اندراج کی تاریخ  11/9/2020
کل مشاہدات  179
حصہ اول ابن تیمیہ علماء شافعی کے نظر میں سلفی اور وہابیوں کا دعوی ہے کہ کوئی مذہب نہیں ہے اور عصر سلف یعنی صحابہ، تابعین اور تابع تابعین کی طرف رجوع کرکے مذاہب سے ہٹ کر اسلام کو اختیار کرنا چاہیے۔ ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد اور اسکے مکتب کے پیروکار، اسلام سلف، کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت کا بہانہ بناکر مختلف اسلامی مسائل کے بارے میں – خاص طور پر توحید اور شرک کے حوالے سے- بے بنیاد نظریات اور عقائد بیان کرنے لگے ہیں، ان نظریات کی بنیاد پر مسلمانوں کے بہت سارے نظریات اور اعمال پر اعتراض ہوا اور بہت سارے توحید پرست، اسلام کے دائرہ سے نکل جاتے ہیں۔ اس مقالے میں ابن تیمیہ کے بارے میں اہل سنت علماء کی آراء اور نظریات بیان کیے جائنگے۔

 

نويسنده : علی اصغر رضوانی

مقدمہ 

تفکر اسلامی کی تاریخ اپنے اندر فراز و نشیب لیے ہوئے اور تحول و تبدل اور مختلف نظریات اور نقطہ نظرات سے بھرپور ہے۔ ان تبدیلیوں سے بھرپور تاریخ میں مختلف اہداف اور نظریات کے ساتھ مختلف فرقے اور مذاہب وجود میں آگئے اور ان میں سے بعض تو کچھ عرصہ کے بعد بھلا دیے گئے اور کچھ تبدیلی کا سفر طے کرتے ہوئے اب بھی اسلامی معاشروں میں تاثیر رکھتے ہیں، لیکن ان فرقوں میں سے وہابی فرقے کا ایک خاص سیر و سفر ہے، کیونکہ اسلامی مفکرین اور صاحب نظر افراد کے درمیان یہ فرقہ مضبوط تفکر کا حامل نہ ہونے کے باوجود اس کوشش میں ہے کہ اپنے نادرست اور قدامت پسند تفکرات دیگر مسلمانوں پر تھونپ دیے اور اپنے آپ کو اسلامی سوچ اور تفکر کے میدان میں حاضر واحد فرقہ کے طور پر منوائے ۔

اسی وجہ سے اس فرقہ کے راز و رموز اور تغیر و تبدل کے سفر اور تفکر کی شناخت کے لیے تحقیق کی ضرورت ہے اور گراں قدر استاد محترم جناب علی اصغر رضوانی نے مسلسل جد و جہد اور قابل تقدیر کوشش کے ساتھ اس تفکر کے آشکار اور پس پردہ پہلووں پر تحقیق کی ہے اور بہت سارے تحقیقاتی منابع سے استفادہ کرتے ہوئے اس فرقہ کے تفکر اور نظریات کی جانچ پڑتال کی ہے۔ 

انکی زحمتوں اور کوششوں کا شکریہ کرتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس طرح کی تحقیقات اس منحرف فرقہ سے آشنا ہونے کا باعث ہوں اور مفکرین اور دانشوروں کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے اس مجموعہ کی آئندہ کی اشاعتوں کی کیفیت میں بہتری لائی جائے۔

انه ولی التوفیق

مرکز تحقیقات حج

کلام اور اسلامی تعلیمات گروپ

اسلام نے لوگوں کو متحد رہنے اور تفرقہ سے دور رہنے کی دعوت دی ہے۔ قرآن کریم واضح ہدایات کے ذریعے تمام انسانوں کو توحید کے محور پر اکھٹا ہونے کی دعوت دیتا ہے اور اختلاف، تفرقہ اور گروہوں میں تقسیم ہونے کو سیدھے راستے سے دور ہونے باعث قرار دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے : 

 “وَلاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِهِ” (انعام: 153)

مختلف راستوں کی پیروی نہ کرو کیونکہ یہ کام تمہیں راہ حق پر چلنے سے روک دیتا ہے۔

رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) جو اسلام اور مسلمانوں کی عزت و عظمت کے خواہاں تھے اور چاہتے تھے کہ دین اسلام کے اقدار اور اصولوں کے مطابق زندگی گذاریں  نے بھی ہمیشہ اصول اور مبانی کے پابند ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور اپنی امت کو دین میں بدعت ایجاد کرنے والوں کے جال میں پھنسنے سے ڈراتے تھے و نیز تفرقہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے نقصانات سے بچنے کے راستے بتاتے تھے۔

یہ تمام نصیحتین اس لیے تھیں کہ آخری آسمانی دین کے پیروکار اپنے گذشتہ بزرگوں کی راہ پر نہ چلیں اور انکی طرح مخالف گروہوں میں تقسیم نہ ہوں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے :

“وَلاتَکُونُوا کَالَّذِینَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ ما جآءَهُمُ الْبَیناتُ” (آل عمران: 105)

ان لوگوں جیسے مت بنو جو منتشر ہوگئے ہیں اور روشن دلائل پیش کیے جانے کے بعد بھی اختلاف کا شکار ہوگئے ہیں۔

لیکن بہت کم عرصے کے اندر اسلامی امت تفرقہ کا شکار ہوگئی اور مسلمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور قرآن اور رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی ہدایات کے برخلاف پورا اسلامی معاشرہ فرقہ پرستی کی لپیٹ میں آگیا۔

فرقہ پرستی کی نشونما اور اسکا پھیلاؤ اور اسکے جاری رہنے کی وجہ سے بعض مفکرین اس کا کوئی راہ حل ڈھونڈنے لگے اور یہ حقیقت انکے لیے واضح ہوگئی کہ ایک طرف مسلمانوں کی آپس میں بدگمانیوں اور فاصلوں کے اسباب کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف اسلام کے بنیادی منابع میں زیادہ تحقیق اور تفحص کر کے دین کے حقیقی اقدار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

واضح ہے کہ ان دو اقدامات کے بہت فائدہ مند نتائج نکل سکتے ہیں، ان اقدامات کے ذریعہ اسلامی امت متحد ہوکر اسلام کے دشمنوں اور بدخواہوں کے مقابلہ میں کھڑی ہوسکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ کوشش ناکام رہ گئی اور بدخواہوں نے ہمکاری اور مدد کرنے کے بجائے تفرقہ اور جدائی کا نعرہ بلند کیا اور چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے دشمن کے اہداف کی مدد کی اور اسلام کے بدخواہوں کے ساتھ ہم آواز ہوکر مسلمانوں کو مسترد کر کے فرقوں کو پھیلانے لگے۔

سلفیوں کا وجود میں آنا

سلفی فرقہ ایک ناپسدیدہ اور بہ نسبت نیا فرقہ ہے جو انحصار طلبی کے ساتھ مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہے اور اپنے سوا سب کو کافر سمجھتا ہے۔ ایک خودخواہ فرقہ جس نے سلف صالح کی پیروکاری کا لباس زیب تن کر کے وحدت کا دعوی کرتے ہوئے وحدت کی بنیاد کے مخالف ہیں۔

سلفیہ وہ ہیں جہاں پر وہابیت پروان چڑھی، جس کا دعوی ہے کہ کوئی مذہب موجود نہیں ہے، عصر سلف یعنی صحابہ، تابعین، تابع تابعین کے زمانہ کی طرف پلٹنا چاہیے اور بغیر مذہب کے اسلام کو اپنانا چاہیے۔ وہ اس بات کی طرف دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں: آجاؤ تمام مذاہب کو چھوڑ کر اتحاد کی جانب قدم بڑھاتے ہیں لیکن دوسرے ہاتھ سے تکفیر کی شمشیر کھینچ کر دوسروں کو اسلامی معاشرے سے نکال کر کفار میں شامل کر کے معاشرے کو چند حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

واضح اور روشن  ہے کہ لوگوں کو مذاہب کے ثمرات کو چھوڑ دینے کی دعوت دینا ایک نہ ہونے والا کام ہے، کیونکہ مذاہب کے پیروکار آسانی سے اپنا مذہب چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں اور ایسے تاریک اور مبہم نقطہ کی طرف نہیں دوڑتے جس کا دعوی سلفی کرتے ہیں، خاص طور اس نکتہ کے پیش نظر کہ اس بے مذہبی کی طرف بلانے کے پشت پردہ ایک مذہب پوشیدہ ہے وہ بھی ایسا مذہب جو جمود اور تنگ نظری کا شکار ہے جو اسلام کی ایک بے تحرک، بے روح، ناقص، کمزور اور بے کشش تصویر پیش کرتا ہے اور شدت پسندی اور تعصب کی روح زندہ کر کے ایک دوسروں کے نزدیک ہونے کے لیے ہر قسم کی کے راستوں کو بند کرتا ہے اور لڑائی جھگڑا اور بدگمانی کی فضا ایجاد کرتا ہے اور سب کو تلوار ہاتھ میں لینے پر مجبور کرتا ہے۔

ابن تیمیہ سلفی تفکر کے راہنما

آگاہ اور متعہد علماء کی جانب سے اسلامی وحدت ایجاد کرنے کی راہ میں رکاوٹ بننے والے لوگوں میں سلفی اور انکے پیروکار اور وہابیوں کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد اور اس کے مکتب کے پیروکار اسلام سلف کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت کا مسئلہ اٹھا کر اس بہانہ سے مختلف اسلامی مسائل کے بارے میں- خاص طور پر توحید و شرک کے بارے میں- بے بنیاد نظریات اور عقائد بیان کیے ہیں، ان نظریات کی بنیاد پر مسلمانوں کے بہت سارے افکار اور اعمال پر اعتراض ہوتا ہے اور بہت سارے توحید پرست دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں۔

ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں کا دعوی تھا کہ وہ سلف صالح کے اسلام کے مطابق گفتگو کرتے ہیں اور گذشتہ صدیوں میں جو انحرافات وجود میں آئے ہیں انکو سلف صالح کی سیرت کی شناخت کرنے کے ذریعے ختم کریں گے جبکہ اسلام کے حقیقی اقدار معلوم کرنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت معصومین(علیہم السلام) کی طرف رجوع کرنا ہے اور اس بات سے آگاہ ہونا ہے کہ دین لانے والے نے کونسی روش پیش کی ہے اور کونسی باتوں کا حکم دیا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ دردمند علماء مسلسل جد و جہد کے ذریعہ ابن تیمیہ کے افکار کی جانچ پڑتال کریں اور تمام مسلمانوں پر واضح کر دیں اس کے نظریات نہ صرف حقیقی اسلام کے مطابق نہیں ہیں بلکہ سلف صالح کی سیرت کے ساتھ بھی سازگار نہیں ہیں۔

جی ہاں اسلامی مسائل کے حوالے سے ابن تیمیہ کا جو رویہ تھا اس سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور بہت سارے اسلامی عقائد اور آداب کی نفی کرنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں تھا، لیکن اسلامی علماء اور دانشوروں کا اس کے ساتھ ڈائرکٹ روبرو ہونا باعث ہوا کہ یہ مکتب کچھ ہی عرصہ میں آگے بڑھنے سے رک گیا۔ اس کے شاگردوں میں صرف ابن قیم جوزی اپنے استاد کے افکار پر ڈٹا ہوا تھا اور اس حوالے سے چند کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن ابن تیمیہ کے بعد کی چار صدیوں کے دوران اسکے افکار کو مقبولیت نہیں ملی اور اس کے بہت سارے نظریات بھلا دیے گئے۔

ابن تیمیہ، اہل سنت مفکرین کی نظر میں

وہابی، ابن تیمیہ کے لیے بہت اہمیت اور قدر و قیمت کے قائل ہیں اور اس کو اپنا شیخ الاسلام مانتے ہیں اور ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ ابن تیمیہ تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک سنت کا دفاع کرنے کے حوالے سے ایک خاص مقام کے حامل ہیں جبکہ خود ابن تیمیہ کے زمانے سے لے کر آج تک اہل سنت علماء اس کے تفکر پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اور اب انکے نظریات اور آراء کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور اس حصہ میں شافعی علماء کا نظر ابن ابن تیمیہ کے بارہ بیان کیا جائے گا

  1. شیخ علاء الدین علی بن اسمح یعقوب شافعی (م710ه‍. ق)

ابن حجر اس کے بارے میں کہتا ہے : “شدید الحطّ علی ابن تیمیة”[1] “وہ ابن تیمیہ پر سخت تنقید کرتا تھا ”

  1. صفی الدین محمّد بن عبدالرحیم ارموی شافعی (م715ه‍. ق)

وہ ہندوستان کے علماء میں سے تھا پھر دمشق میں رہنے لگا علم اصول فقہ اور کلام میں اسکی بہت ساری تصنیفات ہیں۔

ذہبی اسکے بارے میں کہتا ہے:

العلامة الأوحد صفی الدین... کان حسن الإعتقاد علی مذهب السلف.[2]

منفرد علامہ صفی الدین۔۔۔۔۔۔ وہ مذہب سلف کے بارے میں اچھا عقیدہ رکھتا تھا۔

کتاب “طبقات الشافعیة” میں تاج الدین سبکی نے ابن تیمیہ کے ساتھ صفی الدین کا مناظرہ ذکر کیا ہے۔ [3]

  1. صدرالدین محمّد بن عمر بن مکّی شافعی (م716ه‍. ق)

اہل سنت کے فقیہ، مفتی اور محدث ہیں جو ابن مرحل اور ابن وکیل سے معروف ہیں اور شافعی بزرگ اماموں میں سے شمار ہوتے ہیں، تاج الدین سبکی اسکے بارے میں کہتا ہے:

و له مع ابن تیمیة المناظرات الحسنة و بها حصل علیه التعصب من اتباع ابن تیمیة...[4]

ابن تیمیہ کے ساتھ اسکے اچھے مناظرے ہوئے ہیں اسی وجہ سے ابن تیمیہ کے پیروکار اس کے بارے میں تعصب سے کام لیتے تھے۔

ابن کثیر جو ابن تیمیہ کا شاگرد ہے اسکے بارے میں کہتا ہے:

و کان ینصب العداوة للشیخ تقی الدین ابن تیمیة و یناظره فی کثیر من المحافل و المجالس.[5]

وہ شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کے ساتھ عداوت رکھتے تھے اور اسکے ساتھ بہت ساری مجالس اور محافل میں مناظرہ کرتے تھے۔

  1. نور الدین علی بن یعقوب بکری شافعی (م724ه‍. ق)

اہل سنت کے مفتی اور امام ہیں ابن قاضی شعبہ اس کے بارے میں کہتا ہے:

واشتغل و افتی و درس، و لمّا دخل ابن تیمیة إلی مصر قام علیه و انکر مایقوله و آذاه.[6]

وہ علم حاصل کرنے میں مصروف تھے اور فتوی دینے اور تدریس کا کام کرتے تھے، جب ابن تیمیہ مصر میں داخل ہوگئے تو اس کے خلاف کھڑے ہوگئے اور جو کچھ کہتا تھا اس کا انکار کر کے اس کو اذیت پہنچاتا تھا۔

ذہبی اس کے بارے میں کہتا ہے:

الإمام المفتی الزاهد نورالدین علی بن یعقوب بن جبرئیل... وکان دیناً متعففاً، مطرحاً للتجمّل، نهّاء عن المنکر حتّی نفاه السلطان بعد ان همّ بقطع لسانه، وکان قد وثب مرّة علی الشیخ تقی الدین و نال منه.[7]

امام مفتی زاہد نورالدین علی بن یعقوب جبرائیل۔۔۔۔۔ دیندار اور پاک دامن انسان تھے اور عیش و عشرت کی زندگی گذارنے کے قائل نہیں تھےاور نہی از منکر بہت کرتے تھے یہاں تک کہ وقت کے بادشاہ نے اس کی زبان کاٹنے کا ارادہ کیا پھر اس کو جلاوطن کیا۔ ایک دفعہ شیخ تقی الدین(ابن تیمیہ) پر حملہ کیا اور اس پہ ہاتھ اٹھایا۔

  1. کمال الدین محمّد بن علی بن عبدالواحد زملکانی انصاری شافعی (م727ه‍. ق)

شام میں امام، مفتی اور قاضی القضات تھا مذہب شافعی کی سربراہی، تدریس، فتوی اور مناظرہ کی ذمہ داری اس کو ملی تھی اور وہ من جملہ ان لوگوں میں سے ہیں جس نے ابن تیمیہ کی رد میں “العمل المقبول فی زیارة الرسول” نام کی کتاب لکھی ہے.[8]

  1. ابوالمحاسن جمال الدین یوسف بن ابراهیم محجی شافعی (م738ه‍. ق)

شافعیوں کا امام، قاضی، اور اس مذہب کے فقیہ تھے، ذہبی اس کے بارے میں کہتا ہے۔

وکان یبالغ فی اذی ابن تیمیة وجماعة، ویتمقت ویعجب بنفسه، ولکنّه یحبّ الله ورسوله ویؤذی المبتدعة وفیه دیانة وحسن معتقد.[9]

ابن تیمیہ اور اسکی جماعت کو بہت تنگ کرتا تھا اور اس پر غصہ کرتا تھا اور اپنی رائے کو پسند کرتا تھا، لیکن خدا اور اسکے رسول سے محبت کرتا تھا اور بدعتیوں کا جینا حرام کرتا تھا اور دیندار اور اچھے عقیدہ کا مالک تھا۔

  1. شمس الدین محمّد بن احمد بن عثمان ذهبی (م748ه‍. ق)

ابن تیمیہ کے بارے میں لکھتا ہے:

... وقد تعبت فی وزنه وفتشه حتی مللت فی سنین متطاولة، فما وجدت أخرّه بین اهل مصر و الشام و مقتته نفوسهم وازدروا به وکذّبوه وکفّروه إلاّ الکبر والعجب وفرط العزام فی رئاسة المشیخة و الازدراء بالکبار...[10]

 ... میں نے اس کے حالات زندگی کے بارے بڑی محنت سے تحقیق کی ہے اور اس کے بارے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مصر اور شام والوں کی طرف سے اس کو تنہا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اور اسکے تکبر اور خودخواہی اور علماء کی رہبری کرنے کے شوق اور انکی توہین کی وجہ اسکی مذمت اور تکذیب و تکفیر کرتے تھے۔۔۔۔

وہ کسی اور شخص کے بارے میں بھی کہتا ہے:

فان برعت فی الأصول وتوابعها من المنطق والحکمة والفلسفة وآراء الأوائل ومحاورات العقول، واعتصمت مع ذلک بالکتاب والسنة واصول السلف، ولفقت بین العقل والنقل، فما أظنّک فی ذلک تبلغ رتبة ابن تیمیة ولا والله تقاربها، وقد رأیت ما آل امره إلیه من الحطّ علیه والهجر والتضلیل والتکفیر والتکذیب بحق وبباطل...[11]

اگر تم اصول اور اسکے توابع من جملہ منطق، حکمت اور فلسفہ اور متقدمین کے آراء اور عقلی ابحاث میں نمونہ تھے تو اس کے باوجود قرآن و سنت اور قدماء کے اصول سے تمسک کی ہے اور عقل و نقل کو جمع کیا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ان امور میں آپ ابن تیمیہ کے درجہ تک پہنچے ہوں اور خدا کے لیے اس مرتبہ کے نزدیک بھی نہ ہونا، لیکن آپ نے دیکھا کہ اس کا سرانجام کیا ہوا کس طرح پست اور خوار اور ذلیل ہوا لوگوں نے اسکی تکفیر کر کے کبھی حق اور کبھی ناحق اسکی تکذیب کی ہے۔۔۔۔

ابن تیمیہ کو ذہبی کی نصیحت

747 ه ق کو وفات پانے والے اہل سنت کے علم رجال کے بزرگ عالم دین شمس الدین محمد بن احمد ذهبی ہیں۔ وہ ابن تیمیہ کے شاگرد تھے جب وہ دیکھتا ہے کہ انکے استاد مسلمانوں کی تکفیر اور تفسیق کرنے لگا ہے تو اس کو نصیحت کرتا ہے اور چند نکات کے بارے میں اسے متنبہ کرتا ہے۔ یہ نصیحت نامہ جو “النصیحة الذهبیة الی ابن تیمیة” کے نام سے مشہور ہے علیحدہ طور تحقیق کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ یہاں پر اس کا متن ترجمہ اور تحقیق کے ساتھ ذکر کیا جا رہا ہے۔

بسم الله الرحمن الرحیم، الحمدلله علی ذلتی، یا ربّ ارحمنی و أقلنی عثرتی و احفظ علی ایمانی، و احزناه علی قلة حزنی، وا أسفاه علی السنة و ذهاب اهلها، و اشوقاه إلی اخوان مؤمنین یعاونوننی علی البکاء، وا حزناه علی فقد اناس کانوا مصابیح العلم و اهل التقوی و کنوز الخیرات. آه علی وجود درهم حلال و أخ مؤنس.

طوبی لمن شغله عیبه عن عیوب الناس، و تباً لمن شغله عیوب الناس عن عیبه، إلی کم تری القذاة فی عین اخیک و تنسی الجذع فی عینک؟ إلی کم تمدح نفسک و شقاشقک و عباراتک و تذم العلماء و تتبع عورات الناس مع علمک بنهی الرسول (صلّی الله علیه وآله وسلّم): (لاتذکروا موتاکم إلاّ بخیر؛ فانّهم قدأفضوا إلی ماقدموا)[12]، بلی اعرف انّک تقول لی لتنصر نفسک، انّما الوقیعة فی هؤلاء الذین ماشمّوا رائحة الإسلام ولا عرفوا ما جاء به محمّد (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و هو جهاد، بلی والله عرفوا خیراً ممّا إذا عمل به العبد فقد فاز و جهلوا شیئاً کثیراً ممّا لایعنیهم. و: (من حسن اسلام المرء ترکه مالایعنیه).[13]

یا رجل! بالله علیک کفّ عنّا؛ فانّک محجاجٌ علیم اللسان لاتقرّ و لاتنام، ایاکم و الأغلوطات فی الدین. کره نبیک (صلّی الله علیه وآله وسلّم) المسائل وعابها و نهی عن کثرة السؤال و قال: (انّ اخوف ما اخاف علی امّتی کل منافق علیم اللسان).[14] و کثرة الکلام بغیر دلیل تقسی القلب إذا کان فی الحلال و الحرام فکیف إذا کان فی العبارات الیونسیة و الفلاسفة و تلک الکفریات التی تعمی القلوب! والله قدصرنا ضحکة فی الوجود. فإلی کم تنبش دقائق الکفریات الفلسفیة لنردّ علیها بعقولنا. یا رجل! قد بلعت سموم الفلاسفة و مصنفاتهم مرّات، و بکثرة استعمال السموم یدْمِنُ علیها الجسم و تکمن والله فی البدن. و اشوقاه إلی مجلس فیه تلاوة بتدبّر، و خشیة بتذکر، و صمت بتفکّر. واهاً لمجلس یذکر فیه الأبرار. فعند ذکر الصالحین تنزل الرحمة، لا عند ذکر الصالحین یذکرون بالإزدراء و اللعنة. کان سیف الحجاج و لسان ابن حزم شقیقین واخَیتَهما. بالله خلّونا من ذکر بدعة الخمیس و اکل الحبوب، وجدوا فی ذکر بدع کنّا نعدها رأساً من الضلال قد صارت هی محض السنة و اساس التوحید، و من لم یعرفها فهو کافر أو حمار، و من لم یکفّر فهو اکفر من فرعون. و تعد النصاری مثلنا. والله فی القلوب شکوک ان سلم لک ایمانک بالشهادتین فانت سعید.

یا خیبة من اتبعک فانّه مُعرّض للزندقة و الانحلال، و لاسیما إذا کان قلیل العلم و الدین باطولیاً شهوانیاً، لکنّه ینفعک و یجاهد عنک بیده و لسانه و فی الباطن عدوّ لک بحاله و قلبه. فهل معظم أتباعک إلاّ قعید مربوط خفیف العقل، او ناشف صالح عدیم الفهم، فان لم تصدقنی ففتّشهم وزنهم بالعدل.

یامسلم! اقدم حمار شهوتک لمدح نفسک، إلی کم تصادقها و تعادی الأخیار؟ إلی کم تصدقها و تزدری بالأبرار، إلی کم تعظمها و تصغر العباد، إلی متی تخالِلها و تمقت الزهاد، إلی متی تمدح کلامک بکیفیة لاتمدح بها والله احادیث الصحیحین. یا لیت احادیث الصحیحین تسلم منک بل فی کل وقت تغیر علیها بالتضعیف و الإهدار او بالتأویل و الإنکار.

أما آن لک ان ترعوی؟ أما حان لک ان تتوب و تنیب؟ أما انت فی عشر السبعین و قد قرب الرحیل. بلی والله ما أذکر انّک تذکر الموت، بل تزدری بمن یذکر الموت، فما اظنّک تقبل علی قولی و لاتُصغی إلی وعظی، بل لک همّة کبیرة فی نقض هذه الورقة بمجلدات و تقطع لی أذناب الکلام، ولاتزال تنتصر حتّی اقول لک و البتة سکتت.

فإذا کان هذا حالک عندی و أنا الشفوق المحبّ الوادّ، فکیف یکون حالک عند اعدائک، و أعدائک والله فیهم صلحاء و عقلاء و فضلاء، کما انّ اولیائک فیهم فجرة و کذبة و جهلة و بطلة و عور و بقر.

قد رضیت منک بأن تسبّنی علانیة و تنتفع بمقالتی سراً: (رحم الله امراً اهدی إلی عیوبی)، فانّی کثیر العیوب، عزیز الذنوب، الویل لی ان أنا لا أتوب، و وافضیحتی من علاّم الغیوب، و دوائی عفوالله و مسامحته و توفیقه و هدایته، و الحمدلله ربّ العالمین، و صلّی الله علی سیدنا محمّد خاتم النبیین و علی إله و صحبه اجمعین.

شروع اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا اور مہربان ہے۔ تعریف اللہ سے مخصوص ہے میری ذلت پر، اے میرے رب! مجھ پر رحم فرما اور میری خطا پر پردہ ڈال دے میرے ایمان کو محفوظ فرما۔ ہائے افسوس میرے غم کی کمی پر، ہائے افسوس سنت اور سنت پر عمل کرنے والوں کے جانے پر۔ کس قدر اپنے مومن بھائیوں کا مشتاق ہوں تاکہ رونے میں میری مدد کریں اور کس قدر ان شخصیات کے فقدان پر غمگین ہوں جو علم کے چراغ ، اہل تقوی اور نیکیوں کا خزانہ تھے۔ ہائے افسوس حلال درہم اور ہمدم بھائی کی مجھ حسرت ہے۔ کتنا خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا اپنا عیب اسکو دوسروں کے عیوب دیکھنے سے روکے اور کتنا بد نصیب ہے وہ شخص جو لوگوں کے عیوب دیکھنے میں مشغول ہونے  کی وجہ سے اپنے عیوب نہ دیکھ سکے۔ کب تک اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکہ دیکھو گے لیکن درخت کا پورا تنہ اپنی آنکھ میں نہیں دیکھ رہے ہو؟ کب تک اپنی اور اپنی گفتار اور عبارات کی تعریف کرو گے اور علماء کی مذمت کرو گے اور لوگوں کی غلطیوں کا پیچھا کرو گے جبکہ جانتے ہو کہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) نے اس کام سے منع کیا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں: (اپنے مرحومین کو سوائے نیکی کے یاد نہ کرو، کیونکہ انکو وہ چیز ملی ہے جو انہوں نے آگے بھیجا تھا)۔

جی میں جانتا ہوں کہ میرا جواب دے دو گے تاکہ اپنی مدد کر سکو، مصیبت ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کو اسلام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور محمد (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی شریعت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہےجبکہ یہ کام جہاد ہے۔ ہاں خدا کی قسم ! انہوں نے اتنی اچھائی سمجھ لی ہے کہ اگر بندہ اس پر عمل کرتا تو کامیاب ہوجاتا لیکن بہت سارے ایسے امور کے بارے میں جاہل ہیں کہ جن کو انجام دینے کے لیے خدا نے حکم نہیں دیا ہے۔ اور حدیث میں ہے: ( انسان کے اسلام کی اچھائی اس میں ہے کہ بے مقصد چیزوں کو ترک کر دے)۔

اے مرد! آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں! ہمارا پیچھا چھوڑ دے؛ کیونکہ تم چرب زبان ہونے کے ساتھ اہل بحث و تکرار ہو، جس کو کوئی آرام اور قرار نہیں ہے، دین میں غلطی کرنے سے پرہیز کرو۔ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) بعض مسائل کو چھیڑنا، پسند نہیں کرتے تھے اور اعتراض کرتے تھے زیادہ سوال کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ( اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ ایسے شخص سے ڈرتا ہوں جو چرب زبان ہے)۔ اور بغیر دلیل کے زیادہ باتیں کرنا دل کو مردہ کر دیتا ہے اگرچہ حلال اور حرام کے بارے میں ہو فلاسفہ اور یونسیہ کی عبارات تو دور کی بات ہے یہ کفریات تو دل کو اندھا کر دیتی ہیں۔

خدا کی قسم  عالم وجود میں ہم مذاق بنے ہوئے ہیں۔ پس کب تک کفر اور فلسفہ کے دقیق مسائل کو کھودو گے تاکہ ہم اپنی عقلوں سے ان کو رد کریں۔ اے مرد! تم نے فلسفیوں کے زہر اور انکے تصنیفات کو کئی مرتبہ نگل لیا ہے اور زہر کو زیادہ استعمال کر نے کی وجہ سے جسم موٹا ہوگیا ہے اور خدا کی قسم بدن میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ کس قدر ایسی مجلس کا مشتاق ہوں جس میں قرآن تدبر کے ساتھ خشوع، تذکر اور سکوت  کے ساتھ ہو۔ اور کس قدر ایسی مجلس کا مشتاق ہوں جس میں نیک لوگوں کا ذکر ہو؛ کیونکہ نیک لوگوں کی یاد کرتے وقت برکت نازل ہوتی ہے، نہ یہ کہ نیک لوگوں کی یاد کرتے وقت ذلت اور لعنت بھیجتے ہوئے انکی یاد کریں۔ گذشتہ زمانے میں حجاج کی تلوار اور ابن حزم کی زبان دو بھائیوں کی طرح تھیں اور تم نے دونوں کو اکھٹا کیا ہے۔

خدا کی قسم! ہمیں جمعرات کی بدعت کا ذکر کرنے اور اناج کھانے سے آزاد کردیں۔ انکو ایسی بدعتوں کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جو گمراہی کی بنیاد تھیں، لیکن اس وقت حقیقی سنت اور توحید کی بنیاد کے طور پر پیش کی گئی ہے، جو شخص اس کو نہ پہچان لے وہ کافر یا کھوتا ہے، اور جو شخص تکفیر نہ کرے فرعون سے بھی زیادہ کافر ہے اور عیسائی ہماری طرح سمجھے جاتے ہیں۔ خدا کی قسم! دلوں میں ایسے شک پائے جاتے ہیں کہ اگر آپ کا ایمان کلمہ شہادتین پڑھنے سے آپ کے لیے سالم رہے تو تمہیں خوشبختی ملی ہے۔ خسارے میں ہے وہ شخص جس نے تیری پیروی کی ہے، وہ کفر اور بکھرنے کی زد میں ہے، خاص طور پر جب تھوڑے سے علم اور ایمان کا حامل ہو اور طویل شہوانی آرزوئیں رکھتا ہو لیکن کیا ایسا شخص تمہیں نفع پہنچا سکتا ہے اور اپنے ہاتھ اور زبان سے تمہارا دفاع کر سکتا ہے جبکہ باطن میں دلی طور پر آپ کا دشمن ہے۔ کیا آپ کے اکثر پیروکار نادار، غیر مستقل اور کم عقل یا نیک مگر ناسمجھ اور بیشعور افراد نہیں ہیں؟! اگر میری بات کی تصدیق نہیں کرتے ہو تو تحقیق کرو اور انکو انصاف کے ساتھ تولو۔

اے مسلمان! اپنی تعریف کرنے کے لیے اپنی شہوت کا گدھا آگے کرو، کب تک اس کے ساتھ صداقت سے پیش آتے رہو گے اور نیک لوگوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہو گے؟ اور کب تک اسکی تعظیم کر کے اللہ کے بندوں کی تحقیر کرتے رہو گے، کب تک اس کے ساتھ دوستی کرو گے لیکن زاہدوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہو؟! اور کب تک اپنی بات اور گفتگو کی تعریف کرتے رہو گے یہاں تک کہ – خدا قسم – صحیحین کی احادیث کی تعریف نہیں کرتے ہو؟! کاش صحیحین کی احادیث تمہاری زبان سے محفوظ رہتیں، تم ہر وقت انکو تضعیف کر کے ان پر حملہ کر کے اور تاویل کر کے غصہ کا اظہار کرتے ہو۔ کیا اب ان کاموں کو ترک کرنے کا وقت نہیں ہوا ہے؟! کیا توبہ کرنے اور واپس پلٹنے کا وقت نہیں ہوا ہے؟! کیا تم اپنی عمر کی ساتویں دہائی میں نہیں ہو کیا تمہارے جانے کا وقت نزدیک نہیں ہے؟ ہاں مجھ یاد نہیں ہے کہ تم نے موت کو کبھی یاد کیا ہو، بلکہ جو بھی موت کی یاد کرتا تھا تو تم اسکی مذمت کرتے تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ میری بات مان لو گے اور میری نصیحت پر عمل کرو گے کیونکہ تم اس ورق میں لکھی ہوئی باتوں کو چند جلدوں پر مشتمل کتاب لکھ کر نقض کرنے کی ہمت رکھتے ہو اور مجھ اپنی باتوں کے درپی رہنے سے روکتے ہو اور ہمیشہ اپنا دفاع کرتے ہو تاکہ میں تم سے کہوں میں خاموش ہو گیا ہوں۔

اگر میں آپ کا مخلص دوست ہونے کے باوجود میرے نزدیک آپ کی حالت  یہی ہے تو آپ کے دشمن  آپ کو کس نظر سے دیکھتے ہونگے۔ خدا کی قسم تمہارے دشمنوں میں صالح، عاقل اور فاضل افراد موجود ہیں، جس طرح تمہارے دوستوں میں فاسق و فاجر، جھوٹے، جاہل، ناحق، اندھے اور گائے(احمق) موجود ہیں۔ میں راضی ہوں کہ آپ مجھ سرعام برا بلا کہہ دیں مگر درپردہ میری گفتگو سے فائدہ اٹھائیں، جیسا کہ روایت میں ذکر ہے: ( خدا رحمت کرے اس شخص پر جو مجھے میرے عیبوں کا تحفہ دے دے)۔ میرے بہت سارے عیب ہیں، افسوس ہے اگر توبہ نہ کروں، خدا کی طرف سے رسوا ہونے پر افسوس ہے جس کا علم غیب بہت زیادہ ہے، خدا کا عفو اسکی بخشش، چشم پوشی، توفیق اور ہدایت میرا علاج ہے۔ اور تعریف فقط اس خدا کی ہے کہ تمام مخلوقات کا پروردگار ہے اور درود ہو ہمارے سردار محمد پر جو خاتم النبیین ہے اور اسکی آل اور انکے تمام اصحاب پر درود ہو۔

نصیحت نامہ کے خطی نسخہ پر تحقیق

اس نصیحت نامہ کا خطی نسخہ قاہرہ کے “دارالکتب المصریة” میں اس نمبر (18823 ب)  کے ساتھ ابن قاضی شہبہ کے دستخط میں موجود ہے جس نے قاضی القضات برہان الدین جو ابن جماعہ سے معروف ہے کے دستی نسخہ سے نقل کیا ہے اس نے ابوسعید علائی کے خطی نسخہ سے اور اس نے ذہبی کے خطی نسخہ سے نسخہ برداری کیا ہے۔

ابن قاضی شہبہ، فقیہ اور مؤرخ ہے اور وہی ابوبکر بن احمد بن محمد بن عمر اسدی دمشقی شافعی ہیں جو 779 ہج ق کو دمشق میں پیدا ہوئے۔ اس نے فتوی اور تدریس کی ذمہ داری سنبھالی اور اپنے شہر اور بیت المقدس میں حدیث بیان کرتے تھے۔ وہ آثار کے مالک ہیں من جملہ: 

 “طبقات الفقهاء الشافعیة”، “شرح منهاج الطالبین” نووی وغیرہ.[15]

اور ابن جماعۃ وہی قاضی القضات ، مفسر برهان الدین ابراهیم بن عبدالرحیم بن محمّد بن سعدالله بن جماعۃ ہیں جو مصر میں 725 ہج ق کو پیدا ہوئے ہیں۔  وہ شام کی طرف سفر کرتے ہوئے مزی اور ذہبی کے ساتھ تھے اور ان دونوں سے بہت نقل کیا ہے اور بعد میں علماء کی سربراہی ان کو ملی اور مصر اور شام میں قضاوت کا عہدہ سنبھالا ۔ اس لیے اس کا شرح حال لکھتے وقت  فقیہ اور مفید محدث کے طور پر اسکی معرفی کی گئی ہے۔[16]

اور حافظ ابوسعید علائی وہی اصولی فقیہ ابوسعید صلاح الدین خلیل بن کیکلوی علائی دمشقی شافعی ہیں جو 694 ہج ق کو  دمشق میں پیدا ہوئے ہیں اور بہت سارے علماء سے استفادہ کیا ہے۔ اس نے دمشق اور قدس کے مختلف مدارس میں تدریس کی ذمہ داری سنبھالی ہے اور علم حدیث کو شام ، مصر اور حجاز میں سیکھا تھا، فتوی دیتے تھے اور تصنیفات کے مالک تھے۔[17]

اس نصیحت نامہ کا ایک اور نسخہ دمشق کے “دار المکتبة الظاهریة” میں (1347) نمبر کے ساتھ موجود ہے۔

شبہہ

بعض لوگ کہتے ہیں: ذہبی کی طرف سے ابن تیمیہ کے لیے یہ وصیت نامہ لکھنے کی بات درست نہیں ہے؛ کیونکہ ذہبی نے اپنی کتابوں میں اپنے استاد ابن تیمیہ کی تعریف کی ہے۔ جبکہ ابن قاضی شہبہ اسکے دشمنوں میں سے تھا۔ لہذا اس قسم کے وصیت نامہ کے موجود ہونے بارے میں اسکی گواہی قبول نہیں ہے۔

جواب

پہلی بات: بعید نہیں ہے کہ کوئی شخص پہلے کسی شخص کی تعریف کرے لیکن بعد میں اس کے برے کام دیکھنے کی وجہ سے اسکی نظر تبدیل ہوجائے اور بالآخر اس کی مذمت کرے۔ ذہبی کے بارے میں بھی ایسا ہے۔

دوسری بات: ذہبی کی دیگر عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن تیمیہ کے بارے میں اسکی نظر تبدیل ہوگئی ہے۔

ذہبی اپنی کتاب “بیان زغل العلم و الطلب” میں ایک شخص سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھتا ہے:

فان برعتَ فی الأصول و توابعها من المنطق و الحکمة و الفلسفة و آراء الأوائل و محاورات العقول و اعتصمتَ مع ذلک بالکتاب و السنة و اصول السلف، و لفقت بین العقل و النقل، فما اظنّک فی ذلک تبلغ رتبة ابن تیمیة ولا والله تقاربها. و قد رأیت ما آل أمره الیه من الحطّ علیه و الهجر و التضلیل و التکفیر و التکذیب بحقّ و بباطل. فقد کان قبل ان یدخل فی هذه الصناعة منوّراً مضیئاً علی مُحَیاه سیماء السلف، ثم صار مظلماً مکسوفاً علیه قتمة عند خلائق من الناس، و دجّالا افّاکاً کافراً عند اعدائه...[18]

اگر آپ نے اصول اور اسکے توابع من جملہ منطق، حکمت، فلسفہ، متقدمیں کے اراء اور عقلی ابحاث میں مہارت حاصل کی ہے اور ان کے ذریعے قرآن و سنت اور سلف سے تمسک کیا ہے اور اس پر اعتماد کیا ہے اور عقل اور نقل کو جمع کیا ہے تو میں نہیں سمجھتا ان امور میں آپ ابن تیمیہ کے مرتبہ تک پہنچ جائیں یا اس کے علم کے نزدیک ہو جائیں اور آپ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا اور کس طرح ذلیل و خوار ہوا اور دھتکارا گیا اور اس کی طرف حق اور باطل اور گمراہی اور کفر کی نسبت دی گئی ۔ وہ اس کام میں داخل ہونے سے پہلے ایک نورانی شخص تھا اور سلف کی جھلک اس کے چہرے میں نظر آتی تھی لیکن لوگوں کے نزدیک اس کا چہرہ سیاہ ہوگیا اور اسکی عزت چھن گئی اور اس کے دشمنوں کے نزدیک دجال، تہمت لگانے والے اور کافر کے طور پر پہچانا گیا۔۔۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے ذہبی سے نقل کیا ہے کہ اس نے ابن تیمیہ کے بارے میں کہا ہے:

و أنا لا اعتقد فیه عصمة، بل أنا مخالف له فی مسائل اصلیة و فرعیة.[19]

میں اسکے بارے میں عصمت کا قائل نہیں ہوں بلکہ اصلی اور فرعی مسائل میں، میں اسکا مخالف ہوں۔

گویا ابن تیمیہ کی زندگی کے آخری ایام میں اس نصیحت کا اس پر اثر ہوا ہے:

ذہبی، اشعری کا شرح حال لکھتے ہوئے کہتا ہے:

رأیت للأشعری کلمة اعجبتنی وهی ثابتة رواها البیهقی، سمعت أبا حازم العبدوی، سمعت زاهر بن احمد السرخسی یقول: لمّا قرب حضور أجل أبی الحسن الأشعری فی داری ببغداد، دعانی فأتیته، فقال: أشهد علی انّی لا أکفر أحداً من أهل القبلة؛ لانّ الکل یشیرون إلی معبود واحد، وانّما هذه کلّه اختلاف العبارات.

قلت: وبنحو هذا ادین، وکذا کان شیخنا ابن تیمیة فی أواخر ایامه یقول: أنا لا اکفّر أحداً من الأمة، ویقول: قال النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم): (لا یحافظ علی الوضوء إلاّ مؤمن)، فمن لازم الصلوات بوضوء فهو مسلم.[20]

ابوالحسن اشعری کا ایک کلام میری نظروں سے گذرا جس نے مجھ تعجب میں ڈال دیا اور یہ واقعا اس کا کلام ہے اور بیہقی نے وہ بات نقل کی ہے کہ میں نے ابوحازم عبدوی سے سنا ہے کہ وہ کہتا تھا: میں نے زاہر بن احمد سرخسی سے سنا ہے کہ وہ کہتا تھا: بغداد میں میرے گھر میں جب ابوالحسن اشعری وفات ہونے لگا تو مجھ آواز دی۔ میں اسکے نزدیک گیا تو اس نے کہا: میری گواہی دو کہ میں کسی بھی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتا ہوں؛ کیونکہ تمام مسلمان ایک معبود کو مانتے ہیں اگرچہ انکی عبارات مختلف ہیں۔

میں کہتا ہوں: میری نظر بھی یہی ہے۔ و نیز ہمارے استاد ابن تیمیہ بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں کہتے تھے؛ میں امت کے کسی فرد کو ہرگز کافر قرار نہیں دیتا اور کہتا تھا: پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) نے فرمایا ہے: ( مومن شخص وہ ہے جو اپنی نماز کا پابند ہو) ؛ پس جو وضو کے ساتھ نماز پڑھنے کا پابند ہو وہ مسلمان ہے۔

  1. تقی الدین سبکی شافعی (م756ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

اعلم انّه یجوز ویحسن التوسل والإستغاثة والتشفع بالنبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلی ربّه سبحانه وتعالی وجواز ذلک وحُسنه من الأمور المعلومة لکلّ ذی دین، المعروفة من فعل الأنبیاء و المرسلین وسیر سلف الصالحین والعلماء والعوام من المسلمین، ولم ینکر أحد ذلک من أهل الأدیان، ولا سمع به فی زمن من الأزمان، حتّی جاء ابن تیمیة فتکلّم فی ذلک بکلام یلبس فیه علی الضعفاء الأغمار وابتدع مالم یسبق الیه فی سائر الأعصار... وحسبک انّ انکار ابن تیمیة للاستغاثة والتوسل قول لم یقله عالم قبله وصار به بین أهل الإسلام مُثلة...[21]

جان لو کہ  پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے استغاثہ کرنا اور پروردگار سبحانہ تعالی کے نزدیک انکی شفاعت طلب کرنا جائز اور اچھا ہے اور اس کام کا جواز اور حسن ہر صاحب دین کو معلوم ہے اور انبیاء و مرسلین اور سلف صالح، علماء اور مسلمان عوام کی سیرت میں مشہور و معروف ہے، کسی دیندار نے اسکا انکار نہیں کیا ہے اور کسی زمانے میں کسی شخص نے نہیں سنا ہے، یہاں تک ابن تیمیہ آگیا اور اس نے اس حوالے سے بات کی اور کمزور عقل والوں کے لیے اس بات کو مشکل بنا دیا اور ایسی بدعت ایجاد کی جس کی مثال کسی زمانے میں نہیں ملتی ہے۔۔۔۔ آپ کے لے اتنا کافی ہے کہ ابن تیمیہ کی طرف استغاثہ اور توسل کا انکار کرنا ایسی بات ہے کہ کوئی عالم اس سے پہلے اس بات کا معتقد نہیں تھا، یہ ایک ایسا امر تھا جس کی وجہ سے اہل اسلام میں تفرقہ اور شگاف ایجاد ہوا۔۔۔۔۔

وہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی قبر زیارت کے مسئلہ میں ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

ومن المعلوم انّ الزیارة بقصد التبرک والتعظیم لاتنتهی فی التعظیم إلی درجة الربوبیة ولا تزید علی ما نصّ علیه فی القرآن

والسنة وفعل الصحابة من تعظیمه فی حیاته وبعد وفاته، فکیف یتخیل امتناعها.[22]

یہ بات واضح اور روشن ہے کہ تبرک اور تعظیم کی غرض زیارت کرنے سے ربوبیت کا درجہ دینے کا باعث نہیں بنتا ہے اور نص قرآن و سنت سے زائد اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی حیات کے زمانے میں اور اس کی وفات کے بعد صحابہ کی طرف سے جو تعظیم کی گئی ہے اس سے بڑھکر کوئی کام انجام دینے کا باعث نہیں ہوتا ہے، پس ابن تیمیہ کے ذہن میں یہ بات کیسے آگئی ہے کہ اس زیارت سے لوگوں کو روکے۔

  1. صلاح الدین خلیل بن أیبک صَفَدی (م764ه‍. ق)

وہ اپنی کتاب “اعیان العصر و اعوان النصر” میں لکھتا ہے:

انفرد ـ ابن تیمیة ـ بمسائل غریبة و رجّح فیها اقوالا ضعیفة، عند الجمهور معیبة کاد منها یقع فی هوّة...[23]

ابن تیمیہ اکیلا بعض عجیب و غریب مسائل کا معتقد ہوگیا اور بعض ضعیف اور کمزور اقوال اختیار کیا ہے جو علماء کی بھاری اکثریت کے پاس عیب شمار ہوتے ہیں، ایسے مسائل کہ جن کی وجہ سے قریب تھا کہ گمراہ ہوجائے۔

  1. اسعد بن علی بن سلیمان یافعی، شافعی (م767ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

... وله مسائل غریبة انکر علیه فیها وحبس بسببها مباینة لمذهب أهل السنة، ومن اقبحها نهیه عن زیارة النبی علیه الصلاة والسّلام...[24]

۔۔۔۔۔وہ ایسے عجیب و غریب مسائل کا معتقد ہے جن کا علماء نے انکار کیا ہے اور انکی وجہ سے اس کو قید کیا ہے؛ اس لیے وہ اہل سنت کے مذہب کی مخالفت کرتا ہے، اس کا سب برا کام پیغمبر علیه الصلاة و السلام کی زیارت سے منع کرنا ہے۔۔۔

  1. عفیف الدین عبدالله بن اسعد یافعی مکّی شافعی (م768ه‍. ق)

ابن قاضی شهبه اسکے بارے میں کہتا ہے:

الشیخ الإمام القدوة العارف الفقیه العالم شیخ الحجاز عفیف الدین...[25]

شیخ، امام، نمونہ عمل، عارف، فقیہ، عالم، شیخ حجاز، عفیف الدین۔۔

اس نے بھی یافعی کے بارے میں ابن رافع سے نقل کیا ہے:

وله کلام فی ذم ابن تیمیة، ولذلک غمزه بعض من تعصب لابن تیمیة من الحنابلة وغیرهم.[26]

اس نے ابن تیمیہ کی مذمت میں ایک بات کی ہے اسی لیے بعض حنبلی اور دیگر افراد جو ابن تیمیہ کے حوالے سے متعصب ہیں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔

  1. ابوعبدالله محمّد بن عبدالله ابن بطوطه، شافعی (م779ه‍. ق)

وہ کتاب”تحفة النظار فی غرائب الأمصار و عجائب الأسفار” میں لکھتا ہے:

وکان بدمشق من کبار الفقهاء الحنابلة تقی الدین بن تیمیة کبیر الشام، یتکلم فی الفنون؛ إلاّ انّ فی عقله شیئاً... وکنت إذ ذاک بدمشق، فحضرته یوم الجمعة وهو یعظ الناس علی منبر الجامع ویذکرهم، فکان من جملة کلامه أن قال: انّ الله ینزل إلی سماء الدنیا کنزولی هذا ونزل درجة من درج المنبر، فعارضه فقیه مالکی یعرف بابن الزهراء و انکر ما تکلم به، فقامت العامة إلی هذا الفقیه وضربوه بالأیدی والنعال ضرباً کثیراً حتّی سقطت عمامته، وظهر علی رأسه شاشیة حریر، فانکروا علیه لباسها واحتملوه إلی دار عزالدین بن مسلم قاضی الحنابلة، فأمر بسجنه وعزره بعد ذلک. فانکر فقهاء المالکیة والشافعیة ما کان من تعزیره...[27]

دمشق میں حنبلی مذہب کے بڑے مجتہدین میں سے ایک تقی الدین بن تیمیه نام کا ایک شخص تھا جو شام کے بڑے علماء میں سے تھا اور ہر علم کے حوالے سے گفتگو کرتا تھا فقط ذہنی حوالے سے ٹھیک نہیں تھا۔۔۔۔۔ میں اس وقت دمشق میں تھا جمعہ کے دن اس کے پاس گیا تو وہ جامع مسجد کے منبر پہ بیٹھ کر لوگوں کو نصیحت کر رہا تھا۔ من جملہ اس کی باتوں میں ایک یہ تھی جو وہ کہہ رہا تھا: خدا آسمان دنیا سے ایسے اترے گا جیسے میں اترتا ہوں ۔ یہ کہا اور منبر کی سیڑھیوں سے نیچے آیا۔ ابن الزہراء نامی مالکی فقیہ نے اس کے ساتھ بحث شروع کی اور جو کچھ اس نے کہا تھا اس کا انکار کیا تو لوگوں نے اس فقیہ پر حملہ کیا اور اپنے ہاتھ اور جوتوں سے اسکی سخت پٹائی کی یہاں تک کہ اس کا عمامہ سر سے گر گیا اور عمامہ کے نیچے پہنی ہوئی ٹوپی نظر آگئ جو ریشم کی تھی تو اس پر ریشم کی ٹوپی پہننے پر اعتراض کیا گیا اور اس (مالکی فقیہ ) کو حنبلیوں کے قاضی عزالدین بن مسلم کے گھر لے جایا گیا۔ اس نے حکم دیا کہ اس کو قید کر کے تازیانے لگائے جائیں۔ مالکی اور شافعی فقہاء نے اس بات پر اعتراض کیا۔۔۔۔۔

  1. تقی الدین ابوبکر بن محمّد حسینی حصنی شافعی (م829ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

انّ ابن تیمیة الذی کان یوصف بانّه بحر من العلم، لایستغرب فیه ما قاله بعض الأئمة عنه من انّه زندیق مطلق. وسبب قوله ذلک انّه تتبع کلامه فلم یقف له علی اعتقاد حتّی انّه فی مواضع عدیدة یکفر فرقة و یضلّلها، وفی آخر یعتقد ما قالته أو بعضه، مع انّ کتبه مشحونة بالتشبیه والتجسیم، والإشارة إلی الازدراء بالنبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) والشیخین وتکفیر عبدالله بن عباس و انّه من الملحدین، وجعل عبدالله بن عمر من المجرمین وانّه ضالّ مبتدع...[28]

ابن تیمیہ کو علم کا دریا کہا جاتا تھا اور بعض اماموں کی طرف اس کو زندیق کہنے کی بات عجیب نہیں لگتی تھی۔ ابن تیمیہ کے بارے یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی باتوں پر تحقیق کرکے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں وہ ایسا شخص ہے جس نے بہت سے مقامات پر ایک فرقہ کو کافر قرار دے کر اس کی طرف گمراہی کی نسبت دی ہےاور دیگر بعض فرقوں کی طرف ناروا نسبتیں دی ہیں جبکہ اس کی کتابیں تشبیہ اور تجسیم کے اعتقاد سے بھری پڑی ہیں اور اسی طرح پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) ، ابوبکر اور عمر کی اہانت اور تنقیص اور عبداللہ ابن عباس کی تکفیر سے بھری پڑی ہیں اور عبداللہ ابن عباس کو کافروں میں سے قرار دیا ہے اور عبداللہ ابن عمر کو مجرم اور بدعتی کے طور پر معرفی کیا ہے۔۔۔۔

و نیز ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

والحاصل انّه واتباعه من الغلاة فی التشبیه والتجسیم والازدراء بالنبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وبغیض الشیخین، وبإنکار الأبدال الذین هم خلفوا الأنبیاء، ولهم دواهی أخر لونطقوا بها لأحرقهم الناس فی لحظة واحدة...[29]

خلاصہ یہ کہ وہ اور اسکے پیروکار، تشبیہ ، تجسیم اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی اہانت، ابوبکر اور عمر کی دشمنی اور انبیاء کی جانشین شخصیات کا انکار کرنے میں غلو کرنے والوں میں سے ہیں جن کے کچھ اور مقاصد اور اہداف ہیں اور اگر وہ اپنے اہداف کے بارے میں بات کریں تو لوگ اسی وقت انکو آگ لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔

وہ اسی طرح ابن تیمیہ کی رد میں لکھتا ہے:

لا أحد من الخلق أعظم برکة منه، ولا أوجب حقاً علینا منه، فالمعنی الذی فی زیارة قبره لایوجد فی غیره، ولا یقوم غیره مقامه، کما انّ المسجد الحرام لایقوم غیره مقامه، ومن ههنا شرع قصده بخصوصه، ویتعین، بخلاف غیره من القبور.[30]

مخلوقات میں کوئی ایک بھی پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے زیادہ بابرکت نہیں تھا اور سب سے زیادہ اس کا حق ہماری گردن پر ہے۔ لہذا اسکی قبر کی زیارت کرنے کے جو آثار ہیں اسکے علاوہ کسی اور میں نہیں پائے جاتے ہیں اور اس جیسا کوئی نہیں ہے، جس طرح مسجد الحرام جیسی کوئی مسجد نہیں ہے۔ بنابریں اس کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا جائز ہے اور معین ہے دیگر قبور کے برخلاف۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

فزیارة قبره (صلّی الله علیه وآله وسلّم) مستحبة بعینها؛ لما ثبت فیها من الأدلة الخاصة.[31]

پس اسکی قبر کی زیارت خاص طور پر مستحب ہے ان خاص دلائل کی وجہ سے جو اس حوالے سے ثابت ہوگئے ہیں۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

أعلم انّه یجوز ویحسن التوسل  والإستغاثة والتشفع بالنبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلی ربّه... ولم ینکر أحد ذلک من أهل الأدیان ولا سمع به فی زمن من الأزمان حتّی جاء ابن تیمیة فتکلّم فی ذلک بکلام یلبس فیه علی الضعفاء.[32]

جانلو کہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے توسل، استغاثہ اور شفاعت طلب کرنا جائز اور نیک عمل ہے اور مذاہب کے پیروکاروں میں سے کسی نے ان امور کا انکا نہیں کیا ہے اور کسی زمانے میں ان امور کا انکار نہیں سنا ہے یہاں تک کہ ابن تیمیہ آگیا اور اس کے بارے میں ایسی بات کی جس سے یہ بات ان کمزور ذہنوں کے لیے مشتبہ ہوگئی جن کے اوپر دھول جم گئی ہے اور ایسی بدعت ایجاد کی جو کسی زمانے میں کسی شخص کے لیے مشتبہ نہیں تھی۔

وہ ایک اور جگہ لکھتا ہے:

هذا الرجل ـ یعنی ابن تیمیة ـ کنت رددت علیه فی حیاته فی انکاره السفر لزیارة المصطفی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و فی انکاره وقوع الطلاق إذا حلف به، ثم ظهر لی من حاله مایقتضی انّه لیس ممّن یعتمد علیه فی نقل ینفرد به لمسارعته إلی النقل...[33]

اس مرد کو- یعنی ابن تیمیہ – میں نے اس کی زندگی میں قبر مصطفی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کرنے سے انکار کرنے پر اور  قسم کے ذریعے طلاق واقع ہونے سے انکار کرنے پر ٹوکا ہے، اس وقت اس کے بارے میں میرے لیے واضح ہوگیا کہ جو باتیں اس نے تنہا نقل کی ہیں ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے؛ کیونکہ وہ ایسا شخص ہے جو مطالب کو نقل کرنے میں جلد بازی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔

اسی طرح کتاب “الدرة المضیة” میں لکھتا ہے:

امّا بعد، فانّه لمّا احدث ابن تیمیة ما احدث فی اصول العقائد ونقض من دعائم الإسلام والأرکان والمعاقد، بعد ان کان مستتراً بتبعیة الکتاب والسنة، مظهراً انّه داع إلی الحق هاد إلی الجنة، فخرج عن الاتّباع إلی الابتداع، و شذّ عن جماعة المسلمین بمخالفة الإجماع...[34]

اما بعد، چونکہ ابن تیمیہ نے اصول عقائد میں کچھ بدعتیں ایجاد کی ہیں اور اسلام کی بنیادوں، ارکان اور مبانی کو توڑا ہے، بعد اس کے کہ خود کو کتاب و سنت کا پیروکار معرفی کیا ہے اور کہتا تھا کہ حق اور بہشت کی طرف دعوت دینے والا ہے۔ لیکن وہ دین کی پیروی سے خارج ہوکر بدعت ایجاد کرنے والوں میں سے ہوگیا ہے اور اجماع کی مخالفت کر کے مسلمانوں کی جماعت سے نکل گیا ہے۔۔۔۔۔

وہ ابن تیمیہ کے پیروکاروں کے بارے میں کہتا ہے:

والرأی السخیف الذی أخذ به هؤلاء المبتدئة من التحاقه (صلّی الله علیه وآله وسلّم) بالعدم، حاشاه من ذلک، یلزمه ان یقال: انّه لیس رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) الیوم.[35]

یہ اناڑی افراد ایک نامناسب نظریہ قائم کر کے پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کو عدم سے ملحق کرتے ہیں۔ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اس سے پاک اور منزہ ہیں۔ اس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ آج اللہ کے رسول نہ ہوں۔

وہ کہتا ہے:

بیان زندقة من قال: انّ روحه علیه الصلاة و السلام فنیت، وانّ جسده صار تراباً، وبیان زیغ ابن تیمیة وحزبه.[36]

اس شخص کے کفر کا بیان جو کہتا ہے: روح رسول خدا علیه الصلاة و السلام فنا ہوگئی ہے اور اسکا جسم خاک ہوگیا ہے، اور ابن تیمیہ اور اسکی پارٹی کی گمراہی کا بیان۔

وہ اسی طرح ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

فان هذا شأنه إذا وجد شیئاً لامساس فیه لما ابتدعه قال به وقبله ولم یطعن، وإذا وجد شیئاً علی خلاف بدعته طعن فیه، وان اتفق علی صحته، ولا یذکر شیئاً علی خلاف هواه و ان اتفق علی صحته...[37]

اس کی روش یہ ہے کہ جب کوئی چیز مل جاتی ہے جو اس کی بدعتوں کے ساتھ منافات نہ رکھتی ہو تو اس کا قائل ہوجاتا ہے اور اس کو مانتا ہے اور ہرگز اس پر اعتراض نہیں کرتا ہے، لیکن جب کوئی چیز اسکی بدعت خلاف سامنے آجائے تو اس پر اعتراض کرتا ہے اگرچہ اس کے صحیح ہونے پر اتفاق نظر ہو و نیز اگر کوئی چیز اسکی ذاتی خواہشات کے خلاف ہو تو اس کو بیان نہیں کرتا ہے اگرچہ اس بات کے صحیح ہونے پر اتفاق نظر ہو۔

وہ بھی ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

وهذا شأنه إن وجد شیئاً یوافق هواه وخبث طویته ذکره و وسع الکلام فیه وزخرفه، و ان وجد شیئاً علیه اهمله أو حمله علی محمل یعرف به أهل النقل حمله وتدلیسه عند تأمله...[38]

اسکی عادت ایسی ہے کہ جب بھی کوئی بات اسکی خواہشات اور اس کی خبیث فطرت کے مطابق ہو توبیان کرتا ہے اور اس کے بارے میں لکھتا ہے اور اگر کوئی بات ڈھونڈ لے جو اس کے خلاف ہے تو اس کو چھوڑ دیتا ہے یا اس کی ایسی تفسیر کرتا ہے کہ نقل کرنے والے اس میں غور و فکر کر کے سمجھ جاتے ہیں کہ عوام کو دھوکہ دیا ہے۔۔۔۔۔

  1. نجم الدین عمر بن حجی بن احمد سعدی شافعی (م830ه‍. ق)

یہ شافعیوں کا قاضی القضات تھا، ابن تیمیہ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے:

هذا الرجل المسؤول عنه فی الإستفتاء کان عالماً متعبّداً، ولکنّه ضلّ فی مسائل عدیدة عن الطریق المستقیم و المنهج القویم...[39]

یہ شخص جس کے بارے میں اس استفتاء میں سوال ہوا ہے ایک عالم اور دیندار شخص ہے لیکن بہت سارے مسائل میں راہ حق اور سیدھے راستے سے گمراہ ہوگیا ہے۔۔۔۔۔

  1. ابن حجر عسقلانی شافعی (ت 852ه‍‍. ق)

وہ کتاب ”الدرر الکامنة” میں ابن تیمیہ کے حوالے سے کہتا ہے:

ثم نسب أصحابه إلی الغلو فیه واقتضی له ذلک العُجب بنفسه حتّی زهی علی ابناء جنسه واستشعر انّه مجتهد، فصار یرد علی صغیر العلماء وکبیرهم، قدیمهم وجدیدهم، حتّی انتهی إلی عمر فخطاه فی شیء، فبلغ ذلک الشیخ ابراهیم الرقی فأنکر علیه فذهب إلیه واعتذر واستغفر وقال فی حقّ علی اخطأ فی سبعة عشر شیئاً... ومنهم من ینسبه إلی النفاق لقوله فی علی ما تقدم، ولقوله: انّه کان مخذولا حیثما توجه. وانّه حاول الخلافة مراراً فلم ینلها وانّما قاتل للریاسة لا للدیانة، ولقوله: انّه کان یحبّ الریاسة و انّ عثمان کان یحبّ المال...[40]

اس کے پیرکاروں نے اس کے بارے میں غلو کیا، یہی بات باعث ہوئی کہ وہ اپنے حوالے سے عجب کا شکار ہو یہاں تک وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اور اپنے ہم نوع افراد سے برتر سمجھنے لگا اور اس کو گمان ہوا کہ وہ مجتہد ہے۔ اس لیے تمام چھوٹے، بڑے اور قدیم و جدید علماء کو رد کرنے لگا حتی اس حد تک آگے گیا کہ عمر پر اعتراض کرنے لگا اور کہا کہ عمر نے بعض امور میں غلطی کی ہے۔ وہ علی کے بارے میں کہتا ہے: سترہ جگہوں میں غلطی کی ہے۔۔۔۔ بعض نے اس کو منافق قرار دیا ہے اس بات کی وجہ سے جو علی کے بارے میں کہی ہے اور کہا ہے کہ علی اپنے کاموں کی وجہ خوار ہوا، اس نے مسلسل خلافت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوا، وہ ریاست کے لیے لڑا نہ دین کے لیے، وہ ریاست کو پسند کرتا تھا اور عثمان مال و دولت کو پسند کرتا تھا۔۔۔

اسی طرح وہ اپنی دوسری رجالی کتاب میں ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

لکنّه ردّ فی ردّه کثیراً من الأحادیث الجیاد التی لم یستحضر حالة التصنیف مظانّها، لانّه کان لاتساعه فی الحفظ یتکل علی ما فی صدره و الإنسان عامد للنسیان. وکم من مبالغة لتوهین کلام الرافضی ادته احیاناً إلی تنقیص علی (علیه السلام). [41]

 

اس نے رد کے عنوان سے لکھی ہوئی بہت ساری کتابوں میں اچھی احادیث کو صرف اس لیے رد کیا ہے کہ اس نے انکے مصادر نہیں دیکھے ہیں؛ کیونکہ قوی حافظہ کی وجہ سے جو کچھ اس کے ذہن میں تھا اس پر اعتماد کرتا تھا لیکن انسان فراموشی کی زد میں ہے۔ بہت سارے مقامات میں رافضی ( ان مطہر حلی) کے کلام کی توہین میں مبالغہ کے نتیجہ میں علی(علیہ السلام) کی توہین کی ہے۔

  1. احمد بن عمر بن عثمان خوارزمی دمشقی شافعی (ت 868ه‍. ق)

سخاوی اس کے بارے میں کہتا ہے:

وکان عالماً صالحاً دیناً مصرحاً بالحطّ علی الطائفیة العربیة بل واتباع ابن تیمیة بحیث انّه قال مجیباً لمن سأله عن اعتقاده من المخالفین له: اعتقادی زیتونة مبارکة لاغربیة ابن عربی، ولا شرقیة ابن تیمیة...[42]

وہ ایک عالم، صالح اور دیندار مرد تھا اور عرب قوم پرستی کو کمزور کرنے میں صراحت سے بات کرتے تھے؛ بلکہ ابن تیمیہ کے پیروکاروں کے بارے میں بھی صراحت سے بات کرتے تھے جیسا کہ جب اس کے مخالفین میں سے کسی نے اس کے اعتقاد کے بارے میں پوچھا تو اس کے جواب میں اس نے کہا: میرا اعتقاد زیتون مبارک ہے جو نہ ابن عربی کی طرح مغربی ہے اور نہ ابن تیمیہ کے اعتقادات کی طرح مشرقی ہے۔۔۔۔

  1. شهاب الدین احمد بن محمّد قسطلانی (ت 923ه‍‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

وللشیخ تقی الدین بن تیمیة هنا کلام شنیع عجیب یتضمّن منع شدّ الرحال للزیارة النبویة المحمّدیة، وانّه لیس من القرب بل بضدّ ذلک، و ردّ علیه الشیخ تقی الدین السبکی فی (شفاء السقام) فشفی صدور المؤمنین.[43]

شیخ تقی الدین ابن تیمیه یہاں پر ایک بری اور عجیب بات کہتا ہے جو حضرت محمد کی زیارت لیے سفر کرنے کی ممانعت کی بات ہے اور یہ کہ زیارت خدا سے قریب ہونے کا باعث نہیں ہوتی ہے بلکہ خدا سے دور ہونے کا باعث ہوتی ہے۔  لہذا شیخ تقی الدین سبکی نے “شفاء السقام” میں اس بات کو رد کیا ہے اور مومنین کے دلوں کو شفا عطا کیا ہے۔

“المواهب اللدنیة” می نقل کرتا ہے:

و قد روی انّ مالکاً لمّا سأله أبوجعفر المنصور العباسی: یا أباعبدالله! أأستقبل رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و ادعو أم استقبل القبلة وأدعو؟ فقال له مالک: ولم تصرف وجهک عنه وهو وسیلتک و وسیلة ابیک آدم (علیه السلام) إلی الله عزّوجلّ یوم القیامة.[44]

نقل ہوا ہے کہ جب ابوجعفر منصور عباسی نے مالک سے پوچھا: اے اباعبدالله! کیا رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی طرف رخ کروں اور دعا کروں یا رو بہ قبلہ ہو کر دعا کروں؟ مالک نے اس کے جواب میں کہا: تم کیوں اپنا رخ آںحضرت سے موڑتے ہو جبکہ وہ قیامت کے دن اللہ عز و جل کے پاس آپ کا وسیلہ اور آپ کے باپ آدم (علیہ السلام) کا وسیلہ ہیں۔

وہ ابن تیمیہ کی رد میں جس نے مالک بن انس کے بارے میں اس قصہ کو رد کیا ہے کہتا ہے:

و لکن هذا الرجل ـ ابن تیمیة ـ ابتدع له مذهباً وهو عدم تعظیم القبور، و انّها انّما تزار للترحم والإعتبار بشرط ان لایشدّ إلیها رحل، فصار کلّ ما خالفه عنده کالصائل لایبالی بما یدفعه، فإذا لم یجد له شبهة واهیة یدفعه بها بزعمه، انتقل إلی دعوی انّه کذب علی من نُسب إلیه، مجازفة وعدم نصفه، وقد انصف من قال فیه: علمه أکبر من عقله...[45]

لیکن اس مرد- یعنی ابن تیمیہ- نے ایک ایسے مذہب کو ایجاد کیا ہے جس کے مطابق قبروں کی تعظیم کرنا منع ہے اور فقط رحم کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے لیے زیارت کرنا چاہیے اس شرط کے ساتھ کہ فقط زیارت کرنے کے لیے سفر نہیں کیا جائے۔ لہذا اس کے تمام مخالفیں اس کی نظر میں اس شخص کی طرح ہیں جس نے حملہ کیا ہے اور اس کو کوئی پروا نہیں ہے کہ کس طرح اس مخالف کو روکتا ہے۔ چونکہ – اسکے اپنے گمان میں- جب کوئی کمزور شبہہ نہیں ملتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کرے تو بغیر کسی وجہ اور بغیر انصاف کے جھوٹی نسبتیں دینے لگتا ہے۔ لھذا اس کے بارے میں درست کہا گیا ہے کہ اسکا علم اس کی عقل سے زیادہ ہے۔۔۔

  1. ابن حجر هیتمی شافعی (ت 974ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

ابن تیمیة عبد خذله الله واضلّه واعماه واصمه واذلّه، وبذلک صرح الأئمة الذین بینوا فساد احواله وکذب اقواله... ومن أراد ذلک فعلیه بمطالعة کلام الإمام المجتهد المتفق علی امامته وجلالته وبلوغه مرتبة الإجتهاد أبی الحسن السبکی وولده التاج والشیخ الإمام العزّ بن عبدالسلام جماعة وأهل عصرهم وغیرهم من الشافعیة والمالکیة والحنفیة. ولم یقصر اعتراضه علی متأخری الصوفیة بل اعترض علی مثل عمر بن خطاب وعلی بن أبی طالب (علیه السلام) کما سیأتی. والحاصل ان لایقام لکلامه وزن بل یرمی فی کلّ وعر وحزن، ویعتقد فیه انّه مبتدع ضالّ مضلّ جاهل غال، عامله الله بعدله و اجارنا مثل طریقته وعقیدته وفعله... و اخبر عنه بعض السلف انّه ذکر علی بن أبی طالب (علیه السلام) فی مجلس آخر فقال: انّ علیاً اخطأ فی اکثر من ثلاثمائة مکان، فیالیت شعری من أین یحصل لک الصواب إذا اخطا علی بزعمک...[46]

ابن تیمیہ ایسا بندہ ہے جس کو خدا نے خوار، گمراہ، اندھا، بہرا اور ذلیل کر دیا ہے، یہ وہ مطلب ہے جس کو ان اماموں نے صراحت کے ساتھ کہا ہے جنہوں نے اس کے فاسد ہونے اور اس کے اقوال، جھوٹ ہونے کو بیان کیا ہے۔۔۔   اور جو شخص اس حوالے سے مطلع ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ امام اور مجتہد یعنی ابوالحسن سبکی جس کی امامت اور بزرگی اور اجتہاد کے مرتبہ پر فائز ہونے پر سب کا اتفاق ہے کی طرف رجوع کرے اور اسکے بیٹے امام عز بن عبدالسلام جماعہ اور اس کے ہم عصروں اور دیگر شافعی، مالکی اور حنفی علماء کی طرف رجوع کرے اور انکے نوشتہ جات کا مطالعہ کرے۔ وہ ایسا شخص تھا جس نے فقط صوفیہ کے متاخرین پر اعتراض نہیں کیا بلکہ عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب (علیہ السلام) جیسوں پر بھی اعتراض کیا جیسا کہ ذکر کیا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اس کی باتوں کی کوئی قیمت نہیں ہے بلکہ پورے افسوس کے ساتھ پھینک دی جاتی ہیں۔ اور اس کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ بدعتی، گمراہ کرنے والا، جاہل اور غلو کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی اس کے ساتھ اپنی عدالت سے سلوک کرے اور ہمیں اسکی روش، عقیدہ اور کردار سے پناہ دے دے۔۔۔ بعض سلف کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ اس کے پاس علی بن ابی طالب (علیه السلام) کا ذکر ہوا تو اس نے کہا: علی نے تین سو غلطیاں کی ہیں۔ کاش مجھ معلوم ہوتا کہ آپ کے پاس حق کہا سے پہنچا ہے اگر آپ کے گمان میں علی نے غلطی کی ہے تو...

اسی طرح وہ لکھتا ہے:

و ایاک ان تصغی إلی ما کتب ابن تیمیة و تلمیذه ابن قیم الجوزیة وغیرهما مِـ{مَن اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلی عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلی سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلی بَصَرِهِ غِشاوَةً فَمَنْ یهْدِیهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ}. وکیف تجاوز هؤلاء الملحدون الحدود وتعدوا الرسول وخرقوا سیاج الشریعة والحقیقة، فظنوا بذلک انّهم علی هدی من ربّهم و لیسوا کذلک.[47]

ابن تیمیہ اور اسکے شاگرد ابن قیم جوزی اور دوسروں کے نوشتہ جات پر کان دھرنے سے پرہیز کرو، جن لوگوں نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا خدا قرار دیا ہے اللہ نے انکو انکے علم کے زریعے گمراہ کیا ہے اور انکے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور انکی آنکھوں پہ پردہ ڈال دیا ہے۔ پس خدا کے علاوہ کون ہے جو اسکی ہدایت کرے گا؟ ان ملحدوں نے کس طرح حدود الہی سے تجاوز کیا ہے اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے احکام پر عمل نہیں کیا ہے اور شریعت اور حقیقت کے لباس کو پھاڑ دیا ہے ان کاموں کو انجام دے کر یہ سمجھا ہے اللہ تعالی کی ہدایت کے راستہ پر گامزن ہیں جبکہ ایسا نہیں ہیں۔

اور پھر کہتا ہے:

ولا یغتر بانکار ابن تیمیة لسنّ زیارته (صلّی الله علیه وآله وسلّم)؛ فانّه عبد اضلّه الله کما قال العز بن جماعة و اطال فی الردّ علیه التقی السبکی فی تصنیف مستقل...[48]

رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت سنت ہونے کے بارے میں ابن تیمیہ کے انکار سے کوئی دھوکہ نہ کھائے؛ کیونکہ وہ ایک ایسا بندہ ہے جسے اللہ نے گمراہ کیا ہے، جیسا کہ عز بن جماعہ نے کہا ہے اور اسکی رد میں تقی سبکی نے ایک مستقل کتاب میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔۔۔

وہ ایک اور جگہ کہتا ہے:

من خرافات ابن تیمیة التی لم یقلها عالم قبله وصار بها بین أهل الإسلام مُثله، انّه انکر الإستغاثة والتوسل به (صلّی الله علیه وآله وسلّم). [49]

ابن تیمیہ کی من جملہ خرافات جن کا معتقد اس سے پہلے کوئی عالم نہیں ہوا ہے اور ان خرافات کا معتقد ہونے کی وجہ سے مسلمانوں نے اسکی مذمت کی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے استغاثہ اور توسل کرنے سے انکار کیا ہے۔

وہ ابن تیمیہ کی جانب سے قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے سفر کو حرام قرار دینے کی رد میں کہتا ہے:

وجه شمول الزیارة للسفر انّها تستدعی الإنتقال من مکان الزائر إلی مکان المزور، کلفظ المجیء الذی نصّت علیه الآیة الکریمة... وإذا کانت کل زیارة قربة کان کلّ سفر إلیها قربة... والقاعدة المتفق علیها انّ وسیلة القربة المتوقفة علیها قربة.[50]

 

اس بات کی دلیل کہ لفظ زیارت، زیارتی سفر پر بھی شامل ہوتا ہے یہ ہے کہ زیارت کا لازمہ یہ ہے کہ زائر اپنی جگہ سے مزور( جسکی زیارت کی جاتی ہے) کی جگہ چلا جائے، جیسے لفظ مجیء ہے جو آیہ کریمہ میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔۔۔ اب اگر جو بھی زیارت تقرب کا باعث ہو تو زیارت کے لیے کیا جانے والا سفر بھی تقرب کا باعث ہوگا۔۔۔ اور جس قاعدہ پر سب کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ خدا سے تقرب کا باعث بننے والی چیز تک پہنچنے کا وسیلہ بھی تقرب کا باعث ہے۔

  1. شیخ رضوان عدل بیبرس شافعی (م1303ه‍. ق)

وہ کہتا ہے:

ثمّ ظهر بعد ابن تیمیة محمّد بن عبدالوهاب فی القرن الثانی عشر، وتبع ابن تیمیة وزاد علیه سخفاً وقبحاً، وهو رئیس الطائفة الوهابیة قبحهم الله، وتبرأ منه اخوه الشیخ سلیمان بن عبدالوهاب وکان من أهل العلم...[51]

پھر ابن تیمیہ کے بعد محمّد بن عبدالوهاب بارہویں صدی میں ظاہر ہوا جس نے ابن تیمیہ کے عقائد کی قباحت اور پستی میں اضافہ کر دیا اور وہ وہابیوں کا سربراہ ہے، اللہ انکے چہرے کو منفور کر دے۔ وہ ایسا شخص ہے کہ اس کے بھائی شیخ سلیمان عبدالوہاب نے اس سے برائت کا اظہار کیا جو اہل علم افراد میں سے تھا۔۔۔

  1. یوسف بن اسماعیل نبهانی شافعی (م1350ه‍. ق)

وہ کہتا ہے:

إنّی اعتقد فی ابن تیمیة وتلمیذه ابن القیم وابن عبدالهادی انّهم من ائمة الدین وأکابر علماء المسلمین، وقد نفعوا الأمة المحمّدیة بعلمهم نفعاً عظیماً و ان اساؤا غایة الاسائة فی بدعة منع الزیارة والإستغاثة، واضرّوا بها الإسلام والمسلمین اضراراً عظیمة، واقسم بالله العظیم انّی قبل الإطلاع علی کلامهم فی هذا الباب فی شئون النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) لم أکن اعتقد انّ مسلماً یجترئ علی ذلک وانّی منذ أشهر اتفکّر فی ذکر عباراتهم فلا اتجاسر علی ذکرها ولو للردّ علیها خوفاً من ان یکون سبباً فی زیادة نشرها لشدة فظاعتها...[52]

جانلو کہ میں ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیم اور عبد الہادی کے بارے میں معتقد ہوں کہ وہ دین کے امام اور مسلمانوں کے بڑے علماء میں سے تھے جنہوں نے اپنے علم سے امت محمدی کو بہت بڑا فائدہ پہنچایا ہے، اگر چہ زیارت اور استغاثہ سے منع کرنے کی بدعت میں گستاخی کی ہے اوراسلام اور مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ عظیم خدا کی قسم

رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے حوالے سے انکی بات سے آگاہ ہونے سے پہلے مجھ یہ گمان بھی نہیں تھا کہ کوئی مسلمان اس قسم کی جرئت بھی کر سکتا ہے، اور چند مہینوں سے انکی عبارتوں میں سوچ رہا تھا اور انکو نقل کرنے کی جرئت نہیں کر رہا تھا، اگرچہ انکی باتوں کو رد کرنے کے حوالے سے مجھ یہ خوف لاحق تھا میں کہیں انکی شدید رسوائی کی وجہ سے انکی باتین زیادہ نشر کرنے کا باعث ہوجاؤں۔۔۔

  1. شیخ سلامة قضاعی عزامی شافعی (م1376ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

والعجب انّک تری امام المدافعین عن بیضة أهل التشبیه وشیخ إسلام أهل التجسیم ممّن سبقه من الکرامیة وجهلة المحدثین الذین یحفظون ولیس لهم فقه فیما یحفظون، أحمد بن عبدالحلیم المعروف بابن تیمیة، یرمی إمام الحرمین وحجة الإسلام الغزالی بانّهما أشد کفراً من الیهود والنصاری...[53]

 تعجب ہے کہ تم اہل تشبیہ کی حیثیت کا دفاع کرنے والے امام اور اہل تجسیم سابقہ کرامیہ فرقہ کے شیخ اسلام اور جاہل محدثوں کو دیکھتے ہو حدیث حفظ کرتے ہیں جبکہ جو کچھ حفظ کرتے ہیں اس میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں۔ وہ احمد بن عبد الحلیم ہے جو ابن تیمیہ کے نام سے مشہور ہے اور امام الحرمیں حجت الاسلام غزالی پر تہمت لگاتا ہے کہ اس کا کفر یہود و نصارا سے بھی شدید تر ہے۔۔۔

  1. نجم الدین محمّد امین کردی شافعی (م1400ه‍. ق) وی می گوید:

فقد نجمت فی القرون الماضیة بین أهل الإسلام بدع یهودیة من القول بالتشبیه والتجسیم والجهة والمکان فی حق الله تعالی، ممّا عملته أیدی أعداء الإسلام تنفیذاً لحقدهم علیه، ودخلت الغفلة علی بعض أهل الإسلام...

حتّی إذا کانت أوائل القرن الثامن أخذت هذه البدع تنتعش إلی أخوات لها لاتقل عنها خطراً علی ید رجل یدعی أحمد بن عبدالحلیم بن تیمیة الحرانی، فقام العلماء من أهل السنة والجماعة فی دفعها حتّی لم یبق فی عصره من یناصره إلاّ من کان له غرض أو فی قلبه مرض...[54]

گذشتہ صدیوں میں اہل اسلام کے درمیان یہودیوں کی بدعتتیں - من جملہ تشبیہ اور تجسیم کا قائل ہونا اور خدا کے لیے جہت اور مکان کا اعتقاد رکھنا – موجود تھیں جو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے پھیلائی گئی تھیں وہ اس طرح اسلام کے خلاف اپنی دشمنی اور کینہ کو مضبوط کرتے تھے جبکہ بعض اہل اسلام ان سے غافل تھے۔۔۔

آٹھویں صدی کے شروع تک ان بدعتوں نے نئی شکل و صورت اختیار کی جن کا خطرہ یہودیوں کے کاموں سے کم نہ تھا۔ یہ کام احمد بن عبدالحلیم بن تیمیه حرّانی نام کے ایک فرد کے ذریعہ انجام پایا، اور اہل سنت و الجماعت کے علماء نے اس کے خلاف قیام کیا یہاں تک کہ اس کے زمانے میں اسکی مدد اور نصرت کرنے والا کوئی شخص باقی نہ رہا مگر وہ شخص جس کا کوئی مقصد تھا یا اس کے دل میں مرض تھا۔۔۔۔

  1. حسن بن علی سقاف شافعی

وہ ابن تیمیہ کا حضرت زہراء(سلام اللہ علیہا) کے حوالے سے سخت رویہ اختیار کرنے کے بارے میں کہتا ہے:

بعض ذلک ذکره فی منهاج سنته (2/169) و ذکره بطریقة ملتویة عرجاء، وتظاهر فی بعض تلک الجمل بمدحها و انّها(ها) سیدة نساء العالمین، ولیس وراء قوله (عامله الله بمایستحق) إلاّ الطعن والذمّ!! ولیس له مخرج عندنا من هذه الورطة، ولا نقبل الدفاع عنه، وتأویل بعض کلماته هناک بأی وجه!! فهو ناصبی خبیث و مجسّم بغیض؛ شاء المخالفون أم أبوا.[55]

ان مطالب میں سے کچھ کو “منهاج السنة ج 2، ص 169” میں ذکر کیا ہے اور وہ بھی پیچیدہ اور متزلزل طریقہ سے ذکر کیا ہے اور ان میں سے بعض جملوں میں حضرت زہراء کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ دنیا کی بہترین خاتون ہے، لیکن ان جملوں کو لکھنے کا مقصد فقط حضرت زہراء پر طنز کرنا اور انکی مذمت کرنا ہے۔ اللہ تعالی اس کے ساتھ وہی کرے جو اس کا حق ہے۔ ہمارے پاس اس کو اس مشکل سے نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اور کسی صورت میں اس کا دفاع اور اس کے جملوں کی تاویل ہمیں قبول نہیں ہے؛ وہ ایک ناصبی اور خبیث شخص ہے جو خدا کے لیے جسم کا قائل ہے اور ایک منفور شخص ہے، چاہے مخالفین کو یہ بات پسند ہو یا نہ ہو۔

  1. طارق بن محمّد بن عبدالرحمان جباوی سعدی شافعی

وہ لبنان کے شہر صیدا کے علماء میں سے ہیں، ابن تیمیہ کی رد میں چار کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک “کشف المین فی شرح الحرانی لحدیث ابن حصین” ہے۔ وہ اس کتاب کے مقدمہ میں کہتا ہے:

فهذا کتاب اسمیته (کشف المین) أی الکذب بینت فیه بهتان ابن تیمیة الحرانی وافترائه علی العقل والنقل... وذلک بعد اطلاعی المفصّل علی کتبه کمجموع الفتاوی، و درء التعارض، ومنهاج السنة، والصفدیة وغیرها ممّا نقلنا بعض نصوصه فیها علی قدم نوع العالم فی کتاب (کشف الزلل) الذی فصّلنا فیه مذهبه ورددنا علیه...[56]

میں نے اس کتاب کا نام (کشف المین) یعنی جھوٹ سے پردہ ہٹانا رکھا ہے اور اس میں ابن تیمیہ حرانی کی جھوٹی نسبتوں کو عقل اور نقل کے مطابق بیان کیا ہے۔۔۔ اور میں نے یہ کتاب اسکی (مجموع الفتاوی) ، (درء التعارض) ، (منهاج السنة) ، (الصفدیة) جیسی کتابوں اور اسکی دیگر کتابوں کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ ہونے کے بعد لکھی ہے اور ہم نے اسکی بعض عبارات کو نقل کیا ہے من جملہ ان عبارات میں سے ایک کتاب (کشف الزلل) میں عالم کے قدیم ہونے کی بات ہے وہاں ہم نے تفصیل کے ساتھ اسکے مذہب کو ذکر کر کے رد کیا ہے۔۔۔

اسی طرح وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتے ہیں:

فاسأل الله تعالی کشف بصیرة اتباعه فضلا عن المغبونین والمغترین به إلی الحق، لیعرفوا مکانة هذا المبتدع علی التحقیق، وانّه لیس إلاّ مارق زندیق، لیس فیما انفرد فیه إلاّ بدعة الضلالة وفُرقة الجماعة.[57]

میری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کے پیروکاروں کو چشم بصیرت دے دے اور انکو راہ حق کی ہدایت دے، اسی طرح اس کے دھوکے میں آنے والوں کو راہ حق کی ہدایت دے تاکہ اس بدعتی کی حیثیت کو اچھی طرح پہچان سکیں اور یہ کہ وہ دین سے خارج ہونے والے ایک کافر شخص کے سوا کچھ نہیں ہے، وہ اپنے منفرد اور شاذ اعتقادات میں ایک بدعتی اور گمراہ شخص ہے اور ملت سے جدا ہوا ہے۔

  1. محمود سعید ممدوح شافعی

وہ اہل سنت کے اس دور کے محدثوں میں سے ہیں، قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) زیارت کے متعلق روایات کو ابن تیمیہ کی طرف سے تضعیف کرنے کے حوالے سے لکھتا ہے:

وهذا خطأ منه و تسرع. وخصومات ابن تیمیة اوقعته فی مثل هذه العبارات. وقد کتبت جزءاً فی الأحادیث التی ینکرها فی فضائل آل البیت (علیهم السلام)، وهی ثابتة فی ردّه علی الرافضی، وقد بلغ بابن تیمیة الشطط فی فضائل آل البیت إلی ان ضعف حدیث “الموالاة” وهو متواتر. وقال عن حدیث (أنت ولی کل مؤمن) کذب، (الردّ علی الرافضی 4/104) وهو علی شرط مسلم، وأخرجه امامه أحمد بن حنبل فی مسنده (4/437) و الطیالسی (829) و الترمذی (5/269)، و صحّحه ابن حبان (6929) والحاکم (3/110).

وقال عن حدیث ابن عمر (ما کنّا نعرف المنافقین علی عهد رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلاّ ببغضهم علیاً). قال (3/ 228): هذا الحدیث لایستریب أهل المعرفة بالحدیث انّه موضوع مکذوب.

وهو حدیث صحیح. ففی صحیح مسلم (78) وغیره: انّه لعهد النبی الأمی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلاّ یحبّنی إلاّ مؤمن ولا یبغضنی إلاّ منافق.

وأخرج امامه أحمد بن حنبل فی الفضائل (979) باسناد علی شرط البخاری عن أبی سعید الخدری، قال: انّما کنّا نعرف منافقی الأنصار ببغضهم علیاً.

وفی مسند البزار (زوائده 3/169) باسناد حسن عن جابر قال: ما کنّا نعرف منافقینا معشر الأنصار إلاّ ببغضهم لعلی.

وقال رجل لسلمان: ما اشدّ حبک لعلی؟ قال: سمعت نبی الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) یقول: (من احبّه فقد احبّنی). قال ابن تیمیة (3/9): کذب.

قلت: بل صحیح لغیره، فله طریق حسن فی المستدرک (3/130)، وآخر فی المعجم الکبیر للطبرانی (23/380/901) عن ام سلمة، قال عنه الهیثمی فی المجمع (9/132): و اسناده حسن.

وحدیث: (یا علی! حربی حربک وسلمی سلمک) قال ابن تیمیة (2/300): (هذا کذب موضوع علی رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و لیس فی شیء من کتب الحدیث المعروفة، ولا روی باسناد معروف).

قلت: هذه جرأة وأخرجه امامه أحمد فی فضائل الصحابة (1350)، وأخرجه الحاکم (3/149) من طریق الإمام احمد، وله شاهد حسن أخرجه الترمذی (5/699)، والحاکم (3/149) والطبرانی (3/149).

حدیث (إنّ الله أوحی إلی انّه یحبّ أربعة من أصحابی وأمرنی بحبّهم. فقیل: من هم یا رسول الله؟ قال: علی سیدهم، وسلمان، والمقداد، وأبوذر).

قال ابن تیمیة (3/173): ضعیف بل موضوع، ولیس له اسناد یقوم به.

قلت: أخرجه امامه أحمد بن حنبل فی المسند (5/351)، والترمذی (3718)، و ابن ماجه (149). وحسّنه الترمذی، وله شاهد...[58]

یہ اسکی غلطی ہے اور احادیث کی تضعیف میں جلد بازی ہے۔ ابن تیمیہ نے دشمنی کی وجہ سے اس طرح کی عبارتیں لکھی ہیں، میں نے اہلبیت (علیہم السلام) کے فضائل کے بارے میں ذکر شدہ روایات کے حوالے سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جن کا ابن تیمیہ نے انکار کیا ہے، یہ تمام احادیث درست ہیں لیکن اس نے رافضی-علامہ حلی – کی مخالفت میں انکو رد کیا ہے۔ ابن تیمیہ کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ اہلبیت پیغمبر  (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے فضائل کے بارے میں بے ربط باتیں کی ہیں، یہاں تک کہ حدیث “موالات” جو کہ متواتر ہے کو تضعیف کیا ہے۔ حدیث (انت ولی کل مؤمن) کے بارے میں کتاب  (الردّ علی الرافضی 4/104) میں کہا ہے کہ : جھوٹ ہے جبکہ مسلم کے نزدیک صحیح ہونے کی جو شرط ہے وہ اس حدیث میں پائی جاتی ہے، اور اس کے امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کو اپنی مسند (4/437) میں اور طیالسی (829) اور ترمذی (5/269) نے بھی نقل کیا ہے اور ابن حبان (6929) اور حاکم (3/110) نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور ابن عمر کی حدیث ( ہم رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم)  کے زمانے میں منافقوں کو فقط علی کے بغض سے پہچانتے تھے) کے بارے میں کہا ہے: اس حدیث کے جعلی اور جھوٹی ہونے کے بارے میں اہل معرفت کو شک نہیں ہے  (3/228)، جبکہ یہ حدیث صحیح ہے؛ کیونکہ صحیح مسلم (78) اور دیگر کتابوں میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت علی ( علیہ السلام ) نے فرمایا: یہ وہی پیغمبر امی کا وعدہ ہے کہ مجھ سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن اور دشمنی نہیں کرے گا مگر منافق)۔

و نیز اس کے امام احمد بن حنبل نے (الفضائل 979) میں ایسی سند کے ساتھ جو بخاری کے نزدیک صحیح ہونے کے شرائط رکھتی ہے، ابوسعید خدری سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: (ہم انصار کے منافقوں کو علی کے بغض سے پہچانتے تھے)۔

اور ایک مرد نے سلمان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ اس قدر علی سے محبت کرتے ہو؟ اس نے کہا: رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے میں نے سنا ہے کہ فرمایا: جو علی سے محبت کرے تو یقینا وہ مجھ سے بھی محبت کرتا ہے)۔

ابن تیمیہ کہتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے 3/9.

میں کہتا ہوں: بلکہ یہ حدیث شواہد اور اسکے نتائج کی جہت سے صحیح ہے اور مستدرک (3/130) میں اس کے لیے اچھا طریق بیان ہوا ہے اور طبرانی کی (المعجم الکبیر) (23/380/901) میں ایک دوسرا طریق ام سلمہ سے نقل ہوا ہے جس کو ہیثمی نے مجمع الزوائد (9/132) میں سند حسن کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اور اس حدیث ( اے علی ! میرے ساتھ جنگ آپ کے ساتھ جنگ اور میرے ساتھ صلح آپ کے ساتھ صلح ہے) کو ابن تیمیہ نے جھوٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی طرف جھوٹی نسبت دی گئی ہے، نہ حدیث کی کسی مشہور کتاب میں موجود ہے اور نہ کسی مشہور سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔ (2/300).

میں کہتا ہوں: یہ اس کی گستاخی ہے، جبکہ اس کے امام احمد نے (فضائل الصحابة) (1350) میں اور  حاکم (3/149) نے احمد سے نقل کر کے اس روایت کو اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے و نیز ترمذی (5/699) ، حاکم (3/149) اور طبرانی (3/149) نے جو روایت نقل کی ہے وہ اس روایت کے صحیح ہونے کے لیے اچھی دلیل ہے۔ حدیث ہے ( اللہ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ وہ میرے اصحاب میں سے چار افراد کو پسند کرتا ہے اور مجھ حکم دیا ہے کہ ان سے محبت کروں۔ آنحضرت سے سوال ہوا کہ وہ چار افراد کون ہیں؟ تو رسول خدا نے فرمایا: علی انکا سردار ہے، سلمان، مقداد اور ابوذر)۔ ابن تیمیه (3/173) اس حدیث کے بارے میں کہتا ہے: یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ جعلی ہے، اسکی ایسی سند نہیں ہے جس سے صحیح ثابت ہو۔

میں کہتا ہوں: اس حدیث کو اس کے امام احمد بن حنبل (5/351) نے اپنی مسند میں اور ترمذی (3718) اور ابن ماجه (149) نے بھی نقل کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا ہے اور اس کے لیے شاہد اور قرینہ ہے۔۔۔

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ