اس مقالے میں وہابی اور حنفی دو فرقوں کے درمیان قبور اولیاء کو مسجد قرار دینے کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔ شروع میں ان دو گروہوں کے نزدیک موضوع سے متعلق کچھ مصادیق بیان کریں گے اور اس کے بعد چار موارد کا جائزہ لیں گے: قبروں پر مسجد بنانا یا قبروں کے ساتھ مسجد بنانا،قبروں پر گنبد بنانا یا عمارت بنانا،قبروں کے پاس نماز پڑھنا اور قبروں کے پاس قرآن کی تلاوت کرنا، یہ وہ موارد ہیں جن کا اس مقالے میں تقابلی جائزہ لیا گیا ہے اور آخر میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حنفی علماء مذکورہ موارد کے بارے میں ایک ہی نظریہ نہیں رکھتے لیکن وہابیوں کی نسبت ان کے نظریئے میں اعتدال ہے۔
حوالہ :  مجله سلفی پژوهی شماره 4

رائٹر : محمدباقر حیدری نسب (موسسه کلام اسلامی کے سینئر ورکر.)؛ حسین رجبی ( دانشگاه ادیان و مذاهب اسلامی کے فیکلٹی ممبر)؛ علی ابراهیم زاده(فلسفه و كلام اسلامی کے ماہر)

مقدمہ

تمام اسلامی فرقے اولیائے الہی کا احترام کرتے ہیں لیکن جس چیز میں اختلاف ہے وہ اس احترام کی مقدار ہے۔ بعض مسلمان خاص طور پر  وہابی   قبور اولیا کےبارے میں سخت رویہ رکھتے ہیں ۔ بہت سارے کام جنہیں دوسرے مسلمان انجام دیتے ہیں ان کو شرک سمجھتے ہیں  یا  کہتے ہیں ان کاموں میں  شرک  میں مبتلا ہونے کا خوف ہے لیکن بہت سارے مسلمان ان کے اس نظریئے کوقبول نہیں کرتے اور ان امور کے جواز پر دلائل پیش کرتے ہیں ،یہ دو  مختف نظریئے مسلمانوں کے درمیان بہت سارے اختلافات کا سبب بنے۔ اسلامی فرقوں کے مابین زیر بحث ایک مسئلہ یہ ہے کہ آیا  قبور اولیا کو مسجد قرار دیا جاسکتا ہے۔اس مسئلے میں مہم ترین روایت پیامبر اسلام صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث ہے جو کہ یہود و نصاری کو اس لیے کہ انہوں نےاپنے پیغمبروں کی قبور کو مسجد قرار دیا تھا مورد لعن قرار دیتی ہے اور مسلمانوں کو اس کام سے روکتی ہے لیکن چونکہ حدیث میں مسجد قرار دینے کا مصداق بیان نہیں ہوا اس لیے اس بارے میں لوگوں کی آراء مختلف ہیں اور تحقیق کا دروازہ کھلا ہے۔

اس تحقیق میں کوشش یہ کی گئی ہے کہ وہابیت اور اس کے بانی ابن تیمیہ و مذہب حنفی(از بزرگ ترین مذاهب اهل سنت) کے درمیان  اولیا  ئے الہی کی قبور کو مسجد قرار دینے کے متعلق ان کے نظریئے کا تقابلی جائزہ لیا جائے اور  بعد میں موضوع سے مربوط چار موارد کو  تفصیل سے بیان کیا جائے تاکہ ان دونوں فرقوں کے درمیان موارد اختلاف اور موارد اتفاق واضح ہوجائیں۔

سوال یہ ہے کہ آیا  وہابی اور حنفی ،قبور اولیا کو مسجد قرار دینا  جائز سمجھتے ہیں کہ نہیں؟ یہ دو گروہ کن موارد کو جائز سمجھتے ہیں اور کن موارد کو حرام سمجھتے ہیں؟ اوران کی دلیل کیا ہے؟ یہ مسئلہ اگرچہ وہابی اور حنفی کتابوں میں پراکندہ بیان ہوا ہے لیکن قبور کو مسجد قرار دینے کے مصادیق کو جمع نہیں کیا گیا اور اس مسئلے کا  ان دو فرقوں کے مابین تقابلی جائزہ بھی نہیں لیا گیا ہے۔

فرض یہ ہے کہ یہ دو گروہ بعض مصادیق میں ایک دوسرے کے ہمفکر ہیں لیکن زیادہ تر مصادیق جو بیان ہوئے ہیں ان میں ان کا ایک دوسرے سے اختلاف ہے اور وہابیوں کی نسبت حنفیوں نے اعتدال کا راستہ اپنایا ہے۔

اس مقالے کی اہمیت کی اہم وجہ وہابیت اور ابن تیمیہ کا  جیسا کہ آگے بیان ہوگا  اس مسئلے کو مصادیق [1]شرک میں سے قرار دینا ہے یا شرک میں داخل [2]ہونے کا سبب قرار دینا ہے۔اور دوسری طرف سے وہ یہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ قبور کو مسجد قرار دینے کی حرمت کو تمام مسلمانوں کے عقیدے کے طور پر متعارف کروائیں.[3]

ابن عبدالوہاب کہتا ہے: آئمہ اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ قبروں پر مساجد بنانا اور قبروں کے قریب نماز پڑھنا جائز نہیں ہے.[4]

حدیث نبوی کا بیان

جو حدیث قبور کو مسجد بنانے سے منع کرتی ہے، شیعہ سنی کتب میں مختلف عبارات کے ساتھ بیان ہوئی ہے، یہاں پر چند ایک موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

پیامبر اسلام صل اللہ علیہ و آلہ  وسلم فرماتے ہیں: خدا وند یہود و نصاری پر لعنت کرے جنہوں نے  اپنے پیامبروں کی قبروں کو مسجدبنایا ہے.[5]  کچھ اور احادیث میں عبارت "لعن الله" کی جگہ"قاتل الله"[6] بیان ہوئی ہے۔

ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں : آگاہ رہو کہ آپ کے آبا و اجداد اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبریں مساجد بناتے تھے۔ قبروں کو مساجد کے طور پر کبھی نہ لیں۔ میں آپ کو اس عمل سے منع کرتا ہوں.[7]

آنحضرت ص نے ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا ہے: میری قبر کو قبلہ اور مسجد قرار نہ دو چونکہ خدا وند متعال نے  قوم یہود پر لعنت کی ہے جب انہوں نے  اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنایا.[8]

ام حبیبہ اور ام سلمہ (همسران رسول خدا ص ) نے حبشہ میں کچھ تصاویر دیکھیں اور واپسی پر  پیامبر اسلام ص کی خدمت میں اپنے مشاہدات کو بیان کیا ،اس کے بعد پیامبر اسلام  ص نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں سے کوئی نیک آدمی مرجاتا ہے تو یہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے ہیں  اور کچھ تصویریں بناتے ہیں ، قیامت کے دن خدا کی بارگاہ میں یہ بدترین لوگ ہونگے.[9]

ابن عباس نقل کرتا ہے:رسول خدا نے، ان عورتوں پر  جو قبور کی زیارت کرتی ہیں ،ان لوگوں پر جو ان کو مسجد بناتے ہیں اور وہاں چراغ جلاتے ہیں، لعن کیا ہے.[10]

پہلے ضروری ہے کہ قبور کو مسجد بنانے کے مصادیق کو فریقین کے نزدیک واضح کریں  اور اور پھر ، حرمت کی واضح ترین مثالوں کا جائزہ لیں:

۱۔ فریقین کی نظر سے قبور اولیا کو مسجد قرار دینے کے مصادیق

الف: وہابیوں کا نظریہ

ابن تیمیہ کی کچھ کتابوں سے یہ بات  واضح ہوجاتی ہے  کہ کچھ امور قبور کو مسجد قرار دینے کے مصادیق میں سے ہیں:

۱۔ قبر کے پاس نماز پڑھنا[11]، قبر کی طرف منہ[12]  کرکے نماز پڑھنا یا قبر کے اوپر نماز پڑھنا

۲۔ قبروں[13] پر مسجد بنانا اور قبروں کے نزدیک[14]

۳۔قبروں پر  گنبد بنانا[15]

۴۔ قبر پر سجدہ کرنا[16]

۵۔ قبر سے متبرک ہونا[17]

۶۔قبر کے پاس دعا مانگنا[18]

۷۔ صاحب قبر سے حاجت مانگنا[19]

۸۔ اس سے استغاثہ طلب کرنا؛[20]

۹۔اس کے حق کا واسطہ دے کر خدا کی قسم کھانا؛[21]

۱۰۔ قبر پر قرآن رکھنا،قرآن کی تلاوت کے واسطے[22]

ب:حنفیوں کا نظریہ

حنفی علما کی کتابوں میں تحقیق کے بعد مندرجہ ذیل موارد  حاصل ہوئے جنہیں وہ قبور کومسجد قرار دینے کے مصادیق میں سے قرار دیتے ہیں:

۱۔ قبر پر نماز پڑھنا [23] یا اسے قبلہ قرار دینا[24]

۲۔ قبور پر مسجد بنانا[25]

۳۔ قبر پر سجدہ کرنا[26]

۴۔ قبر کے پاس لہو و لعب و فضول کام انجام دینا[27]

۵۔ قبور کو مسجد قرار دینے کے مصادیق میں سے چار موارد کا جائزہ

اب جبکہ فریقین  کی نگاہ سے قبور کو مسجد قرار دینے کے مصادیق کا ذکر ہوچکا تو اب ضروری ہے ان  کے درمیان تقابلی جائزہ لیا جائے،لیکن ان تمام مصادیق  کا جائزہ لینا جن کا تذکیرہ ہوچکا ہے ان کا بیان کرنا   اس مقالے کی گنجائش میں نہیں  اور کچھ موارد جیسے استغاثہ اور تبرک خود سے ایک مستقل بحث  کے محتاج ہیں۔اس مقالے میں چار موارد کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے:

پہلا: قبروں پر یا قبروں کے پاس مسجد بنانا

الف: وہابیوں کا نظریہ

ابن تیمیہ کہ وہابیت جس کے افکار  کی مرہون منت ہے،مذکورہ حدیث (لعن الله الیهود) سے استفادہ کرکے اس لیے کہ دوسرے اسلامی فرقوں کو بھی اپنا ہمفکر بنادے، کہتا ہے:  بہت سارے مذاہب کے علماء جیسے شافعی، مالکی اور احمد اور اسی طرح کوفہ کے فقہا نے قبور پر مساجد بنانے سے منع کیا ہے اور بہت سارے فقہا نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔یہ ان  چیزوں میں سے ہے  جس میں پیامبر کی لعنت کے بعد کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں  .[28]

ایک اور جگہ پر وہ آئمہ دین کا اس مسئلے پر اتفاق نظر کا دعوی کرتا ہے کہ قبروں پر مسجد بنانے سے آئمہ  دین نے منع کیا ہے.[29]محمد بن عبد الوہاب کا بھی یہی نظریہ ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے.[30]

محمد اسماعیل صنعانی، بیضاوی کے بیان کے بعد جو کہ نیک شخص کی قبر کے تبرک کے قصد سے نہ قصد تعظیم کے مسجد بنانے کے جواز کے قائل ہے، کہتا ہے: احادیث میں نہی مطلق ہے  اور اس کی تعلیل کی کوئی دلیل بیان نہیں ہوئی ہے۔ [31]لہذا قبروں کے پاس ہر قسم کی عمارت تعمیر کرنا حرام ہے۔

وہابیوں کے کلام کا خلاصہ یہ ہے: قبروں پر یا ان کے پاس مسجد بنانا حرام ہے اور تمام فقہائے اسلام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے۔

 ب:حنفی نظریہ

ابھی یہ دیکھنا ہے کہ اس بارے حنفیوں کا نظریہ کیا ہے؟حنفی علما کی ایک تعداد نے قبور پر مسجد بنانے کے جواز اور عدم جواز پر اپنی کتب میں کچھ بھی بیان نہیں کیا  لیکن جن لوگوں نے اس مسئلے کو چھیڑا ہے ان کے دو قسم کے نقطہ نظر سامنے آگئے ہیں:

پہلا نظریہ: قبور اولیا کے پاس مسجد بنانا جائز ہے۔

اکثر حنفی علما قبور کے پاس مسجد بنانے کو جائز سمجھتے ہیں اور اس پر مہم ترین دلیل سورہ کہف کی آیت نمبر ۲۱ پیش کرتے ہیں جس میں خدا وند فرماتا ہے: جبکہ لوگ ان کے معاملہ میں جھگڑ رہے تھے، پھر کہا ان پر ایک عمارت بنا دو، ان کا رب ان کا حال خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے کہا جو اپنے معاملے میں غالب آ گئے تھے کہ ہم ان پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے۔

اس بنا پر حنفی علما کی اکثریت قبر کے ساتھ مسجد بنانے کو تبرک کی نیت سے  جائز سمجھتی ہے۔ بدرالدین عینی، قاضی ثناء الله، عبدالحیی لكھنوی، كشمیری اور محمد شفیع عثمانی دیوبندی کہتے ہیں:جو شخص کسی نیک آدمی کی قبر کے پاس مسجد بناتا ہے البتہ قصد تبرک سے نہ تعظیم کی نیت سے تو ایسا شخص مذکورہ نہی کو شامل نہیں(قبور کو مسجد قرار دینے سے نہی)۔ .[32]

سندی لکھتا ہے: جو شخص کسی نیک شخص کی قبر کے پاس مسجد بناتا ہے یا کسی مقبرے میں نماز پڑھتا ہے(بغیر اس کے کہ اس طرف منہ کرنے کا قصد کرے)اس میں کوئی اشکال نہیں ۔.[33]

محدث دهلوی ،کلام ابن حجر سے مسجد کے جواز پر استدلال کرتا ہے:لیکن پیامبر کے جوار میں یا کسی نیک آدمی کے جوار میں کسی جگہ کو مسجد کے طور پر قرار دینا اور وہاں پر نماز پڑھنا  اس سے  مدد کے حصول کی غرض سے تاکہ اس قبر کی برکت سے، اس قبر میں موجود پاکیزہ روح کی برکت سے  اسے عبادت کا پورا ثواب ملے، نہ قبر کی تعظیم  کے قصد سے، تو اس صورت میں کوئی حرج نہیں.[34]

خفاجی حنفی بھی آیه 21 سوره کهف کے ذیل میں کہتا ہے:اس مسجد کا وہاں پر ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ نیک لوگوں کی قبروں پر مسجد بنانا جائز ہے جیسا کہ کشاف میں اس طرف اشارہ ہوا ہے.[35]

دوسرا نظریہ: قبور اولیا کے جوار میں مسجد بنانا حرام ہے۔

شبیر احمد عثمانی، اس لئے اس کو حرام سمجھتا ہے تاکہ لوگ اس سے سوء استفادہ نہ کریں اور کہتا ہے:منع اس صورت میں ہے جب قبر کی نسبت خشوع پیدا ہوجائے۔جن لوگوں پر لعنت کی گئی ہے وہ اسی قسم کے لوگ ہیں۔ لیکن جب اس طرح کا کوئی خوف نہ تو اس میں حرمت والی کوئی بات نہیں.[36]

دوسرا: قبروں پر عمارت بنانا

ایک اور مسئلہ جس میں تقابلی جائزہ لینا ہے وہ ہے قبروں پر گنبد بنانا۔

الف:وہابیوں کا نظریہ

پہلے اشارہ ہوچکا  کہ وہابی قبروں پر گنبد بنانے کو  قبور پر مسجد بنانے کا مصداق سمجھتے ہیں .[37] وہ قبور پر مسجد تعمیر کرنے اور قبور پر گنبد بنانے کو اسباب شرک میں سے قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں:قبروں پر عمارت بنانا بدعت ہے چونکہ اس میں ایسے لوگوں کی تعظیم میں غلو ہے جو کہ ان قبروں میں دفن ہیں اور یہ کام شرک کی طرف ایک راستہ ہے، ولی امر مسلمین یا اس کے نائب کی ذمہ داری ہے کہ وہ قبروں پر جو کچھ بنایا گیا ہے اس کی تخریب کا حکم دے دے اور قبروں کو زمین کے برابر کریں  تاکہ اس بدعت کا راستہ روکا جاسکے اور شرک کے راستے کو بھی بند کردیا جاسکے.[38]

شمس الدین سلفی قبور پر عمارت بنانے کو بزرگ ترین اسباب شرک میں سے سمجھتا ہے.[39]ان روایات میں سے ایک جو وہابی قبور پر عمارت بنانے سے منع کےلیے استفادہ کرتے ہیں ، حدیث ابی الهیاج ہے.[40]

ب۔ حنفیوں کا نظریہ

قبور پر کوئی عمارت بنانے کے متعلق حنفیوں کے تین نظریئے ہیں۔

پہلا نظریہ: قبروں پر عمارت بنانا مکروہ ہے۔

قبور پر عمارت بنانے کی کراہت کا حکم  ابو حنیفہ کے فقہی نظریئے کی طرف پلٹتا ہے۔ کاسانی حنفی کہتا ہے: ابو حنیفہ قبر پر عمارت تعمیر کرنے کو مکروہ سمجھتا ہے.[41]

حنفی علما کا ایک گروہ قبروں پر عمارت بنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور کہتا ہے: قبر پر عمارت بنانا، چونے کے ساتھ،اینٹ اور لکڑی کے ساتھ اور قبر پر لکھنا مکروہ ہے.[42]

ملاعلی قاری کہتا ہے:علما نے کہا ہے ایک وجب کے اندازے سے قبر کو زمین سے اونچا کرنا مستحب ہے اس سے زیادہ اونچی کرنا مکروہ ہے.[43]

ابن عابدین کا یہ عقیدہ ہے اگر قبر کو مستحکم اور مضبوط کرنے کی نیت سے ہو تو مکروہ ہے[44] البتہ بعد میں بیان ہوگا کہ وہ قبروں پر چادر لگانے کو نیک سمجھتا ہے۔

جیسا کہ بیان ہوا ، بعض وہابی حدیث ابی الهیاج سے استدلال کرکے قبروں پر عمارت بنانے کو  حرام سمجھتے ہیں۔محمد زاهد کوثری کہتا ہے : حدیث ابی الهیاج، اس کی سند میں اختلاف ہے چونکہ اس میں عنعنه حبیب ابن ثابت [45]ہے اور ایک عرصے سے مسلمانوں نے  اس پر عمل نہیں کیا ہے۔کسی حدیث پر عمل نہ کرنا بھی اہل نقد کے نزدیک نقصان دہ ہے، پس اگر نہی کو نہی تنزیہی پر حمل کیا جائے تو بات آسان ہوجاتی ہے.[46]

دوسرا نظریہ: قبروں پر عمارت بنانا حرام ہے۔

بعض حنفی قبروں پر عمارت بنانے کو حرام سمجھتے ہیں.[47]

کشمیری کہتا ہے:قبروں پر عمارت بنانا، جیسا کہ اس زمانے کے لوگ  انجام دیتے ہیں، قبروں پر گنبد بنانے کی مانند حرام ہے.[48]

بعض حنفی علما نے کہا ہے اگر زینت کی نیت سے ہو تو حرام ہے. [49]

تیسرا نظریہ: اولیا اور شیوخ کی قبروں پر عمارت بنانا جایز ہے۔

حنفی علما کے درمیان، بعض علما نے قبور پر عمارت تعمیر کرنے کو نہ صرف جایز قرار دیا ہے بلکہ وہ اس کام کو نیک سمجھتے ہیں۔مثال کے طور پرملاعلی قاری کا یہ عقیدہ ہے علما اور مشایخ کی یہ سیرت رہی ہے کہ وہ قبر پر عمارت تعمیر کرنے  کو مباح سمجھتے تھے اور وہ کہتا ہے:بے شک سلف، علما ، مشایخ اور مشہور لوگوں کی قبور پر عمارت بنانے کو مباح سمجھتے تھے تاکہ لوگ ان کی زیارت کریں  اور وہاں پر استراحت کریں.[50]

 

شهاب الدین خفاجی سورہ کہف کی آیت نمبر ۲۱ کے ذیل میں کہتا ہے:قبروں پر مسجد کا ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ نیک لوگوں کی قبروں پر عمارت بنانا جایز ہے جیسا کہ کشاف  میں اس طرف اشارہ ہوا ہے.[51]

عبد الغنی نابلسی علما اور اولیا کی قبور پر گنبد تعمیر کرنے کو شعائر الهی کی تعظیم کے مصادیق میں سے جانتا ہے اور معتقد ہے کہ یہ عمل بدعت حسنہ ہے۔وہ کہتا ہے: جدیث میں آیا ہے کہ قبر  یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا  آگ کا گڑھا ہے، اس کا مطلب یہ ہے مردوں کی ارواح یا اپنی قبروں میں  صاحب نعمت ہیں یا ان پر عذاب نازل ہورہا ہے اور وہ نعمت یا عذاب روحوں کے بوسیدہ جسموں سے جڑ جانے کی وجہ سے ہے جو دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں ، اور وہ روحیں ایمان اور اطاعت میں خالص ہیں ، یا کفر و مخالفت میں غلیظ ہیں، اس بنا پر مومنین کی قبور قابل عزت و احترام ہیں جیسا کہ وہ پہلے بھی ایسے ہی تھے اور وہ  ابھی بھی زندہ ہیں اور قابل احترام ہیں۔پس جو شخص  کسی عالم کو چھوٹا  سمجھے یا اس عالم سے دشمنی  اس کی عزت میں کمی کا سبب بنے تو اس شخص نے کفر کیا ہے جیسا کہ فقہا نے بھی اس کو بیان کیا ہے اور اس معاملے میں زندوں میں اور مردوں میں کوئی فرق نہیں، ان کا احترام واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: )وَمَنْ یعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوب(؛[52] ۔

اور جو شخص شعائر خدا وند کو بزرگ سمجھے، اس کا یہ کام دلوں کا تقوی ہے۔شعائر  خدا وند وہ چیزیں ہیں کہ جو شعور رکھتی ہیں  یعنی اللہ تعالی ان کو آگاہ رکھتا ہے جیسے علما اور صالحین چاہے وہ مردہ ہوں یا زندہ، اور تعطیم کا ایک مصداق  ان کی قبروں پر گنبد بنانا اور  موٹی لکڑی سے ان پر تابوت بنانا ہے تاکہ عام لوگ  انہیں نظر انداز نہ کریں ، اگرچہ یہ عمل بدعت ہے لیکن بدعت حسنہ ہے جیسا کہ فقہا نے علما کے عمامے اور لباس کے بارے میں کہا ہےکہ یہ کام جایز ہے تاکہ اس عمامے کی وجہ سے لوگ ان کا احترام کریں اگرچہ یہ ایک ایسی بدعت ہے جو کہ سلف کی روش پر نہیں .[53]

حقی، نابلسی کے کلام کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: : "فالمقصد فیها مقصد حسن".[54]

سمر قندی کہتا ہے:کہا گیا ہے کہ جب مردہ علما، مشایخ اور سادات میں سے ہو تو اس کی قبر پر عمارت بنانا مکروہ نہیں ہے .[55]

وہ اس مطلب کو بیان کرتا ہے اور اس سے انکار نہیں کرتا ہے۔اور یہ بھی کہ سمر قندی کو ابن عابدین شامی [56] اور نابلسی [57]    بھی بیان کرتے ہیں اور اس قول کو قبول کرتے ہیں۔

ابن عابدین بھی صالحین اور اولیا کی قبروں پر عمارت تعمیر کرنے کے جواز کی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے:بعض فقہا نے قبروں پر چادریں چڑھانے، ان پر لباس اور عمامہ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ کتاب فتاوي الحجة میں کہا گیا ہے کہ قبروں پر چادر رکھنا مکروہ ہے [58]، لیکن ابھی ہم کہتے ہیں ، جب تعظیم کا قصد ہو کہ لوگ ان کا احترام کریں اور صاحب قبر کو نظر انداز نہ کریں یا یہ ہدف ہو کہ زائرین کی توجہ جلب کی جائے تو اس صورت میں پھر جایز ہے۔اعمال نیت کی طرف پلٹتے ہیں ،اگرچہ بدعت ہے۔

ابن عابدین ،نابلسی کی مثال سے ہٹ کر ایک اور مثال بیان کرتا ہے تاکہ اس بات کو ثابت کرسکے کہ یہ بدعت ایک اچھی بدعت ہے اور اس میں کسی قسم کا اشکال نہیں اور کہتا ہے:وہ مثال ان کا قول ہے کہ خانہ خدا کے احترام میں طواف وداع کے بعد الٹے پاوں چلتے ہیں یہاں تک کہ مسجد سے خارج ہوجائیں۔یہاں تک کہ منهاج السالکین میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے  نہ کوئی روایت نقل ہوئی ہے اور نہ کوئی حکایت جبکہ ہمارے دوست یہ کام انجام دیتے ہیں .[59]

ملا علی قاری اس حدیث کی شرح میں، جس میں حسن بن حسن کی ہمسر کا گنبد بنانا اور وہاں پر نماز پڑھنے کے بارے میں  ہے، کہتا ہے: ظاہرا قبہ بنانے کا مقصد دوستوں کا  اس قبر پر اکھٹا ہونا ہے اور وہاں پر ذکر اور قرآن کی تلاوت کرنا ہے اور اصحاب کا وہاں پر دعا، مغفرت اور رحمت کےلیے جمع ہونا ہے، لیکن اس فعل کو مکروہ قرار دینا جیسا کہ ابن حجر نے کیا ہے، اہل بیت سے بعید ہے۔ .[60]

وہابیوں کے توسط سے بقیع کی قبور کی تخریب پر برصغیر کے بعض علما نے سلطان بن سعود پر اعتراض کیا ہے۔ شبیر احمد عثمانی علما کی نیابت میں سلطان بن سعود سے مخاطب ہوکر کہتا ہے: ہم گنبدوں کے انہدام کو ایک صحیح کام نہیں سمجھتے۔

وہ عمربن عبدالعزیز کا عائشہ کے گھر کو خراب کرنے اور پھر پشیمان ہونے اور اس کی تعمیر کا دوبارہ حکم دینے کو اس بات کی دلیل سمجھتا ہے کہ یہ کام درست نہیں تھا اور کہتا ہے: اس توضیح سے میرا مقصد گنبدوں کی دوبارہ تعمیر کی ترغیب دلانا نہیں بلکہ میرا مقصد اس مطلب کو بیان کرنا ہے کہ  اولیا کی قبور کا لوگوں کے دلوں سے تعلق ہے۔ عمر بن عبدالعزیز کا اس وقت گریہ کرنا اور جہان اسلام کا ناراحت ہونا اس کام کے درست نہ ہونے پر دلیل ہے .[61]

 

تیسرا: قبروں کے پاس نماز پڑھنا

قبور اولیا کو مسجد قرار دینے کے مصادیق میں سے تیسرا مورد،قبور کے پاس نماز پڑھنا ہے۔یہاں ان دو گروہوں کا نظریہ بیان ہوگا۔

 الف: وہابیوں کا نظریہ

جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ وہابی قبور کے پاس نماز پڑھنے کو حرام سمجھتے ہیں اور اسے شرک کا ایک وسیلہ سمجھتے ہیں .[62]

ب: حنفیوں کا نظریہ

اس بارے میں حنفی علما کی طرف سے دو نظریئےبیان ہوئے ہیں۔

پہلا نظریہ: نماز پڑھنے کی کراہت

حنفیوں کے درمیان مشہور قول وہابیوں کے برخلاف ، قبروں کے پاس نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اس اختلاف کی اصل جڑ احمد حنبل اور ابو حنیفہ کا فقہی اختلاف ہے۔

عینی اس بارے  میں کہتا ہے:جان لو علما مقبرے میں نماز پڑھنے کے متعلق اختلاف رکھتے ہیں۔احمد  نے مقبرے میں نماز پڑھنے کی حرمت کا فتوا دیا ہے اور ثوری، ابو حنیفہ اور اوزاعی نے کراہت کا فتوا دیا ہے .[63]

دلایل کراهت

۱۔۱ ۔ پیامبر اسلام ص کی نہی کی وجہ سے  کہ مقبرے میں نماز پڑھنا  منع ہے [64]

۲۔۲۔ حدیث «لعن الله الیهود و النصاری» کی وجہ سے کہ عمل میں ان کے ساتھ شباہت پیدا ہوتی ہے [65]

طحطاوی کہتا ہے: مقبرے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے؛ چونکہ یہ عمل یہود و نصاری کے عمل سے شباہت رکھتا ہے۔ پیامبر ص نے فرمایاہے: خدا وند متعال نے یہود و نصاری پر لعنت بھیجی ہے اس لیے کہ انہوں نے  اپنے پیغمبروں کی قبور پر مسجد بنائی تھی۔ چاہے اوپر بنائیں یا پشت پر بنائیں یا نیچے۔

کچھ موارد کو وہ جدا کرلیتا ہے جن کا ذکر بعد میں آئے گا .[66]

عبدالغنی نابلسی بھی اس لیے کہ مقبروں میں  نماز پڑھنا یہود و نصاری سے شبہات رکھتا  ہے اس کام کو مکروہ سمجھتا ہے لیکن کچھ موارد کو وہ ان سے جدا کرتا ہے جن کا ذکر بعد میں ہوگا .[67]

۳۔۱۔ حسن بن حسن کی ہمسر کے واقعے سے کراہت سمجھ میں آتی ہے نہ حرمت

بدر الدین عینى ،شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کے ذیل میں کہتا ہے:جب حسن بن حسن بن علی  فوت ہوگئے تو اس کی بیوی نے اس کی قبر کے پاس ایک خیمہ لگایا اور ایک سال کے بعد اسے اٹھایا،لوگوں نے سنا کہ ایک شخص آواز دے رہا تھا، آیا جو چیز انہوں نے گم کردی تھی کیا وہ انہیں ملی۔یہ جو قبر پر قبہ بنایا گیا تھا جو نماز  وہاں پر پڑھی گئی تھی، اس سے اس میں کسی قسم کا خلل پیدا نہیں ہوا ، جس کا لازمہ یہ بنتا ہےکہ وہاں  نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن کھبی قبر قبلہ کی طرف ہوتی ہے اس صورت میں اس کی کراہت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بخاری نے اس کو کراہت پر دلیل جانا ہے اور احمد ،قبر پر چادر لگانے کو مکروہ سمجھتا ہے .[68]

دوسرا نظریہ: نماز پڑھنے کا جواز

بعض حنفی علما ، اولیا کی قبور کے پاس نماز پڑھنے کو جایز سمجھتے ہیں  اور انہوں نے کچھ دلائل بھی بیان کیے ہیں جن کی طرف یہاں پر اشارہ ہوتا ہے۔

قبور کے پاس نماز پڑھنے کے جواز پر دلائل

۱۔۱۔  جیسا کہ بیان ہوا ،بعض حنفی علما نے سورہ کہف کی آیت نمبر ۲۱ سے قبروں پر یا قبروں کے پاس مسجد بنانے کے جواز  کو ثابت کیا ہے جس سے وہاں پر نماز پڑھنے کا جواز بھی سمجھ میں آتا ہے؛ مثال کے طور پر، خفاجی حنفی سورہ کہف کی آیت نمبر ۲۱ کے ذیل میں  قبور پر مسجد بنانے کے جواز کو ثابت کرنے کے بعد  وہاں پر نماز پڑھنے کے جواز کو بھی بیان کرتا ہے .[69]

۲۔۲۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حجر میں دفن ہونا اور ستر پیامبروں کا حجر اور زمزم کے درمیان مسجد الحرام میں دفن ہونا اور وہاں پر نماز پڑھنے کی فضیلت۔

طحاوی کہتا ہے:مقابر انبیاء (ان کی قبروں کے پاس نماز پڑھنا)مستثنی ہیں۔پس اگر قبلے کی طرف نہ ہوں ،وہاں پر نماز مکروہ نہیں ہے، چاہے اس کی قبر کھلی ہو یا نہ ہو؛ چونکہ وہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔کیا نہیں دیکھتے کہ حضرت اسماٰیل علیہ السلام کی قبر پرنالے کے نیچے ہے اور حجراسود و زمزم کے درمیان ۷۰ تک پیامبر دفن ہیں اور یہ مسجد نماز کےلیے افضل ترین جگہ ہے، برخلاف مقابر غیر انبیاء.[70]

کوثری بھی ابی مالکی سے نقل کرتا ہے: کسی نیک اور صالح انسان کی قبر پر مسجد بنانا اور وہاں پر تبرک کی نیت سے نماز پڑھنا اوردعا کرنا وغیرہ اس میں کوئی اشکال نہیں چونکہ اسماعیل علیہ السلام مسجد حرام میں کعبہ کے پاس دفن ہیں  اور وہاں پر نماز پڑھنا دوسری جگہوں میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے.[71]

کچھ لوگوں نے وہاں نماز پڑھنے کی کچھ شرائط بیان کی ہیں۔مثال کے طور پر طحاوی کہتا ہے:مقبر ےمیں نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر یہ کہ وہاں نماز کےلیے کوئی پاک و صاف جگہ موجود ہو.[72]

عبد الغنی نابلسی بھی دو جگہوں پر نماز پڑھنے کو جایز سمجھتا ہے۔پہلا یہ کہ نماز کےلیے ایک ایسی جگہ کا انتخاب کرے جہاں کوئی قبر نہ ہو اور دوسرا یہ کہ اس کے اور قبر کے درمیان کوئی فاصلہ ہو کہ اگر نماز کے دوران کوئی شخص اس کے سامنے سے گزرے تو کراہت نہ ہو، اس صورت میں بھی مکروہ نہیں ہے.[73]

چوتھا:قبر کے پاس نماز پڑھنا

ایک اور مورد جسے ابن تیمیہ اور اس کے پیروکار حدیث منع کے مصادیق میں سے قرار دیتے ہیں  وہ قبروں کے پاس قرآن کریم کی تلاوت کرنا ہے جس کا یہاں پر احناف کی  اس بارے میں نظر سے مقایسہ کیا جائے گا۔

الف: وہابیوں کا نظریہ

وہابی افکار کے بانی ابن تیمیہ کہتا ہے:قبروں کے پاس قرآن رکھنا اور وہاں پر قرآن کی تلاوت کرنا  بدعت ہے جسے سلف میں سے کسی نے انجام نہیں دیا ہے چونکہ یہ بھی قبر پر مسجد بنانے کے زمرے میں آتا ہے.[74]

ب:حنفیوں کا نظریہ

قبروں کے پاس قرآن تقسیم کرنے اور قبروں پر قرآن پڑھنے کے جواز کے بارے میں حقی کہتا ہے: : فرشتے نبی ص کو عظیم سمجھتے ہیں ، لہذا جب وہ دیکھتے ہیں کہ جو کچھ اس نے پیچھے چھوڑا ہے وہ گھر یا شہر یا قبر میں ہے تو وہ اس کے مالک کو بڑا سمجھتے ہیں اور اس سے عذاب کو دور کردیتے ہیں۔ لہذا ، جب قبروں پر قرآن تقسیم کیا جاتا ہے اور اس کو پڑھا جاتا ہے تو مردے کو فائدہ ہوتا ہے.[75]

 ملا علی قاری از طریق اولویت بر استحباب ،قرائت قرآن کو ثابت کرتے ہیں ۔وہ ایک گنہگار کی قبر پر گیلی لکڑی ڈالنے اور اس کے عذاب کو  کم کرنے کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک روایت نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں: علماء اس حدیث کی وجہ سے قبر کے قریب قرآن کی تلاوت کو مستحب سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ جب وہ (لکڑی سے) قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو پہلے کی رعایت کی  جاتی ہے .[76]

متعدد حنفی علماء ، جن میں ابن ہمام اور ملا خسرو شامل ہیں ، کہتے ہیں:جو لوگ قبر کے کنارے بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ، علما کا اس بارے میں اختلاف ہے اور اس میں جو چیز ثابت ہے وہ عدم کراہت ہے .[77]

برهان الدین محمد بخاری اور اس کی پیروی میں دوسرے کہتے ہیں:ابو حنیفہ کے نزدیک قرآن کی تلاوت مکروہ ہے اور محمد [78] کے نزدیک مکروہ نہیں ہے اور شہید صدر نے کہا ہے کہ مشایخ محمدکے قول پر عمل کرتے ہیں۔ یقینا قبر کے پاس بلند آواز سے قرائت قرآن مکروہ ہے لیکن اگر وہ ڈرتا ہے تو کوئی حرج نہیں  اسے پورا کرے .[79]

نتیجہ

جو کچھ بیان ہوا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے وہابیت اور حنفی علما کے درمیان اختلافی موضوعات میں سے ایک اولیا کی قبور کو مسجد قرار دینا ہے۔یہ موضوع پیامبر اکرم ص کی ایک حدیث پر مبنی ہے جس میں یہود و نصاری کی  اس لیے مذمت کی گئی ہے چونکہ وہ اپنے پیغمبروں کی  قبروں پر مسجد بناتے تھے۔حدیث میں یہود و نصاری کا  عمل  واضح نہیں ، لہذا ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں نے بہت سارے موارد کو بغیر کسی دلیل کے اس حدیث کے مصادیق قرار دیئے ہیں۔حنفی علما نے وہابیوں کے محدود مصادیق بیان کیے ہیں ۔چار موضوعات؛قبور پر مسجد بنانا یا اس کے جوار میں مسجد بنانا،قبروں کے پاس نماز پڑھنا ،قرآن قبروں پر رکھنا اور قبروں کے پاس اس کی تلاوت کرنا،میں وہابیت اور احناف کے نظریات کا تقابلی مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوگیا کہ حنفی علما کی اکثریت وہابی نظریئے کی مخالف ہے۔حنفیوں میں بعض ان امور کو مکروہ سمجھتے ہیں، بعض  ان کو جایز سمجھتے ہیں اور ایک قلیل تعداد ان کو حرام سمجھتی ہے۔لہذا ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوہاب کی یہ کوشش کہ قبور پر مسجد بنانے کی حرمت کو حنفیوں کے اندر لےکر جائیں  درست نہیں اور قابل مذمت ہے۔

منابع

  1. ۱. قرآنکریم
  2. ۲. ابن عبد الكریم، ناصر، إسلامیة لا وهابیة، بی جا: داركنوز أشبیلیة، 1425ق.
  3. ۳. ابن بابویه، محمد بن على، من لا یحضرة الفقیة، قم: دفتر انتشارات اسلامى، چاپ دوم، 1413ق.
  4. ۴. ابن تیمیه، احمد بن عبدالحلیم،الفتاوي الكبري لابن تیمیة، بیروت: دارالكتب العلمیة، چاپ اول، 1408ق.
  5. ۵. ابن تیمیه، احمد بن عبدالحلیم،مجموع الفتاوي، تحقیق: عبدالرحمن بن محمد بن قاسم، مدینه: مجمع الملك فهد، 1416ق.
  6. ۶. ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، تعریف اهل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس، تحقیق: عاصم بن عبدالله القریوتی، عمان: مكتبة المنار، چاپ اول، 1403ق.
  7. ۷. ابن حنبل شیبانی، احمد بن محمد،مسند الإمام احمد بن حنبل، مصر: مؤسسة قرطبة، بی تا.
  8. ۸. ابن همام، كمال الدین محمد، شرح فتح القدیر، بیروت: دارالفكر، بی تا.
  9. ۹. ابن عابدین، محمد،العقود الدریة في تنقیح الفتاوي الحامدیة، بی جا: دارالمعرفة، بی تا.
  10. ۱۰. ابن عابدین، محمد،رد المحتار علي الدر المختار، بیروت: دارالفكر، 1421ق.
  11. ۱۱. ابن عبدالوهاب ، محمد، مفید المستفید في كفر تارك التوحید، محقق: إسماعیل بن محمد الأنصاری، ریاض: جامعة الأمام محمد بن سعود، بی تا.
  12. ۱۲. ابن نجیم، زین الدین بن ابراهیم،البحر الرائق شرح كنز الدقائق، بی جا: دارالكتاب الإسلامی، بی تا.
  13. ۱۳. افغانی، شمس الدین سلفی،جهود علماء الحنفیة في إبطال عقاید القبوریة، ریاض: دارالصمیعی، چاپ اول، 1416ق.
  14. ۱۴. آلبانی، ناصرالدین،احکام جنایز، مترجم: عبدالله ریگی احمدی، زاهدان: حرمین، چاپ اول، 1383ش.
  15. ۱۵. آلوسی، نعمان بن محمود، جلاء العینین في محاكمة الأحمدین، بی جا: مطبعة المدنی، 1401ق.
  16. ۱۶. بخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح المختصر، تعلیق: مصطفى دیب البغا، بیروت: دارابن كثیر، چاپ سوم، 1407ق.
  • ۱۷. ابن انس، مالک، موطأ الإمام مالك، تحقیق: محمد فؤاد عبدالباقی، مصر: دارإحیاء التراث العربی، بی تا.
  • ۱۸. بن باز، عبدالعزیز بن عبدالله، فتاوي نور على الدرب، المحقق: عبد الله بن محمد الطيار - محمد بن موسى بن عبد الله الموسى، ریاض: مدار الوطن للنشر، چاپ اول، 1430ق.
  1. ۱۹. ابن مازه بخاری، محمود بن احمد، المحیط البرهاني في الفقة النعماني، تحقیق: عبدالكریم سامی الجندی، بیروت: دارالكتب العلمیة، چاپ اول ، 1424ق.
  2. ۲۰. حقی، اسماعیل بن مصطفى، روح البیان، بیروت: دارالفكر، بی تا.
  3. ۲۱. خفاجی، شهاب الدین احمد، عنایة القاضي و كفایة الراضي على تفسیر البیضاوي، بیروت: دارصادر، بی تا.
  4. ۲۲. رازی، محمد بن ابی بكر،تحفة الملوك، تحقیق: عبدالله نذیر احمد، بیروت: دارالبشائر الإسلامیة، چاپ اول، 1417ق.
  5. ۲۳. زیلعی، فخرالدین، تبیین الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشیة الشِّلْبِی، قاهرة: المطبعة الكبرى الأمیریة، چاپ اول، 1313ق.
  • ۲۴. سرخسی، محمد بن احمد، المبسوط، بیروت: دارالمعرفة، 1414ق.
  • ۲۵. سمرقندی، محمد بن احمد، تحفة الفقهاء، بیروت: دارالكتب العلمیة، چاپ دوم، 1414ق.
  1. ۲۶. سمرقندی، ناصرالدین، جامع الفتاوي، بی جا: جامعه الملک سعود، 1161ق.
  2. ۲۷. سنامی، عمر بن محمد،نصاب الاحتساب، مکه: الطالب الجامعی، چاپ اول، 1406ق.
  3. ۲۸. سندی، محمد بن عبد الهادی،حاشیة السندي على النسائي، تحقیق: عبدالفتاح أبوغدة، حلب: مكتب المطبوعات الإسلامیة، چاپ دوم، 1406ق.
  4. ۲۹. سهارنپوری، خلیل احمد، ترمذی، سید عبدالشکور، عقاید اهل سنت والجماعت در رد وهابیت و بدعت (ترجمه المهند علی المفند و خلاصه عقاید علمای دیوبند با تاییدات جدیده)، ترجمه: عبدالرحمن سربازی، چابهار: مدرسه عربیه اسلامیه چابهار، چاپ اول،1370ش.
  5. ۳۰. سیوطی، عبد الرحمن بن أبی بكر، أسماء المدلسین، محقق: محمود محمد محمود، بیروت: دارالجیل، چاپ اول، بی تا.
  6. ۳۱. شرنبلالی، حسن بن عمار، مراقي الفلاح شرح متن نور الإیضاح، تحقیق: نعیم زرزور، بی جا: المكتبة العصریة، چاپ اول، 1425ق.
  7. ۳۲. صنعانی، عبدالرزاق بن همام، المصنف، تحقیق: حبیب الرحمن الأعظمی، بیروت: المكتب الإسلامی، چاپ دوم، 1403ق.
  8. ۳۳. صنعانی، محمد بن اسماعیل،سبل السلام، بی جا: دارالحدیث، بی تا.
  9. ۳۴. صنعانی، محمد بن اسماعیل، شوكانی، محمد بن علی، تطهیر الاعتقاد عن أدران الإلحاد ویلیة شرح الصدور في تحریم رفع القبور، محقق: عبدالمحسن بن حمد العباد البدر، ریاض: مطبعة سفیر، چاپ اول، 1424ق.
  10. ۳۵. طحطاوی، احمد بن محمد،حاشیة الطحطاوي على مراقي الفلاح، تحقیق: محمد عبدالعزیز الخالدی، بیروت: دارالكتب العلمیة چاپ اول، 1418ق.
  11. ۳۶. عثمانی، شبیر احمد، فتح الملهم، تعلیقات: محمد رفیع عثمانی، بیروت: داراحیاء التراث العربی، چاپ اول، 1426ق.
  12. ۳۷. عثمانی، محمد شفیع، معارف القرآن، مترجم: محمد یوسف حسین پور، تربت جام: شیخ الاسلام احمد جام، چاپ دوم، 1381ش.
  13. ۳۸. عینى، بدر الدین،عمدة القاري شرح صحیح البخاري، بیروت: دارإحیاء التراث العربی، بی تا.
  • ۳۹. فوزان، صالح بن فوزان،اعانة المستفید بشرح كتاب التوحید، بی جا: مؤسسة الرسالة، چاپ سوم، 1423ق.
  1. ۴۰. قاری، علی بن محمد،زیارت القبر المکرم، بی جا: مکتبة جامعة ملک سعود، بی تا.
  2. ۴۱. قاری، علی بن محمد،شرح الشفا، بیروت: دارالكتب العلمیة، چاپ اول، 1421ق.
  • ۴۲. قاری، علی بن محمد،مرقاة المفاتیح، بیروت،: دارالفكر، چاپ اول، بی تا.
  1. ۴۳. نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، تحقیق: محمد فؤاد عبدالباقی، بیروت: دارإحیاء التراث العربی، بی تا.
  2. ۴۴. كاسانی حنفی، أبو بكر بن مسعود، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، بيروت: دارالكتب العلمیة، چاپ دوم، 1406ق.
  3. ۴۵. هیئت کبار العلماء، فتاوى اللجنة الدائمة، گردآوری: احمد بن عبدالرزاق الدویش، ریاض: رئاسة إدارة البحوث العلمیة والإفتاء، الإدارة العامة للطبع، بی تا.
  • ۴۶. كشمیری، محمد انور شاه، العرف الشذي، شرح سنن الترمذي، تصحیح: محمود شاكر، بیروت: دارالتراث العربی، چاپ اول، 1425ق.
  1. ۴۷. كوثری، محمد زاهد،مقالات الکوثري، کویت: المکتبةالمعروفیه،چاپ چهارم، 1432ق.
  2. ۴۸. لكنوی، محمد عبد الحی بن محمد، التعلیق الممجد على موطأ محمد، تحقیق: تقی الدین ندوی، دمشق: دارالقلم، چاپ چهارم، 1426ق.
  3. ۴۹. مجلسى، محمد باقر، بحار الأنوار، محقق: جمعى از محققان‏، بیروت‏: دارإحیاء التراث العربی‏، چاپ: دوم‏، 1403ق.‏
  4. ۵۰. محدث دهلوی، عبدالحق،اشعة اللمعات، تصحیح و تنظیم: عبدالمجید مرادزهی، زاهدان: فاروق اعظم، 1389ش.
  5. ۵۱. مظهری، محمد ثناءالله، التفسیر المظهري، تحقیق: غلام نبی التونسی، پاكستان: مكتبة الرشدیة، 1412ق.
  • ۵۲. مغلطای، علاء الدین، شرح سنن ابنماجه، تحقیق: كامل عویضة، عربستان: مكتبة نزار مصطفى الباز المملكة العربیة السعودیة، 1419ق.
  1. ۵۳. ملاخسرو، محمد بن فرامرز، درر الحكام شرح غرر الأحكام، بی جا: دارإحیاء الكتب العربیة، بی تا.
  2. ۵۴. نابلسی، عبدالغنی، كشف النور عن أصحاب القبور، استانبول: مكتبة الحقیقة، 1406ق.
  3. ۵۵. نجم الدین حنفی، ابراهیم بن علی،تحفة الترك فیما یجب أن یعمل فی الملك، محقق: عبدالکریم محمد مطیع الحمداوی، بی جا:چاپ دوم، بی تا.

 

 

[1]. الدویش، احمد بن عبدالرزاق، فتاوى اللجنة الدائمة، ج1، ص340.

[2]. «فَإِنَّ مِنْ أُصُولِ الشِّرْكِ بِاَللَّهِ اتِّخَاذُ الْقُبُورِ مَسَاجِد»؛ (ابن‌‌‌‌تیمیه، احمد بن عبدالحلیم، الفتاوي الکبري، ج5، ص290).

[3]. افغانی، شمس‌الدین، جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية، ج3، ص1622؛ ابن‌‌‌‌تیمیه، احمد بن عبدالحلیم، الفتاوي الکبري، ج27،ص160 و 488.

[4]. ابن‌‌‌‌عبدالوهاب، محمد، مفيد المستفيد في كفر تارك التوحيد، ص292.

[5]. «لَعَنَ‏ اللَّهُ‏ الْيَهُودَ وَالنَّصارى‏ إتَّخَذُوا قُبورَ أنْبيائِهِمْ مَسْجِدا» (بخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح المختصر، ج1، ص468)؛ (نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ج1، ص376).

[6]. ابن‌‌‌‌انس، مالک، موطأ الإمام مالک، ج2، ص892.

[7] . نیشابوری، مسلم بن حجاج ، صحیح مسلم، ج1، ص377؛ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، ج‏80، ص 313.

[8]. «لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي قِبْلَةً وَ لَا مَسْجِداً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَعَنَ الْيَهُودَ حِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»؛ (ابن‌‌‌‌بابویه، محمد بن علی، من لا يحضره الفقية، ج1، ص178).

[9]. بخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح المختصر، ج3، ص1406.

[10]. ابن‌‌‌‌حنبل شیبانی، أحمد بن محمد، مسند الإمام أحمد بن حنبل، ج1، ص229.

[11]. ابن‌‌‌‌تیمیه، احمد بن عبدالحلیم، الفتاوي الکبري، ج3، ص43-44؛ ابن‌‌‌‌عبدالوهاب، محمد، مفيد المستفيد في كفر تارك التوحيد، ص292؛ فوزان، صالح بن فوزان، اعانة المستفید بشرح کتاب التوحید، ج2، ص295.

[12]. آلبانی، ناصرالدین، احکام جنایز، ص164.

[13]. ابن‌‌‌‌عبدالوهاب، محمد، مفيد المستفيد في كفر تارك التوحيد، ص292؛ فوزان، صالح بن فوزان، اعانة المستفید بشرح کتاب التوحید، ج2، ص295؛ آلبانی، ناصرالدین، احکام جنایز، ص164.

[14]. صنعانی، محمد بن اسماعیل، سبل السلام، ج1، ص153.

[15]. فوزان، صالح بن فوزان، اعانة المستفید بشرح کتاب التوحید، ج2، ص295.

[16]. آلبانی، ناصر‌‌‌‌الدین، احکام جنایز، ص164.

[17]. ابن‌‌‌‌تیمیه، احمد بن عبدالحلیم، الفتاوي الکبري، ج5، ص290.

[18]. ایضا، ج3، ص44-43.

[19]. ایضا

[20]. ایضا.

[21]. ایضا.

[22]. ایضا.

[23] . محدث دهلوی، عبدالحق، اشعه اللمعات، ج3، ص239. العینی، بدر الدین، عمده القاری شرح صحیح البخاری،ج4، ص174.

[24] . عثمانی، شبیر احمد، فتح الملهم، ج4، ص26.

[25] . ایضا.

[26]. قاری، علی بن محمد، مرقاة المفاتیح، ج2، ص600؛ قاری، علی بن محمد، شرح الشفاء، ج2، ص158 – 151؛ عثمانی، شبیر احمد، فتح الملهم، ج4، ص26.

[27] . قاری، علی بن محمد، زیارت القبر المکرم، ص8.

[28] . ابن‌‌‌‌تیمیه، احمد بن عبدالحلیم، مجموع الفتاوي، ج27، ص160.

[29] . ایضا، ص488.

[30] . ابن‌‌‌‌عبدالوهاب، محمد، مفيد المستفيد في كفر تارك التوحيد، ص292.

[31] . صنعانی، محمد بن اسماعیل، سبل السلام، ج1، ص153.

[32]. عینی، بدرالدین، عمدة القاري شرح صحیح البخاري، ج4، ص174؛ مظهری، محمد ثناءالله، التفسیر المظهری، ج6، ص24؛ لکنوی، محمد عبدالحی، التعلیق الممجد علی موطا محمد، ج2، ص128؛ کشمیری، محمد انور شاه، العرف الشذي شرح سنن الترمذي، ج2، ص58؛ عثمانی، محمد شفیع، معارف القرآن، ج8، ص358-357.

[33]. سندی، محمد بن عبدالهادی، حاشیة السندي علی النسائي، ج4، ص95-94.

[34]. محدث دهلوی، عبدالحق، اشعة اللمعات، ج3، ص239.

[35]. خفاجی، شهاب الدین احمد، عنایة القاضي و کفایة الراضي علی تفسیر البیضاوي، ج6، ص86.

[36]. عثمانی، شبیر احمد، فتح الملهم، ج4، ص26.

[37]. فوزان، صالح بن فوزان، اعانة المستفید بشرح کتاب التوحید، ج2، ص295.

[38]. هیئت کبار العلماء، فتاوي اللجنة الدائمة، ج1، ص340.

[39]. افغانی، شمس‌‌‌‌الدین سلفی، جهود علماء الحنفية في إبطال عقايد القبورية، ج3، ص1634.

[40]. ابن‌‌‌‌عبدالكريم، ناصر، إسلامية لا وهابية، ص221؛ صنعانی، محمد بن اسماعیل، تطهير الاعتقاد، ص 35؛ «وكيع سفيان سے اور وہ حبيبسے اور وہ  ابووائل سے اور وہ ابى‌‌‌‌الهَيّاج  سے نقل کرتا ہے كه على بن ابيطالب7 نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمھیں کسی ایسے کام کی ترغیب نہ دوں جس کی مجھے رسول خدا نے ترغیب دی ہے؟اور وہ یہ کہ جب بھی کہیں کوئی شبیہ دیکھو تو اس کو نابود کرو، کہیں بھی کوئی قبر دیکھو جو زمین سے اونچی ہو تو اس کو زمین کی سطح کے برابر کردو (نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ج3، ص61).

[41]. «كَرِهَ أَبُو حَنِيفَةَ الْبِنَاءَ عَلَى الْقَبْرِ»؛ (کاسانی حنفی، ابوبکر بن مسعود، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج1، ص320)؛ (سمرقندی، محمد بن احمد، تحفة الفقهاء، ج1، ص256).

[42]. رازی، محمد بن ابی بکر، تحفه الملوک، ص115؛ «قاضی ثناءالله مظهری نیز بعد از بیان احادیث منع بناء آنها را حمل بر کراهت می‌‌‌‌کند»؛ (مظهری، محمد ثناءالله، التفسير المظهري، ج6، ص24).

[43]. قاری، علی بن محمد، مرقاة المفاتیح، ج3، ص1216.

[44]. ابن‌‌‌‌عابدين، محمد، ردالمحتار على الدر المختار، ج6، ص379.

[45]. حبيب بن ابی‌‌‌‌ثابت اهل تدليس است. سيوطی، عبدالرحمن بن أبی‌‌‌‌بكر، أسماء المدلسين، ص36؛ ابن‌‌‌‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، تعریف اهل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس، ص37.

[46]. کوثری، محمد زاهد، مقالات الکوثري، ص127.

[47]. آلوسی، نعمان بن محمود، جلاء العینین في محاکمه الاحمدین، ص596؛ حنفی، ابراهیم بن علی، تحفة الترك فيما يجب أن يعمل في الملك، ص90.

[48]. كشميری، محمد انور شاه، العرف الشذي شرح سنن الترمذي، ج1، ص322.

[49]. ابن‌‌‌‌عابدين، محمد، رد المحتار علي الدر المختار، ج6، ص379؛ طحطاوی، أحمد بن محمد، حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح، ج1، ص611.

[50]. قاری، علی بن محمد، مرقاة المفاتیح، ج3، ص1217.

[51]. خفاجی، شهاب الدین احمد، عنایة القاضي و کفایة الراضي علی تفسیر البیضاوي، ج6، ص86.

[52]. سوره حج، آیه 32.

[53]. نابلسی، عبدالغنی، کشف النور عن اصحاب القبور، ص12.

[54]. حقی، اسماعیل بن مصطفی، روح البیان، ج3، ص400.

[55]. سمرقندی، ناصرالدين، جامع الفتاوي، ص10.

[56]. ابن‌‌‌‌عابدين، محمد، رد المحتار علي الدر المختار، ج2، ص237.

[57]. نابلسی، عبدالغنی، کشف النور عن اصحاب القبور، ص12.

[58]. ابن‌‌‌‌عابدين، محمد، العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، ج2، ص325-324.

[59]. ابن‌‌‌‌عابدين، محمد، العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، ج2، ص325-324؛ ابن‌‌‌‌عابدين، محمد أمين، رد المحتار على الدر المختار، ج6، ص363.

[60]. قاری، علی بن محمد، مرقاة المفاتیح، ج3، ص1249.

[61]. سهارنپوری، خليل احمد، ترمذی، سيد عبدالشکور، عقايد اهل سنت و الجماعت دررد وهابيت و بدعت، ص60-58.

[62]. فوزان، صالح بن فوزان، اعانة المستفيد بشرح كتاب التوحيد، ج2، ص295.

[63]. عینی، بدرالدین، عمدة القاري شرح صحیح البخاري، ج4، ص173؛ مغلطای، علاء‌‌‌‌الدين، شرح سنن ابن‌‌‌‌ماجه، ص1243.

[64]. شرنبلالی، حسن بن عمار، مراقي الفلاح شرح متن نور الایضاح، ج1، ص130؛ کاسانی حنفی، ابوبکر بن مسعود، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ج1، ص320.

[65]. سرخسی، محمد بن أحمد، المبسوط، ج1، ص206؛ سمرقندی، محمد بن احمد، تحفة الفقها، ج1، ص257.

[66]. طحطاوی، أحمد بن محمد، حاشية الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ص357-356.

[67]. نابلسی، عبدالغنی، کشف النور عن اصحاب القبور، ص12.

[68]. عینی، بدرالدین، عمدة القاری شرح صحیح البخاري، ج8، ص134.

[69]. خفاجی، شهاب‌‌‌‌الدین، عنایة القاضي و کفایة الراضي علي تفسیر البیضاوي، ج6، ص86.

[70]. طحطاوی، أحمد بن محمد، حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح، ص357-356.

[71]. کوثری، محمد زاهد، مقالات الکوثري، ص128-127.

[72]. طحطاوی، أحمد بن محمد، حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص357-356.

[73]. نابلسی، عبدالغنی، کشف النور عن اصحاب القبور، ص15.

[74]. ابن‌‌‌‌تیمیه، احمد بن عبدالحلیم، مجموع الفتاوي، ج24، ص302 – 301؛ «بن‌‌‌‌باز نیز به همین مطلب اشاره دارد»؛ (بن‌‌‌‌باز، عبدالعزيز بن عبدالله، فتاوي نور على الدرب، ج14، ص219).

[75]. حقی، اسماعیل بن مصطفی، روح البیان، ج3، ص259.

[76]. قاری، علی بن محمد، مرقاة المفاتیح، ج1، ص376.

[77]. ابن‌‌‌‌همام، كمال‌‌‌‌الدين محمد، شرح فتح القدير، ج2، ص142؛ ملاخسرو، محمد بن فرامرز، درر الحکام شرح غرر الاحکام، ج1، ص168.

[78]. محمد شیبانی شاگرد ابوحنیفه است.

[79]. ابن‌‌‌‌مازه بخاری، محمود بن أحمد، المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ج5، ص 311؛ رازی، محمد بن ابی‌‌‌‌بکر، تحفة الملوک،ص283؛ زیلعی، فخر‌‌‌‌الدین، تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق و حاشیة الشلبی، ج1، ص246؛ سنامی، عمر بن محمد، نصاب الاحتساب، ص181؛ ابن‌‌‌‌نجیم، زین‌‌‌‌الدین بن ابراهیم، البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ج8، ص235.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ