حوالہ :  (کتاب المدخل ، جلد ۱، صفحہ ۲۱۹ طباعت قدیم مصر)۔

زیارتِ روضہ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، ان کی قبرِ مبارکہ ، منبر اور جہاں انہوں نے تشریف فرمایاسے تبرک کے حصول کا ثبوت۔ یا محمدکہنے کا ثبوت۔۔ کتاب المدخل لابن الحاج مالکی ؒ۔ ص ۲۱۷ جلد ۱۔ طبعہ قدیم مصر۔ یا محمدکہنے کا ثبوت۔۔ کتاب المدخل لابن الحاج مالکی ؒ۔ ص ۲۱۷ جلد ۱۔ طبعہ قدیم مصر

ترجمہ: جس وقت زائر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرے ۔ اگر وہ طاقت رکھتا ہو کہ نہ بیٹھے تو اسکے لیئے نہ بیٹھنا اولیٰ ہے اگر وہ کھڑا رہنے سے عاجز ہو تو اُسے ادب و احترام سے بیٹھنا جائز ہے۔ زائر کے لیئے اپنی حاجتیں اورگناہوں کی معافی طلب کرنے میں یہ ضروری نہیں کہ ان کو اپنی زبان سے ادا کرے۔ بلکہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں دل میںحاضر کرلے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حاجات و ضروریات کا علم خود زائر سے زیادہ ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اُس پر خود اسکی نسبت زیادہ رحم والے اور اسکے اقارب سے زیادہ شفقت والے ہیں۔ چنانچہ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ میرا حال اور تمہارا حال پروانوں کے حال کی طرح ہےکہ تم آگ میں گرتے ہو اور میں تم کو کمر سے پکڑ کر آگ سے بچانے والا ہوں۔ اور یہ نبی علیہ السلام کے حق میں ہر وقت اور ہرلحظہ میں ہے۔ یعنی نبی علیہ السلام سے توسل کرنے میں آپ کے جاہ کے وسیلہ سے حاجتیں مانگنے میں اور جس شخص کے لیئے بذاتِ خود نبی علیہ السلام کی زیارت مقدر نہ ہو اسے چاہیے کہ ہروقت اپنے دل میں زیارت کی نیت کرلے اور یہ سمجھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوں اور نبی علیہ السلام کو بارگاہِ الٰہی میں شفیع لایا ہوں جس نے آپ کو بھیج کر مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔

عکس سندی.jpg

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ