کربلا کے فاتح امام حسین ع ہیں یا یزید؟، اگر امام حسین ع فاتح کربلا ہیں تو پھر جشن کی بجائے عزاداری کیوں منائی جاتی ہے، جشن منانا۰۰۰۰۰

اعتراض ١: کربلا کے فاتح امام حسین ع ہیں یا یزید؟، اگر امام حسین ع فاتح کربلا ہیں تو پھر جشن کی بجائے عزاداری کیوں منائی جاتی ہے، جشن منانا چاہئے۔
جواب: اگرچہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ظاہری حوالے سے کربلا میں فتح یزید کو ہوئی لیکن یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی، اس لئے کہ کسی بھی جنگ میں فتح اور شکست کا معیار قتل کردینا یا قتل ہو جانا نہیں ہوتا اور نہ ہی معیار یہ ہوتا ہے کہ کس فریق کے کتنے فوجی مارے گئے بلکہ فتح اور شکست کا معیار وہ تنازعہ ہوتا ہے جس پر جنگ چھڑتی ہے۔ مثال کے طور پر حزب اللہ لبنان اور اسرائیل کے مابین جنگ کا فاتح حزب اللہ لبنان کو اس لئے قرار دیا گیا کہ جس بات پر جنگ شروع ہوئی تھی وہ تھی اسرائیلی فوجیوں کی حزب اللہ کے ہاتھوں گرفتاری اور اس قسم کے دیگر مسائل۔ اب اگرچہ اسرائیل کی نسبت لبنان کا نقصان بہت زیادہ ہوا لیکن چونکہ جس مقصد کے حصول کیلئے اسرائیل نے جنگ شروع کی تھی اس کے حصول میں ناکام رہا لہٰذا فاتح حزب اللہ لبنان کو قرار دیا گیا۔ اسی طرح کربلا میں بھی تا دم آخر یزیدیوں کا مطالبہ یہی رہا کہ یزید کی بیعت کر لو۔ اب چونکہ وہ امام حسین ع سے تو کیا، امام ع کے لشکر میں موجود جون غلام سے یا کسی بچے سے بھی بیعت نہ لے سکے اور دوسرا امام حسین ع کا اس قیام سے مقصد امر بالمعروف اور نھی از منکر، اپنے نانا محمد ص اور اپنے والد حضرت علی ع کی سیرت کو زندہ کرنا تھا جس میں حسینی قافلہ مدینہ سے لیکر شام تک اور پھر شام سے مدینہ تک کامیاب رہا بلکہ آج بھی اور تاقیامت اگر اسلام زندہ ہے تو اس قیام حسینی کی بدولت زندہ ہے اور رہے گا لہٰذا بلاشک و شبہ کہنا چاہئے کہ کربلا کے فاتح امام حسین ع ہیں۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے                               اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
رہی بات یہ کہ پھر شیعہ لوگ جشن فتح منانے کی بجائے غم اور عزاداری کیوں مناتے ہیں تو اس کی تین وجوہات ہیں:
١۔ محمد و آل محمد علیہم الصلاۃ والسلام نے خود عزاداری کا حکم دیا ہے۔ اسکی وضاحت اعتراض نمبر ٤ کے جواب میں ملاحظہ فرمائیں۔ سید ابن طاؤوس جو کہ بہت بڑے شیعہ عالم دین ہیں کا بھی فرمان ہے کہ اگر یہ حکم عزاداری نہ ہوتا تو میں آئمہ ع کی شہادت کے دن جشن مناتا۔
٢۔ جو کچھ امام حسین ع یا آپ کے اصحاب و اہل بیت ع نے کیا، ہماری عزاداری اور اظہار غم اس پر نہیں بلکہ ہماری عزاداری ایک احتجاج ہے اُس ظلم کے جواب میں جو یزیدیوں نے امام حسین ع، آپ کے اہل بیت ع، اصحاب اور بالخصوص عورتوں اور بچوں پہ کیا۔
٣۔ جشن منانے کی صورت میں وہ برائیاں پھیلنے کا خطرہ ہے جو حضرت عیسی ع کے سولی پر چڑھائے جانے کی مناسبت سے ہر سال ہونے والے پروگراموں میں پھیلتی ہیں۔ جبکہ عزاداری کرنے کی صورت میں تمام مومنین کی علمی، اخلاقی، اجتماعی، سیاسی و سماجی تربیت ہوتی ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیم ملتی ہے اور اس وجہ سے ہمارے آئمہ علیہم السلام نے جشن کی بجائے عزاداری کا حکم دیا ہے۔
اعتراض ٢: امام حسین ع شہید ہیں اور شہید زندہ ہوتا ہے اور زندہ شخص کو رونا یا اسکی عزاداری کرنا درست نہیں؟
جواب: یہ درست ہے کہ امام حسین ع (بل احیاءٌ عند ربِّھم) کا اولین مصداق ہوتے ہوئے زندہ ہیں لیکن یہ نتیجہ کہ زندہ کو رونا درست نہیں بالکل سمجھ آنے والی بات نہیں ہے۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کوئی شخص امام حسین ع کیلئے اس زندگی کا تو منکر ہو اور قتل امام حسین ع کے بعد انہیں زندہ نہ سمجھتا ہو لیکن جب امام حسین ع کی ولادت ہوئی کہ جس وقت امام ع کو ہر شخص زندہ تسلیم کرے گا اس وقت ''نبی اکرم ص نے اسماء بنت عمیس کو حکم دیا کہ میرے بیٹے حسین ع کو لے آؤ۔ اسماء نے امام حسین ع کو سفید کپڑے میں لپیٹا اور حضرت نبی اکرم ص کے پاس لائیں۔ حضرت ص نے امام حسین ع کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی۔ پھر اپنی گود میں رکھا اور گریہ کرنا شروع کیا۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میرے ماں باپ قربان! آپ کیوں گریہ فرما رہے ہیں؟۔ آنحضرت ص نے فرمایا: اس بیٹے پر۔ اسماء نے کہا وہ تو ابھی پیدا ہوا ہے؟، نبی اکرم ص نے فرمایا: اے اسماء! میرے اس بیٹے کو ظالم گروہ قتل کرے گا (اس لئے رو رہا ہوں)، خداوند انہیں میری شفاعت نصیب نہیں کرے گا۔ اے اسماء، یہ بات فاطمہ کو نہ بتانا"۔ (مقتل 

جو کچھ امام حسین ع یا آپ کے اصحاب و اہل بیت ع نے کیا، ہماری عزاداری اور اظہار غم اس پر نہیں بلکہ ہماری عزاداری ایک احتجاج ہے اُس ظلم کے جواب میں جو یزیدیوں نے امام حسین ع، آپ کے اہل بیت ع، اصحاب اور بالخصوص عورتوں اور بچوں پہ کیا۔
، حافظ ابوالمؤید خوارزمی و ذخائر العقبیٰ حافظ محب الدین طبری بحوالہ پاسخ بہ شبہات عزاداری ص٧٠)، (مزید وضاحت کیلئے اعتراض نمبر ٤ کے جواب کی طرف رجوع کریں)۔
اگر امام حسین ع کی شہادت کے بعد اُن کا غم منانا درست نہ ہوتا تو اُن کی ولادت کے وقت اسی شہادت کو یاد کر کے غم منانا بدرجہ اولیٰ درست نہ ہوتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت وہ رسول اکرم ص غم منا رہے ہیں جن کا قول و فعل حجت ہے۔ پس یہ کہنا کہ زندہ شخص کا غم منانا درست نہیں ہوا کرتا یہ بات نبی اکرم ص کے قول و فعل کو رد کرنے کے مترادف ہے، توبہ کرنا چاہیئے۔
اعتراض ٣: قرآن کریم کے اندر مومنین کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ (الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالو انا لِلّٰہ و انا الیہ راجعون) لہٰذا واقعہ کربلا کے اندر جو کچھ ہوا اگر اسے مصیبت بھی کہا جائے تو صاحبان ایمان کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے۔ واویلا کرنا، گریہ کرنا، سینہ زنی یا اس قسم کے دوسرے کام صفات مومنین کے خلاف ہیں۔
جواب: یہ درست ہے کہ قرآن کریم کے اندر کافی آیات میں صبر و تحمل پر زور دیا گیا ہے اور یہ آیت بھی مصیبت کے وقت صبر و تحمل سے کام لینے کی طرف رہنمائی کر رہی ہے، واویلا اور کلام باطل سے منع کر رہی ہے لیکن اظہار غم یا عزاداری سے تو بالکل منع نہیں کر رہی۔ اور نہ ہی مصیبت کے وقت اظہار غم خلاف صبر ہے ورنہ تمام مسلمانوں کو یہ حکم نہ دیا جاتا کہ جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے (چاہے اپنے بستر پر طبعی موت سے مرے) تو سب مسلمان جمع ہو کر اسکے پسماندگان کو تعزیت و تسلیت پیش کریں اورکم از کم تین دن تک کھانا پکا کر انہیں اور اُن کے مہمانوں کو پیش کریں۔ تین دن تک اُس گھر سے کھانا کھانا دوسروں پر مکروہ قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ سب کچھ اظہار غم نہیں؟۔ کیا یہ صبر و تحمل کے منافی ہے؟ نہیں ایسا نہیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسانی عواطف و احساسات کو تسلیم کیا ہے اور خارجی حقایق کو مانا ہے۔ مصیبت کے وقت دکھ اور غم کا اظہار کرنا یعنی عزاداری منانا اپنے اپنے علاقے کے رسم و رواج کے مطابق ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انسانی عواطف اور احساسات کا تقاضا ہے کہ انسان خوشی کے وقت خوش ہوتا ہے اور غمی کے وقت غمگین ہوتا ہے۔ ہاں کچھ لوگ خوشی کے وقت حدود الٰہی کو کراس کر جاتے ہیں یا غمی کے وقت خلاف شریعت کام کرتے ہیں تو اُن غلط کاموں سے روکا گیا ہے۔ جیسے کسی کے مرنے کے وقت خداوند عالم سے گلہ شکوہ کرنا، اس قسم کے کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن اصل خوشی یا عزاداری سے منع نہیں کیا گیا۔ اور نہ صرف یہ کہ منع نہیں کیا گیا بلکہ قرآن کریم نے چند آیات میں عزاداری کا ذکر بھی کیا ہے۔ ہم یہاں نمونے کے طور پر ایک آیت ذکرکرتے ہیں:
یَا اَسَفَا عَلیٰ یُوسُفَ وَا بْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الحُزنِ فَھُوَ کظیم (سورہ یوسف آیہ ٨٤)
حضرت یعقوب ع اللہ کے نبی ہیں۔ وہ خلاف صبر و تحمل کوئی کام نہیں کر سکتے۔ اب قرآن کہہ رہا ہے کہ حضرت یوسف ع کی جدائی اور فراق کی وجہ سے گریہ کرتے کرتے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔ یعنی کوئی معمولی گریہ نہیں تھا، ہم تو ایسا رو ہی نہیں سکتے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ع نہ شہید ہوئے، نہ ہی اُنکی بہن بیٹیوں پر وہ مظالم ڈھائے گئے جو امام حسین ع اور انکی بہن بیٹیوں پر ڈھائے گئے۔ حضرت یوسف ع تو زندہ تھے اور حضرت یعقوب ع علم نبوت کے ذریعے یہ سب کچھ جانتے بھی تھے۔ لیکن قرآن نے اُنکے گریہ کے ذکر کو اپنے لئے زینت سمجھا اور ذکر کیا۔ اس لئے کہ زینت نہ سمجھتا تو پھر اس گریہ کے ذکر کو کسی اور انداز میں پیش کرتا اور اس سے روکتا۔ معلوم ہوا عام گریہ عام غم تو کیا اس حد تک غم منانا بھی درست ہے کہ آنکھوں جیسی عظیم نعمت کی بینائی غم کی وجہ سے ختم ہو جائے۔ اور یہ صبر وتحمل کے خلاف نہیں۔
اعتراض ٤: عزاداری بدعت ہے، لہٰذا مجالس عزاداری میں جانے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ 
جواب: بدعت وہ چیز ہوتی ہے جس کا ثبوت قرآن وسنت یا صحابہ کے عمل سے نہ ہو جبکہ عزاداری کا ذکر جیسا کہ اعتراض ٣ کے جواب میں عرض کیا گیا سورئہ یوسف کی آیت نمبر٨٤ اور فعل رسول اکرم ص سے ثابت ہے۔ جیسا کہ اعتراض نمبر٢ کے جواب میں فعل رسول اکرم ص پیش کیا گیا لیکن مزید وضاحت کیلئے ہم یہاں پر چند اور نمونے ذکر کرتے ہیں۔
١۔ قرآن: لَا یُحِبُّ اللّٰہ الجھر بالسُّوء ِمِن القول اِلَّا من ظُلِمَ۔۔۔ (سورہ نساء آیت ١٤٨)

اگر امام حسین ع کی شہادت کے بعد اُن کا غم منانا درست نہ ہوتا تو اُن کی ولادت کے وقت اسی شہادت کو یاد کر کے غم منانا بدرجہ اولیٰ درست نہ ہوتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت وہ رسول اکرم ص غم منا رہے ہیں جن کا قول و فعل حجت ہے۔

اب جو لوگ مجالس عزاداری میں جانے سے روکتے ہیں ان کا ایک بہانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہاں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ہم اس بات سے سو فیصد متفق نہیں لیکن یہ آیت بتا رہی ہے کہ جس پر ظلم ہو وہ ظالم کو برا بھلا کہہ سکتا ہے اور مجالس عزاداری کے اندر عموماً مظلوم کی مظلومیت بیان کی جاتی ہے۔ ہاں البتہ ہمارے ماتمی جلوس وغیرہ مظلوم کربلا کی مظلومیت کے علاوہ ظالم کے ظلم کے خلاف ایک احتجاج کی حیثیت رکھتے ہیں اور آیت مجیدہ ان کے لئے سند جواز ہے۔
٢۔ انس بن مالک کا گریہ: پیامبر ص کے بہت سارے ایسے باوفا اصحاب بھی تھے جو کہ شہادت امام حسین ع پرعزادار نظر آئے۔ اُن میں سے ایک حضرت انس بن مالک ہیں۔ ابن حجر نے روایت کی ہے کہ "جب امام حسین ع کا سر مبارک عبیداللہ ابن زیاد کے پاس لایا گیا تو اس نے سرمبارک کو ایک طشت میں رکھوایا اور اپنی چھڑی حضرت کے دانتوں پر مارتا رہا۔ اُس وقت انس بن مالک وہاں موجود تھے۔ انہوں نے جب یہ ظلم دیکھا تو گریہ کیا اور کہا حسین ع سے زیادہ رسول اکرم ص کے مشابہ کوئی نہیں"۔ ( الصواعق المحرقہ بحوالہ پاسخ بہ شبہات عزاداری ص ١٢٨)۔
٣۔ صحابیات کا گریہ: ابن ہشام نقل کرتا ہے: "جب پیامبر اکرم ص (جنگ احد سے) مدینہ واپس آئے اور شہید ہونے والوں پر گریہ و نوحہ کی آواز سنی تو آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے پر ہو گئیں اور فرمایا: لیکن حمزہ پر رونے والا کوئی نہیں۔ یہ سن کر بنی اشھل کی عورتیں آئیں اور رسول اکرم ص کے چچا پر گریہ کیا"۔ (السیرہ النبویہ، ج٣، ص ١٠٥۔ بحوالہ واقعہ عاشورا و پاسخ بہ شبہات ص ١٥١)۔
پس معلوم ہوا کہ عزاداری کا حکم جہاں قرآن و روایات میں ملتا ہے وہاں پیامبر ص، اصحاب و صحابیات کی سیرت میں بھی ملتا ہے۔ لہٰذا قرآن کو ماننے والے، رسول اکرم ص کا کلمہ پڑھنے والے اور اصحاب و صحابیات کے قائل کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عزاداری کو بدعت کہے۔ اور یہیں سے ضمناً یہ اعتراض بھی دور ہو جاتا ہے کہ اصحاب نے عزاداری نہیں کی لہذا ہمیں بھی عزاداری سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
اعتراض ٥: سیاہ لباس جہنمیوں کا لباس ہے لہٰذا یہ لباس نہیں پہننا چاہیئے۔
جواب: اس اعتراض کے چند جواب موجود ہیں۔
١۔ جن روایات میں سیاہ لباس کو جہنمیوں کا لباس کہا گیا ہے علماء نے انہیں کراہت پر حمل کیا ہے۔
٢۔ ان روایات کی سند ضعیف ہے۔
٣۔ سیاہ لباس خود مکروہ نہیں۔ یعنی اس کی کراہت ذاتی نہیں بلکہ اس وجہ سے مکروہ قرار دیا گیا ہے چونکہ بنی عباس کا شعار بن چکا تھا، لیکن اب نہ بنی عباس ہیں اور نہ انکا یہ شعار۔
٤۔ ان روایات کے مقابلے میں چند روایات موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ اسلام کی بزرگ شخصیات سیاہ لباس پہنا کرتی تھیں۔
(الف) عمادالدین ادریس قرشی نے ابونعیم اصفہانی سے انہوں نے حضرت ام سلمیٰ سے نقل کیا ہے کہ جب امام حسین ع کی شہادت کی خبر ان )ام سلمیٰ( تک پہنچی تو انہوں نے مسجد نبوی میں سیاہ خیمہ لگا لیا اور خود بھی سیاہ لباس پہن لیا۔ (عیون الاخبار وفنون: الآثار، ص ١٠٩ بحوالہ واقعہ عاشورا و پاسخ بہ شبہات)۔
(ب) ابن ابی الحدید نے اصبغ بن نباتہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ''امیر المومنین حضرت علی ع کی شہادت کے بعد میں مسجد کوفہ میں داخل ہوا، حسن و حسین علیہما السلام کو دیکھا کہ انہوں نے سیاہ لباس پہنے ہوئے تھے۔
ایک مسلمان کیسے یہ سوچ سکتا ہے کہ حضرت امّ المومنین امّ سلمیٰ یا امام حسن و حسین علیہما السلام جہنمیوں والا لباس زیب تن فرمائیں۔ یہ تو جنتی لباس پہنتے ہیں۔
اعتراض ٦: کہا جاتا ہے کہ شیعوں کو حضرت زینب س کی بددعا ہے لہٰذا یہ قیامت تک روتے رہیں گے۔
جواب: یہ بات حضرت زینب س کے اس خطبے کے حوالے سے کہی جاتی ہے جو بی بی نے کوفہ میں دیا تھا۔ البتہ افسوس اس بات پر ہے کہ کچھ اس قسم کا ماحول شام میں بھی تھا لیکن وہاں کے لوگوں کی نسبت یہ بات کیوں نہیں کہی جاتی؟ یہ ایک ناانصافی ہے اور دوسری ناانصافی یہ کہ اگر بی بی نے کہا بھی ہے تو اہل کوفہ کو کہا ہے لیکن شیعوں کے ذمہ ڈال دیا گیا اور وہ بھی شیعیان حیدر کرار کے ذمہ۔ حالانکہ اس وقت شیعہ تو سب ہی تھے اور تو کوئی مذہب موجود ہی نہ تھا۔ ہاں تھوڑے سے لوگ شیعیان حیدر کرار تھے جو شیعیان علی ع کہلاتے تھے اور اکثریت یزید یا شیعیان معاویہ یا شیعیان عثمان کہلاتے تھے۔
لہٰذا اس اعتراض کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ اُن لوگوں کے بارے میں تحقیق کی جائے کہ جنہیں 

مصیبت کے وقت دکھ اور غم کا اظہار کرنا یعنی عزاداری منانا اپنے اپنے علاقے کے رسم و رواج کے مطابق ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
بی بی نے یہ بددعا دی، وہ کون لوگ تھے اور کس گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ چونکہ اس وقت کوفہ کے اندر کم از کم چار گروہوں کے لوگ آباد تھے:
١۔ مروانیان، ٢۔ خوارج، ٣۔ عثمانیان، یعنی شیعہ عثمان کہ بہت سارے ان میں سے یزید کے ساتھ تھے اور کوفہ کی خبریں یزید کو پہنچاتے تھے، ٤۔ شیعیان علی ع، جو کہ بہت کم تعداد میں تھے۔
یہاں ایک بات قابل ذکر ہے، وہ یہ کہ کوفہ والوں کو شیعہ کہا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے سارے یا اکثریت شیعہ بمعنی اثناعشری اور واقعاً مخلص تھے۔ بلکہ وہ اس حوالے سے شیعہ تھے کہ حضرت علی ع کو معاویہ و عثمان پر ترجیح دیتے تھے جبکہ در واقع یا مروانی تھے یا خارجی۔۔۔ اور خیانت و منافقت کرنے سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ انہی لوگوں کی وجہ سے اہل کوفہ بے وفائی میں شہرت رکھتے ہیں ورنہ شیعیان علی ع جو حقیقی معنیٰ میں شیعہ تھے وہ تو اس وقت بھی علی ع کے ساتھ تھے جب نیزوں پر قرآن بلند کر کے لشکر علی ع میں تفرقہ ڈالا گیا اور جو حقیقی شیعہ نہ تھے اور خارجی یا عثمانی یا مروانی تھے، وہ جدا ہو گئے۔ لیکن مخلص شیعہ اس وقت بھی حضرت علی ع کے ساتھ رہے۔ یہ مخلصین اسی طرح امام حسن و حسین علیہم السلام کے ساتھ بھِی رہے۔
واقعہ عاشورا کے وقت بھی ان میں سے کچھ تو وہ تھے جو معاویہ کے مظالم کی وجہ سے اس دنیا سے چل بسے تھے اور کچھ وہ تھے جو ابن زیاد کی جیلوں میں تھے۔ کچھ وہ تھے جو کوشش کر کے کربلا پہنچ گئے اور وہاں شہید ہو گئے اور کچھ وہ تھے جو بے بس اور لاچار تھے اور ابن زیاد کی پابندیوں، ناکہ بندیوں اورخوف کی وجہ سے کچھ کر نہ سکتے تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے کبھی توابین کی شکل میں تو کبھی جناب مختار کی معیت میں قتل امام حسین ع کا انتقام لینے کی کوشش کی اور شہید ہو گئے۔ اب اس ساری صورت حال کو سامنے رکھیں اور عاشورا کے بعد کا وہ دن جس دن قافلہ کوفہ میں پہنچا ذہن میں رکھیں اور بتائیں کہ کیا اس وقت ایسے ماحول میں کوئی شیعہ کوفہ میں ہو گا؟۔ نہیں، اگر کوئی تھا بھی تو وہ زیرزمین تھا۔ اب کوفہ میں یا وہ لوگ تھے جو آل محمد ص کے دشمن تھے یا وہ لوگ تھے جو علی ع کو معاویہ و عثمان پر تو مقدم سمجھتے تھے لیکن مخلص بھی نہ تھے، دو رُخے تھے، انہوں نے امام حسین ع کا ساتھ بھی نہیں دیا، لیکن قتل پہ بھی راضی نہ تھے، اور اب رسول اکرم ص کی نواسیوں کو قیدی دیکھ کر شاید رو بھی رہے ہوں، اور بی بی نے اُن خارجیوں، عثمانیوں اور مروانیوں سے یہ سب کچھ کہا۔ پس ثابت ہوا کہ اگر بی بی نے بددعا دی ہے تو اُن مسلمانوں کو جو یا تو آل محمد ص کے دشمن تھے یا ایسے مسلمان تھے جو کہ آل محمد ص کی محبت کا دم بھی بھرتے تھے لیکن پارٹی اُن کی کوئی اور تھی، جیسے شیعیان عثمان یا خوارج یا مروانیان اور بی بی نے کسی بھی قیمت اپنے بابا کے شیعوں اور اپنے بھائی کے مخلص شیعوں کو جنہوں نے قتل حسین ع کا بدلہ لیا بددعا نہیں دی ہے۔ یہاں سے اس اعتراض کا جواب بھی مل جاتا ہے جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ امام حسین ع کو کوفہ کے شیعوں نے خود بلایا اور پھر قتل کردیا۔ درست ہے کہ بلانے والے شیعہ تھے لیکن سارے مخلص شیعہ نہ تھے۔ یہ ایک بات اور دوسرا یہ کہ کوفہ میں صرف شیعہ نہ تھے، اور تیسری بات یہ کہ اُن بلانے والے مخلص شیعوں میں سے کوئی ایک بھی سپاہ یزید میں نہ تھا۔ اگر کوئی تھا اور پہنچ پایا تو لشکر امام حسین ع میں تھا اور امام ع کی طرف سے جہاد کرتا ہوا شہید ہوا۔ تعجب تو دوسرے شہروں کے مسلمانوں اور اصحاب پر ہے کہ جنہوں نے اس سب کچھ کے باوجود بھی امام ع کا ساتھ نہ دیا۔ قتل کرنے کیلئے تو شام سے بھی آ گئے لیکن ساتھ دینے کیلئے کوفہ کے چند مخلص شیعوں کے علاوہ کوئی بھی نہ آیا۔
اعتراض ٧: مسلمانوں کے دو بڑے فرقوں میں سے صرف شیعہ ہی کیوں عزاداری کرتے ہیں۔ اگر عزادای جائز بلکہ مستحب ہے تو پھر اہلسنت کیوں نہیں کرتے؟
جواب: عزاداری سید الشہداء اور شہدائے کربلا شیعیان علی ع کے ساتھ مختص نہیں بلکہ دنیا کے مختلف مذاہب کے لوگ یہ غم مناتے ہیں اور اُنکے ساتھ اس غم میں اہلسنت بھی شریک ہوتے ہیں۔ کبھی شیعوں کے ساتھ جیسے ایران کے صوبہ کردستان وغیرہ میں اور کبھی جدا۔ خود پاکستان کے بعض علاقوں میں سنی حضرات عزاداری برپا کرتے ہیں۔ مجالس، نیاز، شربت وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں اور اسی طرح ہندوستان میں حتیٰ دیوبندی حضرات میں سے بھی بعض عزاداری سیدالشہداء ع مناتے ہیں۔ شاہ عبدالعزیز دھلوی 

عزاداری کا حکم جہاں قرآن و روایات میں ملتا ہے وہاں پیامبر ص، اصحاب و صحابیات کی سیرت میں بھی ملتا ہے۔ لہٰذا قرآن کو ماننے والے، رسول اکرم ص کا کلمہ پڑھنے والے اور اصحاب و صحابیات کے قائل کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عزاداری کو بدعت کہے۔
دیوبندی لکھتے ہیں: "پورے سال میں میرے غریب خانہ پر دومجلسیں ہوتی ہیں۔ ایک مجلس وفات شریف حضرت رسول اکرم ص اور دوسری مجلس شہادت حسین ع۔ روز عاشورا چار پانچ سو بلکہ ہزار کے قریب لوگ جمع ہو جاتے ہیں، امام ع کی شہادت سے متعلق اخبار بیان کی جاتی ہیں۔ اس وقت اگر کوئی اچھی آواز والا سلام پڑھے تو اکثر حاضرین مجلس اور مجھ کو رقت طاری ہو جاتی ہے اور رونے لگتے ہیں"۔ (فتاویٰ عزیزیہ بحوالہ پاسخ بہ شبہات عزاداری ص ١٤٥)۔ پس معلوم ہوا کہ اہلسنت بھی امام حسین ع کی عزاداری کرتے ہیں۔
اعتراض ٨: امام حسین ع کو شہید ہوئے چودہ سو سال گزر چکے ہیں، اب عزاداری کا مقصد کیا ہے؟۔
جواب: عزاداری کے اہداف و مقاصد میں سے دو اہم ہدف یہ ہیں:
۱۔ امام حسین ع اور آپکے اہلبیت و اصحاب کی مظلومیت پر دکھ، غم اور ہمدردی کا اظہار کرنا،
٢۔ عزاداری کی مجالس میں شریک ہونے والوں کی صحیح اسلامی تربیت کرنا۔
اب اگر ہم دوسرے ہدف یا اس قسم کے دیگر اہداف کو دیکھیں تو عزاداری کو کسی زمانے کے ساتھ مختص نہیں ہونا چاہیئے بلکہ تا قیام قیامت جاری رہنا چاہیئے۔ اس لئے کہ تعلیم و تربیت ہر دور کے انسان کی ضرورت ہے۔ ان مجالس سے جہاں قرآن کریم کی تفسیر، تاریخ و حدیث اور عقائد وغیرہ کا درس ملتا ہے، وہاں اس حوالے سے بھی جوانوں کی تربیت ہوتی ہے کہ اسلام کی خاطر بڑے سے بڑے ظالم کے مقابل میں ڈٹ جانا ہماری ذمہ داری ہے، اسلام کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیئے وغیرہ وغیرہ۔ اور اس قسم کے درسوں کی ضرورت ہمیشہ کیلئے ہے۔ آج بھی اگر تمام مسلمان یہ درس یاد کر کے اس پر عمل کر لیں تو امریکا و اسرائیل جیسے فرعون و یزید اور انکے حامیوں کو شکست دی جا سکتی ہے اور مسلمان عزت کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ رہی بات پہلے ہدف عزاداری کی تو اگرچہ بعض واقعات ایسے ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی پرانے ہو جاتے ہیں لیکن کچھ واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر آنے والے دن نئے ہو جاتے ہیں اور عاشورا کا واقعہ انہیں واقعات میں سے ایک ہے۔ بلکہ ان میں سے بھی سب سے زیادہ تازہ رہنے والا ہے۔ اس لئے کہ یہ واقعہ مصیبت بھرا واقعہ ہے، ظلم بھرا واقعہ ہے اور تاریخ اسلام میں کوئی واقعہ اس واقعہ کی طرح مصیبت بھرا نہیں ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کی نگاہوں میں یہ واقعہ نہ پرانا ہے نہ ہو گا۔ جب بھی آل رسول اکرم ص پر ہونے والے مظالم کو سنتے ہیں تو اسی وقت آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں اور عاشورا کی تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ لہٰذا اظہار غم تو اس وجہ سے ہے اور ہمدردی پھر ایسی چیز نہیں جو زمانہ کی محتاج ہو۔ ویسے بھی اسلام کی نگاہ میں مظلوم کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بہت ہی پسندیدہ ہے۔ بعض روایات بھی اسی موقف پر دلالت کرتی ہیں:
١۔ حافظ ابوبکر زاغونی نے روایت کی ہے کہ "قبر حسین ع کے گرداگرد ستر ہزار فرشتے پریشانی کے عالم میں حضرت پر گریہ کر رہے ہیں جو قیامت تک جاری رہے گا"۔ (پاسخ بہ شبہات عزاداری ص ١٥٩)۔
٢۔ حافظ جنابزی حنبلی نے معالم العترہ اور ابن مغازلی نے مناقب میں نقل کیا ہے کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا: "جب میری بیٹی فاطمہ س میدان محشر میں وارد ہونگی، خون آلود کپڑے انکے پاس ہوں گے۔ عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ کو پکڑ کر درگاہ الٰہی میں عرض کریں گی، اے جبار! میرے اور میرے بیٹے (حسین) کے قاتل کے درمیان انصاف کرو۔ رب کعبہ کی قسم کہ میری بیٹی کے حق میں فیصلہ ہو گا"۔ (پاسخ بہ شبہات عزاداری ص ١٦٠)۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین ع کی عزاداری کرنا اور آپ پر کئے جانے والے مظالم کا تذکرہ ہمیشہ اور تاقیامت ہونا چاہئے۔ اگر گوسفند ذبح کر کے ہر سال سنت ابراہیمی کو زندہ رکھا جا سکتا ہے تو عزاداری اور گریہ کے ذریعہ روز عاشورا کو بھی ہر سال زندہ رکھا جا سکتا ہے۔
اعتراض ٩: درست ہے کہ عزاداری کرنا چاہیئے لیکن ماتم تو درست نہیں۔ شیعہ سنی دونوں فریقوں کی کتابوں میں ایسی احادیث موجود ہیں جن میں ماتم اور سینہ زنی وغیرہ سے منع کیا گیا ہے۔
جواب: اہلسنت کی کتابوں میں سے صحیح بخاری کی روایت پیش کی جاتی ہے جس میں نبی اکرم ص نے فرمایا کہ : "جو شخص اپنے چہرے پر طمانچہ مارے یا گریبان چاک کرے اور زمانہ جاہلیت والی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں"۔ لیکن صحیح بخاری کی شرح لکھنے والے تمام علماء جیسے عقلانی، ملا علی قاری اور کرمانی نے لکھا ہے کہ اس سے مراد قضای الٰہی 

عزاداری سید الشہداء اور شہدائے کربلا شیعیان علی ع کے ساتھ مختص نہیں بلکہ دنیا کے مختلف مذاہب کے لوگ یہ غم مناتے ہیں اور اُنکے ساتھ اس غم میں اہلسنت بھی شریک ہوتے ہیں۔
پر اعتراض کے عنوان سے یہ کام کرنا ہے (واقعہ عاشورا ص ١٥٧)۔
جبکہ شیعہ حضرات جو روز عاشورا وغیرہ میں ماتم کرتے ہیں قضای الٰہی پر انکا اعتراض نہیں ہوتا بلکہ وہ تو اظہار غم کیلئے کرتے ہیں۔ رہی بات شیعہ کتابوں میں ماتم کے خلاف پائی جانے والی روایات کی تو ان کیلئے تین جواب ہیں جن میں سے پہلا تو یہی ہے جو صحیح بخاری کی روایت کیلئے عرض ہوا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ان روایات میں اس سینہ زنی اور نوحہ خوانی سے منع کیا گیا ہے جس پر کوئی عقلانی نتیجہ نہ نکلے حالانکہ اولیاء الٰہی کیلئے کی جانے والی سینہ زنی کا عقلانی نتیجہ نکلتا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ ان روایات کے مقابل میں ہمارے پاس ایسی روایات بھی ہیں جو ماتم اور گریہ کے جواز پر دلالت کرتی ہیں جیسے امام صادق ع کا فرمان : "کل الجزع والبکاء مکروہ سوی الجزع والبکاء علی الحسین" ( بحار الانوار، ج٢٤، ص ٢٨٩ بحوالہ واقعہ عاشورا س ١٥٩)۔
اعتراض ١٠: امام حسین ع کو تو دس محرم پینے کو پانی تک نہ ملا پھر یہ شیعہ لوگ کیسے امام حسین ع کے پیروکار ہیں کہ دودھ کی سبیلیں لگاتے ہیں، اچھے اچھے کھانے کھاتے ہیں۔
جواب:١۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سبیلیں لگانا، دیگیں پکانا اور دوسروں کو کھلانا شیعوں سے مختص نہیں، سنی حضرات بھی جو اہلبیت علیہم السلام سے عقیدت رکھتے ہیں یہ سبیلیں لگاتے ہیں اور چاول پکواتے ہیں اور سنی شیعہ سب کو کھلاتے ہیں۔ روایات سب کیلئے عیاں ہے۔ لہٰذا یہ اشکال صرف شیعوں پر وارد نہیں سنیوں پر بھی ہے۔
٢۔ جو لوگ یہ سبیلیں لگاتے ہیں یا اچھے اچھے کھانے پکواتے ہیں وہ خود پیٹ کر کھانے کیلئے نہیں بلکہ دوسرے مومنین کیلئے کہ جو عزاداری میں مصروف ہیں، اپنے گھروں کو تالے لگا کر آئے ہیں، سارا دن سینہ زنی کرتے رہے ہیں، گریہ کرتے رہے ہیں یا دوسری خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ کچھ لوگ کھانے پانی کا انتظام کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ چونکہ عام لوگوں نے نہیں بلکہ امام حسین ع کے عزاداروں نے کھانا پینا ہے لہٰذا اچھا ہونا چاہیئے۔
٣۔ کسی کو پانی پلانا اور کھانا کھلانا اسلام و قرآن کی رو سے نہ صرف یہ کہ غلط کام نہیں بلکہ مطلوب ہے، مستحب ہے، حتیٰ بعض صورتوں میں واجب ہے۔ اسی طرح سے خود کھانا پینا بھی اسلام کی رو سے برا نہیں حتیٰ عاشور کے دن فاقہ کرنا وغیرہ اچھا ہے لیکن کھا پی لینا بھی برا نہیں۔ بالخصوص اُن عزاداروں، ماتم داروں، خطیبوں اور مجلس و جلوس میں شریک لوگوں کیلئے کہ اگر وہ کھائیں پئیں گے نہیں تو عزاداری کے پروگرام متاثر ہوں گے۔
٤۔ کھانا پینا اس وقت درست نہیں ہوتا جب امام حسین ع نے اپنی مرضی سے کھایا پیا نہ ہوتا اور اپنے شیعوں کو کھانے پینے سے منع کیا ہوتا۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں امام ع بار بار پانی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اوراپنے شیعوں کو یہ فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں: "شیعتی ما اِن شربتم ماء عذب فاذکرونی" اے ہمارے شیعو! جب میٹھا ٹھنڈا پانی پینا تو ہماری پیاس کو یاد کرنا یعنی پانی پینے سے منع نہیں کیا بلکہ اپنی حسرت کا اظہار فرمایا۔
٥۔ اگر اس وجہ سے کہ چونکہ امام حسین ع روز عاشورا بھوکے پیاسے شہید ہوئے شیعوں کو کھانے پینے سے پرہیز کرنا ضروی ہو تو پھر مشہور یہ ہے کہ سات محرم کے بعد سے حضرت کا پانی بند تھا پس شیعوں کا پانی بھی کیا بند کر دیا جائے؟
٦۔ بعض روایات میں مومن مسلمان کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے کی تاکید اور ثواب بیان کیا گیا ہے جن میں یہ نہیں کہا گیا کہ عاشورا کے علاوہ کسی دن میں یہ ثواب ہے اور عاشورا والے دن گناہ بلکہ مقاتل کی کتابوں (جیسے معالی السبطین وغیرہ) میں تو حتیٰ خصوصاً عاشورا کے دن کھانا کھلانے اور پانی پلانے کا بہت زیادہ ثواب بیان کیا گیا ہے۔
ہم یہاں تبرکاً ایک روایت ذکر کرتے ہیں:
عَن علی بن الحسین علیہما السلام قال: مَن اَطْعَمَ مُوْمِناً مِن جوعٍ، اَطْعَمَمُ اللّٰہ مِن ثمار الجنۃ وَمَن سَقیٰ مومِناٍ مِن ظََمأٍ سَقَاہُ اللّٰہ مِنَ الرَّحیقِ المختوم (الحدیث، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال ص ٢٩٠)۔
امام زین العابدین ع سے روایت ہے کہ حضرت ع نے فرمایا: جو شخص کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلائے خدا اسے جنت کے میوے عطا کرے گا اور جو شخص پیاسے مومن کو پانی پلائے خدا اسے جنت کی شراب سے سیراب کرے گا۔
پس نہ کھلانے پلانے والوں پر یہ اشکال کیا جا سکتا ہے نہ کہ کھانے پینے والوں پر۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ