اندراج کی تاریخ  11/19/2020
کل مشاہدات  210
اسلام ٹائمز:سعودی شہزادوں اور عرب بزنس ٹائیکونز کی مالی معاونت نے "اشاعت توحید و السّنۃ" اور اس جیسے دیگر تکفیری عقائد رکھنے والے اداروں کو مضبوط کیا۔ ان تبلیغی و فلاحی اداروں کا کردار دیوبندیت کے اندر ایک طرح سے ففتھ کالم کا سا تھا۔ یہ گھر کے ایسے بھیدی تھے جو سعودی تکفیری سوچ کو دن بدن دیوبندیت میں راسخ کرنے پر لگے ہوئے تھے
مصنف :  سید علی شیرازی

تکفیریوں نے دیوبندیت کو اپنا شکار صرف جہادی معسکروں میں ہی نہیں بنایا بلکہ "تکفیریوں" نے دیوبندیت پر اپنے عقائد و نظریات ٹھونسے کے لیے اُن کے تبلیغی و فلاحی اداروں میں بھی نفوذ کیا۔ جیسا کہ ہم اپنے پچھلے کالم میں بیان کر چکے ہیں کہ دیوبندیت اور تکفیریت کے درمیان "جہادی روابط" افغان جہاد کے دوران قائم ہوئے۔ جہادی اسٹرکچر کو سپورٹ کرنے کے نام پر عرب تکفیریوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں فلاحی و تبلیغی اداروں کا ایک جال بچھا دیا۔ اُن میں سے ایک تبلیغی و فلاحی ادارہ "اشاعت توحید و السّنہ" بھی تھا۔
"اشاعت توحید و السّنۃ" کی بنیادیں دیوبند عالم دین حسین علی الوانی پنجائی اور شیخ القرآن مولانا محمد طاہر نے رکھیں، مولانا محمد طاہر دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے، 1938ء میں مکہ گئے اور کچھ عرصہ وہیں سکونت اختیار کی اور وہیں سے سعودی وہابی تفکر سے متاثر ہوئے، واپسی پر سعودی علماء کے تعاون سے انہوں نے "اشاعت توحید و السّنہ" کی بنیاد رکھی۔ بعد میں مولانا غلام اللہ خان، سید عنایت اللہ شاہ بخاری، قاضی نور محمد، شیخ الحدیث مولانا قاضی شمس الدین، شیخ التفسیر مولانا محمد امیر بندیالوی وغیرہ نے اس جماعت کو فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کیں، ان میں اکثریت اُن دیوبند علماء کی تھی جو سعودی عرب سے اپنی تعلیم مکمل کر کے آئے، اور دیوبندی ہونے کے باوجود وہابی و تکفیری نظریات سے زیادہ متاثر تھے۔
ادارہ اشاعت التوحید و السّنۃ اپنی ابتداء سے ہی رائج علماء دیوبند کے فکری و علمی مذاق کے برخلاف وہابیت کی طرف مائل تھا۔ افغان جہاد کے دوران وہابی تکفیری مجاہدین کے دیوبندی علماء کے ساتھ روابط اور سعودی شہزادوں، عرب بزنس ٹائیکونز کی مالی معاونت نے "اشاعت توحید و السّنۃ" اور اس جیسے دیگر تکفیری عقائد رکھنے والے اداروں کو مضبوط کیا۔ ان تبلیغی و فلاحی اداروں کا کردار دیوبندیت کے اندر ایک طرح سے ففتھ کالم کا سا تھا۔ یہ گھر کے ایسے بھیدی تھے جو سعودی تکفیری سوچ کو دن بدن دیوبندیت میں راسخ کرنے پر لگے ہوئے تھے۔ افغان جہاد کے دوران سعودی اور تکفیری مالی معاونت سے "اشاعت توحید و السّنۃ"  نے اپنی جڑیں خیبر پختونخواہ میں مضبوط کیں۔ خیبر پختونخواہ اور اُس سے ملحقہ فاٹا کی سات ایجنسیوں میں اپنا تبلیغی و فلاحی اسٹرکچر مضبوط بنانے کے بعد اس ادارے نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان حتٰی ایران اور افغانستان کا بھی رخ کیا۔ "اشاعت توحید والسّنہ" کے ان تکفیری و وہابی عقائد و نظریات سے جب بڑی تعداد میں لوگوں نے متاثر ہونا شروع کیا تو پھر علماء دیوبند کو ہوش آیا اور انہوں نے اپنے اندر سے پھوٹنے والے اس تکفیری فتنے کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اشاعت توحید و السّنۃ اور علماء دیوبند کے درمیان اس وقت پنجاب و سندھ میں گھمسان کی عقیدتی و نظریاتی جنگ جاری ہے۔
"حیات النبی ص" پر بحث اس ساری جنگ میں مرکزی کردار اختیار کیے ہوئے ہے۔ علماء دیوبند کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے انتقال کے بعد اپنی قبر مبارک میں اپنے جسد خاکی کے ساتھ زندہ ہیں۔ جبکہ اس کے برخلاف اشاعت توحید و السّنۃ و تکفیری تفکر کے حامل علماء کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد اب اُن کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں رہا، اُن کا جسد مبارک نعوذ باللہ مٹی میں مل چکا ہے۔ اول الذکر اپنے آپ کو "حیاتی" کہتے ہیں جبکہ آخر الذکر "مماتی" کہلاتے ہیں۔
تکفیری تفکر رکھنے والے دیوبند علماء اور روایتی دیوبند علماء کے درمیان حیات النبی ص کے علاوہ بھی مندرجہ ذیل عقائدی اختلافات پائے جاتے ہیں۔
1۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک پر کھڑے ہو کر آپ سے استشفاع جائز ہے یا نہیں؟ دیوبند جائز کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر سے متاثر حرمت کے قائل ہیں۔
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استغاثہ کیا جا سکتا ہے؟ اور آپ کے توسل سے دعا مستحسن ہے یا نہیں؟ دیوبند علماء استغاثہ اور توسل کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر رکھنے والے علماء اس کو جائز نہیں مانتے۔
3۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبر اقدس میں ہماری جانب سے پڑھا گیا درود و سلام سنتے ہیں؟ روایتی دیوبند علماء اس بات کے قائل ہیں کہ نبی اکرم ص اپنے انتقال کے بعد بھی سنتے ہیں اور اس بات کے بھی قائل ہیں کہ فرشتے ہمارا سلام نبی اکرم ص کی قبر اقدس میں لے جاتے ہیں۔ جبکہ تکفیری "سماع موتی" کے قائل نہیں۔
4۔ کیا نبی اکرم ص کی قبر اقدس کی زیارت کے لیے سفر کی نیت کرنا مستحسن ہے؟ علماء دیوبند مستحسن کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر سے متاثر علماء ایسے سفر کو حرام شمار کرتے ہیں۔
5۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نعت پڑھی جا سکتی ہے؟ علماء دیوبند ایسی نعت جس میں شرک آمیز غلو شامل نہ ہو، پڑھنا جائز سمجھتے ہیں جبکہ تکفیری اس کو حرام شمار کرتے ہیں۔
دیوبند میں تکفیری تفکر سے متاثر علماء کی تعداد اگرچہ بہت کم ہے لیکن ان کو سعودی اور مشرق وسطٰی کے شہزادوں اور علماء کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ پیسے کی فروانی کی وجہ سے یہ لوگ بڑے پیمانے پر اپنے تبلیغی و فلاحی پراجیکٹس چلا رہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کو تکفیری عقائد سے شدید متاثر کرنے کے بعد ان لوگوں نے پنجاب، سندھ، بلوچستان، زاہدان، چاہ بہار وغیرہ میں بھی قدم جمانے شروع کیے ہوئے ہیں۔ ان کو صرف پنجاب اور سندھ میں روایتی دیوبند علماء کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔
علماء دیوبند کی اپنے اندر سے پھوٹنے والے فتنہ تکفیریت و وہابیت کے خلاف حالیہ کوششوں کو دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ علماء ناصرف بیدار ہیں بلکہ اس فتنے کے پس پشت کارفرما سعودی و وہابی سازشوں کو بھی سمجھ رہے ہیں۔ (جاری ہے)

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ