اندراج کی تاریخ  11/16/2020
کل مشاہدات  173
ھندوستان میں اہل حدیث اس جماعت کوکہا جاتا ہجو تقلید کے قائل نہیں ہیں ۔برصغیر میں اہل حدیث کا نظریہ سب سے پہلے ابن تیمیہ کےبالواسطہ شاگردوں کے ذریعہ وجود میں آیا ۔اس کے شاگردوں میں سے دو شاگرد نذیر "احمد " اور "صدیق حسن خان "نے اس نظریے کے پھیلانے میں نمایا کردار ادا کیا ۔ ان دونوں نے اہل حدیث کی تقویت اور نشر واشاعت کی کی خاطر "جمعیت اہل حدیث " نامی ایک جماعت کی داغ بیل ڈالی ,جس کے اب ھندوپاک میں بہت سے شعبے پائے جاتے ہیں ۔
حوالہ :  سراج منیر شماره 34

یہ جماعت بہت سے نماں  کام انجام دیتی ہے : جیسے کانفسرنس کرانا ، مدراس کھلوانا ، کتابیں بانٹنا ، اور ضرورت مند لوگوں کی کی مدد کرنا وغیرہ ۔ ایسے ہی یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ ابن تیمہ کے نفی تقلید ، زیارت قبور، توسل، اور غیر خدا سے مدد طلب کرنے کے نظریے کو قبول کرتے ہیں لیکن عصر حاضر میں مسلمانوں کی تکفیر کرنے سے پرہیز اور  اس مسئلے میں سلفی تکفریوں کے مقابلے میں کھڑے رہتے ہیں ۔

اس مقالہ کا مقصد ان دونوں نظریوں کے مشترکات اورمفترقات کو بیان کرنا اور ان کا قدر تفصیل سے جائزہ لینا ہے۔

تاریخ انتشار ۱۱/۴/۱۳۹۹

مجلہ سراج منیر شمارہ ۳۴۔

مصنف : سید اعجازموسوی (موسسہ دار االاعلام لمدرسہ  اھل البیت وکارشناسی رشتہ علوم حدیث  کا طالب علم )

محمد جعفر میلانی(موسسہ دار  الاعلام لمدرسۃ  اہل بیت  وکارشناسی ارشد موسسہ مذاہب اسلامی )۔

 مقدمہ

ھندوستان ہزار ثقافت, سیکڑوں دین اورعجائب وغرائب کی سرزمین کے نام سے مشہور ہے ۔ یہاں  پر ہر قسم  کادین اور ہر طرح کا عقیدہ پایا جاتا ہے ۔اس ملک میں ھندو مذہب کے بعد فقہی اور کلامی قالب میں ڈھلے اسلام کے مختلف مذاہب  کے سب سے زیادہ پیروکار پائے جاتے ہیں ۔ 

ھندوستان اگرچہ رسمی طور سے غیر اسلامی شمار ہوتا ہے  لیکن ابھی تک بھی یہ زمین اسلام کے مختلف مکاتب فکر کی پرورش گاہ کے عنوان سے پہچانی جاتی ہے جس کا دنیای اسلام میں ایک نمایا ںکردار رہا ہے ۔ اہل حدیث انھیں مکاتب فکر میں سے ایک مکتپ ہے جو زمانہ قدیم سے ہی اس ملک میں کام کررہا ہے اور اب تک ھندوستان ،پاکستان ،افغانستان نیزمشرقی ایران میں بھی بہت ہی زیادہ  اثر ندازثابت ہوا ہے ۔

ھندوستان میں یہ مکتب فکر دیگر ناموں جیسے : وہابی اور سلفی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لیکن یہ لوگ اپنے لیے وہابی کے نام سے راضی نہیں ہیں ۔ ھندوستان میں اہل حدیث کی کارکردگیاں اتنے وسیع پیمانہ پر ہیں کہ اگر ان کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا جائے تو شائد کئی جلد کتابیں لکھنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ لیکن اس مقالےمیں فقط ان کے بعض افکار اور نمایا کار کردگی   کے سلسلے میں تحقیق کی گئی ہے ۔

اس تحقیق  کے سابقہ حالات اور تاریخ سے مر بوط کئ کتابیں تالیف ہوچکی ہیں جنمیں سے من جملہ درجہ ِذیل کتابیں ہیں  ہیں :

۱۔ تاریخ اهل حدیث هند؛ مؤلفہ ڈاکٹر بهاء الدین۔   

۲۔ اهل حدیث فی شبه القارة الهندیة؛ مؤلفہ صلاح الدین معقول محمدی۔

۳۔ بررسی زمینه پذیرش وهابیت و راه گسترش آن در شبه قاره هند، مؤلفہفرهاد حاجری۔

۴۔ بررسی سلفی گری در شبه قاره هند؛ نوشته حسن منتظری۔ (۱)

اس مقالہ میں کوشش اس پہلو پر مر کوذ  ہے کہ اہل حدیث کی سابقہ تاریخ ، ان کے، نمایا عقائد ، اور علاقہ کے دیگر سنی مذاہب سے ان کے اشتراکات اور افتراقات کو ان کی اصل کتابوں سے مستند کرکے ، افراط اور تفریط کے بغیر مختصر اور جامع طور پر بیان کئے جائیں  ۔

الفاظ کی پہچان

بحث کو شروع کرنے سے پہلے مناسب ہے  کہ لفظ '' اہل حدیث '' کے بارے میں  تحقیق کی جائے۔

 آخری چند صدیوں میں لفظ ''اہل حدیث ''کے معنی میں تبدیلی آنے کی بنا پر اہل حدیث کی اصطلاح دو معنا میں  قدیم وجدید کی طرف تقسیم ہوتی ہے اور ان دونوں معنا میں قدرے اختلاف بھی پایا جاتا ہے ۔

قدیم  اصطلاح میں اہل حدیث کہ جن کا نام اصحاب حدیث بھی ہے  اس شخص کو کہا جاتا ہے جو حدیث کو پڑھنے اور بیان کرنے ، راویوں کے بارے میں تحقیق اور ان کی دلالت     کی تشریح کے بارے میں مصروف ہوتے ہیں ایسے شخص کو محدث بھی کہا جاتا ہے     ۔

خلاصہ یہ کہ اہل حدیث ایسے شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو فن حدیث پر مسلط، اور اس علم میں متخصص ، کافی حد تک ماہر  اور قیاس سے  دور ہو۔ (۲)جیسے اہل (ادب)کا لفظ ایسے شخص پر بولا جاتا ہے جو ادبیات میں ماہر ہو یا اہل قرآن ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو علوم قرآنی میں مہارت رکھتا ہو بغیر کسی خاص مسلک ومذہب کی قید کے ۔

لفظ اہل حدیث کے معنی  و مطلب معین ہونے کے بعد حافظ محمد الوزیری اان کے افراد کی پہچان کے بارے میں اس طرح تحریر کرتے ہیں :

علم حدیث کے متخصص کو وہ کسی بھی مسلک و مذہب سے تعلق رکھتا ہو اہل حدیث کہاجاتا ہے ۔(۳)۔

مسلم جو خود ایک اہل حدیث ہیں اپنی صحیح  مسلم میں اپنی کارکردگی کے بارے میں اس طرح  اس طرح وضاحت کرتے ہیں : ہم نے  ان بعض چیزوں کے بارے میں جن کی اہل علم جستجو میں مشغول رہتے ہیں ، جیسے مذہب حدیث اور اہل حدیث وغیرہ کی تشریح کی ہے (۴)

موصوف کی اہل علم سے مراد علم حدیث جاننے والے علماء ہیں  ۔

ابن تیمیہ بھی اہل حدیث کی تعریف کے بارے میں  ایسی ہی ذہینت رکھتے ہوئے      بیہقی  کے طریقہ  کار پر اس طرح تنقید کرتے ہیں : کہ بیہقی باب فضیلت میں ضعیف راویت  سے استناد کرتے ہیں۔جبکہ ضعیف روایات کی تشخیص کے لئے  علم حدیث کے اہل کی طرف رجوع کرنا چاہئے ، جیسے عرب نحویوں  کو غیر عرب نحویوں سے تشخیص کا راستہ اہل لغت کی طرف رجوع کرنا ہے  ۔ (۵)

اسی بنا پر قدیم علماء کی اصطلاح میں اہل حدیث ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو علوم حدیث میں مہارت رکھتا ہو ۔

لیکن عصر حاضر میں  اس اصطلاح نے ھندوستان میں جدید معنا  اختیار کرلیئے ہیں  اس طرح  کہ دعوی  کرتےہیں :کہ اہل حدیث  کی اصطلاح غیر مقلدین پر ہی اطلاق ہوتی  ہے ۔

"تاریخ اہل حدیث "نامی کتاب کےمصنف اس تعبیر (اہل حدیث ) کی ا س طرح تعریف کرتے ہیں :'' یہ وہ لوگ ہیں جو شرعی احکام اور ان کے استدلال کو احادیث صحیحہ اور آثار سلفیہ سے اخذ کرتے ہیں اور جب ان کے نزدیک کوئی حکم یا موضوع ثابت ہوجاتا ہے تو پھر اس کے مقابلے میں کسی چیز کو اہمیت نہیں دیتے اور دیگر مجتہدین کے اقوال اس حکم یا موضوع پر عمل کرنے سے مانع یا روکاوٹ نہیں بن سکتے ۔  (۶)۔

شروع شروع میں ھندوستان میں اہل حدیث کو غیر مقلد ،محمدی یا وہابی ،کے نام سے پہچانا جاتا تھا ،یہ وہ  لوگ تھے جنھوں نے وھابی عنوان اور وھابیوں سے شبہ قارہ ھند کے ذہن میں جو منفی اور برے تاثرات پائے جاتے تھے، بچنے کے لئے اپنے نام کو وھابیت سے اہل حدیث میں بدل لیا تھا  ۔ محمد حسین پٹیالوی نےسنہ  ۱۸۵۸ میں ھندوستان کے برطانوی حکومت سے آزادی کے مطالبہ کے دوران ایک کتاب الاقتصادفی مسائل الجھاد '' تالیف کی اس نے اس کتاب میں انگریزوں سے وفاداری اورجہاد سے اپنی مخالفت کا اعلان کیا ۔

اس نے انگریزوں کی اس خدمت کے عوض حکومت وقت  سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کے نام کو وھابی سے اہل حدیث میں تبدیل کردیا جائے۔ (۷)

 

برصغیر میں اہل حدیث کی تاریخ

ھندوستان میں اہل حدیث کی فکر کس  زمانے سے رائج ہوئی اس سلسلے میں دو نظریہ پائے جاتے ہیں :

بعض کہتے ہیں :  اسی زمانہ سے جب اسلام اس ملک میں آیا  یہ تفکر بھی اسی کے ساتھ ساتھ وارد ہوا 

 دوسرا نظریہ : ۔ آٹھویں صدی ہجری میں  یہ مکتب فکر نے   بر صغیر  میں  نفوذ کیا

 آئندہ این نظریات کی تشریح اور تحقیق کی جائے گی ۔   

پہلا نظریہ : ھندوستان میں اسلا م کے ورود کے  وقت  سے اہل حدیث وجود میں آئے

اس نظریہ کے ماننے والے ابو القاسم مقدسی کے قول سے استناد کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : بلاد سند کے اکثر لوگ آصحاب حدیث تھے اور حنفی ، مالکی ، معتزلی ، یا حنبلی مسلکمیں سے کسی بھی مسلک پر عمل نہیں کرتے تھے اور وہ راہ مستقیم پر گامزن تھے ۔(۸)اللہ نے ان انھیں غلو تعصب اور فتنہ سے نجات دے دی تھی ۔

دور حاضر کے اہل حدیث اسی  نظر یہ کی بیحد  تائید کرتے ہیں۔ رمضان یوسف سلفی جمعیت  اہل حدیث پاکستان کی سائٹ پر اپنے ایک مقالہ بنام '' کاوشی حیرت انگیز در تاریخ اہل حدیث  '' نامی مقالہ میں کہتے ہیں میں: ھندوستان میں اہل حدیث کی تاریخ پہلی صدی ہجری سے ملتی ہے ۔

دوسرا نظریہ : ھندوستان میں اہل حدیث کے تفکر کا آٹھویں صدی ہجری میں ورود

بعض  لوگوں کا ماننا ہے کہ چونکہ اہل حدیث کی فکر ابن تیمہ کی میراث ہے لہذاھندوستان میں اس فکر کا ورود بھیآٹھویں صدی ہجری میں ہی ہوا ۔

اس صدی میں اس کے بہت سے شاگرد مصر وشام سے ھندوستان پہونچے اور انھوں نے امر بالمعروف ونھی عن المنکر اور نشر احادیث کا سلسلہ شروع کیا ۔اوراس خطے میں ابن تیمہ کے توحید و شرک کے نظریہ کو پھیلایا نیزتصوف کا سر سخت مقابلہ کیا  اسی  طرح سے انھوں نے حکومت میں بھی اثر ورسوخ حاصل کرلیا  ۔

اس خطہ میں ابن تیمیہ کے مہم ترین  شاگردوں میں عبدالعزیز اردبیلی، علیم الدین اور شمس الدین بن حریری کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔(۹) نویں اور دسویں صدی ہجری میں ابن حجر عسقلانی کے شاگرد سخاوی ، شیخ زین الدین زکریا انصاری، هیثمی اور بہت سے دیگر شاگرد ھندوستان آئے اورانھوں نے اس ملک میں بہت سے علاقوں میں علوم سنت کو زندہ کیا ۔گیارہویں صدی ہجری میں احمد سر ہندی اور عبد الحق دہلوی نے بھی مسلمان ھند  کے بہت سے عادات و اطوارکو تبدیل کیا ۔ (۱۰)۔

مذکورہ بالا دو نظریوں پر تنقید ی نظر

ہندوستان میں اہل حدیث کا  اسلام  کے ورود کے ساتھ والا نظریہ ہندوستان کے بہت سے اہل سنت اورمستشرقین کے نظریہ کے موافق نہیں ہے ۔مثلا نواب صدیق حسن خان ، ہندوستان میں اہل حدیث کے ورود  ہونے کے وقت مسلمانوں کے جذبہ کی  اس طرح توصیف کرتے ہیں:

جس وقت  اسلام (یعنی وہ اسلام جو انکے نظریہ کے موافق ہے اور اس سے ان کی مراد اہل حدیث ہے )ھند میں وارد ہوا تو یہاں کے اکثر لوگ بادشاہوں کا مذہب قبول کرلیتے تھے اور ھندوستانی لوگ حنفی مذہب پر قائم  تھے ۔ حاکم  ،قاضی، عالم، سب کے سب    حنفی مذہب تھے ۔(۱۱)۔

اس کا مطلب یہ ہے  کہ وہ خود قبول کرتے ہیں اہل ھند اہل حدیث سے آشنا ہونے سے پہلے حنفی اور مسلمان تھے ، حقیقت میں   اس کا مطلب یہ ہوا کہ حنفی مذہب اہل حدیث سے پہلے شبہ قارہ ھند میں آچکا تھا  '' دائرۃ المعارف الاسلامیہ '' نامی کتاب بھی جو  مشہور معروف مشرق شناسان جیسے آرنولد،شاخت  وغیرہ نے تالیف کیا ہے، ھندوستان میںاس  مکتب فکر کے ورود کی تاریخ کو ۱۹ ویں صدی عیسوی جانا ہے (۱۲)۔

 مولوی محمد شاہ جہاں پوری بھی پہلے نظریہ(ھندوستان میں اہل حدیث کااسلام کے ساتھ ورود)کی تردیدمیں لکھتے ہیں :کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں مذہب اہل حدیث کا نام بس یہی  چند روز  سے سنا جارہا ہے ۔(۱۳)۔

تیسرا نظریہ  : ھندوستان میں شاہ ولی اللہ کے بعد اہل حدیث کی پیدا ئش

بہت سے دیگر محققین دونوں نظریوں پر اعتراض کرنے کے بعد(جیسا کہ آپ نے کچھ کو یہاں ملاحظہ فرمایا )مانتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ دہلوی کی تحریک کو رسمیت حاصل ہونے کے بعد (یعنی بارہویں صدی ہجری میں)اہل حدیث وجود میں آئےہیں ،  اور جیسا کہ قمر احمد عثمانی لکھتے ہیں : شاہ ولی اللہ کے افکار نے پورے ھندوستان کو اپنے زیر اثر لے لیا اور تفکر اور اجتہاد کی آزادیکی وہ شمع جو انہوں نے روشن کی تھی دو جدید فرقوں کے پیدائیش کا سبب بنی۔ یہ دونوں فرقےاپنے آپ کو شاہ ولی اللہ کی طرف نسبت دیتے ہیں ان میں سے ایک اہل حدیث اور دوسرا دویوبند کہلایا ۔ (۱۴)۔

اگر چہ اس سلسلہ میں دوسرے نظریات  بھی موجود  ہیں ان میں سے ایک نظریہ  اس بات پر مبنی کہ شمالی ھند میں اہل حدیث تیرہویں صدی ہجری مطابق انیسویں صدی عیسوی کے اواسط میں سید نذیر حسین دہلوی اور سید صدیق حسن خان کی  دینی تعلمیات کے ذریعہ وجود میں آیا ہے  (۱۵)۔

مذکورہ بالا نظریوں کا آپس میں مقایسہ کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہونچنے ہیں  کہ تیسرا نظریہ حقیقت کے زیادہ  نزدیک ہے کیونکہ سید نذیر حسین اور صدیق حسن خان سے پہلے ھندوستان میں اہل حدیث کی کوئی مذہبی کارکردگی کا سراغ نہیں ملا ہے ۔

 ھندوستان میں اہل حدیث کی ممتاز شخصیتں

اہل حدیث کے تفکر کی تشکیل اور اس کی  داغ بیل ڈالنے میں چند لوگوں کے نام باقی لوگوں  کی با نسبت زیادہ نمایاں ہیں کہ  ان  میں سے آئینہ اس چند مشہور ترین افراد کا تعارف کرایں گے :

۱۔ نذیر حسین خان دہلوی

نذیر حسین دہلوی  (متوفی ۱۳۲۰ھ ق)محمد اسحاق کے شاگرد تھے موصوف اپنےاستاد کے مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت کے بعد ان کے جانشین قرار پائے ، نذیر حسینابتداء میںتمام مضامین کی تدریس کرتے تھے لیکن بعد میں قرآن و حدیث سے زیادہ محبت کے سبب قرآن وحدیث کے علاوہسب مضامین کی تدریس کو ترک کردیا اور فقط اپنے لئے کرسی فقہ کو محفوظ رکھا ۔(۱۶)۔

خلاصہ یہ کہ موصوف ۶۰ سال تدریس کے کام میں مشغول رہے (۱۷)انھوں نے  تفکر اہل حدیث پر بہت گہرا اثر چھوڑا اس طرح کہ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ  انہی کا حلقہ درس  تدریس  ہی تھا جوشبہ قارہ  ہند میں اہل حدیث کےپروان اور پھولنے پھلنے کا سبب بنا  (۱۸)۔

نذیر حسینکے مشہور شاگرد :

۱۔ سید عبدالله غزنوی ، مصلح مجاهد کے نام سے مشہور تھے

۲۔ محمد بشیر فاروقی صاحب  صیانة الانسان عن وسوسة الشیخ دحلان؛ کتاب کے مولف ۔

۳۔ ابو محمد ابراہیم اروی ، انھیں صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے محمد نصیف کو سلفیت کی طرف ہدایت کی ۔

۴۔ شیخ عبد اللہ غازی پوری ۔

۵۔ شیخ عبد الرحمن مبارکپوری '' تحفہ الاحوذی فی شرح جامع الترمذی  کے مولف ۔ 

۶۔ شیخ ابو القاسم ثنا ء اللہ امرتسری انھوں نے جمعیت اہل حدیث کی بنیاد ڈالی ۔

۷۔ شیخ سعد بن عتیق یہ وہ تھے جنھوں نے نذیر حسینکی سند کو نجدوحجاز میں منتشر کیا ۔(۱۹)

صدیق حسن خان بھوپالی

نذیر حسین کے بعد ھندوستان میں اہل حدیث کی سب سے بڑی شخصیت نواب صدیق حسن خان ہیں .یہ ۱۹ جمادی الاول سن ۱۲۴۸ھ  میں بریلی میں پیدا ہوئے .

۱۲۵۳ میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا اور والدہ نے آپ کی تربیت ذمہ داری سنبھالی ۔(۲۰)۔

صدیق حسن خان اپنے آپ کو نقوی سادات کہتے تھے (۲۱)اور اپنا شجرہ نسب امام علی نقی علیہ السلام تک پہچاتے تھے ۔

یہ خود اپنی تعلیم کے بارے میں اس طرح سے تحریر کرتے ہیں :

میں نے عنفوان شباب  ہی میں پورے قرآن کو بغیر استاد کے  ازبر کرلیا تھا اور سعدی کی بوستان وگلستان کے چند ابواب استاد سے پڑھےباقی خود سے پڑھ لئے تھے ، تمام فارسی کتابوں کا بغیر استاد کے مطالعہ کرلیا ، اور ادبیات ، منطق ، تفسیر، اور فقہ کو مفتی صدر الدین کی شاگردی میں کامل کیا اور انھیں سے درس کی سند بھی حاصل کی ۔

اس کے بعد صدیق حسن بھوپال واپس آگئے اور یہاں پر فقہ السنۃ کو شیخ زین العابدین اور شیخ محمد حسین سے پڑھا اور ان دونوں استادوں سے تعلیمی  سند بھی حاصل کی ، اسی طرح محمد اسحاق شاہ عبد العزیز کے نواسے محمد یعقوب کی سفارش پر عبد الحق شوکانی کے بلاوسطہ شاگرد سے تفسیر وحدیث کی استادی کی سند حاصل کی (۲۲)۔

آپ نے ملکہ بھوپال شاہ جہان  بیگم سے شادی کی اور اپنی بیوی کی دولت سے اپنے مسلک کو پھیلایا ، آخر کار سن ۱۳۰۷میں ھ میں بھوپال میں رحلت کی ۔(۲۳)

نواب صدیق حسن خان کے استاتید میں سے ایک اُستاد جنھوں نے ھندوستان میں غیر مقلد ین کی ترویج میں نمایا کردار ادا کیا وہ  رفیع الدین دہلوی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کے شاگرد صدر الدین دہلوی ہیں ۔

موصوف اہل حدیث کو وھابی نام دینے سے  ہرگزخوش نہیں تھے اور اہل حدیث کے مسلک کو وھابی طرز تفکر سے علیحدہ سمجھتے تھے ،یہاں تک کہ اس سلسلے میں انھوں نے ترجمان وھابیت نامی کتاب بھی تالیف کی ۔صدیق حسن خان نے اہل حدیث سے وھابیت کا نام ہٹانے کی خاطر انگریز حکومت سے معاہدہ کیا جس میں اہل حدیث کو مجاہدوں سے الگ قرار دیا گیا اور شہید اسماعیل ملک ہزارہ سے اپنی سیاسی بیزاری کا اعلان کیا ، انھوں نے اپنے مسلک کومجاہدین  سےعلیحدہ کرنے کی وجہ سے اپنے مسلک کا نام '' موحدان ھند  '' رکھا (۲۴)۔

موصوف ترجمان  وھابیت میں لکھتے ہیں :

ھندوستان میں انگریزحاکم نے ہماری درخواست پر اہل حدیث سے وھابیت کا نام ہٹا نے کو قبول کرلیا اور ایک اشتہار کے ذریعہ اس مطلب کا اعلان بھی نکلوادیا  ،مذکورہ اشتہار کا ہمارے حق میں  مثبت رد عمل ہوا منجملہ یہ کہ موحدان ہند کے بارے میں ھندوستان کی حکومت اور عوام کی ذہنیت کو تبدیل کردیا چونکہ ھندوستانی قوم وھابیت سے بہت زیادہ متنفرتھی  اس طرح کا فیصلہ ضروری نظر آرہا تھا ۔ (۲۵)۔

محمد حسین پٹیالوی

ابو سعید محمد حسین بن شیخ عبد الرحیم مشرقی پنجاب کے پٹیالہ گورداس پور میں سنہ ۱۲۵۲ ھ ق کو پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اپنے شہر میں ہی حاصل کی اوراعلی تعلیم کے لئے دہلی روانہ ہوئے وہاں پر علوم عقلی ونقلی میں مفتی صدر الدین گلشن علی  جونپوری اور نورالحسن ، اور علم الحدیث میں نذیر حسین ،اور محدث دہلوی کے سامنے زانوی ادب طے کئے ۔ سنہ ۱۲۸۱ھ ق میں علمی سند حاصل کرنے میں کامیابی ہوئے ۔دہلی سے واپس  آنے کے بعد لاہور کی چنیان مسجد میں درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔ سنہ ۱۲۹۴  ھ ق میں '' اشاعہالسنہ'' کے نام سے ایک ماہنامہ  کا اجرا کیا جس میں  کیا جس میں اہل حدیث کے عقائد کی ترویج کرتے تھے۔  ، اس ماہنامہ کے ابتدائی  دور میں انھوں نے ابوحنیفہ کی مخالفت میں مضمون لکھے پھر سر سید احمد خان پرتنقیدکی اور کچھ  مدت بعد قادیانیت کے خلاف لکھا ۔ پٹیالوی نے اپنےمسلک کو وھابی  سے اہل حدیث میں بدلنے کے لئے بے حد کوشش کی (۲۶)۔ آخر کار دو جمادی الاول سنہ ۱۳۳۸میں اس دارفانیکو الوداع کہدیا (۲۷)۔

انھوں نے اپنے کچھ علمی آثار اس طرح چھوڑے ہیں :

۱۔ منح النخاری فی ترجیح البخاری

۲۔ التبیان فی رد البرھان

۳۔ الاقتصاد فی مسائل الجھاد وترجمۃ الایقاف

ھندوستان میں اہل حدیث کی کارکردگیاں

ھندوستان میں اہل حدیث نے اپنی تاسیس کی ابتدا سے لیکر اب تک بہت سے امور انجام دیے ہیں جن میں سے ہم ائندہ سطور میں کچھ کو بیان کریں گے ۔

 ھندوستان اہل حدیث کو منظم کرنے کی غرض سے دو کوششیں  بڑے پیمانہ پرانجام دی گئیں ۔

 جمعیت اہل حدیث کی تشکیل

پہلی کوشش عبد العزیز رحیم آبادی کی جانب سے تھی ۔

موصوف ایک طرف تو ھندوستان میں اہل حدیث کے تفکر کی تبلیغ میں مصروف تھے  اور اور دوسری طرف  اس مسلک کے پیروکاروں کو متحد اور منظم کرنے کی فکر میں تھے ۔ مثال کے طور پر اہل حدیث  کی کانفرنس  جو اس زمانہ میں پورے ہندوستان میں نہیں ہوتی تھی اور  ملک گیر صلاحیت کی حامل نہ تھی ، رحیم آابدی کی کوششوں سے اسسلسلے میں کامیابی حاصل ہوئی ،اس طرح  کہ جو جلسہ شروع میں مدرسہ احمدیہ میں منعقد ہوا اس میں اہل حدیث کے لئے ایک صدر کی موجودگی کے ضروری ہونے کو شوری کے سامنے رکھا گیا اور متفق آراء سے ابو محمد ابراہیم آردی صاحب جمعیت اہل حدیث کے صدر  کے عنوان سے منتخب  ہوگئے ۔  (۲۸)۔

دوسری کوشش جو اہل حدیث کو منظم کرنے کی غرض سے انجام دی گئی ،اُسے ثنا ء اللہ امرتسری نے انجام دیا انھوں نے ایک ہفتہ نامہ کے ذریعہ اہل حدیث کو ایک تنظیم بنانے کی دعوت دی ۔ اسی طرح ایک اکتبوبر ۱۹۰۲عیسوی کو ایک اشتہار نکالا گیا اوراہل حدیث کو مخاطب کرکے اعلان کیا  : اگر آپ سب  اس تحریک کی تائید  کرتے ہیں تو اپنی آراء اور نظریات کو  بیان کریں تاکہ ماہ شوال میں منعقد ہونے والے جلسے میں اس کے بارے میں  تبادلہ خیال کیا جاسکے (۲۹)۔

  اور اس طرح ۲۲۔ ۲۳۔ دسمبر ۱۹۰۲  میں صوبہ  بہار  کے مدرسہ احمدیہ میں ایک جلسہ منعقد ہوا اور اس جلسے میں ''اہل حدیث کل ھند کانفرنس '' نامی تنظیم  کی بنیاد رکھی گئی جس میں حافظ محمد اس تنظیم  کے صدر مقرر ہوئے اور موصوف نے اہل حدیث کے  تمام اختیارات تین علماء عبد العزیز رحیم آبادی ، ثناء اللہ امرتسری ا ور محمد ابراہیم سیالکوٹی  کے سپرد کردیے(۳۰)۔ 

رحیم آبادی دہلی میں اہل حدیث کے لئے  ایک مرکزی دفتر کی جگہ خالی دیکھ رہے تھے لہذا انھوں نے ۱۹۱۸میں دہلی کے ھندوواڑہ محلے میں '' دارالحدیث رحمانیہ '' نامی مدرسہ کی بنیاد ڈالی لیکن سنہ ۱۹۴۷ میں جو ھندوستان کی تقسیم کا زمانہ تھا  اور شبہ قارہ میں  جگہ جگہ شورش اور  ، فتہ تھے اس طرح سے کہ شورشی افراد ہر چیز کو برباد کرتے اور آگ لگاتے دیتے تھے ،لہذا اس فتنے سے اہل حدیث بھی آمان میں نہ رہ سکے ۔ ان کے کتب خانہ کو آگ لگا دی گئی اور مدرسہ رحمانیہ جو اہل حدیث کے اجتماع کی مقام  تھی اغیار کے ہاتھوں میں چلا گیا (۳۱)۔

 سنہ ۱۹۶۱ میں اہل حدیث کو دوبارہ زندہ کرنے کی غرض سے '' نوگڈھ  '' میں ایک اجلاس ہوا جس کا نتیجہ '' جامعہ بنارس '' کی تاسیس کی صورت میں ظاہر ہوا ۔ ۱۹۶۳ میں مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور ۱۹۶۶ میں با قاعدہ اس نے  اپنی فعالیت کا آغاز کردیا ۔  

تاریخی شواہد کی بنا پر ہندوستان میں  اہل حدیث کے مدرسہ کی تاسیس میں سعودی حضرات بھی حاضر شامل تھے  ۔اس سلسلے میں آردی لکھتے ہیں :  

مدرسہ کے افتتاحی اجلاس کے پلانگ کرتے وقت  اچانک میرے ذہن میں آیا کہ سعودی کے شاہ کوبھی دعوت دی جائے اور تاکہ اسی کے ہاتھ سے سنگ بنیاد رکھا جائے ، لیکن ہمیں شاہ کے  بیمار ہونے کی خبر ملی  ہیں لہذا ہم نے بادشاہ سے درخواست کی کہ مدرسہ کی تاسیس میں اپنے نمائندہ کوبھیج دیں ، ہماری درخواست کو منظور کرلیاگیا اور میرے پاس اس مضمون کا ٹیلی گرام آیا کہ ہم نے ھندوستان میں اپنے سفیر کواپنی نمائیندگی کے  لئے معین کردیا ہے۔ ہم خصوصی جہاز سے سفیر کوبنارس لے آئے اور اس نے پروگرام کے افتتاح اور مدرسہ کی سنگ بنیاد رکھنے کا فریضہ انجام دیا  (۳۲)۔

حال حاضر میں یہ مدرسہ سلفیوں کا سب سے بڑا مدرسہ ہے ،لیکن  اس  کے باوجود  انھوں نے مدرسہ  کی جگہ کو ناکافی دیکھا  چونکہ اسی کے زیر نگرانی دیگر ۳۰ مدرسہ  ادارہ ہوتے ہیں ۔ یہاں سلفیہ کے دروس کی تدریس کے علاوہ یوینورسٹی کا ایک شعبہ بھی کام کرتا ہے تاکہ طلاب دینی یہاں سے ایم  ائے  تک کی سند حاصل کرسکیں ۔ حال حاضر میں یہاں کےناظر اعلی عبد اللہ بن مسعود بن عبدالوحید سلفی ہیں (۳۳)۔

ھندوستان میں اہل حدیث کی  فعالیت اور کارکردگی  بڑحانے کی نیت  سے متعدد کانفرنس اور اجلاس منعقد ہوتے ہیں طلاب کی تربیت اور تبلیغ کے سلسلے میں تبادلہ خیال ہوتا ہے  ۔ انھیں میں سے ایک اجلاس میں سے اہل حدیث کے بزرگوں  نے یہ مصلحت دیکھی کہ '' کل ھنداہل حدیث کانفرنس '' کا نام بدل کر" مرکزی جمعیت اہل حدیث "رکھ دیا جائے (۳۴)۔

زمانہ حاضرمیں مرکزی جمعیت اہل حدیث کی  کارکرردگیاں

مرکزی جمعیت اہل حدیث کا دفتر آج کل دہلی میں ہے اس کے صدر اصغر علی امام مہدی ہیں (۳۵)یہ مرکز اپنے اغراض  ومقاصد کا چند چیزوں میں خلاصہ کرتا ہے ۔جنھیں ہم ذیل میں تحریر کررہے ہیں :

دعوت ا ورتبلیغ

مرکزی جمعیت اہل حدیث  کا ایک مقصد، ھندوستان بھر میں سلفی اہل حدیث کے افکار کو پھیلانا ہے، اور یہ لوگ اپنے اپ کو سچے مسلمان اور بعض  مسلمانوں کو کے مکاتب فکر کو بدعت سے  آلودہ جانتے ہیں اسی وجہ سے ان کی ھدایت کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں  ۔

اہل حدیث رسول اللہ کے میلاد اور مجالس عزاداری کو بدعت اور حرام جانتے ہیں ،بہت سے بعض ماہرین  ان کو حرام کرنے  کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ : کہ مقلدین (تقلید کے قائل حضرات ) اور صوفی مسلک کے لوگ اس طرح سے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے اپنے مذہب کے ہیغامات ان کی سماعتوں تک پہونچاسکتے ہیں یہ اتحاد اور اس کے نتیجہ میں تقلید کی نشر و اشاعت اہل حدیث کے مفاد میں نہیں ہے ، دوسری طرف جب اہل حدیث خود کو اس قسم کے اجتماعات سے محروم کرلیتے ہیں تو تبلیغ اور اپنے پیغام لوگوں تک پہونچانے کے لئے کانفرنس اور اجلاس منعقد کرنے کے محتاج ہونگے ۔ لہذا دوران سال متعدداجلاس منعقد ہوتے ہیں نمونے کے طور پر عرض ہے کہ  ، اہل حدیث نے سن ۲۰۰۳ سے ۲۰۰۱۱تک ۸۷ کانفرنیسں منعقد کیں ۔ (۳۶)۔

اسی طرح سن ۲۰۰۳ سے ۲۰۱۰ تک آٹھ  قلیل المدت کورس کا اہتمام کیا  گیا جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے شرکت کی ان تربیتی پروگروموں میں کورس کی سند کے علاوہ شرکت کرنے والوں کو بہت سی کتا بیں بھی ہدیہ کی گئی۔ اسی طرح ان برسوں کے  دوران کتابخوانی کے گیارہ مقابلے بھی برپا کیئے  گئے  ۔(۳۷)۔

نشر واشاعت

اہل حدیث اپنا فریضہ  جانتے ہیں کہ مسلمانوں کےدرمیان رائج خرافات کی اسلاح کی غرض سے کچھ کتابیں(جیسے : زیارت قبور کے لئے رخت سفر باندھنا،توسل ،عزادری وغیرہ سے روکنا ) چھپوائیں جو ظاہر میں آیات وروایات کے مطابق اور اہلسنت والجماعت کے نام سے ہوں  لیکن حقیقت میں اہل حدیث کے دفاع اور ان کے خلاف لکھی جانے والی کتابو ں کے جواب میں لکھے  گئی ہوں    جمعیت اہل حدیث چار رسالے ، عربی ، اردو ، انگلش میں نکالتے ہیں جن کے نام یہ ہیں : ترجمان ، اصلاح ، سماج ہند، ودی سمپل تروتھ، جن میں اہل حدیث کے افکار کوبیان کیا جاتا ہے ۔

تعلیم وتربیت

جمعیت اہل حدیث کے بنانے کے اغراض و  مقاصدمیں سے ایک مقصد جوانوں کی تعلیم و تربیت ہے اس سلسلے میں دار العلوم بنارس  کی حمایت کرنا ،جو سلفیوں کا مرکزی مدرسہ ہے ، مہم ترین  کاموں میں شمارہوتا ہے  ۔ مذکورہ مدرسہ کے علاوہ دیگر مدرارس بھی موجود ہیں جو اس راہ میں حصہّ لیتے ہیں نمونہ کے طور پر جامعہ رحمانیہ ، جامعہ احمدیہ سلفیہ ، جامعہ دار السلام عمرآباد ، جماعہ سلفیہ کیرالا ،جامعہ اسلامیہ  بمبئی ، اور جامعہ ابن تیمیہ کو شمار کیا جاسکتا ہے ۔(۳۸)۔

اسی طرح اہل حدیث سے مربوط ادارے ،ان اسٹوڈینٹس کو جو مختلف  مضامین جیسے ڈوکٹری انجئرنیگ  میں ینورسٹیوں میں قبول ہوتے ہیں ، تعلمی اخراجات ادا کرتے ہیں اور دیگر اداروں سے بھی تعلیمی اخراجات  حاصل کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔

۔(۳۹)۔

اہل حدیث کا ھندوستان کے ہرصوبے میں ایک شعبہ ہے جو اپنی مخصوص فعالیت انجام دیتا ہے جسکی تمام  تفصیلات  کی گنجائش اس مقالہ میں ممکن اور مقدور نہیں ہے

اہل حدیث کے عقائد

یہ کہا جاسکتا ہے کہ ھندوستانی  اہل حدیث کے وہی عقید ے  ہیں جو ابن تیمیہ کے تھے ، ھندوستان میں شاہ ولی اللہ دہلوی کی سلفی تحریک،حجاز میں محمد عبد الوھاب کی تکفیری تحریک کا زمانہ تقریباًایک ہی تھا یہ دونوں شخص  محمد حیات سندی کے شاگرد تھے اور انہوں نے ابن تیمیہ کے افکار کو محمد حیات سندی کے ذریعہ حاصل کیا تھا ۔(۴۰)۔

یہاں  پر اہل حدیث کے افکار اورعقائد کی چند  نمونہ بیان کئے جارہے ہیں:

۱۔ غیر خدا سے مدد مانگنا  

اہل حدیث غیر خدا سے ہر قسم  کی مدد مانگنے کو  کو شرک جانتے ہیں صدیق حسن خان کہتے ہیں : اگر انسان لاالہ الااللہ کے معنی میں غور وفکر کرے تومتوجہ ہوجائے گا  کہ جو بھی غیر خدا  سے،جیسے انبیاء ،فرشٹے ، اولیا خدا ، یا جن اور شیطان ، سے کوئی چیز طلب کرے یا ان سےفریاد کرے تو وہ دین سے خارج ، کافر اور مشرک ہوگیا ہے ۔ اور پیغمبر اسلام نے حکم دیا تھا ایسے انسان کوقتل ہونا چاہئے۔ (۴۱)۔

تنقید ی جائزہ

غیر خدا سے مدد مانگنے کی  دو قسم ہیں  ایک یہ کہ انسان جس شخص سے مدد  مانگ رہا ہے اُسے اپنی حاجت پورا کرنے  میں مستقل سمجھے ،تو یہ عمل  شرک ہے اور اسے کو ئی بھی مسلمان قبول نہیں کرتا ۔

دوسرے یہ کہ  مدد مانگنے والا شخص ، اس انسان کو مدد کرنے میں مستقل طور پر اثر انداز نہیں سمجھتا بلکہ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ انسان اللہ کے اذن سے اس کی مدد کرے ۔ اکثر مسلمان اس نظریہ کو قبول کرتے ہیں اور شرک نہیں سمجھتے ،  کیونکہ قرآن مجید میں  بھی کچھ آیتیں اس عمل  کےجائز ہونے  پر دلالت کرتی ہیں ،مثلا وہ آیت جس میں حضرت یعقوب کے بیٹے اپنے والد ماجد سے کہتے ہیں ائے والد گرامی ہمارے لئے خدا سے مغفرت طلب کرو کیونکہ ہم نے گناہ گار ہیں  (۴۲)۔

انھوں نے  اس کے بجائے کہ خدا وند عالم سے بلاوسطہ طلب مغفرت کرتے اپنے باپ سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کریں حضرت یعقوب نے بھی انھیں اسکام سے نہیں روکا ۔نیز استغفارِ رسول والی آیت بھی اسی مطلب پر دلالت کرتی ہے ۔اس آیت میں خدا وند عالم حضور پاک کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے : اگروہ لوگ جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے تمہارے پاس آکر خدا سے طلب مغفرت کریں اور پیغمبر بھی ان کے لئے خدا سے بخشش چاہیں تو تم خدا کو توبہ قبول کرنے والا پاوگئے (۴۳)۔

عام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی حیات میں آپ سے توسل اور استغاثہ کرنا جائز ہے اور انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قبور میں زندہ ہیں لہذا  حضور کی  وفات کے بعد بھی ان سے استغاثہ کرنا جائز ہے ۔

شیخ نور الحق اس اس سلسلے  میں تحریر کرتے ہیں : جمہورمسلمین اور ہمارا قول یہ ہے کہ   کا کہ انبیا ءعلیہم السلام اپنے مزاروں میں زندہ ہیں (۴۴)۔

اس بارے میں محمد ادریس کاندھلوی کہتے ہیں : اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام وفات کے بعد اپنی اپنی قبروں میں زندہ اور عبادت خدا میں مصروف  ہیں(۴۵)۔

سعودی عالم دین سید محمد بن علوی مالکی لکھتے ہیں :

اگر استغاثہ اور توسل زمان حیات میں جائز ہو تو وفات کے بعد بھی جائز ہے ۔ اسی کے ضمن میں کہا جاتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،قبر میں زندہ ہیں ، اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طلب شفاعت ،استغاثہ اور توسل شرک ہے تو کس طرح ایک حالت میں جائز ہے ، اور دوسری حالت میں کیسے  حرام ہوجاے گا ؟

 جبکہ شرک وکفر خدا وند عالم کے نزدیک ہمیشہ مبغوض ہے (۴۶)۔

اس بنا پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی وفات کے بعد آنحضرت سے استغاثہ کے ممنوع ہونے پر مبنی اہل حدیث کا دعوی ،آیات ، روایات اور اہل سنت کی اکثریت کے عقیدے کے مطابق نہیں ہے ۔

اہل قبور  سے حاجت مانگنا  

صدیق حسن خان زیارت کو دو قسموں  میں تقسیم کرتے ہیں ایک  قسم جائز اوردوسری نا جائز ہےوہ کہتے ہیں :جائز زیارت یہ ہے کہ انسان میت کو سلام کرے اوراس کے لئے دعا کرے نماز میت بھی اسی قسم   سے   ہے ۔ اور ناجائز زیارت وہ ہے کہ زائر میت سے حاجت مانگے یا اس کو  وسیلہ بنائے (۴۷)۔

موصوف اسی طرح پیغمبر وں  اور صالحین کی  قبروں  کی زیارت کو تین حصوں  میں تقسیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو مورد اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ اگر میت سے ایسی حاجت طلب کی جائے جیسے خدا کے علاوہ کوئی پورا نہ کرسکتا ہو (جیسے مریضوں کی شفاء )تو یہ کام شرک ہے جس سے توبہ کرنا چاہئے ورنہ اس کا خون جائز ہے (۴۸)۔  

صدیق حسن خان ابن تیمیہ سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں : جو بھی مردے کو پکارے وہ کافر ہے اگرچہ وہ شخص خلفاء راشدین میں سے ہی ہو اور اگر کوئی ایسے شخص کے کفرمیں شک کرے تو وہ بھی کافر ہے (۴۹)۔

تنقیدی جائزہ  

صدیق حسن خان مردوں کو وسیلہ بنانے کو ناجائز جانتے ہیں جبکہ  اہل سنت کی معتبر روایات اس کے دعوی کے  بر خلاف ثابت کرتی ہیں ۔

مثال کے طور پر ھیتمی روایت کرتے ہیں : کہ ایک شخص خلیفہ سوم سے ملنا چاہتا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکا عثمان بن حنیف اس کے حال سے واقف ہوئے اور اسے  نصیحت کی کہ وہ نماز پڑھے اور نماز کے ضمن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم سے توسل واستغاثہ یعنی مدد مانگے تاکہ آنحضرت اس کی مشکل برطرف کریں ۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا اور خلیفہ سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔   (۵۰)۔

زیارت قبور کے لئے  ''رخت سفر باندھنا  ''

شاہ اسماعیل دہلوی بھی معتقد ہیں کہ قبروں  پر اہل  قبور کی زیارت کے لئے فقط  اس صورت میں جائز ہے کہ تاریخ  اور وقت معین نہ ہوں تاکہ لوگ اپنےاس عمل سے ہمیشہ موت کی یاد میں رہیں اور دنیا سے بے رغبت ہو جائیں ،لیکن قبور کی زیارت کے لئے وقت و سال کی تعین کے ساتھ اور مخصوص ایام میں رخت سفر باندھنا  نیز قبروں پر عمارت بنانا ، چراغ روشن کرنا ان پر تاریخ ولادت، وفات اور قرآنی آیات لکھنا بدعت اور حرام ہیں ، وہ لکھتے ہیں :

اکثر افراد جو یہ کام انجام دیتے ہیں،معتقد  ہوتے ہیں  کہ اُن کے بزرگان مشکل کشاء اور حاجت کو پورا کرنے والے ہیں ،حالانکہ مشکل کشائی خدا کے علاوہ کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے اور یہ بزرگان بھی خدا کے محتاج ہیں اور یہ عقیدہ وہ ہے جو مسلمانوں کے درمیان یہودیوں سے پہنچا ہے (۵۱)۔

تنقیدی جائزہ

اہل حدیث کی اصل دلیل حدیث شد رحال ہے ''رخت سفر باندھنے'' والی حدیث ہے ،سہارنپور ی مذکورہ حدیث  سے اہل حدیث کے استفادہ کے بارے میں لکھتے ہیں : ''رخت سفر ''کی روایت میں جو نہی وارد ہوئی ہے وہ مساجد سے متعلق ہے ، نہ کہ تمام عمارتوں سے اور اگر مان لیا جائے کہ تمام عمارتوں سے متعلق ہے اور جو استثناء ہوا ہے وہ ان تین مسجدوں کی فضیلت کی وجہ سے ہوا ہے ۔

قبر نبی کی فضیلت اس قدر ہے کہ نہ فقط یہ کہ اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ زائر اس کی طرف ''رخت سفر'' باندھے  بلکہ اولی یہ ہے کہ زائر آنکھوں کے بل قبر نبی اکرم کی زیارت کا سفر طے کرے (۵۲)۔

اس کے علاوہ اسلامی منابع سے حضور کی قبر شریف کی زیارت کے بارے میں بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں۔ان میں سے بعض درجہ ذیل ہیں :

۱۔ جو شخص میری قبر کی زیارت کرےمیں اس کی شفاعت کرونگا  (۵۳)۔

۲۔ جو  شخص میری وفات کے بعد میری زیارت کو آئے گویا  وہ میرے زمانہ  حیات میں میرے پاس آیا ہے  (۵۴)۔

۳۔ جو شخص حج بجا لائے  اور میری زیارت نہ کرے ، اُس نے مجھ پر  جفا کی ہے (۵۵)۔

آیت اللہ سبحانی اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : علامہ امینی  نےاس حدیث کو اہل سنت کے ۴۰ علماء سے نقل کیا ہے اور اگر اس میں شیعہ راویوں کا بھی اضافہ کردیا جائے تو یہ حدیث متواتر سے بھی بڑھکر ہو جایگی (۵۶)۔

ھندوستان و پاکستان کے عام مسلمان مذکورہ روایتوں کے سایہ میں انبیاء اور اولیاء کی قبور کی زیارت کو مستحب جانتے ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے سفر کرنے کو بہترین عمل شمار کرتے ہیں ، جیسا کہ نقل ہوا ہے کہ اہل سنت کے بعض علماء پیغمبر اکرم ص کی زیارت کو واجب اور بہت سے واجب کے قریب جانتے ہیں (۵۷)۔

مثال کے طور پر زرقانی لکھتے ہیں : جان لو قبر پیغمبر کی زیارت اعمال میں سب سے بہتر ین عمل امیدبخش ترین عبادت اور درجاجات حاصل کرنے (معنوی)کا بہترین راستہ ہے ۔جو شخص اس بات کا مخالف ہے ، دائرہ اسلام سے خارج اوراس نے خدا پیغمبر اور علماء کی مخالفت کی ہے ۔(۵۸)۔

تکفیر

تکفیر کا مسئلہ عالم  اسلام کے مشکل مسائل میں سے  پیچیدہ ترین اور قدیم  مسئلہ ہے ، اس کی تاریخ  امیر المومنین علیہ السلام سے خوارج کی دشمنی اور لشکر کشی کی طرف پلٹتی ہے  ،اس کے بعد بھی  بہت سے عناصر ایسے ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو عالم کا نام دے لیا تھا اپنی کج فکری، استکبار اور اہل بیت مخالف طاقتوں سے اتحاد کرکے اس طولانی تاریخ میں اس قسم کے  شجرہ خبیثہ کو پالا پوسا اور اب تک پالتے آرہے ہیں، مثلا ابن تیمیہ  نے ساتویں آٹھویں صدی ہجری میں بعض اعمال  جیسے زیارت قبور کو شرک بتا یااور بعض دوسروں نے بھی  دوسروں نے نھی دانستہ یا نا دانستہ اس کے موقف  کو رائج کیا ۔ یہاں تک کہ یہ کج  فکری محمد  ابن عبد الوھاب تک پہنچی اس کے ذریعہ سے  اس فکر کو تقویت حاصل ہوئی ،اور  وھابی فکر اُبھرتی چلی گئی  اور اس طریقہ سے وھابی تفکر وجود میں آیا اور آل سعود کی حکومت نے بھی اس افراطی مذہب کی مالی اور انسانی حمایت کی  ہے اس انحرافی فکر نے اب تک بہت سے جوانوں کو فریب دیا ہے ۔

عالم اسلام کے لئے تکفیر کا مسئلہ اسقدر خطرناک ہے کہ عالمی استکبار بھی اس سلسلہ میں  دخالت کرہا ہے ،اس قدر خطرناک ہے  کہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ دشمنان اسلام نے مسلمانوں کو ترقی سے پیچھے رکھنے کے لئے جو اہم ترین راستہ  اختیار کیا ہے وہ تکفیر کا مسئلہ ہے ۔

ھندوستان کے اہل حدیث ابتدامیں اپنے آپ کو تکفیر کے مخالف کہتے تھے اور دعوی کرتے تھے کہ وہ معین تکفیرسے بیزار ہیں مثال کے طور پر عبد الحق اہل قبلہ کی اس طرح تعریف کرتے ہیں : اہل قبلہ وہ لوگ ہیں جو قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں کتاب خدا اور سنت سے متمسک رہتے ہیں اور زبان پر کلمہ شھادتین جاری کرتے  ہیں،اگر ان کی بعض  باتوں سے کفر کی بو بھی آتی ہو تو بھی ہم اُنھیں کافر نہیں کہ سکتے البتہ اس شرط کے ساتھ  کہ  کفرآمیزباتو ں کی تکرار نہ کرے اور کفر آمیز افعال اس سے ظاہر نہ ہوں ۔ اور جہاں تک ممکن ہو اس کی اصلاح اور تکفیر کرنے سے پرہیز کرے ، کیونکہ حدیث میں  آیا ہے :اگر کوئی شخص  کس دوسرے کو کافر کہتا ہے اور وہ شخص کافر نہ ہو تو خود وہی کہنے والا کافر ہوجائے گا ،اورلعنت کے بارے میں بھی حدیث  میں یہی وارد ہوا ہے  ۔(۵۹)۔

لیکن صدیق حسن خان عبدالحق کے بر عکس مسلمانوں کے بہت سے کاموں کو کفر وشرک کا مصداق جانتےہیں وہ کفر کو دو قسموں  کفر عملی ،اور کفر اعتقادی، میں تقسیم کرتے ہوئے کہتے ہیں  : اس میں کوئی شک نہیں کہ کفر کی دو قمسیں ہیں قبروں سے عقیدت رکھنے والوں کے اعمال کی تکفیر کرنا نہایت غلط ہے لیکن جو لوگ اولیاء کرام سے توسل کرکے ان سے حاجت مانگتے ہیں ، اور ان کی قبروں کا طواف کرتے ہیں کافر ہیں اور قبور کے معتقد لوگوں کا شرک زمانہ جاہلیت کے مشرکوں کے شرک سے بھی شدید  اور بدتر ہے ۔(۶۰)۔

اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ  تکفیر کے سلسلے میں ھندوستان کے  اہل حدیث کا وہی نظریہ ہے جو ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوھاب کا تھا ۔

اہل حدیث ہند کی نظر میں کلامی مذاہب

اہل حدیث کی تحریک سے  پہلے برصغیر کے تمام اہل سنت کلامی لحاظ سے یا اشعری تھے یا ماتریدی تھے ۔ ابتداء میں اہل حدیث کے علماء بھی ان کے خلاف کوئی رای پیش نہیں  کرتے تھے ،لیکن مرور زماں کے ساتھ ساتھ ابن تیمیہ اور ابن قیم کے کلام کو ان کے کلام پر  ترجیح دیتے ہوئے مخلاف موقف اختیار کرلیا کے ۔ اس بارے میں ڈاکٹر سہل حسن خان کہتے ہیں :

ابتداء میں اہل حدیث اشعری عقیدہ پر تھے لیکن ابن تیمیہ کے عقائد کی پیروی اور اشعریوں سے اختلاف ہونے کی وجہ سے مجبور ہوئے  کہ آہستہ آہستہ معتزلہ اور اشاعرہ کے عقائد سے دور ہوجائیں ۔ اس سلسلے میں امرتسری کا نام لیا جاسکتا ہے  کہ وہ ابتداء میں اشعری تھے لیکن جب وہ تعلیم کے لئے سعودی عرب گئے تو آہستہ آہستہ سلفی عقیدہ کو قبول کرلیا (۶۱)۔

بعض علماء اہل حدیث نے تو علم کلام کو سرے سے ہی باطل قرار دے دیا ہے ،مثال کے طور پر محمد یحی گونڈوی لکھتے ہیں :

جولوگ کتاب وسنت کے بجائے اپنے عقائد کو  علم کلام سے ثابت کرتے ہیں اور معقولات کو اپنے عقائد کا محور اور بنیاد  قرار دیتے ہیں ، ہمیشہ حیرت اور پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں (۶۲) ۔ 

موصوف متکلمین کے قول سے استناد کو غلط جانتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ انکار انبیاء میں مشرکین نے بھی یہ ہی راہ اختیار کی تھی۔

اہل حدیث  کےفقہی نظریے    

اہل حدیث کا دیگرمذاہب اہل سنت سےنمایا ں ترین  فرق تقلید کا انکار کرنا ہے ۔ آنے والی سطور میں ہم اسے تفصیلی طور سے ذکر کریں گے ۔

اجتہاد اور تقلید

ایک بنیادی  اصول جو اہل حدیث کو تمام مذاہب  اہل سنت سے جدا کرتا ہے ،تقلید کا مسئلہ ہے ، اہل حدیث کسی ایک معین شخص کی تقلید کو جائز نہیں جانتے بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے۔ھندوستان کے اہل حدیث  تقلید کے باطل ہونے پر مبنی اپنے استدلال میں ،لوگوں کو  دوگروہوں میں تقسیم کرتے ہیں :

پہلا گروہ : یہ عام  لوگ ہیں اگر یہ لوگ کثرت مشاغل کی وجہ سے علم سے دور ہوں تو مسائل دینی کو حاصل کرنے کے لئے علماء کی طرف رجوع کریں اور مناسب ہے کہ ایسے علماء اور محدثین سے مسائل حاصل کریں جو دیندار ہوں  ۔

دوسرا گروہ : طلاب اور صاحبان علم ہیں جن کی ذمہ داریاں مختلف ہیں ،اگرکوئی شخص طالب  علم و دانش اور دل میں علم حاصل کرنے کا شوق رکھتا ہو،مناسب ہے  کہ پہلے قرآن وحدیث پڑھے ،اور اس کے بعد دوسری کتابوں کو دیکھے تاکہ تشخیص کی قدرت حاصل کرسکے اور سمجھ سکے کہ علم کے مختلف مسائل میں کس نے صحیح راستہ اختیارکیا ہے اور کون کجروی کا شکار ہواہے۔ اس بنا پر اگر کوئی مسئلہ قرآن وحدیث میں صریحاً بیان ہوا ہے تو اس میں کسی بھی مجتہد کی تقلید جائز نہیں ہے ۔

اہل حدیث اجتہاد کے اثبات اور تقلید کی نفی  کے لئے  کچھ دلائل پیش کرتے ہیں :  

۱۔ ایک حدیث پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے  جس میں آپ معاذ سے پوچھتے ہیں :ائے معاذ اگر میری موجودگی  میں تمہیں کوئی مسئلہ پیش اجائے تو کیا کروگے ؟معاذ نے کہا : کتاب خدا میں جستجو کرونگا ۔ آپ نے پوچھا اگر اس میں بھی نہ ملا تو ؟ معاذ نے کہا : رسول خدا کی سنت کی طرف رجوع کرونگا ۔ فرمایا اگر اس میں بھی نہ ملا تو ؟ معاذ نے کہا : اپنی رای پر عمل کرونگا اور اجتہاد کرونگا ۔ اس پر پیغمبر نے اسکو سراہا اور تعریف کی ۔ یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ جب تک  کوئی مطلب قرآن و سنت میں موجود ہے  تو اجتہاد جائز نہیں ہے ۔لہذا گر کوئی شخص ایسے حکم میں اجتہاد کرے جو کتاب خدا میں موجود ہو  تو اس کا اجتہاد بے اثر  اور بے نتیجہ ہوگا اور اُسے اس سے صرف نظر کرنی چاہئے ، کیونکہ قرآن و سنت میں اجتہاد کرنا قرآن و سنت کے نسخ ہوجانے کے مترادف ہوگا ۔

ابو حنیفہ نے بھی اس بارے میں اپنے مقلدین کے لئے دو بات کہیں ہیں  بیان کئے ہیں : ایک یہ کہ اگر میرے قول کو حدیث کے مخالف پاو تو اُسے دیوار پر ماردو ۔

دوسرے یہ کہ : اگر تمہیں پتا نہ چل پائے کہ میں نےاپنے فتوی کو کہاں سے استنباط کیا ہے اور میری دلیل کیا ہے تو تمہیں میری رای پر عمل کرنے کا حق نہیں ہے ۔

۲۔ دوسری دلیل ، متاخرین کے ذریعہ قول متقدمین کو باطل  کرنے کا جائز ہونا ہے ، یعنی  جب جدید زمانےکے علماء قدیم علماء  کے قول کو قرآن وحدیث کے مخالف پاتے تھے ، تواس پر عمل نہیں کرتے تھے اور دینی احکام کو بلاوسطہ آیات ورایات سے لیتے تھے بہت سے علماء  نےاسی مطلب کو  صراحت سے بیان کیا ہے(۶۴)۔

صدیق حسن خان بھی تقلید کی تعریف میں لکھتے ہیں : تقلید یعنی دوسرے کے قول کو بغیر دلیل کے قبول کرنا یعنی   مقلد

قرآن و سنت میں تلاش کرنے کے بجائے اپنے مسلک کے  امام سے دریافت کرے ۔(۶۵)۔

موصوف تقلیدکو باطل کرنے کے لئے ابو ہریرہ سے منقول ایک روایت کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں : خدا وند عالم نے فرمایا  ہے : نماز میرے اور بندہ کے درمیان تقسیم ہوئی ہے آدھی میری ہے اور آدھی بندے کی ہے۔ میرے بندہ کا میرے اوپر حق ہے کہ مجھ سے سوال کرے (إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ)موصوف اس آیت سے اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ یہ آیت جس طرح توحید اور شرک کی نفی پر دلالت کرتی ہے ،  تقلید کے انکار پر بھی دلالت کرتی ہے (۶۶)۔

تنقیدی جائزہ

صدیق حسن خان سورہ حمد کی پانچویں آیت سے نفی  تقلید کا نتیجہ اخذ کرتے ہیں حالانکہ  آیت  کانفی تقلید سے کوئی تعلق نہیں ہے آیت فقط توحید عبودی اور توحید استعانی سے مربوط ہے ۔اس آیت کو اُن کے دعوی سے فقط  اس صورت میں  مربوط کیا جا سکتا ہے کہ اہل حدیث خیال کریں   کہ مقلدین اپنے مذاہب فقہی کے پیشواوں کو خدا کا شریک اور خدا سے مستقل  قرار دیتے ہیں تاکہ اس آیت کے ذریعہ اُن پر اعتراض کرسکیں جبکہ  اہل سنت کی پوری تاریخ میں کسی  ایک مقلد نے بھی ایسا دعوی نہیں کیا ہے بلکہ وہ   لوگ اپنے فقہی مسلک کے بزرگوں  کو بندہ ،اوراللہ کی مخلوق  جانتے تھے اور جانتے ہیں ۔

اہل حدیث کی نظر میں وھابیت

ھندوستان کے اہل حدیث  اپنے آپ کو وھابیت سے علیحدہ جانتے ہیں ،کیونکہ حجاز میں محمد ابن عبد الوھاب اور اس کے ماننے والوں کے بے شمار مظالم کی وجہ سے لفظ وھابیت لوگوں کے نزدیک قابل نفرت لفظ بن چکا تھا،

تمام مذاہب اسلامی نے وھابیت سے اعلان برائت کردیا تھا  کسی کو وھابیت سے نسبت دینا گالی اور بے احترامی سمجھا جاتا  تھا ۔ عجیب  بات یہ ہے  کہ انگریزی سامراج  جوسعودی عرب میں وھابیت کا حامی ومددگار تھا ،ھندوستان میں  مجاہدوں پر وھابی  کا الزام لگا کر گرفتار اور قید کردیتے تھے ۔ برطانیہ کی سیاست یہ تھی کہ وھابی کے نام سے فائدہ اٹھا کر مجاہدوں کو لوگوں کی نظر میں قابل نفرت بنادیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ھندوستان میں انقلابیوں کی جنگ اور سعودی عرب میں  عبد الوھاب کی بغاوت سے  کوئی تعلق یا رابطہ  نہیں تھا (۶۷)۔

بہر حال اس کے باوجود  کہ ھندوستان کے  اہل حدیث اپنے لئےوھابی کے نام سے خوش نہیں تھے ، خود کووھابیوں سے جدا سمجھتے  تھے ، پھربھی انھیں  وھابیت کا نام دے دیا گیا تھا ۔

اہل حدیث اور وھابیت کے درمیان کچھاختلاف بھی پایا جاتا ہے ان دو مکتبوں میں ایک نقطہ اختلاف یہ ہے کہ اہل حدیث وھابیوں کو احمد بن حنبل کا مقلد جانتے ہیں جبکہ صدیق حسن خان کہتے ہیں کہ ھندوستان میں کوئی بھی احمد بن حنبل کا مقلد نہیں رہا ہے  (۶۸)۔

موصوف اس طرح تحریر کرتے ہیں : ایسے لوگوں   کو وھابی کہنا جو قرآن و حدیث کے راستے پر گامزن ہیں اور نماز روزہ بجالاتے ہیں سب سے بڑا ظلم ہے (۶۹)۔

جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے،اہل حدیث نے اپنے اوپر سے وھابیت کا لیبل  ہٹانے کے لئے انگریز ی حکومت سے معاہدہ کیا تھا ،اسی طرح صدیق حس خان وامرتسری نے بھی وھابیت سے برائت کے سلسلے میں مستقل کتابیں تالیف کی ہیں انھوں نے ان کتابوں میں اپنی پوری طاقت صرف کردی ہے تاکہ ثابت کرسکیں کہ اہل حدیث کا حساب وکتاب وھابیت سے بالکل الگ ہے ۔

ان دو مکتب خیال  کے عقاید کے بارے میں  بھی یہ کہناضروری ہے  کہ جب ہم اہل حدیثکے عقائد میں غور  فکر کرتے ہیں ہمیں  وہی وھابیت کا عقیدہ نظر   آتا ہے‌۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر صدیق حسن خان کو بھی  محمد ابن عبد الوھاب جیسی طاقت کی پشت پناہی  اور حمایت حاصل ہوجاتی تو وہ بھی وہی کرتے جو وھابیوں کے شیخ  نےحجاز میں  کیا ۔ جیسا کہ اس کی '' الدین الخالص '' نامی کتاب سے یہ ہی بات سمجھ میں آتی ہے (۷۰)۔

 

نتیجہ

شاہ ولی اللہ دہلوی نے ھندوستان میں سلفی افکار کی بنیاد ڈالی اور اس طرز تفکر سے دیوبندی اور اہل حدیث نامی دو مکتب فکر نے جنم لیا ۔ بعد کےدور  میں اہل حدیث کا مسلک شاہ ولی اللہ دہلوی کے بعض  شاگردوں کے ذریعہ پھیلا ۔

محمد حسن پٹیالوی اور صدیق حسن خان جیسے افراد نے ھندوستان بھر میں اس فکر کے پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔

ان لوگوں کی فعالیت منظم طور پر جمیعیت اہل حدیث کی تاسیس کے وقت سے شروع ہوئی جو اب تک مختلف شعبوں میں بڑے اونچے پیمانے پر انجام پارہی ہیں فکری لحاظ سے یہ لوگ تقریبا  وہی ابن تیمیہ کے تفکرات رکھتے ہیں ۔

بس یہ لوگ  کسی معین  شخص کی تکفیر اور اپنے مخالفوں کی  قتل وغارت گیری  سے پرہیز کرتے ہیں ۔اسمقالےمیں اہل حدیث کی فعالیت  اور ان کے تفکرات اور خیالات  ، جیسے استغاثہ ، غیر خدا کو پکارنا ، قبور کی زیارت وغیرہ کا حرام ہونا نیزمسلمانوں کی تکفیر، جیسے موضوعات پر بحث وتحقیق ہوئی  اور  یہ نتیجہ حاصل ہوا ہے  کہ اہل حدیث ایک سلفی مسلک ہے اور بر صغیر میں محمد بن عبد الوھاب کا کردار ادا کرتا ہے ۔        

منابع

۱۔ قرآن کریم.

۲۔ سبحانی تبریزی، جعفر، درس نامه نقد وهابیت، تحقیق: مرتضی محیطی، قم: دارالاعلام، بی تا.

۳۔ ابن وزير، محمد بن ابراهيم، الروض الباسم، مکه: دارعالم، بی تا.

۴۔ ابن تیمیه، احمد بن عبدالحلیم، منهاج السنة النبویة؛ فی نقض کلام الشیعة القدریة، تحقیق: محمد رشاد سالم، ریاض: جامعة محمد بن سعود الاسلامیة، چاپ اول، 1406ق.

۵۔ آزرده، صدرالدین، روضه رسول پر حاضری، ترجمه: شاه حسین گردیزی، پاکستان، کراچی: چاپ حنفیه پاک سبلی، بی تا.

۶۔ آل شیخ، عبدالرحمان بن عبداللطیف، مشاهير علماء نجد و غيرهم، رياض: دار اليمامة، چاپ اول، 1392ق.

۷۔ بیهقى، احمد، السنن الکبرى، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت: دارالکتب العلمیة، چاپ سوم، 1424ق.

۸۔ ثاقب، اکبر، پاکستان کی دینی مسالک، اسلام آباد، پاکستان: انتشارات البصیرة، بی تا.

۹۔ جهمی، مانع بن حماد، الموسوعة المیسرة، مکه: دارالندوة، چاپ چهارم، بی تا.

۱۰۔ حسنی مالکی، محمد بن علوی، مفاهیم یجب أن تصحح، بیروت: دارالکتب العلمیة، چاپ هشتم، بی تا.

۱۱۔ دارقطنی، علی بن عمر، السنن، بیروت: موسسة الرسالة، چاپ اول، 2004م.

۱۲۔ بهاءالدین، تاریخ اهل حدیث، لاهور، پاکستان: مکتبه اسلامیه، بی تا.

۱۳۔ دهلوی، عبدالحق، ایمان کیا ہے، ترجمه اردو: محمد انور شاه کشمیری، لاهور، پاکستان: انتشارات عمر، بی تا.

۱۴۔ رحیم آبادی، عبدالعزیز، حیات و خدمات، بی جا: بی نا، بی تا.

۱۵۔ زرقانی، محمد بن عبدالباقی، شرح الزرقانی علی المواهب اللدنیة، بیروت: دارالکتب العلمیة، چاپ اول، بی تا.

۱۶۔ سمهودی، علی بن عبدالله، وفاء الوفا باخباردار المصطفی، بیروت: دارالکتب علمیه، چاپ اول، 1419ق.

۱۷۔ سندی، محمد، الایقاف، ترجمه اردو: ابوسعید محمدحسین بتالوی، بی جا: بی نا، بی تا.

۱۸۔ حسن خان، محمد صدیق، الدین الخالص، بیروت: دارالکتب العلمیة، بی تا.

۱۹۔ حسن خان، محمد صدیق، ابقاء المنن؛ بالقاء المحن، لاهور، پاکستان: دار الدعوة السلفیة، بی تا.

۲۰۔ شاه جهانپوری، محمد، الارشاد؛ الی سبیل الرشاد، لاهور، پاکستان: چاپ زاهد بشیر، 2006م.

۲۱۔ شهرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، تحقيق: محمد بدران‏، قم: الشريف الرضي‏، چاپ سوم‏، 1364ش.

۲۲۔ شهید، محمد اسماعیل، تقویة الایمان، لاهور، پاکستان: امجد اکیدمی، بی تا.

۲۳۔ عراقی، عبدالرشید، بر صغیر پاک و هند مین علم حدیث، لاهور، پاکستان: محدث روپری اکیدمی جامع القدس، بی تا.

۲۴۔ فیضی، محفوظ رحمان، تاریخ مرکزی دارالعلوم، بنارس، هند: مکتبة الفهیم یوپی جامع سلفیه، بی تا.

۲۵۔ نورالحق، قاضی، تیسیر القاری، بی جا: بی نا، بی تا.

۲۶۔ قیام الدین، احمد، هندوستان مین وهابی تحریک، ترجمه: محمد مسلم عظیم آبادی، کراچی، پاکستان: انتشارات نفیس، بی تا.

۲۷۔ کاندهلوی، محمد ادریس، سیرت المصطفی، بی جا: بی نا، بی تا.

۲۸۔ گروه نویسندگان، دستور اساسی مرکزی جمعیت اهل حدیث، بی جا: بی نا، بی تا.

۲۹۔ گروه نویسندگان، مرکزی جمعیت اهل حدیث هن کی دعوتی اور رفاهی خدمات ایک سرسری جائزه، بی جا: بی نا، بی تا

۳۰۔ گروهی از مستشرقان بین الملل، دائرة المعارف الإسلامیة، تعریب: ابراهیم زکی خورشید و دیگران، قاهره: دارالشعب، چاپ دوم، 1969م.

۳۱۔ گوندلوی، محمد یحیی، عقاید اهل حدیث، هند: انتشارات مرکزی جمعیت اهل حدیث، بی تا.

۳۲۔ مقبول احمد، صلاح الدین، أهل الحدیث في شبه القارة الهند، بیروت: دار البشائر الاسلامیة، بی تا.

۳۳۔ مقبول احمد، صلاح الدین، دعوة شيخ الإسلام ابن تيمية، كويت: دار ابن اثير، چاپ دوم، 1416ق.

۳۴۔ ندوی، مسعود، تاریخ الندوة الإسلامیة في الهند، بیروت: دارالعربیة، 1991ق.

۳۵۔ صدیق حسن خان، نواب، ترجمان وهابیت، هند: نشر آکره، بی تا.

۳۶۔ نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، تحقیق: محمد فؤاد عبدالباقى، قاهره: دارالحدیث، چاپ اول ، 1412ق.

۳۷۔ هیتمی، علی بن ابی بکر، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، تحقیق: حسام الدین قدسی، قاهره: مکتبة القدسی، 1414ق.

۳۸۔ سهارنپوری، خلیل احمد، بذل المجهود؛ فی حل أبی داود، تحقیق: ابوعبدالرحمان عادل بن سعد، پیشاور، پاکستان: مکتبة نعمانیة، بی تا.

۳۹۔ Naeem Qureshi, Pan-Islam in British Indian Politics, Leiden: Brill Publishers.

۴۰۔ Daniel W. Brown, Rethinking Tradition in Modern Islamic Thought: Vol. 5 of Cambridge Middle East Studies, Cambridge University Press, 1996.

۴۱۔ http://www.ahlehadees.org

[1]. پایان نامه سطح سه حوزه علمیه قم.

 .[2]شهرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، ج۱، ص۲۴۳.

[3]. ابن وزير، محمد، الروض الباسم، ج1، ص237.

.[4] نیشابوری، مسلم، صحیح مسلم، ج1، ص8.

[5]. ابن تیمیه، احمد، منهاج  السنة، ج4، ص10.

.[6] بهاءالدین، تاریخ اهل حدیث، ص۲۰۰. نک: گروهی از مستشرقان بین‌الملل، دائرة المعارف الاسلامیة، ج۵، ص۱۴۴.

[7]. صدیق حسن خان، نواب، ترجمان وهابیت، ص15.

 .[8]مقبول احمد، صلاحالدین، دعوة شیخ اسلام ابنتیمیه، ج1، ص2.

.[9] مقبول احمد، صلاحالدین، اهلحدیث فی شبه القارة الهند، ص24.

.[10].مذکورہ حوالہ  صفہ ۲۴

[11]. صدیق حسن خان، نواب، ترجمان وهابیت، ص15.

.[12] بین‌الاقوامی مستشرقین کی ایک جماعت ، دائرة المعارف الاسلامیة، ج5، ص144.

[13]. شاه جهانپوری، محمد، الارشاد الی سبیل الرشاد، ص13.

.[14] عثمانی، قمر احمد، مذهبی جماعتون، ص95.

[15]. M. Naeem Qureshi, Pan-Islam in British Indian Politics, pg. 458.

Daniel W. Brown, Rethinking Tradition in Modern Islamic Thought: Vol. 5 of Cambridge Middle East Studies, pg. 27.

.[16] صلاح الدین، مقبول؛ محمدی، عارف جاوید، اهل حدیث فی شبه القارة الهند، ص32.

[17]. آل شیخ، عبدالرحمان، مشاهیر علماء نجد، ص458.

[18]. ندوی، مسعود، تاریخ الندوة الاسلامیة، ص191.

[19]. مقبول احمد، صلاح الدین، اهل حدیث فی شبه القارة الهند، ص32.

 .[20]حسین خان، صدیق، ابقاء المنن، ص30.

[21]. مذکورہ حوالہ ، ص۲۹.

[22]. مذکورہ حوالہ ، ص57.

[23]. عراقی، عبدالرشید، بر صغیر پاک و هند، ص۷۱.

[24]. انگریز انقلابیوں کو وھابی کہتے تھے

.[25] صدیق حسن خان، نواب، ترجمان وهابیت، ص۶۲

[26].«اس بات کی اهل حدیث نے  تأیید کر دی ہے»؛(ثاقب، اکبر، پاکستان کے دینی مسالک، ص۱۷۰)

[27]. سندی، محمد، الایقاف، مقدمه، ص7.

[28]. رحیم آبادی، عبدالعزیز، حیات و خدمات، ص۵۵.

[29]. اہل قلم کا ایک گروہ اہل حدیث کی مرکزی  جمعیت کا بنیادی دستور، ، ص۵.

[30]. رحیم آبادی، عبدالعزیز، حیات و خدمات، ص۵۹.

.[31] مذکورہ . حوالہ ص ۵۹۔

[32]. فیضی، محفوظ رحمان، تاریخ مرکزی دارالعلوم، ص۴۶-۴۵.

[33].http://aljamiatussalafiah.org/?p=19&lang=UR

[34]. گروه نویسندگان، دستوری اساسی مرکزی جمعیت اهل حدیث هند، ص۶.

[35].موصوف صوبہ بہار کے چمپہار  نامی شہر میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن میں حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم  حاصل کرنے کے لئے متعدد مدرسوں  میں منجلہ  : جیسے مدرسه منظرالعلوم بل پور، جامعه دارالحدیث، جامعه سلفیه بنارس و جامعه اسلامیه مدینه گئے  

امام مہدی جامعہ اسلامیہ مدینہ سے فارغ ہونے کے بعد  مدرسہ جامعہ سلفیہ بنار میں استاد کی حیثیت سے  تدریس میں مشغول ہوگئے اور مدرسہ کی جانب سے نشر   ہونے والے رسالہ میں میں عربی و اردو میں  ممضامین  لکھنتے  ۔انھوں نے  اسی پر اکتفا نہیں کی  بلکہ ھندوستان کے تمام رسالوں میں یہاں تک کہ  بیرونملک  کے سے چھپنے والے رسالوں میں  بھی مقالے لکھتے تھے ۔آپ متعددکتابوں  کے  مولف بھی ہیں ۔ امام مہدی سن ۲۰۰۱  میں  جمعیت اہل حدیث کے صدر  منتخب ہوئے اور ابھی تک بھی اسی  عہدہ پر باقیہ یں وہ اس عہدہ کی سدرات کے علاوہ وہان کے رسالہ  کے مدیر اعلی بھی ہیں ۔

http://www.misbahmagazine.com/archives/1820

[36]. اہل قلم کا ایک گروہ  مرکزی جمعیت اہل حدیث کی بنیادی دستور کی جمعیت ، ، ص۳۳.

[37]. مذکورہ حوالہ ، ص۱۹.

[38]. جهمی، مانع، الموسوعة المیسرة، ج۱، ص۱۷۲.

.[39] مذکورہ حوالہ . ج۱ص۱۷۲

[40]. مقبول احمد، صلاح الدین، اهل¬حدیث فی شبه القارة الهند، ص۳۹39.

[41]. حسن خان، محمد صدیق، الدین الخالص، ج۱، ص۱۳۲.

[42]. «قالُوا يا أَبانَا اسْتَغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا إِنَّا كُنَّا خاطِئينَ»؛ (سوره یوسف، آیه97).

[43]. «وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحيما»؛ (سوره نساء، آیه67).

[44]. نورالحق، قاضی، تیسیر القاری، ج3، ص262.

[45]. کاندهلوی، محمد ادریس، سیرت المصطفی، ج3، ص249.

[46]. مالکی، سید محمد، مفاهیم یجب ان تصحح، ص178-177.

[47]. حسن خان، محمدصدیق، الدین الخالص، ج1، ص8.

[48].مذکورہ حوالہ  ، ص۱۰.

[49]. مذکورہ حوالہ ، ص،۶۶

[50]. هیثمی، علی بن ابی‌بکر، مجمع الزوائد، ج۲، ص۲۷۹، ح۳۶۶۸.

[51]. شهید، شاه اسماعیل، تقویة الایمان، ص۲۱۳-۲۱۲.

[52]. سهارنپوری، خلیل احمد، بذل المجهود فی حلّ أبی داوود، ج۹، ص۳۸۲.

[53]. بیهقی، احمد، السنن الکبری، ج۵، ص۴۰۳، ح۱۰۲۷۳.

[54]. دارقطنی، علی، السنن، ج۳، ص۳۳۳، ح۲۶۹۳.

[55]. سمهودی، علی، وفاء الوفاء، ج۴، ص۱۷۲.

[56]. سبحانی، جعفر، درسنامه نقد وهابیت، ص۲۵۵.

[57]. آزرده، صدرالدین، روضه رسول، ص۳۶.

[58]. زرقانی، محمد، شرح الزرقانی علی المواهب اللدنیة، ج۱۲، ص۱۷۸.

.[59] دهلوی، عبدالحق، ایمان کیا ہے، ص۱۷۴.

[60]. حسن خان، محمدصدیق، الدین الخالص، ج۴، ص۶۳-۶۲.

[61]. ثاقب، اکبر، پاکستان کی دینی مسالک، ص۲۰۳.

[62]. گوندلوی، محمد یحیی، عقاید اهل¬حدیث، ص۵۷.

[63]. مذکورہ حوالہ .۵۷

[64]. بهاءالدین، تاریخ اهل¬حدیث، ج1، ص۵۳۴.

[65]. حسن خان، محمدصدیق، الدین الخالص، ج4، ص۱۰۴.

[66].مذکورہ حوالہ ، ص۷۴.

[67]. قیام الدین، احمد، هندوستان مین وهابی تحریک، ص۱۵.

[68]. حسن خان، محمد صدیق، ترجمان وهابی، ص۱۵.

[69]. مذکورہ حوالہ ، ص19.

[۷۰]. مذکورہ حوالہ ، ص19.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ