالحسن اشعری کا ایک کلام میری نظروں سے گذرا جس نے مجھ تعجب میں ڈال دیا اور یہ واقعا اس کا کلام ہے اور بیہقی نے وہ بات نقل کی ہے کہ میں نے ابوحازم عبدوی سے سنا ہے کہ وہ کہتا تھا: میں نے زاہر بن احمد سرخسی سے سنا ہے کہ وہ کہتا تھا: بغداد میں میرے گھر میں جب ابوالحسن اشعری وفات ہونے لگا تو مجھ آواز دی۔ میں اسکے نزدیک گیا تو اس نے کہا: میری گواہی دو کہ میں کسی بھی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتا ہوں؛ کیونکہ تمام مسلمان ایک معبود کو مانتے ہیں اگرچہ انکی عبارات مختلف ہیں۔

میں کہتا ہوں: میری نظر بھی یہی ہے۔ و نیز ہمارے استاد ابن تیمیہ بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں کہتے تھے؛ میں امت کے کسی فرد کو ہرگز کافر قرار نہیں دیتا اور کہتا تھا: پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) نے فرمایا ہے: ( مومن شخص وہ ہے جو اپنی نماز کا پابند ہو) ؛ پس جو وضو کے ساتھ نماز پڑھنے کا پابند ہو وہ مسلمان ہے۔

  1. تقی الدین سبکی شافعی (م756ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

اعلم انّه یجوز ویحسن التوسل والإستغاثة والتشفع بالنبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلی ربّه سبحانه وتعالی وجواز ذلک وحُسنه من الأمور المعلومة لکلّ ذی دین، المعروفة من فعل الأنبیاء و المرسلین وسیر سلف الصالحین والعلماء والعوام من المسلمین، ولم ینکر أحد ذلک من أهل الأدیان، ولا سمع به فی زمن من الأزمان، حتّی جاء ابن تیمیة فتکلّم فی ذلک بکلام یلبس فیه علی الضعفاء الأغمار وابتدع مالم یسبق الیه فی سائر الأعصار... وحسبک انّ انکار ابن تیمیة للاستغاثة والتوسل قول لم یقله عالم قبله وصار به بین أهل الإسلام مُثلة...[21]

جان لو کہ  پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے استغاثہ کرنا اور پروردگار سبحانہ تعالی کے نزدیک انکی شفاعت طلب کرنا جائز اور اچھا ہے اور اس کام کا جواز اور حسن ہر صاحب دین کو معلوم ہے اور انبیاء و مرسلین اور سلف صالح، علماء اور مسلمان عوام کی سیرت میں مشہور و معروف ہے، کسی دیندار نے اسکا انکار نہیں کیا ہے اور کسی زمانے میں کسی شخص نے نہیں سنا ہے، یہاں تک ابن تیمیہ آگیا اور اس نے اس حوالے سے بات کی اور کمزور عقل والوں کے لیے اس بات کو مشکل بنا دیا اور ایسی بدعت ایجاد کی جس کی مثال کسی زمانے میں نہیں ملتی ہے۔۔۔۔ آپ کے لے اتنا کافی ہے کہ ابن تیمیہ کی طرف استغاثہ اور توسل کا انکار کرنا ایسی بات ہے کہ کوئی عالم اس سے پہلے اس بات کا معتقد نہیں تھا، یہ ایک ایسا امر تھا جس کی وجہ سے اہل اسلام میں تفرقہ اور شگاف ایجاد ہوا۔۔۔۔۔

وہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی قبر زیارت کے مسئلہ میں ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

ومن المعلوم انّ الزیارة بقصد التبرک والتعظیم لاتنتهی فی التعظیم إلی درجة الربوبیة ولا تزید علی ما نصّ علیه فی القرآن

والسنة وفعل الصحابة من تعظیمه فی حیاته وبعد وفاته، فکیف یتخیل امتناعها.[22]

یہ بات واضح اور روشن ہے کہ تبرک اور تعظیم کی غرض زیارت کرنے سے ربوبیت کا درجہ دینے کا باعث نہیں بنتا ہے اور نص قرآن و سنت سے زائد اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی حیات کے زمانے میں اور اس کی وفات کے بعد صحابہ کی طرف سے جو تعظیم کی گئی ہے اس سے بڑھکر کوئی کام انجام دینے کا باعث نہیں ہوتا ہے، پس ابن تیمیہ کے ذہن میں یہ بات کیسے آگئی ہے کہ اس زیارت سے لوگوں کو روکے۔

  1. صلاح الدین خلیل بن أیبک صَفَدی (م764ه‍. ق)

وہ اپنی کتاب “اعیان العصر و اعوان النصر” میں لکھتا ہے:

انفرد ـ ابن تیمیة ـ بمسائل غریبة و رجّح فیها اقوالا ضعیفة، عند الجمهور معیبة کاد منها یقع فی هوّة...[23]

ابن تیمیہ اکیلا بعض عجیب و غریب مسائل کا معتقد ہوگیا اور بعض ضعیف اور کمزور اقوال اختیار کیا ہے جو علماء کی بھاری اکثریت کے پاس عیب شمار ہوتے ہیں، ایسے مسائل کہ جن کی وجہ سے قریب تھا کہ گمراہ ہوجائے۔

  1. اسعد بن علی بن سلیمان یافعی، شافعی (م767ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

... وله مسائل غریبة انکر علیه فیها وحبس بسببها مباینة لمذهب أهل السنة، ومن اقبحها نهیه عن زیارة النبی علیه الصلاة والسّلام...[24]

۔۔۔۔۔وہ ایسے عجیب و غریب مسائل کا معتقد ہے جن کا علماء نے انکار کیا ہے اور انکی وجہ سے اس کو قید کیا ہے؛ اس لیے وہ اہل سنت کے مذہب کی مخالفت کرتا ہے، اس کا سب برا کام پیغمبر علیه الصلاة و السلام کی زیارت سے منع کرنا ہے۔۔۔

  1. عفیف الدین عبدالله بن اسعد یافعی مکّی شافعی (م768ه‍. ق)

ابن قاضی شهبه اسکے بارے میں کہتا ہے:

الشیخ الإمام القدوة العارف الفقیه العالم شیخ الحجاز عفیف الدین...[25]

شیخ، امام، نمونہ عمل، عارف، فقیہ، عالم، شیخ حجاز، عفیف الدین۔۔

اس نے بھی یافعی کے بارے میں ابن رافع سے نقل کیا ہے:

وله کلام فی ذم ابن تیمیة، ولذلک غمزه بعض من تعصب لابن تیمیة من الحنابلة وغیرهم.[26]

اس نے ابن تیمیہ کی مذمت میں ایک بات کی ہے اسی لیے بعض حنبلی اور دیگر افراد جو ابن تیمیہ کے حوالے سے متعصب ہیں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔

  1. ابوعبدالله محمّد بن عبدالله ابن بطوطه، شافعی (م779ه‍. ق)

وہ کتاب”تحفة النظار فی غرائب الأمصار و عجائب الأسفار” میں لکھتا ہے:

وکان بدمشق من کبار الفقهاء الحنابلة تقی الدین بن تیمیة کبیر الشام، یتکلم فی الفنون؛ إلاّ انّ فی عقله شیئاً... وکنت إذ ذاک بدمشق، فحضرته یوم الجمعة وهو یعظ الناس علی منبر الجامع ویذکرهم، فکان من جملة کلامه أن قال: انّ الله ینزل إلی سماء الدنیا کنزولی هذا ونزل درجة من درج المنبر، فعارضه فقیه مالکی یعرف بابن الزهراء و انکر ما تکلم به، فقامت العامة إلی هذا الفقیه وضربوه بالأیدی والنعال ضرباً کثیراً حتّی سقطت عمامته، وظهر علی رأسه شاشیة حریر، فانکروا علیه لباسها واحتملوه إلی دار عزالدین بن مسلم قاضی الحنابلة، فأمر بسجنه وعزره بعد ذلک. فانکر فقهاء المالکیة والشافعیة ما کان من تعزیره...[27]

دمشق میں حنبلی مذہب کے بڑے مجتہدین میں سے ایک تقی الدین بن تیمیه نام کا ایک شخص تھا جو شام کے بڑے علماء میں سے تھا اور ہر علم کے حوالے سے گفتگو کرتا تھا فقط ذہنی حوالے سے ٹھیک نہیں تھا۔۔۔۔۔ میں اس وقت دمشق میں تھا جمعہ کے دن اس کے پاس گیا تو وہ جامع مسجد کے منبر پہ بیٹھ کر لوگوں کو نصیحت کر رہا تھا۔ من جملہ اس کی باتوں میں ایک یہ تھی جو وہ کہہ رہا تھا: خدا آسمان دنیا سے ایسے اترے گا جیسے میں اترتا ہوں ۔ یہ کہا اور منبر کی سیڑھیوں سے نیچے آیا۔ ابن الزہراء نامی مالکی فقیہ نے اس کے ساتھ بحث شروع کی اور جو کچھ اس نے کہا تھا اس کا انکار کیا تو لوگوں نے اس فقیہ پر حملہ کیا اور اپنے ہاتھ اور جوتوں سے اسکی سخت پٹائی کی یہاں تک کہ اس کا عمامہ سر سے گر گیا اور عمامہ کے نیچے پہنی ہوئی ٹوپی نظر آگئ جو ریشم کی تھی تو اس پر ریشم کی ٹوپی پہننے پر اعتراض کیا گیا اور اس (مالکی فقیہ ) کو حنبلیوں کے قاضی عزالدین بن مسلم کے گھر لے جایا گیا۔ اس نے حکم دیا کہ اس کو قید کر کے تازیانے لگائے جائیں۔ مالکی اور شافعی فقہاء نے اس بات پر اعتراض کیا۔۔۔۔۔

  1. تقی الدین ابوبکر بن محمّد حسینی حصنی شافعی (م829ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

انّ ابن تیمیة الذی کان یوصف بانّه بحر من العلم، لایستغرب فیه ما قاله بعض الأئمة عنه من انّه زندیق مطلق. وسبب قوله ذلک انّه تتبع کلامه فلم یقف له علی اعتقاد حتّی انّه فی مواضع عدیدة یکفر فرقة و یضلّلها، وفی آخر یعتقد ما قالته أو بعضه، مع انّ کتبه مشحونة بالتشبیه والتجسیم، والإشارة إلی الازدراء بالنبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) والشیخین وتکفیر عبدالله بن عباس و انّه من الملحدین، وجعل عبدالله بن عمر من المجرمین وانّه ضالّ مبتدع...[28]

ابن تیمیہ کو علم کا دریا کہا جاتا تھا اور بعض اماموں کی طرف اس کو زندیق کہنے کی بات عجیب نہیں لگتی تھی۔ ابن تیمیہ کے بارے یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی باتوں پر تحقیق کرکے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں وہ ایسا شخص ہے جس نے بہت سے مقامات پر ایک فرقہ کو کافر قرار دے کر اس کی طرف گمراہی کی نسبت دی ہےاور دیگر بعض فرقوں کی طرف ناروا نسبتیں دی ہیں جبکہ اس کی کتابیں تشبیہ اور تجسیم کے اعتقاد سے بھری پڑی ہیں اور اسی طرح پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) ، ابوبکر اور عمر کی اہانت اور تنقیص اور عبداللہ ابن عباس کی تکفیر سے بھری پڑی ہیں اور عبداللہ ابن عباس کو کافروں میں سے قرار دیا ہے اور عبداللہ ابن عمر کو مجرم اور بدعتی کے طور پر معرفی کیا ہے۔۔۔۔

و نیز ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

والحاصل انّه واتباعه من الغلاة فی التشبیه والتجسیم والازدراء بالنبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وبغیض الشیخین، وبإنکار الأبدال الذین هم خلفوا الأنبیاء، ولهم دواهی أخر لونطقوا بها لأحرقهم الناس فی لحظة واحدة...[29]

خلاصہ یہ کہ وہ اور اسکے پیروکار، تشبیہ ، تجسیم اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی اہانت، ابوبکر اور عمر کی دشمنی اور انبیاء کی جانشین شخصیات کا انکار کرنے میں غلو کرنے والوں میں سے ہیں جن کے کچھ اور مقاصد اور اہداف ہیں اور اگر وہ اپنے اہداف کے بارے میں بات کریں تو لوگ اسی وقت انکو آگ لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔

وہ اسی طرح ابن تیمیہ کی رد میں لکھتا ہے:

لا أحد من الخلق أعظم برکة منه، ولا أوجب حقاً علینا منه، فالمعنی الذی فی زیارة قبره لایوجد فی غیره، ولا یقوم غیره مقامه، کما انّ المسجد الحرام لایقوم غیره مقامه، ومن ههنا شرع قصده بخصوصه، ویتعین، بخلاف غیره من القبور.[30]

مخلوقات میں کوئی ایک بھی پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے زیادہ بابرکت نہیں تھا اور سب سے زیادہ اس کا حق ہماری گردن پر ہے۔ لہذا اسکی قبر کی زیارت کرنے کے جو آثار ہیں اسکے علاوہ کسی اور میں نہیں پائے جاتے ہیں اور اس جیسا کوئی نہیں ہے، جس طرح مسجد الحرام جیسی کوئی مسجد نہیں ہے۔ بنابریں اس کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا جائز ہے اور معین ہے دیگر قبور کے برخلاف۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

فزیارة قبره (صلّی الله علیه وآله وسلّم) مستحبة بعینها؛ لما ثبت فیها من الأدلة الخاصة.[31]

پس اسکی قبر کی زیارت خاص طور پر مستحب ہے ان خاص دلائل کی وجہ سے جو اس حوالے سے ثابت ہوگئے ہیں۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

أعلم انّه یجوز ویحسن التوسل  والإستغاثة والتشفع بالنبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلی ربّه... ولم ینکر أحد ذلک من أهل الأدیان ولا سمع به فی زمن من الأزمان حتّی جاء ابن تیمیة فتکلّم فی ذلک بکلام یلبس فیه علی الضعفاء.[32]

جانلو کہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے توسل، استغاثہ اور شفاعت طلب کرنا جائز اور نیک عمل ہے اور مذاہب کے پیروکاروں میں سے کسی نے ان امور کا انکا نہیں کیا ہے اور کسی زمانے میں ان امور کا انکار نہیں سنا ہے یہاں تک کہ ابن تیمیہ آگیا اور اس کے بارے میں ایسی بات کی جس سے یہ بات ان کمزور ذہنوں کے لیے مشتبہ ہوگئی جن کے اوپر دھول جم گئی ہے اور ایسی بدعت ایجاد کی جو کسی زمانے میں کسی شخص کے لیے مشتبہ نہیں تھی۔

وہ ایک اور جگہ لکھتا ہے:

هذا الرجل ـ یعنی ابن تیمیة ـ کنت رددت علیه فی حیاته فی انکاره السفر لزیارة المصطفی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و فی انکاره وقوع الطلاق إذا حلف به، ثم ظهر لی من حاله مایقتضی انّه لیس ممّن یعتمد علیه فی نقل ینفرد به لمسارعته إلی النقل...[33]

اس مرد کو- یعنی ابن تیمیہ – میں نے اس کی زندگی میں قبر مصطفی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کرنے سے انکار کرنے پر اور  قسم کے ذریعے طلاق واقع ہونے سے انکار کرنے پر ٹوکا ہے، اس وقت اس کے بارے میں میرے لیے واضح ہوگیا کہ جو باتیں اس نے تنہا نقل کی ہیں ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے؛ کیونکہ وہ ایسا شخص ہے جو مطالب کو نقل کرنے میں جلد بازی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔

اسی طرح کتاب “الدرة المضیة” میں لکھتا ہے:

امّا بعد، فانّه لمّا احدث ابن تیمیة ما احدث فی اصول العقائد ونقض من دعائم الإسلام والأرکان والمعاقد، بعد ان کان مستتراً بتبعیة الکتاب والسنة، مظهراً انّه داع إلی الحق هاد إلی الجنة، فخرج عن الاتّباع إلی الابتداع، و شذّ عن جماعة المسلمین بمخالفة الإجماع...[34]

اما بعد، چونکہ ابن تیمیہ نے اصول عقائد میں کچھ بدعتیں ایجاد کی ہیں اور اسلام کی بنیادوں، ارکان اور مبانی کو توڑا ہے، بعد اس کے کہ خود کو کتاب و سنت کا پیروکار معرفی کیا ہے اور کہتا تھا کہ حق اور بہشت کی طرف دعوت دینے والا ہے۔ لیکن وہ دین کی پیروی سے خارج ہوکر بدعت ایجاد کرنے والوں میں سے ہوگیا ہے اور اجماع کی مخالفت کر کے مسلمانوں کی جماعت سے نکل گیا ہے۔۔۔۔۔

وہ ابن تیمیہ کے پیروکاروں کے بارے میں کہتا ہے:

والرأی السخیف الذی أخذ به هؤلاء المبتدئة من التحاقه (صلّی الله علیه وآله وسلّم) بالعدم، حاشاه من ذلک، یلزمه ان یقال: انّه لیس رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) الیوم.[35]

یہ اناڑی افراد ایک نامناسب نظریہ قائم کر کے پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کو عدم سے ملحق کرتے ہیں۔ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اس سے پاک اور منزہ ہیں۔ اس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ آج اللہ کے رسول نہ ہوں۔

وہ کہتا ہے:

بیان زندقة من قال: انّ روحه علیه الصلاة و السلام فنیت، وانّ جسده صار تراباً، وبیان زیغ ابن تیمیة وحزبه.[36]

اس شخص کے کفر کا بیان جو کہتا ہے: روح رسول خدا علیه الصلاة و السلام فنا ہوگئی ہے اور اسکا جسم خاک ہوگیا ہے، اور ابن تیمیہ اور اسکی پارٹی کی گمراہی کا بیان۔

وہ اسی طرح ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

فان هذا شأنه إذا وجد شیئاً لامساس فیه لما ابتدعه قال به وقبله ولم یطعن، وإذا وجد شیئاً علی خلاف بدعته طعن فیه، وان اتفق علی صحته، ولا یذکر شیئاً علی خلاف هواه و ان اتفق علی صحته...[37]

اس کی روش یہ ہے کہ جب کوئی چیز مل جاتی ہے جو اس کی بدعتوں کے ساتھ منافات نہ رکھتی ہو تو اس کا قائل ہوجاتا ہے اور اس کو مانتا ہے اور ہرگز اس پر اعتراض نہیں کرتا ہے، لیکن جب کوئی چیز اسکی بدعت خلاف سامنے آجائے تو اس پر اعتراض کرتا ہے اگرچہ اس کے صحیح ہونے پر اتفاق نظر ہو و نیز اگر کوئی چیز اسکی ذاتی خواہشات کے خلاف ہو تو اس کو بیان نہیں کرتا ہے اگرچہ اس بات کے صحیح ہونے پر اتفاق نظر ہو۔

وہ بھی ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

وهذا شأنه إن وجد شیئاً یوافق هواه وخبث طویته ذکره و وسع الکلام فیه وزخرفه، و ان وجد شیئاً علیه اهمله أو حمله علی محمل یعرف به أهل النقل حمله وتدلیسه عند تأمله...[38]

اسکی عادت ایسی ہے کہ جب بھی کوئی بات اسکی خواہشات اور اس کی خبیث فطرت کے مطابق ہو توبیان کرتا ہے اور اس کے بارے میں لکھتا ہے اور اگر کوئی بات ڈھونڈ لے جو اس کے خلاف ہے تو اس کو چھوڑ دیتا ہے یا اس کی ایسی تفسیر کرتا ہے کہ نقل کرنے والے اس میں غور و فکر کر کے سمجھ جاتے ہیں کہ عوام کو دھوکہ دیا ہے۔۔۔۔۔

  1. نجم الدین عمر بن حجی بن احمد سعدی شافعی (م830ه‍. ق)

یہ شافعیوں کا قاضی القضات تھا، ابن تیمیہ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے:

هذا الرجل المسؤول عنه فی الإستفتاء کان عالماً متعبّداً، ولکنّه ضلّ فی مسائل عدیدة عن الطریق المستقیم و المنهج القویم...[39]

یہ شخص جس کے بارے میں اس استفتاء میں سوال ہوا ہے ایک عالم اور دیندار شخص ہے لیکن بہت سارے مسائل میں راہ حق اور سیدھے راستے سے گمراہ ہوگیا ہے۔۔۔۔۔

  1. ابن حجر عسقلانی شافعی (ت 852ه‍‍. ق)

وہ کتاب ”الدرر الکامنة” میں ابن تیمیہ کے حوالے سے کہتا ہے:

ثم نسب أصحابه إلی الغلو فیه واقتضی له ذلک العُجب بنفسه حتّی زهی علی ابناء جنسه واستشعر انّه مجتهد، فصار یرد علی صغیر العلماء وکبیرهم، قدیمهم وجدیدهم، حتّی انتهی إلی عمر فخطاه فی شیء، فبلغ ذلک الشیخ ابراهیم الرقی فأنکر علیه فذهب إلیه واعتذر واستغفر وقال فی حقّ علی اخطأ فی سبعة عشر شیئاً... ومنهم من ینسبه إلی النفاق لقوله فی علی ما تقدم، ولقوله: انّه کان مخذولا حیثما توجه. وانّه حاول الخلافة مراراً فلم ینلها وانّما قاتل للریاسة لا للدیانة، ولقوله: انّه کان یحبّ الریاسة و انّ عثمان کان یحبّ المال...[40]

اس کے پیرکاروں نے اس کے بارے میں غلو کیا، یہی بات باعث ہوئی کہ وہ اپنے حوالے سے عجب کا شکار ہو یہاں تک وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اور اپنے ہم نوع افراد سے برتر سمجھنے لگا اور اس کو گمان ہوا کہ وہ مجتہد ہے۔ اس لیے تمام چھوٹے، بڑے اور قدیم و جدید علماء کو رد کرنے لگا حتی اس حد تک آگے گیا کہ عمر پر اعتراض کرنے لگا اور کہا کہ عمر نے بعض امور میں غلطی کی ہے۔ وہ علی کے بارے میں کہتا ہے: سترہ جگہوں میں غلطی کی ہے۔۔۔۔ بعض نے اس کو منافق قرار دیا ہے اس بات کی وجہ سے جو علی کے بارے میں کہی ہے اور کہا ہے کہ علی اپنے کاموں کی وجہ خوار ہوا، اس نے مسلسل خلافت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوا، وہ ریاست کے لیے لڑا نہ دین کے لیے، وہ ریاست کو پسند کرتا تھا اور عثمان مال و دولت کو پسند کرتا تھا۔۔۔

اسی طرح وہ اپنی دوسری رجالی کتاب میں ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

لکنّه ردّ فی ردّه کثیراً من الأحادیث الجیاد التی لم یستحضر حالة التصنیف مظانّها، لانّه کان لاتساعه فی الحفظ یتکل علی ما فی صدره و الإنسان عامد للنسیان. وکم من مبالغة لتوهین کلام الرافضی ادته احیاناً إلی تنقیص علی (علیه السلام). [41]

 

اس نے رد کے عنوان سے لکھی ہوئی بہت ساری کتابوں میں اچھی احادیث کو صرف اس لیے رد کیا ہے کہ اس نے انکے مصادر نہیں دیکھے ہیں؛ کیونکہ قوی حافظہ کی وجہ سے جو کچھ اس کے ذہن میں تھا اس پر اعتماد کرتا تھا لیکن انسان فراموشی کی زد میں ہے۔ بہت سارے مقامات میں رافضی ( ان مطہر حلی) کے کلام کی توہین میں مبالغہ کے نتیجہ میں علی(علیہ السلام) کی توہین کی ہے۔

  1. احمد بن عمر بن عثمان خوارزمی دمشقی شافعی (ت 868ه‍. ق)

سخاوی اس کے بارے میں کہتا ہے:

وکان عالماً صالحاً دیناً مصرحاً بالحطّ علی الطائفیة العربیة بل واتباع ابن تیمیة بحیث انّه قال مجیباً لمن سأله عن اعتقاده من المخالفین له: اعتقادی زیتونة مبارکة لاغربیة ابن عربی، ولا شرقیة ابن تیمیة...[42]

وہ ایک عالم، صالح اور دیندار مرد تھا اور عرب قوم پرستی کو کمزور کرنے میں صراحت سے بات کرتے تھے؛ بلکہ ابن تیمیہ کے پیروکاروں کے بارے میں بھی صراحت سے بات کرتے تھے جیسا کہ جب اس کے مخالفین میں سے کسی نے اس کے اعتقاد کے بارے میں پوچھا تو اس کے جواب میں اس نے کہا: میرا اعتقاد زیتون مبارک ہے جو نہ ابن عربی کی طرح مغربی ہے اور نہ ابن تیمیہ کے اعتقادات کی طرح مشرقی ہے۔۔۔۔

  1. شهاب الدین احمد بن محمّد قسطلانی (ت 923ه‍‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

وللشیخ تقی الدین بن تیمیة هنا کلام شنیع عجیب یتضمّن منع شدّ الرحال للزیارة النبویة المحمّدیة، وانّه لیس من القرب بل بضدّ ذلک، و ردّ علیه الشیخ تقی الدین السبکی فی (شفاء السقام) فشفی صدور المؤمنین.[43]

شیخ تقی الدین ابن تیمیه یہاں پر ایک بری اور عجیب بات کہتا ہے جو حضرت محمد کی زیارت لیے سفر کرنے کی ممانعت کی بات ہے اور یہ کہ زیارت خدا سے قریب ہونے کا باعث نہیں ہوتی ہے بلکہ خدا سے دور ہونے کا باعث ہوتی ہے۔  لہذا شیخ تقی الدین سبکی نے “شفاء السقام” میں اس بات کو رد کیا ہے اور مومنین کے دلوں کو شفا عطا کیا ہے۔

“المواهب اللدنیة” می نقل کرتا ہے:

و قد روی انّ مالکاً لمّا سأله أبوجعفر المنصور العباسی: یا أباعبدالله! أأستقبل رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و ادعو أم استقبل القبلة وأدعو؟ فقال له مالک: ولم تصرف وجهک عنه وهو وسیلتک و وسیلة ابیک آدم (علیه السلام) إلی الله عزّوجلّ یوم القیامة.[44]

نقل ہوا ہے کہ جب ابوجعفر منصور عباسی نے مالک سے پوچھا: اے اباعبدالله! کیا رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی طرف رخ کروں اور دعا کروں یا رو بہ قبلہ ہو کر دعا کروں؟ مالک نے اس کے جواب میں کہا: تم کیوں اپنا رخ آںحضرت سے موڑتے ہو جبکہ وہ قیامت کے دن اللہ عز و جل کے پاس آپ کا وسیلہ اور آپ کے باپ آدم (علیہ السلام) کا وسیلہ ہیں۔

وہ ابن تیمیہ کی رد میں جس نے مالک بن انس کے بارے میں اس قصہ کو رد کیا ہے کہتا ہے:

و لکن هذا الرجل ـ ابن تیمیة ـ ابتدع له مذهباً وهو عدم تعظیم القبور، و انّها انّما تزار للترحم والإعتبار بشرط ان لایشدّ إلیها رحل، فصار کلّ ما خالفه عنده کالصائل لایبالی بما یدفعه، فإذا لم یجد له شبهة واهیة یدفعه بها بزعمه، انتقل إلی دعوی انّه کذب علی من نُسب إلیه، مجازفة وعدم نصفه، وقد انصف من قال فیه: علمه أکبر من عقله...[45]

لیکن اس مرد- یعنی ابن تیمیہ- نے ایک ایسے مذہب کو ایجاد کیا ہے جس کے مطابق قبروں کی تعظیم کرنا منع ہے اور فقط رحم کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے لیے زیارت کرنا چاہیے اس شرط کے ساتھ کہ فقط زیارت کرنے کے لیے سفر نہیں کیا جائے۔ لہذا اس کے تمام مخالفیں اس کی نظر میں اس شخص کی طرح ہیں جس نے حملہ کیا ہے اور اس کو کوئی پروا نہیں ہے کہ کس طرح اس مخالف کو روکتا ہے۔ چونکہ – اسکے اپنے گمان میں- جب کوئی کمزور شبہہ نہیں ملتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کرے تو بغیر کسی وجہ اور بغیر انصاف کے جھوٹی نسبتیں دینے لگتا ہے۔ لھذا اس کے بارے میں درست کہا گیا ہے کہ اسکا علم اس کی عقل سے زیادہ ہے۔۔۔

  1. ابن حجر هیتمی شافعی (ت 974ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

ابن تیمیة عبد خذله الله واضلّه واعماه واصمه واذلّه، وبذلک صرح الأئمة الذین بینوا فساد احواله وکذب اقواله... ومن أراد ذلک فعلیه بمطالعة کلام الإمام المجتهد المتفق علی امامته وجلالته وبلوغه مرتبة الإجتهاد أبی الحسن السبکی وولده التاج والشیخ الإمام العزّ بن عبدالسلام جماعة وأهل عصرهم وغیرهم من الشافعیة والمالکیة والحنفیة. ولم یقصر اعتراضه علی متأخری الصوفیة بل اعترض علی مثل عمر بن خطاب وعلی بن أبی طالب (علیه السلام) کما سیأتی. والحاصل ان لایقام لکلامه وزن بل یرمی فی کلّ وعر وحزن، ویعتقد فیه انّه مبتدع ضالّ مضلّ جاهل غال، عامله الله بعدله و اجارنا مثل طریقته وعقیدته وفعله... و اخبر عنه بعض السلف انّه ذکر علی بن أبی طالب (علیه السلام) فی مجلس آخر فقال: انّ علیاً اخطأ فی اکثر من ثلاثمائة مکان، فیالیت شعری من أین یحصل لک الصواب إذا اخطا علی بزعمک...[46]

ابن تیمیہ ایسا بندہ ہے جس کو خدا نے خوار، گمراہ، اندھا، بہرا اور ذلیل کر دیا ہے، یہ وہ مطلب ہے جس کو ان اماموں نے صراحت کے ساتھ کہا ہے جنہوں نے اس کے فاسد ہونے اور اس کے اقوال، جھوٹ ہونے کو بیان کیا ہے۔۔۔   اور جو شخص اس حوالے سے مطلع ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ امام اور مجتہد یعنی ابوالحسن سبکی جس کی امامت اور بزرگی اور اجتہاد کے مرتبہ پر فائز ہونے پر سب کا اتفاق ہے کی طرف رجوع کرے اور اسکے بیٹے امام عز بن عبدالسلام جماعہ اور اس کے ہم عصروں اور دیگر شافعی، مالکی اور حنفی علماء کی طرف رجوع کرے اور انکے نوشتہ جات کا مطالعہ کرے۔ وہ ایسا شخص تھا جس نے فقط صوفیہ کے متاخرین پر اعتراض نہیں کیا بلکہ عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب (علیہ السلام) جیسوں پر بھی اعتراض کیا جیسا کہ ذکر کیا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اس کی باتوں کی کوئی قیمت نہیں ہے بلکہ پورے افسوس کے ساتھ پھینک دی جاتی ہیں۔ اور اس کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ بدعتی، گمراہ کرنے والا، جاہل اور غلو کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی اس کے ساتھ اپنی عدالت سے سلوک کرے اور ہمیں اسکی روش، عقیدہ اور کردار سے پناہ دے دے۔۔۔ بعض سلف کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ اس کے پاس علی بن ابی طالب (علیه السلام) کا ذکر ہوا تو اس نے کہا: علی نے تین سو غلطیاں کی ہیں۔ کاش مجھ معلوم ہوتا کہ آپ کے پاس حق کہا سے پہنچا ہے اگر آپ کے گمان میں علی نے غلطی کی ہے تو...

اسی طرح وہ لکھتا ہے:

و ایاک ان تصغی إلی ما کتب ابن تیمیة و تلمیذه ابن قیم الجوزیة وغیرهما مِـ{مَن اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلی عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلی سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلی بَصَرِهِ غِشاوَةً فَمَنْ یهْدِیهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ}. وکیف تجاوز هؤلاء الملحدون الحدود وتعدوا الرسول وخرقوا سیاج الشریعة والحقیقة، فظنوا بذلک انّهم علی هدی من ربّهم و لیسوا کذلک.[47]

ابن تیمیہ اور اسکے شاگرد ابن قیم جوزی اور دوسروں کے نوشتہ جات پر کان دھرنے سے پرہیز کرو، جن لوگوں نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا خدا قرار دیا ہے اللہ نے انکو انکے علم کے زریعے گمراہ کیا ہے اور انکے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور انکی آنکھوں پہ پردہ ڈال دیا ہے۔ پس خدا کے علاوہ کون ہے جو اسکی ہدایت کرے گا؟ ان ملحدوں نے کس طرح حدود الہی سے تجاوز کیا ہے اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے احکام پر عمل نہیں کیا ہے اور شریعت اور حقیقت کے لباس کو پھاڑ دیا ہے ان کاموں کو انجام دے کر یہ سمجھا ہے اللہ تعالی کی ہدایت کے راستہ پر گامزن ہیں جبکہ ایسا نہیں ہیں۔

اور پھر کہتا ہے:

ولا یغتر بانکار ابن تیمیة لسنّ زیارته (صلّی الله علیه وآله وسلّم)؛ فانّه عبد اضلّه الله کما قال العز بن جماعة و اطال فی الردّ علیه التقی السبکی فی تصنیف مستقل...[48]

رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت سنت ہونے کے بارے میں ابن تیمیہ کے انکار سے کوئی دھوکہ نہ کھائے؛ کیونکہ وہ ایک ایسا بندہ ہے جسے اللہ نے گمراہ کیا ہے، جیسا کہ عز بن جماعہ نے کہا ہے اور اسکی رد میں تقی سبکی نے ایک مستقل کتاب میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔۔۔

وہ ایک اور جگہ کہتا ہے:

من خرافات ابن تیمیة التی لم یقلها عالم قبله وصار بها بین أهل الإسلام مُثله، انّه انکر الإستغاثة والتوسل به (صلّی الله علیه وآله وسلّم). [49]

ابن تیمیہ کی من جملہ خرافات جن کا معتقد اس سے پہلے کوئی عالم نہیں ہوا ہے اور ان خرافات کا معتقد ہونے کی وجہ سے مسلمانوں نے اسکی مذمت کی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے استغاثہ اور توسل کرنے سے انکار کیا ہے۔

وہ ابن تیمیہ کی جانب سے قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے سفر کو حرام قرار دینے کی رد میں کہتا ہے:

وجه شمول الزیارة للسفر انّها تستدعی الإنتقال من مکان الزائر إلی مکان المزور، کلفظ المجیء الذی نصّت علیه الآیة الکریمة... وإذا کانت کل زیارة قربة کان کلّ سفر إلیها قربة... والقاعدة المتفق علیها انّ وسیلة القربة المتوقفة علیها قربة.[50]

 

اس بات کی دلیل کہ لفظ زیارت، زیارتی سفر پر بھی شامل ہوتا ہے یہ ہے کہ زیارت کا لازمہ یہ ہے کہ زائر اپنی جگہ سے مزور( جسکی زیارت کی جاتی ہے) کی جگہ چلا جائے، جیسے لفظ مجیء ہے جو آیہ کریمہ میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔۔۔ اب اگر جو بھی زیارت تقرب کا باعث ہو تو زیارت کے لیے کیا جانے والا سفر بھی تقرب کا باعث ہوگا۔۔۔ اور جس قاعدہ پر سب کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ خدا سے تقرب کا باعث بننے والی چیز تک پہنچنے کا وسیلہ بھی تقرب کا باعث ہے۔

  1. شیخ رضوان عدل بیبرس شافعی (م1303ه‍. ق)

وہ کہتا ہے:

ثمّ ظهر بعد ابن تیمیة محمّد بن عبدالوهاب فی القرن الثانی عشر، وتبع ابن تیمیة وزاد علیه سخفاً وقبحاً، وهو رئیس الطائفة الوهابیة قبحهم الله، وتبرأ منه اخوه الشیخ سلیمان بن عبدالوهاب وکان من أهل العلم...[51]

پھر ابن تیمیہ کے بعد محمّد بن عبدالوهاب بارہویں صدی میں ظاہر ہوا جس نے ابن تیمیہ کے عقائد کی قباحت اور پستی میں اضافہ کر دیا اور وہ وہابیوں کا سربراہ ہے، اللہ انکے چہرے کو منفور کر دے۔ وہ ایسا شخص ہے کہ اس کے بھائی شیخ سلیمان عبدالوہاب نے اس سے برائت کا اظہار کیا جو اہل علم افراد میں سے تھا۔۔۔

  1. یوسف بن اسماعیل نبهانی شافعی (م1350ه‍. ق)

وہ کہتا ہے:

إنّی اعتقد فی ابن تیمیة وتلمیذه ابن القیم وابن عبدالهادی انّهم من ائمة الدین وأکابر علماء المسلمین، وقد نفعوا الأمة المحمّدیة بعلمهم نفعاً عظیماً و ان اساؤا غایة الاسائة فی بدعة منع الزیارة والإستغاثة، واضرّوا بها الإسلام والمسلمین اضراراً عظیمة، واقسم بالله العظیم انّی قبل الإطلاع علی کلامهم فی هذا الباب فی شئون النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) لم أکن اعتقد انّ مسلماً یجترئ علی ذلک وانّی منذ أشهر اتفکّر فی ذکر عباراتهم فلا اتجاسر علی ذکرها ولو للردّ علیها خوفاً من ان یکون سبباً فی زیادة نشرها لشدة فظاعتها...[52]

جانلو کہ میں ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیم اور عبد الہادی کے بارے میں معتقد ہوں کہ وہ دین کے امام اور مسلمانوں کے بڑے علماء میں سے تھے جنہوں نے اپنے علم سے امت محمدی کو بہت بڑا فائدہ پہنچایا ہے، اگر چہ زیارت اور استغاثہ سے منع کرنے کی بدعت میں گستاخی کی ہے اوراسلام اور مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ عظیم خدا کی قسم

رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے حوالے سے انکی بات سے آگاہ ہونے سے پہلے مجھ یہ گمان بھی نہیں تھا کہ کوئی مسلمان اس قسم کی جرئت بھی کر سکتا ہے، اور چند مہینوں سے انکی عبارتوں میں سوچ رہا تھا اور انکو نقل کرنے کی جرئت نہیں کر رہا تھا، اگرچہ انکی باتوں کو رد کرنے کے حوالے سے مجھ یہ خوف لاحق تھا میں کہیں انکی شدید رسوائی کی وجہ سے انکی باتین زیادہ نشر کرنے کا باعث ہوجاؤں۔۔۔

  1. شیخ سلامة قضاعی عزامی شافعی (م1376ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

والعجب انّک تری امام المدافعین عن بیضة أهل التشبیه وشیخ إسلام أهل التجسیم ممّن سبقه من الکرامیة وجهلة المحدثین الذین یحفظون ولیس لهم فقه فیما یحفظون، أحمد بن عبدالحلیم المعروف بابن تیمیة، یرمی إمام الحرمین وحجة الإسلام الغزالی بانّهما أشد کفراً من الیهود والنصاری...[53]

 تعجب ہے کہ تم اہل تشبیہ کی حیثیت کا دفاع کرنے والے امام اور اہل تجسیم سابقہ کرامیہ فرقہ کے شیخ اسلام اور جاہل محدثوں کو دیکھتے ہو حدیث حفظ کرتے ہیں جبکہ جو کچھ حفظ کرتے ہیں اس میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں۔ وہ احمد بن عبد الحلیم ہے جو ابن تیمیہ کے نام سے مشہور ہے اور امام الحرمیں حجت الاسلام غزالی پر تہمت لگاتا ہے کہ اس کا کفر یہود و نصارا سے بھی شدید تر ہے۔۔۔

  1. نجم الدین محمّد امین کردی شافعی (م1400ه‍. ق) وی می گوید:

فقد نجمت فی القرون الماضیة بین أهل الإسلام بدع یهودیة من القول بالتشبیه والتجسیم والجهة والمکان فی حق الله تعالی، ممّا عملته أیدی أعداء الإسلام تنفیذاً لحقدهم علیه، ودخلت الغفلة علی بعض أهل الإسلام...

حتّی إذا کانت أوائل القرن الثامن أخذت هذه البدع تنتعش إلی أخوات لها لاتقل عنها خطراً علی ید رجل یدعی أحمد بن عبدالحلیم بن تیمیة الحرانی، فقام العلماء من أهل السنة والجماعة فی دفعها حتّی لم یبق فی عصره من یناصره إلاّ من کان له غرض أو فی قلبه مرض...[54]

گذشتہ صدیوں میں اہل اسلام کے درمیان یہودیوں کی بدعتتیں - من جملہ تشبیہ اور تجسیم کا قائل ہونا اور خدا کے لیے جہت اور مکان کا اعتقاد رکھنا – موجود تھیں جو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے پھیلائی گئی تھیں وہ اس طرح اسلام کے خلاف اپنی دشمنی اور کینہ کو مضبوط کرتے تھے جبکہ بعض اہل اسلام ان سے غافل تھے۔۔۔

آٹھویں صدی کے شروع تک ان بدعتوں نے نئی شکل و صورت اختیار کی جن کا خطرہ یہودیوں کے کاموں سے کم نہ تھا۔ یہ کام احمد بن عبدالحلیم بن تیمیه حرّانی نام کے ایک فرد کے ذریعہ انجام پایا، اور اہل سنت و الجماعت کے علماء نے اس کے خلاف قیام کیا یہاں تک کہ اس کے زمانے میں اسکی مدد اور نصرت کرنے والا کوئی شخص باقی نہ رہا مگر وہ شخص جس کا کوئی مقصد تھا یا اس کے دل میں مرض تھا۔۔۔۔

  1. حسن بن علی سقاف شافعی

وہ ابن تیمیہ کا حضرت زہراء(سلام اللہ علیہا) کے حوالے سے سخت رویہ اختیار کرنے کے بارے میں کہتا ہے:

بعض ذلک ذکره فی منهاج سنته (2/169) و ذکره بطریقة ملتویة عرجاء، وتظاهر فی بعض تلک الجمل بمدحها و انّها(ها) سیدة نساء العالمین، ولیس وراء قوله (عامله الله بمایستحق) إلاّ الطعن والذمّ!! ولیس له مخرج عندنا من هذه الورطة، ولا نقبل الدفاع عنه، وتأویل بعض کلماته هناک بأی وجه!! فهو ناصبی خبیث و مجسّم بغیض؛ شاء المخالفون أم أبوا.[55]

ان مطالب میں سے کچھ کو “منهاج السنة ج 2، ص 169” میں ذکر کیا ہے اور وہ بھی پیچیدہ اور متزلزل طریقہ سے ذکر کیا ہے اور ان میں سے بعض جملوں میں حضرت زہراء کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ دنیا کی بہترین خاتون ہے، لیکن ان جملوں کو لکھنے کا مقصد فقط حضرت زہراء پر طنز کرنا اور انکی مذمت کرنا ہے۔ اللہ تعالی اس کے ساتھ وہی کرے جو اس کا حق ہے۔ ہمارے پاس اس کو اس مشکل سے نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اور کسی صورت میں اس کا دفاع اور اس کے جملوں کی تاویل ہمیں قبول نہیں ہے؛ وہ ایک ناصبی اور خبیث شخص ہے جو خدا کے لیے جسم کا قائل ہے اور ایک منفور شخص ہے، چاہے مخالفین کو یہ بات پسند ہو یا نہ ہو۔

  1. طارق بن محمّد بن عبدالرحمان جباوی سعدی شافعی

وہ لبنان کے شہر صیدا کے علماء میں سے ہیں، ابن تیمیہ کی رد میں چار کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک “کشف المین فی شرح الحرانی لحدیث ابن حصین” ہے۔ وہ اس کتاب کے مقدمہ میں کہتا ہے:

فهذا کتاب اسمیته (کشف المین) أی الکذب بینت فیه بهتان ابن تیمیة الحرانی وافترائه علی العقل والنقل... وذلک بعد اطلاعی المفصّل علی کتبه کمجموع الفتاوی، و درء التعارض، ومنهاج السنة، والصفدیة وغیرها ممّا نقلنا بعض نصوصه فیها علی قدم نوع العالم فی کتاب (کشف الزلل) الذی فصّلنا فیه مذهبه ورددنا علیه...[56]

میں نے اس کتاب کا نام (کشف المین) یعنی جھوٹ سے پردہ ہٹانا رکھا ہے اور اس میں ابن تیمیہ حرانی کی جھوٹی نسبتوں کو عقل اور نقل کے مطابق بیان کیا ہے۔۔۔ اور میں نے یہ کتاب اسکی (مجموع الفتاوی) ، (درء التعارض) ، (منهاج السنة) ، (الصفدیة) جیسی کتابوں اور اسکی دیگر کتابوں کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ ہونے کے بعد لکھی ہے اور ہم نے اسکی بعض عبارات کو نقل کیا ہے من جملہ ان عبارات میں سے ایک کتاب (کشف الزلل) میں عالم کے قدیم ہونے کی بات ہے وہاں ہم نے تفصیل کے ساتھ اسکے مذہب کو ذکر کر کے رد کیا ہے۔۔۔

اسی طرح وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتے ہیں:

فاسأل الله تعالی کشف بصیرة اتباعه فضلا عن المغبونین والمغترین به إلی الحق، لیعرفوا مکانة هذا المبتدع علی التحقیق، وانّه لیس إلاّ مارق زندیق، لیس فیما انفرد فیه إلاّ بدعة الضلالة وفُرقة الجماعة.[57]

میری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کے پیروکاروں کو چشم بصیرت دے دے اور انکو راہ حق کی ہدایت دے، اسی طرح اس کے دھوکے میں آنے والوں کو راہ حق کی ہدایت دے تاکہ اس بدعتی کی حیثیت کو اچھی طرح پہچان سکیں اور یہ کہ وہ دین سے خارج ہونے والے ایک کافر شخص کے سوا کچھ نہیں ہے، وہ اپنے منفرد اور شاذ اعتقادات میں ایک بدعتی اور گمراہ شخص ہے اور ملت سے جدا ہوا ہے۔

  1. محمود سعید ممدوح شافعی

وہ اہل سنت کے اس دور کے محدثوں میں سے ہیں، قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) زیارت کے متعلق روایات کو ابن تیمیہ کی طرف سے تضعیف کرنے کے حوالے سے لکھتا ہے:

وهذا خطأ منه و تسرع. وخصومات ابن تیمیة اوقعته فی مثل هذه العبارات. وقد کتبت جزءاً فی الأحادیث التی ینکرها فی فضائل آل البیت (علیهم السلام)، وهی ثابتة فی ردّه علی الرافضی، وقد بلغ بابن تیمیة الشطط فی فضائل آل البیت إلی ان ضعف حدیث “الموالاة” وهو متواتر. وقال عن حدیث (أنت ولی کل مؤمن) کذب، (الردّ علی الرافضی 4/104) وهو علی شرط مسلم، وأخرجه امامه أحمد بن حنبل فی مسنده (4/437) و الطیالسی (829) و الترمذی (5/269)، و صحّحه ابن حبان (6929) والحاکم (3/110).

وقال عن حدیث ابن عمر (ما کنّا نعرف المنافقین علی عهد رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلاّ ببغضهم علیاً). قال (3/ 228): هذا الحدیث لایستریب أهل المعرفة بالحدیث انّه موضوع مکذوب.

وهو حدیث صحیح. ففی صحیح مسلم (78) وغیره: انّه لعهد النبی الأمی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلاّ یحبّنی إلاّ مؤمن ولا یبغضنی إلاّ منافق.

وأخرج امامه أحمد بن حنبل فی الفضائل (979) باسناد علی شرط البخاری عن أبی سعید الخدری، قال: انّما کنّا نعرف منافقی الأنصار ببغضهم علیاً.

وفی مسند البزار (زوائده 3/169) باسناد حسن عن جابر قال: ما کنّا نعرف منافقینا معشر الأنصار إلاّ ببغضهم لعلی.

وقال رجل لسلمان: ما اشدّ حبک لعلی؟ قال: سمعت نبی الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) یقول: (من احبّه فقد احبّنی). قال ابن تیمیة (3/9): کذب.

قلت: بل صحیح لغیره، فله طریق حسن فی المستدرک (3/130)، وآخر فی المعجم الکبیر للطبرانی (23/380/901) عن ام سلمة، قال عنه الهیثمی فی المجمع (9/132): و اسناده حسن.

وحدیث: (یا علی! حربی حربک وسلمی سلمک) قال ابن تیمیة (2/300): (هذا کذب موضوع علی رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و لیس فی شیء من کتب الحدیث المعروفة، ولا روی باسناد معروف).

قلت: هذه جرأة وأخرجه امامه أحمد فی فضائل الصحابة (1350)، وأخرجه الحاکم (3/149) من طریق الإمام احمد، وله شاهد حسن أخرجه الترمذی (5/699)، والحاکم (3/149) والطبرانی (3/149).

حدیث (إنّ الله أوحی إلی انّه یحبّ أربعة من أصحابی وأمرنی بحبّهم. فقیل: من هم یا رسول الله؟ قال: علی سیدهم، وسلمان، والمقداد، وأبوذر).

قال ابن تیمیة (3/173): ضعیف بل موضوع، ولیس له اسناد یقوم به.

قلت: أخرجه امامه أحمد بن حنبل فی المسند (5/351)، والترمذی (3718)، و ابن ماجه (149). وحسّنه الترمذی، وله شاهد...[58]

یہ اسکی غلطی ہے اور احادیث کی تضعیف میں جلد بازی ہے۔ ابن تیمیہ نے دشمنی کی وجہ سے اس طرح کی عبارتیں لکھی ہیں، میں نے اہلبیت (علیہم السلام) کے فضائل کے بارے میں ذکر شدہ روایات کے حوالے سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جن کا ابن تیمیہ نے انکار کیا ہے، یہ تمام احادیث درست ہیں لیکن اس نے رافضی-علامہ حلی – کی مخالفت میں انکو رد کیا ہے۔ ابن تیمیہ کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ اہلبیت پیغمبر  (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے فضائل کے بارے میں بے ربط باتیں کی ہیں، یہاں تک کہ حدیث “موالات” جو کہ متواتر ہے کو تضعیف کیا ہے۔ حدیث (انت ولی کل مؤمن) کے بارے میں کتاب  (الردّ علی الرافضی 4/104) میں کہا ہے کہ : جھوٹ ہے جبکہ مسلم کے نزدیک صحیح ہونے کی جو شرط ہے وہ اس حدیث میں پائی جاتی ہے، اور اس کے امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کو اپنی مسند (4/437) میں اور طیالسی (829) اور ترمذی (5/269) نے بھی نقل کیا ہے اور ابن حبان (6929) اور حاکم (3/110) نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور ابن عمر کی حدیث ( ہم رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم)  کے زمانے میں منافقوں کو فقط علی کے بغض سے پہچانتے تھے) کے بارے میں کہا ہے: اس حدیث کے جعلی اور جھوٹی ہونے کے بارے میں اہل معرفت کو شک نہیں ہے  (3/228)، جبکہ یہ حدیث صحیح ہے؛ کیونکہ صحیح مسلم (78) اور دیگر کتابوں میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت علی ( علیہ السلام ) نے فرمایا: یہ وہی پیغمبر امی کا وعدہ ہے کہ مجھ سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن اور دشمنی نہیں کرے گا مگر منافق)۔

و نیز اس کے امام احمد بن حنبل نے (الفضائل 979) میں ایسی سند کے ساتھ جو بخاری کے نزدیک صحیح ہونے کے شرائط رکھتی ہے، ابوسعید خدری سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: (ہم انصار کے منافقوں کو علی کے بغض سے پہچانتے تھے)۔

اور ایک مرد نے سلمان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ اس قدر علی سے محبت کرتے ہو؟ اس نے کہا: رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے میں نے سنا ہے کہ فرمایا: جو علی سے محبت کرے تو یقینا وہ مجھ سے بھی محبت کرتا ہے)۔

ابن تیمیہ کہتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے 3/9.

میں کہتا ہوں: بلکہ یہ حدیث شواہد اور اسکے نتائج کی جہت سے صحیح ہے اور مستدرک (3/130) میں اس کے لیے اچھا طریق بیان ہوا ہے اور طبرانی کی (المعجم الکبیر) (23/380/901) میں ایک دوسرا طریق ام سلمہ سے نقل ہوا ہے جس کو ہیثمی نے مجمع الزوائد (9/132) میں سند حسن کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اور اس حدیث ( اے علی ! میرے ساتھ جنگ آپ کے ساتھ جنگ اور میرے ساتھ صلح آپ کے ساتھ صلح ہے) کو ابن تیمیہ نے جھوٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی طرف جھوٹی نسبت دی گئی ہے، نہ حدیث کی کسی مشہور کتاب میں موجود ہے اور نہ کسی مشہور سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔ (2/300).

میں کہتا ہوں: یہ اس کی گستاخی ہے، جبکہ اس کے امام احمد نے (فضائل الصحابة) (1350) میں اور  حاکم (3/149) نے احمد سے نقل کر کے اس روایت کو اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے و نیز ترمذی (5/699) ، حاکم (3/149) اور طبرانی (3/149) نے جو روایت نقل کی ہے وہ اس روایت کے صحیح ہونے کے لیے اچھی دلیل ہے۔ حدیث ہے ( اللہ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ وہ میرے اصحاب میں سے چار افراد کو پسند کرتا ہے اور مجھ حکم دیا ہے کہ ان سے محبت کروں۔ آنحضرت سے سوال ہوا کہ وہ چار افراد کون ہیں؟ تو رسول خدا نے فرمایا: علی انکا سردار ہے، سلمان، مقداد اور ابوذر)۔ ابن تیمیه (3/173) اس حدیث کے بارے میں کہتا ہے: یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ جعلی ہے، اسکی ایسی سند نہیں ہے جس سے صحیح ثابت ہو۔

میں کہتا ہوں: اس حدیث کو اس کے امام احمد بن حنبل (5/351) نے اپنی مسند میں اور ترمذی (3718) اور ابن ماجه (149) نے بھی نقل کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا ہے اور اس کے لیے شاہد اور قرینہ ہے۔۔۔

دوم: ابن تیمیہ کے بارے میں حنفی علماء کا نظریہ

  1. قاضی القضاة شمس الدین ابوالعباس احمد بن ابراهیم سرّوجی حنفی (م710ه‍. ق)

ابن تغردی بردی اس کے بارے میں کہتا ہے:

کان بارعاً فی علوم شتّی وله اعتراضات علی ابن تیمیة فی علم الکلام.[59]

وہ متعدد علوم میں ماہر تھے و نیز علم کلام میں ابن تیمیہ پر کچھ اعتراضات کیے ہیں۔

ابن حجر عسقلانی اس کے بارے میں کہتا ہے:

و من تصنیفاته: الردّ علی ابن تیمیة، وهو فیه منصف متأدب صحیح الباحث.[60]

اس کی تصنیفات میں سے ایک (الردّ علی ابن تیمیه) ہے جس میں انصاف اور ادب کی رعایت کے ساتھ درست بحث کی ہے۔

  1. ملاّ علی بن سلطان محمّد قاری هروی حنفی (م1014ه‍. ق)

وہ “شرح کتاب الشف” میں کہتے ہیں:

و قد فرّط ابن تیمیة من الحنابلة حیث حرّم السفر لزیارة النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم). ..[61]

حنبلیوں میں سے ابن تیمیہ نے کوتاہی کی ہے اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔۔۔

وہ مزید کہتا ہے:

وقد افرط ابن تیمیة من الحنابلة حیث حرّم السفر لزیارة النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، کما افرط غیره، حیث قال: کون الزیارة قربة معلوم من الدین بالضرورة، وجاهده محکوم علیه بالکفر، ولعلّ الثانی أقرب إلی الصواب؛ لانّ تحریم ما أجمع العلماء فیه بالإستحباب یکون کفراً، لانّه فوق تحریم المباح المتفق علیه فی هذا الباب.[62]

حنبلیوں میں سے ابن تیمیہ نے پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کو حرام قرار دینے میں افراط کیا ہے جس طرح دوسروں نے بھی افراط کی ہے جب کہا ہے: زیارت ایسے امور سے ہے جن کے زریعے قرب الہی حاصل کیا جاتا ہے اور ضروری دین ( جس چیز کا دینی مسئلہ ہونا واضح ہو) ہونا معلوم ہے اور جو اس کا انکار کرے کافر ہے اور ممکن ہے دوسرا قول حق کے نزدیک تر ہو؛ کیونکہ ایسے عمل کو حرام قرار دینا جس کے مستحب ہونے پر علماء کا اجماع ہو کفر ہے کیونکہ یہ مباح کو حرام قرار دینے سے بڑھکر ہے جس کے بارے میں تمام علماء متفق ہیں۔

  1. ابوالحسنات محمّد عبدالحی لکنوی حنفی (م1304ه‍. ق)

وہ کہتا ہے:

مسألة زیارة خیر الأنام علیه الصلاة و السلام کلام ابن تیمیة فیها من أفاحش الکلام؛ فانّه یحرم السفر لزیارة قبر الرسول (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و یجعله معصیة، و یحرم نفس زیارة القبر النبوی أیضاً...[63]

سب سے بہترین انسان- علیه الصلاة و السلام- کی زیارت کے مسئلہ میں ابن تیمیہ کی بات سب سے بری بات ہے کیونکہ اس نے پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی قبر کی زیارت کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور اس کو گناہ سمجھتا ہے اور خود قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔۔۔

  1. محمد بن محمد علاء بخاری حنفی

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

کان یسأل عن مقالات ابن تیمیة التی انفرد بها فیجیب بما ظهر له من الخطأ، وینفر عنه قلبه إلی ان استحکم ذلک علیه، فصرّح بتبدیعه ثم تکفیره، ثم صار یصرّح فی مجلسه انّ من اطلق علی ابن تیمیة انّه شیخ الإسلام فهو بهذا الإطلاق کافر...[64]

اس سے ابن تیمیہ کے مخصوص نظریات کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ انکے یہ نظریات غلط ہیں۔ وہ دلی طور پر ابن تیمیہ سے متنفر تھے یہاں تک اسکی نفرت مستحکم ہوگئی۔ اسی وجہ سے صراحت سے کہہ دیا کہ اس نے بدعتیں ایجاد کی ہیں اور اسکے بعد اسکو کافر قرار دیا۔ اس حوالے وہ اس قدر آگے گئے کہ اپنی مجلس میں واضح طور پر کہہ دیا کہ جو بھی ابن تیمیہ کو “شیخ الاسلام” کے لقب سے پکارے تو اس عمل کی وجہ سے کافر ہوگا۔۔۔

  1. ابوحامد بن مرزوق

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

انّه مسارع فی تکفیر من خالفه، سواء أقام الدلیل علی التکفیر أم لم یقم علیه دلیل، وأنّ کلّ من خالفه ولم ینقد إلی رأیه وقوله فماله إلی التکفیر والتشهیر والتحقیر.[65] 

وہ اپنے مخالفین کی تکفیر میں جلدباز ہے، چاہے تکفیر پر دلیل قائم کی ہو یا نہ، اور جو بھی اسکی مخالفت کرے اور اسکے قول اور رائے کو تسلیم نہ کرے تو اس کا انجام تکفیر، بدنامی اور تحقیر ہے۔

وہ ابن تیمیہ کے پیروکاروں کے بارے میں بھی کہتا ہے:

قد اعتقدوا انّ کلّ ما فیه اجلاله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) من قول أو فعل فهو شرک وعبادة له من قائله، فسجّلوه علی أنفسهم للعالم الإسلامی انّهم موتورون منه (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، یسوءهم مافیه توقیره ویسرهم ما فیه انتهاک حرمته (صلّی الله علیه وآله وسلّم). [66]

وہ معتقد ہیں کہ جس قول یا فعل میں بھی پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی تجلیل اورتعظیم ہو کفر اور شرک ہے اور حقیقت میں اسکی عبادت شمار ہوتی ہے۔ انہوں عالم اسلام کے بارے میں اپنے لیے یہی عقیدہ اپنایا ہے، وہ آنحضرت (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے خونی دشمن ہیں، انکو ہر وہ چیز بری لگتی ہے جس میں آںحضرت کی تعظیم و تکریم ہے اور ہر وہ چیز خوشحال کرتی ہے جس میں آںحضرت (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی ہتک حرمت ہو۔

  1. خلیل احمد سهارنفوری حنفی (م1346ه‍. ق)

ان سے اس طرح کا سوال ہوا ہے:

ما قولکم فی شدّ الرحال إلی سید الکائنات علیه أفضل الصلوات والتحیات وعلی آله وأصحابه، أی الأمرین أحبّ إلیکم وأفضل لدی أکابرکم وللزائر: هل ینوی وقت الإرتحال للزیارة زیارته (علیه السلام)  أو ینوی المسجد أیضاً، وقد قال الوهابیة انّ المسافر إلی المدینة لاینوی إلاّ المسجد النبوی؟

کائنات کے سردار- اس پر اور اسکے آل اور اصحاب پر بہترین درود و سلام ہو- کی زیارت کے لیے سفر کرنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ آپکی نظر میں اور آپکے بزرگوں کی نظر میں زائر کے لیے ان دو امور میں سے کونسا امر پسندیدہ اور افضل ہے: زیارت کا سفر شروع کرتے وقت آنحضرت (علیہ السلام) کی زیارت کرنے کی نیت کرے یا مسجد جانے کی بھی نیت کرے؛ کیونکہ  وہابی کہتے ہیں کہ: مدینہ کی طرف سفر کرنے والا فقط مسجد نبوی جانے کی نیت کرے؟

وہ مذکورہ بالا سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

عندنا وعند مشایخنا زیارة قبر سید المرسلین (روحی فداه) من أعظم القربات وأهمّ المثوبات وانجح لنیل الدرجات، بل قریبة من الواجبات، و ان کان حصوله بشدّ الرحال وبذل المهج والأموال، وینوی وقت الإرتحال زیارته علیه الف الف تحیة وسلام. ینوی معها زیارة مسجده (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وغیره من البقاع والمشاهد الشریفة بل الأولی ما قال العلامة الهمام ابن الهمام ان یجرّد النیة لزیارة قبره علیه الصلاة و السلام ثم یحصل له إذا قدم زیارة المسجد؛ لانّ فی ذلک زیادة تعظیمه و اجلاله (صلّی الله علیه وآله وسلّم). ویوافقه قوله (صلّی الله علیه وآله وسلّم): من جاءنی زائراً لاتحمله حاجة إلاّ زیارتی کان حقاً علی ان اکون شفیعاً له یوم القیامة. وکذا نقل عن العارف

السامی الملاّ جامی انّه افرز الزیارة عن الحجّ، وهو اقرب إلی مذهب المحبّین...[67]

ہماری نظر میں اور ہمارے علماء کی نظر میں انبیاء کے سردار- میری جان اس پر فدا ہو- کی قبر کی زیارت، خدا کے نزدیک کرنے والی سب بڑی چیز اور سب سے اہم کاموں میں سے ہے جن کا ثواب ملتا ہے اور بلند درجات تک پہنچنے کے لیے سب سے کامیاب عمل ہے بلکہ واجبات کے نزدیک ہے، اگرچہ انکی زیارت کرنے کے لیے سفر کرنے اور سخت زحمت اٹھانے اور مال و دولت خرچ کرنے کی ضرورت ہو۔ اور زائر کو چاہیے کہ روانگی کے وقت قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی نیت کرے – ان پر لاکھوں درود و سلام ہو- و نیز اس کے ساتھ انکی مسجد اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی نیت کرے، بلکہ اس سے بھی شائستہ وہ چیز ہے جس کا ذکر علامہ ہمام ابن ہمام نے کیا ہے کہ زائر فقط آنحضرت کی قبر کی زیارت کرنے کی نیت کرے، اور آنحضرت کی زیارت کے لیے آئے تو مسجد کی بھی زیارت کرے؛ کیونکہ اس عمل میں آنحضرت کی زیادہ تعظیم اور تجلیل ہوتی ہے اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے گفتار کے مطابق ہے جس میں فرمایا: ( جو شخص فقط میری زیارت کے لیے آئے تو میری ذمہ داری ہے کہ قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں)۔ و نیز جلیل القدر عارف ملا جامی سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے زیارت کو حج سے جدا کیا ہے اور یہ محبوں کے مذہب سے زیادہ نزدیک ہے۔۔۔

وہ اسی طرح لکھتے ہیں:

عندنا وعند مشایخنا یجوز التوسل فی الدعوات بالأنبیاء والصالحین من الأولیاء والشهداء والصدیقین فی حیاتهم وبعد وفاتهم؛ بان یقول فی دعائه: أللّهم إنّی أتوسل إلیک بفلان أن تجیب دعوتی وتقضی حاجتی إلی غیر ذلک کما صرّح به شیخنا ومولانا الشاه محمّد اسحاق الدهلوی...[68]

ہمارے نزدیک اور ہمارے علماء کے نزدیک دعا کے دوران، انبیاء، صلحاء، اولیاء، شہداء اور صدیقین سے توسل کرنا چاہے انکی زندگی میں ہو یا انکی وفات کے بعد ہو جائز ہے؛ اس طرح کہ انسان اپنی دعا میں کہے: اے اللہ! میں آپکو فلاں شخص کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری دعا کو قبول کریں اور میری حاجت کو پوری فرمائیں، جیسا کہ ہمارے شیخ اور سردار شاه محمّد اسحاق دہلوی نے اس بات کو صراحت سے بیان کیا ہے۔۔۔

وہ “برزخی زندگی” کے بارے میں کہتا ہے:

عندنا و عند مشایخنا، حضرة الرسالة (صلّی الله علیه وآله وسلّم) حی فی قبره الشریف وحیاته دنیویة من غیر تکلیف، وهی مختصة به (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وبجمیع الأنبیاء صلوات الله علیهم و الشهداء لا برزخیة کما هی حاصلة لسائر المؤمنین، بل جمیع الناس، کما نصّ علیه العلامة السیوطی فی رسالته (انباء الأذکیاء بحیاة الأنبیاء)، حیث قال: قال الشیخ تقی الدین السبکی: حیاة الأنبیاء و الشهداء فی القبر کحیاتهم فی الدنیا، ویشهد له صلاة موسی (علیه السلام) فی قبره؛ فانّ الصلاة تستدعی جسداً حیاً... فثبت بهذا انّ حیاته دنیویة برزخیة؛ لکونها فی عالم البرزخ...[69]

ہمارے نزدیک اور ہمارے علماء کے نزدیک رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں اور انکی زندگی دنیاوی ہے بغیر کسی شرعی ذمہ داری کے اور یہ بات آنحضرت اور تمام انبیاء ـ صلوات الله علیهم ـ اور شہداء کے ساتھ مختص ہے، ایسا نہیں ہے کہ انکی زندگی دیگر برزخی مومنین کی طرح ہو، جیسا کہ علامه “سیوطی نے” “انباء الأذکیاء بحیاة الأنبیاء” میں اس بات کو صراحت سے بیان کیا ہے، جب تقی الدین سبکی کے بقول نقل کرتا ہے اور کہتا ہے: قبر میں انبیاء اور شہداء کی زندگی انکی دنیاوی زندگی کی طرح ہے، اس کی دلیل موسی ( علیہ السلام ) کی نماز اسکی قبر میں پڑھنا ہے؛ کیونکہ نماز پڑھنے کا لازمہ زندہ بدن ہے۔۔۔۔ اس بات سے ثابت ہوا کہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زندگی دنیاوی اور برزخی ہے؛ کیونکہ عالم برزخ میں ہیں۔۔۔

وہ اسی طرح کہتے ہیں:

... روی ابوحنیفة عن ابن عمر انّه قال: من السنة ان تأتی قبر رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، فتستقبل القبر بوجهک ثم تقول: ألسلام علیک أیها النبی ورحمة الله وبرکاته...[70]

...ابوحنیفہ نے ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: من جملہ ایک سنت یہ ہے کہ رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم)  کی قبر کی زیارت کے لیے آجائیں  اور اس کی قبر کی طرف رخ کر کے کہو: آپ پر سلام ہو اے پیغمر اور آپ پر خدا کی رحمت اور برکات نازل ہوں۔۔۔

اسی طرح وہ محمّد بن عبدالوہاب کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں لکھتا ہے:

... اتباع محمّد بن عبدالوهاب الذین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانوا ینتحلون مذهب الحنابلة، لکنّهم اعتقدوا انّهم هم المسلمون و انّ من خالف اعتقادهم مشرکون واستباحوا بذلک قتل أهل السنة وقتل علماءهم حتّی کسّرالله شوکتهم...[71]

محمّد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں نے نجد سے تحریک کا آغاز کیا اور حرمین پر غلبہ حاصل کیا، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو حنبلی کہتے ہیں، لیکن معتقد ہیں کہ فقط وہ مسلمان ہیں اور جو بھی انکے اعتقادات کا مخالف ہو مشرک ہے، اس طرح اہلسنت اور علمائے اسلام کے قتل کو جائز قرار دیا، یہاں تک اللہ تعالی نے انکے رعب کو توڑ دیا۔۔۔

  1. احمد علی محدّث سهارنفوری حنفی

یہ شاه محمّد اسحاق دہلوی کے شاگرد ہیں، جو وہابیوں کے اس عقیدہ کی رد میں کہ میلاد میں نعت خوانی حرام ہے کہتے ہیں:

انّ ذکر الولادة الشریفة لسیدنا رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) بروایات صحیحة فی أوقات خالیة عن وظائف العبادات الواجبات وبکیفیات لم تکن مخالفة عن طریقة الصحابة وأهل القرون الثلاثة المشهود لها بالخیر وبالإعتقادات التی لم تکن موهمة بالشرک والبدعة وبالآداب التی لم تکن مخالفة عن سیرة الصحابة التی هی مصداق قوله (صلّی الله علیه وآله وسلّم): (ما أنا علیه و اصحابی) وفی مجالس خالیة عن المنکرات الشرعیة، موجب للخیر والبرکة...[72]

یقینا ہمارے سید و سردار رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی میلاد شریف کا ذکر کرنا معتبر روایات کے ساتھ ایسے اوقات میں جو واجب عبادات کا وقت نہ ہو اور ایسی روش کے ساتھ جو صحابہ اور پہلی تین صدیوں والوں کی روش کے مخالف نہ ہو جن کی خوبی کی گواہی دی گئی ہے اور ایسے اعتقادات کے ہمراہ بھی نہ ہو جن میں شرک اور بدعت کا شائبہ ہو و نیز صحابہ کی سیرت کے مخالف آداب کے ہمراہ بھی نہ ہو وہ صحابہ جو رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی حدیث کے مصداق ہیں جس میں آنحضرت نے فرمایا: ( میں اور میرے اصحاب کی جو روش ہے) و نیز وہ مجالس جو غیر شرعی امور سے پاک ہیں ، یہ عمل ( نعت خوانی) خیر و برکت کا باعث ہوتا ہے۔۔۔

  1. مصطفی بن عبدالله قسطنطنی حنفی معروف به حاجی خلیفه

وہ کہتا ہے:

ذکر ابن تیمیة فی کتابه (کتاب العرش و صفته): إنّ الله تعالی یجلس علی الکرسی، وقد اخلی مکاناً یقعد فیه رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم). [73]

ابن تیمیہ نے (کتاب العرش و صفته) نام کی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالی کرسی پر بیٹھتا ہے اور رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے بیٹھنے کے لیے ایک جگہ خالی چھوڑتا ہے۔

  1. محمّد بخیت مطیعی حنفی (م1354ه‍. ق)

یہ مملکت مصر کا مفتی ہے، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

و لمّا ان تظاهر قوم فی هذا العصر بتقلید ابن تیمیة فی عقائده الکاسدة وتعضید اقواله الفاسدة وبثّها بین العامة والخاصة، واستعانوا علی ذلک بطبع کتابه المسمی بالواسطیة ونشره، وقد اشتمل هذا الکتاب علی کثیر ممّا ابتدعه ابن تیمیة مخالفاً فی ذلک الکتاب والسنة وجماعة المسلمین، فأیقظوا فتنة کانت نائمة.[74]

اور جب ایک گروہ نے اس زمانے میں ابن تیمیہ کے بے رونق عقائد کی پیروی کرنے کا دکھاوا کیا اور اس کے باطل اقوال کو خاص و عام میں شائع کیا اور اس راہ میں اسکی (واسطیه) نام کی کتاب کو طبع کر کے شائع کرنے میں مدد کی، ایسی کتاب جو ابن تیمیہ کی بہت ساری بدعتوں پر مشتمل ہے، اس نے ان بدعتوں کے ذریعے قرآن و سنت اور مسلمانوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے ایسا فتنہ برپا کیا ہے جو خاموش تھا۔

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں مزید کہتا ہے:

الّف کتابه المسمّی بـ(الواسطیة)، فقد ابتدع ماخرق به إجماع المسلمین وخالف فیه الکتاب والسنة الصریحة والسلف الصالح، واسترسل مع عقله الفاسد، {وَ أَضَلَّهُ اللَّهُ عَلی عِلْمٍ}، فکان {إِلهَهُ هَواهُ}، ظنّاً منه انّ ما قاله حق وما هو بالحق، وانّما هو منکر من القول وزور.[75]

اس نے (الواسطیه) کے نام سے اپنی کتاب تالیف کی۔ اس نے اس کتاب میں ایسی بدعتوں کی بنیاد رکھی جن کے ذریعے مسلمانوں کا اتحاد ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ان میں قرآن و سنت اور سلف صالح کی واضح مخالفت کی اور اپنی باطل عقل کی پیروی کی۔ لہذا اللہ تعالی نے اس کے علم کے ذریعے اسکو گمراہ کیا، پس اسکا خدا اسکی خواہشات تھیں؛ کیونکہ اسکو گمان تھا کہ جو کچھ کہتا ہے حق ہے جبکہ ایسا نہیں تھا، بلکہ یقینی طور پر باطل اور جھوٹ شمار ہوتا تھا۔

مزید کہتا ہے:

... تمالأ علیه أهل عصره ففسّقوه ویدعوه، بل کفّره کثیر منهم...[76]

... اسکے زمانے کے لوگ اس کے حوالے سے متفق تھے اور اسکو فاسق سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ باطل دعوی کرتا ہے، بلکہ بہت ساروں نے اس کی تکفیر کی ہے۔۔۔

  1. شاه فضل رسول قادری هندی حنفی

وہ ابن تیمیہ کے بارے کہتے ہیں:

الشقی ابن تیمیة، اجمع علماء عصره علی ضلاله وحبسه، ونودی من کان علی عقیدة ابن تیمیة حلّ ماله و دمه.[77]

بدبخت ابن تیمیہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں اسکے ہم عصر علماء اس کے گمراہ ہونے اور اس کو قید کرنے پر متفق تھے اور اعلان کیا گیا کہ جو بھی ابن تیمیہ کے عقیدہ پر ہے اسکا مال اور خون حلال ہے۔

  1. شیخ محمّد عبدالرحمان سلهتی هندی حنفی

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

ابن تیمیة فهو کبیر الوهابیین، وما هو شیخ الإسلام بل هو شیخ البدعة والآثام. وهو أوّل من تکلّم بجملة عقائدهم الفاسدة، وفی الحقیقة هو المحدث لهذه الفرقة الضالة، ثمّ خملت تذکرته وعقائده بین الناس إلی سنة سبعمائة وست وأربعین من میلاد خیر البشر علیه التحیة والثناء. فبعد ذلک السنة فی عهد السلطان محمودخان الثانی ببلاد العرب رجل یدعی بمحمّد بن عبدالوهاب من الیمن وأظهر العقائد الفاسدة التی کانت قد ماتت واندرست بموت ابن تیمیة مقیداً مغلولا فی بلاد الإسلام واستحدث شرعاً جدیداً... وسمّوا الوهابیة بإسم کبیرهم محمّد بن عبدالوهاب. وکان ابن السعود کبیر الوهابیة ملحداً قد سوّلت له نفسه، فکان یقلق الحجاج ویزعج العباد ویقطع الطرق... ومن ذلک الزمان زقّت جمعهم وشتّت شملهم وتفرقوا فی البلاد وسمّوا بأهل الحدیث، ولا یلیق لهم مالقبوا به، بل هم أهل البدعة والضلالة...[78]

ابن تیمیہ، وہابیوں کے بزرگ ہیں اور وہ شیخ الاسلام نہیں ہیں بلکہ شیخ بدعت اور گناہ ہیں، وہ پہلا شخص ہے جس نے انکے تمام باطل عقائد پر بات کی ہے، اور حقیقت میں اس گمراہ فرقہ کو وجود میں لانے والے یہی ہیں۔ اور جبکہ اسکی یاد اور اسکے عقائد پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی ولادت سے 746ویں سال تک لوگ بھول گئے۔ پھر اس کے بعد  سلطان محمود خان دوم کے زمانے میں عرب سرزمینوں میں محمّد بن عبدالوہاب کے نام سے یمن کا ایک شخص ظاہر ہوا اور مردہ باطل عقائد کو جو ابن تیمیہ کے مرنے سے پرانے ہو گئے تھے اور اسلامی ممالک میں ختم ہوگئے تھے آشکار کر دیا اور دوبارہ زندہ کرنا شروع کیا۔۔۔ وہابیوں کا نام انکے بزرگ محمّد بن عبدالوہاب سے منسوب کر کے رکھا ہے۔ ابن سعود وہابیت کے بزرگوں میں سے ایک ملحد شخص تھا، اسکے نفس نے اسکو دھوکہ دیا اور وہ حجاج پر سختی کرتا تھا اور لوگوں کو اذیت پہنچاتا تھا اور لوگوں کے راستوں کو بند کرتا تھا۔۔۔ اس زمانے سے انکی آبادی منتشر ہوگئی اور انکا اجتماع پراکندہ ہوگیا اور مختلف شہروں میں منتشر ہوگیا۔ انہوں اپنے آپ کو اہل حدیث کہا جبکہ وہ اس نام کے لائق نہیں ہیں بلکہ وہ اہل بدعت اور گمراہی ہیں۔۔۔  

  1. محمّد زاهد کوثری حنفی (م1371ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

ولو قلنا لم یبل الإسلام فی الأدوار الأخیرة بمن هو اضرّ من ابن تیمیة فی تفریق کلمة المسلمین لَما کنّا مبالغین فی ذلک، وهو سهل متسامح مع الیهود والنصاری یقول عن کتبهم انّها لم تحرف تحریفاً لفظیاً فاکتسب بذلک إطراء المستشرقین له، شدید غلیظ الحملات علی فرق المسلمین لاسیما الشیعة... ولولا شدّة ابن تیمیة فی ردّه علی ابن المطهّر فی منهاجه إلی ان بلغ به الأمر إلی أن یعترض لعلی بن أبی طالب علی الوجه الذی تراه فی أوائل الجزء الثالث منه بطریق یأباه کثیر من أقحاح الخوارج مع توهین الأحادیث الجیدة فی هذا السبیل...[79]

اگر کہہ دوں کہ حالیہ ادوار میں اسلام ایسے شخص سے دوچار نہیں ہوا ہے جس کا نقصان ابن تیمیہ کی طرف سے مسلمانوں میں تفرقہ ایجاد کرنے سے زیادہ ہو تو میں نے ہرگز مبالغہ نہیں کیا ہے۔ وہ ایسا شخص تھا جو بہت آسانی سے یہود و نصارا کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا تھا اور انکی کتابوں کے بارے میں کہتا ہے کہ لفظی تحریف نہیں ہوئی ہے، لہذا شرق شناسوں نے انکی طرف توجہ دی ہے۔ وہ ایک سخت گیر شخص تھا اور سختی کے ساتھ اسلامی فرقوں خاص طور پر شیعوں پر حملہ کرتا تھا۔۔۔

 

اگر ابن مطہر کی رد میں کتاب (منهاج السنة) میں ابن تیمیہ کی اس حد تک شدت نہیں ہوتی کہ علی بن ابی طالب (علیه السلام) پر بھی اعتراض کیا ہے، جیسا کہ اس کے جزء سوم کی ابتدا میں آپ مشاہدہ کرتے ہیں، اور یہ توہین اس حد تک ہے کہ خوارج کے بزرگ بھی اس سے کتراتے ہیں، ان اچھی احادیث کی توہین جو اس حوالے سے ذکر ہوئی ہیں۔۔۔

وہ مزید ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے: “وقع الإتفاق علی تضلیله وتبدیعه وزندقته” [80]؛ “ اسکے گمراہ ہونے، بدعتی ہونے اور کافر ہونے کے بارے میں امت متفق ہے۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

ان کان ابن تیمیة لایزال شیخ الإسلام فعلی الإسلام سلام.[81]

اگر ابن تیمیہ ابھی تک شیخ الاسلام ہے تو پھر اسلام کا خدا حافظ ہے۔

وہ ایک اور جگہ کہتا ہے:

ومن احاط علماً بما نقلناه... واستمر علی مشایعته وعلی عدّه شیخ الإسلام فعلیه مقت الله وغضبه.[82]

ہم نے جو کچھ نقل کیا ہے اس سے جو بھی مکمل آگاہ ہو۔۔۔ اور اسکی پیروی کرتا رہے اور اسکو شیخ الاسلام کہتا رہے تو اللہ اس سے ناراض ہو اور اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

و قد جری عمل الأمة علی التوسل والزیارة إلی ان ابتدع انکار ذلک الحرّانی.[83]

امت اسلامی ہمیشہ سے قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) ) کی زیارت اور ان سے توسل کرتی رہی ہے یہاں تک حرانی نے اس سے انکار کرنے کی بدعت ایجاد کی۔

  1. احمد رضا بریلوی حنفی

وہ ھندوستان کے بریلوی فرقہ کے سربراہ ہیں، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتے ہیں:  “انّ ابن تیمیة کان یهذی جزاف” [84]؛ “ بیشک ابن تیمیہ بے پرواہی کے ساتھ بکتا تھا۔

وہ مزید کہتا ہے: “ابن تیمیة کان فاسد المذهب” [85]؛ “ ابن تیمیہ کا مذہب باطل تھا۔

  1. نعیم الدین مرادآبادی حنفی

وہ بریلوی فرقہ کے ایک امام ہیں، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتے ہیں:  “انّ ابن تیمیة افسد نظم الشریعة”[86]؛ “ یقینا ابن تیمیہ نے نظام شریعت کو فاسد کر دیا ہے۔

پھر اہلسنت علماء سے ابن تیمیہ کے بارے میں ایک کلام نقل کرتا ہے:

ابن تیمیة عبد خذله الله واضلّه واعماه واصمّه واذلّه. وانّه مبتدع ضالّ ومضلّ وجاهل غال.[87]

ابن تیمیہ ایسا شخص تھا جس کو اللہ تعالی نے خوار، گمراہ، اندھا، بہرا اور ذلیل کر دیا ہے۔ وہ ایک بدعتی، گمراہ اور گمراہ کرنے والا اور جاہل اور غالی شخص ہے۔

سوم: ابن تیمیہ کے بارے میں مالکی علماء کا نظریہ

  1. تاج الدین احمد بن محمّد بن عطاء الله اسکندری مالکی(م709ه‍. ق)

وہ بہت ساری تالیفات اور تصنیفات کے مالک ہیں، ذہبی اسکے بارے میں کہتا ہے: “... کان من کبار القائمین علی الشیخ تقی الدین ابن تیمیة” [88]؛ “... وہ شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کے خلاف قیام کرنے والے بزرگوں میں سے تھے۔

  1. عمر بن ابی الیمن لخمی فاکهی مالکی (م734ه‍. ق)

اس نے ابن تیمیہ کی رد میں ایک کتاب لکھی اور اس کا نام “التحفة المختارة فی الردّ علی منکر الزیارة” رکھا ہے.[89

  1. تقی الدین محمّد بن ابی بکر بن عیسی سعدی اخنائی مالکی (م750ه‍. ق)

وہ اہل سنت کے فقیہ، قاضی القضات اور محدث ہیں، اس نے ابن تیمیہ کا مقابلہ کیا اور “المقالة المرضیة فی الردّ علی من ینکر الزیارةالمحمّدیة” کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔.[90]

ابن حجر عسقلانی اس کے بارے میں کہتا ہے:

وکان کثیر الحطّ علی الشیخ ابن تیمیة واتباعه وهو الذی عزّر الشهاب ابن مری وکان علی طریقة الشیخ تقی الدین...[91]

اس نے شیخ ابن تیمیہ اور اسکے پیروکاروں کے خلاف بہت اعتراض کیا ہے اور اسی نے شہاب بن مری کو ادب سکھایا جو شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کی روش پر تھا۔۔۔

وہ ابن تیمیہ کی رد میں مزید کہتا ہے:

فانّه لمّا احدث ابن تیمیة ما احدث فی اصول العقائد و نقضَ من دعائم الإسلام الأرکان والمعاقد، بعد ان کان مستتراً بتبعیة الکتاب والسنة، مظهراً انّه داع إلی الحق هاد إلی الجنة، فخرج عن الإتّباع إلی الإبتداع، و شذّ عن جماعة المسلمین بمخالفة الإجماع.[92]

جب ابن تیمیہ نے اصول عقائد میں بعض بدعتیں ایجاد کیں اور اسلام کے ارکان اور بنیادوں کو ریزہ ریزہ کر دیا بعد اس کے کہ اپنے آپ کو کتاب و سنت کی پیروی کے لبادہ میں چھپا لیا تھا اور یہ اظہار کیا کہ حق کی طرف دعوت کرنے والا اور  بہشت کی طرف ہدایت کرنے والا ہے، لہذا دین کی پیروی سے نکل گیا اور بدعت ایجاد کرنے لگا اور اجماع کی مخالفت کر کے مسلمانوں کی صف سے نکل گیا۔

  1. ضیاء الدین خلیل بن اسحاق مالکی (م776ه‍. ق)

وہ توسل کے بارے میں کہتا ہے:

... ویسأل الله تعالی بجاهه فی التوسل به؛ إذ هو محطّ جبال الأوزار واثقال الذنوب؛ لانّ برکة شفاعته وعظمها عند ربّه لایتعاظمها ذنب. ومن اعتقد خلاف ذلک فهو المحروم الذی طمس الله بصیرته واضلّ سریرته. ألم یسمع قوله تعالی: {وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَآءُوکَ...}.[93]

۔۔۔ وہ اللہ سے آںحضرت کے مقام اور منزلت کو وسیلہ قرار دے کر دعا مانگتا ہے؛ کیونکہ وہی ہیں جو عیوب کے پہاڑوں اور گناہوں کی سنگینی کو نابود کرتا ہے؛ اس لیے کہ اللہ کے نزدیک انکی شفاعت کی برکت اور انکی عظمت کے ساتھ کوئی گناہ مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ جو اس کے برخلاف معتقد ہو تو انکی شفاعت سے محروم ہوگا۔ وہ ایسا شخص ہے کہ اللہ نے اسکی بصیرت چھین لی ہے اور اسکے دل کو گمراہ کیا ہے۔ آیا آپ نے اللہ تعالی کے اس فرمان کو نہیں سنا ہے جس میں فرمایا: ( اور اگر وہ اپنے آپ ظلم کرتے تو آپ کے پاس آتے۔۔۔)۔

زرقانی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے:

 “و لعلّ مراده التعریض بابن تیمیة” [94]؛ “ شاید اسکی مراد ابن تیمیہ پر اعتراض کرنا ہو۔

  1. محمّد برلسی رشیدی مالکی

اسی طرح وہ بھی ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے: وقد تجاسر ابن تیمیة ـ عامله الله بعدله ـ و ادعی انّ السفر لزیارة النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) محرم بالإجماع و انّ الصلاة لاتقصر فیه لعصیان المسافر به، و انّ سائر الأحادیث الواردة فی فضل الزیارة موضوعة، و اطال بذلک بما تمجه الأسماع وتنفر منه الطباع، وقد عاد شؤم کلامه علیه حتّی تجاوز إلی الجناب الأقدس المستحق لکلّ کمال انفس وحاول ما ینافی العظمة والکمال بادعائه الجهة والتجسیم، وأظهر هذا الأمر علی المنابر وشاع وذاع ذکره فی الأصاغر والأکابر وخالف الأئمة فی مسائل کثیرة واستدرک علی الخلفاء الراشدین باعتراضات سخیفة حقیرة فسقط من عین اعیان علماء الأمة، وصار مُثلة بین العوام فضلا عن الأئمة، وتعقب العلماء کلماته الفاسدة وزیفوا حججه الکاسدة واظهروا عوار سقطاته وبینوا قبائح أوهامه وغلطاته، حتّی قال فی حقه العز بن جماعة ان هو إلاّ عبد اضلّه الله واغواه وألبسه رداء الخزی وأرداه...[95]

ابن تیمیہ نے جسارت کی ہے- خدا اس کے ساتھ اپنی عدالت سے رفتار کرےـ اور دعوی کیا ہے کہ قبر پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کرنا اجماعا حرام ہے، اور زیارتی سفر میں نماز قصر نہیں ہوتی ہے؛ کیونکہ اس سفر سے مسافر گناہ گار ہوجاتا ہے، اور یہ کہ زیارت کی فضیلت میں ذکر شدہ تمام احادیث جعلی ہیں۔ اس نے اس موضوع میں اس قدر طویل گفتگو کی ہے کہ کان تھک جاتے ہیں اور نفرت ہوجاتی ہے۔ اس کی نحس گفتگو پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے تجاوز کر کے اللہ کی پاک ذات پہنچ گئی ہے جو ہر کمال کا مستحق ہے اور وہ ایسے مطالب کا معتقد ہے جو اللہ کی عظمت اور کمال کے ساتھ سازگار نہیں ہیں؛ کیونکہ وہ اللہ کے لیے جہت اور جسم کا قائل ہوا ہے اور منبر کے اوپر اس بات کا اعلان اور شائع کیا ہے اور ہر چھوٹے، بڑے کے درمیان اس بات کو نشر کیا ہے اور بہت سارے مسائل میں اماموں کی مخالفت کی ہے اور خلفائے راشدین پر پست اور حقیر اعتراضات کے ساتھ طنز کیا ہے۔ اس لیے امت کے بزرگ علماء کی نظروں سے گر گیا ہے اور عوام کی بھی مذمت سے دوچار ہوا ہے۔ علماء نے اسکی باطل باتوں کا نوٹس لے کر اسکی باطل دلیلوں کو رد کر کے اس کی لغزشوں اور مکروہ اور غلط خیالات کو واضح کر دیا ہے۔ یہاں تک عز بن جماعہ نے اسکے بارے میں کہا ہے: وہ ایسا شخص ہے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہے اور اسکو ہدایت سے دور کردیا ہے اور اسے ذلت کا لباس پہنا دیا ہے اور اسکو نابود کر دیا ہے۔۔۔    

  1. حافظ احمد بن محمّد صدیق غماری مالکی (م1380ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

بل بلغت العداوة من ابن تیمیة إلی درجة المکابرة وانکار المحسوس، فصرح بکلّ جرأة ووقاحة ولؤم ونذالة ونفاق وجهالة انّه لم یصح فی فضل علی (علیه السلام) حدیث اصلا... بل اضاف ابن تیمیة إلی ذلک من قبیح القول فی علی وآل بیته الأطهار، وما دلّ علی انّه رأس المنافقین فی عصره لقول النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) فی الحدیث الصحیح المخرج فی صحیح مسلم مخاطباً لعلی (علیه السلام):  (لایحبک إلاّ مؤمن ولا یبغضک إلاّ منافق)، کما الزم ابن تیمیة بذلک أهل عصره وحکموا بنفاقه... وکیف لایلزم بالنفاق مع نطقه ـ قبّحه الله ـ بما لاینطق به مومن فی حق فاطمة سیدة نساء العالمین وحق زوجها أخی رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وسید المؤمنین، فقد قال فی السیدة فاطمة البتول: انّ فیها شَبَها من المنافقین الذین وصفهم الله بقوله: {فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِن لَّمْ یعْطَوْا مِنْها إِذَا هُمْ یسْخَطُونَ}[96]، قال ـ لعنة الله علیه ـ: فکذلک فعلت هی إذ لم یعطها ابوبکر من میراث والدها (صلّی الله علیه وآله وسلّم). .. فی امثال هذه المثالب التی لایجوز ان یتهم بها مطلق المؤمنین فضلا عن سادات الصحابة، فضلا عن أفضل الأمة بعد رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، فقبّح الله ابن تیمیة وأخزاه و جزاه بمایستحق، و قد فعل والحمدلله؛ إذ جعله امام کل ضالّ مضلّ بعده، و جعل کتبه هادیة إلی الضلال، فما اقبل علیها احد و اعتنی بشأنها إلاّ وصار امام ضلالة فی عصره...[97]

ابن تیمیہ کی دشمنی جان بوجھ کر انکار کرنے اور معلوم کا انکار کرنے کی حد تک پہنچ گئی ہے؛ لہذا جرئت، وقاحت، پستی، نفاق اور جہالت کے ساتھ صراحت سے کہہ دیا ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) کے فضائل کے باب میں حتی ایک حدیث بھی صحیح نہیں ہے۔۔۔ بلکہ ابن تیمیہ نے اسکے علاوہ علی اور انکے اہلبیت اطہار کے بارے میں قبیح باتیں کی ہیں، ونیز ایسے مطالب بیان کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے مناقوں کا سرغنہ ہے؛ کیونکہ پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے صحیح مسلم میں ایک حدیث صحیح نقل ہوئی ہے جس میں علی (علیه السلام) سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں: ( آپ سے محبت  نہیں کرتا ہے مگر مومن اور آپ سے دشمنی نہیں کرتا ہے مگر منافق)۔ جیسا کہ اس کے زمانے کے علماء نے ان مطالب کی وجہ اسکی مذمت کر کے اسکو منافق قرار دیا ہے۔۔۔ کس طرح اس کو منافق قرار نہ دیں- اللہ ابن تیمیہ کو ہر اچھائی سے محروم کر دے ـ ان باتوں کی وجہ سے جن کو ہرگز کوئی مومن کائنات کی عورتوں کی سردار فاطمہ کے بارے میں اور انکے ہمسر اور رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے بھائی اور مومنوں کے سردار کی بارے میں نہیں کہتا ہے۔ وہ جناب فاطمہ بتول کے بارے میں کہتا ہے: وہ منافقوں سے شباہت رکھتی ہے جن کی صفات اللہ نے اپنے کلام میں بیان کی ہیں: ( اگر اس میں سے انکو دیا جائے تو راضی ہوتے ہیں اور اگر ان کونہیں دیا جائے تو ایک دم ناراض ہوجاتے ہیں۔ ابن تیمیہ- جس پر اللہ کی لعنت ہو- نے کہا ہے کہ: فاطمہ نے ایسا کیا ہے؛ جب ابوبکر نے انکے والد (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی میراث میں سے نہیں دیا تو ۔۔۔ اس طرح کے عیوب کی نسبت عام مومنین کی طرف دینا جائز نہیں ہے بزرگ صحابی تو دور کی بات ہے، رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے بعد امت کے بہترین فرد پر تہمت لگانا تو دور کی بات ہے، پس اللہ ابن تیمیہ کو ہر اچھائی سے محروم کرے اور اسکو ذلیل کرے اس کو ایسی سزا دے جس کا وہ مستحق ہے اور الحمد للہ ایسا ہی کیا ہے؛ کیونکہ ابن تیمیہ کے بعد ہر گمراہ اور گمراہ کرنے والے کا رہبر اس کو بنادیا ہے اور اسکی کتابیں گمراہی کی طرف ہدایت کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے۔ لہذا کوئی شخص اس کی طرف مائل نہیں ہوا ہے اور کسی نے اس کے مقام کی پروا نہیں کی ہے، مگر یہ کہ خود ہی اپنے زمانے میں گمراہی کا امام بنا ہے۔۔۔

  1. عبدالله بن محمّد صدیق غماری مالکی (م1413ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

ویدلّ ایضاً علی انّ علیاً (علیه السلام) کان میمون النقیبة، سعید الحظّ، علی نقیض ما قال ابن تیمیة فی منهاجه عنه انّه کان مشئوماً مخذولا، وتلک کلمة فاجرة، تنبئ عمّا فی قلب قائلها من حقد علی وصی النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) واخیه.[98]

اس بات کی دلیل کہ علی (علیه السلام) ایک اچھے اور باشرف انسان تھے برخلاف اس بات کے جو ابن تیمیہ نے “منهاج السنة” میں کہہ دی ہے کہ آنحضرت ایک نامبارک اور رسوا شخص تھے، یہ ایک ناشائستہ بات ہے جو کہنے والے کی دلی کیفیت سے باخبر کرتی ہے کہ وہ  وصی پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اور انکے بھائی (علیہ السلام) سے کینہ رکھتا ہے۔

  1. احمد زروق مالکی

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

... مطعون علیه فی عقائد الإیمان، مثلوب بنقص العقل فضلا عن العرفان...[99]

۔۔۔عقائد کے حوالے سے اس پر اعتراض ہوا ہے اور اسکی مذمت کی گئی ہے اور وہ ذہنی طور پر معیوب تھا، عرفان تو دور کی بات ہے ۔۔۔

  1. زین الدین بن مخلوف مالکی

وہ مالکیوں کے قاضی اور ابن تیمیہ کے ہم عصر تھے، ابن حجر عسقلانی نے اس کو ان علماء میں شمار کیا ہے جنہوں نے ابن تیمیہ کے عقائد کے خلاف قیام کیا ہے.[100]

چہارم: ابن تیمیہ کے بارے میں حنبلی علماء کا نظریہ

ابن تیمیہ پر نہ صرف دیگر مذاہب کے علماء کی طرف سے تنقید کی گئی، بلکہ اس کے ہم مذہب علماء نے بھی اس کی مذمت کی ہے اور اس پر تنقید کیا ہے۔

  1. قاضی شیخ شرف الدین عبدالغنی بن یحیی حرّانی حنبلی (م709ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے ہم عصر تھے، ابن حجر عسقلانی نے انکا شمار ان علماء میں کیا ہے جنہوں نے ابن تیمیہ کے نظریات کی مخالفت کی ہے.[101]

  1. زین الدین عبدالرحمان بن رجب حنبلی (م795ه‍. ق)

شیخ ابوبکر حصنی شافعی اس کے بارے میں کہتے ہیں:

وکان الشیخ زین الدین بن رجب الحنبلی ممّن یعتقد کفر ابن تیمیة، وله علیه الردّ. وکان یقول بأعلی صوته فی بعض المجالس: معذور السبکی یعنی فی تکفیره.[102]

شیخ زین الدین بن رجب حنبلی من جملہ ان لوگوں میں سے تھا جو ابن تیمیہ کو کافر سمجھتا تھا اور اس کی رد میں کتاب لکھی۔ لہذا بعض مجالس میں بہت اونچی آواز میں کہتا تھا: سبکی ابن تیمیہ کی تکفیر کرنے میں حق بجانب ہے۔

  1. شهاب الدین احمد بن محمّد بن عمر خفاجی حنبلی (م1069ه‍. ق)

وہ قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کرنے کے بارے میں کہتا ہے:

وزیارة قبره سنة مأثورة مستحبة مجمع علیها، أی علی کونها سنة، ولا عبرة بمن خالف فیها کابن تیمیة... وأعلم انّ هذا الحدیث هو الذی دعا ابن تیمیة ومن تبعه کابن القیم إلی مقالته الشنیعة التی کفروه بها، وصنف فیها السبکی مصنفاً مستقلا وهی منعه من زیارة قبر النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و شدّ الرحال الیه... توهم انّه حمی جانب التوحید بخرافات لاینبغی ذکرها؛ فانّها لاتصدر عن عاقل فضلا عن فاضل سامحه الله عزّوجلّ.[103]

اور آنحضرت کی قبر کی زیارت کرنا مستحب ہے جس کا ذکر روایات میں ہوا ہے اور پیغمبر کی قبر کی زیارت مستحب ہونے پر تمام علماء کا اجماع ہے۔ اور ابن تیمیہ جیسے شخص کی جانب سے آنحضرت کی زیارت کی مخالفت کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔

اور جان لو کہ یہی وہ حدیث ہے جس کی وجہ سے ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے اس کے پیروکاروں نے نازیبا باتیں کی ہیں جس کی وجہ سے اس کو کافر قرار دیا گیا ہے، اور سبکی نے اس کے بارے میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے، اور وہ ہے، قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت اور اس کے لیے سفر کی ممانعت۔۔۔

اس کو یہ گمان ہوا ہے کہ ایسے خرافات کو ذکر کر کے توحید کی حمایت کی ہے جو بیان کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں، ایسے خرافات جن کو کوئی عاقل شخص بیان نہیں کرتا فاضل تو دور کی بات ہے۔ اللہ تعالی اس سے چشم پوشی کرے اور اس کو معاف کر دے۔

اور ابن تیمیہ کی جانب سے  حدیث: “لاتجعلوا قبری عید”، سے استدلال کرنے کی رد میں کہتا ہے:  “لاحجة فیه... فانّه نزعة شیطانیة”[104]؛ “ اس میں کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔۔۔  فقط ایک شیطانی رجحان ہے۔

پنجم:ابن تیمیہ اس دور کے غیر سلفیوں کی نظر میں

عرب دنیا کے اس دور کے روشن خیال اور مفکرین نے بھی ابن تیمیہ کے تکفیری نظریات کے خلاف موقف اختیار کیا ہے اور اس کے افکار کا تنقیدی جائزہ لیا ہے، ذیل میں کچھ نمونوں کو ذکر کیا جاتا ہے:

  1. دکتر محمود سید صبیح

وہ کہتا ہے:

وقد تتبعت کثیراً من أقوال مبتدعة هذا العصر فوجدت أکثر إستدلالهم بابن تیمیة، فتتبعت بحول الله وقوّته کلام ابن تیمیة فیما یقرب من أربعین الف صفحة أو یزید فوجدته قد اخطأ اخطاء شنیعة فی حق رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وأهل بیته وصحابته، وأنت خبیر انّ جناب رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وأهل بیته اهمّ عندنا أجمعین من جناب ابن تیمیة...[105]

میں نے اس دور کے بدعتیوں کے اقوال پر تحقیق کی اور مشاہدہ کیا کہ انکے اکثر استدلال ابن تیمیہ سے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالی کی مدد سے ابن تیمیہ کی باتوں پر مشتمل تقریبا چالیس ہزار یا اس سے بھی زیادہ صفحات کا مطالعہ کیا اور مجھ معلوم ہوا کہ وہ رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اور انکے اہلبیت اور اصحاب کے حق میں ناروا غلطیوں کا مرتکب ہوا ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ جناب رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اور انکے اہلبیت ہم مسلمانوں کے نزدیک جناب ابن تیمیہ سے اہم تر ہیں۔۔۔

اسی طرح وہ کہتا پے:

ودرج المسلمون علی تعظیم قرابة ونسب رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) حتّی خرج ابن تیمیة فی القرن الثامن الهجری وکان بینه وبین النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وأهل بیته ثأراً، فما وجد من خصیصة من خصائصهم إلاّ نفاها أو قلّلها أو صرف معناها فضلا عن سوء أدبه فی التعبیر والکلام علیهم... وما وجد من أمر قد یختلط علی العامة إلاّ وتکلّم و زاده تخلیطاً. وفی سبیل ذلک نفی ابن تیمیة کثیراً جدّاً من خصائص النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وفضله وفضائل أهل بیته.[106]

مسلمانوں نے رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے اقربا اور ان سے منسوب افراد کی تعظیم میں کئے مدارج طے کئے ہیں یہاں تک کہ ابن تیمیہ آٹھویں ہجری قمری میں میں ظاہر ہوا اور اسکے اور نبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اور انکے اہلبیت کے درمیان دشمنی تھی، لہذا اس نے انکے تمام فضائل اور خصوصیات کا انکار کیا یا انکی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی یا ان کا معنی بدل دیا علاوہ ازایں اپنی تعبیرات اور کلمات میں انکی شان میں گستاخی کی۔۔۔ ان تمام مسائل کے بارے میں گفتگو کی  جو عوام کے لیے مبہم تھے اور اس نے ابہام میں اضافہ کیا۔ اس سلسلے میں پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی خصوصیات  اور انکے اور انکے اہلبیت کے فضائل کا شدت سے انکار کیا۔

اسی طرح ابن تیمیہ کے بارے میں مزید کہتا ہے

وکان ابن تیمیة احد جنود یزید بن معاویة الذین استهتروا بفضیلة أهل البیت وانتقصوهم وقتلوا الإمام الحسین سید شباب أهل الجنة أمام عینیه، وکم من مبغض لأهل البیت یرید قتل الحسین وأهل بیته حیاً وبعد شهادته، ولا یطیق سماع حتّی أسمائهم، فمابالکم بفضیلتهم.[107]

ابن تیمیہ یزید بن معاویہ کے سپاہیوں میں سے ایک تھا جنہوں نے اہلبیت کے فضائل کو اہمیت نہیں دی اور انکے فضائل کو گھٹایا اور جوانان بہشت کے سردار امام حسین (علیہ السلام) کو شہید کر دیا۔ اہلبیت سے بغض رکھنے والے بہت سارے لوگ تھے جو امام حسین (علیہ السلام) اور انکے اہلبیت کو زندگی میں اور انکی شہادت کے بعد قتل کرنا چاہتے تھے، حتی انکے نام سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، انکے فضائل سننا تو دور کی بات ہے۔  

  1. دکتر محمّد سعید رمضان بوطی

وہ شام کی شریعت کالج کے پرنسپل ہیں، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

وها قد رأینا انّ ابن تیمیة لم یبال ان یخالف السلف کلّهم ممثّلین فی أصحاب مالک وأحمد والشافعی وأبی حنیفة...[108]

ہم نے دیکھا ہے کہ ابن تیمیہ کو تمام سلف من جملہ مالک، احمد، شافعی اور ابوحنیفہ کے اصحاب کی مخالفت کرنے کی کوئی پروا نہیں تھی۔۔۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

واعلم انّ زیارة مسجده و قبره (صلّی الله علیه وآله وسلّم) من اعظم القربات إلی الله عزّوجلّ، اجمع علی ذلک جماهیر المسلمین فی کلّ عصر إلی یومنا هذا، لم یخالف فی ذلک إلاّ ابن تیمیة غفرالله له، فقد ذهب إلی انّ زیارة قبره (صلّی الله علیه وآله وسلّم) غیر مشروعة...[109]

جانلو کہ پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی مسجد اور قبر کی زیارت کرنا خدائے عزوجل کے نزدیک ہونے کا بہترین ذریعہ ہے، اور اس بات پر ہر زمانے میں تمام مسلمان متفق تھے اور آج تک متفق ہیں، اور ابن تیمیہ کے علاوہ کسی نے اسکی مخالفت نہیں کی ہے، خدا اس کے گناہوں کو بخش دے، وہ معتقد ہے کہ قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کرنا جائز نہیں ہے۔۔۔

  1. دکتر عمر عبدالله کامل

وہ مکہ مکرمہ کے علماء میں سے ہیں، کتاب “نقض قواعد التشبیه من اقوال السلف” میں کہتا ہے:

هذا الکتاب ردّ مختصر علی أهمّ ما ورد من افکار وکذا المنطلقات التی بنیت علیها فی الکتاب الموسوم بالعقیدة التدمریة والمنسوب للشیخ ابن تیمیة، وکلّ یؤخذ من کلامه ویردّ، خاصة وانّ هذه الأفکار والآراء تعارض ما یعتقده جمهور الأمة المعصومة، وهنا مکمن الخطر.[110]

یہ کتاب ابن تیمیہ کی کتاب “العقیدة التدمریة” کے مہم ترین افکار اور مطالب کی مختصر رد ہے، اور تمام علماء نے اس کی باتوں کی رد میں لکھا ہے، خاص طور اس لیے کہ اس کے افکار اور آراء امت کی بھاری اکثریت کی رائے کی مخالف ہے جو خطا سے پاک ہے اور یہ خطرناک بات ہے۔

اسی طرح اپنی دوسری کتاب میں ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

ولازم استحباب زیارة قبره (صلّی الله علیه وآله وسلّم) استحباب شدّ الرحال الیها؛ لانّ زیارته للحاج بعد حجّه لاتمکن بدون شدّ الرحل، فهذا کالتصریح باستحباب شدّ الرحل لزیارته (صلّی الله علیه وآله وسلّم).

وقد درج علماء الإسلام وفی مقدمتهم الحنابلة علی هذا الفهم واتفقوا علی جواز شدّ الرحال واستحباب زیارة قبر النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلی ان جاء ابن تیمیة فی القرن الثامن وخالف عامة المسلمین وقال: لاتستحب زیارة قبر النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم). ..

وقد نقلنا اجماع المسلمین علی مشروعیة زیارة قبر النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) فی مختلف الأزمنة وانّه لم یخالف فی ذلک غیر ابن تیمیة ومن تبعه، فهل من الحکمة ان نأخذ بقوله وفهمه للمسألة وندع اجماع أئمة المسلمین فی عصور ما قبل ابن تیمیة؟ مع انّ اجماعهم فی عصر واحد حجة ملزمة، فضلا عن أقوال أکثر أئمة المسلمین بعد عصر ابن تیمیة.[111]

قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت مستحب ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زیارت کے لیے سفر کرنا بھی مستحب ہو؛ کیونکہ حاجی حج انجام دینے کے بعد آنحضرت کی قبر کی زیارت کرنا چاہے تو سفر کے بغیر زیارت کرنا ممکن نہیں ہے، پس یہ بات گویا آنحضرت (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کا سفر مستحب ہونے پر واضح دلیل ہے۔

 علمائے اسلام نے اور سب سے پہلے حنبلی علماء نے یہی راستہ اختیار کیا ہے اور قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کے جواز اور زیارت کے مستحب ہونے پر سب متفق ہیں یہاں تک کہ آٹھویں صدی میں ابن تیمیہ آگیا اور عام مسلمانوں کی مخالفت کی اور کہا: قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت مستحب نہیں ہے۔۔۔

ہم نے قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے جواز پر مختلف زمانوں میں مسلمانوں کے اجماع کو نقل کیا ہے اور یہ کہ اس مسئلہ میں ابن تیمیہ اور اسکے پیروکاروں کے سوا کسی نے مخالفت نہیں کی ہے۔ آیا یہ بات معقول ہے کہ اس مسئلہ میں ابن تیمیہ کے قول اور فہم کو اختیار کریں اور ابن تیمیہ سے پہلے گزرے ہوئے مسلمانوں کے اماموں کے اجماع کو چھوڑدیں؟ جبکہ کسی بھی زمانے میں مسلمانوں کا اجماع لازم العمل ہے تو ابن تیمیہ کے بعد کے مسلمانوں کے اکثر اماموں کے اقوال تو یقینا لازم العمل ہیں۔

  1. شیخ یوسف بن هاشم رفاعی

وہ کویت میں اہل سنت کے مشہور علماء میں سے ہیں، ابن تیمیہ کے بارے کہتا ہے:

رحم الله خصوم الشیخ ابن تیمیة؛ فانّهم لما خرج علی الإجماع فی بعض آرائه، أقاموا له المناظرات الکثیرة المفتوحة فی مصر ودمشق بحضور العلماء والوزراء وطلبة العلم...[112]

خدا ابن تیمیہ کے دشمنوں پر رحمت کرے جب وہ اپنے بعض نظریات میں اجماع سے نکل گیا تو اس کے ساتھ شہروں میں خاص طور پر دمشق میں علماء، وزراء اور طلاب کی موجودگی میں اعلانیہ مناظرے منعقد کر دیے۔۔۔

  1. محیی الدین حسین بن یوسف إسنوی

وہ مصر کی الازہر یونیورسٹی کے علماء میں سے ہیں، ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

انّ لابن تیمیة فی مسألة زیارة قبر الرسول (صلّی الله علیه وآله وسلّم) رأی شاذ وکلام کثیر فیه تضارب وتناقض وتعمیم وتهویل. ومن قرأ له (الجواب الباهر فی زوار المقابر) أو (الردّ علی الأخنائی) وقد طبع مؤخراً فی (744) صفحة من القطع الکبیر، أو قرأ له فتاواه أو ما نقله بعض تلامیذه عنه کابن عبدالهادی فی (الصارم المنکی)، من قرأ ذلک کلّه یعرف مدی التشتت الموجود فی کلام الرجل. وقد قام علیه علماء عصره فی هذه المسألة وغیرها و ردّوا علیه...[113]

قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے مسئلہ میں ابن تیمیہ کی رائے منفرد ہے اور اس حوالے سے اس نے طویل بحث کی ہے جس میں مختلف آراء ہیں، تناقض گوئی ہے اور عوام کو دھوکہ اور فریب دینے کی باتیں ہیں۔ جو شخص کتاب (الجواب الباهر فی زوار المقابر) اور کتاب (الردّ علی الأخنائی) کا مطالعہ کرے جو حالیہ دنوں میں 744 صفحات پر مشتمل موٹی جلد میں شائع ہوئی ہے، یا اس کی کتاب فتاوی کا مطالعہ کرے یا ان باتوں کا مطالعہ کرے جن کو ابن عبدالہادی جیسے اسکے بعض شاگردوں نے کتاب (الصارم المنکی) میں اس سے نقل کی ہیں تو سمجھ جائے گا کہ اس شخص کی باتوں میں کس قدر اختلاف اور تناقض گوئی ہے۔ لہذا اس کے ہم عصر علماء نے اس مسئلہ اور دیگر مسائل کے بارے میں اس کے خلاف قیام کیا ہے اور اسکی رد میں کتابیں لکھی ہیں۔۔۔

  1. ابوالفداء سعید عبداللطیف فوده

وہ اردن کے اس دور کے علماء میں سے ہیں، ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

و امّا عندنا فما کتبه واضح فی مذهب الضلال ونصّ صریح فی نصرة مذهب المجسمة والکرامیة المبتدعة، ونحن فی ردّنا علیه ونقضنا لکلامه لایتوقف هجومنا لصدّ افکاره وتوهّماته علی موافقة الناس لنا، بل انّنا نعلم انّ کثیراً منهم علی عینیه غشاوة، نرجو من الله تعالی ازالتها بماتقوم به من الردود والتنبیهات.[114]

اما ہمارے نزدیک جو کچھ اس نے لکھا ہے اس کے بارے میں واضح ہے کہ وہ سب کے سب گمراہ مذہب کے نظریات ہیں اور بدعتی فرقہ اہل تجسیم اورکرامیہ کی واضح حمایت ہے۔ اسکے افکار کی رد اور اسکی باتوں کو نقض کرنے میں ہمارا ہدف فقط یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے نظریات اور توہمات پر  حملہ کریں تاکہ لوگ ہمارے ہم خیال باقی رہیں، بلکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے۔ لہذا ہماری دعا ہے کہ ابن تیمیہ کی رد میں لکھے گئے نوشتہ جات اور خبرداریوں کے ذریعے اللہ تعالی انکی آنکھوں سے پردہ ہٹا دے۔

  1. عبدالغنی حماده

وہ وہابیوں کی رد میں کہتا ہے:

انّ شیخهم ابن تیمیة قال عنه علامة زمانه علاء الدین البخاری: انّ ابن تیمیة کافر، کما قاله علامة زمانه زین الدین الحنبلی انّه یعتقد کفر ابن تیمیة، و یقول: انّ الإمام السبکی معذور بتکفیر ابن تیمیة؛ لانّه کفّر الأمة الإسلامیة وشبّهها بالیهود والنصاری فی تفسیره عند قوله تعالی: {اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللهِ}. وقال علماء المذهب: انّ کتبه مشحونة بالتشبیه والتجسیم لله تعالی.[115]

انکا شیخ ابن تیمیہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں اسکے زمانے کے علاّمه علاء الدین بخاری نے کہا ہے: ابن تیمیہ یقینا کافر ہے ، جیسا کہ اس کے زمانے کے علامہ زین الدین حنبلی معتقد تھے کہ ابن تیمیہ کافر ہے اور کہتے تھے: یقینا امام سبکی نے ابن تیمیہ کی تکفیر کر کے غلطی نہیں کی ہے؛ کیونکہ اس نے امت اسلامی کی تکفیر کی ہے اور اللہ تعالی کے اس قول: {اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللهِ}. کی تفسیر میں امت اسلامی کو یہود و نصارا سے تشبیہ دی ہے۔ اور مذہب کے علماء نے کہا ہے: یقینا ابن تیمیہ زندیق ہے؛ کیونکہ اس کی کتابیں خداوند متعال کے متعلق تشبیہ اور تجسیم کے اعتقاد سے بھری ہوئی ہیں۔

  1. دکتر شیخ یوسف حسن شرّاح

وہ کویت کی شریعت اور اسلامی مطالعات کالج کے استاد ہیں ابن تیمیہ کے نزدیک بدعت کے عنوان سے ایک مقالہ میں کہتا ہے:

... الذی یراه کثیر من المتطرفین المخالفین لأهل السنة والجماعة بمثابة المرجع الدینی، الذی عصم الله کلامه من الخطأ، مع انّه لیس نبیاً معصوماً کما انّ رأیه لیس هو رأی علماء الأمة جمیعاً، حتّی نعتبره اجماعاً وحجة شرعیة...[116]

ابن تیمیہ وہ شخص ہے جس کو بہت سارے منحرف افراد اور اہل سنت و الجماعت کے مخالفین، دینی مرجع اور ایسا شخص سمجھتے ہیں جس کے کلام کو اللہ نے غلطی سے محفوظ رکھا ہے! باوجود اس کے کہ وہ کوئی معصوم پیغمبر نہیں تھا، جیسا کہ اسکی رائے تمام علمائے امت کی رائے شمار نہیں ہوتی ہے تا اینکہ اس کو اجماع قرار دے کر شرعی حجت اور دلیل سمجھیں۔۔۔

  1. شیخ شعیب ارناؤوط

وہ قبر پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت اور آنحضرت کے حجرہ ساتھ تذلل اور تسلیم کی حالت میں کھڑے ہونے کے بارے میں ذہبی کے کلام پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں:  

قصد المؤلّف بهذا الاستطراد الردّ علی شیخه ابن تیمیة الذی یقول بعدم جواز شدّ الرحل لزیارة قبر النبی...[117]

مؤلف کا مقصد اس مطلب سے جو ضمنا نقل کیا ہے اپنے شیخ ابن تیمیہ کی بات کو رد کرنا ہے جو قبر پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کے عدم جواز کا معتقد ہے۔۔۔

  1. محمّد زکی ابراهیم

وہ کہتا ہے:

الخلاف هو علی التوسل بالمیت الصالح ولم یکن یختلف علی جوازه أحد من السلف إلی القرن السابع، حیث ابتدع ابن تیمیة هذا الخلاف الفتان.[118]

اختلاف اس میت سے توسل میں ہے جو توسل کی اہلیت رکھتا ہے، اور ساتھویں صدی تک علمائے سلف میں سے کسی نے اس کے جواز میں اختلاف نہیں کیا ہے یہاں تک کہ فتنہ گر ابن تیمیہ نے اس بدعت کی بنیاد رکھی۔

  1. شیخ عبدالله هروی ( حبشی سے مشہور)

وہ کہتا ہے:

فانّه یحتج بالحدیث الموضوع الذی یوافق هواه ویحاول ان یصحّحه، ویضعّف الأحادیث والأخبار الثابتة المتواترة التی تخالف رأیه وعقیدته... وهذا لایستغرب صدوره من رجل بلغ سموم الفلاسفة ومصنفاتهم.[119]

ابن تیمیہ کی عادت یہ ہے کہ اپنی ذاتی خواہش کی موافق جعلی حدیث سے استدلال کرکے اس حدیث کو صحیح قرار دینے کی کوشش کرتا ہے، اس کے برخلاف صحیح اور متواتر احادیث اور اخبار کو اسکی رائے اور عقیدہ کی مخالف ہونے کی وجہ سے تضعیف کرتا ہے۔۔۔ اس طرح کے کام ایسے شخص سے بعید اور عجیب نہیں جس نے فلاسفہ کے زہر اور انکی تصنیفات کو نگل لیا ہو۔

ششم: ابن تیمیہ اس دور کے سلفیوں کی نظر میں

ابن تیمیہ پر نہ صرف دیگر مذاہب کے علماء نے تنقید کی ہے بلکہ اس دور کے بعض سلفیوں نے بھی اس کے آراء اور نظریات پر تنقید اور چانچ پڑتال کی ہے، ان سب کو یہاں پر ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے ان میں سے بعض کو یہاں پر ذکر کرتے ہیں:

  1. دکتر عیسی بن مانع حمیری، سلفی

وہ دبئی کے ڈائریکٹر جنرل اوقاف اور امور اسلامی ہے، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

وهذا ترک من ابن تیمیة لمذهب السلف بالکلیة، وادعاء علیهم بمذهب غیر مذهبهم ودخول فی مضایق وعره وشنائع أمور استبشعها العلماء واستبعدوها. وقد رأینا لهذا المخالف ومن شایعه الفاظاً شنیعة لم ترد فی الکتاب والسنة ولم تنطق بها أحد من السلف، فأثبتوا الجسمیة صراحة واثبتوا الجهة والحدّ والتحیز والحرکة والصوت والإنتقال والکیف وغیر ذلک من التجسیم الصریح.[120]

اور یہ درحقیقت ابن تیمیہ کی جانب سے مکمل طور پر مذہب سلف سے روگردانی ہے اور سلف کے لیے ایسے مذہب کا دعوی کرتا ہے جو انکا مذہب نہیں ہے،  پست اور سخت مشکلات میں داخل ہوا ہے، ایسے امور جن کو علماء برا سمجھ کر اپنے آپ سے دور کیا ہے۔ ہم نے اس مخالف اور اس کے پیروکاروں سے ایسے نازیبا الفاظ دیکھے ہیں جو کتاب و سنت میں نہیں پائے جاتے ہیں اور سلف میں سے کسی فرد نے ہرگز ایسی بات نہیں کی ہے۔ وہ جسمیت کو صراحت سے ثابت کرتے ہیں و نیز جہت، حد، مکان، حرکت، آواز، انتقال اور کیف اور دیگر جسمانی عوارض کو اس کے لیے ثابت سمجھتے ہیں۔ 

وہ اس طرح کہتے ہیں:

فالحاصل من هذا انّه یتبین لک انّ ابن تیمیة عشوائی فی فهمه ولا یمشی علی قاعدة مستقیمة بل یتبع مایبدو له إذا استطاع بذلک أن ینصر مذهبه.[121]

ان مطالب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کے لیے واضح ہوا کہ ابن تیمیہ ایک بے بصیرت شخص ہے اور درست قواعد کے مطابق نہیں چلتا ہے، بلکہ فقط اس بات کی پیروی کرتا ہے جس سے اس کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔

  1. حسن بن فرحان مالکی سلفی

حسن بن فرحان مالکی اگرچہ سلفی ہے اور اپنے مذہب کا پابند اور متعصب ہے، لیکن اس کے الفاظ، گفتگو اور کتابوں میں ایسے افکار مل جاتے ہیں کہ جو کسی حد تک اسکی آزاد اندیشی اور انصاف پسندی پر دلالت کرتے ہیں۔ اب ہم اس کے اس طرح کے افکار کے کچھ نمونے ذکر کرتے ہیں:

 وہ شدت پسند سلفیوں کے بارے میں کہتے ہیں:

... و یساعده علی ذلک أیضاً انّ غلاة السنة لهم الصوت الأقوی داخل الوسط السنّی السلفی علی وجه الخصوص، فلذلک لا نستغرب هذه الانحسارات عن السنة إلی مذاهب أخری... و سیبقی الغلو السلفی من أکبر الأمور المساعدة علی الإنتقال الحادّ إلی الشیعة مالم یسارع عقلاء السلفیة بنقد الغلو داخل التیار السلفی نفسه، ذلک الغلو المتمثّل فی کثرة الأحادیث الضعیفة والموضوعة الّتی نشدّ بها المذهب وکثرة التکفیرات المخالفة للمنهج السلفی، کتکفیر أبی حنیفة والأحناف وتکفیر الشیعة والجهمیة والمعتزلة.[122]

۔۔۔ اس مطلب کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اہل سنت کے غالی، خاص طور پر سلفی سنیوں کے درمیان طاقتور آواز کے مالک ہیں، اسی وجہ سے مذہب اہل سنت سے اس طرح نکل کر دوسرے مذاہب میں جانے کو ہم تعجب کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں۔۔۔ اور بہت جلد، سلفی غلو، سب سے بڑا سبب ہوگا جو اہل سنت کا شیعہ مذہب کی طرف جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مگر یہ کہ سلفی عقلاء سریع اقدام کریں اور غلو اور شدت پسندی کو اپنے اندر ہی حل کریں، وہ غلو جو کثیر تعداد میں موجود ضعیف اور جعلی احادیث میں ظاہر ہوا جن کے ذریعہ ہم اس مذہب کی تائید کرتے ہیں اور سلفی روش کے مخالفین کی تکفیر میں مدد لیتے ہیں، جیسے ابوحنیفہ، احناف شیعہ، جہمیہ اور معتزلہ کی تکفیر۔

وہ محمد بن عبدالوہاب کے بارے میں کہتا ہے:

وکتاب التوحید أو کتاب کشف الشبهات أو غیرهما من کتب الشیخ ورسائله انّما الّفها بشر یخطیء ویصیب ولم یؤلّفها ملک ولا رسول، فلذلک من الطبیعی جداً ان یخطئ ولا مانع شرعاً ولا عقلا من وقوع الأخطاء من الشیخ؛ سواء کانت کبیرة أو صغیرة، کثیرة أو قلیلة، فقهیة أو عقدیة (ایمانیة)...[123]

کتاب (التوحید) اور کتاب (کشف الشبهات) یا اس کے علاوہ شیخ کی دیگر کتابیں اور رسالے ایک بشر کی لکھی ہوئی ہیں جو ممکن ہے خطا کرے یا حقیقت تک پہنچ جائے، ان کو فرشتہ یا رسول نے نہیں لکھا ہے؛ لہذا غلطی کرنا ایک معمولی بات نظر آرہی ہے اور شرعی اور عقلی طور بھی شیخ سے غلطی ہونے میں کوئی ممانعت نہیں ہے، چاہے وہ غلطیاں بڑی ہوں یا چھوٹی، زیادہ ہوں یا کم، فقہی ہوں یا عقیدتی اور ایمانی۔۔۔

وہ اہل بیت (علیهم السلام) کے ساتھ وہابی بزرگوں کی دشمنی کے بارے میں کہتا ہے:

ابن کثیر کان فیه نصب إلی حدّ کبیر، و الذهبی إلی حدّما،

امّا ابن تیمیة إلی حدّ لا ینکره باحث منصف، فاشتهر عنه

النصب وکتبه تشهد بذلک، ولذلک حاکمه علماء عصره

علی جملة أمور منها بغض علی، ولم یحاکموا غیره من

الحنابلة، مع انّ فیهم نصباً ورثوه عن ابن بطة و ابن حامد والبربهاری و ابن أبی یعلی وغیرهم. و التیار الشامی العثمانی له أثر بالغ علی الحیاة العلمیة عندنا فی الخلیج، وهذا من أسرار حساسیتنا من الثناء علی الإمام علی أو الحسین، ومیلنا الشدید لبنی امیة، فتنبّه!![124]

ابن کثیر ایسا شخص ہے جو بہت حد تک دل میں اہل بیت (علیهم السلام) دشمنی اور عداوت رکھتا تھا، اور کسی حد تک ذہبی بھی ایسا تھا۔ لیکن اہل بیت کے ساتھ ابن تیمیہ کی دشمنی اس قدر زیادہ تھی کہ انصاف کے ساتھ بحث کرنے والا اس سے انکار نہیں کر سکتا ہے، لہذا اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ناصبی ہے، اور اس کی کتابیں بھی اس بات پر گواہ ہیں، اسی وجہ سے اس کے ہم عصر علماء نے اس کو بعض امور  من جملہ بغض علی (علیہ السلام) کی وجہ سے اس کے خلاف کیس دائر کیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ دیگر حنابلہ کے خلاف کیس نہیں کیا ہے جبکہ وہ بھی دشمنی اور عداوت رکھتے تھے جو  ابن بطه، ابن حامد، بربهاری اور ابن ابی یعلی وغیرہ سے ارث میں ملی تھی، خلیج میں ہماری علمی زندگی پر شام کے عثمانی مکتب کا بڑا اثر ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم امام علی اور امام حسین کی مدح و ثنا کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں اور بنی امیہ کی جانب شدید رغبت رکھتے ہیں، پس خبردار ہوجاؤ۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

ثمّ تتابع علماء الشام کابن تیمیة و ابن کثیر و ابن القیم ـ و اشدّهم ابن تیمیة ـ علی التوجس من فضائل علی و اهل بیته، وتضعیف الأحادیث الصحیحة فی فضلهم، مع المبالغة فی مدح غیرهم!! وعلماء الشام ـ مع فضلهم ـ بشر لا ینجون من تأثیر البیئة الشامیة الّتی کانت اقوی من محاولات الإنصاف، خاصّة مع استئناس هؤلاء بالتراث الحنبلی...[125]

پھر علمائے شام ایک دوسروں کے پیچھے جیسے ابن تیمیہ، ابن کثیر، اور ابن قیم آئے، اور ان میں سے علی اور اس کے اہل بیت کے فضائل چھپانے اور انکے فضائل میں موجود صحیح روایات کو تضعیف کرنے میں سب سے سخت ابن تیمیہ ہے، جبکہ دوسروں کی مدح میں بہت مبالغہ کرتا ہے۔ شام کے علماء، با فضیلت ہونے کے باوجود ایسے بشر ہیں جو شام کے ماحول سے متاثر تھے، ایسا ماحول جو منصفانہ نہیں تھا۔ خاص طور یہ کہ وہ حنبلیوں کی میراث سے مانوس تھے۔۔۔

وہ کہتا ہے:

حُوکِمَ ابن تیمیة فی عصره علی بغض علی و اتّهمه مخالفوه من علماء عصره بالنفاق و اخطئوا فی ذلک و اتّهموه بالنصب و اصابوا فی کثیر من ذلک، لقوله: انّ علیاً قاتل للرئاسة لا للدیانة، و زعمه انّ اسلام علی مشکّک فیه لصغر سنه و انّ تواتر إسلام معاویة ویزید بن معاویة أعظم من تواتر إسلام علی!! و انّه کان مخذولا، وغیر ذلک من الشناعات التی بقی منها مابقی فی کتابه منهاج السنة. و ان لم تکن هذه الأقوال نصباً فلیس فی الدنیا نصب.[126]

ابن تیمیہ پر اس کی زندگی میں علی (علیہ السلام ) کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے کیس ہوا اور اس کے ہم عصر علماء نے اس پر منافقت کی تہمت لگائی۔ لیکن اس میں غلطی کی اور اس پر اہل بیت (علیہم السلام) کی دشمنی کی تہمت لگائی اور بہت سارے موارد میں حقیقت تک پہنچ گئے؛ کیونکہ وہ کہتا ہے؛ علی نے ریاست کے لیے جنگ کی نہ دین کے لیے۔ اور اس کا یہ گمان کہ علی کا اسلام مشکوک ہے کیونکہ وہ ایک کم سن بچہ تھا، اور معاویہ اور یزید بن معاویہ کے اسلام کا تواتر علی کے اسلام کے تواتر سے اہم تھا، اور یہ کہ علی خوار ہوگئے ہیں، اور دیگر نازیبا اور پست باتیں جو اسکی “منهاج السنة” نام کی کتاب میں موجود ہیں۔ اگر یہ باتیں حضرت علی کے ساتھ دشمنی شمار نہیں ہوتی ہیں تو پھر دنیا میں کوئی دشمن نہیں ہے۔

  1. محمّد ناصرالدین البانی، سلفی (م1420ه‍. ق)

وہ حدیث غدیر کے بارے میں کہتا ہے:

فمن العجیب حقاً ان یتجرأ شیخ الإسلام ابن تیمیة علی انکار هذا الحدیث وتکذیبه فی (منهاج السنة) کما فعل بالحدیث المتقدم هناک...[127]

حقیقت میں تعجب کی بات ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے جرئت کی ہے اور (منهاج السنة) میں اس حدیث کا انکار کیا ہے اور تکذیب کی ہے جیسا کہ گذشتہ حدیث کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا ہے۔۔۔۔

اسی طرح حدیث غدیر کے بارے میں کہتا ہے:

فقد کان الدافع لتحریر الکلام علی الحدیث وبیان صحته انّنی رأیت شیخ الإسلام ابن تیمیة، قد ضعّف الشطر الأول من الحدیث، وأمّا الشطر الآخر فزعم انّه کذب، وهذا من مبالغاته الناتجة فی تقدیری من تسرعه فی تضعیف الأحادیث قبل أن یجمع طرقها ویدقق النظر فیها. والله المستعان.[128]

اس حدیث کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرنے اور اسکے صحیح ہونے کو بیان کرنے کی وجہ یہ تھی کہ میں نے مشاہدہ کیا کہ ابن تیمیہ نے اس حدیث کے پہلے حصہ کو تضعیف کیا ہے اور آخری حصہ کے بارے میں گمان کیا ہے کہ جھوٹ ہے، اور اس عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ میری نظر میں وہ احادیث کی تضعیف میں بہت سرعت اور عجلت سے کام لیتا ہے، حدیث کے طرق کو جمع کرنے اور اس میں دقت کرنے سے پہلے اظہار نظر کرتا ہے۔ اور اللہ ہی اس کا ناصر ہے۔

وہ حدیث ولایت کی سند صحیح قرار دینے کے بعد کہتا ہے:

هذا کلّه من بیان شیخ الإسلام وهو قوی متین کما تری، فلا أدری بعد ذلک وجه تکذیبه للحدیث إلاّ التسرع والمبالغة فی الردّ علی الشیعة، غفر الله لنا وله.[129]

یہ سارا ابن تیمیہ کا بیان تھا اور یہ بیان قوی اور متین ہے، لیکن مجھ نہیں معلوم اس نے اس حدیث کی تکذیب کیوں کی ہے، اور میری نظر میں اسکی وجہ فقط یہ تھی کہ وہ شیعوں کی رد میں عجلت سے کام لیتا ہے اور مبالغہ کرتا تھا، اللہ تعالی ہمیں اور اس کو بخش دے۔

  1. محمّد بن علوی مالکی

وہ بہت عرصے سے سعودی عرب اور مکہ مکرمہ میں ساکن تھے اور مسجد الحرام میں تدریس کرتے تھے اور علم حدیث، فقہ اور تاریخ میں ماہر تھے اور تقریبا تین سال ہوا ہے کہ فوت ہوگئے ہیں۔ وہ ایک سنی عالم دین تھے اور سعودی عرب میں وہابیوں کی مخالفت کا پرچم بلند کیا اور اپنی باتوں اور کتابوں کے ذریعے وہابیوں کے انحرافات کا مقابلہ کیا۔ اس کی کتابیں سعودی عرب اور دنیا بھر میں شائع ہونے کے بعد وہابیوں نے اس کے خلاف کیس کیا اور عدالت نے سزائے موت دینے کا حکم دیا۔  لیکن اس نے دعوی کیا کہ وہابیوں کے بزرگوں کے ساتھ بحث کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس نے وہابیوں کے ساتھ بہت دفعہ بحث کرنے کے بعد انکو ہرا دیا۔ بنابریں وہابی مجبور ہوگئے کہ انکی سزائے موت کا حکم واپس لے لیں اور یہ دعوی کریں کہ اس کے ساتھ ہمارا اختلاف اجتہادی ہے اور فہم میں اختلاف ہے۔

اس طرح اس کو رہا کر دیا لیکن اس کے درس اور تدریس اور اسکے شاگردوں کو زیر نظر رکھا۔ وہابیوں کے افکار، مبانی، عقائد اور فتاوی کی رد میں انکی کئی کتابیں ہیں جو انصاف سے کہوں تو علمی اور قابل استفادہ ہیں۔ وہ کتاب “التحذیر من المجازفة بالتکفیر” میں لکھتا ہے:

لقد ابتلینا بجماعة تخصصت فی توزیع الکفر والشرک واصدار الأحکام بالقاب وأوصاف لا یصحّ ولا یلیق ان تُطلق علی مسلم یشهد أن لا إله إلاّ إلله وأنّ محمّداً رسول الله، کقول بعضهم فیمن یختلف فی الرأی و المذهب معه: محرف... دجّال... مُشعوذ... مبتدع... وفی النهایة: مشرک... وکافر...

ولقد سمعنا کثیراً من السفهاء الذین ینسبون انفسهم إلی العقیدة یکیلون مثل هذه الألفاظ جُزافاً، و یزید بعض جهلتهم بقوله: داعیة الشرک والضلال فی هذه الأزمان، ومجدّد ملّة عمرو بن لحّی المدعو بفلان... هکذا نسمع بعض السفهاء یکیل مثل هذا السب والشتم وبمثل هذه الألفاظ القبیحة الّتی لا تصدر إلاّ عن السوقة الذین لم یجیدوا اسلوب الدعوة وطریقة الأدب فی النقاش...[130]

ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑا ہے جو کفر و شرک تقسیم کرنے اور غلط القابات اور اوصاف کے ساتھ احکام صادر کرنے میں ماہر ہیں، ایسے اوصاف توحید اور پیغمبر اسلام (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی نبوت کی گواہی دینے والے مسلمان کے لیے مناسب نہیں ہیں، جیسا کہ ان میں سے بعض افراد اپنی رائے اور مذہب کے مخالف افراد کو تحریف کرنے والا۔۔۔ دجال۔۔۔ شعبدہ باز۔۔۔ بدعتی۔۔۔ بالآخر مشرک۔۔۔ اور کافر کہتے ہیں۔۔۔

اپنے آپ کو عقیدہ سے منسوب کرنے والے بہت سارے احمقوں سے ہم نے سنا ہے کہ کس طرح بغیر سوچے سمجھے ان الفاظ کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ حتی ان کے بعض جاہل مزید آگے بڑھتے ہیں اور ( اس زمانے میں شرک اور گمراہی کی دعوت دینے والا ، عمرو بن لحی کے دین کو دوبارہ زندہ کرنے والا جو فلاں لقب سے پکارا جاتا ہے۔۔۔) جیسے عنوانات سے پکارتے ہیں۔۔۔

بعض احمقوں سے ہم اس طرح سنتے ہیں کہ کثرت سے اس طرح کی گالیاں، فحاشی، اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں، ایسے الفاظ جو صرف پست اور بازاری افراد کے منہ سے نکلتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو بحث اور گفتگو کے اسلوب اور دعوت کی روش اور آداب سے نا آشنا ہیں۔۔۔

وہ “الزیارة النبویة بین الشرعیة و البدعیة” نام کی اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھتا ہے:

انّه قد ظهر فی موسم الحجّ هذا العام (1419) کتاب أساء إلی المسلمین وکدّر علیهم صفوهم وهم فی زیارة رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، فکان أکبر ایذاء لهم وجرح لشعورهم، وهم حجاج زوار قاصدون وجه الله سبحانه و تعالی؛ إذ یقول هذا المتعدی: انّ زیارة رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) بعد موته مفسدة راجحة لا خیر فیها، فأزعجنا هذا الإفتراء والتعدی وسوء الأدب علی مقام رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، لذلک احببت ان اشارک بهذه الرسالة فی الدفاع عن مقام رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و الذبّ عنه، و هو اقل ما یقدمه الحبیب لحبیبه و المؤمن لنبیه، و هو لیس غلواً ممقوتاً...[131]

اس سال 1419 کو حج کے موسم میں وہابیوں کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی جس میں مسلمانوں کی توہین کی گئی اور انکو پریشان کر دیا جبکہ وہ رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت میں مشغول تھے۔ اور یہ مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی اور دکھ کی بات تھی اور انکے شعور پر حملہ تھا، جبکہ وہ حاجی اور زائرین تھے، اللہ سبحانہ و تعالی کا تقرب چاہتے تھے؛ جب اس کتاب لکھنے والے متجاوز نے کہا: رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی موت کے بعد اسکی زیارت کرنا نقصاندہ ہے اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ رسول خدا کی یہ اہانت بے اور اس کی شان میں اس بے ادبی نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ لہذا میں چاہتا تھا کہ اس رسالہ کو تالیف کر کے مقام رسول خدا کے دفاع میں شریک ہوجاؤں۔ اور یہ ادنی سا کام ہے جسے ایک دوست اپنے محبوب کے لیے اور ایک مومن اپنے پیغمبر کے لیے انجام دے سکتا ہے، اور یہ کام ناپسندیدہ غلو میں سے نہیں ہے۔۔۔

وہابیوں کے خلاف محمّد بن علوی کی لکھی ہوئی کتابیں درج ذیل ہیں:

الف) “مفاهیم یجب ان تصحح”؛

ب) “منهج السلف فی فهم النصوص”؛

ج) “الزیارة النبویة بین الشرعیة و البدعیة”؛

د) “الغلو”؛

ه‍) “شفاء الفؤاد بزیارة خیر العباد”؛

و) “رسالة عن ادلة مشروعیة المولد النبوی”؛

ز) تعلیقه بر کتاب “المولد النبوی”، از “حافظ ابن بدیع”؛

ح) تعلیقه بر کتاب “المولد النبوی”، از “حافظ ملاّ علی قاری”؛

ط) “هو الله”؛

ی) “التحذیر من المجازفة بالتکفیر”.

 مترجم: غلام اکبر شاکری

[1] . الدرر الکامنة ج 3، ص 29.

[2] . ذیل تاریخ الاسلام، ص 137.

[3] . طبقات الشافعیة، سبکی، ج 5، ص 92.

[4] . همان، ص 141.

[5] . البدایة و النهایة، ج 2، ص 2146.

[6] . طبقات الشافعیة، ج 3، ص 127.

[7] . ذیل تاریخ الاسلام، ص 216.

[8] . طبقات الشافعیة، ج 5، ص 106.

[9] . ذیل تاریخ الاسلام، ص 342

[10] . بیان زغل العلم و الطلب، صص 17 ـ 18.

[11] . الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ، ص 78.

[12] . صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب ماینهی من سبّ الأموات و...

[13] . صحیح ترمذی، کتاب الزهد، باب 11.

[14] . مسند احمد، ج 1، ص 22.

[15] . ر.ک: شذرات الذهب، ج 7، ص 269.

[16] . الدرر الکامنة، ج 1، ص 38.

[17] . همان، ج 2، صص 90 ـ 92؛ شذرات الذهب، ج 6، صص 190 و 191؛ طبقات الشافعیة، ج 6، ص 104.

[18] . بیان زغل العلم و الطلب، ص 23.

[19] . الدرر الکامنة، ج 1، ص 151.

[20] . سیر اعلام النبلاء، ج 15، ص 88.

[21] . شفاء السقام، تقی الدین سبکی، ص 171.

[22] . شفاء السقام، ص 132.

[23] . اعیان العصر و اعوان النصر، ج 1، ص 66.

[24] . مرآة الجنان، ج 4، ص 24.

[25] . طبقات الشافعیة، ج 3، ص 246.

[26] . همان، ص 247.

[27] . تحفة النظار فی غرائب الأمصار، ابن بطوطة، ص 52.

[28] . دفع شبه من شبه و تمرد، ص 343.

[29] . دفع شبه من شبه وتمرد، ص 401.

[30] . شفاء السقام، ص 87 (به نقل از او).

[31] . شفاء السقام، ص 88.

[32] . همان، ص 153.

[33] . فتاوی السبکی، ج 2، ص 210 (به نقل از او).

[34] . مقدمه الدرة المضیة، سبکی (به نقل از او).

[35] . دفع شبه من شبه و تمرد، ص 65.

[36] . همان، ص 67.

[37] . همان، ص 74.

[38] . دفع شبه من شبّه و تمرّد، ص 113.

[39] . الفتاوی السهمیة، ص 45.

[40] . الدرر الکامنة، ابن حجر عسقلانی، ج 1، ص 144.

[41] . لسان المیزان، ج 6، ص 319.

[42] . الضوء اللامع، ج 2، ص 54.

[43] . المواهب اللدنیة، قسطلانی، ج 4، ص 574.

[44] . شرح المواهب اللدنیة، ج 12، ص 194.

[45] . همان.

[46] . الفتاوی الحدیثیة، ابن حجر، ص 144.

[47] . الفتاوی الحدیثیة، ص 203.

[48] . حاشیة الایضاح، ص 443.

[49] . الجوهر المنظم، ص 148.

[50] . همان، ص 23.

[51] . السلفیة الوهابیة، ص 41.

[52] . شواهد الحق، یوسف نبهانی، ص 62.

[53] . فرقان القرآن، سلامه قضاعی، ص 61.

[54] . مقدمه کتاب فرقان القرآن، ص 2.

[55] . مجموع رسائل السقاف، ج 2، ص 737.

[56] . مقدمه کتاب "کشف المین" طارق سعدی.

[57] . خاتمه کتاب "کشف المین".

[58] . رفع المنارة لتخریج احادیث التوسل و الزیارة، ممدوح، صص 20 ـ 21.

[59] . النجوم الزاهرة، ابن تغری، ج 9، ص 213.

[60] . رفع الإصر عن قضاة مصر، ابن حجر، ص 42.

[61] . شرح الشفا، ملاعلی قاری، ج 2، ص 152.

[62] . شواهد الحق، نبهانی، ص 177 (به نقل از او).

[63] . سعادة الدارین فی الردّ علی الفرقتین، ابراهیم سمنودی، ج 1، ص 173.

[64] . البدر الطالع، محمّد بن علی شوکانی، ج 2، ص 137.

[65] . براءة الأشعریین، ابوحامد بن مرزوق، ص 254؛ شفاء السقام، سبکی، ص 132؛ المقالات السنیة، ص 133.

[66] . التوسل بالنبی9، ابوحامد بن مرزوق، صص 103 و 113.

[67] . عقائد اهل السنة و الجماعة، سهارنفوری، صص 82 ـ 83.

[68] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 86 ـ 87.

[69] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 88 ـ 89.

[70] . همان، صص 90 ـ 91.

[71] . عقائد اهل السنة و الجماعة، ص 99.

[72] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 125 ـ 126.

[73] . کشف الظنون، ج 2، ص 1438.

[74] . تطهیر الفؤاد من دنس الاعتقاد، محمّد بخیت المطیعی، ص 13.

[75] . همان، ص 9.

[76] . تطهیر الفؤاد من دنس الاعتقاد، صص 10 ـ 11.

[77] . سیف الجبار المسلول علی اعداء الابرار، شاه فضل، ص 42.

[78] . سیف الابرار المسلول علی الفجار، ص 111.

[79] . الاشفاق فی حکم الطلاق، ص 268.

[80] . تبدید الظلام، ص 81.

[81] . الاشفاق، ص 89.

[82] . تبدید الظلام، صص 118 ـ 119.

[83] . محق التقول، کوثری، مقالات الکوثری، ص 468.

[84] . الفتاوی الرضویة، صص 198 و 199.

[85] . همان.

[86] . دعوة شیخ الاسلام ابن تیمیة، ج 2، ص 611.

[87] . دعوة شیخ الاسلام ابن تیمیة، ج 2، ص 611.

[88] . ذیل تاریخ الاسلام، ذهبی، ص 86؛ البدر الطالع، شوکانی، ج 1، ص 74.

[89] . السلفیة الوهابیة، ص 136.

[90] . السلفیة الوهابیة، ص 136.

[91] . رفع الإصر، ابن حجر عسقلانی، ص 353.

[92] . الدرة المضیة، تقی الدین سبکی، ص 3.

[93] . شرح المواهب اللدنیة، زرقانی، ج 12، ص 219.

[94] . همان.

[95] . شواهد الحق، یوسف نهبانی، ص 15.

[96] . توبه: 58.

[97] . البرهان الجلی، احمد غماری، ص 53.

[98] . سمیر الصالحین، عبدالله غماری، ص 77.

[99] . شواهد الحق، ص 453 (به نقل از او).

[100] . الدرر الکامنة، ج 1، ص 147.

[101] . الدرر الکامنة، احمد بن حجر عسقلانی، ج 1، ص 147.

[102] . دفع شبه من شبه و تمرّد، ص 401.

[103] . نسیم الریاض، خفاجی، ج 5، ص 17.

[104] . همان، ص 113.

[105] . اخطاء ابن تیمیة، دکتر محمود سید صبیح، ص 6.

[106] . اخطاء ابن تیمیة، ص 69.

[107] . اخطاء ابن تیمیة، ص 123.

[108] . السلفیة، مرحلة زمنیة، بوطی، ص 186.

[109] . فقه السیرة النبویة، بوطی، ص560.

[110] . نقض قواعد التشبیه، دکتر عمر عبدالله کامل، ص 8.

[111] . کلمة هادئة فی الزیارة و شدّ الرحال، دکتر عمر عبدالله کامل، ص 44.

[112] . ادلة اهل السنة و الجماعة، ص 5.

[113] . الإفهام و الإفحام، ص 150.

[114] . نقض الرسالة التدمریة، سعید فوده، ص 6.

[115] . فضل الذاکرین و الردّ علی المنکرین، ص 23.

[116] . صحیفة الوطن الکویتیة، تاریخ 29 آگوست 2004م.

[117] . سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 485.

[118] . الافهام و الإفحام، محمّد زکی ابراهیم، ص 7.

[119] . المقالات السنیة، حبشی، ص 206.

[120] . تصحیح المفاهیم العقدیة، دکتر عیسی حمیری، ص 131.

[121] . تصحیح المفاهیم العقدیة، ص 135.

[122] . مجله المجلّة، شماره 1082، سال 11 / 11/2000م، تحت عنوان: "قراءة فی التحولات السنیة للشیعة.

[123] . داعیة و لیس نبیاً، ص 3.

[124] . داعیة و لیس نبیاً، صص 64 و 65.

[125] . داعیة و لیس نبیاً، ص 176.

[126] . قرائة فی کتب العقائد، حسن مالکی، ص 176.

[127] . سلسلة الأحادیث الصحیحة، البانی، ج 5، ص 263.

[128] . همان، ج 4، ص 344.

[129] . سلسلة الاحادیث الصحیحة، ح2223.

[130] . التحذیر من المجازفة بالتکفیر، محمد بن علوی مالکی، صص 8 ـ 9.

[131] . الزیارة النبویة، ص 2.

منابع:
قرآن کریم.1. ادلة أهل السنة والجماعة، یوسف الرفاعی، چاپ پنجم، کویت، مکتبة دار القرآن الکریم، 1410ه‍. ق.2. الاشفاق فی حکم الطلاق، محمد زاهد کوثری، بیروت، دار الکتب العلمیة، 1425ه‍. ق.3. البدر الطالع، محمد بن علی شوکانی، چاپ اول، بیروت، دار الکتب العلمیة، 1418ه‍. ق4. البرهان الجلی، احمد غماری، چاپ اول، مصر، مطبعة السعادة، 1389ه‍. ق.5. تحفة النظار فی غرائب الامصار وعجائب الاسفار، چاپ مصر، 1357ه‍. ق.6. تحفة النظار فی غرائب الامصار، ابن بطوطه، چاپ اول، الشرکة العالمیة للکتاب، 1991م.7. تصحیح المفاهیم العقدیة، عیسی حمیری، چاپ اول، مصر، دار السلام، 1419ه‍. ق.8. تطهیر الفؤاد، محمد بخیت مطیعی، چاپ ترکیه، 1397ه‍. ق.9. الدرر الکامنة، ابن حجر عسقلانی، بیروت، دار الحبل، 1414ه‍. ق.10.ذیل التاریخ الاسلام، ذهبی، چاپ اول، بیروت، دار الکتب العربی، 1424ه‍. ق.11. رفع الاصر عن قضاة مصر، ابن حجر، چاپ اول، مصر، مکتبة الخانجی، 1418ه‍. ق.12. سعادة الدارین فی الرد علی الفریقین، ابراهیم سمنودی، چاپ اول، موریتانی، مکتبة الامام مالک، 1426ه‍. ق.13. سلسلة الاحادیث الصحیحة، ناصر الدین البانی، ریاض، مکتبة المعارف، 1415ه‍. ق.14. السلفیة (مرحلة زمنیة)، بوطی، چاپ اول، بیروت، دار الفکر المعاصر، 1408.15. سمیری الصالحین، عبدالله غماری، چاپ اول، مصر، مکتبة القاهرة، 1388ه‍. ق.16. سیف الابرار المسلول علی الفجار، چاپ استانبول، 1986م.17. شرح الشفاء، ملا علی قاری، چاپ اول، بیروت، دار الکتاب العلمیة، 1421ه‍. ق.18. شرح المواهب اللدنیة، زرقانی، چاپ اول، بیروت دار الکتب العلمیة، 1417ه‍. ق.19. شفاء السقام، تقی الدین سبکی، مصر، دار جوامع الکلم.20. شواهد الحق، یوسف نبهانی، مصر، المکتبة التوفیقیة.21. طبقات الشافعیة، سبکی، چاپ اول، دار الکتب العلمیة، 1420ه‍. ق.22. غایة التبجیل، محمود سعید بن ممدوح، چاپ اول، امارات، مکتبة الفقهیة، 1425ه‍. ق.23. فرقان القرآن، سلامة قضاعی، بیروت، دار احیاء التراث العربی.24. فضل الذاکرین والرد علی المنکرین، چاپ سوریه، 1391ه‍. ق.25. فقه السیرة النبویة، بوطی، بیروت، دار الفکر المعاصر، 1423ه‍. ق.26.قرائة فی کتب العقائد، حسن بن فرحان مالکی، چاپ اول، اردن، مرکز الدراسات، 1421ه‍. ق.27. کلمة هادلة فی الزیارة وشدالرحال، عمر عبدالله کامل، چاپ اول، دار المصطفی، 1426ه‍. ق.28. لسان المیزان، چاپ سوم، بیروت، موسسة الأعلمی، 1406ه‍. ق.29. مرآة الجنان، حیدرآباد دکن، 1339ه‍. ق.30. المواهب اللدنیة، قسطلانی، چاپ دوم، بیروت، المکتب الإسلامی، 1425ه‍. ق.31. النجوم الزاهرة، ابن تعری، مصر، وزارة الثقافة.32. نقد الرسالة التدمریة، سعید فودة، چاپ اول، دار الرازی، 1425ه‍. ق.33.نقض قواعد التشبیه، عمر عبدالله کامل، چاپ اول، دار المصطفی، 1426ه‍ماخذ: ابن تیمیه از دیدگاه اهل سنت، علی اصغر رضوانی، مشعر، تهران، 1390ش

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ