اندراج کی تاریخ  4/6/2021
کل مشاہدات  69
وہابیت بن سلمان کی اصلاحات کے ساتھ چل سکتی ہے. دین شہزادہ بن سلمان کی اصلاح طلب نظریے میں اہم اثر رکھتا ہے. ولی عہد 1979 سے پہلے کے قول "اعتدال" کی طرف پلٹنے کا قول دیتا ہے یعنی جس سال ہر چیز تبدیل ہوگئ تھی. اس صورت حال میں وہابیت پسند بادشاہی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے. طول تاریخ میں، سعودی علماء نے ہمیشہ تبدیلیوں کے ساتھ راہنماؤں کی حیثیت سے کام کیا ہے تاکہ ہر چیز ثابت قدم رہے.
مصنف :  ترجمہ (فارسی): زہرا خطیب
حوالہ :  https://www.alwahabiyah.com/fa/mainstreamingview/15425/

ایسا لگتا ہے کہ شہزادہ بن سلمان کی تیز رفتار تبدیلیاں سعودی عرب کی تاریخ میں ایک نیا دروازہ کھول رہی ہیں. ریاض سے تعلق رکھنے والا تازہ اور قوی جوان نے ایک بالکل مختلف نظریہ پیش کیا ہے. اس کے خیالات جو کہ حد اقل غلو سے خالی نہیں، اس کی جاہ طلبی کو آشکار کرتے ہیں؛ مثال کے طور پر طاقت کو مخصوص کرنے کے لیے سعودی عرب کی اجتماعی شکل کو تبدیل کرنا. اگر وہ اپنے وسیع العرض نظریات کو عملی کرنا چاہے، تو یقینا ملک کے سیاسی، اقتصادی اور ڈپلومیٹک شعبوں کو اپنے اختیار میں قرار دے، لیکن اہم ترین سرمایہ جس کو ایک بادشاہ ہر چیز سے پہلے اپنے کنٹرول میں کرتا ہے وہ مذہب ہے.
اس حوالے سے، اعتدال پسند اسلام اور متفاوترفتار اور وضع کے بارے میں اس کے مختلف خیالات (مثلا خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا) کو ایک بے سابقہ اور گہرے انقلاب سے تعبیر کیا گیا ہے:
معاشرے اور حکومت سے وہابیت پسندی کو ختم کرنا. لیکن اگر اس کا خوشہ اس وقت باہر نکل آیا جب ہم نے ان سے فاصلہ اپنایا ہے تو حقیقت میں ہم اس منصوبے سے کیا چیز اخذ کرنا چاہتے ہیں؟ جو تاریخی اور معاشرہ شناسی کی تبدیلیاں بن سلمان کی منتخب چیزوں میں موثر ہیں، ان پر دقیق نگاہ ہمیں اس قابل بناتی ہیں کہ آخری مورد کو اچھے طریقے سے پہچان لیں اور اس وقت ان کے لئے ملک کی طولانی تاریخى زمین ہموار کریں اور انہیں جگہ دیں.

ایک پائيدار  اتحاد

در حقیقت، وہابیت کو نارمل بنانے کی کوشش کو اگر  ایک طرف نہ کیا جائے تو، يہ کو نئی چیز نہیں. در واقع، یہ امر سعودیہ کی آشفتہ  سیاسی_ مذہبی تاریخی جڑوں میں پایا جاتا ہے. یہ دینی ٹھیکہ داری جو اٹھارویں صدی کے نصف میں سعودی عرب میں وجود میں آئی، اس نے وہابی کلامی (عقائدی) تعلیمات جو کہ حنبلیت کے حقوقی اور کلامی مکتب کا احیاء ہے، پر تکیہ کرتے ہوئے اپنی حکومتی جاہ طلبی کو مشروعیت بخشی ہے.

ان تعلیمات کا موجد، محمد بن عبد الوهاب (متوفی 1792) نے اعلان کیا کہ صرف آرتھوڈوکس اور ارتھوپراکسی تعلیمات جو جنبلی عقائد کے زریعے وجود میں آگئی ہیں، کی دقیق اور سخت رعایت انسان کی دنیاوی اور اخروی زندگی میں سعادت کا باعث بن سکتی ہے.

جس نے بھی اس حکم کو قبول نہیں كيا (خصوصا صوفیا) ابن عبد الوهاب نے انہیں کافر کہا اور اعلان کیا کہ "منحرفین" کو راہ راست پر لانے کا بہترین وسیلہ جہاد ہے.

حقیقت میں جہاد نے سعودی بادشاہت کو اجازت دی تاکہ وسعت طلب سیاست جو کہ اٹھارویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں سعودی عرب کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول کا  سبب بنی، کو مشروعیت عطا کی.

ابن عبد الوهاب نے اس فرقے کی تکفیر اور اپنی تعلیمات کی توسیع کے بعد، ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا. اس نے دیگر مسلمانوں کے درمیان مقبولیت حاصل کرنے کی خاطر خود کو نرم مزاج متعارف کرایا، خصوصا اپنے دشمنوں کی تکفیر کرنے کے حوالے سے.

اس کے جانشینوں نے ایک جدید مذہب کا آغاز کیا اور اس فکر كو  متعارف کرانے کے سلسلے کو مزید آگے بڑھایا. انہوں نے اپنی تعلیمات کی مخصوص جہات خصوصاً تصوف کو کمزور کرنے اور دیگر اسلامی مکاتب فکر کو غیر معتبر سمجھنے، میں تبدیلی لائی.

ابن عبد الوهاب کے جانیشنوں کا ہدف جدید وبے سابقہ  سعودی بادشاہت کے بارے میں جواب دینا تھا: فتح مکہ اور مدینہ انیسویں صدی کے اوائل میں، یہ فرقہ پھر  غیر متعارف نہیں رہا. اس بنا پر امت کے درمیان وہابیت ایک واقعیت میں تبدیل ہو چکی تھی.

اس صورت حال کے ساتھ، یہ تجدیدی آزمایش جلد ہی عقائدی عقب نشینی میں تبدیل ہوئی. وہابی علماء نے عثمانی خلافت کے مقابلے میں مقاومت اور سعودی زوال کے دوران حفظ وحدت اور بادشاہت کی خاطر مذکورہ محافظ واستثنائی نظریات کو انیسویں صدی ميں وسعت دی.

اس جہت سے، فکر (وفاداری) (اسلام کی نسبت) اور (دیگر تمام چیزوں سے) برائت قابل ذکر ہے. ان عقائد پر اساسی اعتماد اور مطلوبہ حالات سے استفادہ کرتے ہوئے بادشاہ عبد العزیز (1953_1902) سعودی بادشاہت كی بنياد  ركهي.

وہابی پیروکار اور سعودی بادشاہ کے درمیان پائیدار اتحاد برقرار نہ رہ سکا جسکی وجہ يہ تھی کہ  بادشاہ مروجہ سنتی شناخت اور دو مقدس شہروں کا بعنوان محافظ اس کی جدید موقعیت کے ساتھ ناسازگاری، اور ایک مستقل اسلامی ملک کا سربراہ اور بادشاہ ہوتے ہوئے قومی ومذہبی جہت سے لائق نہیں تھا.

اس نے ہر قسم کے بحران کا سامنے کرنے کے لئے، دونوں اطراف کے معاملات کو مد نظر رکھا: وہابیت کا احترام کرنا (در نتیجہ ان کو مزید قبول کرنا) اور ایک معتدل صورت میں قرار دیتے ہوئے  "انہیں کمزور اور بے اثر کرنا" اور اس سے بھی اہم، سیاسی ومذہبی ماڈرنزم، یعنی اسلامی اصلاح طلبی.

بہر حال، تجدید وہابیت کی اس کوشش نے سعودی علماء کو کمزور نہیں کیا بلکہ ہم آہنگي میں ان کی بلند توانائیاں سامنے آگئیں. علماء نے نہ صرف تازہ لباس زیب تن کیا (خصوصاً اصطلاح "سلفیت" کے ساتھ ہم کلامی کے زریعے جو کہ اس زمانے ميں ایک مثبت معنی رکھتی تھی) بلکہ اس سنت کو رائج کرنے والوں کو، اور متعدد اصلاح طلب نظریات اور منصوبوں کو مدغم کرتے ہوئے،  عالمی نگاہ کے مقابلے میں اپنا دفاع کیا.

سعودی علماء نے تعلیم کے میدان میں  اپنے امتیازات کے مقابلے میں، مدیریت اور جہاد اور غیر مسلم کے ساتھ تعلق کے بارے میں"عقائدی تجدید" کے ساتھ اجتماعی فضا ميں اپنی موقعیت محفوظ رکھی. جس طرح سے ماکس وبر نے بیان کیا.

ہم آہنگی کے لیے یہ توانائی مسؤولیت پذیر اخلاق کا نتیجہ ہے. دوسرے الفاظ میں، میدان عمل میں یہ توانائی زمینی حقائق اور ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قدرت کے اصل اور ظاہرا حقیقی اسباب کو محفوظ کرنے کا سبب ہے.

اور یہ بعینہ وہی مسؤولیت پذیر اخلاق تھا جسکی وجہ سے وہابیت نے بادشاہ فیصل (1944_1975) کے زمانے سے بحرانوں کے عالم میں مقامی سطح پر اپنی قدرت اور عالمی جاہ طلبی کو پروان چڑھایا.

1950 کی دہائی سے 11 سبتمبر تک

1950 اور 1960 کی دہائیوں میں، سعودی عرب کو متعدد داخلی اور خارجی سازشوں کا سامنا ہوا، خصوصاً مصر کی توسیع طلب خواہشات کے مقابلے میں. بقاء کی خاطر، سلطنت پر لازم تھا کہ اپنے حکومتی ڈھانچے کو ماڈرن بنائے؛ یہ کام وہابی سربراہوں کے منافع پر اثر کئے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا تھا.

تعلیم کا پھیلاؤ (خصوصاً خواتین کے درمیان)، مثبت قوانین کی وضع، خارجی کارکنوں کا وسیع ہجوم، جدید ٹیکنالوجی کا ظہور (ٹیلیویژن اور سینما)، بجٹ کی کمی اور مذہبی پولیس کے اختیارات کی قلت، یہ سب دو تاریخی شریکوں کے درمیان تعلق کا سبب بنا.

اس صورت حال میں، ايك بار پھر، وہابی علماء  ہم آہنگی کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے مشکلات کو دور کرنے میں کامیاب ہوگئے اور سائیڈ پہ ہونے سے بچ گئے. در واقع، انہوں نے مصر کے ساتھ جنگ اور تیل کے ڈالر کے گرنے کو اپنے فائدے میں تبدیل کیا جبکہ انہوں نے اپنی گنجائش سے بڑھ کر کام کیا اور بہت جلد ہی وه کافروں کا نجات دھندہ شمار ہوگئے. یہ امر خصوصا اداری میدان میں، جہاں انہوں نے ایسے ادارے بنائے تھے جو جدید تقاضوں کا جواب دیتے تھے، کامیاب نظر آیا. اس بنا پر، صرف چند سالوں کے اندر، بڑی تعداد میں یونیورسٹیز، کالجز، مؤسسے، سکولز، اداری نظام، عدالتی ادارے، انجمنیں، اور میڈیا وجود میں آگئے. اسی وقت سیکولرازم سے مقابلہ کرنے اور وہابیت کو جدید اسلامی آرتھوڈوکس کے عنوان سے متعارف کرانے کی خاطر، علماء نے اسلامی ادارہ پان (بین الاقوامی اسلامی تنظیم، اسلامی یونیورسٹی مدینہ وغیرہ) پر کام کیا.

حکومت جن دو متضاد اطراف سے مشکل کا سامنا کر رہی تھی اس سے مذہبی گروہ "اعتصاب فورس" نے استفادہ کیا اور کچھ ہی عرصے میں اسے اپنا لیا. سال 1979، میں کچھ واقعات نے سعودی عرب کی اجتماعی فضا ہلا کے رکھ دیا: انقلاب اسلامی ایران، سویت یونین کا افعانستان پر حملہ کرنا، ایک آرتھوڈوکس گروپ کا مکہ پر تسلط جمانا، اور اسرائیل اور مصر کے درمیان صلح نامہ پر دستخط. اگلے سال اقتصادی بحران نے بھی حالات کو تبدیل کیا. مقاومت کی شدید قلت کی وجہ سے اس ملک نے خود کو اس راستے پر چھوڑا جس کو وہابیت اور اخوان المسلمین کے سربراہوں کی حمایت حاصل تھی. جبکہ سعودی معاشرہ گہرے غم واندوہ کا شکار تھا، وہابی فورسز اور اخوان المسلمین کی مختلف شاخيں  ملکر جس اسلام پسند سعودیہ کو جہادانہ اسلام بنانا چاہتی تھیں، اسی کے مطابق ایک تشکل بنا لیا.

11 ستمبر کے حملوں کے بعد، سعودیہ عرب نے ایک بار پھر خود کو عمومی ملامت کے مرکز میں پایا. اجتماعی تبدیلیاں، تیل کی قیمت میں کمی، امریکی دباؤ، اور تمام مقامات کو ٹارگٹ بنانے کی دھمکی نے ریاض کو سیاسی دباؤ میں ڈالا جس کے نتیجے میں ایک معتدل اور روشن خیال اسلام کی ترویج ہوگئي.

اسی ترتیب سے، مقالہ نگار اور روشن فکر حضرات کو وہابیت پر تنقید کا موقع ملا، اور مذہبی پولیس کے اختیارات کم ہوگئے، اور داخلی بین المذاہب گفت وشنید کا آغا ہوا، بہت سارے طالب علم بیرون ملک چلے گئے، خواتین کے مسائل مورد بحث قرار پائے یہاں تک کہ کچھ بہتری آگئي، نئے مراکز اور تفریح گاہیں وجود میں آئیں، اور خارجی محققین آگئے.

اس بہترین زمانے کی اوج میں، اہل نظر نے "بہار ریاض" اور "وہابیت کے بعد" کے موضوعات پر بات شروع کی. کچھ ہی عرصے میں (در واقع، تھوڑی سی بہتری اور اقتصادی حالات اور سیاسی وضعیت روشن ہونے تر ہونے کی وجہ سے) حکومت اپنے سابقہ اصول کی طرف پلٹ آئی اور اپنے لبرل دروازوں کو بند کیا. سال 2011 کے بعد حالات یکسر بہتر ہوئے. سعودی عرب نے وہابیت کی مدد سے پیشگی ایک "ضد انقلاب" فکر کے وجود میں آنے سے پہلے کام شروع کیا. اسی مذہبی ادارے کے بجٹ میں افزائش کے ساتھ، سیکولر اور اسلام کی مخالفت خاموش ہوگئي. اس حکومت نے عمومی فضا میں آرتھوڈوکسی وہابیت کی نسبت  احترام اور اپنی حمایت کو ظاہر کیا. جسمانی سزاؤں کو مخالف عمل کرنے والوں اور شیعہ کے خلاف باتوں کی ترویج کی. اس کے مقابلے میں، علماء نے خواتین کو رائے کا حق دے دیا اور بعض حکومتی عہدوں پر بیٹھنے کی اجازت دی. لیکن یہ صرف ایک سبز بتی تھی.

جوان شہزادے کا سامنے آنا

سال 2015 سے، سعودی عرب میں قابل توجہ تبدیلیاں سامنے آئیں. صرف دو سالوں میں، شہزادہ بن سلمان اس کام میں کامیاب ہوا کہ کم از کم عارضی طور پر اپنے رقیبوں کو ہٹائے اور قدرت کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے. اس نے بیرونی اور  داخلی سازشوں سے مقابلہ اور قانونیت کسب کرنے کے ہدف کے حصول کی خاطر سلطنت میں تبدیلی کے لئے ہر  قسم کی فرصت سے استفادہ کیا.

دینی میدان بھی اس تبدیلی کی زد میں آگیا. حالانکہ مختلف لبرل اقدامات جو 35 سال بعد خواتین کو ڈرائیونگ اور سینما گھروں کو دوبار کھولنے کی اجازت دینے پر شامل تھے، 24 اکتوبر 2017 میں محمد بن سلمان نے "افراطی افکار" پر ایک وسیع حملے کا آغاز کیا اور انہیں "مٹانے" کا عہد کیا. اس کی نظر میں، یہ امر ملک کو یہ اجازت دے گا کہ وہ "معتدل اور برباد اسلام" کی طرف پلٹ آئے جو کہ "پورے جہاں اور دوسرے ادیان کے لئے قابل قبول ہو". لیکن ان کلمات اور حرکات  جن کے مطابق وہ وہابیت کا مکمل زوال چاہتے تھے، کی تفسیر کیسے کریں؟

سب سے پہلے، بن سلمان نے رضاکارانہ طور پر تعبیر اسلام معتدل _ جس میں تمام مسلم مکاتب (خصوصا متشدد ترین مکتب) خود کو جہادیوں سے جدا سمجھنے کے لئے (اسلام معتدل) سے متوسل رہیں_ سے استفادہ کیا. لیکن کبھی بھی یہ مشخص نہیں کیا کہ در واقع یہ اسلام کس طرح کے مضامین پر مشتمل ہے.

اس کے بعد، اس نے مزید وضاحت کے لئے، پر تلاطم سال 1979 (بڑی تبدیلیوں کا سال) اور تنظیم (اسلامی بیداری) کو افراط وشدت پسندی کے دو اصل منابع کے عنوان سے یاد کیا. سعودی حکمران سخت بحران کی وجہ سے، اخوان المسلمین کے ساتھ ہمکاری کرنے لگے. تنظیم کا مسئلہ اس ہمکاری کا نتیجہ ہے جو وہابی افکار اور اخوان المسلمین کے عملی شیوہ کی ترکیب سے وجود میں آیا. لیکن یہ ہو بہو وہی قضیہ ہے جب بن سلمان اخوان المسلمین اور اس کے تمام گروپس (خصوصاً جہادی) کو جڑ سے اکھاڑنے کی حامی بھرتا ہے، تو اسکی مخالفت ہوتی ہے. جو چیز وہابیت کو راضی کرتی ہے وہ ان کو ہر مسؤلیت سے بری الذمہ کرنا ہے.

خواتین کے امور کے مقابلے میں بھی، یہ بات فرصت طلبی اور ساخت کی محدودیت پر منعکس ہوتی ہے. خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا صرف ایک سیاسی معاملہ ہے جس کا شاہ عبد اللہ نے (2005_ 2015) میں آغاز کیا تاکہ اس کے زریعے عوام سے اس امر كى اور اپنی حمایت حاصل كرے اور مغرب کے نزدیک اپنی حکومت کا چہرہ بہتر بنا سکے. یہ ایک فرصت طلب جہت ہے. سکے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ سعودی خواتین بہت قابل اور باصلاحیت ہیں اور اقتصادی نگاہ سے انہیں کوشش ومحنت سے رکهنا بڑا نقصان ہے. اس سے پہلے، یہ خیال تھا کہ کچھ بیرونی طاقتیں خواتین کے توسط سے سنبھالی جائیں؛ خصوصاً مختلف خدماتی سروسز میں.

ایک بار پھر، وہابی سربراہان جلد ہی ان تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہیں. یہ علماء، عارضی منافع اور اپنے معنوی مقام کی حفاظت کی خاطر تیار ہیں کہ جو موارد دوسرے درجے کے ہیں انہیں خاص امتیازات دے دیں، جس طرح اس سے پہلے 1940 اور 1950 کی دہائیوں میں، خصوصاً ٹیلیویژن، سینما، تعلیم نسواں اور بیرونی افراد کا وجود اسی نہج کا تھا.

آخرکار اسی روش کو خواتین کے لائسنس کے لئے اپنائی گئی. اس جہت سے، چند بزرگ علماء نے گذشتہ چند سالوں ميں اظہار خیال کیا کہ خواتین ڈرائیونگ کا مسئلہ ایک مذہبی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ ایک اجتماعی مسئلہ تھا جس کو تبدیل کیا جا سکتا تھا. یہی مسئلہ لباس کے مورد میں بھی پیش آیا. ان میں سے ایک مشہور عالم نے اعلان کیا کہ عبا پہننا (کالا بلند لباس جو پورے بدن کو ڈھانپتا ہے) حقیقت میں ایک شرعی مسئلہ نہیں ہے.

سلطنت اور مذہبی اداروں کے درمیان مستقبل کے تعلقات کے بارے میں پیشگوئی آسان کام نہیں. ابھی تک، ایک تاریخی اتحاد جو ان دو شرکاء کو آپس میں جوڑتا ہے، زیر سوال نہیں آيا. یہ وہ چیز ہے جس پر محمد بن سلمان اور علماء دوسروں کی طرف سے سوالیہ نشان بننے نہیں دینگے.  حال حاضر کے  استبداد سے نپٹنے کے لئے یوں لگتا ہے کہ وہابی علماء ایک بار پھر حکومت کی طرف سے اخذ شدہ فیصلوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہونگے جیسا کہ کوئی چیز تبدیل ہی نہیں ہوئی.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ