اندراج کی تاریخ  11/9/2020
کل مشاہدات  212
پنجم:ابن تیمیہ اس دور کے غیر سلفیوں کی نظر میں
حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه

 

عرب دنیا کے اس دور کے روشن خیال اور مفکرین نے بھی ابن تیمیہ کے تکفیری نظریات کے خلاف موقف اختیار کیا ہے اور اس کے افکار کا تنقیدی جائزہ لیا ہے، ذیل میں کچھ نمونوں کو ذکر کیا جاتا ہے:

  1. دکتر محمود سید صبیح

وہ کہتا ہے:

وقد تتبعت کثیراً من أقوال مبتدعة هذا العصر فوجدت أکثر إستدلالهم بابن تیمیة، فتتبعت بحول الله وقوّته کلام ابن تیمیة فیما یقرب من أربعین الف صفحة أو یزید فوجدته قد اخطأ اخطاء شنیعة فی حق رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وأهل بیته وصحابته، وأنت خبیر انّ جناب رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وأهل بیته اهمّ عندنا أجمعین من جناب ابن تیمیة...[105]

میں نے اس دور کے بدعتیوں کے اقوال پر تحقیق کی اور مشاہدہ کیا کہ انکے اکثر استدلال ابن تیمیہ سے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالی کی مدد سے ابن تیمیہ کی باتوں پر مشتمل تقریبا چالیس ہزار یا اس سے بھی زیادہ صفحات کا مطالعہ کیا اور مجھ معلوم ہوا کہ وہ رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اور انکے اہلبیت اور اصحاب کے حق میں ناروا غلطیوں کا مرتکب ہوا ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ جناب رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اور انکے اہلبیت ہم مسلمانوں کے نزدیک جناب ابن تیمیہ سے اہم تر ہیں۔۔۔

اسی طرح وہ کہتا پے:

ودرج المسلمون علی تعظیم قرابة ونسب رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) حتّی خرج ابن تیمیة فی القرن الثامن الهجری وکان بینه وبین النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وأهل بیته ثأراً، فما وجد من خصیصة من خصائصهم إلاّ نفاها أو قلّلها أو صرف معناها فضلا عن سوء أدبه فی التعبیر والکلام علیهم... وما وجد من أمر قد یختلط علی العامة إلاّ وتکلّم و زاده تخلیطاً. وفی سبیل ذلک نفی ابن تیمیة کثیراً جدّاً من خصائص النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وفضله وفضائل أهل بیته.[106]

مسلمانوں نے رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے اقربا اور ان سے منسوب افراد کی تعظیم میں کئے مدارج طے کئے ہیں یہاں تک کہ ابن تیمیہ آٹھویں ہجری قمری میں میں ظاہر ہوا اور اسکے اور نبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اور انکے اہلبیت کے درمیان دشمنی تھی، لہذا اس نے انکے تمام فضائل اور خصوصیات کا انکار کیا یا انکی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی یا ان کا معنی بدل دیا علاوہ ازایں اپنی تعبیرات اور کلمات میں انکی شان میں گستاخی کی۔۔۔ ان تمام مسائل کے بارے میں گفتگو کی  جو عوام کے لیے مبہم تھے اور اس نے ابہام میں اضافہ کیا۔ اس سلسلے میں پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی خصوصیات  اور انکے اور انکے اہلبیت کے فضائل کا شدت سے انکار کیا۔

اسی طرح ابن تیمیہ کے بارے میں مزید کہتا ہے

وکان ابن تیمیة احد جنود یزید بن معاویة الذین استهتروا بفضیلة أهل البیت وانتقصوهم وقتلوا الإمام الحسین سید شباب أهل الجنة أمام عینیه، وکم من مبغض لأهل البیت یرید قتل الحسین وأهل بیته حیاً وبعد شهادته، ولا یطیق سماع حتّی أسمائهم، فمابالکم بفضیلتهم.[107]

ابن تیمیہ یزید بن معاویہ کے سپاہیوں میں سے ایک تھا جنہوں نے اہلبیت کے فضائل کو اہمیت نہیں دی اور انکے فضائل کو گھٹایا اور جوانان بہشت کے سردار امام حسین (علیہ السلام) کو شہید کر دیا۔ اہلبیت سے بغض رکھنے والے بہت سارے لوگ تھے جو امام حسین (علیہ السلام) اور انکے اہلبیت کو زندگی میں اور انکی شہادت کے بعد قتل کرنا چاہتے تھے، حتی انکے نام سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، انکے فضائل سننا تو دور کی بات ہے۔ 

  1. دکتر محمّد سعید رمضان بوطی

وہ شام کی شریعت کالج کے پرنسپل ہیں، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

وها قد رأینا انّ ابن تیمیة لم یبال ان یخالف السلف کلّهم ممثّلین فی أصحاب مالک وأحمد والشافعی وأبی حنیفة...[108]

ہم نے دیکھا ہے کہ ابن تیمیہ کو تمام سلف من جملہ مالک، احمد، شافعی اور ابوحنیفہ کے اصحاب کی مخالفت کرنے کی کوئی پروا نہیں تھی۔۔۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

واعلم انّ زیارة مسجده و قبره (صلّی الله علیه وآله وسلّم) من اعظم القربات إلی الله عزّوجلّ، اجمع علی ذلک جماهیر المسلمین فی کلّ عصر إلی یومنا هذا، لم یخالف فی ذلک إلاّ ابن تیمیة غفرالله له، فقد ذهب إلی انّ زیارة قبره (صلّی الله علیه وآله وسلّم) غیر مشروعة...[109]

جانلو کہ پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی مسجد اور قبر کی زیارت کرنا خدائے عزوجل کے نزدیک ہونے کا بہترین ذریعہ ہے، اور اس بات پر ہر زمانے میں تمام مسلمان متفق تھے اور آج تک متفق ہیں، اور ابن تیمیہ کے علاوہ کسی نے اسکی مخالفت نہیں کی ہے، خدا اس کے گناہوں کو بخش دے، وہ معتقد ہے کہ قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کرنا جائز نہیں ہے۔۔۔

  1. دکتر عمر عبدالله کامل

وہ مکہ مکرمہ کے علماء میں سے ہیں، کتاب “نقض قواعد التشبیه من اقوال السلف” میں کہتا ہے:

هذا الکتاب ردّ مختصر علی أهمّ ما ورد من افکار وکذا المنطلقات التی بنیت علیها فی الکتاب الموسوم بالعقیدة التدمریة والمنسوب للشیخ ابن تیمیة، وکلّ یؤخذ من کلامه ویردّ، خاصة وانّ هذه الأفکار والآراء تعارض ما یعتقده جمهور الأمة المعصومة، وهنا مکمن الخطر.[110]

یہ کتاب ابن تیمیہ کی کتاب “العقیدة التدمریة” کے مہم ترین افکار اور مطالب کی مختصر رد ہے، اور تمام علماء نے اس کی باتوں کی رد میں لکھا ہے، خاص طور اس لیے کہ اس کے افکار اور آراء امت کی بھاری اکثریت کی رائے کی مخالف ہے جو خطا سے پاک ہے اور یہ خطرناک بات ہے۔

اسی طرح اپنی دوسری کتاب میں ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

ولازم استحباب زیارة قبره (صلّی الله علیه وآله وسلّم) استحباب شدّ الرحال الیها؛ لانّ زیارته للحاج بعد حجّه لاتمکن بدون شدّ الرحل، فهذا کالتصریح باستحباب شدّ الرحل لزیارته (صلّی الله علیه وآله وسلّم).

وقد درج علماء الإسلام وفی مقدمتهم الحنابلة علی هذا الفهم واتفقوا علی جواز شدّ الرحال واستحباب زیارة قبر النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) إلی ان جاء ابن تیمیة فی القرن الثامن وخالف عامة المسلمین وقال: لاتستحب زیارة قبر النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم). ..

وقد نقلنا اجماع المسلمین علی مشروعیة زیارة قبر النبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) فی مختلف الأزمنة وانّه لم یخالف فی ذلک غیر ابن تیمیة ومن تبعه، فهل من الحکمة ان نأخذ بقوله وفهمه للمسألة وندع اجماع أئمة المسلمین فی عصور ما قبل ابن تیمیة؟ مع انّ اجماعهم فی عصر واحد حجة ملزمة، فضلا عن أقوال أکثر أئمة المسلمین بعد عصر ابن تیمیة.[111]

قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت مستحب ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زیارت کے لیے سفر کرنا بھی مستحب ہو؛ کیونکہ حاجی حج انجام دینے کے بعد آنحضرت کی قبر کی زیارت کرنا چاہے تو سفر کے بغیر زیارت کرنا ممکن نہیں ہے، پس یہ بات گویا آنحضرت (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کا سفر مستحب ہونے پر واضح دلیل ہے۔

 علمائے اسلام نے اور سب سے پہلے حنبلی علماء نے یہی راستہ اختیار کیا ہے اور قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کے جواز اور زیارت کے مستحب ہونے پر سب متفق ہیں یہاں تک کہ آٹھویں صدی میں ابن تیمیہ آگیا اور عام مسلمانوں کی مخالفت کی اور کہا: قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت مستحب نہیں ہے۔۔۔

ہم نے قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے جواز پر مختلف زمانوں میں مسلمانوں کے اجماع کو نقل کیا ہے اور یہ کہ اس مسئلہ میں ابن تیمیہ اور اسکے پیروکاروں کے سوا کسی نے مخالفت نہیں کی ہے۔ آیا یہ بات معقول ہے کہ اس مسئلہ میں ابن تیمیہ کے قول اور فہم کو اختیار کریں اور ابن تیمیہ سے پہلے گزرے ہوئے مسلمانوں کے اماموں کے اجماع کو چھوڑدیں؟ جبکہ کسی بھی زمانے میں مسلمانوں کا اجماع لازم العمل ہے تو ابن تیمیہ کے بعد کے مسلمانوں کے اکثر اماموں کے اقوال تو یقینا لازم العمل ہیں۔

  1. شیخ یوسف بن هاشم رفاعی

وہ کویت میں اہل سنت کے مشہور علماء میں سے ہیں، ابن تیمیہ کے بارے کہتا ہے:

رحم الله خصوم الشیخ ابن تیمیة؛ فانّهم لما خرج علی الإجماع فی بعض آرائه، أقاموا له المناظرات الکثیرة المفتوحة فی مصر ودمشق بحضور العلماء والوزراء وطلبة العلم...[112]

خدا ابن تیمیہ کے دشمنوں پر رحمت کرے جب وہ اپنے بعض نظریات میں اجماع سے نکل گیا تو اس کے ساتھ شہروں میں خاص طور پر دمشق میں علماء، وزراء اور طلاب کی موجودگی میں اعلانیہ مناظرے منعقد کر دیے۔۔۔

  1. محیی الدین حسین بن یوسف إسنوی

وہ مصر کی الازہر یونیورسٹی کے علماء میں سے ہیں، ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

انّ لابن تیمیة فی مسألة زیارة قبر الرسول (صلّی الله علیه وآله وسلّم) رأی شاذ وکلام کثیر فیه تضارب وتناقض وتعمیم وتهویل. ومن قرأ له (الجواب الباهر فی زوار المقابر) أو (الردّ علی الأخنائی) وقد طبع مؤخراً فی (744) صفحة من القطع الکبیر، أو قرأ له فتاواه أو ما نقله بعض تلامیذه عنه کابن عبدالهادی فی (الصارم المنکی)، من قرأ ذلک کلّه یعرف مدی التشتت الموجود فی کلام الرجل. وقد قام علیه علماء عصره فی هذه المسألة وغیرها و ردّوا علیه...[113]

قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے مسئلہ میں ابن تیمیہ کی رائے منفرد ہے اور اس حوالے سے اس نے طویل بحث کی ہے جس میں مختلف آراء ہیں، تناقض گوئی ہے اور عوام کو دھوکہ اور فریب دینے کی باتیں ہیں۔ جو شخص کتاب (الجواب الباهر فی زوار المقابر) اور کتاب (الردّ علی الأخنائی) کا مطالعہ کرے جو حالیہ دنوں میں 744 صفحات پر مشتمل موٹی جلد میں شائع ہوئی ہے، یا اس کی کتاب فتاوی کا مطالعہ کرے یا ان باتوں کا مطالعہ کرے جن کو ابن عبدالہادی جیسے اسکے بعض شاگردوں نے کتاب (الصارم المنکی) میں اس سے نقل کی ہیں تو سمجھ جائے گا کہ اس شخص کی باتوں میں کس قدر اختلاف اور تناقض گوئی ہے۔ لہذا اس کے ہم عصر علماء نے اس مسئلہ اور دیگر مسائل کے بارے میں اس کے خلاف قیام کیا ہے اور اسکی رد میں کتابیں لکھی ہیں۔۔۔

  1. ابوالفداء سعید عبداللطیف فوده

وہ اردن کے اس دور کے علماء میں سے ہیں، ابن تیمیہ کی رد میں کہتا ہے:

و امّا عندنا فما کتبه واضح فی مذهب الضلال ونصّ صریح فی نصرة مذهب المجسمة والکرامیة المبتدعة، ونحن فی ردّنا علیه ونقضنا لکلامه لایتوقف هجومنا لصدّ افکاره وتوهّماته علی موافقة الناس لنا، بل انّنا نعلم انّ کثیراً منهم علی عینیه غشاوة، نرجو من الله تعالی ازالتها بماتقوم به من الردود والتنبیهات.[114]

اما ہمارے نزدیک جو کچھ اس نے لکھا ہے اس کے بارے میں واضح ہے کہ وہ سب کے سب گمراہ مذہب کے نظریات ہیں اور بدعتی فرقہ اہل تجسیم اورکرامیہ کی واضح حمایت ہے۔ اسکے افکار کی رد اور اسکی باتوں کو نقض کرنے میں ہمارا ہدف فقط یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے نظریات اور توہمات پر  حملہ کریں تاکہ لوگ ہمارے ہم خیال باقی رہیں، بلکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے۔ لہذا ہماری دعا ہے کہ ابن تیمیہ کی رد میں لکھے گئے نوشتہ جات اور خبرداریوں کے ذریعے اللہ تعالی انکی آنکھوں سے پردہ ہٹا دے۔

  1. عبدالغنی حماده

وہ وہابیوں کی رد میں کہتا ہے:

انّ شیخهم ابن تیمیة قال عنه علامة زمانه علاء الدین البخاری: انّ ابن تیمیة کافر، کما قاله علامة زمانه زین الدین الحنبلی انّه یعتقد کفر ابن تیمیة، و یقول: انّ الإمام السبکی معذور بتکفیر ابن تیمیة؛ لانّه کفّر الأمة الإسلامیة وشبّهها بالیهود والنصاری فی تفسیره عند قوله تعالی: {اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللهِ}. وقال علماء المذهب: انّ کتبه مشحونة بالتشبیه والتجسیم لله تعالی.[115]

انکا شیخ ابن تیمیہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں اسکے زمانے کے علاّمه علاء الدین بخاری نے کہا ہے: ابن تیمیہ یقینا کافر ہے ، جیسا کہ اس کے زمانے کے علامہ زین الدین حنبلی معتقد تھے کہ ابن تیمیہ کافر ہے اور کہتے تھے: یقینا امام سبکی نے ابن تیمیہ کی تکفیر کر کے غلطی نہیں کی ہے؛ کیونکہ اس نے امت اسلامی کی تکفیر کی ہے اور اللہ تعالی کے اس قول: {اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللهِ}. کی تفسیر میں امت اسلامی کو یہود و نصارا سے تشبیہ دی ہے۔ اور مذہب کے علماء نے کہا ہے: یقینا ابن تیمیہ زندیق ہے؛ کیونکہ اس کی کتابیں خداوند متعال کے متعلق تشبیہ اور تجسیم کے اعتقاد سے بھری ہوئی ہیں۔

  1. دکتر شیخ یوسف حسن شرّاح

وہ کویت کی شریعت اور اسلامی مطالعات کالج کے استاد ہیں ابن تیمیہ کے نزدیک بدعت کے عنوان سے ایک مقالہ میں کہتا ہے:

... الذی یراه کثیر من المتطرفین المخالفین لأهل السنة والجماعة بمثابة المرجع الدینی، الذی عصم الله کلامه من الخطأ، مع انّه لیس نبیاً معصوماً کما انّ رأیه لیس هو رأی علماء الأمة جمیعاً، حتّی نعتبره اجماعاً وحجة شرعیة...[116]

ابن تیمیہ وہ شخص ہے جس کو بہت سارے منحرف افراد اور اہل سنت و الجماعت کے مخالفین، دینی مرجع اور ایسا شخص سمجھتے ہیں جس کے کلام کو اللہ نے غلطی سے محفوظ رکھا ہے! باوجود اس کے کہ وہ کوئی معصوم پیغمبر نہیں تھا، جیسا کہ اسکی رائے تمام علمائے امت کی رائے شمار نہیں ہوتی ہے تا اینکہ اس کو اجماع قرار دے کر شرعی حجت اور دلیل سمجھیں۔۔۔

  1. شیخ شعیب ارناؤوط

وہ قبر پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت اور آنحضرت کے حجرہ ساتھ تذلل اور تسلیم کی حالت میں کھڑے ہونے کے بارے میں ذہبی کے کلام پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں:  

قصد المؤلّف بهذا الاستطراد الردّ علی شیخه ابن تیمیة الذی یقول بعدم جواز شدّ الرحل لزیارة قبر النبی...[117]

مؤلف کا مقصد اس مطلب سے جو ضمنا نقل کیا ہے اپنے شیخ ابن تیمیہ کی بات کو رد کرنا ہے جو قبر پیغمر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کے لیے سفر کے عدم جواز کا معتقد ہے۔۔۔

  1. محمّد زکی ابراهیم

وہ کہتا ہے:

الخلاف هو علی التوسل بالمیت الصالح ولم یکن یختلف علی جوازه أحد من السلف إلی القرن السابع، حیث ابتدع ابن تیمیة هذا الخلاف الفتان.[118]

اختلاف اس میت سے توسل میں ہے جو توسل کی اہلیت رکھتا ہے، اور ساتھویں صدی تک علمائے سلف میں سے کسی نے اس کے جواز میں اختلاف نہیں کیا ہے یہاں تک کہ فتنہ گر ابن تیمیہ نے اس بدعت کی بنیاد رکھی۔

  1. شیخ عبدالله هروی ( حبشی سے مشہور)

وہ کہتا ہے:

فانّه یحتج بالحدیث الموضوع الذی یوافق هواه ویحاول ان یصحّحه، ویضعّف الأحادیث والأخبار الثابتة المتواترة التی تخالف رأیه وعقیدته... وهذا لایستغرب صدوره من رجل بلغ سموم الفلاسفة ومصنفاتهم.[119]

ابن تیمیہ کی عادت یہ ہے کہ اپنی ذاتی خواہش کی موافق جعلی حدیث سے استدلال کرکے اس حدیث کو صحیح قرار دینے کی کوشش کرتا ہے، اس کے برخلاف صحیح اور متواتر احادیث اور اخبار کو اسکی رائے اور عقیدہ کی مخالف ہونے کی وجہ سے تضعیف کرتا ہے۔۔۔ اس طرح کے کام ایسے شخص سے بعید اور عجیب نہیں جس نے فلاسفہ کے زہر اور انکی تصنیفات کو نگل لیا ہو۔

ششم: ابن تیمیہ اس دور کے سلفیوں کی نظر میں

ابن تیمیہ پر نہ صرف دیگر مذاہب کے علماء نے تنقید کی ہے بلکہ اس دور کے بعض سلفیوں نے بھی اس کے آراء اور نظریات پر تنقید اور چانچ پڑتال کی ہے، ان سب کو یہاں پر ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے ان میں سے بعض کو یہاں پر ذکر کرتے ہیں:

  1. دکتر عیسی بن مانع حمیری، سلفی

وہ دبئی کے ڈائریکٹر جنرل اوقاف اور امور اسلامی ہے، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

وهذا ترک من ابن تیمیة لمذهب السلف بالکلیة، وادعاء علیهم بمذهب غیر مذهبهم ودخول فی مضایق وعره وشنائع أمور استبشعها العلماء واستبعدوها. وقد رأینا لهذا المخالف ومن شایعه الفاظاً شنیعة لم ترد فی الکتاب والسنة ولم تنطق بها أحد من السلف، فأثبتوا الجسمیة صراحة واثبتوا الجهة والحدّ والتحیز والحرکة والصوت والإنتقال والکیف وغیر ذلک من التجسیم الصریح.[120]

اور یہ درحقیقت ابن تیمیہ کی جانب سے مکمل طور پر مذہب سلف سے روگردانی ہے اور سلف کے لیے ایسے مذہب کا دعوی کرتا ہے جو انکا مذہب نہیں ہے،  پست اور سخت مشکلات میں داخل ہوا ہے، ایسے امور جن کو علماء برا سمجھ کر اپنے آپ سے دور کیا ہے۔ ہم نے اس مخالف اور اس کے پیروکاروں سے ایسے نازیبا الفاظ دیکھے ہیں جو کتاب و سنت میں نہیں پائے جاتے ہیں اور سلف میں سے کسی فرد نے ہرگز ایسی بات نہیں کی ہے۔ وہ جسمیت کو صراحت سے ثابت کرتے ہیں و نیز جہت، حد، مکان، حرکت، آواز، انتقال اور کیف اور دیگر جسمانی عوارض کو اس کے لیے ثابت سمجھتے ہیں۔ 

وہ اس طرح کہتے ہیں:

فالحاصل من هذا انّه یتبین لک انّ ابن تیمیة عشوائی فی فهمه ولا یمشی علی قاعدة مستقیمة بل یتبع مایبدو له إذا استطاع بذلک أن ینصر مذهبه.[121]

ان مطالب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کے لیے واضح ہوا کہ ابن تیمیہ ایک بے بصیرت شخص ہے اور درست قواعد کے مطابق نہیں چلتا ہے، بلکہ فقط اس بات کی پیروی کرتا ہے جس سے اس کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔

  1. حسن بن فرحان مالکی سلفی

حسن بن فرحان مالکی اگرچہ سلفی ہے اور اپنے مذہب کا پابند اور متعصب ہے، لیکن اس کے الفاظ، گفتگو اور کتابوں میں ایسے افکار مل جاتے ہیں کہ جو کسی حد تک اسکی آزاد اندیشی اور انصاف پسندی پر دلالت کرتے ہیں۔ اب ہم اس کے اس طرح کے افکار کے کچھ نمونے ذکر کرتے ہیں:

 وہ شدت پسند سلفیوں کے بارے میں کہتے ہیں:

... و یساعده علی ذلک أیضاً انّ غلاة السنة لهم الصوت الأقوی داخل الوسط السنّی السلفی علی وجه الخصوص، فلذلک لا نستغرب هذه الانحسارات عن السنة إلی مذاهب أخری... و سیبقی الغلو السلفی من أکبر الأمور المساعدة علی الإنتقال الحادّ إلی الشیعة مالم یسارع عقلاء السلفیة بنقد الغلو داخل التیار السلفی نفسه، ذلک الغلو المتمثّل فی کثرة الأحادیث الضعیفة والموضوعة الّتی نشدّ بها المذهب وکثرة التکفیرات المخالفة للمنهج السلفی، کتکفیر أبی حنیفة والأحناف وتکفیر الشیعة والجهمیة والمعتزلة.[122]

۔۔۔ اس مطلب کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اہل سنت کے غالی، خاص طور پر سلفی سنیوں کے درمیان طاقتور آواز کے مالک ہیں، اسی وجہ سے مذہب اہل سنت سے اس طرح نکل کر دوسرے مذاہب میں جانے کو ہم تعجب کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں۔۔۔ اور بہت جلد، سلفی غلو، سب سے بڑا سبب ہوگا جو اہل سنت کا شیعہ مذہب کی طرف جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مگر یہ کہ سلفی عقلاء سریع اقدام کریں اور غلو اور شدت پسندی کو اپنے اندر ہی حل کریں، وہ غلو جو کثیر تعداد میں موجود ضعیف اور جعلی احادیث میں ظاہر ہوا جن کے ذریعہ ہم اس مذہب کی تائید کرتے ہیں اور سلفی روش کے مخالفین کی تکفیر میں مدد لیتے ہیں، جیسے ابوحنیفہ، احناف شیعہ، جہمیہ اور معتزلہ کی تکفیر۔

وہ محمد بن عبدالوہاب کے بارے میں کہتا ہے:

وکتاب التوحید أو کتاب کشف الشبهات أو غیرهما من کتب الشیخ ورسائله انّما الّفها بشر یخطیء ویصیب ولم یؤلّفها ملک ولا رسول، فلذلک من الطبیعی جداً ان یخطئ ولا مانع شرعاً ولا عقلا من وقوع الأخطاء من الشیخ؛ سواء کانت کبیرة أو صغیرة، کثیرة أو قلیلة، فقهیة أو عقدیة (ایمانیة)...[123]

کتاب (التوحید) اور کتاب (کشف الشبهات) یا اس کے علاوہ شیخ کی دیگر کتابیں اور رسالے ایک بشر کی لکھی ہوئی ہیں جو ممکن ہے خطا کرے یا حقیقت تک پہنچ جائے، ان کو فرشتہ یا رسول نے نہیں لکھا ہے؛ لہذا غلطی کرنا ایک معمولی بات نظر آرہی ہے اور شرعی اور عقلی طور بھی شیخ سے غلطی ہونے میں کوئی ممانعت نہیں ہے، چاہے وہ غلطیاں بڑی ہوں یا چھوٹی، زیادہ ہوں یا کم، فقہی ہوں یا عقیدتی اور ایمانی۔۔۔

وہ اہل بیت (علیهم السلام) کے ساتھ وہابی بزرگوں کی دشمنی کے بارے میں کہتا ہے:

ابن کثیر کان فیه نصب إلی حدّ کبیر، و الذهبی إلی حدّما،

امّا ابن تیمیة إلی حدّ لا ینکره باحث منصف، فاشتهر عنه

النصب وکتبه تشهد بذلک، ولذلک حاکمه علماء عصره

علی جملة أمور منها بغض علی، ولم یحاکموا غیره من

الحنابلة، مع انّ فیهم نصباً ورثوه عن ابن بطة و ابن حامد والبربهاری و ابن أبی یعلی وغیرهم. و التیار الشامی العثمانی له أثر بالغ علی الحیاة العلمیة عندنا فی الخلیج، وهذا من أسرار حساسیتنا من الثناء علی الإمام علی أو الحسین، ومیلنا الشدید لبنی امیة، فتنبّه!![124]

ابن کثیر ایسا شخص ہے جو بہت حد تک دل میں اہل بیت (علیهم السلام) دشمنی اور عداوت رکھتا تھا، اور کسی حد تک ذہبی بھی ایسا تھا۔ لیکن اہل بیت کے ساتھ ابن تیمیہ کی دشمنی اس قدر زیادہ تھی کہ انصاف کے ساتھ بحث کرنے والا اس سے انکار نہیں کر سکتا ہے، لہذا اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ناصبی ہے، اور اس کی کتابیں بھی اس بات پر گواہ ہیں، اسی وجہ سے اس کے ہم عصر علماء نے اس کو بعض امور  من جملہ بغض علی (علیہ السلام) کی وجہ سے اس کے خلاف کیس دائر کیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ دیگر حنابلہ کے خلاف کیس نہیں کیا ہے جبکہ وہ بھی دشمنی اور عداوت رکھتے تھے جو  ابن بطه، ابن حامد، بربهاری اور ابن ابی یعلی وغیرہ سے ارث میں ملی تھی، خلیج میں ہماری علمی زندگی پر شام کے عثمانی مکتب کا بڑا اثر ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم امام علی اور امام حسین کی مدح و ثنا کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں اور بنی امیہ کی جانب شدید رغبت رکھتے ہیں، پس خبردار ہوجاؤ۔

اسی طرح وہ کہتا ہے:

ثمّ تتابع علماء الشام کابن تیمیة و ابن کثیر و ابن القیم ـ و اشدّهم ابن تیمیة ـ علی التوجس من فضائل علی و اهل بیته، وتضعیف الأحادیث الصحیحة فی فضلهم، مع المبالغة فی مدح غیرهم!! وعلماء الشام ـ مع فضلهم ـ بشر لا ینجون من تأثیر البیئة الشامیة الّتی کانت اقوی من محاولات الإنصاف، خاصّة مع استئناس هؤلاء بالتراث الحنبلی...[125]

پھر علمائے شام ایک دوسروں کے پیچھے جیسے ابن تیمیہ، ابن کثیر، اور ابن قیم آئے، اور ان میں سے علی اور اس کے اہل بیت کے فضائل چھپانے اور انکے فضائل میں موجود صحیح روایات کو تضعیف کرنے میں سب سے سخت ابن تیمیہ ہے، جبکہ دوسروں کی مدح میں بہت مبالغہ کرتا ہے۔ شام کے علماء، با فضیلت ہونے کے باوجود ایسے بشر ہیں جو شام کے ماحول سے متاثر تھے، ایسا ماحول جو منصفانہ نہیں تھا۔ خاص طور یہ کہ وہ حنبلیوں کی میراث سے مانوس تھے۔۔۔

وہ کہتا ہے:

حُوکِمَ ابن تیمیة فی عصره علی بغض علی و اتّهمه مخالفوه من علماء عصره بالنفاق و اخطئوا فی ذلک و اتّهموه بالنصب و اصابوا فی کثیر من ذلک، لقوله: انّ علیاً قاتل للرئاسة لا للدیانة، و زعمه انّ اسلام علی مشکّک فیه لصغر سنه و انّ تواتر إسلام معاویة ویزید بن معاویة أعظم من تواتر إسلام علی!! و انّه کان مخذولا، وغیر ذلک من الشناعات التی بقی منها مابقی فی کتابه منهاج السنة. و ان لم تکن هذه الأقوال نصباً فلیس فی الدنیا نصب.[126]

ابن تیمیہ پر اس کی زندگی میں علی (علیہ السلام ) کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے کیس ہوا اور اس کے ہم عصر علماء نے اس پر منافقت کی تہمت لگائی۔ لیکن اس میں غلطی کی اور اس پر اہل بیت (علیہم السلام) کی دشمنی کی تہمت لگائی اور بہت سارے موارد میں حقیقت تک پہنچ گئے؛ کیونکہ وہ کہتا ہے؛ علی نے ریاست کے لیے جنگ کی نہ دین کے لیے۔ اور اس کا یہ گمان کہ علی کا اسلام مشکوک ہے کیونکہ وہ ایک کم سن بچہ تھا، اور معاویہ اور یزید بن معاویہ کے اسلام کا تواتر علی کے اسلام کے تواتر سے اہم تھا، اور یہ کہ علی خوار ہوگئے ہیں، اور دیگر نازیبا اور پست باتیں جو اسکی “منهاج السنة” نام کی کتاب میں موجود ہیں۔ اگر یہ باتیں حضرت علی کے ساتھ دشمنی شمار نہیں ہوتی ہیں تو پھر دنیا میں کوئی دشمن نہیں ہے۔

  1. محمّد ناصرالدین البانی، سلفی (م1420ه‍. ق)

وہ حدیث غدیر کے بارے میں کہتا ہے:

فمن العجیب حقاً ان یتجرأ شیخ الإسلام ابن تیمیة علی انکار هذا الحدیث وتکذیبه فی (منهاج السنة) کما فعل بالحدیث المتقدم هناک...[127]

حقیقت میں تعجب کی بات ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے جرئت کی ہے اور (منهاج السنة) میں اس حدیث کا انکار کیا ہے اور تکذیب کی ہے جیسا کہ گذشتہ حدیث کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا ہے۔۔۔۔

اسی طرح حدیث غدیر کے بارے میں کہتا ہے:

فقد کان الدافع لتحریر الکلام علی الحدیث وبیان صحته انّنی رأیت شیخ الإسلام ابن تیمیة، قد ضعّف الشطر الأول من الحدیث، وأمّا الشطر الآخر فزعم انّه کذب، وهذا من مبالغاته الناتجة فی تقدیری من تسرعه فی تضعیف الأحادیث قبل أن یجمع طرقها ویدقق النظر فیها. والله المستعان.[128]

اس حدیث کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرنے اور اسکے صحیح ہونے کو بیان کرنے کی وجہ یہ تھی کہ میں نے مشاہدہ کیا کہ ابن تیمیہ نے اس حدیث کے پہلے حصہ کو تضعیف کیا ہے اور آخری حصہ کے بارے میں گمان کیا ہے کہ جھوٹ ہے، اور اس عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ میری نظر میں وہ احادیث کی تضعیف میں بہت سرعت اور عجلت سے کام لیتا ہے، حدیث کے طرق کو جمع کرنے اور اس میں دقت کرنے سے پہلے اظہار نظر کرتا ہے۔ اور اللہ ہی اس کا ناصر ہے۔

وہ حدیث ولایت کی سند صحیح قرار دینے کے بعد کہتا ہے:

هذا کلّه من بیان شیخ الإسلام وهو قوی متین کما تری، فلا أدری بعد ذلک وجه تکذیبه للحدیث إلاّ التسرع والمبالغة فی الردّ علی الشیعة، غفر الله لنا وله.[129]

یہ سارا ابن تیمیہ کا بیان تھا اور یہ بیان قوی اور متین ہے، لیکن مجھ نہیں معلوم اس نے اس حدیث کی تکذیب کیوں کی ہے، اور میری نظر میں اسکی وجہ فقط یہ تھی کہ وہ شیعوں کی رد میں عجلت سے کام لیتا ہے اور مبالغہ کرتا تھا، اللہ تعالی ہمیں اور اس کو بخش دے۔

  1. محمّد بن علوی مالکی

وہ بہت عرصے سے سعودی عرب اور مکہ مکرمہ میں ساکن تھے اور مسجد الحرام میں تدریس کرتے تھے اور علم حدیث، فقہ اور تاریخ میں ماہر تھے اور تقریبا تین سال ہوا ہے کہ فوت ہوگئے ہیں۔ وہ ایک سنی عالم دین تھے اور سعودی عرب میں وہابیوں کی مخالفت کا پرچم بلند کیا اور اپنی باتوں اور کتابوں کے ذریعے وہابیوں کے انحرافات کا مقابلہ کیا۔ اس کی کتابیں سعودی عرب اور دنیا بھر میں شائع ہونے کے بعد وہابیوں نے اس کے خلاف کیس کیا اور عدالت نے سزائے موت دینے کا حکم دیا۔  لیکن اس نے دعوی کیا کہ وہابیوں کے بزرگوں کے ساتھ بحث کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس نے وہابیوں کے ساتھ بہت دفعہ بحث کرنے کے بعد انکو ہرا دیا۔ بنابریں وہابی مجبور ہوگئے کہ انکی سزائے موت کا حکم واپس لے لیں اور یہ دعوی کریں کہ اس کے ساتھ ہمارا اختلاف اجتہادی ہے اور فہم میں اختلاف ہے۔

اس طرح اس کو رہا کر دیا لیکن اس کے درس اور تدریس اور اسکے شاگردوں کو زیر نظر رکھا۔ وہابیوں کے افکار، مبانی، عقائد اور فتاوی کی رد میں انکی کئی کتابیں ہیں جو انصاف سے کہوں تو علمی اور قابل استفادہ ہیں۔ وہ کتاب “التحذیر من المجازفة بالتکفیر” میں لکھتا ہے:

لقد ابتلینا بجماعة تخصصت فی توزیع الکفر والشرک واصدار الأحکام بالقاب وأوصاف لا یصحّ ولا یلیق ان تُطلق علی مسلم یشهد أن لا إله إلاّ إلله وأنّ محمّداً رسول الله، کقول بعضهم فیمن یختلف فی الرأی و المذهب معه: محرف... دجّال... مُشعوذ... مبتدع... وفی النهایة: مشرک... وکافر...

ولقد سمعنا کثیراً من السفهاء الذین ینسبون انفسهم إلی العقیدة یکیلون مثل هذه الألفاظ جُزافاً، و یزید بعض جهلتهم بقوله: داعیة الشرک والضلال فی هذه الأزمان، ومجدّد ملّة عمرو بن لحّی المدعو بفلان... هکذا نسمع بعض السفهاء یکیل مثل هذا السب والشتم وبمثل هذه الألفاظ القبیحة الّتی لا تصدر إلاّ عن السوقة الذین لم یجیدوا اسلوب الدعوة وطریقة الأدب فی النقاش...[130]

ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑا ہے جو کفر و شرک تقسیم کرنے اور غلط القابات اور اوصاف کے ساتھ احکام صادر کرنے میں ماہر ہیں، ایسے اوصاف توحید اور پیغمبر اسلام (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی نبوت کی گواہی دینے والے مسلمان کے لیے مناسب نہیں ہیں، جیسا کہ ان میں سے بعض افراد اپنی رائے اور مذہب کے مخالف افراد کو تحریف کرنے والا۔۔۔ دجال۔۔۔ شعبدہ باز۔۔۔ بدعتی۔۔۔ بالآخر مشرک۔۔۔ اور کافر کہتے ہیں۔۔۔

اپنے آپ کو عقیدہ سے منسوب کرنے والے بہت سارے احمقوں سے ہم نے سنا ہے کہ کس طرح بغیر سوچے سمجھے ان الفاظ کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ حتی ان کے بعض جاہل مزید آگے بڑھتے ہیں اور ( اس زمانے میں شرک اور گمراہی کی دعوت دینے والا ، عمرو بن لحی کے دین کو دوبارہ زندہ کرنے والا جو فلاں لقب سے پکارا جاتا ہے۔۔۔) جیسے عنوانات سے پکارتے ہیں۔۔۔

بعض احمقوں سے ہم اس طرح سنتے ہیں کہ کثرت سے اس طرح کی گالیاں، فحاشی، اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں، ایسے الفاظ جو صرف پست اور بازاری افراد کے منہ سے نکلتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو بحث اور گفتگو کے اسلوب اور دعوت کی روش اور آداب سے نا آشنا ہیں۔۔۔

وہ “الزیارة النبویة بین الشرعیة و البدعیة” نام کی اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھتا ہے:

انّه قد ظهر فی موسم الحجّ هذا العام (1419) کتاب أساء إلی المسلمین وکدّر علیهم صفوهم وهم فی زیارة رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، فکان أکبر ایذاء لهم وجرح لشعورهم، وهم حجاج زوار قاصدون وجه الله سبحانه و تعالی؛ إذ یقول هذا المتعدی: انّ زیارة رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) بعد موته مفسدة راجحة لا خیر فیها، فأزعجنا هذا الإفتراء والتعدی وسوء الأدب علی مقام رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، لذلک احببت ان اشارک بهذه الرسالة فی الدفاع عن مقام رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و الذبّ عنه، و هو اقل ما یقدمه الحبیب لحبیبه و المؤمن لنبیه، و هو لیس غلواً ممقوتاً...[131]

اس سال 1419 کو حج کے موسم میں وہابیوں کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی جس میں مسلمانوں کی توہین کی گئی اور انکو پریشان کر دیا جبکہ وہ رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت میں مشغول تھے۔ اور یہ مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی اور دکھ کی بات تھی اور انکے شعور پر حملہ تھا، جبکہ وہ حاجی اور زائرین تھے، اللہ سبحانہ و تعالی کا تقرب چاہتے تھے؛ جب اس کتاب لکھنے والے متجاوز نے کہا: رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی موت کے بعد اسکی زیارت کرنا نقصاندہ ہے اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ رسول خدا کی یہ اہانت بے اور اس کی شان میں اس بے ادبی نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ لہذا میں چاہتا تھا کہ اس رسالہ کو تالیف کر کے مقام رسول خدا کے دفاع میں شریک ہوجاؤں۔ اور یہ ادنی سا کام ہے جسے ایک دوست اپنے محبوب کے لیے اور ایک مومن اپنے پیغمبر کے لیے انجام دے سکتا ہے، اور یہ کام ناپسندیدہ غلو میں سے نہیں ہے۔۔۔

وہابیوں کے خلاف محمّد بن علوی کی لکھی ہوئی کتابیں درج ذیل ہیں:

الف) “مفاهیم یجب ان تصحح”؛

ب) “منهج السلف فی فهم النصوص”؛

ج) “الزیارة النبویة بین الشرعیة و البدعیة”؛

د) “الغلو”؛

ه‍) “شفاء الفؤاد بزیارة خیر العباد”؛

و) “رسالة عن ادلة مشروعیة المولد النبوی”؛

ز) تعلیقه بر کتاب “المولد النبوی”، از “حافظ ابن بدیع”؛

ح) تعلیقه بر کتاب “المولد النبوی”، از “حافظ ملاّ علی قاری”؛

ط) “هو الله”؛

ی) “التحذیر من المجازفة بالتکفیر”.

 

[105] . اخطاء ابن تیمیة، دکتر محمود سید صبیح، ص 6.

[106] . اخطاء ابن تیمیة، ص 69.

[107] . اخطاء ابن تیمیة، ص 123.

[108] . السلفیة، مرحلة زمنیة، بوطی، ص 186.

[109] . فقه السیرة النبویة، بوطی، ص560.

[110] . نقض قواعد التشبیه، دکتر عمر عبدالله کامل، ص 8.

[111] . کلمة هادئة فی الزیارة و شدّ الرحال، دکتر عمر عبدالله کامل، ص 44.

[112] . ادلة اهل السنة و الجماعة، ص 5.

[113] . الإفهام و الإفحام، ص 150.

[114] . نقض الرسالة التدمریة، سعید فوده، ص 6.

[115] . فضل الذاکرین و الردّ علی المنکرین، ص 23.

[116] . صحیفة الوطن الکویتیة، تاریخ 29 آگوست 2004م.

[117] . سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 485.

[118] . الافهام و الإفحام، محمّد زکی ابراهیم، ص 7.

[119] . المقالات السنیة، حبشی، ص 206.

[120] . تصحیح المفاهیم العقدیة، دکتر عیسی حمیری، ص 131.

[121] . تصحیح المفاهیم العقدیة، ص 135.

[122] . مجله المجلّة، شماره 1082، سال 11 / 11/2000م، تحت عنوان: "قراءة فی التحولات السنیة للشیعة.

[123] . داعیة و لیس نبیاً، ص 3.

[124] . داعیة و لیس نبیاً، صص 64 و 65.

[125] . داعیة و لیس نبیاً، ص 176.

[126] . قرائة فی کتب العقائد، حسن مالکی، ص 176.

[127] . سلسلة الأحادیث الصحیحة، البانی، ج 5، ص 263.

[128] . همان، ج 4، ص 344.

[129] . سلسلة الاحادیث الصحیحة، ح2223.

[130] . التحذیر من المجازفة بالتکفیر، محمد بن علوی مالکی، صص 8 ـ 9.

[131] . الزیارة النبویة، ص 2.

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ