مشرق وسطی میں شدت پسند مذہبی گروہوں  کی نشو ونما  ،  اور عمومی طور پر اسلامی ممالک میں ،پچھلی دو دہائیوں میں ، کافی قابل دید رہی ہے۔ البتہ یہ بین الاقوامی تعلقات (حکومتوں اور ممالک کے مابین طاقت کے توازن پر مبنی) کی منطق سے دور تھی۔ یہ مکاتب فکر جنہیں  سلفی کہا جاتا ہے مختلف گروہوں اور دستہ بندیوں میں تقسیم ہیں جیسے سلفی تقلیدی،اصلاحی اور جہادی۔ گذشتہ دو دہائیوں میں ، مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے علاقوں  میں غیر سرکاری ادارے موثر رہے ہیں۔ابن تیمیہ کی تعلیمات ، ان علاقوں میں بین الاقوامی طاقتوں کی موجودگی ، اسلامی بیداری سے متعلق پیشرفت اور شام و عراقی بحران جیسے عوامل نے ان گروہوں کو زیادہ قابل مشاہدہ بنایا ہے ، خاص طور پر جہادی تکفیری گروہوں کو۔ اس مضمون کے پہلے حصے میں ، ہم ان گروہوں کو ان کی اصلیت ، شناخت ، سرگرمی کا دائرہ  اور ان کے ہدف میں درجہ بندی کریں گے۔ اور آخر میں جو مطالب بیان ہوچکے ہیں کچھ مزید جزئیات و تفصیلات کے ساتھ ان کا تحلیل و تجزیہ کریں گے۔
حوالہ :  مجله حبل المتین، شماره نهم (ویژه داعش)، زمستان 1393، صفحه 55-74 
مصنف :  یوسف باقری،تہران یونیورسٹی میں  سیاسی علوم میں پی ایچ ڈی کا سٹوڈنٹ

 

مقدمہ

سلفیت کی پیدائش کے بارے میں  بات کرنے سے پہلے ہمیں لفظ "سلف" پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سلف گزشتہ اور گزشتگان کے معنی میں ہے؛ لیکن خود سلفیوں کی نظر میں سلف سے مراد ہر گزشتہ و گزرا ہوا سلف نہیں ہے۔ ان کے خیال میں ، سلف وہ لوگ ہیں جو اسلام کی پہلی تین صدیوں میں رہتے تھے۔اور اپنے عقیدے کی صحت اور اعتبار کو پیامبر )ص (کی اس حدیث   کہ فرمایا: : «خیر القرون قرنی ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم »؛ کی طرف نسبت دیتے تھے۔یعنی" "صدیوں میں سب سے بہترین میری صدی ہے ، اور میرے بعد اگلی صدی کے لوگ اور اگلی صدی کے لوگ۔"اس بناء پر،ان کا ماننا ہے کہ جو لوگ اس حدیث کے مطابق پہلی تین صدیوں میں رہتے تھے ، وہ نیک اور اچھے لوگ تھے اور پیامبر )ص (نے ان کی تایید کی ہے اور انہیں کو سلف کہتے ہیں لیکن  چونکہ یہ حدیث شیعوں کے روائی منابع میں  صحیح شمار نہیں ہوتی لہذا شیعوں کے عقیدے کے مطابق پہلی تین صدیوں کے انسانوں کو دوسری صدیوں کے انسانوں پر برتری دینے کی  کوئی وجہ موجود نہیں۔پس  ان تین صدیوں کی بھی تاریخی حقیقت واضح ہوگئی۔ پس معلوم ہوا کہ سلف کا معنی آباءو اجداد اور گزشتہ صدیاں نہیں،بلکہ اسلام کی پیدائش کی پہلی تین صدیاں ہیں۔اس بناء پر،اوپر والی حدیث کے مطابق، معانی مذکور لغت میں سلف کے معنی کو بیان  کرتے ہیں۔ سلفیت کی پیدائش کے بارے میں جو  کچھ بیان ہوا اس سے یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ یہ عقیدہ ایک دفعہ ہی وجود میں نہیں آیا بلکہ آہستہ آہستہ وجود میں آیا ہے۔. کیونکہ پوری اسلامی تاریخ میں سلفی نظریات کے مطالعے کے دوران ہم پاتے ہیں کہ ان عقائد میں سے کچھ پہلی ، دوسری اور تیسری صدیوں میں اور کچھ ساتویں اور آٹھویں صدی میں  یعنی ابن تیمیہ کی زندگی کے دوران شروع ہوئے تھے۔. جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے وہ سلفی کہلاتے ہیں۔ اس عقیدہ کے آثار دوسرے خلیفہ، مروان بن حکم ، معاویہ اور کچھ دوسرے صحابہ کے افکار اور احادیث میں مل سکتے ہیں(توکلی، 1389: 23). مثال کے طور پر،عمر بن خطاب اور عائشہ سے نقل ہوا ہے،یہ جزئی ہے کلی نہیں؛ اسی طرح سےخلیفہ دوم سے ایک روایت نقل ہوئی جو اس نے پیامبر )ص (سے نقل کی ہے،جس میں وہ فرماتے ہیں:میت پر گریہ کرنا جائز نہیں،چونکہ یہ اس کےلئے عذاب کا سبب بنتا ہے۔یہ روایت صحیح بخاری میں  نقل ہوئی ہے۔. اسی بنا پر ، سوگ کے وقت مسلمانوں کو رونے سے منع کیا گیا ہے۔اتفاق سے،اسی کتاب میں عائشہ سے ایک اور  حدیث نقل ہوئی ہے جس میں وہ کہتی ہیں جو جملہ بیان ہوا اس کا مطلب یہ ہے،جب لوگ گریہ کررہے ہوں اسی دوران میت  کو بھی عذاب ہوتا ہے، اس کا یہ معنی نہیں کہ لوگوں کے گریہ کے سبب میت کو عذاب ہوتا ہے۔ایک اور روایت میں بھی آیا ہے کہ پیامبر اسلام )ص (ایک جگہ سے گزر رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ لوگ ایک یہودی عورت پر گریہ کررہے ہیں۔پیامبر اسلام )ص (نے فرمایا: "اس پہ عذاب نازل ہورہا ہے اور وہ لوگ بھی اس پر رو رہے ہیں"۔ جو مطالب بیان ہوئے ان کی روشنی میں پتہ چلتا ہے فرض کریں اگر  اس پر عذاب ان لوگوں کے گریہ کی وجہ سے ہو،پھر بھی یہ مسلمان کو شامل نہیں  چونکہ یہ غیر مسلمان کے بارے ہیں ہے ۔اس کے علاوہ،عائشہ مزید کہتی ہیں:قرآن کریم میں خدا وند فرماتاہے: «لاتزر وازره وزر اخری، "کوئی کسی دوسرے کا  گناہ برداشت نہیں کرے گا۔" اس بناء پر سلفی عقائد کی رگیں بھی کتب روائی میں موجود ہیں اور ان کے مخالفین کے عقائد بھی۔توسل کے مسئلے میں جسے سلفی قبول نہیں کرتے،صحیح بخاری میں روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے  بارش کےلئے پیامبر اکرم)ص ( کے چچا عباس سے توسل کیا تھا۔لیکن مروان بن حکم  نے توسل کو قبول نہیں کیا اور اس سے منع کرتا تھا۔صحیح میں آیا ہے کہ لوگوں نے جب دیکھا بارش نہیں ہورہی،انہوں نے عائشہ سے مدد مانگی،اس نے ان سے  کہا: پیامبر)ص (  کے گھر کی چھت میں  تھوڑا سوراخ کریں،جب اس پر روشنی پڑے گی تو بارش ہوجائے گی۔اسی طرح ہوا۔ اس سے یہ پتہ چلتا  ہے پیامبر )ص (کی وفات کے  کئی سال بعد بھی لوگ ان سے توسل کرتے تھے۔اگرچہ تاریخ میں اس کی رگیں موجود تھیں لیکن ساتھ مخالفین بھی موجود رہے ہیں،آہستہ آہستہ مسلمانوں کے درمیان غلط عقاید جنم لیتے ہیں اور منع حدیث جیسے واقعات تاریخ میں رونما ہوجاتے ہیں۔ بنی امیہ کے زمانے میں  جعلی حدیثیں گھڑی جاتی ہیں اور ان کی نشر و اشاعت شروع ہوجاتی ہے تاکہ لوگ اہل بیت کی شناخت حاصل نہ کرسکیں  اور ان سے متوسل  نہ ہوسکیں۔سلفی فرقوں کے مذہبی افکار کے بیان  کے ضمن میں،، ہم تکفیری  مذہبی گروہوں کی اقسام کے بارے میں مزید تفصیل فراہم کریں گے۔

1۔سلفیہ

کلی طور پر سلفی ایسا گروہ ہے جس کے بنیادی ترین مفاہیم«توحید»مختلف قرائتوں کے ساتھ،دینداری سلف صالح  کی سمجھ اور ان کے عمل کے تناظرمیں، بعض مواقع میں دین کو سمجھنے کے عمل میں نقل سے تمسک اور عقل کی مخالفت، جاہلیت اور اسلام کے مابین فرق کےمسئلے سے فائدہ اٹھانا اور اس طرح کے دیگر موارد۔سادہ زبان میں اس طرح سے بیان کیا جاسکتا ہے ایک سلفی  یہ کوشش کررہا ہےکہ صدر اسلام کے  لوگوں کی روایات اور نظریات کی طرف لوٹ کر ، ایک ایسا خالص مذہب متعارف کروائے  جو آج کی دنیا میں انسانوں کی مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرسکتا ہو۔ایک سلفی معتقد ہے چاہے اصول دین ہوں ،فروع دین  ہوں یا احکام، ان کی معرفت حاصل کرنے کےلئے نیک گزشتگان کی طرف رجوع کرنا چاہیے اس  بنا پر ایک سلفی کا اصلی اعتقاد قرآن و سنت کو حجت ماننا ہے اور عقل منابع حجت کا حصہ نہیں۔اپنے شک کو  دور کرنے کےلئے جو کچھ قرآن اور سنت نے بیان کیا ہے،اس کا انکار یا اس کی تاویل نہیں کی ،عقل کا کام  یہاں پر احادیث اور روایات  پر محض گواہ بننا ہے اور ان کی توثیق کرنا ہے  نہ اس سے زیادہ۔البتہ، متون اسلامی جیسے قرآن و سنت اور پہلی صدی کے سلف صالح کے عقائد بھی عقل کی پیروی پر زور دیتے ہیں۔ مشکل یہاں پر ہے کہ کیوں سلفیت اس بات کی طرف متوجہ ہوگئی کہ عقل کو  منابع حجت سے حذف کردیا  جائے۔

اس گروہ کا ایک اور اعتقاد یہ ہے کہ "عمل میں صحابہ اور تابعین کی پیروی کرنی چاہیے چونکہ ان کی "فہم"حق و باطل کا مقیاس اور میزان ہے"اور یہاں پر وہ حدیث نبوی سے استدلال کرتے ہیں،فرمایا: «خیرُ القرون قرنى، ثمّ الذین یلونهم ثم الذین یلونهم...: بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں،اس کے بعدوہ لوگ ہیں جو ان کے بعد آیں گے،پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آیں گے». (ذوالفقاری، 1392: 225(

جن موضوعات میں سلفیوں پر شدید تنقید ہوتی ہے ان میں سے ایک موضوع یہی ہے کہ کس وجہ سے لفظ قرآن کا ترجمہ سو سال کیا ہے، جبکہ عربی زبان اور دیگر قرینے اس موضوع کی تایید نہیں کرتے۔ یہ مسئلہ بھی مبہم ہے کہ  گزشتگان یا سلف صالح کو قبول کرنے کی صورت میں  اگر تفاسیر،تعابیر یا احکام میں اختلاف ہوجائے تو سلف صالح کی کونسی روش پر عمل کیا جائے؟ وہ بھی اس حال میں کہ وہابی  ان مسائل میں عقل کی مداخلت اور اسی طرح فلسفی مبانی کو قبول نہیں کرتے بلکہ قرآن کے ظاہر اور تحت اللفظی تفسیر  کو قبول کرتے ہیں۔اور یہی مسئلہ بہت سارے  لوگوں کے مطابق  ان کی نظریاتی اور عملی غلطیوں کا سبب بنا ہے۔جب صفات الہی کی بحث ہوگی تو  نتیجے میں ایک سلفی  خدا کےلئے زمان و مکان کا قائل ہوگا جوکہ شیعوں کے  اور بہت سارے اسلامی فرقوں کے عقائد کے مطابق ایک باطل عقیدہ ہے(توکلی، 1389: 28(

سلفی فکر کا سب سے اہم اصول توحید ہے۔سلفی توحید کے مختصات کو سمجھنے کےلئے بھی   سلف کی طرف  رجوع کرنے کا قائل ہے۔اس بناء پر، توحید در عبادات کے باب میں بعض اعمال کو  توحید کے منافی اور شرک سمجھتا ہے۔سلفیوں کا صالحین کی قبور تعمیر کرنے  کی مخالفت اور اسی طرح  نیک لوگوں کے قریب ہونے کی کوشش کرنا بھی اسی باب سے ہے۔صالحین کی قبور تعمیر کرنے کی مخالفت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کو ایک طرح کی پرستش سمجھتے ہیں۔سلفی بزرگوں  میں سے ایک اس باب میں کہتا ہے:ہر کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ نذر کرنا ہماری حاجتوں کو خدا کی طرف لیجانے کا سبب ہے،اس کی وجہ سے تنگدستی دو ہوجاتی ہے،روزی ورزق میں اضافہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے شہرمحفوظ رہتے ہیں تو یہ ایسا مشرک ہے جو کہ واجب القتل ہے۔سلفیوں کے اس  اشکال کے   جس کے مخاطب شیعہ ہیں،کئی جواب  ذکر ہوچکے ہیں ،دلیل عقلی سے لے کر دلیل نقلی تک۔ان کا خلاصہ یہ ہے کہ صالحین کی قبور کے پاس جاکر ان سے متوسل ہونا   ان کی پرستش نہیں ہے،بلکہ ان کو خدا کے قریب ہونے کےلئے وسیلہ قرار دینا ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ جو کہ قابل توجہ ہے،جسے سلفی بہت سیریس لیتے یں مسئلہ بدعت ہے۔ سلفیوں کا اعتقاد ہے کہ "جو بھی عمل رسول اللہ کے زمانے میں موجود نہیں تھا  اور انجام نہیں دیاجاتا تھا،بعد میں بھی اسے انجام نہیں دینا چاہیے"  اسی اعتقاد کی بنیاد پر بہت سارے طور طریقے اور اعمال کو  بدعت قرار دیتے ہیں۔بدعت کا مطلب  نئی چیز بنا نا ہے جو کہ  دین میں  جائز نہیں  چونکہ  اس کی کوئی الہامی اعانت نہیں ہے۔ اس تناظر میں، سلفی بہت سارے اعمال کو جو کہ حضور کے زمانے میں نہیں تھے یا اصلاممکن نہیں تھا کہ ان کے زمانے میں موجود ہوں،بدعت سمجھتے ہیں۔ریل گاڑی  کو بدعت ماننا  ان نمونوں میں سے ایک ہے۔(سیدنژاد، 1390: 155(

سلفی نہ صرف اعتقادات اور احکام فردی میں بلکہ احکام اجتماعی میں بھی سلف  کی طرف رجوع کرنے کے قائل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ صدر اسلام  کے نظام خلافت کی طرف واپس لوٹنے کا  آئڈیا یعنی "پچھلی حیثیت"کی طرف لوٹنے کا آئڈیا جلد ہی اسلامی ریاست کے قیام کا سبب بنا ۔ وہ چیز جس نے اس تبدیلی کو تیز تر بنا دیا، ترک سیکولر ازم پر روایتی رد عمل کا ایک مجموعہ ، مغربی طاقتوں کی جارحیت اور خطرہ، اور فلسطین کے بحران کے  نتائج تھے کہ جس پر اسرائیلی قبضے کے بعد ،عربی-اسلامی تحریکوں کےلئے ایک بنیادی اور مرکزی مسئلہ بنا ۔اسی فریم ورک کے اندر البتہ قرآن کی بعض آیتوں کی  سخت تفسیروں کے ساتھ ، جہاد سلفیوں کے ہاں  ایک اہم اور جدید عمل بن جاتا ہے۔ایسےمسائل کہ دوسرے مسلمان فرقے  ان پر اس طرح کا اعتقاد نہیں رکھتے۔(ذوالفقاری، 1392: 225(

البتہ سارے  سلفی اس طرح کا اعتقاد نہیں رکھتے۔کہا جاتا ہے بڑے بزرگ جیسے سید جمال الدین اسد آبادی،نام سے سلفی تھے لیکن عقیدے میں نہ۔ مطلب یہ کہ وہ بھی یہ تمنا رکھتے تھے کہ مسلمان ابتدائے اسلام کی نیک سیرت کی طرف پلٹیں۔ در عین حال ، کچھ موجودہ عرب دانشور اس عقیدے کو برقرار رکھتے ہیں ، لیکن وہ اپنے عقائد میں سلفی نہیں ہیں۔بات بالکل واضح ہے اگرچہ طول تاریخ میں ہم سلفیت کےلئے کسی نیک ہدف کے قائل ہوجایں لیکن اس فرقے کے اصول اور طریقے کچھ اس طرح کے ہیں جنہوں نے بڑے خظرات جیسے دہشت گردی کو جنم دیا ،دہشت گردی جو عالمی برادری کےلئے خطرہ ہے۔ البتہ اس سے پہلے اسلام اور اسلامک سوسائٹی کےلئے۔اگلے صفحوں میں  مختلف سلفی دھڑوں کا ذکر کریں گے اور ان پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔

1ـ 2. سلفیه سنتی تقلیدی

سلفیوں کی یہ فکری شاخ سب سے پہلے بنی۔سلفیہ تقلیدیہ کےلئے جو چیز سب سے  مہم ہے وہ اسلامی ملک کے  حاکم کی اطاعت ہے ۔ان کی نظر میں اطاعت کی یہ قسم واجب ہے۔اسلامی حکومت پر تنقید کرنا ،مسلمان حاکم کے خلاف احتجاج کرنا  اور ان کے خلاف قیام کرنے کو  ایک  قسم کا دین سے خارج ہونا سمجھتے ہیں۔ یہ فکری سلسلہ حاکم اور اسلامی حکومت کے ساتھ صبر سے پیش آنے کو واجب سمجھتا ہے اگرچہ اسلامی قوانین کے نفاذ میں ،احکام اسلامی کے مطابق عمل نہ کرتا ہو۔ اس بنیاد پر ہم  یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اس رجحان میں قدامت پسند ذہنیت ہے۔ان کی ساری پریشانی شریعت کو فرد میں نافذ کرنے کے سوا کچھ نہیں اور وہ سیاسی اور معاشرتی اصلاح کے خواہاں نہیں ہیں۔ان کا نعرہ ہے«من السیاسة ترک السیاسة» اور حاکم کی اطاعت پر تاکید کرتے ہیں اور حکمرانوں کے فساد کو لوگوں کے فساد کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔قرضاوی نے ان کو «التیار الظاهری» نام دیا ہے۔کبھی یہ لوگ تقلید کی نفی اور باب اجتہاد کے کھلے ہونے کی بات کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کا مشن مسلمانوں کے ایمان کو پاک کرنا ہے۔ان کی دینی ادبیات میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفا ظ سنت اور بدعت ہیں اور بعض مواقع میں شرک اور کفر ہیں۔اس مکتب کی سب سے بڑی نمائندہ تحریک وہابیت سعودیہ ہے جو کہ ایک مدت تک غیر مستحکم سیاسی طاقتوں کا دور پیدا کر نے میں موفق ہوئی جیسےافغانستان میں طالبان حکومت  ۔ اور وہ دنیا کے کچھ حصوں میں سلفی سوچ پیدا کرنے میں بھی کامیاب ہوئی۔

(مصاحبه با جودکی، 1392: 15( .

 

2ـ2. سلفیه اصلاحی

اس فکری رجحان کی پہلی پریشانی مسلمانوں کے سیاسی اور معاشرتی امور ہیں۔اس شاخ کی معرفت شناسی میں  عقل کی عقلانیت کا  اپنا ایک خاص مقام ہے۔یہاں تک کہ بہت سارے  معاصر اصلاح طلب اس  دائرے میں جمع ہوگئے ہیں اور اپنا نام سلفیہ رکھا ہے۔ اسی طرح سے روایتی اور تقلیدی سلفیوں کے ساتھ اس تحریک کا کوئی اچھا تعلق نہیں ہے۔ اس تحریک نے مسلم دنیا میں سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر تحریک بنائی ، کئی مراحل میں اس نے ترقی کی اور اس کے بعض شعبوں نے پر تشدد کاروائیاں شروع  کردیں۔(هی وود، 1379: 495(

پہلی اصلاحی تحریک مذہبی سیاسی رہنماؤں جیسے شوکانی (1173 ـ 1250 ھ) ، صالح بن محمد فیلانی (1218 ھ) ، محمد احمد ، مہدی سوڈان  کے نام سے مشہور(1302 ہجری) ، محمد ابن علی السوسی (1276 ھ) کے نام سے رقم ہوئی۔. مسلم دنیا میں اصلاح پسندی کی دوسری لہر کے ظہور کے ساتھ 13 ویں صدی ہجری کے آخر سے ، جن میں سب سے زیادہ مشہور سید جمال الدین اسد آبادی (1314 ہجری) اور شیخ محمد عبدہ (1323 ھ) ہیں ،تقلید ستیزی اور نص  عقل کے ہمراہ نص کی طرف رجوع کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی  اور جلد ہی   نص کو  عقل پر غلبہ حاصل ہوا اور سلفیت کے ساتھ مذہبی اصلاح پسندوں کو جوڑنے کی بنیاد فراہم کی۔ اسد آبادی اور عبدہ ، قرآن و سنت کو سمجھنے پر زور دینے کے باوجود اس پوزیشن میں نہیں  تھےکہ انہیں سلفیوں میں شمار کیا جاسکتا  کیونکہ وہ کار کرد  عقل   اور  جدید تقاضوں کے ساتھ دین کے رابطے کے قائل تھے؛ لیکن  عبدہ کا شاگرد،محمد رشید رضا (1354ق)ایک سلفی اصلاح طلب کی نشانی تھا۔سلفیوں کے مشہور عقائد میں سے جیسے تقلید کی نفی، گزشتگان سے  توسل کی نفی ایک طرف سے اور دوسری طرف سے اجتماعی فعالیت،جہاد اور امر بمعروف پر اس کا  تکیہ کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ وہ سلفی افکار سے وابسطہ تھا۔عبدہ کے بعد والی نسل میں بحث و مباحثے کا موضوع دینی اصلاحات اور سیکولرزم کی مخالفت تھا ،مصر میں اس کا ایک نمایاں رہنما رشد رضا اور برصغیر میں  ابو الکلام آزاد (1305-179 ہجری) تھا۔. ان کے ہم عصر ، جمال الدین قاسمی (1332 ہجری) شامی علماء میں سے ایک ہیں جو اسدآبادی کے نظریات کے اصلاح پسندوں اور پیروکاروں میں شامل تھے۔تقلید کی نفی کے ضمن میں ،ان کا رجحان واضح طور پر سلفی تھا۔ عبدہ اور رضا کی طرح اس نے بھی تفسیر لکھنا شروع کردیا ۔اپنی کتاب اصلاح المساجد من البدع و العوائد بھی اس نے بدعت کی مخالفت میں لکھی ہے۔ سیاسی - مذہبی تحریک اخوان المسلمون بھی حسن البنا(1949) کے توسط سے مصر میں 1928 میں معرض وجود میں آئی۔اخوان المسلمین نے اپنے اصلاحی پروگرام کی بنیاد دینی تعلیمات کی روشنی میں تین اصولوں پر رکھی:1۔زندگی کے تمام امور میں اسلام کی جامعیت۔2۔قرآن و احادیث نبوی پر تاکید اسلامی افکار کے اصلی منبع کے عنوان سے ۔3۔اسلامی مقررات اور احکام  کا تمام زمانوں اور مکانوں میں قابل اجراء ہونا۔حسن البنا خود کو سید جمال،عبدہ اور رشید رضا کا مجموعہ سمجھتا ہے۔ جو چیز بناء کی باتوں میں قابل ذکر ہے وہ نقد خشونت  اور دینی آرمانوں کو عملی جامہ پہنانے کےلئے اس کی نفی ہے اور اس کے خیال میں طاقت کا استعمال بہت محدود اور خاص شرائط کے تابع ہونا چاہئے۔بنا کی نظر میں  طاقت کے تین اہم چہرے ہیں: ایمان اور اعتقاد کی طاقت (جسے مذہب کی طاقت سمجھا جاسکتا ہے)  یکجہتی اور اتحاد کی طاقت (جسے نرم طاقت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے)۔ ہتھیاروں اور زور کی طاقت (جسے سخت طاقت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے)۔اس کے خیال میں ترجیح پہلی طاقت کو ہے اس کے بعد دوسری اور پھر تیسری۔ اس  لحاظ سے وہ سلفیت کی ایک الگ تصویر کھنچتا ہے  جو کہ مودودی ماڈل کے برخلاف ،تشدد کے اصول پر مبنی نہیں ہے۔ اس کے برعکس ، اصول اولیہ کی طرف لوٹنے کےلئے اس نے  اصلاحاتی  اور تدریجی پالیسیاں تجویز کیں جن میں متعدد سیاسی اور عدم تشدد کی سرگرمیاں شامل تھیں۔تنظیم اخوان المسلمین کا قیام اور اس کی سیاست کی پیروی،اس سلفی فکر کی تایید ہے کہ جو  دو طریقوں"بنیاد پرست اسلام پسند مودودی" اور "سیکولر سوچ"  جو کہ اسلام کی مکمل "روحانیت" اور سیاست سے دوری  چاہتے تھے، کے درمیان جگہ بناسکی ۔البتہ حسن بنا جہادی رجحانات بھی رکھتے تھے اور  «الجهاد» رسالے میں اس نے فلسفہ جہاد کو بیان کیا ہے جس کا ہدف بنیاد پرستوں کو جواب دینا تھا۔اس کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں جہاد کا فلسفہ عدم تشدد ہے جس کا ہدف  اپنا دفاع کرنا، امن و سلامتی کا قیام ،خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا  دینااور مظلوموں کی امداد  کرنا ہے،یہ باتیں تشدد  کی نسبت رحمت کو ہمارے لئے روشن کرتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا  کہ اسلامی جہاد سیاسی و معاشرتی عمل کے میدان میں کسی بھی طرح سے تشدد (اور اس وجہ سے دہشت گردی) کے استعمال اور فروغ کی حمایت نہیں کرتا ہے۔جو کچھ بیان ہوا کہ جس پر بنا نے تاکید کی ہے اس  کی علمی روش میں بھی واضح نظر آتا ہے۔ وہ اخوان المسلمین کے ساتھ معاشرتی عوامل کی باہمی مداخلت پر یقین رکھتا تھا۔یہی سے معلوم ہوتا ہے کہ  وہ تعلیمی اور تربیتی طریقوں کو  تشدد اور زور  زبردستی کے طریقوں پر ترجیح دیتا تھا۔لیکن مرحوم عنایت کا یہ خیال ہے کہ خود بنا اس اصل کا پابند نہیں تھا اور اس کے نظریات کے پھیلنے کے بعد اوراس کے پیروکاروں میں اضافے کے بعد اس  کے متشدد طریقوں کو استعمال کرنے کا نظریہ بدل گیا تھا۔ ادھر ، فلسطین اور عرب اسرائیل تنازعہ کے مسئلے نے بنا کی عدم تشدد والی ابتدائی پالیسی کو  ریڈیکل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

محمد الغزالی ، عبد السلام  یاسین ، سلیم الاوا ، اور طارق البشاری کا ذکر  اعتدال پسند سلفی کے عنوان سے آگے ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔ حقیقت میں ،  ، اس فکر کا سب سے اہم پھل سلفیزم کو "بنیاد پرستی" سے نجات دلانا ہے - خاص طور پر مودودی اور قطب کی بیان کردہ تعلیمات  سے۔ غزالی ، جو دینی اور علمی  تحقیقات سے متاثر ہے ، نے ایک اعتدال پسند عمل کو مذہبی اسلامی ریاست کے قیام سے جوڑ ا ہے۔ اگرچہ وہ مذہب اور سیاست کے درمیان رابطہ میں یقین رکھتے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ اس طرح کی دین شناسی تب ہی ممکن ہے جب موجودہ زمانے میں  اصول دین کی  کوئی نئی اور مناسب تفسیر بیان کی جائے۔ اسی طرح سے ان کی تحقیقی نگاہ حکومت سے مشاورت،تشدد کا  انکار اور جمہوریت کے قیام پر ختم ہوگئی۔خلاصے کے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ تقلید کی نفی اور اجتہاد کے دروازے کا کھلا ہونا اس فکری سلسلے کی اہم خصوصیات میں  سے شمار کیا جاسکتا ہے۔

3ـ2. سلفیه صوفی

تقریبا  جب سے ابن عبد الوہاب نے اپنی پالیسیاں مذہبی تصورات کے تناظر میں  شروع کردیں ،شمال مشرقی افریقہ اور برصغیر پاک و ہند میں بھی ایک اور فکری تحریک ابھری جس نے سلفی اور صوفی افکار کو ملاکر اپنے افکار کو تفصیل سے بیان کیا۔ اس گروہ کے اہم افکار یہ ہیں: شریعت اسلامی کی مکمل پیروی،مجذوبیت طریقت،شیعوں کی مخالفت اور سیاسی سماجی اصلاح۔ البتہ کچھ دیگر سلفی تقاریر نے صوفی سلفیوں کے بہت سارے افکار اور اعمال کو بدعت شمار کیا ہے اور بزرگان کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ نقشبندی تحریک کے ممتاز حامی شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات 1176 ھ) کی سربراہی میں ہندوستان میں اس فکر نے سلفیت کا ایک خاص رجحان پیدا کیا جو مذاہب کے رد اور اجتہاد کی فتح میں ملوث ہونے کے باوجود زیادہ محتاط تھا۔ (الموصلی 2004: 160)۔ "دہلوی نظریہ ہندوستان میں برقرار رہا ، اور برصغیر میں اس کے پیروکار ، جیسے حکیم بیلگرامی ، محمد عبد الرحمن مبارک ، اور صادق محمد خان قنوجی   نےاس کے  راستے کو جاری رکھا۔ سماجی نقل و حرکت کی ایک اور اہم مثال شمالی قفقاز میں تقریبا 1200  ہجری مقاومت کرنے والی"مریدیسم"  کی تحریک ہے۔    جو کہ  اسلامی ریاست کی تشکیل اور روسی ریاست کی خودمختاری کا مقابلہ کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اس تحریک کی اصل ایک صوفی تحریک ہے جو 12 ویں صدی ہجری / 18 ویں صدی کے آخر میں شیروان میں شروع ہوئی تھی ، اور نقشبندیوں کی طرح ، اس نے قانون کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ 1820 کی دہائی میں ، ان نظریات کو داغستان میں فروغ دیا گیا ۔ اور دیندار لوگوں نے اپنی زمین کو غیر ملکیوں سے بچانے کے لئے بڑے جہاد کا آغاز کیا۔ اس تحریک کے نتیجے میں داغستان میں امامت نامی ایک دینی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔  قاضی محمد  1830 میں اس کے سربراہ بنے ، حمزت بیک (1832 (1834) اور شیخ شام (1859 18 1834) داغستان کی امامت میں اس کے جانشین بنے۔ولگا تاتاریوں کی طرف سے عبدالنصیر قورصاوی (1227ق) جیسے لوگوں کو بھی یاد کیا جانا چاہیے جو کہ صوفیانہ  سرزمین میں سلفی گری کے دعوے دار تھے۔ (السماک، 1384، ج2: 21(

محمد مکی ابن عزوز (1334ق تونس کے ایک مفکر تھے جس نے اسنبول،ترکیہ ہجرت کی ،صوفی مشرب کے بزرگان میں سے تھے۔اس نے لوگوں کو قرآن اور اور احکام سے  آشنا کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔اسی طرح اس نے ایک کتاب لکھی«عقیده الاسلام» تاکہ اسلامی عقائد کو اچھے انداز میں بیان کرسکے۔مراکش میں بھی کچھ لوگ جیسے ابو شعیب دکالی (1357ق)، محمد طیب انصاری (1363ق) و مختار سوسی (1383ق) سر گرم سلفی صوفی ہیں۔

 

4ـ2. سلفیه جهادی

بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ جہادی سلفی کا ابتدائی نقطہ سید قطب (1966 190 1906)  ہے۔جمال عبدالناصر کا  قتل اس  مکتب کے پیروکاروں  کے خود کش حملوں کا نقطہ آغاز ہے۔ اخوان المسلمون کے رہنماؤں کی پھانسی نے ان کی آگ کو تیز کردیا۔ سید قطب ، نظریاتی طور پربہت ہی  بنیاد پرست تھے۔.  «معالم فی الطریق»کے عنوان سے ان کا کام اس خاص قسم کی انتہا پسندی کی علامت ہے کہ جس میں انہوں نے تصورات اور علامتوں کا تذکرہ کیا  ہےجیسے بیسویں صدی کی لاعلمی کا دور اور جہالت کے شہر۔ اگلے مرحلے میں ، اس نے اسلامی اور غیر اسلامی  سرزمینوں کے مسلمانوں  کی تکفیر کرنا شروع کردیا جس کی وجہ مغرب کی جمہوریت کو قبول کرنا ہے اور وہ اس کو ایک قسم کی  ماڈرن جہالت سمجھتا ہے اور واحد حل جسے وہ دیکھتا ہے وہ ہجرت ، جہاد اور اس کے ساتھ پرتشدد محاذ آرائی ہے۔ لہذا ، اس سلفی گروہ کے سب سے بنیادی شعار بدعنوان حکمرانوں سے محاذ آرائی ، طہارت پر زور ، قرآن پر عمل پیرا اور نیک لوگوں کی سنت ، استعمار سے آزادی اور اس طرح کی دوسری باتیں ہیں۔(سید نژاد، 1389: 105(

یہ گروپ سلفیوں کے پہلے دونوں گروپس کو رجیکٹ کرتا ہے اور اس کا ماننا ہے  سنتی اور اصلاح طلب  سلفیوں کے افکار کسی صورت میں ہدف مطلوب تک  نہیں پہنچتے۔پہلی تکفیری جہادی تحریکوں کا سلسلہ جزیرہ عرب میں ابن وہاب کی تحریک سے جا ملتا ہے جس کی اہم باتیں یہ تھیں: جہاد، امر بمعروف اور نہی از منکر کرنا ۔ افریقہ میں اسلامی تحریکوں جیسے سونوسیا کی تحریک کے بعد مہدی سوڈانی نے بھی اس سمت میں قدم رکھا ہے اس فرق کے ساتھ کہ  استعمار مخالف نقطہ نظر پر عمل کیا گیا۔ لیکن ابن عبد الوہاب کی تحریک میں  مسلمانوں پر ان کے عقائد کی وجہ سے حملہ کیا   گیا۔

سید قطب  اخوان الامسلمین کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے،اس کے انقلابی افکار کو اخوان المسلمین کے مختلف شعبوں کے اندر زمینیہ ساز جانتے تھے۔اخوان المسلمین کے جوان اراکین نے آہستہ آہستہ سینئر رہنماوں سے فاصلہ اختیار کیا  اور  سید قطب کی تعلیمات سے مختلف مطالب  نکال کر،ان کی بنیاد پر 1960 م کی آخری دہائی  میں اہل سنت کے درمیان کچھ اور تنظیمیں بنایں جو کہ حقیقت میں سلفی بنیاد پرست اور جنگجو  تھیں۔اس کی تاثیر اتنی زیادہ ہے کہ سید قطب کی کتاب  معالم فی الطریق  کو  جہاد کے مینوفسٹو  manifesto کے نام سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایسی   تحریکیں کہ  جن کے طرفدار اور رہنما وں کی بہت کم ہی کسی علمی دینی اور سائنسی ادارے میں پرورش ہوئی ہے اور بعض دفعہ تو دینی کلاسکل تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ سید قطب کی نظر میں موجودہ معاشرے یا تو اسلامی ہیں یا جاہل ہیں اور ان کے درمیان کوئی حد وسط نہیں ہے۔ اس تقسیم کے مطابق ، عقیدہ کی کمزوری اور مذہبی اصولوں کا بگاڑ معاشرے کو نااہل اور قابل علاج بناتا ہے۔(سبحانی، 1390: 15(

اس بنا پرجہادی سلفیوں کے مکتب میں، جہاد کا اس فکر سے کبھی نہ ٹوٹنے والا رابطہ ہے۔ موجودہ صدی میں اور موجودہ صورتحال میں بھی ، یہ فکری سلسلہ اپنی  باریکیوں کے مطابق ، اسلام کی حقانیت اور دستیابی پر زور دیتا ہے اور  جہاد کے سبب کو اسلام کی دعوت اور  لوگوں کو مسلمان بنانا  کہتا ہے۔اس فکر کے حامیوں  کا اعتقاد ہے کہ مقدسات کا دفاع بھی ان دوسرے عوامل میں سے ہے جو جہاد کو واجب قرار دیتے ہیں۔ مصر میں  سید قطب کے  بعد یہ فکری سلسلہ ایمن الظواہری تک پہنچا،ایسا شخص جو کہ شروع سے ہی بن لادن کے ساتھ کھڑا تھا۔اس سے پہلے جہادی سلفی بن لادن کے گروپ سے  کچھ مختلف تھے چونکہ بن لادن اور ایمن الظواہری اپنی آخری سیاسی اور انفرادی فکر میں  مسلمانوں پر جہاد کو واجب سمجھتے تھے جس کی وجہ سے اسلامی ملکوں کی حکومتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سید قطب اور محمد الغزالی کی موجودگی سعودی مذہبی حلقوں کی تبدیلی کا ایک بڑا عنصر ہے۔اس کی وجہ تقلیدی سلفیوں پر حاکم  فکر کی تبلیغ کے بجائے  یعنی توحید القبور کے بجائے توحید القصور کی  دعوت  کرنا ہے۔ اس قسم کے پروپیگنڈے کے نتیجے میں ، بہت سارے نوجوانوں نے تقلیدی سلفیوں سے علیحدگی اختیار کرلی ہے اور آج جہادی طرز تفکر کی بنیادی بات واضح کردی ہے ، خاص طور پر القاعدہ ، داعش اور نصرہ فرنٹ۔ یہ تکفیری گروہ ، اپنی مذموم اور پُرتشدد روشوں کے ساتھ ، آج دنیا کے عدم تحفظ اور خصوصا مشرق وسطی میں نا امنی کی  بنیادی وجہ ہیں۔ ان کی جہادی سرگرمیوں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تکفیریوں - سلفیوں کی دہشت گرد تنظیموں  نے اب تک اپنے دستور   میں تین طرح کی پرتشدد کاروائیوں کو شامل کرلیا ہے۔تشدد کی حد اور اس سے پیدا ہونے والے نقصانات کے مراتب کے لحاظ سے،پہلی قسم کو سب سے نچلے درجے میں قرار دیا جاسکتا ہے اور تیسری قسم کو اس  تقسیم بندی کے سب سے اوپر قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ تینوں جارحانہ اور پرتشدد کاروائیاں مندرجہ ذیل  ہیں:

الف۔تشدد اور رد عمل کی جدوجہد

اس قسم کا تشدد  کسی منصوبہ بندی کے تحت عمل میں نہیں آتا اور عام طور پر،ایسے اقدامات کی طرف یہ اشارہ کرتا ہے جو کبھی کبھی حکومت کے  سخت اور متشدد اقدامات کے رد عمل میں  اسلامی تحریکوں  جیسے اخوان المسلمین کی طرف سے  عمل میں آتا ہے۔

(نقوی، 1384: 6(

ب۔تشدد اور نظریاتی جدوجہد

دوسری قسم پہلی قسم کے برخلاف منظم تشدد ہے جو سیاسی حکومتوں کو ختم کرنے کے لئے اسلامی تحریکوں کی مجموعی حکمت عملی کے تحت استعمال ہوتا ہے۔ اور عصری اسلامی  تنظیمیں ، خاص طور پر 1960 کی دہائی سے ، اس قسم کے نظریاتی تشدد کو استعمال کرتی رہی  ہیں ان میں سب سے نمایاں القاعدہ ہے اورموجودہ صورتحال میں داعش اور جبھہ النصرہ ہیں۔

(سید نژاد، 1390: 136).

ج۔تشدد اور فرقہ وارانہ جدوجہد

تشدد کی تیسری قسم  جسے فرقہ اوارانہ تشدد سے تعبیر کیا جاسکتا ہے،پہلی دو قسموں کے خلاف اہداف اور ہلاکتوں کے دائرہ کار کے لحاظ سے  زیادہ وسیع ہے۔حقیقت میں، تشدد کی دو قسمیں،نظریاتی تشدد اور رد عمل کے تشدد کے تحت، اسلامی تحریکوں نے مغربی عہدیداروں اور عرب حکومتوں یا اعلی سکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا  ہےاور عام لوگوں کے خلاف تشدد کے استعمال  سے پرہیز کیا ہے۔ لیکن تیسری قسم میں ، جو اندھی اور دہشت گردی کی واردات ہے ، عام شہریوں کو بھی متشدد اسلام پسند انتہا پسند گروپوں نے نشانہ بنایا ہے۔پس اس لحاظ سے اسے فرقہ وارانہ تشدد کہا جاسکتا ہے جس کا سبب  قبائلی تعصب ہے اگر چہ اسے جدید ہتھیار میں  شمار کیا جاسکتا ہے جس کی نمایاں مثال داعش ہے۔ 18 ویں صدی کے آخر میں اور 19 ویں صدی کے اوائل میں  عراق  میں مقدس مقامات پر حملے اور مسلمانوں کا قتل عام اس فرقہ وارانہ تشدد کا آغاز تھا۔ یہ فرقہ وارانہ تشدد 20 ویں صدی میں جزیرہ نما عرب اور خطے  کے دوسرے نقاط میں بھی جاری رہا۔ پاکستانی وہابی گروہوں (1980 اور 1990 کی دہائی) کے تشدد ، مزار شریف (1997) میں ایرانی سفارت کاروں کا قتل اور سلفی نظریہ سے متاثر گروہوں کے دیگر اقدامات ، موجودہ دور میں فرقہ وارانہ تشدد کی مثال ہیں۔ ایک طرف 20 ویں صدی کے آخری دو عشروں کے واقعات ، اور دوسری طرف سعودی عرب کی حمایت یافتہ سلفی حکومت کی مالی اور پروپیگنڈہ کی گنجائش نے مسلم دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی سلفی افکار کو پھیلادیا ہے۔ یہ توسیع جنوبی ایشیا میں یعنی برصغیر پاک  وہند  میں سب سے زیادہ  اور پھر افغانستان اور بعد میں شام ، عراق اور لبنان جیسے دوسرے خطوں میں  مشاہدہ کی گئی ہے۔ (ذوالفقاری، 1392: 226).

بعض مہم ترین دہشت گرد تنظیمیں  یہ ہیں:

القاعده جزیره العرب، جبهة تحریر الإسلامیة، حرکة التوحید والجهاد (غرب أفریقیا)، داعش، سپاه صحابه، لشکرجنگهوی، سپاه طیبه، جند الله و جندالعدل، القاعده افغانستان (افغان العرب )، طالبان، القاعده پاکستان، القاعده عراق (زرقاوی)، القاعده یمن، حزب التحریر (سنٹرل ایشیا)، القاعده سودان، القاعده مغرب اسلامی، القاعده سوریه: جبهة النصره، القاعده سومالی (مرکز القاعده شرق آفریقا)، حزب جماعت اسلامی (القاعده جنوب شرق آسیا)، بوکوحرام (نیجریه(

یہاں پر  جو مطالب اوپر بیان ہوئے ان کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، سلفی وہ ہیں جو چوتھی صدی ہجری میں نمودار ہوئے۔ وہ احمد بن حنبل کے پیرو کار تھے اور ان کا خیال تھا کہ ان کے سارے نظریات احمد بن حنبل سے ملتے ہیں یعنی وہ شخص جس نے عقیدہ سلف کو زندہ کیا اور اس کے لئے کوشش کی ۔ پھر ساتویں صدی ہجری میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کا احیا کیا۔اس نے لوگوں کو اس طریقے کی طرف بلایا  اور اس میں کچھ موضوعات کا اضافہ کرکے اپنے زمانے کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔اس کے بعد 12 ویں صدی میں  محمد بن عبد الوھاب کے ذریعے اس کے نظریات کو دوبارہ زندہ کیا گیا جنہیں ابھی تک وہابیوں نے زندہ رکھا ہے۔

ایک ہی بات میں، مذہب سلف  سے مراد یعنی صحابہ ، تابعین، تابعین تابعین،آئمہ فقہ  اور کلی طور پر پہلی تین صدیوں کے اسلامی علماء کے عقائد کی طرف دوبارہ رجوع۔کبھی  شروع کے تابعین کو سلف صالح سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔مجموعی طور پر  سلفی سلسلہ عرب دنیا میں  بہت اہم  اور مضبوط سمجھا جاتا ہے جس نے ایک ہم آہنگ ذہنیت اپنا کر اور مخصوص سیاسی نقطہ نظر اختیار کرکے پوری اسلامی دنیا میں نفوذ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ سعودی عرب میں ، یہ تحریک سلفی افکار پر مبنی ایک سیاسی نظام قائم کرنے میں کامیاب رہی اور خطے کے دوسرے ممالک میں پھیلنے کی کوشش کی۔ خود سلفی کچھ اختلافات کے ساتھ مختلف گروہ بن چکے ہیں اور خاص طور پر سعودیوں نے تکفیریوں اور جہادی سلفیوں سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کی ہے ،لیکن عرب دنیا میں ہونے والی نئی پیشرفتوں میں ، وہ ایک اہم اور نسبتا  بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اصولی اور فکری طور پر سلفی جمہوریت،پارٹی اور سیاسی اقتدار میں براہ راست شرکت پر یقین نہیں رکھتے ہیں حتی حکومت کے خلاف عام جلسہ جلوسوں سے بھی منع کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ نئے مواقع اور فرصتوں  سے غافل نہیں ہیں۔ خاص طور پر ، علاقائی قوتیں ، جیسے سعودی عرب اور قطر ، عرب دنیا میں اپنے مقاصد اور مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے اس عمل کو بطور آلہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودیوں کو سلفی مسئلے کے سلسلے میں ایک سنگین چیلنج درپیش ہے؛ ایک طرف  سے، وہ  سلفیت کو اندرونی طور پر محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس بنیاد پر ملک عبداللہ کی طرف سے کچھ اصلاحات کی کوشش کی جارہی ہے دوسری طرف ، سعودی حکومت علاقائی سطح پر سلفیوں کو جمہوری عمل کو ختم کرنے اور جمہوری عمل سے فائدہ اٹھانے اور اقتدار میں حصہ لینے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔قطر بھی کوشش کررہا ہے کہ سعودیہ کے مقابلے میں ،عرب دنیا  کے سلفیوں  کو اپنے ماتحت لے کر آئے اور اس   فکر کو  جدیدیت سے ہم آہنگ کرکے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے ان کا استعمال کرے۔ مجموعی طور پر ، یہ کہا جاسکتا ہے باوجود اس کے کہ سلفیت  جہان عرب کے    بڑے مکاتب فکر میں سے ایک ہے اور اخوان المسلمین جیسی تنظیموں کی  خطے  میں نئی پیشرفت کی اصلی رقیب ہے،  لیکن سلفی سوچ اور داخلی نقطہ نظر کے دو پہلوؤں کو پہچاننا اور ان میں فرق کرنا اور علاقائی کھلاڑی  جو انہیں  اپنے مقصد کےلئے استعمال کرتے ہیں ان کی معرفت حاصل کرنا ، یہ سب  جہان عرب میں اس مکتب کی حیثیت   اور کردار  کی وضاحت کرنے کےلئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

 


 

حوالہ جات

.1توکلی، یعقوب، (1389)، «نگاهی کوتاه به جنبش‌های جهادی سلفی: جهاد غیر عقلانی»، مجله: زمانه دوره جدید، شماره 93.

.2 جنبش‌های سیاسی خاورمیانه از سلفی‌گری تا نوسلفی‌گری، (1392)، مصاحبه شونده: جودکی، حجت الله؛ برومند اعلم، عباس؛ صیامیان، زهیر؛ مجله: کتاب ماه تاریخ و جغرافیا، شماره 185.

.3 ذوالفقاری، سیدمحمد، (1392)، «درآمدی بر جنبش سلفی در مصر، پیش و پس از انقلاب 25 ژانویه 2011 م»، مجله: پژوهش‌های منطقه ای، سال اول، شماره 10.

.4 سبحانی، جعفر، (1390)، «سلف و سلفی‌گری»، مجله: درسهایی از مکتب اسلام، شماره 609.

.5 سید نژاد، سید باقر، (1389)، «سلفی‌گری در عراق و تأثیر آن بر جمهوری اسلامی ایران»، مجله: مطالعات راهبردی، شماره 47.

.6سید نژاد، سید باقر، (1390)، «رویکرد شناسی فلسفی و معرفتی جریان سلفی‌گری»، مجله: فلسفه دین، شماره 11.

.7لسماک، محمد، (1384)، کلید فهم سیاست آمریکا، ترجمه ابوذر یاسری، تهران: موعود عصر.

.8.الموصلی، احمد، (2004)، ترجمه موسوعه الحرکات الاسلامیه فی الوطن العربی و ایران و ترکیه، بیروت، الطبعه الاولی.

.9نقوی، حسین، (1384)، «سلفی و سنی/ در احوال و آرای سلفیان»، مجله: ضمیمه خردنامه همشهری»، شماره 71.

.10هی وود، اندرو، (1379)، درآمدی بر ایدئولوژی‌های سیاسی، ترجمه محمد رفیعی مهرآبادی، تهران: وزارت امور خارجه

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ