اندراج کی تاریخ  8/24/2019
کل مشاہدات  561
حکومتوں اور افراد نے پوری تاریخ میں  آخر الزمان اور قیامت کی نشانیوں کے متعلق ابحاث سے سوء استفادہ کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مباحث ایک طرح کی پیش گوئی ہیں اور ان کے دقیق مصادیق مشخص نہیں ہیں۔بعض لوگوں نے اپنے  ذاتی مفادات کی خاطر روایات کو جعل کرکے یا موجودہ روایات کی تاویل کرکے لوگوں کو اپنی طرف جلب کیا  اور اپنی حکومت کےلئے قانونی جواز فراہم کیا۔
حوالہ :  میگزین سراج منیر شماره 16

 

تکفیری گروہ  داعش نے اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کا استعمال کیا ہے ، خاص طور پر خلافت کی واپسی اور دوسرے مرحلے  میں مہدومت سے مربوط نعرے۔[4] وہ اپنے معاشرتی امور اور نعرے بازی کا اہتمام  اس طرح سے کرتے ہیں کہ جو  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ  سے  آخر ازمانے کےمتعلق منقول روایات کے مطابق ہو تاکہ  وہ اپنے لئےضروری شرعی جواز حاصل کرسکیں اور  اور اپنے قتل اور لوٹ مار کی توجیہ کرسکیں۔ یہ گروپ ان روایات کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیٹلائٹ چینلز ، ویب سائٹس اور میگزینس جو وہ خود منتشر کرتے ہیں، اپنے اقدامات پر لاگو کرتا ہے۔ یہاں پر کچھ ابحاث کی طرف اشارہ کیا جائے گا جو انہوں نے مہدویت کے بارے میں بیان کی ہیں۔

  1. 1. ظہور کی نشانیوں پر داعشی اعتقاد

بلاد الرافدین (Mesopotamia)میں القاعدہ کی شرعی  انجمن«اللجنة الشرعیة لتنظیم القاعدة فی بلاد الرافدین»جو کہ داعش کا بنیادی مرکزہے، نے اپنے اعتقادنامہ کی ایک شق میں یہ بیان کیا ہے: قیامت کی نشانیاں جو پیامبر صلی الله علیه وآله وسلم کی طرف سے ہم تک  پہنچی ہیں ہم ان پر اعتقاد رکھتے ہیں،اور یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے لے کر قیامت تک سب سے بڑا فتنہ،فتنہ دجال ہے؛ اور اسی طرح ہم  عیسیٰ علیہ السلام کے آنے اور انصاف کی بحالی اور خلافت کی واپسی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ [5]

اس سلسلے میں داعش نے جهیمان بن سیف العتیبی کی کتاب "الفتن و اخبار المهدی و نزول عیسی و اشراط الساعه"  کا حوالہ دیا ہے اور اسے قبول کیا ہے۔.[6]

2۔1                ۔دابق کے نام سے رسالہ

رمضان المبارک 1435 ھ ۔ق۔ میں ۔ خلافت اسلامی کے اعلان کے بعد ،داعش نے ایک الیکٹرانک میگزین شائع کرنا شروع کیا جس  کے ابھی تک(جمادی الاولی 1436) چھ شمارے شائع ہوچکے ہیں۔ دابق  کے نام سے شائع ہونے والے اس رسالے میں مختلف امور پر داعش کے مؤقف کا احاطہ کیا جاتا  ہے۔ اس رسالے کا ایک اہم مسئلہ ان احادیث کے حوالہ جات ہیں جو " فتن و اشراط الساعه " کے بارے میں لکھے گئے ہیں۔ ان احادیث کے علاوہ رسالہ کا نام  بھی نبی اکرم صلی الله علیه و آله و سلم  سے منسوب ایک حدیث  کی  یاد تازہ کرتا ہے۔ اس حدیث میں ہے: عَنْ أَبِی هُرَیرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلی الله علیه وسلم- قَالَ: «لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی ینْزِلَ الرُّومُ بِالأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقَ فَیخْرُجُ إِلَیهِمْ جَیشٌ مِنَ الْمَدِینَةِ مِنْ خِیارِ أَهْلِ الأَرْضِ یوْمَئِذٍ؛[7] قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک رومی اعماق یا دابق پر حملے نہیں کریں گے۔ پھر مدینہ کی ایک فوج ، جس میں زمین کے بہترین لوگ شامل ہونگے، رومیوں کے خلاف اٹھیں گے۔دابق  ترکی کی سرحد سے 5 کلومیٹر دور شمالی حلب کا ایک قصبہ ہے۔یہ شہر اعزاز ریجن کے مضافات  میں ہے۔ اور اس  کے صحرا میں ،عثمانی فوج سلطان سلیم کی قیادت میں  اورقنصو ہ الغوری کی قیادت میں ممالیک کی فوج کے درمیان 1516 میلادی کو ایک بہت بڑ ی جنگ ہوئی۔اس جنگ میں عثمانی کامیاب ہوگئے اور یہ کامیابی عرب علاقوں میں داخل ہونے اور ایک بہت بڑی عثمانی سلطنت کے معرض وجود میں آنے کا سبب بنی۔[8] لیکن "الاعماق" ، جو حدیث میں مذکور ہے ، سے مراد ترکی کے انطاکیہ  کا ایک خطہ ہے جو دابق کے قریب ہے۔ اس میں ایک مشہور اور بڑی بندرگاہ ہے۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ داعش اپنے رسالے کا رسمی نام دابق رکھ کر یہ کوشش کررہی ہے کہ وہ  مسلمان لشکر جو  رومیوں کے خلاف  دابق میں جنگ لڑے گا ، وہ ہم ہیں ۔اس رسالے میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان جنگ کا  رسالے کے مختلف شماروں میں بار بار ذکر  کرنا ، اس ادعا کو مذید مضبوط کرتا ہے.[9]

3۔1 ۔داعشی خلیفہ کے القاب کا راز

داعش اپنے رسالوں،[10] سائٹوں  [11]اور اپنی باتوں [12]میں اپنے خلیفہ کو «ابوبکر البغدادی القرشی الحسینی» کے نام سے یاد کرتی ہے۔بعض موارد میں اس کے ساتھ لفظ «الهاشمی» کا بھی اضافہ کرتی ہے[13]۔ ان القاب میں سے ہر ایک منابع اسلامی میں ایک خاص معنی رکھتا ہے۔ اس کا اصل نام ابراهیم عواد ابراهیم علی بدری سامرایی، اور لقب  ابودعاء ہے۔لیکن کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے  اس کو یہ القاب«ابوبکر»، «القرشی»، «الهاشمی»، و «الحسینی» ایک خاص مقصد کے تحت دئے ہیں اور یہاں پر ہم ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

ابوبکر:یہ نام اس کو اس لیئے دیا ہے تاکہ یہ  خلافت خلفاء کی یاد دلائے،لہذا کہا گیا کہ ان کے عقیدے کے مطابق  آخر زمانے میں خلافت خلفاء کی روش زندہ ہوگی۔ اس نام کے ذریعے وہ چاہتے ہیں  کہ آخر زمانے میں اپنے خلیفے کو خلافت اسلامی کو زندہ کرنے والے کے طور پر متعارف کروایں۔

القریشی: شیعوں کے نزدیک ضروری ہے کہ امام اور خلیفہ قریش سے ہو اور ہاشمی ہو، جیسا کہ امام علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے«اِنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ قُرَیشٍ غُرِسُوا فِی هَذَا الْبَطْنِ مِنْ هَاشِمٍ لَا تَصْلُحُ عَلَی سِوَاهُمْ وَ لَا تَصْلُحُ الْوُلَاةُ مِنْ غَیرِهِم»؛[14] آئمہ قریش سے ہیں اور ان کی جڑ بنی ہاشم سے ہے،بنی ہاشم کے علاوہ کوئی اور امامت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔اہل سنت کے منابع میں  بہت ساری ایسی روایات موجود ہیں جو کہ قیامت تک خلیفہ کے قریشی ہونے کو ضروری سمجھتی ہیں،بعض روایات  جو کہ مسند احمد میں نقل ہوئی ہیں : «الأئمة من قریش»؛[15] یعنی آئمہ قریشی ہیں؛ اور حدیث صحیح مسلم ہے کہ  پیامبر خدا صلی الله علیه و آله و سلم نے فرمایا: «لاَ یزَالُ هَذَا الأَمْرُ فِی قُرَیشٍ مَا بَقِی مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ»؛[16]جب تک دو لوگ زندہ ہیں خلافت ہمیشہ قریش میں ہی ہوگی۔ نووی اس حدیث کی شرح میں اجماع کا ادعا کرتا ہے اور کہتا ہے: «هذا الحدیث وأشباهه دلیل ظاهر علی أن الخلافة مختصة بقریش، لا یجوز عقدها لأحد غیرهم، وعلی هذا انعقد الاجماع فی زمن الصحابة فکذلک من بعدهم»؛[17]  یہ حدیث اور اس طرح کی دوسری احادیث صاف دلالت کرتی ہیں کہ خلافت قریش کے ساتھ مختص ہے؛غیر قریش میں اس کو قرار دینا جائز نہیں ؛ اس بات پر صحابہ کے زمانے میں اور ان  کے بعد اجماع اور اتفاق نظر ہے۔

اگرچہ بعض لوگوں نے اس کو ضروری نہیں سمجھا ہے لیکن اہل سنت کے مشہور کی نظر میں  قریشی ہونا لازم ے۔پس داعشی خلیفہ کےلئے قریشی لقب  کی ایک تاریخ ہے اور ممکن ہے  یہ خلافت کو قانونی جواز فراہم کرنے کےلئے اور  ان روایات سے اس کی تطبیق کےلیے ہو۔

الحسینی: شیعہ  اور اہل سنت کی روایات میں ذکر ہے کہ ایک شخص آخر زمانے میں ظہور کرے گا  اور زمین کو عدل سے بھر دے گا اور وہ امام حسین علیہ السلام کی نسل سے ہوگا۔یہ بات شیعوں میں متواتر اور متفق علیہ ہے،

جیسے پیامبر خدا صلی  الله علیه و آله و سلم سے حضرت علی ع کی حدیث ہے،  فرمایا: «لَاتَذْهَبُ الدُّنْیا حَتَّی یقُومَ رَجُلٌ مِنْ وُلْدِ الْحُسَینِ یمْلَؤُهَا عَدْلًا کمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً .[18] قیامت برپا نہیں ہوگی یہاں تک کہ امام حسین علیہ السلام کے فرزندوں میں سے ایک مرد قیام کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح سے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔اہل سنت میں بعض  کا اعتقاد ہے کہ امام مہدی علیہ السلام امام حسن  علیہ السلام کی نسل میں سے ہونگے، لیکن ان کے منابع میں کچھ ایسی روایات  موجود ہیں  جو دلالت کرتی ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام  حضرت امام حسین علیہ السلام  کی نسل سے ہیں۔ جیسے حدیث عبدالله بن عمرو: «یخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ الْحُسَینِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَلَوِ اسْتَقْبَلَتْهُ الْجِبَالُ لَهَدَمَهَا وَاتَّخَذَ فِیهَا طُرُقًا»؛[19] یعنی امام حسین علیہ السلام کے فرزندوں میں سے ایک مرد مشرق سے ظہور کرے گا اور اگر پہاڑ بھی ان کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو  ان کو وہ برباد کردے گا اور  راستہ ہموار کرے گا۔

اسی طرح پیامبر خدا ص کی حدیث ہے : اگر دنیا کی عمر   کا ایک  سے زیادہ دن نہ بچا ہو، خدا اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا  کہ میرے فرزندوں میں سے ایک مرد جو میرا ہمنام ہوگا ،آئے گا ، سلمان کھڑا ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ آپ کے فرزندوں میں سے کس کی نسل سے ہوگا؟ فرمایا: میرے اس فرزند سے؛ اور اپنے ہاتھ سے حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا .[20]

ان روایات پر توجہ کرنے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ممکن ہے داعشیوں نے اپنے خلیفے کو حسینی لقب اس لیئے دیا ہو تاکہ وہ  مذکورہ روایات سے اس کی تطبیق کرسکیں  اور ممکن ہے  لوگ یہ سمجھیں کہ یہ وہی مہدی ہے اور  اس کی مدد کی  زیادہ خواہش کریں۔

4۔1۔ داعش کا جھنڈا

داعش کے جھنڈے کا رنگ کالا ہے جس کے اوپر سفید رنگ سے لکھا  ہوا ہے«لا اله الا الله محمد رسول الله».اس پرچم کو اس طرح سے ڈیزائن کرنا بھی داعشی تفکر کے دو بنیادی رکن یعنی خلافت اور مہدویت سے ہماہنگ ہے۔[21] چونکہ:

الف:پیامبر اسلام صلی  الله علیه و آله و سلم کی حکومت  کے جھنڈے کا رنگ  کالا تھا، جس طرح سے روایات میں ذکر ہے: «عن عبد الله بن عباس أنه قال کانت رایة النبی، صلی الله علیه وسلم، سوداء، ولواؤه أبیض»؛[22] یعنی عبد الله بن عباس کہتا ہے کہ نبی کا پرچم سیاہ تھا اور اس کا لواء سفید.[23]

پرچم کے اس ڈیزائن کے ساتھ  وہ چاہتے ہیں  کہ حدیث کے مطابق خود کو  پیامبر صلی  الله علیه و آله و سلم کے  جانشین اور اس کی راہ و روش کو جاری رکھنے والوں کے طور پر متعارف کروادیں؛ (کانت الخلافة علی منهاج النبوة.[24] (جیسا کہ انہوں نے مختلف سائٹس پر  ان احادیث کا حوالہ دے کر ان روایات میں کچھ اضافہ کیا ہے ، انھوں نے کہا ہے کہ: "رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جھنڈا اس کے دور میں کالا تھا جس پر" لا الہ الا اللہ لکھا گیا تھا اور اس وقت اسلامی خلافت کا پرچم وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم اور اس کی راہ روش کا تسلسل ہے۔" [25]

ب: بعض حدیث کے منابع میں کچھ ایسی روایات ہیں جو کہ روایات  «رایات السود»؛ کے نام سے مشہور ہیں  یعنی کالے جھنڈے۔ان روایات میں  ظہور کے بعد کالے جھنڈوں کے اٹھائے جانے والی خبر کے بعد مسلمانوں  کو وصیت کی گئی ہے کہ وہ جلدی سے ایسے افراد کی مدد کو نکلیں جنہوں نے یہ جھنڈے اٹھاِئے ہوئے ہیں کیونکہ  منجی انہی لوگوں کی مدد سے  جہان کو  عدل سے بھر دیں گئے۔عبداللہ بن مسعود پیامبر صلی  الله علیه و آله و سلم  کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:ہم وہ خاندان ہیں کہ جن کےلئے خدا نے آخرت کا انتخاب کیا ہے نہ دنیا کا ، میرا خاندان میرے بعد جلاوطنی،دباو اور  دربدری کا سامنا کرے گایہاں تک کہ مشرق کی طرف سے  کالے پرچم اٹھائے جایں گے،وہ حق مانگیں گے لیکن انہیں حق نہیں دیا جائے گا ، وہ حق کےلئے لڑیں گے اور اس میں کامیاب ہوجایں گے۔  تم   اور تمہاری نسلوں میں سے جو   بھی  ان پرچموں کو دیکھے گا ، اسے چاہئے کہ وہ میرے خاندان کے امام  کی نصرت کےلئے نکلے  چاہے کچھ بھی ہو چونکہ یہ  ہدایت کے پرچم ہیں اور وہ اپنے پرچم  میرے خاندان کے ایک ایسے مرد کے  حوالہ[26] کریں گے جو کہ میرا ہمنام ہوگا  اور جو زمین کو  عدل و انصاف سے بھر دے گا۔

یہ روایت اور اس طرح کی اور روایات اسی  مطلب کے ساتھ شیعہ منابع میں بھی ذکر ہیں.[27] کہا جاسکتا ہے: اس قسم کے جھنڈوں کو ڈیزائن کرنے کے ساتھ انہوں نے یہ چاہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم اور خلافت اسلامی سے منسوب کرنے کے علاوہ خود کو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کےلئے زمینہ فراہم کرنے والوں کے طور پر پیش کریں۔

5۔1۔خلافت داعشی کا منصوبہ، خلافت اسلامی کا تسلسل

داعش نے اپنے پروگرام میں ،مہدویت کو خلافت سے ملا دیا ہے،مہدوت سے مربوط روایات  کے ساتھ خلا فتِ خلفاء کی بحالی اور واپسی کی بات کی ہے۔اپنی کتا بوں میں وہ دو   مطالب «خلافت و اشراط الساعه» پر زیادہ زور دیتے ہیں ،وہ بعض روایات جوکہ منابع اہل سنت میں آخر زمانے میں خلافت کی بحالی کے متعلق ہیں، ان سے استدلال کرکے اپنے آپ کو خلافت کو زندہ کرنے والوں کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔یہ روایت مسند احمد میں اس طرح سے نقل ہے۔

نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ ہم رسول خدا کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے۔ ابو ثعلبہ خشنی  آئے اور بشیر بن سعد سے کہا ، کیا آپ کو امراء کے بارے میں نبی کریم  کی حدیث یاد ہے؟حذیفہ نے کہا میں نے حفظ کی ہے اور کہا رسول خدا نے فرمایا:" نبوت تمہارے درمیان ہے، جب تک خدا چاہے،اور جب چاہے تو وہ اٹھا لیتا ہے،اس کے بعد خلافت ہے جوکہ نبوت کی راہ و روش پر ہے، جب تک خدا چاہے اور وہ جب چاہے اٹھا لیتا ہے، اس کے بعد سخت حکومت ہے، جب تک خدا چاہے، اور وہ جب چاہے  اسے اٹھا تا ہے، اس کے بعد جبری حکومت ہے، جب تک خدا چاہے، اور جب وہ چاہتا ہے اسے اٹھا تا ہےاس کے بعد خلافت پیامبر کے طریقے پر ہے،پس خاموش ہوگئے۔داعش نے  اپنی  مختلف ویب سائٹس پر اس حدیث کا حوالہ دے کر اپنی حکومت کو آخر زمانے کی خلافت کے طور پر متعارف کروایا ہے۔[29]

6۔1۔  جنگ موعود کے فاتحین

داعشی اعتقاد رکھتے ہیں کہ آخر زمانے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک جنگ ہوگی۔وہ اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرکے اس جنگ کے فاتح بننا چاہتے ہیں  اور خلافت اسلامی کے منصوبے کے ساتھ،اپنے آپ کو اسلام کی نشانی کے طور پر متعارف کروارہے ہیں جو کہ اس جنگ میں  کامیاب ہونگے۔انہوں نے اپنے اس اعتقاد کےلئے  کچھ احادیث کا حوالہ دیا ہے جو کہ اسلامی منابع میں  موجود ہیں، ان میں سے بعض:

1۔1۔ پیامبر خدا نے قیامت  کی نشانیوں میں سے  6 نشانیاں  گننے کے بعد فرمایا :پھر تمہارے اور اصفر(روم) کے بچوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوگا جس کی وہ خلاف ورزی کریں گے اور 80 جھنڈوں کے ساتھ تمہارے اوپر لشکر کشی کریں گےاور ہر پرچم تلے 12000 ہزار سپاہی ہونگے۔

2۔2۔ خالد بن معدان نے رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم سے  نقل کیا ہے: آپ رومیوں سے صلح کریں گے اور  وہ پیچھے  سے تم پرحملہ کریں گے  ، پس  آپ ہتھیار ڈال دیں گے اور لوٹ مار کریں گے۔ پھر آپ "مرج  ذی تلول "میں قیام کریں گے۔ آپ مسلمان رومیوں کے ساتھ پرامن صلح کریں گے۔ آپ اور وہ دشمن کے خلاف متحد ہوکر اس کے ساتھ لڑیں گے۔ آپ آخر کار جیت جائیں گے۔ آپ کو بہت سارا مال غنیمت مل جائے گا۔ اس کے بعد آپ گھر کو روانہ ہوجائیں گے۔یہاں تک کہ آپ " مرج ذی تلول" پہنچیں گے[31]، وہاں پر توقف کریں گے۔ایک نصرانی صلیب اٹھائے گا  اور کہے گا صلیب غالب آچکی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک غصے میں آئے گا ۔صلیب توڑ دے گا۔مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان جنگ ہوگی اور خدا مسلمانوں کے ایک گروہ کو شہادت سے نوازے گا۔ اس وقت روم آپ  کو  فریب دے گا ،80 جھنڈوں کے نیچے اور ہر  جھنڈے کے نیچے 12000 سپاہی  آپ کی طرف حرکت کریں گے۔[32]

میگزین دابق کے چوتھے شمارے کے  صفحہ نمبر 56 میں اس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہےان احادیث میں مذکور پیش گوئیاں  پوری ہونے کو ہیں ۔ وہ نام نہاد مغربی اینٹی داعش  اتحاد کو  جو  کہ پھیل رہا ہے ان پیشگوئیوں کے تحقق کےلئے مقدمہ سمجھتے ہیں ۔ ان احادیث کے مطابق ، رومی 80 جھنڈوں  کے نیچے جمع ہونگے  اور ہر پرچم کے تلے 12 ہزار سپاہی  جمع ہوں گے ، اس طرح سے  "مسلمانوں" کے خلاف لڑنے والی فوج کی تعداد 960  ہزار افراد کے قریب پہنچ جائے گی۔

نیز ، رسالہ دابق  کے شمارہ نمبر 2 کے  آخری صفحے میں   فتوحات پر زور دینے اور اپنے علاقے کو وسعت دینے  پر زور دینے کے بعد ،  ان فتوحات کی تصدیق اور جواز کے لئےحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث لائی گئی ہے: «تَغْزُونَ جَزِیرَةَ الْعَرَبِ فَیفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ فَارِسَ فَیفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَیفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَیفْتَحُهُ اللَّهُ»؛[33] اس روایت میں بھی کہ جسے یہ  اپنے اوپر تطبیق کرتے ہیں اپنے آپ کو آخر زمانے کی جنگوں کا فاتح سمجھتے ہیں۔

7۔1۔ جہان  پر حکومت کی آرزو

دابق  میگزین کا شمارہ 5 اسلامی  خلافت کی توسیع کے بارے میں ہے ، اس  شمارےکے پیش لفظ (ص3.) میں صحیح مسلم سے ایک حدیث نقل کی گئی ہے۔رسول خدا نے فرمایا : خدا نے میرے لئے زمین کو اکٹھا کیا ، اور میں نے  اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا۔ اور میری قوم مشرق سے مغرب تک کی سرزمین پر حکومت کرے گی - جسے میں نے دیکھا تھا۔ "[34] اپنی  فتوحات کے چکر میں  اس روایت کو نقل کرنے کا مقصد اس  مطلب کے پڑھنے والے کو یہ بتانا ہے  کہ وہ مشرق اور مغرب پر حکومت کریں گے۔ اسی طرح ، خلافت کی توسیع سے متعلق ابحاث کو بیان کرنے کے بعد  اور اسی شمارے  میں اپنی   فتوحات کا ذکر کرنے کے بعد ، آخری صفحہ میں  نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے جو کہ سنن ابی داود میں ذکر ہوئی ہے۔ عَنِ النَّبِی صَلَّی اللهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ لَمْ یبْقَ مِنَ الدُّنْیا إِلَّا یوْم لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِک الْیوْمَ حَتَّی یبْعَثَ فِیهِ رَجُلًا مِنِّی - أَوْ مِنْ أَهْلِ بَیتِی - یوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِی، وَاسْمُ أَبِیهِ اسْمُ أَبِی یمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا، وَعَدْلًا کمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا.[35]اس حدیث میں ، داعشی خلافت کی توسیع کے متعلق اگلی ابحاث میں ، اس بات کا اشارہ مل سکتا ہے کہ یہ گروہ نجات دہندہ کے ظہور کے لئے زمینہ فراہم کررہا ہے۔

نتیجه

گروہ داعش کے پروپیگنڈے ، سلوک اور احادیث فتن و اشراط الساعہ سے  ان کے استدلال کے طریقے کو مد نظر رکھ کر، اس نتیجے تک رسائی ممکن ہے  کہ وہ اپنے آپ کو ظہور منجی کےلئے زمینہ فراہم کرنے والوں کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔آخر زمانے سے مربوط اخبار کو اپنے مفاد کے لئے تاویل کرتے ہیں ۔   لہذا ، یہ ضروری ہے کہ مسلمان غیر اسلامی تکفیری گروہوں پر اسلامی روایات کا اطلاق کرنے کے خطرے سے آگاہ ہوں اور ان روایات پر عمل کر کے ان گروہوں سے ملحق نہ ہوں۔

 

 


 

حوالہ جات

  1. ۱. نهج البلاغه، تعلیقه: صبحی صالح.
  2. ۲. ابراهیم نژاد، محمد، داعش، قم: دارالاعلام لمدرسة اهل البیت (ع)، 1393.
  3. ۳. ابن بابویه، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا علیه السلام، تهران: نشر جهان، چاپ اول، 1378.
  4. ۴. . ابن حنبل، أبو عبد الله أحمد بن محمد، مسند أحمد، تحقیق: شعیب الأرنؤوط، عادل مرشد، وآخرون، بی جا: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولی، 1421.
  5. ۵. . البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، بیروت: دار الفکر، 1401.
  6. ۶. الترمذی، محمد بن عیسی، سنن الترمذی، تحقیق: عبد الرحمان محمد عثمان، بیروت: دار الفکر، 1403.
  7. ۷. . الحاکم النیشابوری، ابو عبد الله، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق: مصطفی عبد القادر عطا، بیروت: دار الکتب العلمیة، الطبعة الأولی، 1411.
  8. ۸. حسنی، سید بن طاووس، الملاحم والفتن، قم: نشر صاحب الأمر، الطبعة الاولی، 1416.
  9. ۹. السِّجِسْتانی، أبو داوود سلیمان بن الأشعث، سنن أبی داوود، المحقق: محمد محیی الدین عبد الحمید، صیدا- بیروت: المکتبة العصریة، بی تا.
  10. ۱۰. الطبری، احمد بن عبد الله، ذخایر العقبی، القاهره: مکتبة القدسی، 1356.
  11. ۱۱. . طریحی، فخر الدین، مجمع البحرین، تهران: مرتضوی، چاپ سوم، 1416.
  12. ۱۲. عتیبی، جهیمان بن سیف، الفتن وأخبار المهدی ونزول عیسی علیه السلام وأشراط الساعة، بی جا: بی تا.
  13. ۱۳. کرْد عَلی، محمد بن عبد الرزاق بن محمَّد، خطط الشام، دمشق: مکتبة النوری، الطبعة الثالثة، 1403/1983.
  14. ۱۴. . مجازی، اکرم، مشهد النشاقات والتخالفات والمرجعیات الایدیولوجیه للجماعات الجهادیه، بی جا، 2007.
  15. ۱۵. مجله الکترونیکی دابق، شماره 1-5.
  16. ۱۶. المروزی، أبو عبد الله نعیم بن حماد، کتاب الفتن، تحقیق: سمیر أمین الزهیری، القاهرة: مکتبة التوحید، الطبعة الأولی، 1412.
  17. ۱۷. النووی، أبو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف، المنهاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، الطبعة الثانیة، 1392.
  18. ۱۸. النیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، بیروت: دار الجیل، بی تا.
  19. ۱۹. . alsunnah.info
  20. ۲۰. . betrol.blogspot.com
  21. ۲۱. . mnbr.info
  22. ۲۲. . tawhed.ws

 

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ