اندراج کی تاریخ  11/9/2020
کل مشاہدات  87
حصہ چہارم: ابن تیمیہ کے بارے میں حنبلی علماء کا نظریہ
حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه

 

ابن تیمیہ پر نہ صرف دیگر مذاہب کے علماء کی طرف سے تنقید کی گئی، بلکہ اس کے ہم مذہب علماء نے بھی اس کی مذمت کی ہے اور اس پر تنقید کیا ہے۔

  1. قاضی شیخ شرف الدین عبدالغنی بن یحیی حرّانی حنبلی (م709ه‍. ق)

وہ ابن تیمیہ کے ہم عصر تھے، ابن حجر عسقلانی نے انکا شمار ان علماء میں کیا ہے جنہوں نے ابن تیمیہ کے نظریات کی مخالفت کی ہے.[101]

  1. زین الدین عبدالرحمان بن رجب حنبلی (م795ه‍. ق)

شیخ ابوبکر حصنی شافعی اس کے بارے میں کہتے ہیں:

وکان الشیخ زین الدین بن رجب الحنبلی ممّن یعتقد کفر ابن تیمیة، وله علیه الردّ. وکان یقول بأعلی صوته فی بعض المجالس: معذور السبکی یعنی فی تکفیره.[102]

شیخ زین الدین بن رجب حنبلی من جملہ ان لوگوں میں سے تھا جو ابن تیمیہ کو کافر سمجھتا تھا اور اس کی رد میں کتاب لکھی۔ لہذا بعض مجالس میں بہت اونچی آواز میں کہتا تھا: سبکی ابن تیمیہ کی تکفیر کرنے میں حق بجانب ہے۔

  1. شهاب الدین احمد بن محمّد بن عمر خفاجی حنبلی (م1069ه‍. ق)

وہ قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کرنے کے بارے میں کہتا ہے:

وزیارة قبره سنة مأثورة مستحبة مجمع علیها، أی علی کونها سنة، ولا عبرة بمن خالف فیها کابن تیمیة... وأعلم انّ هذا الحدیث هو الذی دعا ابن تیمیة ومن تبعه کابن القیم إلی مقالته الشنیعة التی کفروه بها، وصنف فیها السبکی مصنفاً مستقلا وهی منعه من زیارة قبر النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و شدّ الرحال الیه... توهم انّه حمی جانب التوحید بخرافات لاینبغی ذکرها؛ فانّها لاتصدر عن عاقل فضلا عن فاضل سامحه الله عزّوجلّ.[103]

اور آنحضرت کی قبر کی زیارت کرنا مستحب ہے جس کا ذکر روایات میں ہوا ہے اور پیغمبر کی قبر کی زیارت مستحب ہونے پر تمام علماء کا اجماع ہے۔ اور ابن تیمیہ جیسے شخص کی جانب سے آنحضرت کی زیارت کی مخالفت کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔

اور جان لو کہ یہی وہ حدیث ہے جس کی وجہ سے ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے اس کے پیروکاروں نے نازیبا باتیں کی ہیں جس کی وجہ سے اس کو کافر قرار دیا گیا ہے، اور سبکی نے اس کے بارے میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے، اور وہ ہے، قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت اور اس کے لیے سفر کی ممانعت۔۔۔

اس کو یہ گمان ہوا ہے کہ ایسے خرافات کو ذکر کر کے توحید کی حمایت کی ہے جو بیان کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں، ایسے خرافات جن کو کوئی عاقل شخص بیان نہیں کرتا فاضل تو دور کی بات ہے۔ اللہ تعالی اس سے چشم پوشی کرے اور اس کو معاف کر دے۔

اور ابن تیمیہ کی جانب سے  حدیث: “لاتجعلوا قبری عید”، سے استدلال کرنے کی رد میں کہتا ہے:  “لاحجة فیه... فانّه نزعة شیطانیة”[104]؛ “ اس میں کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔۔۔  فقط ایک شیطانی رجحان ہے۔

 

[101] . الدرر الکامنة، احمد بن حجر عسقلانی، ج 1، ص 147.

[102] . دفع شبه من شبه و تمرّد، ص 401.

[103] . نسیم الریاض، خفاجی، ج 5، ص 17.

[104] . همان، ص 113.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ