وہابیت اور تاریخ میں تحریف /تحریفات کے نمونے نیوزنور:وہابیت کا اپنے سیاسی مقاصد تک پہنچنے کا ایک طریقہ تاریخی کتابوں کی تحریف اور ان میں رد و بدل کرنا ہے ۔ مکتب سلفی گری کا بانی ایک شخص ہے کہ جس کا نام احمد ابن عبد الحلیم ہے جو ابن تیمیہء حرانی دمشقی ( ۷۲۸ تا ۶۶ ق ) ہے وہ اس قدر گستاخ تھا کہ جس پر اس کے دور کے نامور سنی اور شیعہ علماء سے لے کر آج تک کے علماء شدید اعتراض کرتے ہیں اور اس وقت بھی اس کے باطل اور گمراہ کن افکار ،شیخ الاسلام کے نام سے امت اسلامی کے درمیان رائج ہیں ،اور اسی کے اقوال وہابیت کے عقائد کی بنیاد قرار پائے ہیں ۔ اس طرز فکر کا مروج محمد ابن عبد الوہاب ہے کہ جو پانچ سو سال کے بعد دنیا میں آیا تھا کچھ لوگ اس کے مرید بن گئے جو عبد الوہاب کی طرف منسوب ہو کر وہابیت کے نام سے مشہور ہوئے (۱۱۱۵ ۔ ۱۲۰۶ ) وہابیت نے عقاید کے بارے میں جو کچھ ابن تیمیہ لایا تھا اس میں کچھ بھی اضافہ نہیں کیا ،لیکن طرز عمل میں انہوں نے زیادہ شدت پیدا کر دی ۔

طریقہ کار ؛

 وہابیوں کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ناپاک مقاصد کو پہنچنے کے لیے ۔لالچ دینے ،ڈرانے دھمکانے اور قتل کرنے جیسے طریقے اختیار کرتے ہیں ،اسی طرح وہابیت کے بانیوں اور اس کی ترویج کرنے والوں نے تاریخ کی کتابوں میں تحریف کرنے کے لیے بھی مختلف طریقے اپنے ناپاک مقاصدتک پہنچنے کے لیے اختیار کیے،ان کی نظر میں صرف وہ اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمان ہیں باقی لوگ یہودیوں اور نصرانیوں کی صف میں قرار پاتے ہیں اور ان پر شرک و کفر کا الزام لگتا ہے ۔

 ان کا اپنے سیاسی مقاصد تک پہنچنے کا ایک طریقہ تاریخی کتابوں میں تحریف اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہے چونکہ وہ خشک تعصب اور فکری جمود کا شکار ہیں اس لیے وہ تاریخ کی واقعیت کو قبول نہیں کر سکتے لہذا وہ تاریخ کی واقعیتوں میں چھیڑ چھاڑ کر کے ان میں رد و بدل کرتے ہیں ۔

 اس تحریر میں تاریخ اسلام میں وہابیوں کی تحریفات کے چند نمونوں کی جانب اشارہ کیا جائے گا اس کے بعد فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑ دیں گے کہ وہ کس قدر حقیقت اور واقعیت سے دور ہو چکے ہیں اور جاہلی تعصبات کی ترویج میں مبتلا ہیں۔

 شمس الدین ذہبی ، اہل سنت کا ایک حافظ اور ابن تیمیہ کا نامور شاگرد کہتا ہے : یا لیت احادیث الصحیحین تسلم منک (نصیحہ الذھبیہ صفحہ ۷۷ ) اے کاش کتب صحاح کی حدیثیں تیرے اعتراضات سے بچ پاتیں !۔

 تحریفات کے نمونے

 ۱ ۔ ایک روایت کہ جس میں اس گمراہ فرقے نے چھیڑ چھاڑ کی ہے ،مشہور حدیث ثقلین ہے اور سند اور متن کے لحاظ سے شیعوں اور سنیوں کے درمیان متواتر ہے جس کے بارے میں پیغمبر اکرم ص نے فرمایا : انی تارک فیکم الثقلین اولھما کتاب اللہ۔۔۔ ثم قال : و اھل بیتی اذکر کم اللہ فی اھل بیتی ، (صحیح مسلم جزء ۱۲ ) احمد ابن مسلم نے مسلم میں ( مسند احمد جزء ۲۲ صفحہ ۳۲۴ ، ۲۵۲ ، ۲۲۶ ،اور جزء ۲۳ صفحہ ۱۸۰ )ابن حجر میثمی نے الصواعق المحرقہ میں ، (الصواعق المحرقہ ،صفحہ ۱۳۶) اور اہل سنت کے تمام منابع میں اس روایت کی طرح اہل بیتی کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔

 شیخ عبد اللہ بن باز (وہ سعودی عرب کی دعوت و ارشاد کا سربراہ تھا کہ جس کی وفات ۱۴۲۰ قمری میں ہوئی ہے ۔وہ مظاہروں کو بدعت سمجھتا تھا اور فلسطین اور لبنان جیسی قوموں کی تعریف اور امریکہ اور اسرائیل جیسوں کی مذمت کو گناہ سمجھتا تھا نیز اس نے ایران کے شیعوں کو سب سے خطر ناک شیعہ قرارد دیا ہے ) ایک چھوٹے سے جزوے میں (وہابیوں کا ایک تبلیغی شیوہ چھوٹے چھوٹے جزووں کی صورت میں کتابیں چھپوا کر نشر کرنا ہے جو مفت میں سب کو دی جاتی ہیں اور مطالعہ میں سہولت کی خاطر ان کو اس صورت میں چھاپتے ہیں )جس کو اس نے سال ۱۳۴۶ ھ،ش میں نشر کیا تھا اس جزوے کے صفحہ نمبر ۸ پر اس حدیث کو اس طرح نقل کیا ہے ،انہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خطب الناس یوم عرفہ فقال : انی تارک فیکم ما لن تضلوا ان اعتصمتم بہ کتاب اللہ و سنتی ، عبد الرحمن آل شیخ نے اپنی کتاب فتح المجید میں ایک روایت اسی مضمون کی نقل کی ہے ،قال  صلی اللہ علیہ و سلم: انی تارک فیکم ما ان تمسکتم بہ لن تضلوا کتاب اللہ (فتح المجید صفحہ ۳۵ )

 تحریف اس قدر آشکار ہے کہ بن باز اور آل شیخ کی نقل میں کہ جو دونوں ایک ہی مسلک سے ہیں فرق پایا جاتا ہے (کتاب اللہ و سنتی ) اور دوسری میں صرف (کتاب اللہ ) ذکر ہوا ہے ۔ ایک اعتراض کہ جو وہابیوں کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ شیعہ جوانوں کے درمیان شایع اور رائج ہے وہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ (کتاب اللہ و سنتی )اور (کتاب اللہ و عترتی ) میں کیا فرق ہے ۔

 ۲ ۔ مسندابن احمد کے قدیمی نسخوں میں آٹھ روایتیں ہیں کہ جن سب میں پیغمبر اور علی علیہ السلام کے بھائی ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور پیغمبر ص نے ان تمام ر وایات میں حضرت علی ع سے فرمایا ہے ،ھذا اخی ، (مسند احمد ابن حنبل ج ۶ صفحہ ۱۲۹ اور بعد والی طباعتوں میں یہ تمام روایتیں حذف کر دی گئی ہیں ،نیز آیہء شریفہء ، و انذر عشیرتک الاقربین ، کے ذیل میں حدیث انذار میں ارشاد ہوا ہے ؛ ایکم یوازرنی علی ھذا الاموال تکون بعدی اخی و وصیی و خلیفتی ، ۔

 بہت ساری کتب اہل سنت منجملہ طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے ،لیکن بعد میں کتاب صیاہ محمد (ص) کے مصنف محمد حسین ھیکل نے جملہء وصیی و خلیفتی کو حذف کر دیا ہے اور صرف کہا ہے : ھذا اخی و کذا و کذا،صرف طبری کی کتاب تھذیب الانار میں ان ھذا اخی و وصیی و خلیفتی فیکم  و اسمعوا لہ و اطیعوا ، کی عبارت موجود ہے (تھذیب الانار ۔ طبری ۔ جزء ۴ صفحہ ۵۹ )اور وہابیوں کی غفلت کی وجہ سے حذف ہونے سے بچ گئی ہے ۔س وقت بہت کم کتابیں یا کمپیوٹر ایسے ہیں کہ جن میں ،وصیی اور خلیفتی کی عبارت موجود ہو  ،انہوں نے صرف ھذا اخی و کذا و کذا کے جملے پر اکتفا کی ہے ۔

 اہل سنت عام طور پر اور وہابی خاص طور پر صحیح بخاری کو قرآن کے بعد اصح الکتاب مانتے ہیں  کہ اس کتاب کی پہلی طباعتوں میں اس کی جلد پر اصح الکتاب بعد القرآن آیا ہے چونکہ اس کتاب کی ان کے نزدیک بڑی اہمیت ہےاس لیے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس کتاب میں تحریف کی گئی ہے ۔

 ۳ ۔  ابن حجر عسقلانی (جو اہل سنت کے حافظ مطلق ہیں ) صحیح بخاری کی اپنی شرح ،فتح الباری میں کہتا ہے : و تقدم فی باب المعرفہ من کتاب المظالم  افتامن ا ن یغضب اللہ لغضب رسولہ فتھلکین ۔۔۔(ج ۹ صفحہ ۲۴۶ )

 یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ صحیح بخاری کے موجودہ نسخوں میں کتاب المظالم ،میں باب المعرفہ نام کا کوئی باب نہیں ہے ۔اب صحیح بخاری کا یہ حصہ کیوں تبدیل ہوا ہے ؟ چونکہ جو لوگ پیغمبر ص کے اہل بیت کو آزار و اذیت کا نشانہ بناتے تھے  توان پر آنحضرت غضبناک ہوتے تھے ۔

 ۴ ۔ ابن حجر میثمی مکی شافعی متوفی ۹۷۳ ھ ق الصواعق المحرقہ میں سورہء زخرف کی آیت نمبر ۱۲ کے ذیل میں کہتا ہے : و من ذلک ما اخرجہ مسلم و ابو داود و النسائی و ابن ماجہ و آخرون (المھدی من عترتی من ولد فاطمۃ ) علامہء متقی ھندی متوفی ۹۷۵ ق کہتا ہے : المھدی من عترتی من ولد فاطمہ (د م عن ام سلمہ ) ( کنز العمال ج ۱۴ ص ۲۶۴ ح ۳۸۶۶۲ ) وہ اپنی کتاب کی ابتدا میں کہتا ہے کہ ، م سے مراد صحیح مسلم ہے (ج ۱ ص ۶ ) محمد علی الصبیان اسعاف الراغبین (ص ۱۴۵ ) اور حمزاوی المالکی نے مشارق الانوار ( ص ۱۲ ) پر لکھا ہے کہ یہ روایت صحیح مسلم میں تھی ۔ افسوس کا مقام ہے کہ یہ روایت اس وقت صحیح مسلم کے اندر نہیں ہے اور ان شواہد کی بنیاد پر مذکورہ بالا روایت کو صحیح مسلم سے نکال دیا گیا ہے ۔

 ۵ ۔ صحیح مسلم میں تحریف کا دوسرا نمونہ ؛ حاکم نیشا پوری ،کتاب المستدرک علی الصحیحین میں کہتا ہے : حدثنا ابو جعفر عن ابی سعید الخدری (رض)قال : قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) :فاطمہ سیدۃ نساء اہل الجنۃ الا ما کان من مریم بنت عمران ، ھذا حدیث صحیح الاسناد و لم یخرجاہ انما تفرد مسلم باخراج حدیث ابن موسی عن النبی (ص) خیر النساء العالمین اربع ( المستدرک علی الصحیحین ج ۳ صفحہ ۱۵۴ ) حاکم صاحب نے کہا ہے : مسلم بن حجاج نے (جنہوں نے صحیح مسلم لکھی ہے ) خیر نساء العالمین اربع والی روایت کو بیان کیا ہے اور یہ ایسی صورت میں ہے کہ مذکورہ روایت اس وقت صحیح مسلم میں موجود نہیں ہے ۔

 ۶ ۔ سعودی عرب کے معروف مفتی عبد اللہ بن باز نے بخاری کی شرح پر ایک حاشیے میں لکھا ہے کہ پیغمبر کے ایک جلیل القدر صحابی نے بلال حبشی پر شرک و کفر کا الزام عاید کیا اس بنا پر کہ رسول خدا کے اس صحابی نے خلیفہء دوم عمر ابن خطاب کے دور میں قحط میں رسول اکرم ص کی قبر مبارک کی زیارت کی اور آنحضرت کو وسیلہ قرار دیا ۔( شرح بخاری ، جزء دوم ص ۹۵ مطبوعہ دار المعوفہ بیروت )

 ۷ ۔ علامہء آلوسی نے اپنی تفسیر میں سورہء نازعات کی آیہء ، فالمدبرات امرا کے ذیل میں علماء کی آراء کو ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس آیہء شریفہ سے مراد نفوس فاضلہ اور انبیاء اور اولیاء اللہ کی ارواح ہیں اور ان کو وسیلہ بنانے سے خدا انسان کی فریاد کو سنتا ہے اور جلنے والے کو نجات دیتا ہے اور ان کے وسیلے سے بارش برساتا ہے اور لوگوں کی مدد کرتا ہے اس کے بعد کہتا ہے یہ تمام کام اس شخص یعنی ولی کی کرامت کے سبب ہیں ۔

 وہابیوں نے ایک کمپیوٹر بنایا ہے کہ جس کے اندر بہت ساری تفسیریں ہیں جن میں سے ایک یہی تفسیر آلوسی ہے اور بد قسمتی سے سورہء نازعات میں جو اولیاء خدا سے توسل کی بحث تھی اس کو حذف کر دیا گیا ہے ۔

 ۸ ۔ کیا اہل سنت معاویہ کو مومنین کے ماموں کے طور پر مانتے ہیں ؟

 ابن کثیر اپنی تفسیر میں کہتا ہے : و ھل یقال لمعاویہ و امثالہ خال المومنین ؟ فیہ قولان و نص الشافعی (رض) علی انہ لا یقال ذلک  (تفسیر ابن کثیر دمشقی ۔ تفسیر سورہء احزاب ذیل آیہء ۶ ج ۳ ص ۲۷۷ ۔ دار الکتب الحدیث ۔الطبقۃ الاولی )

 لیکن چونکہ حقائق کا وجود محققین کے حق و حقیقت کی جانب مایل ہونے کا سبب بنتا ہے ،اس لیے شیطانی ہاتھوں نے اس مطلب میں بھی تحریف کر دی ،اسی لیے انہوں نے لفظ ،لا ، کو حذف کر دیا تا کہ یہ ظاہر کر سکیں کہ شافعی اس کے حق میں تھے ( وہی الطبقۃ الاولی ۔ جمعیہ  احیاء التراث  فی الکویت ۔ سایت مرکز نشر اعتقادات ۔  اس میں کتاب کے متن کے دونوں نسخون کی تصویر موجود ہے )

 ۹ ۔ وہابیوں کی دیگر تحریفات میں سے امام نووی کی کتاب اذکار  کی تحریف ہے کہ جو سعودی عرب کی وزارت اوقاف کے زیر نگرانی چھپی ہے ،اس میں ایک فصل ہے  جس کا نام ہے ؛ فصل فی زیارۃ قبر  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و اذکارھا ، لیکن جب اس کتاب کو دوباری چھپوایا تو اس پوری فصل میں یہ تحریف کی ( فصل فی زیارۃ مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و اذکارھا )

 ۱۰ ۔  شیخ عزامی کی کتاب فرقان القرآن کہ جو اسماء و صفات کی شرح ہے جس میں علمائے اہل سنت و الجماعت کے نظریات اور ان کی آراء کو امام ابوالحسن اشعری اور ابو منصور ماتریدی کے مسلک کے مطابق اکٹھا کیا گیا ہے اور اہل سنت کے علماء نے بھی اس پر مقدمے اور حاشیے لکھے ہیں ،وہابیوں نے اس کے پورے مقدمے اور حاشیے کو حذف کر دیا ہے ۔

 ۱۱ ۔ امام ذہبی کی کتاب کہ جس کا نام ، سیر اعلام النبلاء ہے اور اس میں بزرگ عرفاء اور اولیا ء اللہ کے حالات زندگی لکھے ہیں اور جس کی بیس جلدیں ہیں اس میں بھی تحریف کی گئی ہےاس طرح کہ اس کتاب کو ۱۳ جلدوں میں چھپوایا ہے اور اس کی آخری جلد کو کہ جس میں ابن تیمیہ کے حالات لکھے ہیں اور اس میں اس نے کہا ہے کہ : ابن تیمیہ ایک گمراہ اور گمراہ کرنے والا شخص ہے ،اس جلد کو انہوں نے چھاپا ہی نہیں ( ذہبی نے ابن تیمیہ کی جو رد کی ہے اسے ایک الگ جزوے میں چھاپا  ہے کہ جس کا نام نصیحۃ الذھبیہ ہے کہ جو کتابخانوں میں شایقین کی دسترس میں ہے )

 ۱۲ ۔ وہابیوں کی دیگر تحریفات میں سے تاریخ اسلام سے حضرت علی علیہ السلام کے نام کو مکمل طور پر حذف کرنا ہے ۔ سعودی عرب کے علماء اور حکومت کی طرف سے ایک تازہ اقدام کے تحت حضرت علی علیہ السلام کی حیات طیبہ کے بڑے حصے کو سعودی عرب کی تاریخی اور قابل رجوع کتابوں سے حذف کر دیا گیا ہے یہ کام کہ جس کا آغاز ۱۵ سال پہلے ہوا تھا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کہ سعودی عرب کی جوان نسل کے افراد تاریخی کتابوں میں حضرت علی علیہ السلام کے سائے تک کو نہیں دیکھ سکتے ۔

 اس رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ سعودی عرب کی کتاب فروشی کی دکانوں پر جتنی کتابیں ایسی تھیں کہ جن میں حضرت کے تاریخی اور ہمیشہ زندہ رہنے والے کارنامے ذکر تھے ان کو اکٹھا کر لیا گیا ہے اور جعلی حدیثوں کو ان کی جگہ رکھ دیا گیا ہے ۔

 وہابی علماء کی علی ع کے ساتھ دشمنی کہ جو سعودی عرب کی موجودہ حکومت کے آغاز سے برطانیہ کی مخفیانہ شرارطوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی اس وقت وہ واقعی تاریخی واقعات  اور ناقابل انکار حقایق میں تحریف کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔

 اس رپورٹ کی بنا پر تفسیر طبری جیسی کتابیں کہ جن میں مولائے متقیان کے کردار کی جانب اشارہ کیا گیا ہے ان سب کو سمیٹ کر اس کی جگہ نئے نسخے رکھے گئے ہیں کہ جن میں حضرت کا نام نہیں ہے ،یہ ایسی حالت میں ہے کہ یہ چیز سعودی عرب کے کتاب خانوں میں بھی راسخ ہو گئی ہے ،اور لبنان اور دیگر عرب ملکوں سے تاریخ اسلام کے موضوع کی کتابوں کو اس ملک میں بھیجا جانا سعودی عرب کے جاسوسی گماشتوں کی نگرانی میں ہوتا ہے ۔

 اسی طرح وہابیوں نے اس سلسلے کی چھوٹی تختیوں کو بھی سمیٹ لیا ہے اور ان کی جگہ نئی تختیاں  بازار میں رکھی گئی ہیں کہ جن میں آنحضرت کا نام نہیں ہے ۔ سعودی عرب کی حکومت حال میں شیعہ سایٹوں کو بھی بعض امریکی کمپنیوں کی مدد سے فیلٹر کرتی ہے ۔

 ترجمہ ؛ سید مختار حسین جعفری

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ