وہابی مورخین نے اس سلسلے میں کافی حد تک اختلاقی گفتگو کی ہےکہ کیا شیخ محمد عبد الوہاب فارسی اور ترکی زبانوں کو بھی جانتے تھے یا نہیں؟ ایک طرف سے ان کا یہ ماننا ہے کہ ' عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان کا جاننا مجبوری کے علاوہ جائز نہیں ہے اس لیے کہ عربی زبان، قرآن، سنت نبوی اور سلف صالح کی زبان ہے اور بعض علمائے سلف صالح جیسے ابن تیمیہ زبان عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان کو سیکھنا مکروہ سمجھتے تھے‘‘۔ (۲۹)
مصنف :  حجۃ الاسلام و المسلمین عباس جعفری فراہانی

دوسری طرف سے اس بات کے بھی دعویدار ہیں کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تالیفات میں اس سلسلے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ جو چیز اس مسئلہ( عربی کے علاوہ دوسری زبان سیکھنا) کو چھیڑنے کا باعث بنی ہے وہ صاحب اللمع الشھاب کا بیان ہے جس میں انہوں نے یہ کہنا چاہا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب کے عقائد اور افکار وحی اور سنت رسول سے ماخوذ نہیں ہیں بلکہ ان میں فلسفی، ریاضی اور صوفی افکار و نظریات کا زیادہ عمل دخل ہے جبکہ محمد بن عبد الوہاب کے عقائد اور آثار اس طرح کی باتوں سے بالکل ہم آہنگ نہیں ہیں۔
ڈاکٹر منیر العجلانی کا بھی کہنا ہے: صلاح العقاد، صاحب کتاب اللمع الشھاب کی بات کے منکر ہیں اور یہ کہ محمد بن عبد الوہاب ایران میں سکونت پذیر رہے ہوں اور وہاں انہوں نے فلسفہ اور تصوف کا علم حاصل کیا ہو اس بات کی تردید میں دو دلیلیں موجود ہیں: ایک محمد بن عبد الوہاب فارسی زبان سے بطور مطلق ناآشنا تھے۔ دوسرے ؛ شیخ کے آثار میں فلسفہ اور تصوف سے متعلق کوئی چیز بالکل نظر نہیں آتی اور اس بات کا دعویٰ کرنا بے بنیاد ہے کہ شیخ محمد عبد الوہاب نے اپنی بعض معلومات جیسے فلسفہ اور تصوف کا اظہار نہیں کیا، یہ شیخ پر تمہت ہے۔(۳۰)
۵: افکار اور نظریات
شیخ محمد عبد الوہاب کے نظریات کا خلاصہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
الف: شرک کے ساتھ جنگ، خالص توحید اور سلف صالح کے اسلام کی طرف بازگشت۔(۳۱)
محمد بن عبد الوہاب کے نظریات میں سے ایک اہم نظریہ یہ تھا کہ عصر حاضر کے مسلمانوں کا عقیدہ خالص توحید پر مبنی نہیں ہے بلکہ ان کے عقائد میں شرک کی آمیزش ہے اس لیے انہوں نے مسلمانوں کو خالص توحید اور شرک اور خرافات سے دوری اختیار کرنے کی طرف دعوت دی۔
انہوں نے کتاب التوحید کہ جو ۱۱۵۳ ھ ق میں لکھی گئی میں لکھا: '' میں تمہیں توحید اور یکتا پرستی کی دعوت دیتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ شرک کو مکمل طور پر دور پھینک دیا جائے‘‘۔( ۳۲)
عقیدہ توحید کے سلسلے میں ان کے اظہار نظریہ کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس بات کے معتقد تھے کہ مسلمان سلف صالح کے عقیدےسے منحرف ہو گئے ہیں ان کے عقائد میں توحید کی نسبت شرک کی آمیزش ہو گئی ہے اور اپنے اعمال اور رسومات میں جہالت اور نادانی کی وجہ سے مشرکانہ امور انجام دیتے ہیں۔ لہذا انہوں نے لوگوں کو خالص توحید اور یکتا پرستی کی طرف دعوت دینے کو اپنا فریضہ سمجھا۔
البتہ محمد بن عبد الوہاب کا یہ نظریہ اور شعار بطور کلی اور بذات خود درست اور حق بجانب ہے چونکہ بارہویں صدی ہجری کے مسلمان اکثر و پیشتر علاقوں میں اس قسم کے مسائل اور خرافات کا شکار ہو گئے تھے۔ لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب اور ان کے حامی افراد بجائے اس کےکہ مسلمانوں کے درمیان عقیدہ توحید کے سلسلے میں پیدا ہونے والے مسائل اور خرافات کے علل و اسباب کو تلاش کریں اور ان عوامل و اسباب کو سماج سے ختم کریں اوربجائے اس کے کہ دوسرے اسلامی علماء اور دوسرے فرقوں کے علماء سے بیٹھ کر اس بارے میں گفتگو اور مباحثہ کریں اور مذہبی رہنماوں کے ساتھ مل کر اسلامی سماج کی مشکلات کو حل کریں، اپنی ذھنیت کے مطابق دوسرے فرقوں کے عقائد و رسومات کو منجملہ اہلبیت اطہار(ع) کے پیروکاروں کے عقائد کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا اور ان کے سلسلے میں کافر اور مشرک کے الفاظ بڑی آسانی سے استعمال کر کے ان کے مقدسات کی توہین کرنا شروع کر دی۔(۳۳)
اس سے بد تر یہ کہ ابن عبد الوہاب اور ان کے حامیوں نے اکثر مسلمانوں کو مشرک اور کافر ہونے کا لقب دے دیا یہاں تک کہ انہیں واجب القتل قرار دے دیا اور مشرک اور کافر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کو ''جہاد فی سبیل اللہ‘‘ گردانا۔ ان کا یہ نظریہ اس بات کا باعث بنا کہ تمام عالم اسلام کے اندر خانہ جنگی شروع ہو گئی جنبلی مذھب کے علاوہ جس کےوہ خود ماننے والے تھے تمام مسلمانوں کے ساتھ جنگ کو جہاد کا نام دے دیا! محمد بن عبد الوہاب اور ان کے پیروکاروں نے توحید اور کلمہ لا الہ الا اللہ کی اس طرح تفسیر کرنا شروع کی کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا موحد بن ہی نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے کلمہ توحید کی تفسیر کے ساتھ تمام قبور حتی قبر نبی پاک (ص) کی زیارت کرنا، بزرگوں کی قبروں پر گنبد تعمیر کرنا، قبروں پر فاتحہ پڑھنا اورچراغ جلانا، ضریح پیغمبر(ص) کو چومنا، اصحاب اور آل رسول(ص) کی قبروں کی زیارت اور ان کے پاس نماز ادا کرنا، ان سے توسل کرنا اور شفاعت طلب کرنا وغیرہ وغیرہ سب چیزوں کو شرک اور کفر کے مصادیق میں سے قرار دے دیا۔ محمد بن عبد الوہاب نے اپنی کتاب کشف الشبھات میں اپنے ٹولے کے علاوہ تمام مسلمانوں کو مشرک، کافر، بت پرست، مرتد، منافق، دشمن توحید، دشمن خدا، اہل باطل، جاہل اور شیطان جیسے القاب سے نوازا اور ان عناوین سے تمام مسلمانوں کا خون بہانا اور ان کے اموال میں تصرف کرنا جائز قرار دیا۔(۳۴)
اگر مسلمان محمد بن عبد الوہاب کی تفسیر کے مطابق دعوت توحید کو قبول کریں تو حریم اسلام میں داخل ہو سکتے اور امان حاصل کرنے کے حقدار بن سکتے ہیں ورنہ انہیں دنیا میں جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے!
محمد بن عبد الوہاب کا یہ عقیدہ تھا: '' مسلمان ہونا، اور اپنی جان و مال کا تحفظ کرنا صرف شہادتین پڑھنے سے ممکن نہیں ہے بلکہ ان تمام چیزوں کو ترک کرنا ہو گا جو قرآن و سنت کی صراحت کے خلاف ہے اور سلف صالح کے فرمودات کے مطابق عمل کرنا ہو گا۔ ورنہ وہ کافر اور مشرک ہے اور اس کی جان و مال حلال ہے۔( یعنی اسے قتل کرنا جائز ہے) اگر چہ شہادتین پڑھتا ہو‘‘۔ (۳۵)
جبکہ دوسری جانب عالم اسلام کے بہت سارے اکابر علماء نے محمد بن عبد الوہاب کے ذریعے بیان شدہ اسلامی اور قرآنی عقائد کی تفسیر کو بالکل اسلامی، قرآنی اور سنت نبوی کے واضح اصول کے خلاف جانا اور اس کی شدید مخالفت کی ۔(۳۶)
محمد بن عبد الوہاب کے افکار کے پہلے مخالف خود ان کے بھائی سلیمان بن عبد الوہاب ہیں (۳۷) جنہوں نے واضح طور پر کہا: '' آج لوگ ایسے شخص کے پیچھے جا رہے ہیں جو خود کو قرآن اور سنت کی طرف منسوب کرتا ہے اور ان سے نئے نئے علوم کا استخراج کرتا ہے اور اگر کوئی اس کی مخالفت کرے تو اسے خوف نہیں ہوتا وہ اپنے مخالفین کو کافر گردانتا ہے حالانکہ خود اس کے اندر اجتہاد کی کوئی ایک علامت بھی نظر نہیں آتی، خدا کی قسم حتی اجتہاد کی علامتوں کا ایک دسواں حصہ بھی اس میں دکھائی نہیں دیتا اس کے باوجود اس کی باتیں بہت سارے نادان لوگوں پر اثر کر گئی ہیں ایسے حال میں یہی کہنا ہو گا انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘۔(۳۸)
دوسری جگہ کہتے ہیں:'' وہ امور جنہیں وہابی شرک اور کفر کا سبب سمجھتے ہیں اور انہیں بہانہ بنا کر مسلمانوں کے جان و مال کو مباح سمجھتے ہیں وہ ائمہ اسلام کے دور میں موجود تھے لیکن کسی بھی امام سے نہ سنا گیا اور نہ کسی سے نقل ہوا کہ ان اعمال کے انجام دینے والے کافر یا مرتد ہیں اور ان کے خلاف جہاد کا حکم دیا جائے یا بلاد المسلمین کو جیسا وہ کہتے ہیں بلاد شرک و دار الکفر کا نام دے دیا جائے‘‘۔ (۳۹)
شیخ سلیمان اپنی دوسری کتاب فصل الخطاب فی الرد علی محمد بن عبد الوہاب میں اپنے بھائی کے افکار و نظریات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہےکہ ایک دن شیخ سلیمان نے اپنے بھائی محمد سے پوچھا اسلام کے ارکان کتنے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: پانچ ہیں۔ سلیمان نے کہا: لیکن تم نے انہیں چھ قرار دےدیا ہے! چونکہ تم کہتے ہو جو شخص تمہاری پیروی نہ کرے اور تمہارے افکار و نظریات کو نہ مانے وہ کافر ہے۔ (۴۰)
بارہ صدی ہجری کے بعد سے اب تک عالم اسلام کے شیعہ سنی اکابر علماء نے شیخ محمد بن عبد الوہاب کے افکار و نظریات کی رد میں دسیوں کتابیں لکھی ہیں اہل مطالعہ ان کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ہم یہاں اس مختصر مقالے میں ان کی طرف اشارہ نہیں کر سکتے(۴۱)۔
ب: تفسیر قرآن، اجتہاد، فلسفہ، عرفان اور نئی انسانی ایجادات کی مخالفت
محمد بن عبد الوہاب توحید خالص اور سلف صالح کے اسلام کی طرف بازگشت کے حوالے سے اپنے افکار و نظریات میں عقل، فلسفے، اجتہاد، عرفانی مسائل سے تمسک کرنے اور قرآن اور سنت کی تفسیر بیان کرنے کے مخالف ہیں اور اس حدیث کا سہارا لیتے ہوئے کہ كلَّ بِدْعةٍ ضَلالةٌ و كلُّ ضَلالة فى النّارِ (۴۲) اس طرح کے تمام کاموں کو بدعت جانتے ہیں اور ان کے ساتھ مبارزہ کرنے کو واجب سمجھتے ہیں۔ ان خیالات کے باعث وہابی، خشک اور بے وزن قسم کے افکار کے حامل ہو گئے اور دین کے بنیادی مباحث جیسے توحید، ایمان، اسلامی حکومت، توسل، شفاعت، خیرات و صدقات، اعیاد و عزاداری وغیرہ میں انحراف کا شکار ہو گئے ان کی صحیح اور درست وضاحت بیان نہ کر سکے اور نتیجۃ انسان کی نئی ایجادات اور اختراعات جیسے ٹیلیفون، گاڑی، لائٹ، کیمرہ اور دیگر بے شمار نئے ابزار و آلات کی صحیح تفسیر بیان کرنے کے بجائے پہلی فرصت میں ان کا استعمال حرام قرار دے دیا اور ان کے ساتھ جنگ کرنے اٹھ کھڑے ہو گئے۔ جبکہ اسلام اورقرآن انسانی اختراعات کے مخالف نہیں بلکہ تمام انسانوں کو علم حاصل کرنے اور خدادادی زخائر سے جائز استفادہ کرنے کی تشویق دلاتےہیں عقلی علوم فلسفہ و منطق، اور فقہ و اصول، عرفان اور تفسیر قرآن تمام انسانی افکار کی رشد و نمو کے لیے اور معنوی کمالات کے ارتقاء کے لیے اسلام کی نظر میں جائز بلکہ بسا اوقات لازمی ہیں۔
محمد بن عبد الوہاب کہتے ہیں: ہم کسی بھی کتاب کو نابود نہیں کرتے لیکن وہ کتابیں جو لوگوں کے عقائد میں شک و تردید پیدا کرنے کا باعث بنیں جیسے علم منطق ۔۔۔ انہیں نابود کر دیتے ہیں‘‘۔(۴۳)
حافظ وھبہ (متوفیٰ ۱۳۷۸ ھ ق) لکھتے ہیں: وہابی تصویر بنانے کو حرام سمجھتے ہیں۔۔۔ علم فلسفہ و منطق کو حرام جانتے ہیں، علمائے نجد کے درمیان جو لوگ ان علوم سے آشنائی رکھتے ہوں بہت کم تلاش کئے جا سکتے ہیں۔۔۔ ان کی معلومات زیادہ سے زیادہ پیغمبر اسلام (ص) کی سیرت اور خلفائے راشدین کے حالات کی تک محدود ہوتی ہیں انہیں اس کے علادہ تاریخ اسلام کے دیگر واقعات سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے جزیرۃ العرب میں کسی نئی چیز کا انکشاف دکھائی نہیں دیتا۔۔۔(۴۴)
وہابیوں نے تمام نئی ایجادات کو جو اسلام کی پہلی تین صدیوں میں موجود نہیں تھیں کو بدعت اور حرام سمجھتے تھے! جیسے علم منطق، علم فلسفہ، علم سائنس، تمباکو کا استعمال، سائیکل سواری، (اس لیے کہ وہ سائیکل کو شیطان کا گھوڑا سمجھتے تھے کہ یہ شیطان کے پیروں اور جادوں کی قوت سے چلتی ہے) اور دیگر نئی ایجادات جیسے ٹیلیفون، ٹیلیگراف، کیمرہ، گاڑی، وغیرہ وغیرہ کا استعمال حرام جانتے تھے(۴۵) مدارس علمیہ میں عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کی تعلیم پر نیز علم جغرافی کہ جس میں زمین اور دیگر کرات کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے کی تعلیم پر اعتراض کیا کرتے تھے۔ (۴۶)
فروع دین کے اندر اجتہاد کے مسئلے میں وہابی فرقہ ابن تیمیہ (۴۷) کی پیروری کرتے ہوئے اجتہاد کے بارے میں شیعہ عقائد کا انکار کرتا ہے اور در حقیقت وہ اپنے آپ کو احمد بن حنبل، ابن تیمیہ اور ابن قیّم کا مقلد سمجھتا ہے۔ وہابیوں مخصوصا محمد بن عبد الوہاب کی کتابوں میں اجتہاد کے نئے اسلوب اور طور طریقوں کا انکار کیا گیا ہے وہ تمام مسائل میں نص (آیت قرآن یا حدیث رسول) کو تلاش کرتے ہیں اگر نص نہ ملے تو احمد بن حنبل کے فتوے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (۴۸)
ملک عبد العزیز ۱۳۵۵ ہجری میں مکہ میں اپنی ایک تقریر کے دوران کہتے ہیں: ہمارا مذہب دلیل کی پیروی کرتا ہے اور اگر دلیل نہ ملے تو ہم احمد بن حنبل کے فتوے کی پیروی کرتے ہیں‘‘۔(۴۹)
در حقیقت وہابیوں کا استدلال یہ تھا کہ جو چیز پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں نہیں تھی اور اسلام کی پہلی تین صدیوں کے بعد وجود میں آئی وہ بدعت اور حرام ہے جیسے زیارت، ائمہ سے توسل اور طلب شفاعت، مردوں کے لیے فاتحہ اور دعا، قبروں پر پانی چھڑکنا، قبروں پر مقبرے تعمیر کرنا حتیٰ ائمہ مسلمین کی قبروں پر مقبرے بنانا ،اولیاء خدا سے شفا عت کا مطالبہ کرنا وغیرہ وہ مسائل ہیں جن کے بارے میں قرآن کریم اور سنت پیغمبر میں معتبر نص نہیں پائی جاتی۔ لہذا جو لوگ ان کاموں کو انجام دیتے تھے یا تو وہابیوں کی طرف سے سختی سے ان کاموں سے منع کئے جاتے تھے یا ان کے حملوں کا نشانہ بنتےتھے(۵۰)
مذکورہ تمام مسائل کے سلسلےمیں اسلام کا صحیح نظریہ خاص طور پر مذہب تشیع میں موجود ہے جو واضح اور آشکار دلائل کے ساتھ ان کی معتبر کتابوں میں موجود ہے (۵۱)ہم اطالہ کلام کی وجہ سے یہاں پر ان کو بیان کرنے سے معذور ہیں۔
تنقید
وہابیوں کا دیگر اسلامی فرقوں کے ساتھ ایک اہم فرق یہ ہے کہ ان موارد میں جہاں کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے پر کتاب و سنت سے دلیل نہ ملے وہابیوں کے علاوہ دیگراسلامی فرقے اصل حلیت جاری کرتے ہوئے اس کے مباح ہونے کا حکم دیتے ہیں لہذا وہ نئے موارد جیسے تنباکو نوشی، قہوہ یا چائے کا استعمال، یا مثلا ٹیلیفوں، ٹیلیگراف، جہاز، موبائل دسیوں نئےایجادات کا استعمال جو عصر رسالت و صحابیت میں موجود نہیں تھی سب مباح ہیں بلکہ بعض چیزوں کے استعمال کے بغیر تو انسانی زندگی مشکلات کا دوچار ہو جاتی ہے، معمولی سی عقل رکھنے والا کوئی انسان ان کے استعمال سے منع نہیں کر سکتا چہ برسد قرآن اور سنت منع کریں۔ (۵۲) در حقیقت وہابیوں کا یہ اقدام اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا طریقہ صدر اسلام کے اس گمراہ فرقے خوارج کے مانند ہے جو قرآن کریم کی بعض آیات سے غلط معانی کا استخراج کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔ ان کی گمراہی عالم اسلام کے اندر واضح و آشکار ہے۔(۵۳)
ج: دینی - عربی خلافت کی حمایت اور عثمانی حکومت کی مخالفت (۵۴)
وہابیوں نے اپنی تمامتر کوششوں سے اپنے افکار و نظریات کو جزیرۃ العرب کے لوگوں میں تبلیغ پھیلایا شاید اس فرقے کے اتنی تیزی کے ساتھ پھیلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی تبلیغ کا مرکز ان ممالک کو قرار دیا جو عالم اسلام کے اندر مرکزی حیثیت رکھتے تھے اور اسلام کی جائے پیدائش اور نزول وحی کا مرکز تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان عربی ممالک پر عثمانی ترکوں کی حکومت تھی اور عرب بنی امیہ اور بنی عباس کا اقتدار کھو چکے تھے۔ (۵۵)عرب، ترکوں سے رہائی کا کوئی ذریعہ تلاش کر رہے تھے ان کے لیے عثمانی ترکوں سے نجات پانے کے لیے ان لوگوں کے افکار کی پیروی کرنا ضروری تھا جو عربوں کے اقتدار کو دوبارہ انہیں لوٹا سکتے تھے لہذا انہیں محمد بن عبد الوہاب اور ان کے حامیوں کی طرف سے دی گئی دعوت پر لبیک کہنا اور فقہ وہابیت کا دفاع کرنا مناسب لگا جس کے سہارے انہوں نے عثمانی حکومت کے خلاف آواز بلند کر دی۔
محمد بن عبد الوہاب نے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے محمد بن سعود سے گٹھ جوڑ کیا۔ شروع میں انہوں نے ایک ساتھ مل کر سرزمین نجد کے بدووں کو اکٹھا کیا اور ان سے لشکر تیارکیا پھر سرزمین حجاز ( مکہ و مدینہ) پر قبضہ جمانے کے لیے اس لشکر کا استعمال کیا، حجاز پر کامیابی کے بعد دیگر عربی ممالک کو بھی اپنے زیر تسلط لانے کی کوشش کی۔
عرب کے بعض دانشوروں جیسے رشید رضا (۱۳۵۴ ھ ) نے وہابی تحریک کو عربوں کے اندر آزادی خواہ جذبے کے وجود میں لانے کا باعث قرار دیا! (۵۶)
عرب کے ایک اور مفکر نے وہابی تحریک کو عرب کے قومی تعصب سے تفسیر کیا ہے (۵۷)
نتیجے میں وہابی تحریک کہ جو نجد سے شروع ہوئی عثمانی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے ایک خطرناک تحریک بن کر سامنے آئی۔ عثمانی بادشاہ (سلیم سوم) نے مصر کے بادشاہ محمد علی پاشا سے وہابی تحریک کو کچلنے کے لیے مدد مانگی۔ اس نے ۱۲۲۸ ھ میں وہابیوں کے گڑھ درعیّہ پر حملہ کر کے انہیں تہس نہس کیا لیکن کچھ مدت بعد دوبارہ وہابیوں نے سر نکالا اور آخر کار بیسوی صدی عیسوی میں متعدد جنگوں کے بعد جزیرۃ العرب پر قبضہ جمانے اور حجاز میں سعودی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔(۵۸)
در حقیقت وہابی، حنبلی مکتب اور سلفی پیشوا ابن تیمیہ کی پیروی میں دینی -عربی حکومت کی تشکیل اور دنیائے اسلام میں غیر عربی حکومتوں کے ساتھ جنگ کی غرض سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے کام کو اس نعرے کے ساتھ شروع کیا کہ ہم دین اسلام کو غیر عربی افکار اور انحرافات سے پاک کرنا چاہتے ہیں انہوں نے اس راستے میں کافی مشکلات کا سامنا کر کے مسلمانوں کے درمیان جنگ و جدال کی بساط پھیلا دی۔ آخر کار محمد بن عبد الوہاب کی اُس حکومت کو تشکیل دینے کی آرزو پوری ہوگئی جس کی باگ ڈور وہ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے تھے۔(۵۹)
سعودی حکومت کی تشکیل کے بعد وہابیوں نے اپنے اقتدار کو پورے جہان اسلام میں پھیلانے کی کوشش شروع کر دی ۔ انہوں نے پوری طاقت کے ساتھ عثمانی حکومت کا مقابلہ کیا۔ وہابی اور آل سعود، عثمانی حکومت کو خلافت اسلامی کا غاصب سمجھتے تھے اور ان کا یہ گمان تھا کہ اسلامی خلافت کا حق ہمیشہ عربوں کو حاصل ہے!(۶۰)
د: شیعہ اثنا عشری کے ساتھ دشمنی
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شیعہ اور اہلسنت کے درمیان اختلاف تاریخی اور عقیدتی بنیادوں پر مبنی ہے(۶۱) لیکن وہابیوں نے اپنے غلط اور انحرافی افکار کے ساتھ یہ کوشش شروع کر دی کہ وہ شیعت کو عبد اللہ بن سبا(۶۲) کی پیداوار قرار دیں۔ انہوں نے اس آشکارا تہمت کو تقویت پہنچانے کے لیے بعض مستشرقین اور کفار جیسے گلدزیھر یہودی(۶۳) دوزی(۶۴) ولہاوزن(۶۵) وغیرہ کے نظریات سے استفادہ کیا۔
محمد بن عبد الوہاب اپنی کتاب '' رسالۃ فی الرد علی الرافضہ‘‘ میں شیعوں کی حقانیت کا انکار اور ان کے عقائد کو باطل قرار دیتے ہیں اور اس بات کے دعویدارہیں کہ شیعہ قرآن کریم کی تحریف اور اس کے ناقص ہونے کے قائل ہیں اور جو شخص قرآن کی تحریف یا اس کے ناقص ہونے کا قائل ہو وہ کافر ہے(۶۶)
اسی طرح انہوں نے اصل تقیہ کو باطل قرار دیا کہ شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ ان کے ائمہ معصومین (ع) اپنی زندگی کے دوران دین اسلام کی حفاظت کی خاطر اپنے دشمنوں کے مقابلے میں تقیہ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے تقیہ کے ماننے والوں کو برابھلا کہہ کر انہیں کافر قرار دیا(۶۷)
نیز وہ ائمہ معصومین (ع) کی عصمت کے متعلق شیعوں کے عقیدہ کے بارے میں کہتے ہیں: '' ائمہ کی عصمت کا دعویٰ کرنا محض جھوٹ ہے جو قرآن، سنت، اجماع، قیاس اور عقل سلیم سے ثابت نہیں ہے خدا قتل کرے ان لوگوں کو جو ایسا عقیدہ رکھتے ہیں‘‘! (۶۸)
محمد بن عبد الوہاب اور ان کے حامی، شیعوں کے کلامی اور فقہی مسائل جن کے اثبات پر معتبر منابع میں دلائل موجود ہیں کو باطل اور بدعت جانتے ہیں جیسے بداء، رجعت، متعہ، دشمنان امام علی(ع) کا کافر ہونا، حضرت علی (ع) کی افضلیت، توسل، شفاعت، ائمہ معصومین (ع) کے لیے عزاداری، وغیرہ۔(۶۹)
شیعہ عقائد کے سلسلے میں اس طرح کا رویہ اپنانا اور انہیں گالیاں گلوچ دے کر کافر قرار دینا مکتب اہلبیت(ع) کی نسبت ان کی انتہائی دشمنی کی علامت ہے دشمنان اسلام، وہابیوں کی شیعوں کی نسبت اس انتہائی قسم کی دشمنی سے کماحقہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں شیعوں کے قتل عام پر خوب استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف و افتراق کی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے وہابیوں کی بھر پور سپورٹ کرتے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار(۷۰)
۶:محمد بن عبد الوہاب کے آثار
شیخ محمد بن عبد الوہاب کے اہم ترین آثار درج ذیل ہیں:
1ـ كتاب «التوحيد فيما يجب مِن حق اللّه على العبيد»
محمد بن عبد الوہاب کی یہ پہلی کتاب ہے جو انہوں نے اس وقت تالیف کی جب وہ شہر حریملا میں سکونت پذیر تھے۔ (۷۱) اس کتاب میں گفتگو کا محور جیسا کہ خود اس کے نام سے معلوم ہے توحید، شرک، کفر، خداوند عالم کی صفات اور اللہ کے بندوں پر حقوق جیسے موضوعات ہیں شیخ عبد الوہاب نے سب سے پہلے اسی کتاب کے ذریعے شہر حریملا میں لوگوں کو وہابی افکار کی طرف دعوت دی اگر چہ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ شیخ کی یہ کتاب بصرہ میں ان کے کہے ہوئے دروس پر مشتمل ہے(۷۲)
اس کتاب پر شرحیں بھی لکھی گئی ہیں کہ جن میں سے اہم ترین ''فتح المجید فی شرح کتاب التوحید ‘‘ہے جس کا خطی نسخہ ریاض کے سعودی کتب خانہ میں موجود ہے(۷۳)
2: رسالہ کشف الشبھات
یہ کتاب شیخ کے مخالفین کی طرف سے پیش کئے گئے شبہات اور ان کے جوابات پر مشتمل ہے اس کتاب کا بھی خطی نسخہ ریاض کے سعودی کتب خانہ میں موجود ہے(۷۴)
3ـ كتاب «فضايل الإسلام»
یہ کتاب اس بارے میں لکھی گئی ہے کہ دین اسلام حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے واسطے اللہ کی جانب سے لوگوں پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا بھی خطی نسخہ سعودی کتب خانہ میں موجود ہیں۔(۷۵)
4ـ كتاب «مختصر سيرة الرسول"صلّى الله عليه وآله"»
اس کتاب کے مختلف نسخے مختلف ناموں سے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ لیکن جو چیز یقینی ہے وہ اس کتاب کا یہی عنوان ہے جو سعودی کتب خانہ میں موجود ہے(۷۶)۔
5ـ كتاب «مجموع الحديث على ابواب الفقه»
اس کتاب میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کے فقہی نظریات بیان ہوئے ہیں جو انہوں نے احادیث کے ضمیمے کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ ابن غنام نے اس کتاب کو شیخ کی تالیفات میں شمار کیا ہے۔ اس کتاب کا خطی نسخہ بھی سعودی کتب خانہ میں موجود ہے۔(۷۸)
6ـ كتاب «رسالة فى الرّد على الرافضة»
اس کتاب میں محمد بن عبد الوہاب نے درج ذیل مباحث کو پیش کیا ہے: خلافت، خلفا کا مرتد ہونا، قرآن کا ناقص ہونا، تقیہ، امامت ائمہ معصومین(ع) کی عصمت، رجعت وغیرہ ان مباحث میں انہوں نے شیعوں کو مورد حملہ قرار دیا اور شیعہ عقائد پر تنقید کرنے کی کوشش کی جس میں شیعوں کی توہین بھی کی گئی ہے اور ان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں اور انہیں کافر اورمشرک گردانا گیاہے!
یہ کتاب افسوس سے ریاض کی یونیورسٹی امام محمد بن سعود کے ذریعے کئی بار چھپ چکی ہے۔(۷۹)
7ـ كتاب «رسالة ثلاثة الاُصول و ادّلتها»
یہ کتاب ۱۳۳۸ ۴۰ اور ۴۵ ھ ق میں مختلف عناوین سے چھپی ہے اس میں مرد و عورت کے اعتقادی اصول کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اس کتاب کا خطی نسخہ سعودی کتاب خانہ میں موجود ہے۔(۸۰)
8ـ كتاب «القواعد الأربع»
یہ کتاب مسلمان اور مشرک میں فرق کے بارے میں لکھی گئی ہے اس کا خطی نسخہ بھی ریاض میں سعودی کتب خانے میں موجود ہے(۸۱)
9ـ كتاب «مسائل الجاهلية» (۸۲)
یہ کتاب ان مسائل کے بارے میں لکھی گئی ہے جن کی پیغمبر اسلام(ع) نے دور جاہلیت میں مخالفت کی۔ اس کا خطی نسخہ معلوم نہیں لیکن چھپا ہوا نسخہ بازار میں موجود ہے۔(۸۳)
10ـ كتاب «المفيد المستفيد فى كُفر تارك التوحيد»
یہ کتاب محمد بن عبد الوہاب نے اپنے بھائی سلیمان بن عبد الوہاب کے جواب میں لکھی(۸۴)
11ـ [مجموعة] «الخُطب المنبرية»
یہ کتاب محمد بن عبد الوہاب کی تقاریر اور خطبوں کا مجموعہ ہے جو انہوں نے لوگوں کو دین وہابیت کی طرف دینے کے عنوان سے بیان کئے ۔ ریاض کی یونیورسٹی امام محمد بن سعود نے اس کتاب کو چھپوایا ہے اس کتاب کا خطی نسخہ بھی سعودی کتب خانے میں موجود ہے۔(۸۵)
یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ بعض نے مذکورہ کتابوں میں سے بعض کو محمد بن عبد الوہاب کی طرف نسبت دینے میں تردید کا اظہار کیا ہے۔(۸۶)
۷: محمد بن عبد الوہاب کی موت
محمد بن عبد الوہاب سن ۱۲۰۶ ھ ق میں ایک لمبی عمر تقریبا ۹۲ سال گزارنے، اپنے باطل اور انحرافی افکار سے فرقہ وہابیت کی بنیاد ڈالنے، مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا بیج بونے، قتل و غارت اور فتنہ و فساد کا بازار کھولنے، اسلامی مقدسات مخصوصا کربلا اور نجف کی زیارات پر حملے کرانے وغیرہ وغیرہ جیسے نمایاں کارنامے انجام دینےکے بعد واصل جہنم ہوئے۔ا یک مورخ نے محمد بن عبد الوہاب کی موت کے سال سےحروف ابجد کے ذریعے انکی زندگی کا بہترین محاسبہ لگایا ہے جو ان کی ۹۲ سال کی طولانی عمر کی بہترین عکاسی کرتا ہے'' ۱۲۰۶= بَدأ هَلاك الخَبيث‘‘۔ (۸۷)
۸: اولاد
محمد بن عبد الوہاب کے چار بیٹے عبد اللہ، حسن، حسین اور علی تھے جنہوں نے باپ کے آثار کو شائع کرنے اوراس کے افکار کو پھیلانے میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ان کے بڑے بیٹے عبد اللہ کے بھی دو بیٹے تھے سلیمان اور عبد الرحمان۔ سلیمان وہابی افکار کی نسبت سخت متعصب تھا وہ سن ۱۲۳۳ ھ میں ابراہیم پاشا کے ہاتھوں قتل ہوا ۔عبد الرحمان کو بھی مصر ملک بدر کیا گیا اور وہی پر مرا۔ محمد بن عبد الوہاب کے بیٹوں کو آل سعود کے دربار میں آل الشیخ کہا جا تا ہے اور انہیں ابھی تک احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے ۔سعودی عرب کا مفتی انہیں کی اولاد میں سے انتخاب کیا جاتاہے۔(۸۸)
خلاصہ و نتیجہ
جو کچھ اب تک بیان کیا گیا اس سے درج ذیل نکات بطور خلاصہ و نتیجہ پیش کئے جا سکتے ہیں:
۱: فرقہ وہابیت کی پیدائش محمد بن عبد الوہاب نجدی کے ذریعے بارہویں صدی ہجری میں ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ بارہویں صدی ہجری میں محمد بن عبد الوہاب مسلمانوں کے عقائد اور اعمال کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے وہم و گمان کے مطابق اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ مسلمانوں کے بہت سارے عقائد اور اعمال قرآنی آیات اور اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں لہذا انہوں نے علمائے اسلام اور بزرگان دین کی مخالفتوں کے باوجود اپنے درست عقیدہ کا اعلان کر دیا اور مسلمانوں کے درمیان قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا جس کی وجہ سے تاہم مسلمان مشکلات سے دوچار ہیں۔
۲: کہا جاتا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب نے اپنی تیز زکاوت اور قوی حافظے کے ذریعے فقہ، اصول، حدیث، کلام، تفسیر، تاریخ اور سیرت کا علم حاصل کیا اور شیخ احمد بن تیمیہ کی تالیفات کا بغور مطالعہ کیا جس کی وجہ سے انہوں نے ایک فرقے کی بنیاد ڈالی۔
۳: محمد بن عبد الوہاب نے اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے بیرون از وطن کافی سفر کئے لیکن بیرون از ملک ان کے سفر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اور یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ محمد بن عبد الوہاب نے ایران عراق اور شام کا سفر کیا البتہ بعض مورخین جیسے ہمفری اور عبد اللطیف کان شوشتری نے ان کے بیرون از ملک سفر کا تذکرہ کیا ہے۔(۸۹)
۴: محمد بن عبد الوہاب نے لوگوں کو اپنے افکار کی طرف دعوت دینےکے بعد کتابوں کی تالیف کا کام شروع کیا جیسے اس سلسلے میں انہوں نے کتاب التوحید فیما یجب من حق اللہ علی العبید اور کتاب کشف الشبھات تالیف کی۔ محمد بن عبد الوہاب فقہی اعتبار سے احمد بن جنبل کے مقلد تھے اور اعتقادی اور کلامی اعتبار سے احمد بن تیمیہ اور ابن قیم الجوزیہ کے پیروکار تھے ان کا ایک اہم ترین مقصد خالص توحید اور سلف صالح کی سنت کا احیاء کرنا تھا اگر چہ اس سلسلے میں ان کے دعوے ان کے ہم عصر علماء کے ذریعے مورد تنقید قرار پائے اور علمائے اسلام کے بہت سارے علماء نے ان کے افکار و نظریات کی تردید کی۔ لیکن اس کے باوجود آل سعود کے کے ساتھ ان کے باہمی گٹھ جوڑ اور آل سعود کے حجاز جیسے اہم ملک میں اقتدار کی وجہ سےوہابی افکار کو عالم اسلام کا اہم مرکز مکہ و مدینہ حاصل ہو گیا جس کی وجہ سے بہت کم عرصے میں محمد بن عبد الوہاب کے افکار عالم اسلام کے اندرپھیل گئے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے درمیان ایک نئے فرقے کا معرض وجود میں آنا برطانیہ اورعالمی صہیونیت کو مسلمانوں کے پاش پاش کرنے کے لیے بہترین ذریعہ مل گیا جسے انہوں نے اسلام کو نابود کرنے کے لیے خوب استعمال کیا اور تاہم یہ فرقہ اسلام ناب محمدی (ص) کا حقیقی چہرہ مسخ کرنے اور مسلمانوں کی ساکھ عالمی سطح پر ختم کرنے میں روز و شب کوشاں ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں اس فرقے کو مسلمانوں کے درمیان خونریزی اور اپنی ہاتھوں اپنی گردنین کاٹنے میں استعمال کر رہی ہیں تاکہ مسلمان کا گلہ مسلمان سے کٹوایا جائے اور مسلمان ہی مسلمان کے خون کا پیاسا ہو، انہیں سامنے آنے کی ضرورت نہ پڑے اور آسانی سےوہ دنیا میں دین اسلام کو تشدد پسندانہ دین اور مسلمانوں کو دھشتگرد کے عنوان سے پیش کر سکیں۔ (۹۰) جاری
حوالہ جات
29ـ ابن تيمية، احمد; اقتضاء الصراط المستقيم: 204 بنقل از عقيدة الشيخ محمدبن عبدالوهاب السلفية:110.
30ـ العجلانى، منير; تاريخ البلاد العربية السعودية: 200 بنقل از عقيدة الشيخ محمدبن عبدالوهاب السلفية: 111 و 112.
31ـ وهّابي، احمدبن عبدالحليم الحرّانى المعروف ابن تيميه(661 ـ 728 هـ) کو سلف صالح کے دین کا احیا کرنے والا سمجھتے ہیں اور ان تعبیرات'' شیخ الاسلام، محیی الشریعہ اور محی السنہ‘‘ سے یاد کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ القاب محض ایک جھوٹ ہیں اس لیے کہ شریعت اور سنت کا احیاء کرنے والا وہ شخص ہے جوحقیقی معنی میں سنت رسول اور سچے اصحاب کی سیرت کا احیاء کرے جبکہ ابن تیمیہ کے اکثر افکار و نظریات سنت نبوی کے مخالف نظر آتے ہیں جس کی آئندہ فصلوں میں گفتگو کی جائے گی۔
32ـ الأمين العاملى، محسن; كشف الارتياب عن[فى]أتباع محمدبن عبدالوهاب: 8.
33ـ اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ وہابیوں کی طرف سے سماج میں اصلاح پیدا کرنا اور خرافات کو ختم کرنا ایک ایسا دعویٰ تھا جو عملی میدان میں کھوکھلا نظر آیا بلکہ اس کے برخلاف ایسے ایسے نئے خرافات سماج میں ایجاد کر دئے جو نہ صرف مسلمانوں کے دین کے لیے خطرہ تھے بلکہ انکی جان کے لیے بھی وبال بن گئے پیغمبر اکرم (ص) کی زیارت کرنا اپنے مرحومین کے لیے فاتحہ پڑھنا، رسول اسلام سے توسل کرنا خرافات ہیں یا رسول اور اولاد رسول کے مزاروں کو گرانا اوران کی قبروں کو اکھاڑنا۔ (آيت الله خامنه اى، سيّد على; مسلمانان در نهضت آزادى هندوستان: 35، پاورقى].
34ـ فقيهى، على اصغر; وهابيان... : از ص 135 تا 176.
35ـ محمدبن عبدالوهاب; كتاب التوحيد: 2 تا 78; محمدبن عبدالوهاب; كشف الشبهات:46.
36ـ مولفین کے مکمل نام اور ان کی کتابیں کتاب'' کتاب نامہ وہابیت‘‘ کے آخر میں ایک ضمیمہ میں بیان کیے گئے ہیں۔
37ـ دحلان، احمدبن زينى; الفتوحات الإسلامية 2: 357، العقّاد، محمود عباس; الإسلام فى القرن العشرين: 129.
38ـ سليمان بن عبدالوهاب; الصواعق الالهيّة فى الرد على الوهابية،: 7.
39ـ الصواعق الإلهية فى الرد على الوهابية: 38; العقّاد، عباس محمود; الإسلام فى القرن العشرين: 126. سبحانى، جعفر; آيين وهابيت: 23.
40ـ دَحلان، احمدبن زينى; الدرر السنيّة فى الرد على الوهابية: 39 به نقل از وهابيان...: 203.
41ـ کتاب نامہ وہابیت کے ضمیمے کی طرف رجوع کریں۔
42ـ ابن حنبل، احمد; المسند 3: 310; سعيد، امين; تاريخ الدولة السعودية من محمدبن سعود ... عبدالعزيز 1: 45; بنقل از جنبش هاى اسلامى معاصر: 165.
43ـ موثقى، احمد; جنبش هاى اسلامى معاصر: 166.
44ـ وهبة، حافظ; جزيرة العرب فى القرن العشرين: 150.
45ـ فقيهى، على اصغر; وهابيان...: 377.
46ـ موثقى، احمد; جنبش هاى اسلامى معاصر: 167; وهبة، حافظ; جزيرة العرب فى القرن العشرين: 145.
47ـ ان کے تفصیلی حالات آئندہ فصلوں میں بیان کئے جائیں گے۔
48ـ فقيهى، على اصغر; وهابيان...: 182; بنقل از جزيرة العرب فى القرن العشرين: 148.
49ـ مُغنيّة، محمد جواد; هذه هى الوهابية: 103 بنقل از وهابيان...: 182.
50ـ سبحانى، جعفر، آيين وهابيت: 39 تا 329; فقيهى، على اصغر; وهابيان...: 188.
51ـ کتاب نامہ وہابیت کے ضمیمے میں اہم ترین آثار یہ ہیں : البراهين الجلية فى رفع تشكيكات الوهابية، كشف الإرتياب عن[من] أتباع محمدبن عبدالوهاب، بحوث مع اهل السنة و السلفية.
52ـ اس تفکر کا لازمہ یہ ہے کہ دین اسلام، دین کامل نہیں ہے جبکہ قرآن واضح طور پر اس بات کو رد کرتا ہے اور دین اسلام کو دین کامل کے عنوان سے پہچنواتا ہے جو قیامت تک پیش آنے والے تمام مسائل کےجواب دینے پر قادر ہے۔ اگرچہ بعض اسلامی فرقوں نے اجتہاد کا راستہ بند کر کے دین اسلام کی جامعیت کو خدشہ دار کیا ہے لیکن اہل تشیع کے یہاں باب اجتہاد کھلا ہوا ہے اور قیامت تک پیش آنے والے تمام مسائل کا حل اسلام کے بنیادی اصول کی روشنی میں شیعہ مذہب کے اندرپیش کیا جا سکتا ہے.
53ـ مزید جانکاری کے لیے رجوع کریں «خوارج در تاريخ / يعقوب جعفرى; خوارج از ديدگاه نهج البلاغه / حسين نورى; خارجی گرى / محمود صلواتى; الخوارج، اوّل الفرق فى تاريخ الإسلام / ناصر العقل»۔
54ـ عثمانی حکومت کے بارے میں جانکاری کے لیے رجوع کریں؛ سليمان موسى؛ الحركة العربية: 9(دارالنهار، بيروت، 1970 م)].
56ـ عنايت، حميد; سيرى در انديشه سياسى عرب: 8.
57ـ البطريق، يونس احمد، الدعوة القومية فى المجتمع العربى: 28 به نقل از پيشين: 9.
58ـ آل سعود کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے جزیرۃ العرب پر وہابیوں کے مسلط ہو جانے کے بارے میں آئندہ فصلوں میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا .
59ـ يار شاطر، احسان [و ديگران]; دانش نامه ايران و اسلام: 695. بنقل از جنبش هاى اسلامى معاصر: 172.
60ـ ستودارد، لوتروپ; عالم نو اسلام يا امروز مسلمانان: 290 بنقل از جنبش هاى اسلامى معاصر: 172.
61ـ اہل تشیع قطعی دلائل کے ساتھ اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبر گرامی اسلام نے اپنی حیات مبارکہ میں متعدد بار حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین اور اپنے بعد امت کا رہنما ہونے کے عنوان سے پہچنوایا جیسے حدیث انذار، حدیث ام سلمہ، لیلۃ المبیت کا واقعہ، حدیث ثقلین اور آخر کار واقعہ غدیر جو تمام شیعہ سنی کتابوں میں نقل ہوا ہے امیر المومنین علی علیہ السلام کے رسول اسلام کے بعدجانشین ہونے پر واضح ثبوت ہیں۔ مزید جانکاری کے لیے رجوع کریں؛ الغدير فى الكتاب و السنة و الأدب / علامه امينى; نهج الحق و كشف الصدق و منهاج الكرامة فى إثبات الامامة / علامه حلّى; غاية المرام / بحرانى; عبقات الأنوار / مير حامد حسين هندى; شيعه در اسلام / علامه طباطبايى و...
62ـ عبد اللہ بن سبا کے افسانے کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے لیے مرحوم علامہ سيد مرتضى عسكرى(ره) کی گرانقدر کتاب «عبداللّه بن سبأ و اساطير أخرى» کی طرف مراجعہ کریں جس کا اردو میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے اور اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی نے اسے چھپوانے کا شرف حاصل کیا ہے۔
63ـ Goldziher، مستشرق مجارستانى(م. 1921 م) جو اسلام کے ساتھ دشمنی میں معروف ہے اس کے منجملہ آثار ، «تاريخ مذاهب تفسير اسلامى» و «العقيدة و الشريعة فى الاسلام» ہیں. [موسوعة المستشرقين: 197].
64ـ Dozy، مستشرق هلندى(م. 1883 م) اس کا ایک اثر «تاريخ مسلمى اسبانيا حتی غزو المرابطين للآندلس» .[ موسوعة المستشرقين: 259].
65ـ Wellhausen، مستشرق آلمانى(م. 1918 م) اس کے منجملہ آثار، «بقايا الوثنية العربية» و «الدولة العربية و سقوطها» ہیں. [موسوعة المستشرقين: 408].
66ـ محمّدبن عبدالوهاب; رسالة فى الرد على الرافضة: 14.
67ـ وہی حوالہ: 20.
68ـ وہی حوالہ: 27.
69ـ محمدبن عبدالوهاب; رسالة فى الرد على الرافضة، مكة المكرمة، مركز البحث العلمى و احياء التراث الإسلامى، 1400 هـ.
70ـ سوره حشر / 2.
71ـ العُثيمين، عبداللّه; الشيخ محمّدبن عبدالوهاب، حياته و فكره: 81.
72ـ عبدالرحمن بن حسن; الدُرر السنيّة 9: 225 بنقل از عقيدة الشيخ محمّدبن عبدالوهاب السلفية: 120.
73ـ صالح بن عبداللّه; عقيدة الشيخ محمّدبن عبدالوهاب السلفية: 121.
74ـ وہی حوالہ: 122۔
75ـ وہی حوالہ: 122.
76ـ وہی حوالہ: 123.
77ـ ابن غنّام، حسين; روضة الأفكار و الأفهام لمُرتاد حال الإمام و تعداد غزوات الإسلام 1: بنقل از عقيدة الشيخ محمّدبن عبدالوهاب السلفية: 124.
78ـ صالح بن عبداللّه; عقيدة الشيخ محمّدبن عبدالوهاب السلفية: 124.
79ـ وہی حوالہ: 128.(محمدبن عبدالوهاب، رسالة فى الرد على الرافضة، مكة المكرمة، مركز البحث العلمى و احياء التراث الاسلامى، 1400 هـ.ق).
80ـ وہی حوالہ: 132.
81ـ وہی حوالہ: 133.
82ـ اس کتاب کا پورا نام «المسايل التى خالف فيها رسولُ اللّه(ص) أهل الجاهلّية» ہے.
83ـ وہی حوالہ: 133. پہلے ذکر کیا گیا کہ محمد بن عبد الوہاب کے بھائی سلیمان نے محمد کے افکار کی رد میں دو کتابیں «الصواعق الإلهية فى الرد على الوهابية» و «فصل الخطاب فى الرد على محمّدبن عبدالوهاب» لکھیں۔
84ـ وہی حوالہ: 134.
85ـ وہی حوالہ: 145.
86ـ وہی حوالہ: 145.
87ـ ابن غنّام، حسين; روضة الأفكار و الأفهام لمُرتاد حال الامام و تعداد غزوات الإسلام 2: 154; دحلان، احمدبن زينى; الدرر السنية فى الرد على الوهابية: 20 بنقل از عقيدة الشيخ محمدبن عبدالوهاب السلفية: 146; دحلان، احمدبن زينى; سرگذشت وهابيت، ترجمه: ابراهيم وحيد دامغانى: 14.
88 دحلان، احمدبن زينى; الدرر السنية فى الرد على الوهابية: 53; فقيهى، على اصغر; وهابيان...: 210; سرگذشت عربستان: 123.
89ـ صالح بن عبدالله، عقيدة الشيخ محمدبن عبدالوهاب السلفية: 77.
90ـ آئندہ قسطوں میں اس بارے میں تفصیلی گفتگو کی جائےگی۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ