امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کی زیارت کا مسلمانوں کی اکثریت کے نزدیک بہت بڑا مقام ہے۔ ہر سال ،شیعوں کے علاوہ، دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد کربلای معلی کی زیارت سے مشرف ہوجاتی ہے۔سید الشہداء کے اربعین کے ایام میں نجف سے کربلا تک پیادہ روی اور مشی میں اہل سنت کے قافلوں کا حضور اس مدعا پر ایک مناسب دلیل ہے۔ لیکن ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ اس پیادہ روی اور واک میں شرکت کرنے والے اہل سنت میں سےکچھ ہیں لہذا، ا ن کا یہ عمل اس فعل کی مشروعیت اور جواز پر دلیل نہیں بن سکتا۔ان کے جواب میں ہم کہتے ہیں :اربعین واک میں عام لوگوں کے علاوہ اہل سنت علماء بھی کربلا کی طرف مشی میں شرکت کرتے ہیں۔اس مقالے میں ہم اہل سنت کے معاصر بزرگان کی مرقد مطهر اباعبدالله الحسین (علیه السلام) کی طرف پیدل چلنے کی عظمت اور اسی طرح اس نورانی بارگاہ کی زیارت کی عظمت کے متعلق آراء اور نظریات کی طرف اشارہ کریں گے۔ سید الشہداء (علیہ السلام ) کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد کے سامنے، طول تاریخ میں ہمیشہ کچھ ایسے لوگ بھی رہے ہیں جنہوں نے اپنی کتابوں میں حرم مطهر امام حسین (علیه السلام) کی طرف زیارت کی نیت سے سفر کرنے کی مخالفت کی ہے۔ وہابی مسلک علما ، اس مخالفت میں سب سے آگے ہیں۔ شد رحال کا معنی بیان کرنے کے بعد ، آگے اس سلسلے میں کچھ وہابی علماء کی آراء کو نقل کیا جائے گااور پھر ان پر تنقید کی جائے گی۔
مصنف :  رائٹر:محمد باغچیقی مدرسہ اہل البیت کے انسٹیٹیوٹ دار الاعلام کے محقق
حوالہ :  alwahabiyah

 

شد رحال کا مفہوم

رحال، رحل کی جمع ہے۔ اس سے مراد زین اور پالان کی طرح کی کوئی چیز ہے جو اونٹ پر ڈالی جاتی ہے۔اونٹ کے پالان کو کس کر باندھنے کا لازمہ سفر ہے، شد رحال بھی کنایہ ہے ہر قسم کے سفر سے (گھوڑے کے ساتھ ہو یا اونٹ وغیرہ...) .[1]

پس شد رحال  کا مطلب سفر کرنا ہے۔لہذا، امام حسین علیہ السلام کی زیارت کےلیے شد رحال سے مراد یہ ہے کہ انسان  اپنے شہر سے ، امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ نورانی کی زیارت کی نیت سے  کربلا کی طرف روانہ ہوجائے۔

اب سوال یہ ہے کہ آیا  خدا کے نیک بندوں کی قبور کی زیارت کےلیے اسی طرح سے امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کی زیارت کےلیے سامان سفر باندھنا جایز ہے یا نہیں؟ سب سے پہلے اس بارے میں وہابیوں کا نظریہ نقل کیا جائے گا پھر اس  کی نقد و بررسی کی جائے گی۔

زیارت قبر مطهر امام حسین (علیه السلام) کی نیت سے سامان سفر باندھنے کے متعلق ابن تیمیہ اور وہابیت کا نظریہ

یقین کے ساتھ  یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ ابن تیمیہ اور وہابیت مسئلہ شد رحال برای زیارت  قبور صالحین کے سخت مخالف ہیں۔ جیسا کہ ابن تیمیہ کہتا ہے: اگر قبور کی زیارت شد رحال[2] کے ساتھ ہو تو اس نہی کی بنیاد پر جو کہ روایات میں موجود ہے یہ سفر گناہ اور معصیت کا سبب بنتا ہے.[3] بن باز بھی روایت شد رحال کا حوالہ دے کر لکھتا ہے: اگر انسان قبور کی زیارت کی نیت سے سفر کرے تو یہ جایز نہیں ہے.[4] جب ابن تیمیہ اور بن باز تمام قبور کی زیارت کےلیے شد رحال کو جایز نہیں سمجھتے تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے روضے کی زیارت کےلیے سفر کرنے کوبھی حرام سمجھتے ہیں۔ گزشتہ دو عبارتوں کے علاوہ وہابیوں کی کتابوں میں حضرت ابا عبد اللہ الحسین (س) کے روضے کی زیارت کی ممانعت کے بارے میں کچھ وضاحتیں پیش کی گئیں ہیں۔مثال کے طور پر، قفاری اپنی کتاب: اصول مذهب الشیعه میں زیارت کی نیت سے حرم مطهر امام حسین(علیه السلام) کی طرف حرکت کو شرک میں مبتلا ہونے کے اسباب میں  سے قرار دیتا ہے.[5]

ان تمام تفصیلات سے یہ واضح  ہوجاتا ہے کہ وہابیت ابن تیمیہ کی پیروی  کرتے ہوئے تمام قبور کی زیارت کےلیے جن میں سے ایک بارگاه مطهر امام حسین (علیه السلام) ہے، سامان سفر باندھنے کو حرام سمجھتی ہے۔اپنے مدعا کے اثبات پر ان کی سب سے اہم دلیل روایت لاتشدالرحال ہے۔ آگے اس روایت کی جانچ پڑتا ل ہوگی، مسئلہ مذکور میں وہابیوں کا نظریہ بیان ہوگا اور اس کی نقد و بررسی ہوگی۔

حرم مطهر امام حسین (علیه السلام) کی زیارت کے قصد سے سامان سفر باندھنے کے متعلق وہابیوں کے نظریات کی جانچ پڑتال

جیسا کہ بیان ہوگیا کہ وہابی ابن تیمیہ کی پیروی کرتے ہوئے تمام قبور کی طرف سفر کرنے کو حرام سمجھتے ہیں۔سب سے اہم دلیل اپنے مدعا کے اثبات پر وہ روایت شد الرحال کو پیش کرتے ہیں: " لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآله وسَلَّمَ)، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى "»[6]ان کا یہ دعوی ہے کہ اس روایت کی بناء پر ان تین مسجدوں کے علاوہ  کسی اور جگہ کی طرف سفر کرنا ممنوع اور حرام ہے.[7] اب اس روایت کی جانچ کرنا ضروری ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ اس سلسلے میں وہابیت کا دعویٰ صحیح ہے یا نہیں؟

روایت لا تشد الرحال کی جانچ پڑتال

زیارت قبور کی حرمت کو ثابت کرنے کےلیے روایت لا تشدالرحال سے تمسک کرنا درست نہیں ۔چونکہ پہلی بات تو یہ کہ  اگر اس روایت کے عموم سے تمسک کیا جائے تاکہ کچھ امور جیسے زیارت قبر مطهر امام حسین (علیه السلام) کو حرام قراردیا جاسکے تو پھر حصول علم، سیاحت اور تفریح کےلیے سفر کو بھی حرام قرار دیا جائے  گاجبکہ وہابی علما میں سےکوئی بھی ان امور کےلیے سفر کو حرام و ممنوع قرار نہیں دیتا۔اگر کوئی کہے طلب علم اور سیاحتی امور دوسری ادلہ  کے ساتھ مستشنی ہیں تو ہم کہیں گے: قبور کی زیارت کا مسئلہ بھی ان امور میں سے ایک ہے جن کی انجام دہی پر فریقین کی روایات میں  سفارش ہوگی ہے۔

اس تفصیل کے ساتھ یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ اس روایت شد الرحال  کا موضوع مذکورہ تین مساجد کی طرف سفر ہے یعنی ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا حرام ہے۔دوسرے الفاظ میں اس روایت میں ، کلمه"الی مسجد" تقدیر میں ہے{لا تشدالرحال الی مسجد الا الی ثلاثه مساجد}؛  جیسا کہ کہ بعض کتابوں میں  مثلا مسند احمد  میں اس طرح سے روایت وارد ہوئی ہے:«قال رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم): " لا ينبغي للمطي أن تشد رحاله إلى مسجد يبتغى فيه الصلاة، غير المسجد الحرام، والمسجد الأقصى، ومسجدي هذا"»[8]

 

یعنی ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا ممنوع ہے۔ اس بنا پر بعض امور جیسے شد الرحال اللہ کے نیک بندوں کی قبور کی زیارت کی خاطر،یہ روایت اس موضوع کو شامل ہی نہیں ۔یہ روایت محل بحث سے خارج ہے اور قبور کی زیارت جایز ہے۔

دوسری بات: یہ کہ عبارت "لا تشدالرحال"، نہی پر دلالت نہیں کرتی بلکہ ان تین مسجدوں کی دوسری مساجد پر فضیلت کو بیان کرتی ہے۔جیسا کہ ابن قدامہ "المغنی" میں لکھتا ہے:  «وأما قوله – (صلى الله عليه وآله وسلم): " لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثه مساجد " فيحمل على نفي التفضيل، لا على التحريم، وليست الفضيلة شرطا في إباحة القصر، فلا يضر انتفاؤها»[9]۔روایت لا تشد الرحال،ان تین مساجد پر دوسری مساجد کی فضیلت کی نفی کرتی ہے نہ یہ کہ دوسری مساجد کی طرف سفر کرنے کو حرام قرار دیتی ہے۔

البتہ مصنف عبد الزاق میں  عمر بن خطاب کی ایک بات نقل ہوئی ہے جو کہ ابن قدامہ کے ادعا کی تایید کرتی ہے یعنی مطلب یہ کہ ان تین مساجد کے علاوہ دوسری مساجد کی طرف بھی سفر کرنا جایز ہے۔روایت یہ ہے: «لَوْ كَانَ مَسْجِدُ قِبَاءَ فِي أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ ضَرَبْنَا إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ»[10] اگر مسجد قبا  آفاق میں سے کسی بھی افق پر ہوتی  ہم اپنی سواریاں اس طرف روانہ کرتے۔

تیسری بات: بہت سارے اہل سنت کے  بزرگ  علماءنے ، روایت شد الرحال کے اور بھی کئی معانی بیان کیے ہیں۔ابن حجر عسقلانی، فتح الباری میں ان میں سے بعض توجیہات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ذیل میں ان میں سے دو کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

الف:بعض نے کہا ہے کہ یہ روایت نذر سے مربوط ہے۔یعنی اگر کوئی نذر کرلے کہ ان تین مساجد کو چھوڑ کر کسی اور مسجد میں نماز پڑھے گا، تو پھر اس پر لازم نہیں کہ وہ اپنی نذر پوری کرلے.[11]

ب: کچھ لوگ معتقد ہیں کہ روایت شد الرحال سے مراد  ان  تین مساجد کے علاوہ کہ جن کا ذکر روایت میں آچکا ہے کسی اور مسجد میں قصد اعتکاف کرنا صحیح نہیں ہے۔ابن حجر نے فتح الباری میں اس احتمال کی طرف بھی اشارہ کیا ہے.[12]

ان تمام تفاصیل کی موجودگی میں، زیارت قبر مطهر امام حسین (علیه السلام) اور دیگر صلحاء کی حرمت کے اثبات کےلیے روایت"لا تشدالرحال" سے تمسک کرنا جمهور فریقن کے علماء کے نزدیک مورد قبول نہیں ہے۔ طول تاریخ میں عام مسلمان اعم از صحابہ، علما اور پیروان مذاہب مختلف، قبور کی طرف جن میں قبر مطهر پیامبراکرم(صلی الله علیه وآله) بھی شامل ہے،شد رحال انجام دیتے تھے۔ان موراد میں سے تین مورد ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں:

۱۔ شدرحال بلال حبشی: تاریخ دمشق ابن عساکر میں یوں آیا ہے: موذن رسول خدا(صلی الله علیه وآله) ، بلال ، عمر  ابن خطاب کے زمانے میں ،شہر شام میں رہتا تھا۔ایک رات خواب میں پيامبراکرم (صلی الله علیه وآله) کو دیکھا کہ اس سے فرمایا: اے بلال،یہ کیسا ظلم ہے  جسے تو نے میرے حق میں جایز سمجھا ہے؟ کیا وہ وقت نہیں آیا ہے کہ تم میری زیارت کرو؟ بلال نیند سے بیدار ہوا۔خوف اور پریشانی نے اس کے پورے جسم کو گھیر لیا تھا۔جلدی سے اس نے اپنا سامان سفر باندھ لیا اور اپنی سواری میں سوار ہوکر مدینے کی طرف روانہ ہوگیا۔جب مدینہ پہنچا، رسول خدا کی قبر مبارک پر  حاضری دی، اس حالت میں کہ وہ رو رہا  تھا اور اپنے چہرے کو قبر مبارک سے رگڑ رہا تھا۔اس دوران ، اس نے امام حسن اور امام حسین(علیهماالسلام) کو دیکھا جو اپنے جد امجد کی قبر اطہر کی طرف آرہے تھے۔ان دونوں کو اپنے سینے سے لگایا اور ان کے بوسے لیے.[13] شوکانی نے، نیل الاوطار میں،اس روایت کی سند کو نیک اور جید قرار دیا ہے.[14] یہ بات ان کہی نہ رہ جائے کہ اس قصے کے مطابق ، جناب بلال ،حرم مطهر نبوی (صلی الله علیه وآله) کی زیارت کےلیے شام سے مدینہ تشریف لائے تھے جو کہ اس بات پر دال ہے کہ صحابہ کے نزدیک شد رحال جایز تھا۔

۲۔شدرحال پیروان مذاهب مختلف:شوکانی"نیل الاوطار" میں لکھتا ہے:پوری تاریخ میں  عام مسلمانوں کی یہ سیرت رہی ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو کہ جب وہ حج کےلیے مکہ آتے تھے تو پیامبراکرم(صلی الله علیه وآله) کی زیارت کےلیے مدینے کا بھی سفر کرتے تھے اور آنحضرت کی زیارت کو افضل اعمال میں سے سمجھتے تھے[15]۔

۳۔ علما کا شد رحال جیسے عبد الرزاق صنعانی:تاریخ دمشق میں یہ بھی آیا ہے: عبدالرزاق صنعانی کہتا تھا:میں حج بجا لایا اور پھر زیارت قبر مطهر نبی اکرم (صلی الله علیه وآله) کےلیے مدینه گیا.[16]

اس مطلب کا بیان کرنا ضروری ہے کہ کسی قسم کا قرینہ اور کوئی دلیل موجود نہیں جو مذکورہ عبارات کو شد رحال برای زیارت قبر مطهر حضرت رسول (صلی الله علیه وآله) کے ساتھ مختص کردے۔ اس سے ہٹ کر، طول تاریخ میں ،صلحا کی قبور کی زیارت کی نیت سے شد رحال ایک رایج امر تھا جیسا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ہر جمعہ ،قبر حضرت حمزه (سلام الله علیه) کی زیارت کےلیے تشریف لے جاتی تھیں جو کہ شہر سے باہر منطقہ احد میں دفن تھے۔.[17] اسی طرح سے ابن خزیمہ [18]کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ امام علی بن موسی الرضا(علیهماالسلام) کی زیارت کے قصد سے عازم طوس ہوئے.[19] ایک اور نکتہ جس کا ذکرکرنا یہاں  پر ضروری ہے، یہ کہ جو روایا ت زیارت قبور کی سفارش کرتی ہیں وہ مطلق ہیں لہذا وہ اس زیارت کو بھی شامل ہیں جو شد رحال کے ہمراہ ہے۔

ان ساری تفاصیل سے واضح ہوجاتا ہے  کہ  بزرگان امت اور عموم مسلمین صالحین کی قبور  کی زیارت کےلیے شد رحال کے ملتزم تھے اور اس کے علاوہ حدیث "لا تشد الرحال" جو کہ شد رحال کو حرام سمجھنے والوں کی اہم ترین دلیل ہے یہ بھی مخدوش ہوجاتی ہے۔پس بنا بر این ،امام حسین علیہ السلام کی زیارت کےلیے شد رحال حرام نہیں ہے۔مذکورہ مویدات کے علاوہ، شیعوں کے مصادر میں کچھ روایات بھی موجود ہیں  کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ائمه اهل البیت(علیهم السلام) امام حسین علیہ السلام کی زیارت کےلیے شد رحال کا اہتمام کرتے تھے۔ذیل میں ان میں سے بعض روایات بیان کی جاتی ہیں۔

امام حسین  علیہ السلام کی زیارت کے قصد سے اہل البیت علیہم السلام کا شد رحال کا اہتمام کرنا

الف: امام صادق (علیه السلام) فرماتے ہیں: «مَنْ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ زِيَارَةَ قَبْرِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ (علیهماالسلام) إِنْ كَانَ مَاشِياً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ مَحَى عَنْهُ سَيِّئَةً حَتَّى إِذَا صَارَ فِي الْحَائِرِ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْمُصْلِحِينَ الْمُنْتَجَبِينَ [الْمُفْلِحينَ الْمُنْجِحِينَ‏] حَتَّى إِذَا قَضَى مَنَاسِكَهُ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْفَائِزِينَ حَتَّى إِذَا أَرَادَ الِانْصِرَافَ أَتَاهُ مَلَكٌ فَقفَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (صلی الله علیه وآله) يُقْرِؤُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ لَكَ اسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى.»[20]؛

"جو شخص بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی نیت سے گھر سے باہر نکلے گا،اگر پیدل ہے تو خدا وند ، اس کے ہر قدم کے بدلے اس کےلیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ پاک کردیتا ہے اور جب وہ امام حسین علیہ السلام کے حرم تک پہنچ جاتا ہے خدا وند اس کا نام نجات پانے والوں کی فہرست میں لکھ دیتا ہے اور جب زیارت کرکے فارغ ہوجاتا ہے، خدا وند اس کو رہائی پانے والوں میں سے قرار دیتا ہے اور جب وہ واپس لوٹنا چاہتا ہے، ایک فرشتہ اس کے پاس آجاتا ہے اور اس سے کہتا ہے: میں خدا کی طرف سے پیام لایا ہوں ، اللہ تعالی آپ کو سلام کرتا ہے اور فرماتا ہے:تمھارے گزشتہ گناہ سارے معاف ہوچکے ہیں اپنا عمل دوبارہ سے شروع کرو۔"

اس روایت میں ، امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کی زیارت کے ارادے سے گھر چھوڑنے کے بارے میں بحث ہے۔ وہ بھی مطلقا یعنی زیارت کرنے والا کسی بھی شہر سے تعلق رکھتا  ہو کوئی فرق نہیں کرتا ہے، خاص طور پر باوجود اس کے کہ امام صادق(علیه السلام) مدینہ میں زندگی گزارتے تھے اور ان کے مخاطبین حد اقل مدینہ کے لوگ تھے۔ اس بنا پر زیارت قبر مطهر امام حسین (علیه السلام) کےلیے سفر کرنا وہ بھی ایک ایسے شہر سے  جو کہ بہت دور ہے جیسا کہ مدینہ ، بلا مانع ہے بلکہ اس کے بہت سارے فضائل ہیں۔

ب: ایک اور روایت میں آیا ہےکه امام هادی (علیه السلام) بیمار ہوچکے تھے تو انہوں نے حکم صادر فرمایا کہ ایک شخص ان کی نیابت میں زیارت قبر مطهر سیدالشهداء (علیه السلام)  سےمشرف ہو.[21]

ج:دوسری روایات میں بھی ائمه اهل البیت(علیهم السلام)اپنے دوستوں سے کہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو زیارت قبر مطهر امام حسین(علیه السلام) کی ایک دوسرے کو تاکید کریں۔ جیسا کہ یہ روایت: امام باقر (علیه السلام) فرماتے ہیں: «مُرُوا شِيعَتَنَا بِزِيَارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ (علیه السلام) فَإِنَّ إِتْيَانَهُ يَزِيدُ فِي الرِّزْقِ وَ يَمُدُّ فِي الْعُمُرِ وَ يَدْفَعُ مَدَافِعَ السُّوءِ...»[22]

ہمارے شیعوں کو حکم دیں کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی مقدس قبر کی زیارت کریں ،کیونکہ ان کی زیارت رزق میں اضافہ کرتی ہے اور زندگی کو طولانی کر دیتی ہے اور آفات اور برائیوں کو دور کرتی ہے۔اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت ہر اس مومن پر فرض ہے جو خدا کی طرف سے ان کی  امامت کا اعتراف کرتا ہے۔ہمیں دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت  ہےکہ امام باقر علیہ السلام اس حکم کے اظہار کے وقت کربلا میں موجود نہیں تھےاور (غالبا)) مدینہ میں  تھے ، انہوں نے  فرمایا ہےاور یہ کہ مدینہ سے کربلا جانا  شد رحال کے بغیر ممکن نہیں ہے ، اس بنا پر مذکورہ روایت ،ز یارت قبر مطهر امام حسین(علیه السلام) کی خاطر شد رحال کی مشروعیت پر ایک اور موید شمار ہوتی ہے۔

جو روایات بیان ہوچکی ہیں  ان کی روشنی میں یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کربلا کےلیے شد رحال  اور وہ بھی زیارت قبر مطهر امام حسین(علیه السلام) کی نیت سے لسان ائمه اهل البیت (علیهم السلام) میں ایک جایز امر ہے۔

البتہ  اس بات  پر توجہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ چند ایک سالوں سے  اربعین کے ایام میں حرم مطهر امام حسین(علیه السلام) کی طرف مشی میں بہت اضافہ ہوچکا ہے، دوسرے اسلامی مذاہب کے پیروکاروں  کو  بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ زیارت امام حسین(علیه السلام) کےلیے اس پیادہ روئی میں شامل ہوجاتے ہیں۔اسی طرح مذاہب اسلامی کے علماء اس سفر کو جایز قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس عظیم اجتماع میں شریک بھی ہوئے ہیں۔اگلے صفحوں میں بعض معاصر اہل سنت علما کی آرا اس سفر کے جواز کے حوالے سے البتہ حرم مطهر امام حسین(علیه السلام) کی زیارت کی نیت سے سفر کی فضیلت کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔

معاصر اہل سنت علما کی آراء

اس بحث میں داخل ہونے سے پہلے ضروری ہے کہ اس نکتے کی طرف اشارہ کیا جائے کہ جمہور علمائے اہل سنت قبور کی زیارت کےلیے شد رحال کے جواز کے قایل ہیں۔جیسا کہ کتاب: "موسوعه الفقهیه الکویتیه" میں اس طرح کے مطلب کی طرف  اشارہ ہوا ہے.[23]

مذکورہ مطلب کے علاوہ،عراق میں صدام حسین کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد،اس کی حکومت کے دوران کی پابندیاں ختم ہوگئیں اور ان سالوں میں ہر دین اور ہر مذہب کے لوگ سیدالشهداء (علیه السلام) کی زیارت کےلیے خود کو کربلا میں پہنچا دیتے ہیں۔اور اسی وجہ سے امام علیہ السلام  کے  اربعین کی زیارت کی رونق میں اضافہ ہوگیا ہے۔اور حالیہ برسوں میں ، غیر شیعوں کی ایک بڑی تعداد امام حسین علیہ السلام کے مقدس روضے کی زیارت کے لئے کربلا جاتی ہے۔اس سلسلے میں ، بہت سارے ہم عصر سنی علمائے کرام ، امام حسین علیہ السلام کی نورانی قبر کی زیارت کےلیے سفر پر زور دینے کے علاوہ ، اس مقصد کے لئے خود بھی کربلا کا سفر کرتے ہیں۔ذیل میں زیارت بارگاه مطهر امام حسین(علیه السلام) کےلیے سفر کے متعلق  عصر حاضر کے سنی علما کے بعض بیانات کا تذکرہ کرتے ہیں:

آخوند عبدالرزاق رهبر) ایران کے صوبہ گلستان کے شہر آق قلا کے امام جمعہ( اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ اہل سنت کے مبانی میں زیارت امام حسین و ائمه اطهار( علیهم السلام) کی بہت تاکید کی گئی ہے،انہوں نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کربلا کی طرف مشی میں شرکت کی ہے اور ان کی آرزو ہے کہ وہ دوبارہ اس اجتماع میں حاضر ہو .[24]

ماموستا ملامصطفی محمودی امام جمعه پیرانشهر بھی زیارت امام حسین(علیه السلام) کی اہمیت بتاتے ہوئے کہتے ہیں: کربلا جانا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا کسی بھی وقت مناسب ہے اور اربعین کے ایام میں  بہتر اور بافضیلت ہے۔ .[25]

آخوند عبدالباسط نوریزاد (امام جمعه اهل سنت گنبدکاووس) عالم اسلام کے حالیہ حالات میں ، اربعین حسینی،  جو کہ بیان گر فلسفہ اسلام اور مسلمانوں کی حقانیت کی نشانی بن چکا ہے،پر زور دیتے ہوئے  بیان کیا :یہ امام حسین (علیه السلام) کی خوشبو اور ان کا بے کفن  پیکر ہے جو کہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور دنیا کے گوش و کنار سے پیدل چلنے والے زائرین کو اپنی طرف کھینچتا ہے .[26]

ماموستا عابد نقیبی، امام جمعه اهل سنت و رئیس شورای افتای سقز، اربعین کی مشی کے بارے میں کہتا ہے: آجکل اربعین واک میں شرکت کرنا شعائر اسلامی میں سے ایک ہے۔دنیا میں مسلمانوں کی موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اس بات پر توجہ دیتے ہوئے کہ دشمنان اسلام کی نظر مسلمانوں پر ہے، زمانہ ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ گزشتہ زمانے کی نسبت ہم شعائر الہی پر زیادہ توجہ دیں۔ یہ قبور کی زیارت جو ہم اربعین میں دیکھتے ہیں اور اہل سنت کے بزرگ علما پیدل کربلا جاتے ہیں ، یہ شعائر میں سے ہے۔

دشمن اس بات کو سمجھے کہ ہم اس موجودہ زمانے میں زیارت پر اعتقاد رکھتے ہیں  یہاں تک کہ ہم اہل سنت حاضر ہیں کہ ہم بغیر جوتوں کے پیدل ان بزرگوں کی زیارت کےلیے جائیں۔دشمنان اسلام کے مقابلے میں یہ ایک شعار ہے۔مذاہب کے درمیان ہماہنگی اور اتحاد ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں۔

ماموستا نقیبی اس روایت نبوی: "من زارنی فی مماتی فکانما زارنی فی حیاتی؛ جس نے بھی میری موت کے بعد میری زیارت کی تو یہ گویا ایسا ہے جیسا کہ اس نے میری زندگی میں مجھ سے ملاقات کی، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: پیامبر بزرگوار اسلام(صلی الله علیه وآله)، کی یہ حدیث  ایک ایسی حدیث ہے جو کہ کاملا صحیح ہے اور  تمام اہل البیت پیامبر اسلام کو شامل ہے۔ [27]

مولوی عبدالغنی دهانی، جو کہ مشہور علما میں سے ہے اور دار العلوم زاہدان کے مدرسین میں سے ہے ، وہ بھی اس مطلب کو بیان کرتے ہوئے کہ قبر مطهر امام حسین(علیه السلام) کا پہلا زائر جابر بن عبدالله انصاری صحابی بزرگوار پیامبراکرم(صلی الله علیه وآله) تھے،  کہتے ہیں: سفر پر جانے کی نیت کرنا جیسے زیارت قبر مطهر امام حسین(علیه السلام) کےلیے سفر کی نیت کرنا  شریعی طور پر درست ہے اور اس میں کسی قسم  کی ممنوعیت نہیں ہے .[28]

اس بنا پر قبر مطهر امام حسین(علیه السلام) کی زیارت کےلیے سفر کرنا  نہ صرف اس سے نہیں روکا گیا ہے بلکہ اہل سنت کے معاصر بزرگان نے اس سفر کی بہت تاکید کی ہے۔

نتیجہ

قبور کی زیارت کےلیے سفر کو حرام اور ممنوع قرار دینے والوں کی مہم ترین دلیل حدیث لاتشدالرحال ہے۔ جب کہ اہل سنت کے بزرگوں کی تصریح کے مطابق شد رحال کی ممنوعیت کےلیے اس حدیث سے استناد کرنا درست نہیں ہے۔اسی طرح سے صالحین کی قبور کی زیارت کےلیے شد رحال، سلف امت،عموم مسلمانان اور پیشوایان مذاہب اسلامی کی تاکید کا مورد  واقع ہوا ہے۔ائمه اهل البیت (علیهم السلام) نے بھی زیارت بارگاه نورانی امام حسین (علیه السلام) پر زور دیا ہے۔اس مورد کے علاوہ، اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ فرهنگ زیارت سیدالشهداء مخصوصا اربعین کے ایام میں  وسیع ہوتا جارہا ہے، کئی بار یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اہل سنت کے معاصر علما نے نہ صرف امام حسین علیہ السلام کی زیارت کےلیے کربلا کا سفر کیا ہے بلکہ اس سفر کی مشروعیت اور فضیلت کو بھی بیان کیا ہے۔ان مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کےلیے سفر کرنا  صرف مشروع نہیں بلکہ مطلوب بھی ہے۔

منابع:

[1] . «والرحال بِالْحَاء الْمُهْملَة جمع رَحل وَهُوَ للبعير كالسرج للْفرس وَهُوَ أَصْغَر من القتب وَشد الرحل كِنَايَة عَن السّفر لِأَنَّهُ لَازم للسَّفر» عینی، بدرالدین، عمده القاری، ج7، ص252، بیروت، دار إحياء التراث العربي، بی تا.

[2] .  اہل سنت کے حدیثی منابع یہ روایت یوں وارد ہوئی ہے: «عَنِ النَّبِيِّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآله وسَلَّمَ) قَالَ: " لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآله وسَلَّمَ)، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى "» صحیح بخاری، ج2، ص60، دار طوق النجاة، چاپ اوّل، 1422ق.

[3] . « فالزيارة بغير شد غير منهى عنها ومع الشد منهى عنها» مجموع الفتاوی، ج27، ص196، مدینه، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، 1416ه ق.

[4] . «والزيارة الشرعية تجوز لكن من دون سفر، من دون شد الرحل إذا كان في البلد نفسه زاره في البلد، أما أن يشد الرحل يسافر لأجل زيارة القبر، هذا لا يجوز؛ لقول النبي(صلى الله عليه وآله وسلم) : «لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: المسجد الحرام ومسجدي هذا والمسجد الأقصى» فتاوى نور على الدرب، ج2، ص342.

[5] . «ولاحظ توجيهه لفضل زيارة قبر الحسين(علیه السلام) بفعل أسباب الوقوع في الشرك نفسه من شد الرحال إلى القبر» اصول مذهب الشیعه الامامیه الاثنی عشریه، ج2، ص462، بی جا، بی نا، چاپ اول، 1414 ه ق.

[6] .  صحیح بخاری، ج2، ص60، دار طوق النجاة، چاپ اوّل، 1422ق.

[7] . جیسا کہ البانی لکھتا ہے « شد الرحال والسفر خاصًة لزيارة قبر النبي(صلى الله عليه وآله وسلم) فضلًا عن قبور الأنبياء والأولياء والصالحين، هذا أمر لا يجوز في الإسلام لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجدي هذا، والمسجد الحرام، والمسجد الأقصى» موسوعه الالبانی فی العقیده، ج2، ص556، صنعاء(یمن)، مركز النعمان للبحوث والدراسات الإسلامية وتحقيق التراث والترجمة، چاپ اول، 1431 ه ق.

[8] . مسند احمد، ج18، ص152، مؤسسة الرسالة، چاپ اول، 1421 ه ق.

[9] . مقدسی، ابن قدامه، المغنی، ج2، ص195،  مكتبة القاهرة، 1388 ه ق.

[10] . صنعانی، عبدالرزاق، المصنف، ج5، ص133، هند، المجلس العلمي، چاپ دوم، 1403 ه ق.

[11] . ابن حجر در فتح الباری می نویسد: « أن النهي مخصوص بمن نذر على نفسه الصلاة في مسجد من سائر المساجد غير الثلاثة فإنه لا يجب الوفاء به قاله بن بطال وقال الخطابي اللفظ لفظ الخبر ومعناه الإيجاب فيما ينذره الإنسان من الصلاة في البقاع التي يتبرك بها أي لا يلزم الوفاء بشيء من ذلك غير هذه المساجد الثلاثة» فتح الباری، ج3، ص65، بیروت، دار المعرفة، 1379 ه ق.

[12] . ابن حجر لکھتا ہے: «ومنها أن المراد قصدها بالاعتكاف فيما حكاه الخطابي عن بعض السلف أنه قال لا يعتكف في غيرها وهو أخص من الذي قبله ولم أر عليه دليلا» فتح الباری، ج3، ص65، بیروت، دار المعرفة، 1379 ه ق.

[13] . « إن بلالا رأى في منامه النبي (صلى الله عليه وآله وسلم) وهو يقول له (ما هذه الجفوة يا بلال أما ان لك أن تزورني يا بلال فانتبه حزينا وجلا خائفا فركب راحلته وقصد المدينة فأتى قبر النبي (صلى الله عليه وآله وسلم) فجعل يبكي عنده ويمرغ وجهه عليه وأقبل الحسن والحسين(علیهماالسلام) فجعل يضمهما ويقبلهما»     ابن عساکر، تاریخ دمشق، ج7، ص137، دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، 1415 ه ق.

[14] . «وَقَدْ رُوِيَتْ زِيَارَتُهُ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآله وسَلَّمَ) عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ بِلَالٌ عِنْدَ ابْنِ عَسَاكِرَ بِسَنَدٍ جَيِّدٍ»    شوکانی، محمد بن علی، نیل الاوطار، ج5، ص114، مصر، دار الحديث، چاپ اول، 1413 ه ق.

[15] . «لَمْ يَزَلْ دَأْبُ الْمُسْلِمِينَ الْقَاصِدِينَ لِلْحَجِّ فِي جَمِيعِ الْأَزْمَانِ عَلَى تَبَايُنِ الدِّيَارِ وَاخْتِلَافِ الْمَذَاهِبِ الْوُصُولَ إلَى الْمَدِينَةِ الْمُشَرَّفَةِ لِقَصْدِ زِيَارَتِهِ، وَيَعُدُّونَ ذَلِكَ مِنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ وَلَمْ يُنْقَلْ أَنَّ أَحَدًا أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَكَانَ إجْمَاعًا.»    نیل الاوطار، ج5، ص115، مصر، دار الحديث، چاپ اول، 1413 ه ق.

[16] . «قال سمعت عبد الرزاق بن همام يقول حججت فصرت إلى المدينة لزيارة قبر الرسول (صلى الله عليه وآله وسلم)»    تاریخ دمشق ابن عساکر، ج36، ص178، دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، 1415 ه ق.

[17] . «أَنَّ فَاطِمَةَ (سلام الله علیها) بِنْتَ النَّبِيِّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآله وسَلَّمَ)، كَانَتْ تَزُورُ قَبْرَ عَمِّهَا حَمْزَةَ(علیه السلام) كُلَّ جُمُعَةٍ فَتُصَلِّي وَتَبْكِي عِنْدَهُ»  المستدرک علی الصحیحین، ج1، ص533

19: فقیه، محدث ومفسر سلفی مذهب قرن 3 هجری

[19] .ابن حجر عسقلانی در تهذیب التهذیب چنین نقل می کند: « سمعت أبا بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى يقول خرجنا مع إمام أهل الحديث أبي بكر بن خزيمة وعديله أبي علي الثقفي مع جماعة من مشائخنا وهم إذ ذاك متوافرون إلى زيارة قبر علي بن موسى الرضي(علیه السلام) بطوس قال فرأيت من تعظيمه يعني بن خزيمة لتلك البقعة وتواضعه لها وتضرعه عندها ما تحيرنا»     تهذیب التهذیب، ج7، ص388، هند، مطبعة دائرة المعارف النظامية، چاپ اول، 1326 ه ق.

[20] . ابن قولویه، جعفر بن محمد، كامل الزيارات؛ ص132، نجف اشرف، دارالمرتضویه، چاپ اول، 1356 ه ش.

[21] . «عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْجَعْفَرِيِّ قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو الْحَسَنِ (علیه السلام) فِي مَرَضِهِ وَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ فَسَبَقَنِي إِلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَا زَالَ يَقُولُ ابْعَثُوا إِلَى الْحَائِرِ.....» ابو هاشم جعفرى کہتا ہے: امام هادى (عليه السّلام) بستر بيمارى میں تھے، انہوں نے ایک شخص میری  اور محمّد بن حمزه کی طرف بھیجا ۔ قاصد مجھ سے پہلے محمد بن حمزه کی خدمت میں پہنچا جب با ہر آیا تو اس نے مجھے خبر دی کہ امام مسلسل یہ فرمارہے تھے: کسی کو کربلا بھیج دو ،کسی کو کربلا بھیج دو. بحارالانوار ج98، ص112، بیروت، داراحیاءالتراث العربی، چاپ دوم، 1403 ه ق.

[22] . ابن قولویه، جعفر بن محمد، كامل الزيارات؛ ص132، نجف اشرف، دارالمرتضویه، چاپ اول، 1356 ه ش.

[23] . «ذهب جمهور العلماء إلى أنه يجوز شد الرحل لزيارة القبور، لعموم الأدلة، وخصوصا قبور الأنبياء والصالحين.» موسوعه الفقهیه الکویتیه، ج24، ص89، مصر، دار الصفوة، 1404- 1427 ه ق.

26: https://www.tasnimnews.com/fa/news/1397/07/28/1857059/7-

27: https://dmsonnat.ir/F/

28: https://snn.ir/fa/news/799267/

29: https://www.mashreghnews.ir/news/1002236/F

30: https://www.mashreghnews.ir/news/

 

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ