بےشک تکفیریوں کے افکار کا جھڑ ابن تیمیہ ہی ہے جس نے ایک ایسا بدعت ایجاد کردی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور اس کی تعلیمات کی وجہ سے عالم اسلام کو آج بھی خفت اٹھانا پڑ رہی ہے اور خونخواری اور درندگی کی نت نئی داستانیں رقم ہورہی ہیں جو عالمی سطح پر اسلام اور امت کی بدنامی اور مقدسات اسلام کی اعلانیہ بےحرمتی کے اسباب فراہم ہورہے ہیں ابن تیمیہ کے شدت پسند نظریات کے مقابلہ میں بہت سارے علماء کھڑے ہوئے اور انکے افکار کو رد کردیا اسی طریقہ سے بر صغیر کے علماء نے بھی ابن تیمیہ کے افکا کو رد کیا ہے اس مقالہ میں کچھ نمونہ پیش کئے جائیں گے
حوالہ :  darulifta-deoband

ابوالحسنات محمّد عبدالحی  لکھنوی حنفی (م1304ه‍. ق)

وہ کہتا ہے:

مسألة زیارة خیر الأنام علیه الصلاة و السلام کلام ابن تیمیة فیها من أفاحش الکلام؛ فانّه یحرم السفر لزیارة قبر الرسول (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و یجعله معصیة، و یحرم نفس زیارة القبر النبوی أیضاً...1

سب سے بہترین انسان- علیه الصلاة و السلام- کی زیارت کے مسئلہ میں ابن تیمیہ کی بات سب سے بری بات ہے کیونکہ اس نے پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی قبر کی زیارت کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور اس کو گناہ سمجھتا ہے اور خود قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زیارت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔۔۔

. خلیل احمد سهارنفوری حنفی (م1346ه‍. ق)

ان سے اس طرح کا سوال ہوا ہے:

ما قولکم فی شدّ الرحال إلی سید الکائنات علیه أفضل الصلوات والتحیات وعلی آله وأصحابه، أی الأمرین أحبّ إلیکم وأفضل لدی أکابرکم وللزائر: هل ینوی وقت الإرتحال للزیارة زیارته (علیه السلام)  أو ینوی المسجد أیضاً، وقد قال الوهابیة انّ المسافر إلی المدینة لاینوی إلاّ المسجد النبوی؟

کائنات کے سردار- اس پر اور اسکے آل اور اصحاب پر بہترین درود و سلام ہو- کی زیارت کے لیے سفر کرنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ آپکی نظر میں اور آپکے بزرگوں کی نظر میں زائر کے لیے ان دو امور میں سے کونسا امر پسندیدہ اور افضل ہے: زیارت کا سفر شروع کرتے وقت آنحضرت (علیہ السلام) کی زیارت کرنے کی نیت کرے یا مسجد جانے کی بھی نیت کرے؛ کیونکہ  وہابی کہتے ہیں کہ: مدینہ کی طرف سفر کرنے والا فقط مسجد نبوی جانے کی نیت کرے؟

وہ مذکورہ بالا سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

عندنا وعند مشایخنا زیارة قبر سید المرسلین (روحی فداه) من أعظم القربات وأهمّ المثوبات وانجح لنیل الدرجات، بل قریبة من الواجبات، و ان کان حصوله بشدّ الرحال وبذل المهج والأموال، وینوی وقت الإرتحال زیارته علیه الف الف تحیة وسلام. ینوی معها زیارة مسجده (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وغیره من البقاع والمشاهد الشریفة بل الأولی ما قال العلامة الهمام ابن الهمام ان یجرّد النیة لزیارة قبره علیه الصلاة و السلام ثم یحصل له إذا قدم زیارة المسجد؛ لانّ فی ذلک زیادة تعظیمه و اجلاله (صلّی الله علیه وآله وسلّم). ویوافقه قوله (صلّی الله علیه وآله وسلّم): من جاءنی زائراً لاتحمله حاجة إلاّ زیارتی کان حقاً علی ان اکون شفیعاً له یوم القیامة. وکذا نقل عن العارف

السامی الملاّ جامی انّه افرز الزیارة عن الحجّ، وهو اقرب إلی مذهب المحبّین...2

ہماری نظر میں اور ہمارے علماء کی نظر میں انبیاء کے سردار- میری جان اس پر فدا ہو- کی قبر کی زیارت، خدا کے نزدیک کرنے والی سب بڑی چیز اور سب سے اہم کاموں میں سے ہے جن کا ثواب ملتا ہے اور بلند درجات تک پہنچنے کے لیے سب سے کامیاب عمل ہے بلکہ واجبات کے نزدیک ہے، اگرچہ انکی زیارت کرنے کے لیے سفر کرنے اور سخت زحمت اٹھانے اور مال و دولت خرچ کرنے کی ضرورت ہو۔ اور زائر کو چاہیے کہ روانگی کے وقت قبر پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی نیت کرے – ان پر لاکھوں درود و سلام ہو- و نیز اس کے ساتھ انکی مسجد اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی نیت کرے، بلکہ اس سے بھی شائستہ وہ چیز ہے جس کا ذکر علامہ ہمام ابن ہمام نے کیا ہے کہ زائر فقط آنحضرت کی قبر کی زیارت کرنے کی نیت کرے، اور آنحضرت کی زیارت کے لیے آئے تو مسجد کی بھی زیارت کرے؛ کیونکہ اس عمل میں آنحضرت کی زیادہ تعظیم اور تجلیل ہوتی ہے اور پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کے گفتار کے مطابق ہے جس میں فرمایا: ( جو شخص فقط میری زیارت کے لیے آئے تو میری ذمہ داری ہے کہ قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں)۔ و نیز جلیل القدر عارف ملا جامی سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے زیارت کو حج سے جدا کیا ہے اور یہ محبوں کے مذہب سے زیادہ نزدیک ہے۔۔۔

وہ اسی طرح لکھتے ہیں:

عندنا وعند مشایخنا یجوز التوسل فی الدعوات بالأنبیاء والصالحین من الأولیاء والشهداء والصدیقین فی حیاتهم وبعد وفاتهم؛ بان یقول فی دعائه: أللّهم إنّی أتوسل إلیک بفلان أن تجیب دعوتی وتقضی حاجتی إلی غیر ذلک کما صرّح به شیخنا ومولانا الشاه محمّد اسحاق الدهلوی...3

ہمارے نزدیک اور ہمارے علماء کے نزدیک دعا کے دوران، انبیاء، صلحاء، اولیاء، شہداء اور صدیقین سے توسل کرنا چاہے انکی زندگی میں ہو یا انکی وفات کے بعد ہو جائز ہے؛ اس طرح کہ انسان اپنی دعا میں کہے: اے اللہ! میں آپکو فلاں شخص کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری دعا کو قبول کریں اور میری حاجت کو پوری فرمائیں، جیسا کہ ہمارے شیخ اور سردار شاه محمّد اسحاق دہلوی نے اس بات کو صراحت سے بیان کیا ہے۔۔۔

وہ “برزخی زندگی” کے بارے میں کہتا ہے:

عندنا و عند مشایخنا، حضرة الرسالة (صلّی الله علیه وآله وسلّم) حی فی قبره الشریف وحیاته دنیویة من غیر تکلیف، وهی مختصة به (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وبجمیع الأنبیاء صلوات الله علیهم و الشهداء لا برزخیة کما هی حاصلة لسائر المؤمنین، بل جمیع الناس، کما نصّ علیه العلامة السیوطی فی رسالته (انباء الأذکیاء بحیاة الأنبیاء)، حیث قال: قال الشیخ تقی الدین السبکی: حیاة الأنبیاء و الشهداء فی القبر کحیاتهم فی الدنیا، ویشهد له صلاة موسی (علیه السلام) فی قبره؛ فانّ الصلاة تستدعی جسداً حیاً... فثبت بهذا انّ حیاته دنیویة برزخیة؛ لکونها فی عالم البرزخ...4

ہمارے نزدیک اور ہمارے علماء کے نزدیک رسول اللہ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں اور انکی زندگی دنیاوی ہے بغیر کسی شرعی ذمہ داری کے اور یہ بات آنحضرت اور تمام انبیاء ـ صلوات الله علیهم ـ اور شہداء کے ساتھ مختص ہے، ایسا نہیں ہے کہ انکی زندگی دیگر برزخی مومنین کی طرح ہو، جیسا کہ علامه “سیوطی نے” “انباء الأذکیاء بحیاة الأنبیاء” میں اس بات کو صراحت سے بیان کیا ہے، جب تقی الدین سبکی کے بقول نقل کرتا ہے اور کہتا ہے: قبر میں انبیاء اور شہداء کی زندگی انکی دنیاوی زندگی کی طرح ہے، اس کی دلیل موسی ( علیہ السلام ) کی نماز اسکی قبر میں پڑھنا ہے؛ کیونکہ نماز پڑھنے کا لازمہ زندہ بدن ہے۔۔۔۔ اس بات سے ثابت ہوا کہ پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی زندگی دنیاوی اور برزخی ہے؛ کیونکہ عالم برزخ میں ہیں۔۔۔

وہ اسی طرح کہتے ہیں:

... روی ابوحنیفة عن ابن عمر انّه قال: من السنة ان تأتی قبر رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم)، فتستقبل القبر بوجهک ثم تقول: ألسلام علیک أیها النبی ورحمة الله وبرکاته...5

...ابوحنیفہ نے ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: من جملہ ایک سنت یہ ہے کہ رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم)  کی قبر کی زیارت کے لیے آجائیں  اور اس کی قبر کی طرف رخ کر کے کہو: آپ پر سلام ہو اے پیغمر اور آپ پر خدا کی رحمت اور برکات نازل ہوں۔۔۔

اسی طرح وہ محمّد بن عبدالوہاب کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں لکھتا ہے:

... اتباع محمّد بن عبدالوهاب الذین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانوا ینتحلون مذهب الحنابلة، لکنّهم اعتقدوا انّهم هم المسلمون و انّ من خالف اعتقادهم مشرکون واستباحوا بذلک قتل أهل السنة وقتل علماءهم حتّی کسّرالله شوکتهم...6

محمّد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں نے نجد سے تحریک کا آغاز کیا اور حرمین پر غلبہ حاصل کیا، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو حنبلی کہتے ہیں، لیکن معتقد ہیں کہ فقط وہ مسلمان ہیں اور جو بھی انکے اعتقادات کا مخالف ہو مشرک ہے، اس طرح اہلسنت اور علمائے اسلام کے قتل کو جائز قرار دیا، یہاں تک اللہ تعالی نے انکے رعب کو توڑ دیا۔۔۔

  1. احمد علی محدّث سهارنفوری حنفی

یہ شاه محمّد اسحاق دہلوی کے شاگرد ہیں، جو وہابیوں کے اس عقیدہ کی رد میں کہ میلاد میں نعت خوانی حرام ہے کہتے ہیں:

انّ ذکر الولادة الشریفة لسیدنا رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) بروایات صحیحة فی أوقات خالیة عن وظائف العبادات الواجبات وبکیفیات لم تکن مخالفة عن طریقة الصحابة وأهل القرون الثلاثة المشهود لها بالخیر وبالإعتقادات التی لم تکن موهمة بالشرک والبدعة وبالآداب التی لم تکن مخالفة عن سیرة الصحابة التی هی مصداق قوله (صلّی الله علیه وآله وسلّم): (ما أنا علیه و اصحابی) وفی مجالس خالیة عن المنکرات الشرعیة، موجب للخیر والبرکة...7

یقینا ہمارے سید و سردار رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی میلاد شریف کا ذکر کرنا معتبر روایات کے ساتھ ایسے اوقات میں جو واجب عبادات کا وقت نہ ہو اور ایسی روش کے ساتھ جو صحابہ اور پہلی تین صدیوں والوں کی روش کے مخالف نہ ہو جن کی خوبی کی گواہی دی گئی ہے اور ایسے اعتقادات کے ہمراہ بھی نہ ہو جن میں شرک اور بدعت کا شائبہ ہو و نیز صحابہ کی سیرت کے مخالف آداب کے ہمراہ بھی نہ ہو وہ صحابہ جو رسول خدا (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی حدیث کے مصداق ہیں جس میں آنحضرت نے فرمایا: ( میں اور میرے اصحاب کی جو روش ہے) و نیز وہ مجالس جو غیر شرعی امور سے پاک ہیں ، یہ عمل ( نعت خوانی) خیر و برکت کا باعث ہوتا ہے۔۔۔

  1. شاه فضل رسول قادری هندی حنفی

وہ ابن تیمیہ کے بارے کہتے ہیں:

الشقی ابن تیمیة، اجمع علماء عصره علی ضلاله وحبسه، ونودی من کان علی عقیدة ابن تیمیة حلّ ماله و دمه.8

بدبخت ابن تیمیہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں اسکے ہم عصر علماء اس کے گمراہ ہونے اور اس کو قید کرنے پر متفق تھے اور اعلان کیا گیا کہ جو بھی ابن تیمیہ کے عقیدہ پر ہے اسکا مال اور خون حلال ہے۔

  1. شیخ محمّد عبدالرحمان سلهتی هندی حنفی

وہ ابن تیمیہ کے بارے میں کہتا ہے:

ابن تیمیة فهو کبیر الوهابیین، وما هو شیخ الإسلام بل هو شیخ البدعة والآثام. وهو أوّل من تکلّم بجملة عقائدهم الفاسدة، وفی الحقیقة هو المحدث لهذه الفرقة الضالة، ثمّ خملت تذکرته وعقائده بین الناس إلی سنة سبعمائة وست وأربعین من میلاد خیر البشر علیه التحیة والثناء. فبعد ذلک السنة فی عهد السلطان محمودخان الثانی ببلاد العرب رجل یدعی بمحمّد بن عبدالوهاب من الیمن وأظهر العقائد الفاسدة التی کانت قد ماتت واندرست بموت ابن تیمیة مقیداً مغلولا فی بلاد الإسلام واستحدث شرعاً جدیداً... وسمّوا الوهابیة بإسم کبیرهم محمّد بن عبدالوهاب. وکان ابن السعود کبیر الوهابیة ملحداً قد سوّلت له نفسه، فکان یقلق الحجاج ویزعج العباد ویقطع الطرق... ومن ذلک الزمان زقّت جمعهم وشتّت شملهم وتفرقوا فی البلاد وسمّوا بأهل الحدیث، ولا یلیق لهم مالقبوا به، بل هم أهل البدعة والضلالة...9

ابن تیمیہ، وہابیوں کے بزرگ ہیں اور وہ شیخ الاسلام نہیں ہیں بلکہ شیخ بدعت اور گناہ ہیں، وہ پہلا شخص ہے جس نے انکے تمام باطل عقائد پر بات کی ہے، اور حقیقت میں اس گمراہ فرقہ کو وجود میں لانے والے یہی ہیں۔ اور جبکہ اسکی یاد اور اسکے عقائد پیغمبر (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کی ولادت سے 746ویں سال تک لوگ بھول گئے۔ پھر اس کے بعد  سلطان محمود خان دوم کے زمانے میں عرب سرزمینوں میں محمّد بن عبدالوہاب کے نام سے یمن کا ایک شخص ظاہر ہوا اور مردہ باطل عقائد کو جو ابن تیمیہ کے مرنے سے پرانے ہو گئے تھے اور اسلامی ممالک میں ختم ہوگئے تھے آشکار کر دیا اور دوبارہ زندہ کرنا شروع کیا۔۔۔ وہابیوں کا نام انکے بزرگ محمّد بن عبدالوہاب سے منسوب کر کے رکھا ہے۔ ابن سعود وہابیت کے بزرگوں میں سے ایک ملحد شخص تھا، اسکے نفس نے اسکو دھوکہ دیا اور وہ حجاج پر سختی کرتا تھا اور لوگوں کو اذیت پہنچاتا تھا اور لوگوں کے راستوں کو بند کرتا تھا۔۔۔ اس زمانے سے انکی آبادی منتشر ہوگئی اور انکا اجتماع پراکندہ ہوگیا اور مختلف شہروں میں منتشر ہوگیا۔ انہوں اپنے آپ کو اہل حدیث کہا جبکہ وہ اس نام کے لائق نہیں ہیں بلکہ وہ اہل بدعت اور گمراہی ہیں۔۔۔ 

  1. احمد رضا بریلوی حنفی

وہ ھندوستان کے بریلوی فرقہ کے سربراہ ہیں، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتے ہیں:  “انّ ابن تیمیة کان یهذی جزاف 10  بیشک ابن تیمیہ بے پرواہی کے ساتھ بکتا تھا۔

وہ مزید کہتا ہے: “ابن تیمیة کان فاسد المذهب11 ابن تیمیہ کا مذہب باطل تھا۔

. نعیم الدین مرادآبادی حنفی

وہ بریلوی فرقہ کے ایک امام ہیں، ابن تیمیہ کے بارے میں کہتے ہیں:  “انّ ابن تیمیة افسد نظم الشریعة12؛ “ یقینا ابن تیمیہ نے نظام شریعت کو فاسد کر دیا ہے۔

پھر اہلسنت علماء سے ابن تیمیہ کے بارے میں ایک کلام نقل کرتا ہے:

ابن تیمیة عبد خذله الله واضلّه واعماه واصمّه واذلّه. وانّه مبتدع ضالّ ومضلّ وجاهل غال.13

ابن تیمیہ ایسا شخص تھا جس کو اللہ تعالی نے خوار، گمراہ، اندھا، بہرا اور ذلیل کر دیا ہے۔ وہ ایک بدعتی، گمراہ اور گمراہ کرنے والا اور جاہل اور غالی شخص ہے۔

یہ تمام مطالب (ابن تیمیہ اہل سنت کی نظر میں) مقالہ سے اقتباس کیا ہے

ابن تیمیہ کے بارے میں علمائے دیوبند کی رائے 

سوال ابن تیمیہ کے بارے میں علمائے دیوبند کی کیا رائے ہے ؟

 خدا کی ذات اور صفات کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا صحیح تھا؟

کیا ان کا ماننا تھا کہ اللہ عرش کے اوپر ہے ؟ کیا انہو ں نے بہت سارے مسائل میں اجماع امت کی خلاف ورزی کی تھی؟

 : تاربسم الله الرحمن الرحيم

 (۱):  ابن تیمیہ سے بعض اصولی وفروعی مسائل میں سخت چوک ہوئی ہے، اُن میں انہوں نے جمہور علماء کی روش سے ہٹ کر شذوذ وتفرد کی رائے اختیار کی ہے۔

(۲):اللہ رب العزت کی ذات وصفات کے مسئلہ میں بھی ابن تیمیہ  نے غلو کا موقف اختیار کیا ہے، اس سے احتراز ضروری ہے۔

(۳): ابن تیمیہ نے اللہ تعالی عرش پر ہونے کی جو تشریح کی ہے، وہ اہل السنة والجماعة کی تحقیق کے خلاف ہے۔

(۴): جی ہاں! انہوں نے متعدداصولی وفروعی مسائل میں اجماع امت کی مخالفت کی ہے۔

 ان تیمیہ ایک حنبلی المسلک عالم تھے ، لیکن عقائد و عبادات سے متعلق بہت سے مسائل میں اُنھوں نے جمہور سے علیحدگی کی تھی، جس پر بہت سے علماء، مثلا : علامہ ابن حجر عسقلانی، ابن حجر ہیتمی، علامہ تاج الدین سبکی، فقیہ ولی الدین العراقی اور تقی الدین سبکی وغیرہ نے سخت رد فرمایا ہے ۔

(۲) اللہ کی ذات و صفات کے بارے میں اُن کا عقیدہ صحیح نہیں تھا، عرش کے سلسلے میں بھی اُن کا نظریہ صحیح نہیں تھا، نیز بہت سے مسائل میں انھوں نے جمہور سے الگ مستقل رائے قائم کی تھی۔

قال ابن حجر الہیتمی : واعْلم أَنہ خَالف النَّاس فِی مسَائِل نبہ عَلَیْہَا التَّاج السُّبْکِیّ وَغَیرہ. فمما خرق فِیہِ الْإِجْمَاع قَوْلہ فِی: علیَّ الطَّلَاق أنَّہ لَا یَقع عَلَیْہِ بل عَلَیْہِ کَفَّارَة یَمِین، وَلم یقل بِالْکَفَّارَةِ أحد من الْمُسلمین قبلہ، وَأَن طَلَاق الْحَائِض لَا یَقع، وَکَذَا الطَّلَاق فِی طُہْر جَامع فِیہِ، وَأَن الصَّلَاة إِذا ترکت عمدا لَا یجب قَضَاوٴُہَا، وَأَن الْحَائِض یُبَاح لَہَا بِالطّوافِ بِالْبَیْتِ وَلَا کَفَّارَة عَلَیْہَا، وَأَن الطَّلَاق الثَّلَاث یُردُّ إِلَی وَاحِدَة، وَکَانَ ہُوَ قبل ادّعائہ ذَلِک نقل أجماع الْمُسلمین علی خِلَافہ، وَأَن المکوس حَلَال لمن أقطعہا، وَأَنَّہَا إِذا أخذت من التجَّار أجزأتہم عَن الزَّکَاة وَإِن لم تکن باسم الزَّکَاة وَلَا رسمہا، وَأَن الْمَائِعَات لَا تنجس بِمَوْت حَیَوَان فِیہَا کالفأرة، وَأَن الْجنب یصلی تطوّعہ بِاللَّیْلِ وَلَا یُوٴَخِّرہُ إِلَی أَن یغْتَسل قبل الْفجْر، وإنْ کَانَ بِالْبَلَدِ، وَأَن شَرط الْوَاقِف غیر مُعْتبَر، بل لَو وقف علی الشَّافِعِیَّة صرف إِلَی الْحَنَفِیَّة وَبِالْعَکْسِ، وعَلی الْقُضَاة صُرِف إِلَی الصُّوفِیَّة، فِی أَمْثَال ذَلِک من مسَائِل الْأُصُول مَسْأَلَة الْحسن والقُبْح الْتزم کل مَا یرد عَلَیْہَا، وَإِن مُخَالف الْإِجْمَاع لَا یکفر وَلَا یفسق، وَأَن رَبنَا سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یَقُول الظَّالِمُونَ والجاحدون علوّاً کَبِیرا مَحلُّ الْحَوَادِث تَعَالَی اللہ عَن ذَلِک وتقدس، وَأَنہ مْرکَّبٌ تفْتَقر ذَاتہ افتقار الْکل للجزء تَعَالَی اللہ عَن ذَلِک وتقدس، وَأَن الْقُرْآن مُحدث فِی ذَات اللہ تَعَالَی اللہ عَن ذَلِک، وَأَن الْعَالم قدیم بالنوع، وَلم یزل مَعَ اللہ مخلوقاً دَائِما فَجعلہ مُوجبا بِالذَّاتِ لَا فَاعِلا بِالِاخْتِیَارِ تَعَالَی اللہ عَن ذَلِک، وَقَولہ بالجِسْمِّیة والجہة والانتقال، وَأَنہ بقَدَر الْعَرْش لَا أصْغَرَ وَلَا أکبر تَعَالَی اللہ عَن ہَذَا الافتراء الشنیع الْقَبِیح، وَالْکفْر البراح الصَّرِیح، وخذل مُتَّبِعیہ وشتت شَمْل معتقدیہ، وَقَالَ: إِن النَّار تفنی، وَأَن الْأَنْبِیَاء غیر معصومین، وَأَن رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم لَا جاہ لَہُ وَلَا یتوسل بِہِ، وأنَّ إنْشَاء السّفر إِلَیْہِ بِسَبَب الزِّیَارَة مَعْصِیّة لَا تُقصر الصَّلَاة فِیہِ، وسیحرم ذَلِک یَوْم الْحَاجة ماسَّة إِلَی شَفَاعَتہ، وَأَن التَّوْرَاة وَالْإِنْجِیل لم تبدل ألفاظہما وَإِنَّمَا بدلت معانیہما اھ ( الفتاوی الحدیثیة :۸۵/۱، ط:دار الفکر، بیروت ) قال ابن حجر العسقلانی : وَمن ثمَّ نسب أَصْحَابہ إِلَی الغلو فِیہِ وَاقْتضی لَہُ ذَلِک الْعجب بِنَفسِہِ حَتَّی زہا علی أَبنَاء جنسہ واستشعر أَنہ مُجْتَہد فَصَارَ یرد علی صَغِیر الْعلمَاء وَکَبِیرہمْ قویہم وحدیثہم حَتَّی انْتہی إِلَی عمر فخطأہ فِی شَیْء فَبلغ الشَّیْخ إِبْرَاہِیم الرقی فَأنْکر عَلَیْہِ فَذہب إِلَیْہِ وَاعْتذر واستغفر وَقَالَ فِی حق عَلیّ أَخطَأ فِی سَبْعَة عشر شَیْئا ثمَّ خَالف فِیہَا نَص الْکتاب مِنْہَا اعْتِدَاد المتوفی عَنْہَا زَوجہَا أطول الْأَجَلیْنِ وَکَانَ لتعصبہ لمَذْہَب الْحَنَابِلَة یَقع فِی الأشاعرة حَتَّی أَنہ سبّ الْغَزالِیّ فَقَامَ عَلَیْہِ قوم کَادُوا یقتلونہ وَلما قدم غازان بجیوش التتر إِلَی الشَّام خرج إِلَیْہِ وَکَلمہ بِکَلَام قوی فہم بقتْلہ ثمَّ نجا واشتہر أمرہ من یَوْمئِذٍ وَاتفقَ الشَّیْخ نصر المنبجی کَانَ قد تقدم فِی الدولة لاعتقاد بیبرس الجاشنکیر فِیہِ فَبَلغہُ أَن ابْن تَیْمِیة یَقع فِی ابْن الْعَرَبِیّ لِأَنَّہُ کَانَ یعْتَقد أَنہ مُسْتَقِیم وَأَن الَّذِی ینْسب إِلَیْہِ من الِاتِّحَاد أَو الْإِلْحَاد من قُصُور فہم من یُنکر عَلَیْہِ فَأرْسل یُنکر عَلَیْہِ وَکتب إِلَیْہِ کتابا طَویلا وَنسبہ وَأَصْحَابہ إِلَی الِاتِّحَاد الَّذِی ہُوَ حَقِیقَة الْإِلْحَاد فَعظم ذَلِک عَلَیْہِم وأعانہ عَلَیْہِ قوم آخَرُونَ ضبطوا عَلَیْہِ کَلِمَات فِی العقائد مُغیرَة وَقعت مِنْہُ فِی مواعیدہ وفتاویہ فَذکرُوا أَنہ ذکر حَدِیث النُّزُول فَنزل عَن الْمِنْبَر دَرَجَتَیْنِ فَقَالَ کنزولی ہَذَا فنسب إِلَی التجسیم وردہ علی من توسل بِالنَّبِیِّ صلّی اللہ عَلَیْہِ وسلّم أَو اسْتَغَاثَ فأشخص من دمشق فِی رَمَضَان سنة خمس وَسَبْعمائة فَجری عَلَیْہِ مَا جری وَحبس مرَارًا فَأَقَامَ علی ذَلِک نَحْو أَربع سِنِین أَو أَکثر وَہُوَ مَعَ ذَلِک یشغل ویفتی إِلَی أَن اتّفق أَن الشَّیْخ نصرا قَامَ علی الشَّیْخ کریم الدّین الآملی شیخ خانقاہ سعید السُّعَدَاء فَأخْرجہُ من الخانقاہ وعَلی شمس الدّین الْجَزرِی فَأخْرجہُ من تدریس الشریفیة فَیُقَال أَن الآملی دخل الْخلْوَة بِمصْر أَرْبَعِینَ یَوْمًا فَلم یخرج حَتَّی زَالَت دولة بیبرس وخمل ذکر نصر وَأطلق ابْن تَیْمِیة إِلَی الشَّام وافترق النَّاس فِیہِ شیعًا فَمنہمْ من نسبہ إِلَی التجسیم لما ذکر فِی العقیدة الحمویة والواسطیة وَغَیرہمَا من ذَلِک کَقَوْلِہ أَن الْیَد والقدم والساق وَالْوَجْہ صِفَات حَقِیقِیَّة للہ وَأَنہ مستوٍ علی الْعَرْش بِذَاتِہِ فَقیل لَہُ یلْزم من ذَلِک التحیز والانقسام فَقَالَ أَنا لَا أسلم أَن التحیز والانقسام من خَواص الْأَجْسَام فألزم بِأَنَّہُ یَقُول بتحیز فِی ذَات اللہ ۔۔۔۔۔۔(الدرر الکامنة فی أعیان المائة الثامنة:۱۷۸/۱، ذکر من اسمہ احمد ، ط: مجلس دائرة المعارف العثمانیة - حیدر اباد/ الہند 14

ٹیگس : علماء، ہند، ابن تیمیہ ۔

[1] . سعادة الدارین فی الردّ علی الفرقتین، ابراهیم سمنودی، ج 1، ص 173.

[2] . عقائد اهل السنة و الجماعة، سهارنفوری، صص 82 ـ 83.

[3] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 86 ـ 87.

[3] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 88 ـ 89.

[4] . همان، صص 90 ـ 91.

[5] . عقائد اهل السنة و الجماعة، ص 99.

[6] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 125 ـ 126.

[7] . عقائد اهل السنة و الجماعة، صص 125 ـ 126.

[8] . سیف الجبار المسلول علی اعداء الابرار، شاه فضل، ص 42.

[9] . سیف الابرار المسلول علی الفجار، ص 111.

[10] . الفتاوی الرضویة، صص 198 و 199.

[11] . همان.

[12] . دعوة شیخ الاسلام ابن تیمیة، ج 2، ص 611.

[13] . دعوة شیخ الاسلام ابن تیمیة، ج 2، ص 611.

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ