محترم قارئین : مولدَ کعبۃ کون ؟ مشہور بات یہی ہے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہی مولود کعبہ ہیں بغض علی رضی اللہ عنہ میں مبتلا بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ہمیں ان سے کوئی غرض نہیں آیئے اکابرین اہلسنت کی کتب کے اصل حوالہ جات اس کے متعلق پڑھتے ہیں :
مصنف :  ڈاکٹر مفتی فیض احمد چشتی

 امام المحدثین ، ابو حاکم نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ ، حدیث کی شہرہ آفاق تصنیف مستدرک میں لکھتے ہیں : آخری بات میں معصب نے وہم کیا ہے حالانکہ متواتر اخبار سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عین کعبہ کے اندر جنم دیا ہے ۔ (المستدرک حاکم ج 4 ص 197 طبع پاکستان)

امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ مصعب کے اس قول کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس بات میں معصب سے غلطی ہوئی ہے کہ وہ حکیم بن حزام کے علاوہ کسی کی ولادت خانہ کعبہ میں نہیں مانتے حالانکہ متواتر روایات سے خانہ کعبہ میں مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ثابت ہوتی ہے . امام حاکم نے چونکہ مصعب کے قول کا رد کرنا تھا اس لئے مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کا یہاں ذکر کیا اور فضائل والے باب میں ذکر نہیں کیا. قول مصعب کا رد کرنے کے لئے اصل موقع یہی تھا کہ مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کا ذکر کر دیا جائے .

امام حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے تلخیص مستدرک میں امام حاکم کا قول نقل کیا ہے کہ ولادت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ میں ہوئی ہے . چنانچہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی ولادت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ میں ہونا تواتر سے ثابت ہے ۔ (تلخیص المستدرک//ذہبی//ج 4// ص 197//حاشیہ 5// طبع پاکستان)

امام المحدثین ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف " شرح الشفاء" میں لکھتے ہیں : مستدرک حاکم میں ہے کہ مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ (شرح شفاء // ملا علی // ج 1// ص 327// طبع بیروت،چشتی)

امام المحدثین ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ جیسے محقق و محدث نے امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کو قول متواتر کو قبول کرتے ہوئے مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کعبہ میں قبول کیا ہے ۔

محدث ابن اصباغ مالکی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب الصصوص المھمہ میں لکھتے ہیں کہ : مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ماہ رجب 13 تاریخ کو مکہ شریف میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ، آپ کے علاوہ کوئی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا . یہ آپ کی فضیلت ہے ۔ (الفصول المھمہ// ابن صباغ مالکی // ص 29// طبع بیروت،چشتی)

علامہ حسن بن مومن شبلنجی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور تصنیف نورالابصار میں لکھتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا زاد بھائی اور تلوار بے نیام ہیں . آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عام الفیل کے تیسویں سال جمتہ المبارک کے دن 13 رجب کو خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور اس سے پہلے آپ کے علاوہ کعبہ میں کسی ولادت نہیں ہوئی ۔ (نورالابصار// شبلنجی//ص 183//طبع بیروت)

برصغیر پاک وہند کے عظیم محدث و فقیہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ازالتہ الخفاء میں لکھتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کے وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جو مناقب ظاھر ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ کعبہ معظمہ کے اندر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی . امام حاکم نے فرمایا متواتر اخبار سے ثابت ہے کہ بے شک امیرالمومنین حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد نے خانہ کعبہ کے اند جنم دیا ۔ (ازالتہ الخفاء// ج 4 // ص 299// طبع بیروت،چشتی)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی ایک اور کتاب قرۃ العینین میں بھی ولادت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں آپ پہلے ہاشمی ہیں جن کی والدہ ماجدہ بھی ہاشمیہ ہیں . آپ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی اور یہ ایک ایسی فضیلت ہے جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے کسی حصے میں نہیں آئی ۔

(قرۃ العنین بتفضیل الشخین // ص 138// طبع دہلی،چشتی)

اھل حدیث عالم جناب نواب صدیق حس خان بھوپالی نے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے مناقب میں ایک قابل قدر کتاب لکھی ہے اس میں لکھتے ہیں : ذکر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ابن عم رسول و سیف اللہ المسلول ، مظہر العجائب و الغرائب اسد اللہ الغالب ، ولادت ان کی مکہ مکرمہ میں اندر بیت اللہ کے ہوئی ، ان سے پہلے کوئی بیت اللہ کے اندر مولود نہیں ہوا ۔ (تکریم المومنین بتویم مناقب الخلفاء الراشدین // نواب صدیق حسن // ص 99 // طبع لاہور)

علامہ بھوپالی نے اپنی دوسری تصنیف " تقصار جنود الاحرار ، ص 9 ، طبع بھوپال میں مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں کا ذکر کیا ہے ۔

اہلسنت کے عظیم صوفی عالم علامہ عبد الرحمان جامی اپنی کتاب شواھد النبوت میں لکھتے ہیں : مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ معظمہ میں ہوئی اور بقول بعض مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی ۔ (شواھد النبوۃ // جامی// ص 280// طبع پاکستان،چشتی)

مورخ جلیل علامہ مسعودی اپنی تصنیف مروج الذہب میں لکھتے ہیں کہ مولا علی رضی اللہ عنہ کعبے کے اندر پیدا ہوئے ۔ (مروج الذہب//مسعودی//ج 2// ص 311//طبع بیروت)

علامہ عبدالرحمان صفوری الشافعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : مولا علی رضی اللہ عنہ شکم مادر سے کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور یہ فضیلت خاص طور پر مولا علی رضی اللہ عنہ کے لئے اللہ تعالیٰٰ نے مخصوص فر ما رکھی تھی ۔ (نزہتہ المجالس// ج 2// ص 404//طبع پاکستان،چشتی

اہلسنت کے عظیم محدث حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : محدثین اور سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے کہ مولا علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ہے ۔ (مدارج النبوت// عبدالحق محدث دہلوی// ج 2 //ص 531// طبع پاکستان)

علامہ گنجی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب کفایتہ الطالب میں بھی مولا علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش کو خانہ کعبہ میں تسلیم کیا ہے ۔ (کفایتہ الطالب // گنجی // ص 407// طبع ایران)

علامہ سبط ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : روایت میں ہے کہ فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھیں جبکہ علی رضی اللہ عنہ ان کے شکم میں تھے . انھیں درد زہ شروع ہوا تو ان کے لئے دیوار کعبہ شق ہوئی پس وہ اندر داخل ہوئیں اور وہیں علی رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔ (تذکرۃ الخواص// سبط ابن جوزی// ص 30 // طبع نجف عراق)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ