علامہ اُسید الحق قادری بدایونی دامت برکاتہم العالیہ (ولی عہد خانقاہ عالیہ قادریہ ، بدایوں، انڈیا) کی کتاب تحقیق و تفہیم سے ھدیہء قارئین ہے۔
مصنف :  محمد صادق قاری
لیبیاکے ایک جلیل القدر عالم اور شیخ طریقت حضرت شیخ سید یوسف عبداللہ البخور الحسینی مصر تشریف لائے ،قاہرہ میں اپنے مریدین (ملیشیائی طلبہ)کے یہاں فروکش ہوئے،یہ ۲۰۰۱ء کی بات ہے ،اپنے احباب مولانا جلال رضا ازہری،مولانا منظرالاسلام ازہری،اورمولانا نعمان احمد ازہری کے ہمراہ میں بھی زیارت کے لیے حاضر ہوا ،وہاں ان کے مصری عقیدت مندوں کے علاوہ مختلف ممالک کے طلباے ازہر کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی ،شیخ نے گفتگو کے دوران بالخصوص طلبہ کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ’’ آج ہمارے یہاں اشاعتی انقلاب آیا ہوا ہے ،اسلاف کی وہ کتابیں جو مخطوطات کی شکل میں کتب خانوں کی زینت بنی ہوئی تھیں اور اپنے بچپن میں ہم صرف ان کا نام کتابوں میں پڑھتے تھے ، اب جدید انداز میں شائع ہوکر عام طور سے دستیاب ہیں،اسلاف کی ان نایاب کتب کو تخریج،تحقیق اور تعلیق کے ساتھ جدید انداز میں شائع کیا جارہا ہے ،اس کے پیچھے یقینا علم کی اشاعت کا جذبہ بھی ہے ،مگر ایک طبقہ منصوبہ بند سازش کے طور پر اسلاف کی کتابوں میں ’’تحقیق وتخریج‘‘اور ’’ترتیب وتعلیق‘‘کے نام پر ’’تحریف وتلفیق‘‘اور’’ حذف واضافہ‘‘کرکے علمی اور دینی خیانت کا ارتکاب کر رہا ہے ‘‘-شیخ یوسف حسینی نے یہ بھی فرمایا کہ’’قرآن کریم میں یہودونصاریٰ کے جو عیوب بیان کیے گئے ہیں ان میں یہ بھی فرمایا ہے کہ’’یحرفون الکلم عن مواضعہ‘‘(وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے کلموں کو ان کی جگہ سے بدل دیتے ہیں)اور ایک جگہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرمایا’’ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکتمواالحق وانتم تعلمون‘‘(اور سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ،اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ)یہود ونصاریٰ کا طریقہ یہ تھا کہ کتاب اللہ میں جو بات ان کی خواہشات اور طبیعت کے مطابق ہوتی اس کو مانتے،اور جو بات ان کی خواہشات اور طبیعت کے خلاف ہوتی تھی اس کو یا تو عوام کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھتے تھے یا پھر اپنی طرف سے اس میں حذف واضافہ کر کے اس کو اپنی خواہش کے مطابق کرلیا کرتے تھے،افسوس آج اسلام کا نام لینے والے کچھ افراد اور کچھ ادارے ’’تحقیقی منہج‘‘کی آڑ میںتحریف وتلبیس کے اسی ’’یہودی منہج‘‘پر کام کر رہے ہیں‘‘ -شیخ نے آخر میں طلبہ سے زور دے کر فرمایا کہ’’آپ عالم اسلام کے علمی مرکز سے وابستہ ہیں محنت سے علم حاصل کیجیے اور اپنا مزاج تحقیقی بنائے،اسلاف میں سے کسی جلیل القدر عالم کی کسی جدید شائع شدہ کتاب میں اگرکوئی ایسی بات نظر آئے جو جمہور اہل سنت کے نظریات سے متصادم ہو تو فوراً اس کی تحقیق کیجیے،اس کتاب کا کوئی قدیم مطبوعہ نسخہ یا مخطوطہ تلاش کر کے ا س کا مقابلہ کیجیے‘‘- 
یہ بات دیانت وامانت کے منافی ہوگی اگر میں یہ ذکر نہ کروں کہ شیخ حسینی نے خاص طور سے ہم ہندستانی طلبہ کی طرف روئے سخن کرکے فرمایا تھا کہ’’لیبیامیں تمہارے ہندستان کا ایک طالب علم پڑھتا تھا اس کا نام ’’علیم اشرف جائسی‘‘تھا ،وہ بہت وسیع المطالعہ تھا اور اس کا منہج ومزاج تحقیقی تھا،تم لوگ بھی ویسا ہی بننے کی کوشش کرو‘‘-(شیخ نے یہ ساری گفتگو عربی میں کی تھی میں نے اپنے الفاظ میںا س گفتگو کا خلاصہ نقل کیا ہے )اس ملاقات کے بعد جیسے جیسے اِس بے بضاعت کا مطالعہ بڑھتا گیا،اس تحریف وتلبیس کے بہت سے شواہد سامنے آتے گئے،اور شیخ حسینی کی اس گفتگوکا علمی ثبوت فراہم ہوتا گیا -یہاں تک کہ اب اس سلسلہ میں اتنا مواد جمع ہوگیا ہے کہ یہ کم مایہ راقم سطور اس موضوع پر اردو اور عربی دونوں زبانوں میں ایک مکمل کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتا ہے-
زیر نظر مقالہ جمع شدہ سارے مواد اور تحریف کی تمام مثالوں کو پیش کرنے کا متحمل نہیں ہے ،لہٰذا ہم صرف چند اشارات پر اکتفا کریں گے- کتب اسلاف میں تحریف ،تلفیق اور تلبیس کئی طرح کی جارہی ہے،مثلاً
(۱)کتاب کی عبارت میں ایسی تبدیلی جس سے مصنف ِکتاب کا مسلک ونظریہ اس کے حقیقی مسلک کے بالکل مخالف اور تحریف کرنے والے کے مسلک کے عین مطابق ہوجاے،یہ تحریف کی سب سے گھناؤنی اور خطرناک صورت ہے-
(۲)عبارت سے ایک یا چند لفظ حذف کرنا جن کی موجودگی سے کوئی ایسا معنیٰ پیدا ہورہا تھا جو حذف کرنے والے کی نظر میں توحید کے منافی اورشرک پر مبنی تھا،جب کہ حقیقت ِ حال یہ ہوتی ہے کہ وہ عبارت اپنی اصلی صورت میں جمہور علما ء اہل سنت کے نزدیک نہ منافی توحید ہوتی ہے اور نہ ہی شرک پر مبنی -
(۳)کسی کتاب کی ترتیب جدید یا اختصار وتلخیص کے نام پراس میں سے ہر وہ باب ،فصل،یا عبارت حذف کردینا جو مرتب کے مخصوص نظریات کے مطابق نہ ہو-
(۴)ایک تحریف وہ ہے جس کو تحریفِ معنوی کہا جا تا ہے،یہ تحریف کتابوں کی تحقیق کے نام پر ہو رہی ہے،محقق کسی حدیث یا عبارت پر حاشیہ چڑھا کر اس کا ایک ایسا معنیٰ بیان کرتا ہے جس سے وہ حدیث یا عبارت اس کے مخصوص عقائد کے مطابق ہوجاے،یا ایسی تاویل کردیتا ہے کہ وہ حدیث یا عبارت کم ازکم اس کے مسلکِ مخالف کے لیے دلیل نہ بن سکے- 
(۵)ایک تحریف کتابوں کی تخریج کے نام پر ہو رہی ہے ،یعنی ہر وہ حدیث یا اثر جو تخریج کرنے والے کے مخصوص نظریات کے مخالف ہو اس میں اپنی طرف سے خود ساختہ علتیں بیان کرکے اس کو موضوع یا ضعیف قرار دینایا کم ازکم اس کی صحت میں شک پیدا کرکے اس کو ناقابلِ استدلال بنا دینا-
تحریف کی ان تمام اقسام کی مثالیں ہمارے پاس ہیں ہم یہاں ان میں سے چند مثالوں کی طرف اشارہ کریں گے-
امام یحییٰ بن شرف النووی نے اپنی کتاب ’’الاذکار‘‘میں ایک فصل قائم کی ’’فصل فی زیارۃ قبر رسول اللہ ﷺواذکارہا‘‘ (فصل رسول اللہ ﷺ کی قبرکی زیارت اور اس کے اذکار کے بیان میں)یہ اذکار کے تمام قدیم نسخوں میں دیکھا جا سکتا ہے ،لیکن جب یہی کتاب۱۴۰۹ھ میں دارالہدیٰ ریاض سے شائع ہوئی تو اس کے صفحہ۲۹۵پر فصل کا عنوان بدل کر یہ کر دیا گیا’’فصل فی زیارۃ مسجد رسول اللہ ﷺ‘‘(فصل رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی زیارت کے بیان میں )صرف اتناہی نہیں کیا گیا بلکہ امام نووی کی ایک پوری عبارت کو تبدیل کردیا گیا،امام نووی نے اس فصل میں تحریر فرمایا تھا :
اعلم انہ ینبغی لکل من حج ان یتوجہ الی زیارۃ رسول اللہﷺسواء کان ذالک طریقہ او لم یکن فان زیارتہ ﷺمن اہم القربات واربح المساعی وافضل الطلبات
جاننا چاھئے کہ جو شخص بھی حج کرے اس کے لیے مناسب ہے( ۱)کہ اللہ کے رسول ﷺ کی زیارت کرے خواہ وہ اس کے راستے میں ہو یا نہ ہوکیوں کہ آپ کی زیارت تقرب حاصل کرنے والے امور میں سب سے اہم،کوششوں میں سب سے زیادہ نفع بخش اور طلبات میں سب سے زیادہ افضل ہے 
اس عبارت کو بھی اذکار کے کسی بھی نسخے میں دیکھا جاسکتا ہے ،لیکن دارالہدیٰ کے مطبوعہ نسخے میں یہ عبارت یوں کر دی گئی ہے:
اعلم انہ یستحب من اراد زیارۃ مسجد رسول اللہﷺ ان یکثر من الصلاۃ علیہ ﷺ‘‘(۲)
جاننا چاھئے کہ جو شخص بھی مسجد نبوی کی زیارت کا ارادہ کرے اس کے لیے مستحب ہے کہ حضور پر درود کی کثرت کرے 
ناشرین نے صرف اسی ایک تحریف پر اکتفا نہیں کیا بلکہ امام نووی نے حضرت محمد بن عبید اللہ العُتبی کی یہ ایمان افروز روایت بھی نقل فرمائی تھی: 
میں ایک مرتبہ حضور ﷺ کی قبر انور کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ ﷺمیں نے سنا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے ولوانہم اذ ظلموا انفسہم جاء وک فاستغفروااللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوااللہ توابارحیما
(اگر وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے آپ کے پاس آئیں اور اللہ سے معافی چاہیں،اور رسول ﷺ بھی ان کے لیے مغفرت طلب کریںتو ضرور اللہ کو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پائیں گے) اب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوںاپنے گناہ کی مغفرت چاہتا ہوںاور آپ کو اپنے رب کی بارگاہ میں شفیع بناتا ہوں،پھر اس اعرابی نے نعت پاک کے دو شعر پڑھے اور واپس ہوگیا،اس کے بعد مجھے نیند آگئی میں نے خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کی آپ نے فرمایاکہ اے عتبی اس اعرابی کے پیچھے جاؤ اور اس کو خوشخبری سنا دو کہ اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی
آپ امام نووی کی’’ اذکار‘‘ کا کوئی بھی نسخہ دیکھ لیں آپ کو ایمان میں تازگی اور حب رسول میں اضافہ کرنے والی حضرت عتبی کی یہ روایت مل جائیگی،مگر دارالہدیٰ ریاض کے شائع کردہ نسخے سے یہ روایت حذف کردی گئی ہے -
امام اہل سنت امام ابو الحسن اشعری کی کتاب ’’الابانۃ عن اصول الدیانۃ‘‘میں ’’باب ذکر الاستواء علی العرش‘‘کے تحت چھ سطر کی ایک ایسی عبارت تھی جو استوا کے سلسلہ میں ان لوگوں کے موقف کے خلاف تھی جو استوا کا معنیٰ’’ بیٹھنا ‘‘کرنے پر اصرارا کرتے ہیں،ڈاکٹر فوقیہ نے ابانہ کے ۴مختلف نسخوں کو سامنے رکھ کر اس کتاب کی تحقیق کی،ڈاکٹر فوقیہ کے اس محقَق نسخے کو دارالانصار نے شائع کیا،اس کے صفحہ ۲۱ پر یہ عبارت موجود ہے:
وا ن اللہ تعالیٰ استویٰ علی العرش علی الوجہ الذی قالہ وبالمعنی الذی ارادہ،استواء ًمنزہاعن المماسۃوالاستقرار والتمکن والحلول والانتقال لا یحملہ العرش،بل العرش حملتہ محمولون بلطف قدرتہ،ومقہورون فی قبضتہ-الیٰ آخر العبارۃ‘‘
مگر ابانہ کے دوسرے مطبوعہ نسخوں میں اس عبارت کا نام ونشان نہیںہے(۳ )
ایک نابینا صحابی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور اپنی آنکھوں کے لیے حضور سے دعا کی درخواست کی،آپ نے ان کو ایک دعا تعلیم فرمائی:
’’اللہم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃیا محمد انی توجہت بک الی ربی فی حاجتی ہٰذہ لتقضی لی اللہم فشفعہ فیّ‘‘(اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوںتیرے نبی رحمت کے وسیلے سے ،اے محمد ﷺ میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی بارگاہ میںاپنی یہ حاجت پیش کرتا ہوں،تاکہ میری یہ حاجت بر آئے ،اے اللہ تو میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما
یہ روایت صحیح ہے اور صحیح ابن خزیمہ ،جامع ترمذی ،سنن ابن ماجہ ،مسند احمد بن حنبل،مستدرک حاکم،عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ،دلائل النبوۃ للبیہقی،اور معجم طبرانی( ۴)وغیرہ میں مذکور ہے ،ان تمام کتابوں میںلفظ ’’یا محمد‘‘موجود ہے ،مگر ترمذی کے جو نسخے آج کل رائج ہیں ان میں اس حدیث کے ضمن میں لفظ ’’یا محمد‘‘موجود نہیںہے،ہمارے سامنے اس وقت دار احیاء التراث بیروت،مطبع مجتبائی ،مطبع احمدی دہلی اور کتب خانہ رشیدیہ دہلی کے شائع شدہ نسخے ہیں،مگر ان میں لفظ’’یا محمد‘‘ ندارد ہے ،جب کہ شیخ ابن تیمیہ، قاضی شوکانی،امام نووی،اور امام جذری وغیرہ نے اس حدیث کو امام ترمذی کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس میں ’’یا محمد‘‘موجود ہے ( ۵)اس کا مطلب یہ ہے کہ ان حضرات کے پیش نظر ترمذی کے جوقلمی نسخے تھے ان میں لفظ’’یا محمد‘‘موجود تھا بعدکے مطبوعہ نسخوںسے اس کو حذف کردیا گیا-
امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفرد میں ایک روایت نقل فرمائی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر کا پیر سوگیا،لوگوں نے کہا کہ آپ اپنے سب سے زیادہ محبوب شخص کو یاد کیجیے،یہ سن کر آپ نے نعرہ لگایا ’’یا محمداہ‘‘یہ کہتے ہی آپ کا پیر ٹھیک ہوگیا ،الادب المفرد کے دو نسخے ہمارے پیش نظر ہیں،ایک مطبع خلیلی آرہ (۱۳۰۶ھ)کا اور دوسرادارالبشائر الاسلامیہ بیروت(۱۹۸۹ئ) اول الذکر کے صفحہ ۱۴۰ پر یہ روایت ہے اور دوسری کے صفحہ۳۳۵پر مگر فرق یہ ہے کہ پہلے نسخہ میں الفاظ یہ ہیں’’فصاح یامحمداہ‘‘(انہوںنے زور سے کہا اے محمد)جبکہ دوسرے نسخے میں یہ ہے’’فصاح محمد‘‘( انہوںنے زور سے کہا محمد)یعنی دوسرے نسخے میں لفظ ’’یا‘‘موجود نہیں ہے- اسی روایت کو امام نووی نے بھی اپنی کتاب الاذکار میں نقل کیا ہے اس میں ’’یا محمداہ‘‘ہی مذکور ہے- 
امام ابن حجر عسقلانی کی شہرۂ آفاق کتاب ’’فتح الباری‘‘کی تحقیق،تعلیق، تذہیب  اور اختصار کے نام پر جو گل افشانیاں کی گئی ہیں ان کا شکوہ کس سے کیا جاے کہ اب تو ’’الاخطاء الاساسیۃ فی توحید الالوہیۃ الواقعۃ فی فتح الباری‘‘(فتح الباری میں واقع توحید الوہیت کی بنیادی غلطیاں)جیسی کتابیں بھی مارکٹ میں دستیاب ہیں-فتح الباری کے تعلق سے اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگاکہ آج کل کے ’’موحدین‘‘کے معتمد علیہ امام قاضی محمد بن علی شوکانی سے جب صحیح بخاری کی شرح لکھنے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے جواب دیا ’’لا ہجرۃ بعد الفتح‘‘(۶)- جب توحید الوہیت اور قاضی شوکانی کا ذکر ایک ہی جگہ آجاے تو پھر اس بات کی طرف اشارہ کرنے کو ہر گز بے محل قرار نہیں دیا جاسکتا کہ یہ وہی قاضی شوکانی ہیںجن کی بارگاہ میں اثبات توحید اور ردِّ شرک وبدعت کے علم بردار نواب صدیق حسن خاں بھوپالی نے اپنے دیوان’’نفح الطیب من ذکر منزل والحبیب‘‘میں اس خوبی سے استعانت واستمداد کی ہے کہ عقیدۂ توحید پر ذرا بھی آنچ نہیں آنے دی،فرماتے ہیں-
زمرۂ رائے درافتاد بارباب سنن
شیخ سنت مددے قاضیٔ شوکاں مددے
نواب صاحب کی سوانح نگارڈاکٹر رضیہ حامد نے اس شعر سے یہ کہہ کر گلو خلاصی کی کہ’’ان کے اس شعر کی کوئی توجیہ ممکن نہیں،ممکن ہے کہ یہ شعر کسی طرح ان کی نظر اور ان کے علم کے خلاف دیوان میں شامل ہوگیا ہو‘‘-( ۷ )
یہ بات تو جملہ معترضہ کے طور پر درمیان میں آگئی ہم فتح الباری کا ذکر کر رہے تھے،امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری  میں زمانۂ فاروقی کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ اس دور میں ایک بار قحط پڑگیا، ایک شخص حضور اکرمﷺ کی قبر انور پر حاضر ہوا اور حضور سے یوں فریادکی’’یا رسول اللہ اپنی امت کے لیے بارش کی دعا فرمائے امت ہلاک ہورہی ہے ‘‘،حضور ﷺ اس شحص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایاکہ عمر کو سلام کہنا اور کہہ دو کہ عنقریب بارش ہوگی -ملخصا( ۸)-اس ایمان افروز واقعہ کو حافظ ابن حجر کے علاوہ امام ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ،حافظ ابن کثیرنے البدایۃ والنہایۃمیں امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں،اور ابن عبد البر نے الاستیعاب میں ذکر کیا ہے -حافظ ابن حجر نے اس کو صحیح قرار دیا ہے، مگر چونکہ روایت میں فریاد کرنے والے شخص کا نام مذکور نہیںہے اس لیے حافظ نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس کے راوی سیف ہیں اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ فریاد کرنے والا شخص اور کوئی نہیں بلکہ صحابیٔ رسول حضرت بلال بن حارـث المزنی ہیں-
سعودی عرب کے سابق مفتیٔ اعظم شیخ عبدالعزیزبن عبد اللہ بن باز نے فتح الباری پر تعلیق تصنیف کی ہے ،اس روایت میں چونکہ ایک صحابی نے ایسا کام کیا ہے جو شیخ ابن باز کے نزدیک شرک یا کم از کم وسیلۂ شرک قرار پاتا ہے،لہذا ان کے ’’جذبۂ ردِ شرک‘‘ نے ان کو مجبورکیا کہ وہ اس روایت پر کوئی تعلیق ضرور لکھیں ،اولاً انہوں نے اس روایت کی صحت کو مشکوک کرنے کی کوشش کی جب اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی تو انہوں نے فرمایا:
ہٰذالاثر -علی فرض صحتہ کما قال الشارح - لیس بحجۃ علی جواز الاستسقاء بالنبی ﷺبعد وفاتہ ،لان السائل مجہول،ولان عمل الصحابۃ علی خلافہ
اس روایت کو اگر صحیح فرض کر لیا جائے جیسا کے شارح(حافظ ابن حجر)نے کہا ہے تو بھی یہ روایت وفات کے بعدحضور سے فریاد کرنے کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی،اس لیے کہ یہ سوال کرنے والا مجہول ہے[ یعنی اس کا نام مذکور نہیں ] اور اس لیے بھی کہ دیگر صحابہ کاعمل اس کے خلاف ہے
پھر آگے فرماتے ہیں:
ان ما فعلہ ہٰذاالرجل منکر ،ووسیلۃ الی الشرک،بل قد جعلہ بعض اہل العلم من انواع الشرک‘‘(اس شخص نے جو کچھ کیا یہ منکَر ہے،اور شرک کا ذریعہ ہے ،بلکہ بعض اہل علم نے اس کو شرک کی اقسام میں شمار کیا ہے )
مگر پھر ان کو خیال آیا کہ حافظ ابن حجر نے دوسری روایت میں صراحت کر دی ہے کہ وہ فریاد کرنے والا صحابیٔ رسول حضرت بلال مزنی تھے،اور گویا وہ ایک صحابی کی طرف شرک کی نسبت کر رہے ہیں، لہٰذا انہوں نے اس پر یہ تعلیق لگا دی:
واما تسمیۃ السائل فی روایۃسیف المذکورۃ ففی صحۃ ذلک نظر(رہا یہ کہ سیف کی مذکورہ روایت میں اس فریاد کرنے والے کا نام موجود ہے تو اس روایت کی صحت میںکلام ہے )
شیخ ابن باز سے پہلے بالکل یہی بات شیخ ناصرالدین البانی بھی لکھ چکے ہیں:
ہب ان القصۃ صحیحۃ،فلا حجۃ فیہا لان مدارہا علی رجل لم یسم،وتسمیتہ بلالاً فی روایۃ سیف لا یساوی شیئا،لان سیفاً متفق علی ضعفہ
مانا کہ یہ قصہ صحیح ہے ،لیکن اس میں(استسقا بعد وفات کے لیے )دلیل نہیں ہے،اس لیے کہ اس روایت کا مدار ایک ایسے شخص پر ہے جس کا نام مذکور نہیں ہے،اور سیف والی روایت میں اس شخص کا نام بلال ذکر ہونا کوئی حیثیت نہیں رکھتاکیونکہ سیف بالاتفاق ضعیف ہیں
شیخ ابن باز اور شیخ البانی کی اس تحقیق اور تخریج پرعلامہ محمود سعید ممدوح نے بہت تحقیقی کلام کیا ہے ،ہمیں علامہ محمود کی یہ بات پسند آئی کہ ’’چلئے سیف کی روایت جس میں صحابی کا نام مذکور ہے ضعیف ہی سہی،مگر ہماری دلیل صرف اس نامعلوم شخص کا عمل نہیں ہے بلکہ ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق کو اس نامعلوم شحص کے ایک ایسے فعل کی اطلاع ملی جو شرک یا وسیلۂ شرک تھااس کے باوجود آپ نے اس کو تنبیہ نہیں کی حضرت عمر کا ایسے فعل پر سکوت کرنا ہی اس کے جائز ہونے کی دلیل ہے‘‘( ۹ )
خاتمۃ المحققین علامہ عبداللہ صدیق الغماری نے اپنی کتاب ’’بدع التفاسیر ‘‘میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ مشہور تفسیر ’’البحر المحیط ‘‘کے مصنف امام ابو حیان اندلسی(معاصر شیخ ابن تیمیہ)ابتدا میںشیخ ابن تیمیہ کے علم ووسعت نظر سے متأثر ہوگئے تھے لہٰذا آپ نے بعض جگہ شیخ ابن تیمیہ کی تعریف وتوصیف کی ہے،مگر جب آپ کو شیخ موصوف کے بعض افکار ونظریات کا علم ہوا تو آپ نے شیخ کا رد بلیغ کیا اور اپنی کتاب تفسیر بحر محیط میںشیخ ابن تیمیہ کے ان افکار کی مذمت کی، لیکن بقول علامہ غماری:
’’ولکن القائمین علی طبع التفسیرحذفوا منہ ذم ابن تیمیۃ‘‘(۱۰) (لیکن اس تفسیر کو شائع کرنے والوں نے اس میں سے ابن تیمیہ کی مذمت حذف کردی) 
علامہ غماری نے امام ذہبی کی میزان الاعتدال کے بارے میںلکھا ہے کہ اس میں ابن ابی داؤدکے حالات میںایک اثر نقل کیا گیا تھا،جس میں ایک جگہ لفظ’’علی‘‘تھا ،کتاب کے ناشر امین الخانجی نے کسی مصلحت کے پیش نظر اس کو ’’علی ‘‘کی جگہ’’فلان‘‘کردیا( ۱۱)-
علامہ غماری نے خود اپنا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے ،فرماتے ہیں’’جن صاحب نے تفسیر قاسمی شائع کی ہے ایک بار میں ان سے ملنے ان کے گھرگیا ،انہوں نے مجھے تفسیر قاسمی کا وہ نسخہ دکھایا جو خود مصنف کتاب علامہ جمال الدین قاسمی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا،اور ان کے پوتے نے شائع کرنے کے لیے مذکورہ صاحب کے حوالے کیا تھا ،میں نے دیکھا کہ ’’سیقول السفہا من الناس-الایۃ‘‘کے تحت مصنف نے نسخ کی جو بحث کی ہے اس کو لال قلم سے کاٹ دیا گیا ہے ،میں نے اس کا سبب پوچھاتو انہوں نے جواب دیا کہ یہ بحث علامہ قاسمی کے مقام ومرتبہ سے فزوں ہے اس لیے اس کو میں نے حذف کردیا ،اور اس تفسیر میں سے ہر اس چیز کو حذف کردیاجو بے فائدہ تھی،میں نے ان سے کہا کہ یہ تو علمی امانت کے خلاف ہے،انہوں نے جواب دیا کہ یہ تفسیر اس سے پہلے کبھی شائع نہیں ہوئی لہٰذا کسی کو خبر ہی نہیں ہوگی کہ میں نے اس میں سے کیا حذف کردیا،اور پھر مصنف کے پوتے نے مجھے اس اجازت کے ساتھ یہ کتاب شائع کرنے کو دی ہے کہ میں مصلحت کے تحت اس میں جو چاہوں تصرف کروں‘‘-ترجمہ ملخصاً( ۱۲) 
علامہ محمود آلوسی کی شہرۂ آفاق تفسیر ’’روح المعانی ‘‘میں بعض مقامات ایسے آجاتے ہیںجن میں مصنف کتاب جمہور اہل سنت سے الگ تھلگ کھڑے نظر آتے ہیں،جب کہ اسی کتاب میں دوسرے مقامات پر مصنف کا موقف وہی ہوتا ہے جو عام اہل سنت کا ہے،آخر یہ تضاد کیوں؟علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی(۱۳) اور علامہ زاہد کوثری نے یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ روح المعانی شائع کرتے وقت علامہ آلوسی کے صاحبزادے نعمان آلوسی نے اس میں کچھ حذف واضافات کیے ہیں،نعمان آلوسی صاحب کا مسلک ومزاج سمجھنے کے لیے اتنا بتانا کافی ہوگاکہ حافظ ابن حجر مکی الہیثمی نے’’ فتاویٰ حدیثیہ‘‘ میں شیخ ابن تیمیہ کی بہت سی شاذ آرا کا ذکر کیا ہے،نواب صدیق حسن خاںبھوپالی کی فرمائش پر نعمان آلوسی صاحب نے ابن حجر مکی کے اس فتوے کے رداور ابن تیمیہ کے دفاع میں ایک کتاب لکھ ڈالی’’جلاء العینین فی محاکمۃ الاحمدین‘‘- علامہ آلوسی نے روح المعانی تصنیف کرنے کے بعداس کا ایک نسخہ ترکی خلیفہ سلطان عبدالمجید خاں کی خدمت میں پیش کیا تھا ،یہ نسخہ استنبول کے مکتبہ راغب پاشا میں موجود ہے ،کوئی صاحب ہمت آگے آئے اور اس اصلی نسخے سے آج کے مطبوعہ نسخے کا مقابلہ کرے تو حقیقت حال کھل کر سامنے آئے( ۱۴)
مردے ازغیب بروں آید وکارے بکند 
تبرک الصحابۃ بآثار رسول اللہ ﷺ وبیان فضلہ العظیم نامی کتاب کے دو مختلف نسخے ہمارے پیش نظر ہیں،دونوں نسخوں کے سرورق پر کتاب کے مصنف کا نام ان الفاظ میں درج ہے ’’العلامۃ المحقق المؤرخ الباحث الشیخ محمدطاہر بن عبدالقادر بن محمود الکردی المکی الخطاط‘‘-ایک نسخہ مکتبۃ القاہرۃ قاہرہ مصر سے ۱۹۸۸ء میں شائع ہوا ہے،یہ کتاب کا پہلا ایڈیشن ہے (طبع اول کے بعد یہ کتاب اس مکتبہ نے کم ازکم دو مرتبہ اور شائع کی ہے،کیونکہ مذکورہ مکتبہ کا شائع شدہ ایک اورنسخہ بھی ہمارے کتب خانے میں موجود ہے ،جس پر الطبعۃ الثالثۃ(تیسرا ایڈیشن)درج ہے اور اس کا سن طباعت ۱۹۹۷ء لکھا ہے -) دوسرا نسخہ المکتبۃ المکیۃ مکہ مکرمہ کا شائع کردہ ہے جس پر سن طباعت ۱۹۹۶ء درج ہے ،اس سعودی نسخہ کے سرورق پر قوسین میں ’’اختصار وترتیب‘‘بھی لکھا ہوا ہے،اور جگہ جگہ حاشیہ میں آیات واحادیث کی تخریج بھی کر دی گئی ہے ،لیکن کتاب میں اس بات کاکہیں ذکر نہیںہے کہ آخر ’’اختصار وترتیب‘‘اور ’’تخریج وتحقیق ‘‘کا اہم فریضہ کس صاحب علم نے انجام دیا ہے ،کتاب کی ابتدا میں محشی یا مرتب کا کوئی مقدمہ بھی شامل نہیں ہے جس میں یہ وضاحت ہوتی کہ ایک مرتَّب اور متعدد مرتبہ شائع شدہ کتاب کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی،اگر مقدمہ ہوتا تو اس میں یہ وضاحت بھی ضرورہوتی کہ اختصار وترتیب میں کن اصولوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے ،اگر کچھ مباحث حذف کیے گئے ہیںتو کن بنیادوں پر ،اگر کتاب کے مباحث اور فصلوں میں تقدیم وتاخیر کی گئی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے ،یہ چند ایسے نکات ہیں جن کی طرف اشارہ کرنا کسی بھی تحقیقی کام کا ناگزیر جز ہے ،چونکہ اس میں ایسا کوئی مقدمہ نہیںہے لہذایہ سارے سوالات تشنہ جواب ہیں،ہم نے ان دونوں نسخوں کا بنظر غائرمطالعہ کیا ،اور نہایت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ سعودی نسخہ کے گم نام مرتب نے ’’اختصاروترتیب ‘‘کے نام پر ہر قسم کے حذف و اضافہ اورعبارتوں میں تقدیم وتاخیر کو روا رکھاہے -کتاب ۶ فصلوں پر مشتمل ہے ،دوسری فصل کا عنوان اس طرح ہے ،’’الفصل الثانی فی صفۃ نعال رسول اللہ ﷺ‘‘(دوسری فصل رسو ل اللہ ﷺ کی نعلین مبارک کی صفت کے بیان میں)اس فصل میں چند ذیلی عناوین ہیں،جن میںایک عنوان یہ ہے’’تاریخ ماعثر علیہ من النعال الشریفۃ وما کتب حولہا ‘‘(حضور ﷺکی نعلین مبارک کی تاریخ جو اب تک پائی گئیں ہیں،اور جو کچھ ان کے بارے میں لکھا گیا ہے ) اس عنوان کے تحت مصنف نے تقریباً ساڑھے پانچ صفحات تحریر فرمائے ہیں،سعودی نسخہ میں ’’اختصار و ترتیب‘‘کے نام پر یہ ساڑھے پانچ صفحات مع اس عنوان کے حذف کردئے گئے ہیں،چوتھی فصل کا عنوان ہے ’’الفصل الرابع فی ذکر بعض البلدان الاسلامیۃ التی فیھا شئی من الآثار النبویۃ‘‘(چوتھی فصل ان بلاد اسلامیہ کے ذکر میں جہاں حضور کے کچھ آثار موجود ہیں)اس فصل میں درمیان کے ساڑھے تین صفحات اور آخر کا پورا ایک صفحہ سعودی نسخہ میں ندارد ہے ،پانچویں فصل اس عنوان سے ہے الفصل الخامس فی تبرک الصحابۃ بتقبیل یدہ ورأسہ وقدمہ ﷺ(پانچویں فصل حضور ﷺ کی دست بوسی ،سر اور قدم بوسی کے ذریعہ صحابہ کے برکت حاصل کرنے بیان میں) اس میں مصنف نے ایک جگہ ذکر کیا ہے کہ امام مسلم نے ملاقات کے وقت اپنے استاذ امام بخاری سے عرض کیا تھا
دعنی اقبل رجلیک یا طبیب الحدیث فی عللہ وسید المحدثین
اے عللِ حدیث کے طبیب اور محدثین کے سردارمجھے اپنی قدم بوسی کرنے دیجیے
امام مسلم کی عقیدت ومحبت کا یہ واقعہ جو سات سطروں میں مصنف نے نقل کیا تھا وہ بھی سعودی نسخے میں ’’اختصار وترتیب ‘‘کی نذر ہوگیا ،اسی فصل کے آخر میں ایک ذیلی عنوان تھا’’ السر فی عدم شیوعہ التقبیل فی تحیتہ ﷺ‘‘اس عنوان کے تحت ڈھائی صفحات لکھے گئے تھے ،سعودی نسخے میںیہ ذیلی عنوان مع ان ڈھائی صفحات کے موجود نہیں ہے ،چھٹی فصل کا عنوان ہے الفصل السادس فیما جاء فی القرآن فی فضل الرسول ﷺ(چھٹی فصل قرآن کریم کی ان آیات کے بیان میں جو حضور ﷺ کی فضیلت میں ہیں)اس فصل میں مصنف نے قرآن کریم کی ۲۵ آیات کریمہ نقل کی ہیں جن میں اللہ کے رسول ﷺ کے مقام ومرتبہ اور فضیلت وعظمت کا بیان ہے ،قرآن کریم سے سرور کائناتﷺ کا مقام ومرتبہ بیان کرنے کے بعد مصنف نے مختلف پہلوؤں سے بڑے دل آویز انداز میں فضائل رسالت مآب کا ذکر فرمایا ہے ،اور ساتھ ہی امام بوصیری سمیت بہت سے عاشقان رسول کے مدحیہ قصائد کے منتخب اشعار سے کتاب کو زینت بخشی ہے،یہ پوری گفتگو تقریباً دس صفحات پر مشتمل ہے ،ان میں بہت سے اشعار ایسے بھی ہیں جو شاید سعودی مرتبین کے نزدیک ’’شرک‘‘ پر مبنی ہوں ،لہٰذاعقیدۂ توحید کے تحفظ کے لیے انہوں نے ان دس صفحات کو حذف کرنا ضروری سمجھا -
یہ تحریف وتلفیق صرف عالم عرب ہی میں نہیں ہوئی ہے بلکہ بر صغیر کے ناشران کتب بھی اس کے مرتکب ہوئے ہیں،گذشتہ نصف صدی سے مدارس اسلامیہ کی نصابی کتابوں کے ساتھ جو ستم کیا جارہا تھااس کی حقیقت تو اس وقت کھلی جب کچھ صاحبان ہمت نے جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں ’’مجلس البرکات‘‘قائم کرکے درسی کتب،ان کی شروح اور حواشی کو ان کے حقیقی مصنفین کے نام سے شائع کردیا ،ورنہ اس سے پہلے بعض ناشرین کتب ان اہم حواشی کو اپنی جماعت کے علما کی علمی خدمات کے کھاتے میں ڈالے ہوئے تھے- 
مسند الہندشاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے عظیم الشان خانوادے کے علما کی تصنیفات میں جو تحریف والحاق اور حذف واضافات کیے گئے ہیںوہ خود ایسا وسیع موضوع ہے جوایک مستقل مقالے کا متقاضی ہے ،یہاں تو یہ ستم بھی کیا گیا کہ پوری پوری کتابیںتصنیف کرکے ان حضرات کی طرف منسوب کردی گئیں،کم ازکم دو کتابوں کے بارے میں حتمی طور سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ شاہ ولی اللہ کی نہیں ہیں بلکہ کسی نے ان کو تصنیف کرکے شاہ صاحب کی طرف منسوب کیا ہے،ایک تحفۃ الموحدین،اور دوسری البلاغ المبین -پروفیسر ایوب قادری نے تاریخی حوالوں ،شواہد وقرائن اور خود شاہ صاحب کے تلامذہ واہل خاندان کے حوالوں سے ان دونوں رسالوں کے جعلی ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے( ۱۵ ) سوال یہ ہے کہ تحفۃ الموحدین نامی رسالے میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے اس کو شاہ صاحب کی طرف منسوب کیا گیا؟اس کا جواب دارالعلوم دیوبند کے مستند اور نامور فرزندجناب منظور نعمانی صاحب کے اس دعویٰ میں آپ خود تلاش کرلیں،وہ فرماتے ہیں:
’’شاہ ولی اللہ کی کتاب تحفۃ الموحدین گویا متن ہے اور ان کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی کی کتاب تقویۃ الایمان اس کی شرح‘‘( ۱۶)
اس پر سید فاروق القادری مترجم ’’انفاس العارفین ‘‘کا یہ دلچسپ ریمارک بھی ملاحظہفرمالیں:
’’اس سے آپ اندازہ لگا لیجیے کہ متن بھی خود ساختہ اور اس کی شروح وتفصیلات بھی من مانی اور ستم یہ کہ پھر بھی اسے فکر ولی اللہی کا نام دیا جاتا ہے ‘‘-(۱۷)
تحفۃ الموحدین، البلاغ المبین اور قول سدید وغیرہ کے جعلی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے خانوادۂ ولی اللّٰہی کے آثار و معارف کے مستند محقق مولانا محمود احمد برکاتی فرماتے ہیں: 
’’مندرجہ رسائل اہل سنت والجماعت کے نظریات سے متصادم نظریات اور وہ متشددانہ افکار پیش کیے گئے ہیں جن کو یہ حضرات تمسک بالکتاب والسنۃ کا نام دیتے ہیں اور جو کتاب التوحید کی بازگشت ہیں‘‘(۱۸)-
شاہ صاحب کی کتاب ’’تفہیمات‘‘ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدرآباد سندھ نے شائع کی تو اس میں یہ عبارت بھی موجود تھی
’’کل من ذہب الی بلدۃ اجمیراو الی قبر سالار مسعوداو ما ضاہاہالاجل حاجۃ یطلبہافانہ اثم اثماً اکبر من القتل والزنالیس مثلہ الا مثل من کان یعبد المصنوعات او مثل من یدعوااللات والعزیٰ‘‘(۱۹ ) 
ہر وہ شخص جو شہر اجمیر یا سالار مسعودکی قبر یا ان سے مشابہ کسی جگہ اپنی حاجت طلب کرنے جائے تو اس نے ایسا گناہ کیاجو قتل اور زنا کے گناہ سے بھی بڑا ہے ،یہ شخص اس شخص کی طرح ہے جو بنائی ہوئی چیزوں کی عبادت کرتا ہے ،یا اس کی طرح جو لات وعزّیٰ کو پکارتا ہے
اس عبارت کو سامنے رکھ کر آپ شاہ صاحب کی دوسری کتب مثلاً انفاس العارفین،فیوض الحرمین ،الدرالثمین ،الانتباہ فی سلاسل اولیا ء ا للہ،اور ان کے ملفوظات القول الجلی کی صرف اگر فہرست مضامین پر ایک سرسری سی نظر ڈال لیں تو آپ (بشرط ا نصاف) ہر گز اس بات کو تسلیم کرنے کو راضی نہ ہوں گے کہ یہ عبارت شاہ صاحب کے قلم سے نکلی ہوگی -
شاہ رفیع الدین کے نواسے سید ظہیر الدین عرف سید احمد ولی اللّٰہی نے شاہ صاحب اور ان کے خانوادے کے بزرگوں کی بہت سی تصانیف شائع کروائی ہیں، سید صاحب شاہ صاحب کی کتاب تاویل الاحادیث کے خاتمے میں لکھتے ہیں: 
’’آج کل بعض لوگوں نے بعض تصانیف کو اس خاندان کی طرف منسوب کردیا ہے اور درحقیقت وہ تصانیف اس خاندان میں سے کسی کی نہیں اور بعض لوگوں نے جو ان کی تصانیف میں اپنے عقیدے کے خلاف بات پائی تو اس پر حاشیہ جڑا اور موقع پایا تو عبارت کو تغیر و تبدل کر دیا‘‘(۲۰)-
ویسے ہمارے خیال میں جناب صلاح الدین مقبول احمدصاحب نے زیادہ درست موقف اختیار کیا کہ جنہوںنے شاہ صاحب کو’’ توحیدیانے‘‘ کی بجائے ان کے ’’شرکیات‘‘ سے اپنا دامن جھاڑلیا-صلاح الدین مقبول صاحب شاہ ولی اللہ دہلوی کی خدمات حدیث کا اجمالی تعارف کرانے کے بعد لکھتے ہیں کہ
’’اھل الحدیث فی شبہ القارۃ الہندیۃ یعرفون ہٰذاالدہلوی المحدث ولاصلۃ لہم بالدہلوی الصوفی واتباعہ وانصارہ الذین عضوا علی التقلید والتصوف باالنواجذ‘‘( ۲۱)
برصغیر کے اہل حدیث انہی شاہ ولی اللہ محدث کو جانتے ہیں ،شاہ ولی اللہ صوفی اور ان کے متبعین وانصار سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں جو تقلید اور تصوف پر سختی سے قائم ہیں
یہ صرف چند سرسری اشارہ ہیں ،ورنہ اسلاف کی کتب میں لفظی اور معنوی تحریف کی اور بھی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں- غالباً ایسی ہی کسی صورت حال سے متأثر ہوکر اقبالؔ نے کہا تھا-
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
یہ کم مایہ راقم سطور اس موضوع پراردواور عربی دونوں زبانوں میں ایک مفصل کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتا ہے ،کافی مواد جمع ہوچکا اور ہنوز تلاش وتحقیق جاری ہے -السعی منی والاتمام من اللہ- 
(جامِ نور دسمبر ۲۰۰۷ئ؍جنوری ۲۰۰۹ئ)

مراجع ومصادر
( ۱ )یہ ’’ینبغی‘‘کالفظی ترجمہ ہے ،فقہا کی اصطلاح میں اس کا مطلب کبھی’’بہتر ہے‘‘کبھی’’مستحب ہے‘‘ کبھی ’’سنت ہے ‘‘اور کبھی’’واجب ہے‘‘ہوتا ہے -دیکھیے شرح الاشباہ والنظائرللحموی( ۲)الاذکار ص:۲۹۵،دارالہدیٰ ،ریاض۱۴۰۹ھ(۳ )بحوالہ: محمود سعید ممدوح :رفع المنارۃ لتخریج احادیث التوسل والزیارۃ ص ۷۶دارالامام ترمذی قاہرہ۱۹۹۷ئ(۴ )اس حدیث کی تفصیلی تخریج اور اس پر مکمل بحث ملاحظہ کرنے کے لیے دیکھیں:احقاق حق ص۵۴ تا ۵۷،تخریج وتحقیق :اسید الحق بدایونی(۵)بحوالہ :علامہ غلام رسول سعید ی: شرح صحیح مسلم:ج۷،ص۶۴،۶۵،۶۶،پوربندر گجرات۱۴۲۳ھ( ۶ )محمود سعید ممدوح:رفع المنارۃ ص۶،دار الامام الترمذی ،قاہرہ۱۹۹۷ئ( ۷ )ڈاکٹر رضیہ حامد:نواب صدیق حسن خاںص۲۷۶،باب العلم پبلی کیشنز دہلی۱۹۹۸ئ( ۸ )فتح الباری ج۲ص۴۹۵( ۹ )بلال بن حارث المزنی کی روایت سے متعلق یہ پوری بحث ہم نے علامہ محمود سعید ممدوح کی کتاب رفع المنارہ سے اخذ کی ہے دیکھیے:رفع المنارۃ لتخریج احادیث التوسل والزیارۃ، ص۳۶،۳۷،۳۸ اور ۲۶۲تا۲۷۸،دارالامام الترمذی قاہرہ۱۹۹۷ئ(۱۰)عبداللہ محمد صدیق غماری:بدع التفاسیرص ۱۵۶،مکتبۃ القاہرہ،۱۹۹۴ء طبع دوم(۱۱)مرجع سابق ،نفس صفحہ(۱۲)مرجع سابق،ص۱۶۴(۱۳)چند سال قبل علامہ نبہانی کی کسی کتاب میں مَیں نے یہ بات پڑھی تھی،مگر اب یہ مقالہ لکھتے وقت وہ کتاب میرے سامنے نہیں ہے،اس لیے علامہ نبہانی کی طرف اس قول کی نسبت کرنے پر مجھے اصرار نہیں ہے(۱۴)علامہ زاہد الکوثری:حاشیہ السیف الصقیل فی الرد علی ابن زفیل،ص۱۱۶،المکتبۃ الازہریہ للتراث قاہرہ ۲۰۰۳ئ(۱۵)محمد ایوب قادری:مقدمہ وصایا اربعہ،ص۲۶،شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدرآباد(۱۶)منظور نعمانی:ماہنامہ الفرقان شاہ ولی اللہ نمبر بحوالہ تقدیم انفاس العارفین:سید محمد فاروق قادری ص۱۹،مکتبۃ الفلاح دیوبند(۱۷)سید محمد فاروق قادری :تقدیم انفاس العارفین، ص۱۹،مکتبۃ الفلاح دیوبند(۱۸)حکیم محمود احمد برکاتی:شاہ ولی اللہ اور ان کے اصحاب،ص۲۴،مکتبہ جامعہ لمیٹڈدہلی۲۰۰۶(۱۹)شاہ ولی اللہ دہلوی :تفہیمات،ج۲ص۲۸،بحوالہ تقدیم انفاس العارفین:سید محمد فاروق قادری ص۱۹،مکتبۃ الفلاح دیوبند(۲۰)حکیم محمود احمد برکاتی:شاہ ولی اللہ اور ان کے اصحاب،ص۲۰۱،مکتبہ جامعہ لمیٹڈدہلی۲۰۰۶ (۲۱)صلاح الدین مقبول احمد:الاستاذ ابوالحسن الندوی وجہ آخر فی کتاباتہ ص ۱۰۸،مطبوعہ کویت-
ٹیگس :  تحریف ، اسلاف ، کتب ،  توحید 


نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ