ایک الزام جو قدیم زمانے سے اب تک شیعہ مخالف حضرات شیعہ مذہب پر لگاتے ہیں ،ازواج انبیاء علیہم السلام کی توہین کی توہین کا الزام ہے ، بعض لوگ جیسے ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوھاب دعوادار ہیں کہ شیعہ نے حضرت عائشہ اور انبیاء علیہم السلام کی بعضی بیویوں کی طرف قبیح افعال جیسے زنا وفحشاء کی نسبت دی ہے ، یہ لوگ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے ایک ٹی وی چینل پر کئے جانے والے دعوا کو دلیل بناتے ہیں ،
حوالہ :  وھابیت کی مخصوص سائٹ الوھابیۃ

پہلے:  جبکہ اس طرح کی باتیں اور اقوال کو  شیعہ علماء قبول نہیں  کرتے ، چنانچہ عام شیعہ علماء نے اس طرح کے اقوال پر اعتراض کئے ہیں،

 دوسرے : یہ کہ شیعہ علماء کے اقوال کو دیکھ کر مشاہدہ ہوتا ہے کہ یہ شیعہ علماء انبیاء علیہم السلام کی تمام ازواج زنا وفحشاء سے منزہ ومبرا جانتے ہیں ، یہان تک کہ ازواج انبیاء علیہم السلام سے اس قسم کے قبیح افعال کے واقع ہونے کو ناممکن اور محال سمجھتے ہیں ،

تیسرے : بعض  سنی علماء جیسے آلوسی صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ ازواج انبیاء علیہم السلام کی جانب شیعوں کی طرف سے اس قسم کی نسبتیں کبھی نہیں دی گئی ہیں ان تمام تفصیلات کو ملحوظ رکھکر یہ نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ مذکورہ مسئلہ میں ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوھاب جیسے لوگوں کا دعوی مردود اور غلط ہے۔

مصنف : محمد باغچیقی (محقق ادارہ دارالاعلام لمدرسہ اہل البیت علیہم السلام قم )

مقدمہ :

کبھی کبھی دیگر اسلامی مذہبوں کے صحیح افکار اور صحیح عقائد کے بارے میں دقیق اطلاع نہ ہونا انسان کو اس مذہب کے خلاف الزام تراشیوں کی طرف لے جاتا ہے ، اسی بنا پر بعض نا آگاہ عالم نما حضرات شیعوں کے افکار اور عقائد کے متعلق ایسے دعوے کردیتے ہیں کہ تھوڑے غور وفکر اور شیعہ علماء کی بنیادی عقائد کے بارے میں مطالعہ کرنے سے ان دعووں کا جھوٹا ہونا بالکل واضح ہوجاتا اور روشن ہوجاتا ہے ۔

البتہ اس بات کی یاد دھانی ضروری ہے کہ ایک مذہب کے علماء کا نظریہ اس صورت میں اس مذہب کا عام نظریہ سمجھا جاتا ہے جب وہ اس مذہب کے عام اور اکثر علماء کا نظریہ لہذا اس بنا پر اس مذہب کے عام علماء کے نظریہ کے مخالف ایک یا چند علماء کے نظریہ کو ثبوت بناکر مذکورہ نظریہ کو اس مذہب کی جانب منسوب نہیں کیا جاسکتا ۔

ایک مہم ترین بلکہ خطرناک ترین الزام جو مذہب اہل بیت علیہم السلام کے پیروں کاروں پر گذشتہ زمانے سے زمانہ حاضر تک لگایاجاتا رہا ہے ، حضرت عائشہ کے متعلق شیعوں پر الزام ہے ، بعض نادان یا شیعہ دشمن اور مفاد پرست عناصر اپنی کتابوں میں ہمیشہ یہ دعوی کرتے رہیں کہ شیعہ حضرت عائشہ کی طرف عفت کے مخالف برئیوں کی نسبت دیتے ہیں ، یہ دعوی اس طرح اُن لوگوں کی جانب سے پیش کیا گیا ہے کہ یا اس قسم کے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل بھی پیش  نہیں کی ہے یا پھر کسی شاذ  قول کو دلیل بنا کر پیش کیا ہے ، جبکہ اس مسئلہ میں شیعہ علماء کا نظریہ  دوسرا ہے ، اور جرائت سے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ  اجماع شیعہ علماء محکم اور یقینی عقلی اور منقول آیات و احادیث دلیلوں   کی بنیاد پر انبیاء علیہم السلام کی ازواج کو مخالف عفت افعال اعمال انجام دینے سے مبرا سمجھتے ہیں ۔

آئندہ گفتگو میں مذکورہ مسئلہ سے متعلق شیعہ مخالف لوگوں کے دعوی کو بیان کرتے ہوئے اس دعوی پر تنقید اور تحقیق بھی کریں گے ۔

۱بن تیمیہ

ابن تیمیہ نے اپنی کتاب منہاج السنۃ میں دعوی کیا ہے کہ شیعوں نے حضرت عائشہ اور اسی طرح حضرت نوح کی زوجہ کی طرف زنا کی نسبت دی ہے وہ لکھتے ہیں : «وهؤلاء الرافضة يرمون أزواج الأنبياء: عائشة وامرأة نوح بالفاحشة ; فيؤذون نبينا - صلى الله عليه وآله وسلم - وغيره من الأنبياء من الأذى بما هو من جنس أذى المنافقين المكذبين للرسل»(۱) ۔

شیعہ  حضرات جناب عائشہ اور زوجہ نوح پر زنا کا الزام لگاتے ہیں اور اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء علیہم السلام کو آزار واذیت دیتے ہیں ۔

محمد بن عبد الوھاب

محمد بن عبد الوھاب نے بھی اپنی کتاب میں دعوی کیا ہے کہ شیعہ یہودیوں سے متحد چیزوں میں شبہات رکھتے ہیں ایک شبہات جس کی طرف اشارہ کرتے ہیں یہ ہے کہ جیسے یہودی حضرت مریم علیہا السلام پر فحشاء کا الزام لگاتے ہیں شیعہ بھی اسی طرح حضرت عائشہ پر فحشاء کا لزام لگاتے ہیں (۲)۔

انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ علماء شیعہ کی کتابوں کو دیکھا جائے تاکہ ابن نتیجہ نکال جاسکے کہ اس قسم کے دعوی صحیح ہیں یا نہیں ؟ آنے والی گفتگو میں ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوھاب کے دعوی پر تحقیق و تبصرہ کیا جائے گا ۔

مذکورہ دونوں دعووں پر تحقیق وتنقید

گذشتہ  گفتگو میں ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوھاب کے اس دعوی پر کہ شیعہ جناب عائشہ پر قبیح فعل کا الزام لگاتے ہیں اس طرح اشارہ ہوچکا ہے ، اب ان پر تحقیق کی جائے گی ۔

پہلی بات

یہاں تک کہ دیگر مذاہب کے بہت سے وہ علماء جنھوں نے شیعوں کے بزرگ علماء کی کتابوں کو مطالعہ کیا ہے اس بات کا اعتراف اور یقین کیا ہے کہ جناب عائشہ اور دیگر ازواج انبیاء علیہم السلام کی جانب شیعوں کی طرف سے زنا کا الزام لگانا غلط اور حقیقت کے برخلاف ہے ایسا کبھی نہیں ہوا ہے ، چنانچہ آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں صراحت سے بیان کرتے ہیں «ونسب للشيعة قذف عائشة بما برأها الله تعالى منه وهم ينكرون ذلك أشد الإنكار وليس في كتبهم المعول عليها عندهم عين منه ولا أثر أصلا، وكذلك ينكرون ما نسب إليهم من القول بوقوع ذلك منها بعد وفاته (صلّى الله عليه وآله و سلّم) وليس له أيضا في كتبهم عين ولا أثر.»(۳).

شیعوں کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ عائشہ پر زنا کا الزام لگاتےہیں ، اللہ نے اُسے اس بات سے مبرا قرار دیا ہے ۔ حالانکہ خود شیعہ اس بات کا بشدت انکار کرتے ہیں ، ان کی قابل اعتماد کتابوں میں اس طرح کامطلب نظر نہیں آتا اور اس طرح کی بالکل بھی کوئی تحریر نہیں ہے ، اسی طرح شیعہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفات کے بعد بھی حضرت عائشہ کے فعل قبیح کے انجام دینے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے بارے میں بھی ان کی کتابوں میں کوئی بات نہیں ملتی ۔

اسی طرح آلوسی نے حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیوبیوں کی خیانت {فخانتاهما} کے معنی اور مطلب کے بارے میں بحث کرتے ہوئے اس طرح یقینی اقرار کیا ہے «وما ينسب للشيعة مما يخالف ذلك في حق سيد الأنبياء (صلّى الله تعالى عليه وآله وسلم) كذب عليهم فلا تعول عليه وإن كان شائعا»(۴)۔

وہ الزام (ازواج انبیاء علیہم السلام پر شیعوں کی جانب سے زنا کا الزام )جو لگایا جاتا ہے وہ جھوٹ ہے ان خلاف بہتان ہے اگرچہ مشہور ہے ۔

دوسری بات

مذہب اہل بیت علیہم السلام کے مفسرین اور ان کے علماء کی کتابوں میں رجوع کرنے پر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوھاب کا اس  بنیاد  پر دعوی کہ شیعہ حضرات حضرت عائشہ اور ازواج نوح علیہ السلام پر زنا کا الزام لگاتے ہیں بے  بنیاد اور غلط ہے اس سلسلہ میں شیعہ علماء کے نظریات تفسیری کتابوں میں بھی نظر اتے ہیں ، کلامی و اعتقادی کتابوں میں بھی یہاں تک کہ اخلاقی کتابوں میں بھی موجود ہیں ، آئندہ گفتگو میں اس مسئلہ سے مربوط بعض بزرگ شیعہ علماء کے نظریات کی طرف اشارہ کیا جائے گا ۔

الف : بہت سے شیعہ علماء اس آیت شریفہ « قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ  إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ  فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ  إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ»(۵)۔کے ذیل میں صراحت سے بیان کیا کرتے ہیں کہ (انه لیس من اهلک)کے مطلب اور معنی کے بارے میں یہ کہنا کہ کعنان حضرت نوح علیہ السلام کے حقیقی بیٹے نهیں تھے بلکہ نعوذباللہ زنا سے پیدا ہوئے تھے ،یہ سراسر غلط اور مردود بات ہے ، شیعہ علماء نے اس مطلب کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی تاکید کی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی کوئی ایک زوجہ بھی زنا میں ملوث نہیں ہوتی ہے ، ان میں سے بعض نظریات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے :  

۱۔ مرحوم طبرسی تفسیر مجمع البیان میں نمایاں طور پر بیان کرتے ہیں کہ کعنان حضرت نوح علیہ السلام کے حقیقی بیٹے تھے ،آپ اسنے اس دعوی کو ثابت کرنے کے لئے اس آیت کے علاوہ «وَ نَادَى نُوحٌ ابْنَهُ»(۶)۔ جس میں کنعان کے لئے ابن یعنی بیٹے کا لفظ استعمال ہوا ہے ، تحریر فرماتے ہیں : انبیاء علیہم السلام کی زوجات کی طرف زنا کی نسبت دینا جائز نہیں ہے اُن کا مقام  مرتبہ اس طرح مذموم افعال سے مبرا ومنزہ ہے ، چونکہ اللہ سبحانہ نے اپنے انبیاء کی عظمت کی خاطر انہیں اس قسم کی باعث نفرت نسبتوں سے محفوظ رکھا ہے ، مرحوم طبرسی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا ہے : «ما زنت‏ امرأة نبي قط و كانت الخيانة من امرأة نوح أنها كانت تنسبه إلى الجنون و الخيانة و من امرأة لوط أنها كانت تدله على أضيافه» (۷).انبیاء علیہم السلام کی کسی زوجہ نے بھی زنا نہیں کیا ہے اور توجہ رکھنا چاہئے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی زوجہ کی خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کو دیونہ کہتی تھی (العیاذ باللہ )اور حضرت لوط علیہ السلام کی زوجہ کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں کو حضرت لوط کی ملاقات کو آنے والے مہمانوں کی اطلاع دیتی تھی (۸)۔

۲۔ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس آیت کے ذیل میں تحریرفرماتے ہیں : ایسا ممکن نہیں ہے کہ کعنان کو حضرت نوح کا بیٹا نہ مانا جائے چونکہ اس قسم کی نسبت پیغمبر الہی پر طعن ہے اور انبیاء الہی علیہم السلام کے لئے اس طرح کی نسبتیں مناسب نہیں ہیں (۹)۔

۳۔ علامہ طباطبائی بھی اس دعوی کا انکار کرتے ہوئے کہ کعنان زوجہ حضرت نوح علیہ السلام کے ناجائز رابطہ کا نتیجہ تھا تحریر فرماتے ہیں :  انبیاء  الہی علیہم السلام  اس قسم کے بہتان والزمات سے مبراومنزہ ہیں لہذا ان کی ازواج اس طرح کے گھٹیا الزام لگانا صحیح نہیں ہے(۱۰) ۔

۴۔ ابوالفتوح رازی بھی اپنی تفسیر کی کتاب ؛؛ روض الجنان ؛؛ وروح الجنان فی تفسیر القرآن ؛؛ میں کعنان کے حضرت نوح کا بیٹا ہونے سے انکار کو انبیاء علیہم السلام کے مبرا ومنزہ ہونے کو منافی اور برخلاف قرار دیا کو باعث نفرت کام سمجھا لہذا آپ نے اس کی تردید کی ہے (۱۱) ۔

۵۔ مرحوم فتح اللہ کاشانی دسویں صدی ہجری کے مفسرین میں سے ہیں منہج الصادقین نامی کتاب میں اس امکان کو کہ کنعان حضرت نوح علیہ السلام کے حقیقی فرزند نہ ہونے کو باطل قرار دیا ہے (۱۲).

ب : ایک اور آیت جس کے ذیل میں شیعہ مفسرین نے انبیاء علیہم السلام کی زوجات کو عفت کے خلاف امور سے مبرا ومنزہ ہونے کی طرف ازارہ کرتے ہیں آیت «ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ» (۱۳) ہے ۔

بہت سے  شیعہ مفسرین نے اس خیانت کا مفہوم و مطلب کو بیان کرتے ہوئے جس خیانت کا تذکرہ اس آیت میں ہوا ہے واضح ہے طور پر بیان کرتے ہیں کہ اس خیانت سے مراد وہ یقینا جنسی خیانت نہیں ہے چونکہ ازواج انبیاء الہی ایسے امور جیسے زنا، فحشاء، سے مبرا ہیں ۔

بعض  شیعہ مفسرین کی طرف اشارہ کیا جائے گا جنھوں نے اس مطلب کا یقینی اقرار کیا ہے :

۱۔ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ مجمع البیان میں بیان کرتے ہوئے کہ ازواج انبیاء علیہم السلام فحشاء و منکر میں مبتلا نہیں ہوتے تاکید کرتے ہوئے اُن دونوں  (حضرت نوح کی زوجہ اور حضرت لوط کی زوجہ )نے دین کے سلسلہ میں خیانت کی تھی جنسی مسائل میں خیانت نہیں  (۱۴)۔

مرحوم طبرسی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر  جوامع الجامع میں بھی تحریر فرماتے ہیں : «و لا يجوز أن يراد بالخيانة الفجور؛ لأنه نقيصة عند كلّ أحد، سمج‏ فى كلّ طبيعة بخلاف الكفر؛ لأن الكفّار لا يستسمجونه»‏ ممکن نہیں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی زوجہ اور حضرت لوط کی زوجہ کی خیانت کا مطلب زناو فحشاء لیا جائے چونکہ اس قسم کی خیانت حقیقت میں ان دو بزرگوار نبیوں کا نقص اور عیب ہے برخلاف کفر کے کہ اگر نبیوں کی بیویاں کافر ہوں تو ان حضرات کے لئے عیب یا نقص شمار نہیں ہوگا ۔

۲۔ شیخ طوسی  رحمۃ اللہ علیہ  اس آیت کے ذیل میں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس ایت میں خیانت کا مطلب فحشاء و زنا نہیں ہے تاکید کرتے ہیں : «فمن نسب أحداً من زوجات النبي إلى الزنا، فقد أخطأ خطاء عظيما»(۱۵)۔

اگر کوئی شخص ازواج انبیاء علیہم السلام کو زنا وفحشاء کی نسبت دیتے ہیں وہ عظیم خطا کے مرتکب ہوتے ہیں ۔

۳۔ مرحوم طریحی رحمۃ اللہ علیہ   نے بھی مجمع البحرین میں وضاحت کی ہے کہ ممکن نہیں سورہ تحریم کی آیت نمبر ۱۰ میں خیانت کا مطلب زناوفحشاء سمجھیں (۱۶)۔

۴۔ آیت اللہ مکارم شیرازی(حفظہ اللہ )بھی تحریر فرماتے ہیں : (ان دو عورتوں نے ان دونوں پیغمبروں کے ساتھ بڑی خیانت کی لیکن اُن کی خیانت جادہ عفت سے انحراف ہرگزنہیں تھیں اس لئے کہ کسی بھی پیغمبر کی زوجہ بے عفتی میں ملوث نہیں ہوتی ہے ، چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں واضح صراحت سے آیا ہے ،" ما بغت امرأة نبى قط" کسی بھی نبی کہ زوجہ خلاف عفت کام میں ملوث نہیں ہوئی ) (۱۷)۔

۵۔ علامہ جواد مغنیہ  رحمۃ اللہ علیہ بھی اس آیت میں خیانت کا مطلب بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں : «فخانتاهما أي بالكفر و النفاق لا بالزنا و الفجور»(۱۸)۔ ان کی خیانت کفرونفاق میں تھی زناو فجور میں نہیں ۔

۶۔ آیت اللہ معرفت نے بھی صراحت سے فرمایا ہے کہ سورہ تحریم کی آیت نمبر ۱۰ میں خیانت سے مراد فحشاء وزنا ہرگز نہیں ہے(۱۹)۔

۷۔ فتح اللہ کاشانی دسویں صدی ہجری کے مفسر بھی اس آیت کے ذیل میں بیان کرتے ہوئے کہ خیانت سے مراد سخن چینی یا کفرونفاق ہے صراحت کرتے ہیں کہ اس خیانت سے مراد زنا نہیں ہے چونکہ انبیاء علیہم السلام کی تمام بیویاں زنا سے مبرا ہیں (۲۰)۔

ج : آیت «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ  بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ  لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّی كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ»(۲۱)۔ وہ دوسری جگہ ہے جہاں پربھی شیعہ علماء نے صراحت سےازواج انبیاء کو زنا جیسے قبیح افعال سے منزہ ومبرا قرار دیا ہے چنانچہ علامہ طباطبائی  اس آیت کے ذیل میں صریح طور سے بیان کرتے ہیں : «إن تسرب الفحشاء إلى أهل النبي ينفر القلوب عنه فمن الواجب أن يطهر الله سبحانه ساحة أزواج‏ الأنبياء عن لوث الزنا و الفحشاء و إلا لغت الدعوة و تثبت بهذه الحجة العقلية عفتهن واقعا لا ظاهرا فحسب»‏(۲۲)۔ اگر انبیاء علیہم السلام کے گھروالوں کی طرف زناوفحشاء کی نسبت دی جائے تو حضرات انبیاء علیہم السلام نفرت کا باعث ہوگا لہذا واجب وضروری ہے کہ خدا ومتعال ازواج انبیاء علیہم السلام کو قبیح امور جیسے زنا وفحشاء سے پاک وکیزہ قرار دیا ہے چونکہ اگروہ اس قسم کے مسائل سے منزہ ومبرا نہ ہوں تو انبیاء علیہم السلام کی دعوت نعوذباللہ بے ہودہ قرار پائے گی ۔

علامہ محمد جواد مغنیہ رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے ذیل میں واضح طور پر فرماتے ہیں : «ان الشيعة الإمامية يعتقدون و يؤمنون ان نساء الأنبياء جميعهن عفيفات طاهرات،.....، و ان زوجته قد تكون كافرة و لن تكون بغيا، لأن الرسول‏ أكرم على ربه و أعز من أن يجعل تحته بغيا»(۲۳)۔ شیعوں کا عقیدہ و ایمان ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تمام بیویاں باعفت اور فحشاء سے پاک و پاکیزہ ہیں ان حضرات کی اوجات ممکن ہے کہ کافر ہوں لیکن خلاف عفت امور سے دور ہیں چونکہ پیغمبر کی شان اس قسم کے امور سے بلند وبالا اور اشرف ہے ۔

د : بعض شیعہ علماء اس آیت «الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ  وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ  لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ»(۲۴)۔ کے ذیل میں انبیاء علیہم السلام کی ازواج کی فحشاء سے طبیات وپاکیز گی کو بیان کرتے ہیں جیسے آیت اللہ مکارم شیرازی حفظہ اللہ اسی آیت کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں : انبیاء علیہم السلام کی کوئی زوجہ بھی یقینی طور پر جنسی انحراف وگناہ میں ملوث نہیں ہوتی اور حضرت نوح وحضرت لوط علیہما السلام کے قصہ میں خیانت سے مراد کفار کے لئے جاسوسی کرنا ہے ناموسی وجنسی خیانت نہیں ہے ، دراصل یہ عیب نفرت انگیز عیب شمار ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ انبیاء کی شخصی زندگی کا ماحول ایسے عیوب سے پاک وصاف ہونا چاہئے جن سے لوگ نفرت کرتے ہیں تاکہ نبوت کا مقصد جو لوگوں کو دین کی طرف جذب کرنا ہے بے اثر اور بے نیتجہ نہ رہ جائے (۲۵)۔

شیعہ مفسرین کے علاوہ دیگر علماء نے بھی اپنی کتابوں میں انبیاء الہی علیہم السلام کی زوجات کو زنا فحشاء سے صراحتا منزہ مبرا قرار دیا ہے ، آئندہ گفتگو میں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے :

۱۔ سید مرتضی رحمۃ اللہ علیہ حضرت نوح کے فرزند کے بارے میں تحریر کرتے ہیں : بعید ہے کہ کہیں کہ کنعان حضرت نوح کا حقیقی بیٹا نہیں تھا ، چونکہ چونکہ ایک دوسری آیت میں صراحت ہوئی ہے کہ وہ حضرت نوح کا بیٹا تھا ، اسی طرف توجہ رکھنا چاہئے تمام انبیاء علیہم السلام اس بات سے منزہ و مبرا ہیں کہ ان کی ازواج زنا وفحشاء کی مرتکب ہوں   (۲۶)۔

۲۔ علامہ شرف الدین علیہ الرحمۃ  بھی اس الزام کے رد عمل میں جو بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ شیعہ حضرات جناب عائشہ پر فحشاء کا الزام لگاتے ہیں ، تحریر فرماتے ہیں : شیعوں کے نزدیک حضرت عائشہ زنا جیسے قبیح امور سے پاک ومنزہ ہیں ۔ یہ مطلب شیعہ علماء کی قدیم کتابوں میں موجود ہے انبیاء علیہم السلام کی ازواج کا فحشاء سے مبرا ہونا شیعوں کے نزدیک عصمت انبیاء کا جزء لاینفک ہے جیسے سب قبول کرتے ہیں اس بنیاد پر حضرت عائشہ اور دیگر ازواج کی طرف فحشاء کی نسبت دینا ناجائز کا م ہے (۲۷)۔

۳۔ مرحوم ابن شہر آشوب نے بھی یہ مسئلہ بیان کرتے ہوئے کہ انبیاء الہی علیہم السلام بعض نفرت انگیز چیزوں سے منزہ ومبرہ ہیں تاکید کی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے والدین کا کافر ہونا اور ان کی ازواج کا زنا کار ہونا منجملہ اُنہی نفرت انگیز امور میں سے ہے کہ جن سے انبیاء الہی علیہم السلام مبرا ومنزہ ہیں  (۲۸)۔

۴۔ ملا صالح مازندرانی بھی اپنی تالیف شرح الکافی میں  باصراحت بیان کرتے «خيانة المرأتين ليست هى الفجور و انما هى نفاقهما و ابطانهما الكفر و تظاهرهما على الرسولين فامرأة نوح قالت لقومه انه مجنون و امرأة لوط دلت قومه على ضيفانه، و ليس المراد بالخيانة البغى و الزنا اذ ما زنت امرأة نبى قط» (۲۹)۔ اُن دونوں عورتوں  (زوجہ نوح وزوجہ حضرت لوط علیہما السلام)کی خیانت زنا وفحشاء نہیں تھی بلکہ حضرت نوح کی زوجہ حضرت نوح کو دیوانہ کہتی تھی (نعوذباللہ ) اور حضرت لوط علیہ السلام کی زوجہ اپنی قوم کو خبر دیتی کہ کون لوگ حضرت لوط کے مہمان ہوتے ہیں ،لہذا ان دوعورتوں کی خیانت زنا نہیں تھی چونکہ کسی بھی نبی کی زوجہ زنا نہیں کرتی ۔

۵۔ مرحوم خواجوئی اپنی کتاب جامع الشتات میں لکھتے ہیں : «اللائق بمنصب النبوّة نزاهتهنّ عنه و سلامتهنّ منه، و لم يقع من واحدة منهنّ، فعن ابن عبّاس: ما زنت امرأة نبيٍّ قطّ. و أمّا ما توهّم من قوله تعالى: «يا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صالِحٍ» أنّه يدل على تلوّث ذيلها و تدنّس إزارها و قذارة ثيابها، و لذا نقل عن الحسن و مجاهد أنّه ما كان ابنه على الحقيقة و إنّما ولد على فراشه فقال: يا «رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي» على ظاهر الحال فأعلمه تعالى بأنّ الأمر على خلاف الظاهر؛ فهو فاسد يأباه‏ «وَ نادى‏ نُوحٌ ابْنَهُ» مع أنّ الأنبياء يجب أن ينزّهوا عن مثل هذه الحال لأنّها تنفر و تشين، و قد نزّه اللَّه أنبياءه عمّا دون ذلك توقيراً لهم و تعظيماً ممّا ينفر من القبول و خاصّة على مذاهب أهل الحقّ، فالمراد أنّه ليس على دينك»‏ (۳۰)۔ منصب نبوت کے لائق و مناسب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی زوجات زناو فحشاء سے مبرا ومحفوظ ہیں اس بنا پر اس آیت (يا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صالِحٍ)سے یہ استفادہ کیا جائے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی زوجہ زنا میں ملوث تھی اور کنعان حضرت نوح کا حقیقی فرزند نہ تھا وہم وخیال ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں چونکہ یہ بات دیگر آیات کے ظاہر کے خلاف بھی ہے اور یہ کہ انبیاء علیہم السلام اس قسم کے قابل نفرت امور سے منزہ مبرا ہیں ۔

۶۔ شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ بھی تاکید کرتے ہیں کہ حضرت نوج کی زوجہ اور حضرت لوط کی زوجہ کی خیانت «فخانتاهم»سے مراد یقنا خیانت زنا وفحشاء نہیں ہے (۳۱)۔

۷۔ رہبر معظم (حفظہ اللہ)نےبھی ۱۷ مرداد سن ۱۳۸۳ ھ ش۔ میں مداحی و شعراکرام سے ہونے والی  ملاقات کے دوران اس آیت «كانتا تحت عبدين من عبادنا صالحين فخانتاهما»(۳۲)  ۔ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  (حضرت لوط اور حضرت نوح علیہما السلام )کی بیویوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی یہ خیانت یقنا خیانت جنسی نہیں ہے اعتقادی خیانت ہے مسلکی خیانت ہے انہوں نے کجروی اور ٹہڑا راستہ اختیار کیا (۳۳)۔

۸۔ آیت اللہ صافی گلپائیگانی (حفظہ اللہ )قذف عائشہ اور ان کی طرف زنا کی نسبت کے سلسلہ میں صراحت سے اپنی رائ کا اظہار کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں : «نعم لا شك في انها طاهرة مما قذفت به، ومن انكر ذلك فهو كافر بالله، وبكتابه كما ان سائر أمهات المؤمنين أيضاً كلهن طاهرات مما قذفت هي به»(۳۴)۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت عائشہ فحشاء سے پاک وپاکیزہ ہیں اور جو شخص حضرت عائشہ کی فحشاء سے پاکیزگی کا انکار کرے اللہ اور اس کی کتاب قرآن مجید کا منکر ہوگیا ہے ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیویاں اسی طرح اور فحشاء سے پاک ومنزہ ہیں ۔

و: شیعوں کی بہت سی کتابوں میں شیعہ علماء نے امام رضا علیہ السلام سے منقول روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے مذکورہ روایت میں اس طرح منقول ہے : «عن الحسن بن علي الوشاء قال: سمعت الرضا (علیه السلام) يقول: قال أبو عبد الله (علیه السلام)‏ إن الله قال لنوح(علیه السلام): «إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ‏» لأنه كان مخالفا له، و جعل من اتبعه من أهله- قال: و سألني كيف يقرءون هذه الآية في نوح‏؟ قلت: يقرؤها الناس على وجهين، إِنَّهُ عَمَلٌ‏ غَيْرُ صالِحٍ‏ و إنه عمل‏ غير صالح‏ فقال: كذبوا هو ابنه، و لكن الله نفاه عنه حين خالفه في دينه»‏[35]  امام رضا(علیه السلام) می فرمایند: پدرم به نقل از امام صادق(علیه السلام) فرمودند: حق تعالی به حضرت نوح (علیه السلام) فرمودند: «إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ‏»(۳۵) ۔امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں : میرے پدر بزرگوار نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے : اللہ حق تبارک وتعالی نے حضرت نوح سے فرمایا : (إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ)یہ تمہارے اہل سے نہیں ہے اس لئے کہ وہ اُن کے عقیدہ کے مخالف تھا اور خداوند عالم نے ہر اُس شخص کو جو حضرت نوح علیہ السلام اور پرودگارکے موافق تھا اُ س کو اُن کا اہل قرار دیا ہے اور روای کا بیان کہ امام علیہ السلام نے مجھ سے سوال کیا کہ لوگ اس آیت  (إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ)کو کیسے  پڑھتے ہیں ؟ تو میں نے عرض کیا : بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ کنعان غیر صالح شخص کے عمل کا نتیجہ تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس نے غیر صالح عمل انجام دیا ، حضرت نے ارشاد فرمایا : انہوں نے جھوٹ کہا وہ کنعان حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا تھا لیکن خدا وند عالم نے اس بناء پر کہ اس نے حضرت نوح کی  دین میں مخالفت کی تھی ، اس لئے حضرت نوح کا اہل ہونے سے انکار کیا ہے ۔

یہ روایت شیعہ علماء کی متعدد کتابوں میں نقل ہوئی ہے ان میں سے ایک کتاب تفسیر عیاشی ہے ان تمام تفصیلی بیانات سے مشخص ہوجاتا ہے کہ شیعہ حضرات تو اس بات کے امکان کی بھی تردید اور انکار کرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی ازواج سے زناوفحشاء سرزد ہو ۔ لہذا یہ دعوی کرنا کہ شیعہ حضرات حضرت عائشہ یا دیگر انبیاء علیہم السلام کی ازواج کی طرف زنا کی نسبت دیتے ہیں خلاف واقع ہے اور اس کی کوئی حقیقیت نہیں ہے ۔

البتہ ممکن ہے کہ بعض شیعہ مخالف حضرات اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لئے بعض اقوال کو دلیل کے طور پر پیش کریں تو اس مسئلہ میں تحقیق وتبصرہ پیش کریں گے ۔

محدود شیعوں کی جانب سے حضرت عائشہ کی طرف فحشاء کی نسبت دینا

گذشتہ حصہ میں یہ ثابت ہونے کے باوجود جو کہ عام اور اکثر شیعہ علماء قائل ہیں کہ حضرت عائشہ اور تما م انبیاء علیہم السلام کی ازواج زنا وفحشاء سے پاک ومنزہ ہوتی ہیں ، لیکن بعض اوقات مشاہدہ ہوتا ہے کہ شیعہ عوام میں سے محدودی چند لوگ جناب عائشہ کی طرف زنا کی نسبت دیتے ہیں  (نعوذباللہ )یا کبھی شیعوں کے زیر نظر سٹالائٹ چینلوں پر جناب عائشہ پر زنا فحشاء کا الزام لگاتے ہیں  (نعوذباللہ )یہی باتیں باعث ہوتی ہیں کہ شیعہ مخالف گنے چنے کچھ لوگ ان ہی باطل شدہ  باتوں کو دلیل بنا کر دعوی کریں کہ شیعہ جناب عائشہ کی طرف زنا کی نسبت دیتے ہیں  جبکہ یہ کبھی بھی صحیح نہِں ہوسکتا کہ کسی مذہب کے شاذ قول (جس کے قائل بہت کم ہوں )کو اس مذہب کے تمام علماء کا عقیدہ سمجھ لیا جائے ، اور اگر ایسا کرنا صحیح ہو تو البانی (سنی عالم دین )کے قول کو دلیل بنا کر بھی نتیجہ نکال لینا چاہئے کہ تمام وھابی مسلک علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی تمام ازواج سے زنا وفحشاء کا واقع ہونا ممکن ہے ، چونکہ البانی صاحب اپنی کتاب ؛؛ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ؛؛ میں ان دو روایتوں "الشاهد يرى ما لا يرى الغائب" اور روایت؛؛  افک ؛؛ (جو بخاری میں موجود ہے )کو دلیل بناکر دعوی کرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی ازواج بھی دیگر عام عورتوں کی طرح ہوتی ہیں اور خلاف عفت افعال انجام دینے میں کسی عصمت کی حامل نہیں ہوتی اور جو شخص انبیاء علیہم السلام کی ازواج کی عصمت کا قائل ہے وہ بدعت اور بدعت گذار ہے(۳۶) ۔

سچ بتائیے کہ کیا اس قول کو دلیل بنا کر یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ وھابی مسلک کے تمام علماء کا یہی عقیدہ ہے ؟

بہرحال گذشتہ بیانات کے علاوہ یہ بھِ حقیقت ہے کہ جب بھی کسی شیعہ عالم نے جناب عائشہ کی طرف خلاف حقیقت چیز کی نسبت دی ہے باقی علماء نے اُ س پر اعتراض کیا ہے اور یہ بذات کود بہترین دلیل ہے کہ یہ شاذونادر قول ہے اور اس عالم کا عقیدہ غلط ہے ۔

نتیجہ :

شیعہ علماء اور مفسرین کے اقوال کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہونچتے ہیں کہ عام اوراکثر شیعہ علماء کا عقیدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بیویوں سے زنا وفحشاء کے واقع ہونے کا امکان بھی نہیں پایاجاتا ، لہذا ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوھاب کا یہ دعوی کہ شیعہ جناب عائشہ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی ازواج کو فحشاء کی نسبت دیتے ہیں بے بنیاد اور باطل  دعوی ہے، یہ بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ شیعوں کے زیر نظر نشر ہونے والے بعض سٹالائٹ چینلوں پر محدود لوگوں نے دعوی کیا ہے کہ حضرت عائشہ سے فحشاء سرزد ہوا ہے (نعوذباللہ )تو اس سلسلہ میں جان لینا چاہئے کہ یہ قول شاذ ونادر قول تھا جیسے دیگر تمام علماء نے قبول نہیں کیا ہے اور اس اعراض کئے ہیں ، لہذا اس بنیاد پر اس قسم کے اقوال کو تمام شیعوں کے مذہب کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا ۔       

 

منابع

1: قرآن کریم.

2: ابن تیمیه، منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدريه، عربستان سعودی، جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلاميه، طباعت اول، 1406 ه ق.

3: ابن شهر آشوب، متشابه القرآن و مختلفه، قم،ناشر داربیدار ، طباعت اول، 1369 ه ق.

4: آلوسی، شهاب الدین محمود، روح المعانی، بیروت، دارالکتب العلمیه، طباعت اول، 1415 ه ق.

5: الباني، محمد ناصر الدين، سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، رياض، ناشر مكتبة المعارف ، طباعت اوّل، بی تا.

6: جزايرى، نعمت‏الله، عقود المرجان في تفسير القرآن، قم، نور وحی، طباعت اول، 1388 ه ش.

7: رازی، ابوالفتوح، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیرالقرآن، مشهد مقدس، آستان قدس رضوی(علیه السلام)،طباعت اول،  1408 ه ق

8: شرف الدین، سید عبدالحسین، الفصول المهمه فی تالیف الامه، تهران، المجمع العالمی للتقریب، طباعت دوم، 1423 ه ق.

9: صافی گلپایگانی، لطف الله، صوت الحق ودعوة الصدق، بی نا، بی تا

10: طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسه الاعلمی للمطبوعات،طباعت دوم، 1390 ه ق.

11: طبرسى، فضل بن حسن، تفسير جوامع الجامع، قم، مركز مديريت حوزه علمیه، طباعت اول، 1412 ه.ق.

12: طبرسی،  فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیرالقرآن،  تهران، ناصرخسرو، طباعت سوم، 1372 ه ش.

13: طریحی، فخرالدین بن محمد، مجمع البحرين، تهران، مرتضوی، طباعت سوم، 1375 ه ش.

14: طوسی، محمد بن حسن،  التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، طباعت اول، بی تا.

15: علم الهدی، سید مرتضی، أمالي سیدمرتضى(ره)، قاهره، دارالفکر العربی، طباعت اول، 1998 م.

16: عياشى، محمد بن مسعود، تفسير العيّاشي، تهران، المطبعه العلمیه، طباعت اول،1380 ق.

17: قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر القمی، قم، دارالکتاب، طباعت سوم، 1363 ه ش.

18: کاشانی، فتح الله، منهج الصادقین فی الزام المخالفین، تهران، کتابفروشی اسلامیه، طباعت اول، بی تا.

19: مازندرانی، ملاصالح، شرح الکافی(الاصول و الروضه)، تهران، المکتبه الاسلامیه، طباعت: اول، 1382 ق.

20: محمد بن عبدالوهاب، رساله فی الرد علی الرافضه، ریاض، جامعة الإمام محمد بن سعود، بی تا

21: مجلسى، محمد باقر، بحار الأنوار، بيروت، دار احیاء التراث العربی، طباعت دوم، 1403 ق.

22: خواجوئى، محمد اسماعيل، جامع الشتات، بی جا، بی نا، طباعت اول، 1418ق.

23: مطهری، مرتضی، مجموعه آثار شهید مطهری(ره)، قم، صدرا، طباعت هشتم، 1372 ه ش.

24: معرفت، محمد هادی، شبهات و ردود حول القرآن الکریم، قم، موسسه التمهید، طباعت اول، بی تا.

25: مغنيه، محمدجواد، التفسير الكاشف، قم، دار الكتاب الإسلامي،طباعت اول، 1424 ه.ق.

26: مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الكتب الإسلاميه، دطباعت  دهم، 1371ه ش.

27: https://farsi.khamenei.ir۔ 

 

[1]. ابن تیمیه، منهاج السنه، ج4، ص348

[2] . «أنهم يضاهون اليهود الذين رموا مريم الطاهرة بالفاحشة بقذف زوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم عائشة المبرأة بالبهتان».  رساله فی الرد علی الرافضه، ص43

[3] . آلوسی، شهاب الدین، روح المعانی، ج9، ص318

[4]. همان، ج14، ص357

[5] . سوره هود، آیه 46

[6] . سوره هود، آیه42

[7]. مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار ؛ ج‏11 ؛ ص314

[8] . طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج5، ص254

[9] . طوسی، محمد بن حسن،  التبیان فی تفسیر القرآن، ج5، ص493

[10] . طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ج10، ص235

[11] . رازی، ابوالفتوح، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیرالقرآن، ج10، ص240

[12] . کاشانی، فتح الله، منهج الصادقین، ج4، ص443

[13] . سوره تحریم، آیه10

[14] . طبرسی،  فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیرالقرآن،  ج10، ص479

[15]. طوسی، محمد بن حسن، التبيان في تفسير القرآن ؛ ج‏10 ؛ ص52

[16] .« و لا يجوز أن يراد بِالْخِيَانَةِ: الفجور، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ‏: مَا زَنَتْ امْرَأَةُ نَبِيٍّ قَطُّ، لِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ التَّنْفِيرِ عَنِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، وَ إِلْحَاقِ الْوَصْمَةِ بِهِ.»        مجمع البحرين ؛ ج‏6 ؛ ص244

[17] مكارم شيرازى، ناصر، تفسير نمونه، ج‏24، ص301

[18]. مغنيه، محمدجواد، التفسير الكاشف، ج‏7، ص367

[19] . معرفت، محمد هادی، شبهات و ردود حول القرآن الکریم، ص242

[20] . کاشانی، فتح الله، منهج الصادقین فی الزام المخالفین، ج9، ص344

[21] . سوره نور، آیه11

[22] . طباطبایی، سید محمد حسین، الميزان في تفسير القرآن ؛ ج‏15؛ ص102

[23] مغنيه، محمدجواد، التفسير الكاشف، ج‏5، ص 403

[24] . سوره نور، آیه26

[25] مكارم شيرازى، ناصر، تفسير نمونه، ج‏14، ص425

[26] . «و هذا الوجه يبعد إذ فيه منافاة للقرآن؛ لأنه تعالى قال: وَ نادى‏ نُوحٌ ابْنَهُ‏، فأطلق عليه اسم البنوّة؛ و لأنه أيضا استثناه من جملة أهله بقوله تعالى: وَ أَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ‏؛ و لأنّ الأنبياء عليهم السلام يجب أن ينزّهوا عن مثل هذه الحال؛ لأنّها تعرّ و تشين و تغضّ من القدر؛ و قد جنّب اللّه تعالى أنبياءه عليهم السلام ما هو دون ذلك؛ تعظيما لهم و توقيرا، و نفيا لكل ما ينفّر عن القبول منهم‏»    أمالي سیدمرتضى ؛ ج‏1 ؛ ص503

[27] .   «أنها عند الامامية وفي نفس الأمر والواقع أنقى جيباً واطهر ثوباً وأعلى نفساً وأغلى عرضاً وامنع صوتا وارفع جنابا وأعز خدرا واسمى مقاماً من أن يجوز عليها غير النزاهة أو يمكن في حقها الا العفة والصيانة ، وكتب الامامية قديمها وحديثها شاهد عدل بما أقول ، على أن أصولهم في عصمة الأنبياء تحيل ما بهتها به أهل الافك بتاتا ، وقواعدهم تمنع وقوعه عقلاً ولذا صرح فقيه الطائفة وثقتها أستاذنا المقدس الشيخ محمد طه النجفي أعلى بما يستقل بحكمه العقل من وجوب نزاهة الأنبياء عن أقل عائبة ولزوم طهارة اعراضهم عن أدنى وصمة فنحن والله لا نحتاج في براءتها إلى دليل ولا نجوز عليها ولا على غيرها من أزواج الأنبياء والأوصياء كل ما كان من هذا القبيل.»     شرف الدین، سید عبدالحسین، الفصول المهمه فی تالیف الامه، ص210

[28] . «فإن كل منفر لا يجوز على الأنبياء و الأئمة ع مثل كفر الوالدين و فسق الأزواج لأنهما يتعديان إليهم و ما لا يكون منفرا جاز فيهم مثل كفر أولادهم و أزواجهم أو فسقهم إلا أن الفاحشة لا يجوز على أزواجه»   متشابه القرآن و مختلفه؛ ج‏1؛ ص205

[29]. مازندرانى، محمد صالح بن احمد، شرح الكافي، ج10، ص94

[30]. خواجوئی، محمد اسماعیل، جامع الشتات ؛ ص38

[31] . مطهری، مرتضی، مجموعه آثار شهید مطهری(ره)، ج27، ص476

[32]. سوره تحریم، آیه10

[ ۳۳ ]34: https://farsi.khamenei.ir/speech-content?id=3246

[34] . صافی گلپایگانی، لطف الله، صوت الحق ودعوة الصدق، ص53

[35] . عياشى، محمد بن مسعود، تفسير العياشي ؛ ج‏2 ؛ ص151

[36] . «قلت: والحديث نص صريح في أن أهل البيت رضي الله عنهم يجوز فيهم ما يجوز في غيرهم من المعاصي إلا من عصم الله تعالى، فهو كقوله (صلى الله عليه وآله وسلم) لعائشة في قصة الإفك: " يا عائشة! فإنه قد بلغني عنك كذا وكذا، فإن كنت بريئة فسيبرئك الله وإن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه.. ".   أخرجه مسلم  . ففيهما رد قاطع على من ابتدع القول بعصمة زوجاته (صلى الله عليه وآله وسلم) محتجابمثل قوله تعالى فيهن: * (إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا) * جاهلا أو متجاهلا أن الإرادة في الآية ليست الإرادة الكونية التي تستلزم وقوع المراد وإنما هي الإرادة الشرعية المتضمنة للمحبة والرضا وإلا لكانت الآية حجة للشيعة في استدلالهم بها على عصمة أئمة أهل البيت وعلى رأسهم علي رضي الله عنه، وهذا مما غفل عنه ذلك المبتدع مع أنه يدعي أنه سلفي!»     سلسله الاحادیث الصحیحه، ج4، ص529

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ