اندراج کی تاریخ  11/9/2020
کل مشاہدات  279
حصہ سوم: ابن تیمیہ کے بارے میں مالکی علماء کا نظریہ

 

جیسا کہ  شافعی علماء اور حنفی علماء کا نظریہ ابن تیمیہ کے بارے میں معلوم ہوا  اس حصہ میں ابن تیمیہ کے بارے میں مالکی علماء کا نظریہ پیش کیا جائے گا

  1. تاج الدین احمد بن محمّد بن عطاء الله اسکندری مالکی(م709ه‍. ق)

وہ بہت ساری تالیفات اور تصنیفات کے مالک ہیں، ذہبی اسکے بارے میں کہتا ہے: “... کان من کبار القائمین علی الشیخ تقی الدین ابن تیمیة” [88]؛ “... وہ شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کے خلاف قیام کرنے والے بزرگوں میں سے تھے۔

  1. عمر بن ابی الیمن لخمی فاکهی مالکی (م734ه‍. ق)

اس نے ابن تیمیہ کی رد میں ایک کتاب لکھی اور اس کا نام “التحفة المختارة فی الردّ علی منکر الزیارة” رکھا ہے.[89

  1. تقی الدین محمّد بن ابی بکر بن عیسی سعدی اخنائی مالکی (م750ه‍. ق)

وہ اہل سنت کے فقیہ، قاضی القضات اور محدث ہیں، اس نے ابن تیمیہ کا مقابلہ کیا اور “المقالة المرضیة فی الردّ علی من ینکر الزیارةالمحمّدیة” کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔.[90]

ابن حجر عسقلانی اس کے بارے میں کہتا ہے:

وکان کثیر الحطّ علی الشیخ ابن تیمیة واتباعه وهو الذی عزّر الشهاب ابن مری وکان علی طریقة الشیخ تقی الدین...[91]

اس نے شیخ ابن تیمیہ اور اسکے پیروکاروں کے خلاف بہت اعتراض کیا ہے اور اسی نے شہاب بن مری کو ادب سکھایا جو شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کی روش پر تھا۔۔۔

وہ ابن تیمیہ کی رد میں مزید کہتا ہے:

فانّه لمّا احدث ابن تیمیة ما احدث فی اصول العقائد و نقضَ من دعائم الإسلام الأرکان والمعاقد، بعد ان کان مستتراً بتبعیة الکتاب والسنة، مظهراً انّه داع إلی الحق هاد إلی الجنة، فخرج عن الإتّباع إلی الإبتداع، و شذّ عن جماعة المسلمین بمخالفة الإجماع.[92]

جب ابن تیمیہ نے اصول عقائد میں بعض بدعتیں ایجاد کیں اور اسلام کے ارکان اور بنیادوں کو ریزہ ریزہ کر دیا بعد اس کے کہ اپنے آپ کو کتاب و سنت کی پیروی کے لبادہ میں چھپا لیا تھا اور یہ اظہار کیا کہ حق کی طرف دعوت کرنے والا اور  بہشت کی طرف ہدایت کرنے والا ہے، لہذا دین کی پیروی سے نکل گیا اور بدعت ایجاد کرنے لگا اور اجماع کی مخالفت کر کے مسلمانوں کی صف سے نکل گیا۔

  1. ضیاء الدین خلیل بن اسحاق مالکی (م776ه‍. ق)

وہ توسل کے بارے میں کہتا ہے:

... ویسأل الله تعالی بجاهه فی التوسل به؛ إذ هو محطّ جبال الأوزار واثقال الذنوب؛ لانّ برکة شفاعته وعظمها عند ربّه لایتعاظمها ذنب. ومن اعتقد خلاف ذلک فهو المحروم الذی طمس الله بصیرته واضلّ سریرته. ألم یسمع قوله تعالی: {وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَآءُوکَ...}.[93]

۔۔۔ وہ اللہ سے آںحضرت کے مقام اور منزلت کو وسیلہ قرار دے کر دعا مانگتا ہے؛ کیونکہ وہی ہیں جو عیوب کے پہاڑوں اور گناہوں کی سنگینی کو نابود کرتا ہے؛ اس لیے کہ اللہ کے نزدیک انکی شفاعت کی برکت اور انکی عظمت کے ساتھ کوئی گناہ مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ جو اس کے برخلاف معتقد ہو تو انکی شفاعت سے محروم ہوگا۔ وہ ایسا شخص ہے کہ اللہ نے اسکی بصیرت چھین لی ہے اور اسکے دل کو گمراہ کیا ہے۔ آیا آپ نے اللہ تعالی کے اس فرمان کو نہیں سنا ہے جس میں فرمایا: ( اور اگر وہ اپنے آپ ظلم کرتے تو آپ کے پاس آتے۔۔۔)۔

زرقانی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے:

 “و لعلّ مراده التعریض بابن تیمیة” [94]؛ “ شاید اسکی مراد ابن تیمیہ پر اعتراض کرنا ہو۔

  1. محمّد برلسی رشیدی مالکی

اسی طرح وہ بھی ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے: وقد تجاسر ابن تیمیة ـ عامله الله بعدله ـ و ادعی انّ السفر لزیارة النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) محرم بالإجماع و انّ الصلاة لاتقصر فیه لعصیان المسافر به، و انّ سائر الأحادیث الواردة فی فضل الزیارة موضوعة، و اطال بذلک بما تمجه الأسماع وتنفر منه الطباع، وقد عاد شؤم کلامه علیه حتّی تجاوز إلی الجناب الأقدس المستحق لکلّ کمال انفس وحاول ما ینافی العظمة والکمال بادعائه الجهة والتجسیم، وأظهر هذا الأمر علی المنابر وشاع وذاع ذکره فی الأصاغر والأکابر وخالف الأئمة فی مسائل کثیرة واستدرک علی الخلفاء الراشدین باعتراضات سخیفة حقیرة فسقط من عین اعیان علماء الأمة، وصار مُثلة بین العوام فضلا عن الأئمة، وتعقب العلماء کلماته الفاسدة وزیفوا حججه الکاسدة واظهروا عوار سقطاته وبینوا قبائح أوهامه وغلطاته، حتّی قال فی حقه العز بن جماعة ان هو إلاّ عبد اضلّه الله واغواه وألبسه رداء الخزی وأرداه...[95]

ابن تیمیہ نے جسارت کی ہے- خدا اس کے ساتھ اپنی عدالت سے رفتار کرےـ اور دعوی کیا ہے کہ قبر پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کرنا اجماعا حرام ہے، اور زیارتی سفر میں نماز قصر نہیں ہوتی ہے؛ کیونکہ اس سفر سے مسافر گناہ گار ہوجاتا ہے، اور یہ کہ زیارت کی فضیلت میں ذکر شدہ تمام احادیث جعلی ہیں۔ اس نے اس موضوع میں اس قدر طویل گفتگو کی ہے کہ کان تھک جاتے ہیں اور نفرت ہوجاتی ہے۔ اس کی نحس گفتگو پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے تجاوز کر کے اللہ کی پاک ذات پہنچ گئی ہے جو ہر کمال کا مستحق ہے اور وہ ایسے مطالب کا معتقد ہے جو اللہ کی عظمت اور کمال کے ساتھ سازگار نہیں ہیں؛ کیونکہ وہ اللہ کے لیے جہت اور جسم کا قائل ہوا ہے اور منبر کے اوپر اس بات کا اعلان اور شائع کیا ہے اور ہر چھوٹے، بڑے کے درمیان اس بات کو نشر کیا ہے اور بہت سارے مسائل میں اماموں کی مخالفت کی ہے اور خلفائے راشدین پر پست اور حقیر اعتراضات کے ساتھ طنز کیا ہے۔ اس لیے امت کے بزرگ علماء کی نظروں سے گر گیا ہے اور عوام کی بھی مذمت سے دوچار ہوا ہے۔ علماء نے اسکی باطل باتوں کا نوٹس لے کر اسکی باطل دلیلوں کو رد کر کے اس کی لغزشوں اور مکروہ اور غلط خیالات کو واضح کر دیا ہے۔ یہاں تک عز بن جماعہ نے اسکے بارے میں کہا ہے: وہ ایسا شخص ہے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہے اور اسکو ہدایت سے دور کردیا ہے اور اسے ذلت کا لباس پہنا دیا ہے اور اسکو نابود کر دیا ہے۔۔۔   

  1. حافظ احمد بن محمّد صدیق غماری مالکی (م1380ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

بل بلغت العداوة من ابن تیمیة إلی درجة المکابرة وانکار المحسوس، فصرح بکلّ جرأة ووقاحة ولؤم ونذالة ونفاق وجهالة انّه لم یصح فی فضل علی (علیه السلام) حدیث اصلا... بل اضاف ابن تیمیة إلی ذلک من قبیح القول فی علی وآل بیته الأطهار، وما دلّ علی انّه رأس المنافقین فی عصره لقول النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) فی الحدیث الصحیح المخرج فی صحیح مسلم مخاطباً لعلی (علیه السلام):  (لایحبک إلاّ مؤمن ولا یبغضک إلاّ منافق)، کما الزم ابن تیمیة بذلک أهل عصره وحکموا بنفاقه... وکیف لایلزم بالنفاق مع نطقه ـ قبّحه الله ـ بما لاینطق به مومن فی حق فاطمة سیدة نساء العالمین وحق زوجها أخی رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وسید المؤمنین، فقد قال فی السیدة فاطمة البتول: انّ فیها شَبَها من المنافقین الذین وصفهم الله بقوله: {فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِن لَّمْ یعْطَوْا مِنْها إِذَا هُمْ یسْخَطُونَ}[96]، قال ـ لعنة الله علیه ـ: فکذلک فعلت هی إذ لم یعطها ابوبکر من میراث والدها (صلّی الله علیه وآله وسلّم). .. فی امثال هذه المثالب التی لایجوز ان یتهم بها مطلق المؤمنین فضلا عن سادات الصحابة، فضلا عن أفضل الأمة بعد رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، فقبّح الله ابن تیمیة وأخزاه و جزاه بمایستحق، و قد فعل والحمدلله؛ إذ جعله امام کل ضالّ مضلّ بعده، و جعل کتبه هادیة إلی الضلال، فما اقبل علیها احد و اعتنی بشأنها إلاّ وصار امام ضلالة فی عصره...[97]

ابن تیمیہ کی دشمنی جان بوجھ کر انکار کرنے اور معلوم کا انکار کرنے کی حد تک پہنچ گئی ہے؛ لہذا جرئت، وقاحت، پستی، نفاق اور جہالت کے ساتھ صراحت سے کہہ دیا ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) کے فضائل کے باب میں حتی ایک حدیث بھی صحیح نہیں ہے۔۔۔ بلکہ ابن تیمیہ نے اسکے علاوہ علی اور انکے اہلبیت اطہار کے بارے میں قبیح باتیں کی ہیں، ونیز ایسے مطالب بیان کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے مناقوں کا سرغنہ ہے؛ کیونکہ پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) سے صحیح مسلم میں ایک حدیث صحیح نقل ہوئی ہے جس میں علی (علیه السلام) سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں: ( آپ سے محبت  نہیں کرتا ہے مگر مومن اور آپ سے دشمنی نہیں کرتا ہے مگر منافق)۔ جیسا کہ اس کے زمانے کے علماء نے ان مطالب کی وجہ اسکی مذمت کر کے اسکو منافق قرار دیا ہے۔۔۔ کس طرح اس کو منافق قرار نہ دیں- اللہ ابن تیمیہ کو ہر اچھائی سے محروم کر دے ـ ان باتوں کی وجہ سے جن کو ہرگز کوئی مومن کائنات کی عورتوں کی سردار فاطمہ کے بارے میں اور انکے ہمسر اور رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے بھائی اور مومنوں کے سردار کی بارے میں نہیں کہتا ہے۔ وہ جناب فاطمہ بتول کے بارے میں کہتا ہے: وہ منافقوں سے شباہت رکھتی ہے جن کی صفات اللہ نے اپنے کلام میں بیان کی ہیں: ( اگر اس میں سے انکو دیا جائے تو راضی ہوتے ہیں اور اگر ان کونہیں دیا جائے تو ایک دم ناراض ہوجاتے ہیں۔ ابن تیمیہ- جس پر اللہ کی لعنت ہو- نے کہا ہے کہ: فاطمہ نے ایسا کیا ہے؛ جب ابوبکر نے انکے والد (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی میراث میں سے نہیں دیا تو ۔۔۔ اس طرح کے عیوب کی نسبت عام مومنین کی طرف دینا جائز نہیں ہے بزرگ صحابی تو دور کی بات ہے، رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے بعد امت کے بہترین فرد پر تہمت لگانا تو دور کی بات ہے، پس اللہ ابن تیمیہ کو ہر اچھائی سے محروم کرے اور اسکو ذلیل کرے اس کو ایسی سزا دے جس کا وہ مستحق ہے اور الحمد للہ ایسا ہی کیا ہے؛ کیونکہ ابن تیمیہ کے بعد ہر گمراہ اور گمراہ کرنے والے کا رہبر اس کو بنادیا ہے اور اسکی کتابیں گمراہی کی طرف ہدایت کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے۔ لہذا کوئی شخص اس کی طرف مائل نہیں ہوا ہے اور کسی نے اس کے مقام کی پروا نہیں کی ہے، مگر یہ کہ خود ہی اپنے زمانے میں گمراہی کا امام بنا ہے۔۔۔

  1. عبدالله بن محمّد صدیق غماری مالکی (م1413ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

ویدلّ ایضاً علی انّ علیاً (علیه السلام) کان میمون النقیبة، سعید الحظّ، علی نقیض ما قال ابن تیمیة فی منهاجه عنه انّه کان مشئوماً مخذولا، وتلک کلمة فاجرة، تنبئ عمّا فی قلب قائلها من حقد علی وصی النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) واخیه.[98]

اس بات کی دلیل کہ علی (علیه السلام) ایک اچھے اور باشرف انسان تھے برخلاف اس بات کے جو ابن تیمیہ نے “منهاج السنة” میں کہہ دی ہے کہ آنحضرت ایک نامبارک اور رسوا شخص تھے، یہ ایک ناشائستہ بات ہے جو کہنے والے کی دلی کیفیت سے باخبر کرتی ہے کہ وہ  وصی پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اور انکے بھائی (علیہ السلام) سے کینہ رکھتا ہے۔

  1. احمد زروق مالکی

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

... مطعون علیه فی عقائد الإیمان، مثلوب بنقص العقل فضلا عن العرفان...[99]

۔۔۔عقائد کے حوالے سے اس پر اعتراض ہوا ہے اور اسکی مذمت کی گئی ہے اور وہ ذہنی طور پر معیوب تھا، عرفان تو دور کی بات ہے ۔۔۔

  1. زین الدین بن مخلوف مالکی

وہ مالکیوں کے قاضی اور ابن تیمیہ کے ہم عصر تھے، ابن حجر عسقلانی نے اس کو ان علماء میں شمار کیا ہے جنہوں نے ابن تیمیہ کے عقائد کے خلاف قیام کیا ہے.[100]

 

 

[88] . ذیل تاریخ الاسلام، ذهبی، ص 86؛ البدر الطالع، شوکانی، ج 1، ص 74.

[89] . السلفیة الوهابیة، ص 136.

[90] . السلفیة الوهابیة، ص 136.

[91] . رفع الإصر، ابن حجر عسقلانی، ص 353.

[92] . الدرة المضیة، تقی الدین سبکی، ص 3.

[93] . شرح المواهب اللدنیة، زرقانی، ج 12، ص 219.

[94] . همان.

[95] . شواهد الحق، یوسف نهبانی، ص 15.

[96] . توبه: 58.

[97] . البرهان الجلی، احمد غماری، ص 53.

[98] . سمیر الصالحین، عبدالله غماری، ص 77.

[99] . شواهد الحق، ص 453 (به نقل از او).

[100] . الدرر الکامنة، ج 1، ص 147.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ