اندراج کی تاریخ  11/10/2020
کل مشاہدات  178

 

﴿ 28 صفر المظفر شہادتِ حضرت امام حسنؑ ﴾

امام حسنؑ کو کس نے شہید کیا....!

میری تحریر میں اہم حقائق پڑھیں.

پیر صاحب کی بات سو فیصد درست ہے کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہمارے علماء منبروں پر بیٹھ کر جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے ہیں امام حسنؓ کے قاتل کا کوئی پتہ نہیں کس نے ان کو شہید کیا.

حالانکہ ہمارے آئمہ اہلسنت صدیوں پہلے سے اصل حقائق لکھتے چلے آئے ہیں کہ امام حسنؓ کو کس نے شہید کیا ہے.

حضرت سید نصیر الدین نصیرؒ نے اصل حقائق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل حوالہ جات بھی تحریر کر دیے تاکہ لوگ خود کتب کھول کر چیک لیں کہ امام حسنؑ کی شہادت کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا.

میں نے جب پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کے دیے ہوئے حوالہ جات کو چیک کیا تو دھنگ رہ گیا کیوں اہلسنت کی ان نامور کتب میں امام حسنؓ کو شہید کرنے والے کا واضع نام موجود تھا.

میں تمام حقائق حرف بے حرف آپ کے سامنے رکھتا ہوں میری طرف سے دیانت کا حق ادا ہو سکے.

اہلسنت کے نامور 20 آئمہ کی کتب سے حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں کہ امام حسنؑ کو معاویہ نے زہر دلوا کر شہید کیا.

امام اہلسنت امام ابن اعثم شافعی نے كتاب الفتوح میں لکھا ہے کہ؛

سمعنا من الثقات أنه حين قرر معاوية بن أبي سفيان أن يجعل ولده يزيدا ولي عهده، مع علمه بأن هذا الأمر صعب المنال نظر لأن الصلح الذي أبرم بينه و بين الحسن بن علي كان من بين شروطه أن يترك معاوية أمر المسلمين شوري بينهم بعد وفاته. لذلك سعي في موت الحسن بكل جهده، و أرسل مروان بن الحكم (طريد النبي صلي الله عليه و آله وسلم) إلي المدينة و أعطاه منديلا مسموما و أمره بأن يوصله إلي زوجة الحسن جعدة بنت الأشعث بن قيس بما استطاع من الحيل لكي تجعل الحسن يستعمل ذلك المنديل المسموم بعد قضاء حاجته و أن يتعهد لها بمبلغ خمسين ألف درهم و يزوجها من ابنه. فذهب مروان تنفيذا لأمر معاوية و استفرغ جهده حتي خدع زوجة الحسن و نفذت المؤامرة و علي إثر ذلك انتقل الحسن إلي دار السلام و اغترت جعدة بمواعيد مروان و أقدمت علي تلك الجريمة الشنعاء.

میں نے ثقہ (سچے نیک) افراد سے سنا ہے کہ معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین بنانے کا ارادہ کیا حالانکہ وہ خود جانتا تھا کہ یہ کام ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اس نے صلح نامے میں امام حسن کو وعدہ دیا تھا کہ وہ اپنے بعد کسی کو جانشین نہیں بنائے گا۔ اس لیے اس نے پوری کوشش شروع کر دی کہ امام حسن کو قتل کر دے اسی غرض سے معاویہ نے مروان ابن حکم کو مدینہ روانہ کیا اور معاویہ نے اسے ایک زہر آلود رومال دیا اور کہا کہ جیسے بھی ہو جعدہ بنت اشعث کو راضی کرو کہ وہ اس رومال کے ذریعے امام حسن کے وجود کو اس دنیا سے ختم کر دے اور اس سے کہو کہ اگر تم نے مہم کام کو انجام دیا تو میں تم کو 50 ہزار درہم دوں گا اور بہت جلد تمہاری شادی یزید سے کروں گا۔ مروان جلدی سے مدینہ گیا اور آخر کار اس نے بہت ہی حیلے اور بہانوں سے جعدہ کو اس کام کے کرنے پر راضی کر لیا۔ جعدہ نے معاویہ اور مروان کے کہنے پر اس گناہ کو انجام دیا اور امام کو زہر دے کر شہید کر دیا۔

 ( الكوفي، أبي محمد أحمد بن أعثم (متوفی314هـ)، كتاب الفتوح، ج 4، ص 319، تحقيق: علي شيري (ماجستر في التاريخ الإسلامي)، ناشر: دار الأضواء للطباعة و النشر و التوزيع ـ بيروت، )

امام اہلسنت امام ابن سعد نے ""الطبقات الكبری"" نقل کیا ہے کہ:

امام اہلسنت اولاد ابوبکرؓ امام سبط ابن جوزی حنفی نے امام حسن کی وفات کے سبب کے بارے میں علمائے اہل سنت کے ایک گروہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

قال علماء السير: منهم ابن عبد البر سمته زوجته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي.

وقال الشعبي: إنما دس اليها معاوية فقال سمي الحسن وأزوجك يزيد وأعطيك مائة الف درهم فلما مات الحسن بعث الي معاوية تطلب انجاز الوعده فبعث اليها بالمال وقال: إني احب يزيد وأرجو حياته لولا ذلك لزوجتك اياه.

وقال الشعبي: و مصداق هذا القول أن الحسن كان يقول عند موته و قد بلغه ما صنع معاوية لقد عملت شربته و بلغ امنيته و الله لا يفي بما وعد و لا يصدق فيما يقول.

و قد حكي جدي في كتاب الصفوة قال: ذكر يعقوب بن سفيان في تاريخ أن جعدة التي سمته و قال الشاعر في ذلك:

تغر فكم لك من سلوة تفرح عنك غليل الحزن

بموت النبي و قتل الوصي و قتل الحسين وسم الحسن

و قال ابن سعد في الطبقات: سمه معاوية مرارا لأنه كان يقدم عليه الشام هو و أخوه الحسين:

تاریخ کے علماء اور امام ابن عبد البر نے کہا ہے کہ: جعدہ بنت اشعث بن قیس نے امام حسن کو زہر دیا تھا۔

امام شعبی نے کہا ہے کہ: معاویہ نے جعدہ کو پیغام دیا کہ حسن کو مسموم کرو تو یزید کی شادی تم سے کروں گا اور ایک لاکھ درہم بھی تم کو دوں گا۔ جب اس نے امام کو شہید کر دیا تو اس نے معاویہ سے کہا کہ اب اپنا وعدہ پورا کرو، معاویہ نے ایک لاکھ درہم اس کے لیے بھجوایا اور پیغام دیا کہ میں یزید سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ سالہا سال زندہ رہے اگر ایسا نہ ہوتا تو یزید کی شادی تم سے ضرور کرتا۔

امام شعبی نے کہا ہے کہ: امام حسن نے مرتے وقت جعدہ سے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ تم نے کس کے کہنے پر مجھے زہر دیا ہے، اس کی تو آرزو پوری ہو گئی ہے لیکن خدا کی قسم اس نے تمہیں جو وعدے دیئے ہیں وہ ان کو پورا نہیں کرے گا۔..میرے دادا ابن جوزی حنبلی نے اپنی کتاب الصفوۃ میں کہا ہے کہ امام یعقوب بن سفیان نے اپنی تاریخ میں کہا ہے کہ جعدہ وہ ہے کہ جس نے امام حسن کو زہر دیا اور شاعر نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ:

اے دنیا تم دھوکہ دیتی ہو اور تم کتنی میٹھی ہو کہ سب لوگوں کو دھوکہ دیتی ہو!

تمام غموں کے با وجود پھر بھی تم لوگوں کو آپس میں خوش رکھتی ہو!

وہ غم کہ جو رسول خدا کی وفات ان کے وصی و حسین کی شہادت اور حسن کے مسموم ہونے کا تھا۔

امام ابن سعد نے الطبقات الکبری میں کہا ہے کہ: معاویہ نے امام حسن ع کو کئی بار زہر دیا کیونکہ وہ معاویہ کے پاس شام آنا چاہتے تھے۔

 ( امام سبط بن الجوزی الحنفی، شمس الدين أبو المظفر يوسف بن فرغلی بن عبد الله البغدادی ، تذكرة الخواص، ص191ـ 192، ناشر: مؤسسة أهل البيت ـ بيروت، )

امام اہلسنت سعدی خزرجیؒ نے واضح کہا ہے کہ امام ابن جریر الطبری نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے کہ معاویہ نے جعدہ کے لیے زہر بھیجا اور اس سے کہا کہ امام حسن کو شہید کر دو:

و في تاريخ الطبري أن الحسن بن علي رضي الله عنهما مات مسموما في أيام معاوية و كان عند معاوية كما قيل دهاء فدس إلي جعدة بنت الأشعث بن قيس و كانت زوجة الحسن رضي الله عنه شربة و قال لها إن قتلت الحسن زوجتك بيزيد۔ فلما توفي الحسن بعثت إلي معاوية تطلب قوله فقال لها في الجواب أنا أضن بيزيد.

تاریخ طبری میں آیا ہے کہ حسن ابن علی معاویہ کی حکومت میں زہر سے شہید ہوئے، معاویہ نے جعدہ کو پیغام دیا کہ حسن کو مسموم کرو تو یزید کی شادی تم سے کروں گا اور ایک لاکھ درہم بھی تم کو دوں گا۔ جب اس نے امام کو شہید کر دیا تو اس نے معاویہ سے کہا کہ اب اپنا وعدہ پورا کرو، معاویہ نے پیغام دیا کہ میں یزید سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ سالہا سال زندہ رہے۔

 ( السعدي الخزرجي، موفق الدين أبي العباس أحمد بن القاسم بن خليفة بن يونس ، عيون الأنباء في طبقات الأطباء، ج1، ص174، تحقيق: الدكتور نزار رضا، ناشر: دار مكتبة الحياة - بيروت. )

امام اہلسنت امام قرطبی حنفی متوفی 550هـ نے كتاب التعريف بالأنساب میں لکھا ہے کہ:

و مات الحسن مسموما سمته زوجته بنت الأشعث الكندية دسه إليها معاوية.

حسن مسموم دنیا سے گئے کہ ان کی بیوی نے معاویہ کے حکم ان کو زہر دیا تھا۔

 ( القرطبی الحنفی، أحمد بن محمد بن إبراهيم الأشعري (متوفی550هـ)، التعريف بالأنساب والتنويه بذوي الأحساب، ج1، ص3، )

ایک دوسری جگہ پر امام قرطبی لکھتے ہیں کہ:

قال: و قال أبو قتادة و أبو بكر بن حفص: سم الحسن ابن علي رضي الله عنهما: سمته امرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي. قال: و قالت طائفة كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها و ما بذل لها في ذلك، وكان لها ضرائر و أنه وعدها بخمسين ألف درهم، و أن يزوجها من يزيد، فلما فعلت وفي لها بالمال، و قال: حبنا ليزيد يمنعنا من الوفاء لك بالشرط الثانی۔

ابوقتاده اور أبوبكر بن حفص نے کہا ہے کہ امام حسن اپنی بیوی جعدہ بنت اشعث کے ہاتھوں مسموم ہوئے۔

اہلسنت کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ: یہ کام معاویہ کی سازش کی وجہ سے ہوا کیونکہ معاویہ امام کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ معاویہ نے اس کو وعدہ دیا کہ اگر یہ کام کرو گی تو میں تم کو 50 ہزار درہم دوں گا اور اپنے بیٹے یزید کی تم سے شادی کروں گا۔ جب جعدہ نے یہ کام انجام دے دیا تو معاویہ نے اس کو درہم تو دے دیئے اور کہا کہ مجھے یزید کی جان عزیز ہے اس لیے میں اس کی شادی تم سے نہیں کروں گا۔

 ( النويري،شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب(متوفی733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب،ج 20، ص201، تحقيق مفيد قمحية و جماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت )

امام اہلسنت امام مخشری نے اس بارے میں کہا ہے کہ:

جعل معاوية لجعدة بنت الأشعث امرأة الحسن مائة ألف حتي سمته، و مكث شهرين و إنه ليرفع من تحته كذا طستاً من دم. و كان يقول: سقيت السم مراراً ما أصابني فيها ما أصابني في هذه المرة، لقد لفظت كبدي فجعلت أقلبها بعود كان كان في يدي. و قد ورثته جعدة بأبيات منها:

يا جعد بكيه ولا تسأمي... بكاء حق ليس بالباطل

إنك لن ترخي علي مثله... سترك من حاف ولا ناعل

و خلف عليها رجل من قريش فأولدها غلاماً، فكان الصبيان يقولون له: يا ابن مسممة الأزواج.

 

معاویہ نے ایک لاکھ دینار امام حسن کی بیوی کو دیئے اور اس سے کہا کہ امام کو زہر دے دو، امام اس واقعے کے دو ماہ بعد زندہ رہے۔ زہر کا اتنا اثر ہوا کہ خون سے بھرا ہوا طشت بار بار امام کے سامنے سے اٹھا کر لے جاتے تھے۔ امام حسن(ع) فرماتے تھے کہ مجھے پہلے بھی چند مرتبہ زہر دیا گیا ہے لیکن کسی زہر نے اتنا اثر نہیں کیا جتنا کہ یہ کر رہا ہے۔ امام کے جگر کے ٹکڑے کٹ کٹ کر خون کے ساتھ باہر آتے تھے۔ میں نے جب اس حالت کو دیکھا تو کہا کہ اس بار زہر نے اپنا اثر دکھا دیا ہے۔

 پھر جعدہ نے قریش کے بندے سے شادی کی، اس کے گھر بیٹا ہوا، جب بھی اس دوسرے بچے اس بچے کو دیکھتے تھے تو اس سے کہتے تھے کہ: اے اس عورت کے بیٹے کہ جس نے اپنے شوہر کو زہر دیا تھا۔

( الزمخشري الخوارزمي، ابو القاسم محمود بن عمرو بن أحمد جار الله (متوفی538هـ)، ربيع الأبرار، ج1، ص438، )

 

امام اہلسنت امام بلاذری نے انساب الأشراف میں لکھا ہے کہ:

و قد قيل أن معاوية دس إلي جعدة بنت الأشعث بن قيس امرأة الحسن، و أرغبها حتي سمته و كانت شانئة له.

و قال الهيثم بن عدي: دس معاوية إلي ابنة سهيل بن عمرة امرأة الحسن مائة ألف دينار علي أن تسقيه شربة بعث بها إليها ففعلت.

کہا گیا ہے کہ معاویہ نے مخفی طور پر جعدہ بنت اشعث کو پیغام دیا کہ اور اس کو اتنا اصرار کیا کہ امام کو مسموم کرو، اس کا رابطہ امام سے ٹھیک نہیں تھا۔

ہيثم بن عدی نے کہا ہے کہ: معاویہ نے سازش کی اور سہیل ابن عمرۃ کی بیٹی کہ جو امام حسن کی بیوی تھی، سے کہا کہ اگر تم امام حسن کو زہر دو تو تم کو ایک لاکھ دینار دوں گا، اس نے بھی اس کام کو انجام دے دیا۔

 

( البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفی279هـ)، أنساب الأشراف، ج1، ص389، )

 

امام اہلسنت امام حمد نكری حنفی نے كتاب دستور العلماء میں لکھا ہے کہ:

 

و فی (حبيب السير) مكتوب أن مروان بن الحكم الذي كان حاكما للمدينة من قبل معاوية بن أبي سفيان قد أرسله معاوية و معه منديل ملطخ بالسم و قال له أن عليه بأي تدبير يستطيعه أن يخدع جعده بنت الأشعث بن قيس زوجة الحسن حتي تقدم بعدها علي إزالة وجود الحسن من هذه الدنيا بواسطة هذا المنديل، وقل لها عني أنها إذا أرسلت الحسن إلي العالم الآخر وأتمت المهمة فإن لها خمسين ألف درهم و أنها ستكون زوجا ليزيد. فأسرع مروان بن الحكم إلي المدينة ليقوم بما قاله معاوية و سعي جاهدا إلي خداع جعدة التي كان لقبها (أسماء) التي انطلت عليها الحيلة و نفذت ما قاله معاوية و دست السم للإمام الحسن عليه السلام الذي سري في جسده فنقل إلي دار السلام۔

کتاب حبیب السیر میں میں لکھا ہے کہ مروان ابن حکم معاویہ کی طرف سے مدینہ کا والی تھا۔ معاویہ نے اسے ایک زہر آلود رومال دیا اور کہا کہ جیسے بھی ہو جعدہ بنت اشعث کو راضی کرو کہ وہ اس رومال کے ذریعے امام حسن کے وجود کو اس دنیا سے ختم کر دے اور اس سے کہو کہ اگر تم نے مہم کام کو انجام دیا تو میں تم کو 50 ہزار درہم دوں گا اور بہت جلد تمہاری شادی یزید سے کروں گا۔ مروان جلدی سے مدینہ آیا  تا کہ معاویہ کے حکم پر عمل کر سکے۔

آخر کار مروان نے بہت ہی حیلے اور بہانوں سے جعدہ کو اس کام کے کرنے پر راضی کر لیا۔ جعدہ نے معاویہ اور مروان کے کہنے پر امام کو زہر دے کر شہید کر دیا۔

( الأحمد نكري، القاضي عبد النبي بن عبد الرسول الحنفي الهندي، دستور العلماء أو جامع العلوم في اصطلاحات الفنون، ج4، ص50، تحقيق: عرب عباراته الفارسية: حسن هاني فحص، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت )

امام اہلسنت شہاب الدين نويری نے اس شعر کی شرح میں کہ جو امام حسن کے بارے میں لکھا گیا ہے، کہا ہے کہ:

 

وفي ابن هندٍ وفي ابن المصطفي حسنٍ أتت بمعضلة الألباب و الفكر۔

فبعضنا قائلٌ ما اغتاله أحدٌ و بعضنا ساكتٌ لم يؤت من حصر

ابن هند الذي أشار إليه هو معاوية بن أبي سفيان، أراد ما كان بينه و بين الحسن بن علي في أمر الخلافة. و أراد بالبيت الثاني ما وقع الاختلاف فيه من أن الحسن مات مسموماً و أن معاوية وعد زوجة الحسن جعدة بنت قيسٍ الكندي بمائة ألف درهمٍ و يزوجها لابنه يزيد إن قتلت الحسن، ففعلت و سمته. و لما مات الحسن وفي لها بالمال و قال: حب حياة يزيد منعني تزويجه منک۔

 

مصطفی(ص) کے بیٹے حسن اور ھند کے بیٹے معاویہ کے بارے میں ضرب المثل ہے کہ جس نے عقل اور فکر کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

بعض رائے ہے کہ کسی نے اس کو قتل نہیں کیا! بعض نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا اور بعض نے اپنی حتمی رائے کو بیان نہیں کیا۔

ہند کا بیٹا معاویہ ہے اور مسائل سے مراد وہ مسائل ہیں کہ جو خلافت کے بارے میں اس اور امام حسن کے درمیان پیش آئے تھے۔

دوسرے شعر میں اس بارے میں اختلاف کا ذکر ہے کہ امام حسن کو ان کی بیوی نے زہر دے کر معاویہ کے حکم سے شہید کیا اور معاویہ نے اس کو وعدہ دیا کہ اگر یہ کام کرو گی تو میں تم کو 50 ہزار درہم دوں گا اور اپنے بیٹے یزید کی تم سے شادی کروں گا۔ جب جعدہ نے یہ کام انجام دے دیا تو معاویہ نے اس کو درہم تو دے دیئے اور کہا کہ مجھے یزید کی جان عزیز ہے اس لیے میں اس کی شادی تم سے نہیں کروں گا۔

 

 ( النويري،شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب(متوفی733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب،ج 5، ص193، تحقيق مفيد قمحية و جماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، )

امام اہلسنت امام بوالفرج اصفہانی نے كتاب مقاتل الطالبين ميں لکھا ہے کہ:

 

و دس معاوية إليه حين أراد أن يعهد إلي يزيد بعده، و إلي سعد بن أبي وقاص سماً فماتا منه في أيام متقاربة. و كان الذي تولي ذلك من الحسن زوجته " جعدة " بنت الأشعث بن قيس لمال بذله لها معاوية. و سنذكر الخبر في ذلک۔

جب معاویہ نے اپنے بعد خلافت کے لیے یزید کو انتخاب کرنا چاہا تو اس کے لیے لوگوں سے بیعت لینے کا ارادہ کیا تو اس نے امام حسن اور سعد بن ابی وقاص کے لیے ایک سازش کی اور مخفی طور پر ان کے لیے زہر کو بھیجا۔ اسی لیے ہر دو چند دن کے فاصلے پر فوت ہوئے ہیں۔ امام حسن کو زہر دینے کا ذمہ امام کی بیوی جعدہ نے لیا کیونکہ اس نے اس کام کے کرنے کے لیے معاویہ سے پیسے لیے تھے۔

( الاصفهاني، مقاتل الطالبيين، اسم المؤلف: أبو الفرج علي بن الحسين (متوفی356هـ)، مقاتل الطالبين، ج1، ص13، شرح حال حسن بن علی )

امام صاحب نے اس روایت کے آخر میں نقل کیا ہے کہ:

عن مغيرة، قال: أرسل معاوية إلي ابنة الأشعث إني مزوجك بيزيد ابني، علي أن تسمي الحسن بن علي، و بعث إليها بمائة ألف درهم، فقبلت و سمت الحسن، فسوغها المال و لم يزوجها منه، فخلف عليها رجل من آل طلحة فأولدها، فكان إذا وقع بينهم و بين بطون قريش كلام عيروهم، و قالوا: يا بني مسمة الأزواج۔

مغیرہ سے روایت ہے کہ معاویہ نے جعدہ کو پیغام دیا کہ حسن کو مسموم کرو تو یزید کی شادی تم سے کروں گا اور ایک لاکھ درہم بھی تم کو دوں گا۔ جب اس نے امام کو شہید کر دیا تو اس نے معاویہ سے کہا کہ اب اپنا وعدہ پورا کرو، معاویہ نے اس کے لیے ایک لاکھ دہم بھیجے اور پیغام دیا کہ میں یزید سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ سالہا سال زندہ رہے ۔ اس لیے میں اسکی شادی تم سے نہیں کروں گا۔

 پھر جعدہ نے خاندان طلحہ کے ایک بندے سے شادی کی، اس کے گھر بیٹا ہوا، جب بھی اس کے بیٹوں اور قریش کے دوسرے لوگوں کے درمیان کوئی بات ہوتی تو وہ اس سے کہتے تھے کہ: اے اس عورت کے بیٹے کہ جس نے اپنے شوہر کو زہر دیا تھا۔

  ابو الفرج الاصفهاني، مقاتل الطالبيين، (متوفی356هـ)، مقاتل الطالبين، ج1، ص20، باب رجع الحديث الي خبر الحسن

 

امام اہلسنت امام نصاری تلمستانی نے لکھا ہے کہ:

و مات الحسن، رضي الله عنه، مسموما يُقال إن امرأته " جَعْدة " بنت الأشعث بن قيس سمَّته. دَسَّ إليها معاوية أن تسمَّه فإذا مات أعطاها أربعين ألفا، و زوَّجها من يزيد فلما مات الحسن وفَّي لها بالمال و قال لها: حاجة هذا ما صنعت بابن فاطمة، فكيف تصنع بابن معاوية؟ فخسرت و ما ربحت۔

حسن(ع) مسموم دنیا سے گئے اور کہا گیا ہے کہ امام کی بیوی نے جعدہ بنت اشعث بن قیس نے امام کو زہر دیا تھا۔ معاویہ نے مخفی طور پر اس کو پیغام دیا کہ اگر تم امام حسن کو شہید کرو تو میں تم کو 40 ہزار درہم دوں گا اور تمہاری شادی یزید سے کروں گا۔ جب اس نے امام کو شہید کیا تو معاویہ نے اسے درہم تو دیئے لیکن اس سے کہا کہ جب تم نے فاطمہ کے بیٹے کے ساتھ یہ کیا ہے تو تم میرے بیٹے یزید کے ساتھ کیا کرو گی۔ پس جعدہ نے اپنا نقصان کیا اور اسکو کچھ حاصل بھی نہیں ہوا۔

( الانصاري التلمساني، محمد بن أبي بكر المعروف بالبري (متوفی644هـ) الجوهرة في نسب النبي وأصحابه العشرة، ج1، ص282. )

 

امام اہلسنت امام ابن عبد البر قرطبی نے لکھا ہے کہ:

 

و قال قتادة و أبو بكر بن حفص سم الحسن بن علي سمته إمرأته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي.

و قالت طائفة كان ذلك منها بتدسيس معاوية إليها و ما بذل لها من ذلک و كان لها ضرائر و الله أعلم.

ابوقتاده اور ابوبكر بن حفص نے کہا ہے کہ امام حسن اپنی بیوی جعدہ بنت اشعث کے ہاتھوں مسموم ہوئے اہلسنت کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ: یہ کام معاویہ نے جعدہ کے ساتھ سازش کی تھی اور اسکو یہ کام کرنے پر مال بھی دیا تھا۔ اس کے علاوہ معاویہ کی چند بیویاں تھیں کہ شاید انھوں نے معاویہ کو یہ کام کرنے کا کہا تھا۔

( النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفی 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج1، ص389، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، )

 

امام اہلسنت امام مسعودی شافعی نے لکھا ہے کہ:

 

و ذكر أن امرأته جَعْدة بنت الأشعث بن قيس الكندي سقته السم، و قد كان معاوية دسَّ إليها: إنك إن احتلْتِ في قتل الحسن وَجَّهت إليك بمائة ألف درهم، و زوَّجتك من يزيد، فكان ذلك الذي بعثها علي سَمّه، فلما مات وَفَي لها معاوية بالمال، و أرسل إليها: إنا نحب حياة يزيد، و لولا ذلك لوفينا لك بتزويجه.

جعده بنت اشعث بن قيس کہ جو امام حسن کی بیوی تھی۔ اس نے امام کو معاویہ کے کہنے پر زہر دیا کیونکہ معاویہ نے جعدہ کو پیغام دیا کہ حسن کو مسموم کرو تو یزید کی شادی تم سے کروں گا اور ایک لاکھ درہم بھی تم کو دوں گا۔ جب اس نے امام کو شہید کر دیا تو اس نے معاویہ سے کہا کہ اب اپنا وعدہ پورا کرو، معاویہ نے اس کے لیے ایک لاکھ دہم بھیجے اور پیغام دیا کہ میں یزید سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ سالہا سال زندہ رہے ۔ اس لیے میں اسکی شادی تم سے نہیں کروں گا۔

( المسعودي، ابوالحسن علي بن الحسين بن علي (متوفی346هـ) مروج الذهب، ج1، ص346، باب ذكر خلافة الحسن بن علي بن أبي طالب، )

امام اہلسنت امام ابی الحديد شافعی نے لکھا ہے کہ:

قال أبو الحسن المدائني: و كانت وفاته في سنة تسع و أربعين، و كان مرضه أربعين يوما، و كانت سنه سبعا و أربعين سنة، دس إليه معاوية سما علي يد جعدة بنت الأشعث ابن قيس زوجة الحسن، و قال لها: إن قتلتيه بالسم فلک مائة ألف، و أزوجك يزيد ابني. فلما مات وفي لها بالمال، و لم يزوجها من يزيد. قال: أخشي أن تصنع بابني كما صنعت بابن رسول الله صلي الله عليه و سلم.

امام حسن سن 49 ہج کو شہید ہوئے اور وہ 40 دن مریض رہے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 47 سال تھی۔ معاویہ نے سازش کی اور جعده بنت اشعث بن قيس کہ جو امام حسن کی بیوی تھی۔ اس نے امام  کو معاویہ کے کہنے پر زہر دیا کیونکہ معاویہ نے جعدہ کو پیغام دیا کہ حسن کو مسموم کرو تو یزید کی شادی تم سے کروں گا اور ایک لاکھ درہم بھی تم کو دوں گا۔ جب اس نے امام کو شہید کر دیا تو اس نے معاویہ سے کہا کہ اب اپنا وعدہ پورا کرو، معاویہ نے اس کے لیے ایک لاکھ دہم بھیجے اور پیغام دیا کہ میں یزید سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ تم نے جو کام رسول خدا کے بیٹے کے ساتھ کیا ہے کہیں وہی کام میرے بیٹے کے ساتھ بھی نہ کرو۔

( ابن أبي الحديد المدائني المعتزلي، ابو حامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفی655 هـ)، شرح نهج البلاغة، ج16، ص7، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت )

امام اہلسنت امام طہرا بن طاہر مقدسی نے لکھا ہے کہ:

و قال آخرون أن معاوية دس إلي جعدة بنت الأشعث بن قيس بأن تسم الحسن و يزوجها يزيد فسمته و قتلته فقال لها معاوية إن يزيد منا بمكان و كيف يصلح له من لا يصلح لابن رسول الله و عوضها منه مائة ألف درهم.

معاویہ نے مخفی طور پر جعدہ کو پیغام دیا کہ حسن کو مسموم کرو تو یزید کی شادی تم سے کروں گا اور ایک لاکھ درہم بھی تم کو دوں گا۔ جب اس نے امام کو شہید کر دیا تو اس نے معاویہ سے کہا کہ اب اپنا وعدہ پورا کرو، معاویہ نے اس کے لیے ایک لاکھ دہم بھیجے اور پیغام دیا کہ میں یزید سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور وہ چیز جو رسول خدا کے بیٹے کے لیے جائز نہیں تھی، کیسے میرے بیٹے کے لیے جائز ہو گی۔

( المقدسي، مطهر بن طاهر (متوفی507 هـ)، البدء و التاريخ، ج6، ص5، ناشر: مكتبة الثقافة الدينية – بور سعيد. )

 

امام اہلسنت امام ابو الفداء لکھتے ہیں کہ

و توفي الحسن من سم سقته زوجته جعدة بنت الأشعث، قيل فعلت ذلك بأمر معاوية،، و وعدها أنه يتزوجها إِن فعلت ذلك، فسقته السم و طالبت يزيد أن يتزوجها فأبی.

 

حسن(ع) مسموم دنیا سے گئے اور کہا گیا ہے کہ امام کی بیوی نے جعدہ بنت اشعث بن قیس نے امام کو زہر دیا تھا۔

بعض نے کہا ہے کہ جعدہ نے یہ کام معاویہ کے کہنے پر کیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ اگر تم یہ کام کرو گی تو میں سے شادی کروں گا۔ جب جعدہ نے امام کو قتل کر دیا تو اس نے یزید سے کہا کہ اب اپنا وعدہ پورا لیکن یزید نے اسکی بات نہ مانی اور اس سے شادی نہیں کی۔

( ابو الفداء عماد الدين إسماعيل بن علي (متوفی732هـ)، المختصر في أخبار البشر، ج1، ص127،)

 

امام اہلسنت امام ذہبی نے واقدی سے نقل کیا ہے کہ:

و قد سمعت بعض من يقول كان معاوية قد تلطف لبعض خدمه أن يسقيه سما.

میں نے بعض سے سنا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ: معاویہ نے اپنے بعض نوکروں سے کہا کہ امام حسن کو زہر دیں۔

 ( الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفی 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج3، ص274، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، )

امام اہلسنت امام ابن الوردی نے بھی اپنی تاريخ ميں لکھا ہے کہ:

و قيل إن زوجته جعدة بنت الأشعث سمته، قيل بأمر معاوية، و قيل بأمر يزيد أطمعها بالتزوج بها و لم يف.

امام حسن کو انکی بیوی جعدہ بنت اشعث نے زہر دے کر شہید کیا ہے، جعدہ نے یہ کام معاویہ کے کہنے پر کیا تھا۔ ۔ جب جعدہ نے امام کو قتل کر دیا تو یزید نے بھی اس سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔

( ابن الوردي، زين الدين عمر بن مظفر (متوفی749هـ)، تاريخ ابن الوردي، ج1، ص158، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، )

معاویہ کے زہر بھیجنے کا ذکر ہم اہل سنت کی بہت سی کتب میں ہوا ہے، لیکن ہم فقط ان چند کتب کے ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ