اندراج کی تاریخ  11/9/2020
کل مشاہدات  262
حصہ دوم: ابن تیمیہ کے بارے میں حنفی علماء کا نظریہ

جیسا کہ حصہ اول میں ابن تیمیہ کے بارےمیں شافعی علماء کا ںظریہ بیان ہوا اس حصہ میں ابن تیمیہ کے بارے میں حنفی علماء کا نظریہ پیش کیا جائے گا

  1. قاضی القضاة شمس الدین ابوالعباس احمد بن ابراهیم سرّوجی حنفی (م710ه‍. ق)

ابن تغردی بردی اس کے بارے میں کہتا ہے:

کان بارعاً فی علوم شتّی وله اعتراضات علی ابن تیمیة فی علم الکلام.[59]

وہ متعدد علوم میں ماہر تھے و نیز علم کلام میں ابن تیمیہ پر کچھ اعتراضات کیے ہیں۔

ابن حجر عسقلانی اس کے بارے میں کہتا ہے:

و من تصنیفاته: الردّ علی ابن تیمیة، وهو فیه منصف متأدب صحیح الباحث.[60]

اس کی تصنیفات میں سے ایک (الردّ علی ابن تیمیه) ہے جس میں انصاف اور ادب کی رعایت کے ساتھ درست بحث کی ہے۔

  1. ملاّ علی بن سلطان محمّد قاری هروی حنفی (م1014ه‍. ق)

وہ “شرح کتاب الشف” میں کہتے ہیں:

و قد فرّط ابن تیمیة من الحنابلة حیث حرّم السفر لزیارة النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم). ..[61]

حنبلیوں میں سے ابن تیمیہ نے کوتاہی کی ہے اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔۔۔

وہ مزید کہتا ہے:

وقد افرط ابن تیمیة من الحنابلة حیث حرّم السفر لزیارة النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، کما افرط غیره، حیث قال: کون الزیارة قربة معلوم من الدین بالضرورة، وجاهده محکوم علیه بالکفر، ولعلّ الثانی أقرب إلی الصواب؛ لانّ تحریم ما أجمع العلماء فیه بالإستحباب یکون کفراً، لانّه فوق تحریم المباح المتفق علیه فی هذا الباب.[62]

حنبلیوں میں سے ابن تیمیہ نے پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کو حرام قرار دینے میں افراط کیا ہے جس طرح دوسروں نے بھی افراط کی ہے جب کہا ہے: زیارت ایسے امور سے ہے جن کے زریعے قرب الہی حاصل کیا جاتا ہے اور ضروری دین ( جس چیز کا دینی مسئلہ ہونا واضح ہو) ہونا معلوم ہے اور جو اس کا انکار کرے کافر ہے اور ممکن ہے دوسرا قول حق کے نزدیک تر ہو؛ کیونکہ ایسے عمل کو حرام قرار دینا جس کے مستحب ہونے پر علماء کا اجماع ہو کفر ہے کیونکہ یہ مباح کو حرام قرار دینے سے بڑھکر ہے جس کے بارے میں تمام علماء متفق ہیں۔

  1. ابوالحسنات محمّد عبدالحی لکنوی حنفی (م1304ه‍. ق)

وہ کہتا ہے:

مسألة زیارة خیر الأنام علیه الصلاة و السلام کلام ابن تیمیة فیها من أفاحش الکلام؛ فانّه یحرم السفر لزیارة قبر الرسول (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و یجعله معصیة، و یحرم نفس زیارة القبر النبوی أیضاً...[63]

سب سے بہترین انسان- علیه الصلاة و السلام- کی زیارت کے مسئلہ میں ابن تیمیہ کی بات سب سے بری بات ہے کیونکہ اس نے پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی قبر کی زیارت کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور اس کو گناہ سمجھتا ہے اور خود قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔۔۔

  1. محمد بن محمد علاء بخاری حنفی

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

کان یسأل عن مقالات ابن تیمیة التی انفرد بها فیجیب بما ظهر له من الخطأ، وینفر عنه قلبه إلی ان استحکم ذلک علیه، فصرّح بتبدیعه ثم تکفیره، ثم صار یصرّح فی مجلسه انّ من اطلق علی ابن تیمیة انّه شیخ الإسلام فهو بهذا الإطلاق کافر...[64]

اس سے ابن تیمیہ کے مخصوص نظریات کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ انکے یہ نظریات غلط ہیں۔ وہ دلی طور پر ابن تیمیہ سے متنفر تھے یہاں تک اسکی نفرت مستحکم ہوگئی۔ اسی وجہ سے صراحت سے کہہ دیا کہ اس نے بدعتیں ایجاد کی ہیں اور اسکے بعد اسکو کافر قرار دیا۔ اس حوالے وہ اس قدر آگے گئے کہ اپنی مجلس میں واضح طور پر کہہ دیا کہ جو بھی ابن تیمیہ کو “شیخ الاسلام” کے لقب سے پکارے تو اس عمل کی وجہ سے کافر ہوگا۔۔۔

  1. ابوحامد بن مرزوق

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

انّه مسارع فی تکفیر من خالفه، سواء أقام الدلیل علی التکفیر أم لم یقم علیه دلیل، وأنّ کلّ من خالفه ولم ینقد إلی رأیه وقوله فماله إلی التکفیر والتشهیر والتحقیر.[65] 

وہ اپنے مخالفین کی تکفیر میں جلدباز ہے، چاہے تکفیر پر دلیل قائم کی ہو یا نہ، اور جو بھی اسکی مخالفت کرے اور اسکے قول اور رائے کو تسلیم نہ کرے تو اس کا انجام تکفیر، بدنامی اور تحقیر ہے۔

وہ ابن تیمیہ کے پیروکاروں کے بارے میں بھی کہتا ہے:

قد اعتقدوا انّ کلّ ما فیه اجلاله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) من قول أو فعل فهو شرک وعبادة له من قائله، فسجّلوه علی أنفسهم للعالم الإسلامی انّهم موتورون منه (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، یسوءهم مافیه توقیره ویسرهم ما فیه انتهاک حرمته (صلّی الله علیه وآله وسلّم). [66]

وہ معتقد ہیں کہ جس قول یا فعل میں بھی پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی تجلیل اورتعظیم ہو کفر اور شرک ہے اور حقیقت میں اسکی عبادت شمار ہوتی ہے۔ انہوں عالم اسلام کے بارے میں اپنے لیے یہی عقیدہ اپنایا ہے، وہ آنحضرت (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے خونی دشمن ہیں، انکو ہر وہ چیز بری لگتی ہے جس میں آںحضرت کی تعظیم و تکریم ہے اور ہر وہ چیز خوشحال کرتی ہے جس میں آںحضرت (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی ہتک حرمت ہو۔

  1. خلیل احمد سهارنفوری حنفی (م1346ه‍. ق)

ان سے اس طرح کا سوال ہوا ہے:

ما قولکم فی شدّ الرحال إلی سید الکائنات علیه أفضل الصلوات والتحیات وعلی آله وأصحابه، أی الأمرین أحبّ إلیکم وأفضل لدی أکابرکم وللزائر: هل ینوی وقت الإرتحال للزیارة زیارته (علیه السلام)  أو ینوی المسجد أیضاً، وقد قال الوهابیة انّ المسافر إلی المدینة لاینوی إلاّ المسجد النبوی؟

کائنات کے سردار- اس پر اور اسکے آل اور اصحاب پر بہترین درود و سلام ہو- کی زیارت کے لیے سفر کرنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ آپکی نظر میں اور آپکے بزرگوں کی نظر میں زائر کے لیے ان دو امور میں سے کونسا امر پسندیدہ اور افضل ہے: زیارت کا سفر شروع کرتے وقت آنحضرت (علیہ السلام) کی زیارت کرنے کی نیت کرے یا مسجد جانے کی بھی نیت کرے؛ کیونکہ  وہابی کہتے ہیں کہ: مدینہ کی طرف سفر کرنے والا فقط مسجد نبوی جانے کی نیت کرے؟

وہ مذکورہ بالا سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

عندنا وعند مشایخنا زیارة قبر سید المرسلین (روحی فداه) من أعظم القربات وأهمّ المثوبات وانجح لنیل الدرجات، بل قریبة من الواجبات، و ان کان حصوله بشدّ الرحال وبذل المهج والأموال، وینوی وقت الإرتحال زیارته علیه الف الف تحیة وسلام. ینوی معها زیارة مسجده (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وغیره من البقاع والمشاهد الشریفة بل الأولی ما قال العلامة الهمام ابن الهمام ان یجرّد النیة لزیارة قبره علیه الصلاة و السلام ثم یحصل له إذا قدم زیارة المسجد؛ لانّ فی ذلک زیادة تعظیمه و اجلاله (صلّی الله علیه وآله وسلّم). ویوافقه قوله (صلّی الله علیه وآله وسلّم): من جاءنی زائراً لاتحمله حاجة إلاّ زیارتی کان حقاً علی ان اکون شفیعاً له یوم القیامة. وکذا نقل عن العارف

السامی الملاّ جامی انّه افرز الزیارة عن الحجّ، وهو اقرب إلی مذهب المحبّین...[67]

ہماری نظر میں اور ہمارے علماء کی نظر میں انبیاء کے سردار- میری جان اس پر فدا ہو- کی قبر کی زیارت، خدا کے نزدیک کرنے والی سب بڑی چیز اور سب سے اہم کاموں میں سے ہے جن کا ثواب ملتا ہے اور بلند درجات تک پہنچنے کے لیے سب سے کامیاب عمل ہے بلکہ واجبات کے نزدیک ہے، اگرچہ انکی زیارت کرنے کے لیے سفر کرنے اور سخت زحمت اٹھانے اور مال و دولت خرچ کرنے کی ضرورت ہو۔ اور زائر کو چاہیے کہ روانگی کے وقت قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی نیت کرے – ان پر لاکھوں درود و سلام ہو- و نیز اس کے ساتھ انکی مسجد اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی نیت کرے، بلکہ اس سے بھی شائستہ وہ چیز ہے جس کا ذکر علامہ ہمام ابن ہمام نے کیا ہے کہ زائر فقط آنحضرت کی قبر کی زیارت کرنے کی نیت کرے، اور آنحضرت کی زیارت کے لیے آئے تو مسجد کی بھی زیارت کرے؛ کیونکہ اس عمل میں آنحضرت کی زیادہ تعظیم اور تجلیل ہوتی ہے اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے گفتار کے مطابق ہے جس میں فرمایا: ( جو شخص فقط میری زیارت کے لیے آئے تو میری ذمہ داری ہے کہ قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں)۔ و نیز جلیل القدر عارف ملا جامی سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے زیارت کو حج سے جدا کیا ہے اور یہ محبوں کے مذہب سے زیادہ نزدیک ہے۔۔۔

وہ اسی طرح لکھتے ہیں:

عندنا وعند مشایخنا یجوز التوسل فی الدعوات بالأنبیاء والصالحین من الأولیاء والشهداء والصدیقین فی حیاتهم وبعد وفاتهم؛ بان یقول فی دعائه: أللّهم إنّی أتوسل إلیک بفلان أن تجیب دعوتی وتقضی حاجتی إلی غیر ذلک کما صرّح به شیخنا ومولانا الشاه محمّد اسحاق الدهلوی...[68]

ہمارے نزدیک اور ہمارے علماء کے نزدیک دعا کے دوران، انبیاء، صلحاء، اولیاء، شہداء اور صدیقین سے توسل کرنا چاہے انکی زندگی میں ہو یا انکی وفات کے بعد ہو جائز ہے؛ اس طرح کہ انسان اپنی دعا میں کہے: اے اللہ! میں آپکو فلاں شخص کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری دعا کو قبول کریں اور میری حاجت کو پوری فرمائیں، جیسا کہ ہمارے شیخ اور سردار شاه محمّد اسحاق دہلوی نے اس بات کو صراحت سے بیان کیا ہے۔۔۔

وہ “برزخی زندگی” کے بارے میں کہتا ہے:

عندنا و عند مشایخنا، حضرة الرسالة (صلّی الله علیه وآله وسلّم) حی فی قبره الشریف وحیاته دنیویة من غیر تکلیف، وهی مختصة به (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وبجمیع الأنبیاء صلوات الله علیهم و الشهداء لا برزخیة کما هی حاصلة لسائر المؤمنین، بل جمیع الناس، کما نصّ علیه العلامة السیوطی فی رسالته (انباء الأذکیاء بحیاة الأنبیاء)، حیث قال: قال الشیخ تقی الدین السبکی: حیاة الأنبیاء و الشهداء فی القبر کحیاتهم فی الدنیا، ویشهد له صلاة موسی (علیه السلام) فی قبره؛ فانّ الصلاة تستدعی جسداً حیاً... فثبت بهذا انّ حیاته دنیویة برزخیة؛ لکونها فی عالم البرزخ...[69]

ہمارے نزدیک اور ہمارے علماء کے نزدیک رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں اور انکی زندگی دنیاوی ہے بغیر کسی شرعی ذمہ داری کے اور یہ بات آنحضرت اور تمام انبیاء ـ صلوات الله علیهم ـ اور شہداء کے ساتھ مختص ہے، ایسا نہیں ہے کہ انکی زندگی دیگر برزخی مومنین کی طرح ہو، جیسا کہ علامه “سیوطی نے” “انباء الأذکیاء بحیاة الأنبیاء” میں اس بات کو صراحت سے بیان کیا ہے، جب تقی الدین سبکی کے بقول نقل کرتا ہے اور کہتا ہے: قبر میں انبیاء اور شہداء کی زندگی انکی دنیاوی زندگی کی طرح ہے، اس کی دلیل موسی ( علیہ السلام ) کی نماز اسکی قبر میں پڑھنا ہے؛ کیونکہ نماز پڑھنے کا لازمہ زندہ بدن ہے۔۔۔۔ اس بات سے ثابت ہوا کہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زندگی دنیاوی اور برزخی ہے؛ کیونکہ عالم برزخ میں ہیں۔۔۔

وہ اسی طرح کہتے ہیں:

... روی ابوحنیفة عن ابن عمر انّه قال: من السنة ان تأتی قبر رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، فتستقبل القبر بوجهک ثم تقول: ألسلام علیک أیها النبی ورحمة الله وبرکاته...[70]

...ابوحنیفہ نے ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: من جملہ ایک سنت یہ ہے کہ رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم)  کی قبر کی زیارت کے لیے آجائیں  اور اس کی قبر کی طرف رخ کر کے کہو: آپ پر سلام ہو اے پیغمر اور آپ پر خدا کی رحمت اور برکات نازل ہوں۔۔۔

اسی طرح وہ محمّد بن عبدالوہاب کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں لکھتا ہے:

... اتباع محمّد بن عبدالوهاب الذین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانوا ینتحلون مذهب الحنابلة، لکنّهم اعتقدوا انّهم هم المسلمون و انّ من خالف اعتقادهم مشرکون واستباحوا بذلک قتل أهل السنة وقتل علماءهم حتّی کسّرالله شوکتهم...[71]

محمّد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں نے نجد سے تحریک کا آغاز کیا اور حرمین پر غلبہ حاصل کیا، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو حنبلی کہتے ہیں، لیکن معتقد ہیں کہ فقط وہ مسلمان ہیں اور جو بھی انکے اعتقادات کا مخالف ہو مشرک ہے، اس طرح اہلسنت اور علمائے اسلام کے قتل کو جائز قرار دیا، یہاں تک اللہ تعالی نے انکے رعب کو توڑ دیا۔۔۔

  1. احمد علی محدّث سهارنفوری حنفی

یہ شاه محمّد اسحاق دہلوی کے شاگرد ہیں، جو وہابیوں کے اس عقیدہ کی رد میں کہ میلاد میں نعت خوانی حرام ہے کہتے ہیں:

انّ ذکر الولادة الشریفة لسیدنا رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) بروایات صحیحة فی أوقات خالیة عن وظائف العبادات الواجبات وبکیفیات لم تکن مخالفة عن طریقة الصحابة وأهل القرون الثلاثة المشهود لها بالخیر وبالإعتقادات التی لم تکن موهمة بالشرک والبدعة وبالآداب التی لم تکن مخالفة عن سیرة الصحابة التی هی مصداق قوله (صلّی الله علیه وآله وسلّم): (ما أنا علیه و اصحابی) وفی مجالس خالیة عن المنکرات الشرعیة، موجب للخیر والبرکة...[72]

یقینا ہمارے سید و سردار رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی میلاد شریف کا ذکر کرنا معتبر روایات کے ساتھ ایسے اوقات میں جو واجب عبادات کا وقت نہ ہو اور ایسی روش کے ساتھ جو صحابہ اور پہلی تین صدیوں والوں کی روش کے مخالف نہ ہو جن کی خوبی کی گواہی دی گئی ہے اور ایسے اعتقادات کے ہمراہ بھی نہ ہو جن میں شرک اور بدعت کا شائبہ ہو و نیز صحابہ کی سیرت کے مخالف آداب کے ہمراہ بھی نہ ہو وہ صحابہ جو رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی حدیث کے مصداق ہیں جس میں آنحضرت نے فرمایا: ( میں اور میرے اصحاب کی جو روش ہے) و نیز وہ مجالس جو غیر شرعی امور سے پاک ہیں ، یہ عمل ( نعت خوانی) خیر و برکت کا باعث ہوتا ہے۔۔۔

  1. مصطفی بن عبدالله قسطنطنی حنفی معروف به حاجی خلیفه

وہ کہتا ہے:

ذکر ابن تیمیة فی کتابه (کتاب العرش و صفته): إنّ الله تعالی یجلس علی الکرسی، وقد اخلی مکاناً یقعد فیه رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم). [73]

ابن تیمیہ نے (کتاب العرش و صفته) نام کی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالی کرسی پر بیٹھتا ہے اور رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے بیٹھنے کے لیے ایک جگہ خالی چھوڑتا ہے۔

  1. محمّد بخیت مطیعی حنفی (م1354ه‍. ق)

یہ مملکت مصر کا مفتی ہے، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

و لمّا ان تظاهر قوم فی هذا العصر بتقلید ابن تیمیة فی عقائده الکاسدة وتعضید اقواله الفاسدة وبثّها بین العامة والخاصة، واستعانوا علی ذلک بطبع کتابه المسمی بالواسطیة ونشره، وقد اشتمل هذا الکتاب علی کثیر ممّا ابتدعه ابن تیمیة مخالفاً فی ذلک الکتاب والسنة وجماعة المسلمین، فأیقظوا فتنة کانت نائمة.[74]

اور جب ایک گروہ نے اس زمانے میں ابن تیمیہ کے بے رونق عقائد کی پیروی کرنے کا دکھاوا کیا اور اس کے باطل اقوال کو خاص و عام میں شائع کیا اور اس راہ میں اسکی (واسطیه) نام کی کتاب کو طبع کر کے شائع کرنے میں مدد کی، ایسی کتاب جو ابن تیمیہ کی بہت ساری بدعتوں پر مشتمل ہے، اس نے ان بدعتوں کے ذریعے قرآن و سنت اور مسلمانوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے ایسا فتنہ برپا کیا ہے جو خاموش تھا۔

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں مزید کہتا ہے:

الّف کتابه المسمّی بـ(الواسطیة)، فقد ابتدع ماخرق به إجماع المسلمین وخالف فیه الکتاب والسنة الصریحة والسلف الصالح، واسترسل مع عقله الفاسد، {وَ أَضَلَّهُ اللَّهُ عَلی عِلْمٍ}، فکان {إِلهَهُ هَواهُ}، ظنّاً منه انّ ما قاله حق وما هو بالحق، وانّما هو منکر من القول وزور.[75]

اس نے (الواسطیه) کے نام سے اپنی کتاب تالیف کی۔ اس نے اس کتاب میں ایسی بدعتوں کی بنیاد رکھی جن کے ذریعے مسلمانوں کا اتحاد ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ان میں قرآن و سنت اور سلف صالح کی واضح مخالفت کی اور اپنی باطل عقل کی پیروی کی۔ لہذا اللہ تعالی نے اس کے علم کے ذریعے اسکو گمراہ کیا، پس اسکا خدا اسکی خواہشات تھیں؛ کیونکہ اسکو گمان تھا کہ جو کچھ کہتا ہے حق ہے جبکہ ایسا نہیں تھا، بلکہ یقینی طور پر باطل اور جھوٹ شمار ہوتا تھا۔

مزید کہتا ہے:

... تمالأ علیه أهل عصره ففسّقوه ویدعوه، بل کفّره کثیر منهم...[76]

... اسکے زمانے کے لوگ اس کے حوالے سے متفق تھے اور اسکو فاسق سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ باطل دعوی کرتا ہے، بلکہ بہت ساروں نے اس کی تکفیر کی ہے۔۔۔

  1. شاه فضل رسول قادری هندی حنفی

وہ ابن تیمیہ کے بارے کہتے ہیں:

الشقی ابن تیمیة، اجمع علماء عصره علی ضلاله وحبسه، ونودی من کان علی عقیدة ابن تیمیة حلّ ماله و دمه.[77]

بدبخت ابن تیمیہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں اسکے ہم عصر علماء اس کے گمراہ ہونے اور اس کو قید کرنے پر متفق تھے اور اعلان کیا گیا کہ جو بھی ابن تیمیہ کے عقیدہ پر ہے اسکا مال اور خون حلال ہے۔

  1. شیخ محمّد عبدالرحمان سلهتی هندی حنفی

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

ابن تیمیة فهو کبیر الوهابیین، وما هو شیخ الإسلام بل هو شیخ البدعة والآثام. وهو أوّل من تکلّم بجملة عقائدهم الفاسدة، وفی الحقیقة هو المحدث لهذه الفرقة الضالة، ثمّ خملت تذکرته وعقائده بین الناس إلی سنة سبعمائة وست وأربعین من میلاد خیر البشر علیه التحیة والثناء. فبعد ذلک السنة فی عهد السلطان محمودخان الثانی ببلاد العرب رجل یدعی بمحمّد بن عبدالوهاب من الیمن وأظهر العقائد الفاسدة التی کانت قد ماتت واندرست بموت ابن تیمیة مقیداً مغلولا فی بلاد الإسلام واستحدث شرعاً جدیداً... وسمّوا الوهابیة بإسم کبیرهم محمّد بن عبدالوهاب. وکان ابن السعود کبیر الوهابیة ملحداً قد سوّلت له نفسه، فکان یقلق الحجاج ویزعج العباد ویقطع الطرق... ومن ذلک الزمان زقّت جمعهم وشتّت شملهم وتفرقوا فی البلاد وسمّوا بأهل الحدیث، ولا یلیق لهم مالقبوا به، بل هم أهل البدعة والضلالة...[78]

ابن تیمیہ، وہابیوں کے بزرگ ہیں اور وہ شیخ الاسلام نہیں ہیں بلکہ شیخ بدعت اور گناہ ہیں، وہ پہلا شخص ہے جس نے انکے تمام باطل عقائد پر بات کی ہے، اور حقیقت میں اس گمراہ فرقہ کو وجود میں لانے والے یہی ہیں۔ اور جبکہ اسکی یاد اور اسکے عقائد پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی ولادت سے 746ویں سال تک لوگ بھول گئے۔ پھر اس کے بعد  سلطان محمود خان دوم کے زمانے میں عرب سرزمینوں میں محمّد بن عبدالوہاب کے نام سے یمن کا ایک شخص ظاہر ہوا اور مردہ باطل عقائد کو جو ابن تیمیہ کے مرنے سے پرانے ہو گئے تھے اور اسلامی ممالک میں ختم ہوگئے تھے آشکار کر دیا اور دوبارہ زندہ کرنا شروع کیا۔۔۔ وہابیوں کا نام انکے بزرگ محمّد بن عبدالوہاب سے منسوب کر کے رکھا ہے۔ ابن سعود وہابیت کے بزرگوں میں سے ایک ملحد شخص تھا، اسکے نفس نے اسکو دھوکہ دیا اور وہ حجاج پر سختی کرتا تھا اور لوگوں کو اذیت پہنچاتا تھا اور لوگوں کے راستوں کو بند کرتا تھا۔۔۔ اس زمانے سے انکی آبادی منتشر ہوگئی اور انکا اجتماع پراکندہ ہوگیا اور مختلف شہروں میں منتشر ہوگیا۔ انہوں اپنے آپ کو اہل حدیث کہا جبکہ وہ اس نام کے لائق نہیں ہیں بلکہ وہ اہل بدعت اور گمراہی ہیں۔۔۔ 

  1. محمّد زاهد کوثری حنفی (م1371ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

ولو قلنا لم یبل الإسلام فی الأدوار الأخیرة بمن هو اضرّ من ابن تیمیة فی تفریق کلمة المسلمین لَما کنّا مبالغین فی ذلک، وهو سهل متسامح مع الیهود والنصاری یقول عن کتبهم انّها لم تحرف تحریفاً لفظیاً فاکتسب بذلک إطراء المستشرقین له، شدید غلیظ الحملات علی فرق المسلمین لاسیما الشیعة... ولولا شدّة ابن تیمیة فی ردّه علی ابن المطهّر فی منهاجه إلی ان بلغ به الأمر إلی أن یعترض لعلی بن أبی طالب علی الوجه الذی تراه فی أوائل الجزء الثالث منه بطریق یأباه کثیر من أقحاح الخوارج مع توهین الأحادیث الجیدة فی هذا السبیل...[79]

اگر کہہ دوں کہ حالیہ ادوار میں اسلام ایسے شخص سے دوچار نہیں ہوا ہے جس کا نقصان ابن تیمیہ کی طرف سے مسلمانوں میں تفرقہ ایجاد کرنے سے زیادہ ہو تو میں نے ہرگز مبالغہ نہیں کیا ہے۔ وہ ایسا شخص تھا جو بہت آسانی سے یہود و نصارا کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا تھا اور انکی کتابوں کے بارے میں کہتا ہے کہ لفظی تحریف نہیں ہوئی ہے، لہذا شرق شناسوں نے انکی طرف توجہ دی ہے۔ وہ ایک سخت گیر شخص تھا اور سختی کے ساتھ اسلامی فرقوں خاص طور پر شیعوں پر حملہ کرتا تھا۔۔۔

 

اگر ابن مطہر کی رد میں کتاب (منهاج السنة) میں ابن تیمیہ کی اس حد تک شدت نہیں ہوتی کہ علی بن ابی طالب (علیه السلام) پر بھی اعتراض کیا ہے، جیسا کہ اس کے جزء سوم کی ابتدا میں آپ مشاہدہ کرتے ہیں، اور یہ توہین اس حد تک ہے کہ خوارج کے بزرگ بھی اس سے کتراتے ہیں، ان اچھی احادیث کی توہین جو اس حوالے سے ذکر ہوئی ہیں۔۔۔

وہ مزید ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے: “وقع الإتفاق علی تضلیله وتبدیعه وزندقته” [80]؛ “ اسکے گمراہ ہونے، بدعتی ہونے اور کافر ہونے کے بارے میں امت متفق ہے۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

ان کان ابن تیمیة لایزال شیخ الإسلام فعلی الإسلام سلام.[81]

اگر ابن تیمیہ ابھی تک شیخ الاسلام ہے تو پھر اسلام کا خدا حافظ ہے۔

وہ ایک اور جگہ کہتا ہے:

ومن احاط علماً بما نقلناه... واستمر علی مشایعته وعلی عدّه شیخ الإسلام فعلیه مقت الله وغضبه.[82]

ہم نے جو کچھ نقل کیا ہے اس سے جو بھی مکمل آگاہ ہو۔۔۔ اور اسکی پیروی کرتا رہے اور اسکو شیخ الاسلام کہتا رہے تو اللہ اس سے ناراض ہو اور اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

و قد جری عمل الأمة علی التوسل والزیارة إلی ان ابتدع انکار ذلک الحرّانی.[83]

امت اسلامی ہمیشہ سے قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) ) کی زیارت اور ان سے توسل کرتی رہی ہے یہاں تک حرانی نے اس سے انکار کرنے کی بدعت ایجاد کی۔

  1. احمد رضا بریلوی حنفی

وہ ھندوستان کے بریلوی فرقہ کے سربراہ ہیں، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتے ہیں:  “انّ ابن تیمیة کان یهذی جزاف” [84]؛ “ بیشک ابن تیمیہ بے پرواہی کے ساتھ بکتا تھا۔

وہ مزید کہتا ہے: “ابن تیمیة کان فاسد المذهب” [85]؛ “ ابن تیمیہ کا مذہب باطل تھا۔

  1. نعیم الدین مرادآبادی حنفی

وہ بریلوی فرقہ کے ایک امام ہیں، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتے ہیں:  “انّ ابن تیمیة افسد نظم الشریعة”[86]؛ “ یقینا ابن تیمیہ نے نظام شریعت کو فاسد کر دیا ہے۔

پھر اہلسنت علماء سے ابن تیمیہ کے بارے میں ایک کلام نقل کرتا ہے:

ابن تیمیة عبد خذله الله واضلّه واعماه واصمّه واذلّه. وانّه مبتدع ضالّ ومضلّ وجاهل غال.[87]

ابن تیمیہ ایسا شخص تھا جس کو اللہ تعالی نے خوار، گمراہ، اندھا، بہرا اور ذلیل کر دیا ہے۔ وہ ایک بدعتی، گمراہ اور گمراہ کرنے والا اور جاہل اور غالی شخص ہے۔

] . النجوم الزاهرة، ابن تغری، ج 9، ص 213.

 [59] النجوم الزاهرة، ابن تغری، ج 9، ص 213.

[60] رفع الإصر عن قضاة مصر، ابن حجر، ص 42.

[61] . شرح الشفا، ملاعلی قاری، ج 2، ص 152.

[62] . شواهد الحق، نبهانی، ص 177 (به نقل از او).

[63] . سعادة الدارین فی الردّ علی الفرقتین، ابراهیم سمنودی، ج 1، ص 173.

[64] . البدر الطالع، محمّد بن علی شوکانی، ج 2، ص 137.

[65] . براءة الأشعریین، ابوحامد بن مرزوق، ص 254؛ شفاء السقام، سبکی، ص 132؛ المقالات السنیة، ص 133.

[66] . التوسل بالنبی9، ابوحامد بن مرزوق، صص 103 و 113.

[67] . عقائد اهل السنة و الجماعة، سهارنفوری، صص 82 ـ 83.

[68] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 86 ـ 87.

[69] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 88 ـ 89.

[70] . همان، صص 90 ـ 91.

[71] . عقائد اهل السنة و الجماعة، ص 99.

[72] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 125 ـ 126.

[73] . کشف الظنون، ج 2، ص 1438.

[74] . تطهیر الفؤاد من دنس الاعتقاد، محمّد بخیت المطیعی، ص 13.

[75] . همان، ص 9.

[76] . تطهیر الفؤاد من دنس الاعتقاد، صص 10 ـ 11.

[77] . سیف الجبار المسلول علی اعداء الابرار، شاه فضل، ص 42.

[78] . سیف الابرار المسلول علی الفجار، ص 111.

[79] . الاشفاق فی حکم الطلاق، ص 268.

[80] . تبدید الظلام، ص 81.

[81] . الاشفاق، ص 89.

[82] . تبدید الظلام، صص 118 ـ 119.

[83] . محق التقول، کوثری، مقالات الکوثری، ص 468.

[84] . الفتاوی الرضویة، صص 198 و 199.

[85] . همان.

[86] . دعوة شیخ الاسلام ابن تیمیة، ج 2، ص 611.

[87] . دعوة شیخ الاسلام ابن تیمیة، ج 2، ص 611.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ