حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه

ابن ابی الحاج مالکی ؒ کا نبی کریم ﷺ سے توسل (مدد ، استعانت، استغاث کرنا) سلف کا عقیدہ بتا رہے ہیں اور صفحہ ۲۱۵ پر زیارتِ روضہ نبوی کے باب میں آدابِ زیارت پر بحث میں سورہ النسا کی ۶۴ ویں آیت کو بطور دلیل پیش کررہے ہیں، نیز دور یا نزدیک،موت و حیات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، آپ امت کے احوال پہ باخبراورگواہ ہیں،انبیائے کرام تک نے آپ سے توسل کیا (یعنی مدد چاہی ) ۲۱۶ص۔اور آپ وسیلہ آدم بھی ہیں (نوٹ:کسی سلف نے اسے غیراللہ سے مدد کہہ کر کفر شرک بدعت نہیں کہا ماسوائے خوارج کے)۔(المدخل لابن الحاج مالکی ، ج ۱، صفحات ۲۱۵،۲۱۶ طبعہ قدیم مصر)۔

0937.png

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ