گروہ تاریخ اشراق نے سپرینگ 39 میں سلفیت کے موضوع پر اس کےتاریخی پس منظر کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ نشستوں کا اہتمام کیا ۔ ان نشستوں میں سے ایک نشست میں جناب آقائے محمد حسین رفیعی کی موجودگی میں موضوع "وہابیت اور سلفیت ،غربی ذرایع میں " کا جائزہ لیا۔ذیل میں اس نشست کا متن آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔
حوالہ :  مغرب میں شیعہ تحقیقات
مصنف :   محمد حسین رفیعی؛ ترجمه: مظاهر على

وہابیت مغربی منابع میں۔

نسب شناسى اور مغربى محققين كا سلفيوں كے روبرو ہونا

بحث کو شروع کرنے سے پہلے، میں اس جلسے کے عنوان کی تھوڑی سى اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔ اور "وہابیت در منابع غربی کی جگہ یہ عنوان " سلفیوں کے شجرہ نسب پر مغربی محققین کی تحقیق" رکھتا ہوں ۔ کیونکہ جو مطالب مقصود بیان ہیں وہ اسی وادی میں گھومتے ہیں۔ اور ٹکراو کی نوعیت، دلائل، اور مغربی خیالات ایسے موضوعات ہیں جو اس عنوان کے ضمن میں بیان ہونگے۔ اس جلسے میں، میں انکے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا بلکہ ان دیگر موضوعات پر  تفصیل سے روشنی ڈالنا چاہتا ہوں، جو کہ دو حصوں پر مشتمل ہونگے۔

1۔ پہلے حصے میں ان مطالب پر توجہ دینگے جنہیں اہل مغرب نے جمع کیا ہے۔ اس حصے میں اس حوالے سے بات ہوگی کہ مغربی لوگ وہابیت کے وجود کے روبرو کب ہوئے اور کس طرح ان کا مقابلہ کیا۔
2۔ دوسرے حصے میں، اس کے بارے میں اکیڈمیک سٹیڈیس ہیں۔ اس حصے میں اس سوال کا جواب دیا جائے گا کہ جب اورینٹل ازم اور اسلام شناسی کے روایتیں وہابیت کے فيلڈ میں تحقیق کرنا چاہتی ہیں، تو کس طرح کی جگہ اپناتی ہیں، کیا کرتی ہیں، اور اس کے مختلف مکاتب فکر کی شناخت کیسے کرتی ہیں؟۔ اس کے علاوہ، جو رجحانات یا تحقیقات جن کا ابھی تک سامنا ہے اور وہ رجحانات جن کا جاننا ضروری ہے، کے بارے میں گفتتگو کرینگے۔

پہلا حصہ: وہابیت کے بارے میں مغربی منابع

سب سے پہلی دستاویز جو مکتب وہابیت کے بارے میں ہے، وہ سیاسی دستاویزات ہیں۔ اس مکتب کے بارے میں بمبئی دستاویز رجسٹرڈ اور قابل اعتماد واطمئنان دستاویزات میں سے ہے۔ بمبئی دستاویز انیسویں صدی میلادی (تیرہویں صدی ہجری) کے وہابیوں کے دربارے میں ایک منتخب دستاویز ہے۔ اس منتخب دستاویز کو ساموئل منسٹی نامی ايك شخص نے اصل دستاویزات سے انتخاب کیا اور سال 1350 ق۔ كو منظر  عام پر لایا۔ اور جو دستاویز اسی طرح ہاتھ میں آئے، وہ مکتب وہابیت کے بارے میں مغربی منبع دستاویزت کے نزدیک اصلی ترین اور قابل اعتماد دستاویز شمار ہوتی ہے۔ اور اہم ترین منابع میں سے کارسٹن نییبور کا سفرنامہ بھی ہے۔ کارسٹن نییبور ایک معروف یورپی سیاح ہے جس نے اپنے ملک کے بادشاہ کے فرمان پر مغرب سے لیکر سعودی عرب کے مشرقی شبہ جزیرہ تک سفر کیا۔ اور ان ممالک اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی ہمت ٹھان لی۔ جو معلومات اس سفر سے حاصل ہوئی ہیں، وہ یورپی روایت کے مطابق ابھی تک کی سب سے اہم ترین معلومات ہیں۔ اس کے بعد ہارفورڈ بریج کے سفرنامے کی طرف بھی اشارہ کرینگے۔ یہ سفرنامہ ابھی تک موجود ہے اور قابل اعتماد سفرناموں میں شمار ہوتا ہے۔

میری نظر میں، یہ سفرنامے لکھنے والوں کے رجحانات، جاسوسانہ اور سیاسی ہونے سے پہلے، ظاہری کنجکاو اور تلاش سے حاصل ہوتے ہیں جنکا سبب مشرقی زمین کے تمدن اور تہذیب سے جہل ونادانی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، وہ ایسے فینومناز (رححانات) سے آشنائی کے خواہاں تھے جو جہان اسلام اور حجاز کے مرکز میں موجود تھے۔

اسی وجہ سے، ان مناطق کا سفر کیا اور اپنے مشاہدات کا نتیجہ اپنے سفرنامہ یا سفر کی نقش بازی میں درج کر لیا۔ اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کر سکتے  کہ مشرق کی طرف اس گروہ کے سفر کا نتیجہ، سفرنگاری کے علاوہ، مشرقی زمین کے قدیمی اور قیمتی آثار کو منتقل کرنا ہے۔ اسی خاطر، میں چاہتا ہوں کہ شروع سے ہی  مشرقی محققین کے درمیان پائے جانے والے رجحانات کے بیچ فرق کے قائل ہو جاوں۔

ہم کلی طور پر اس بات کے قائل ہیں کہ مشرقی محققین منفی رجحان رکھتے تھے اور حقیقت میں یہ چاہتے تھے کہ جو بھی چیز کشف یا حاصل کرینگے وہ جہان اسلام کے نقصان پر ختم ہو یا استعماری اہداف کی تلاش میں رہے۔ البتہ ممکن ہے ان کا رجحان اس طرح کے کاموں کے لیئے شخصی اور ذاتی ہو؛  دوسرے الفاظ میں، وہ ایک ایسے مسئلے کے پیچھے تها جو خود ان کے اندر سے بیان ہو۔ یا ان مطالعات اور سفر کے زریعے ان نتائج تک پہونچنا چاہتا تها۔

میرے گمان کے مطابق، پہلے دستے میں وہ لوگ تھے جو اپنے شخصی رجحان کی وجہ سے اسطرح کے سفر کے راہی بن گئے۔ ایران اور مشرقی مناطق  کے حوالے سے بھی ان سفرناموں کے بارے میں اس رجحان کو بیان کیا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد، کام کی نوعیت بدل گئی اور سیاسی مفادات سامنے آگئے۔ اور حقیقت میں یہی لوگ (گروہ اول) تھے جنہوں نے مغربی ممالک کے سیاسی قائدین اور مسوولین کو میڈل ایسٹ کی اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت کی طرف متوجہ کرایا۔ اور اصل میں انہوں نے ایک ایسا زمینہ (گراونڈ) فراہم کیا جس کے بعد مغربی ممالک سے بیشتر نمائندے ان خطوں میں بھیج دیا جائے۔

دو افراد کے ذکر کے بعد ابھی فولنی کا تذکرہ کرنا چاہونگا، اگرچہ وہ حجاز جانے میں کامیاب نہیں ہو سکا لیکن اس سے حجاز اور نجد کے بارے میں معلومات مل جاتى ہیں، اس کے علاوہ وہ شام اور فلسطین میں حجاجی سے ملا اور حجاز میں موجود مکتب وہابیت کے بارے میں گفتگو کی۔ اپنے سفرنامے کے زریعے اچھی رپورٹس دی ہيں۔ ان رپورٹس کی اہمیت اس وقت  معلوم ہوگی جب ہم حجاز میں وہابیت کی طرف سے تازہ ظاہر ہونے والے اثرات کی کھوج لگائیں۔  فولنی کی رپورٹس  بعد میں آنے والے تاریخ نگار جیسے جبرتی یا مشرقی متون جیسے لمع الشہاب میں موجود ومرقوم ہیں۔ اس یورپی شخص کی رپورٹس خوف وترس اور حجاج کے اوہامات جو حجاز میں مکتب وہابیت کے ظہور سے  وجود میں آئے،  کے بارے میں بہت دلچسپ ہیں۔ ان رپورٹس میں ذکر ہوا ہے کہ مسلمان پریشان ہیں اور اس موضوع پر بات کرتے ہیں کہ وہابیت کى قدرت بڑھتی جارہی ہے۔ اور انکا ارادہ ہے کہ وہ دوسرے علاقوں پر حملہ کریں۔ اور ان رپورٹس میں وہابی عقائد کے بارے میں جو کچھ ذکر ہوا ہے وہ بڑا دلچسپ لگ رہا ہے۔

وہ اہم ترین شخص جو اس خطے کے مشرقی محققین کے پہلے گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور ایک خاص مقام رکھتا ہے، وہ بوکہارٹ ہے، جو لوگ تاریخ ایران اور اس کے بارے میں مطالعہ وتحقیق کرتے ہیں وہ اس کے نام سے آشنا ہیں۔ یہ مستشرق جس نے "صحرا نشین وہابیوں کی تاریخ" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، سنہ 1314 ق۔ یعنی انیسویں صدی کی شروعات میں شبہ جزیرہ داخل ہوا۔ اقتصادی اور ثقافتی موضوعات پر اس کی توجہ اس کے سفرنامے کی خصوصیات میں سے ہے۔ تاریخی لحاظ سے بوکہارٹ زمانے کےایک اہم دورانیے میں نجد اور حجاز میں داخل ہوا۔ کیونکہ اس وقت پہلی سعودی حکومت علی پاشا کے حملے کی وجہ سے ناپید ہوگئی تھی۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اس نے خود محمد علی پاشا کے نمائندے سے ملاقات کی اور ان مکاتب کے بارے میں اپنے خیالات کو مرقوم کیا۔ اس سفرنامے کے مغربی رائٹر نے، جو کہ سعودی شبہ جزیرہ میں تازہ داخل ہوا تھا، عثمانی لشکر کو اسلام اصیل کا نجات دہندہ قرار دیا ہے۔

بعنوان ایک بیرونی شاہد اس شخص کا ادراک جو کسی طرف (عثمانی اور وہابیت) سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا، دلچسپ ہے۔ وہ عثمانی کو وہابی بدعتوں کے مقابلے میں نجات دہندہ اور اسلام اصیل کا مددگار سجھتا تھا۔ اس سے بھی دلچسپ نکتہ یہ ہے كہ بوکہارٹ مسلمان ہوتا ہے اور حجاز میں رہائش کے دوران فریضہ حج بھی ادا کرتا ہے۔ اس سفر اور اس کے مکتوب سفرنامے سے حاصل ہونے والی معلومات نے برطانیہ کو کوئی خاص نتیجہ نہیں دیا۔ بوکہارٹ اصل میں اپنے ذاتی رجحان کی بنیاد پر اس خطے میں رہا۔ اس زمانے کے بعد یعنی جس وقت پہلی سعودی حکومت سقوط کرگئی، برطانیہ نے اس خطے پر خصوصی توجہ دینا شروع کیا۔ یہ حکومت اس خطے میں فرانسیسی اثر ورسوخ سے پریشان تھی۔   

اس حوالے سے برطانوی حکومت کے محرکات پر بات کرنا ایک تکراری موضوع ہے؛ برطانیہ کے نزدیک ہندوستان کی بڑی اہمیت تھی اور اسی وجہ سے اس نے کوشش کی کہ اپنے رو برو ہونے کی دیواریں دوسری استعماری قوتوں کی مدد سے آگے لے آئے، جیسے فرانس جسکی پاور اس دور میں ایک چیلینچ تھی۔ جیسا کہ ہم نے کئی بار یہ بات سن لی ہے۔

حجاز اور مصر اسٹریٹیجک نقاط کے حوالے سے اس مسئلے کا جز ہیں۔ اس سے پہلے، ناپليون نے مصر پر حملہ کر کے اسے فتح کیا تھا اور اس وقت برطانيہ نے بڑا خطرہ محسوس کیا، اسی لیئے کوشش کی کہ کئی اور نمائندے حجاز بھیج دے۔ اس خطے میں نمائندے رکھنے کے حوالے سے اس حکومت کا اولین ہدف یہ تھا کہ  شبہ جزیرہ کی تبدیلیوں کے بارے میں اطلاعات حاصل کرے اور حالات اور وضعیت کو معلوم کرے تاکہ اس کے مطابق فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔  

 بوکہارٹ کے بعد ایک دوسرا چہرہ جو پہلی سعودی حکومت کے سقوط اور حجاز میں ابراہیم پاشا کی سربراہی میں عثمانی لشکر کا زمام قدرت اپنے ہاتھ میں لینے کے کچھ مدت بعد شبہ جزیرہ داخل ہوا، وہ جورج سڈلیر نامی شخص تھا۔ جورج سڈلیر 1819 میں شبہ جزیرہ آیا اور قطیف سے ینبع تک گهوما پهرا۔ جو اطلاعات اس نے اپنی کتاب میں بیان کی ہیں، وہ اس جہت سے اہم ہیں کہ عثمانی حملے کے بعد  نجد اور حجاز میں حاصل ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔

جورج سڈلیر کے بعد، جورج والین جو کہ فنلینڈ سے تھا، ایک فیک (fake) نام عبد الولی کے ساتھ سعودی شبہ جزیرہ میں داخل ہوا۔ اس نے 1845م یعنی سڈلیر سے 25 سال بعد، قاہرہ كى طرف سے اس خطے میں قدم رکھا اس کے بعد قسیم سے ہوتا ہوا حجاز پہونچ گیا۔ مغربی منابع کے مطابق، جس وقت معلوم ہوا کہ جورج والین مسیحی ہے، اس قتل کر دیا گیا۔  شاید ممکن ہے والین کی موت کا حقیقی سبب اس منطقے میں  راہزنوں کی کثیر تعداد کو قرار دیا جائے، جس طرح اس دور میں یہ بات معروف تھی۔

وہ نمائندے اور افراد جو جورج والین کے بعد اس خطے میں آئے وہ اکثر فوجى چہرے تھے، انہوں نے زمینی اور جغرافیائی اطلاعات حاصل کیں۔  اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ سفرفوجى جہت اپنا گئے۔

تقریبا، انیسویں صدی کے آخر میں اور بیسویں صدی کے شروع  میں جو افراد شبہ جزیرہ آئے تھے، وہ فوجی مسائل کی جہت سے منتخب ہوئے، یعنی منتخب ہونے کی شرائط میں سے فوجی ہونا تھا۔ ریپچرڈ برٹن اور ویلیم پالگریو ان افراد میں سے تھے جو اس دورنیے میں حجاز داخل ہوگئے۔

ویلیم پالگریو بہت متنازعہ شخص ہے اور اس کا سفرنامہ جسکا عربی زبان میں بھی ترجمہ ہوا ہے، اپنی اہم معلومات کی وجہ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پالگریو مالدار ہونے کی وجہ سے، اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حمایت حاصل تھی۔ اور یہودی ہونے کی وجہ سے، تقریبا آٹھ سال لبنان میں برطانوی نصیری انجمن کی سربراہی کی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ تنصیری تحریک بھی تبشیری تحریک کی طرح مسیحیت کی پرچار کرنے کے لیئے اسلامی ممالک میں داخل ہوگئی۔ اور طبیعی طور پر جن اہداف کے لیئے تگ ودو کی  ان میں سے  یورپی استعماری اہداف تھے۔ یہ تحریک ہر علاقے میں ایک خاص شکل رکھتی تھی۔ اور پالگریو نے کسی طرح سے 1862م میں مصر کی سمت سے شبہ جزیرہ میں قدم رکھا۔ اور ایک سال تک بغیر کسی مشکل کے - جو مشکلات اس سے پہلے والے افراد پر آئی تھیں- اس ملک کے تمام شہروں میں حاضر رہا۔ اس کے بعد آسانی سے اپنے ملک واپس لوٹا۔ اس مستشرق نے اپنے ایک سال کے سفر کے تمام مشاہدات اپنے سفر نامے میں لکھے ہیں۔ اور اسی وجہ سے اس کا سفرنامہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

حجاز میں یورپین پاور کے باقی نمائندوں کا تذکر کرنے سے پہلے، ضروری ہے کہ جناب آغائے رسول جعفریان کی رپورٹ کا ذکر کروں، جنہوں نے سعودی عرب میں ایک ایسی کانفرنس میں شرکت کی جو شبہ جزیرہ کے اندر انہی چہروں کے بارے میں منعقد ہوئی تھی۔ اور اہم نکتہ یہ ہے کہ  ہم اپنی نیتوں اور عقائد کی تحقیق سے ہٹ كر، تاریخی موضوعات اور مکتب وہابیت کے بارے میں جانچ پڑتال کریں۔

آغائے رسول جعفریان نے اس رپورٹ میں، کانفرنس میں شرکت کرنے والے اکثر افراد، جو کہ زیادہ تر عرب تھے، کا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔ ان کی گفتگو کے مطابق، اکثریت نے حجاز میں آنے والے مغربی افراد کو جاسوس قرار دیا۔ لیکن اس استاد نے اس نقطہ نظر پر اپنے اعتراض کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: " حتی اگر ہم اس بات کو قبول کر لیں کہ یہ سارے جاسوس تھے، لیکن ان کے مشاہدات بڑے قیمتی ہیں"۔

یہ بات درست ہے کہ یہ افراد خطے میں استعماری قوتوں کا حصہ تھے اور ایک لمبی مدت تک اس خطے پر تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ لیکن جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، تو کوشش کرونگا کہ واقعیت پسند رہوں، اور اپنی فکر سے ہٹ کر، اس حوالے سے رونما ہونے والے واقعات کو مورخین اور محققین تاریخ کی نگاہ سے دیکھوں۔  

اگرچہ یہ رجحان ہر جگہ پھیلا ہوا ہے لیکن اگر ہم یہ دعوی کریں کہ ہم پیشرفت تر ہیں یا بعض ممالک کی نسبت جن میں تاریخی تحقیق کی کوئی جڑ نہیں (جسیے وہ عرب جن کی طرف آغا جعفریان نے اپنی رپورٹ میں اشارہ کیا ہے) عمدہ رجحانات رکھتے ہیں، تو اس وقت ہم پر لازم ہے کہ ہم اس رجحان سے دور رہیں۔ سعودی عرب میں تاریخ کے فیلڈ میں علمی تحقیق بہت نادر ہے۔ اور انکی سائنسی مصنوعات کی کوئی خاص روش نہیں۔  چونکہ ان تمام امور کی تحقیق میں عقائدی محققین کا اثر غالب ہے۔ اسی لیئے میں تاکید کرتا ہوں، کہ ہم وہابی مکتب فکر کے بارے ميں بھی ان رجحانات سے متاثر ہوکر ایک جانب کھڑے نہ رہیں۔

بہر حال، پالگریو کے بعد، لوئیس پلی نے، جو کہ برطانوی ملٹری کا چیف تھا، حجاز کا رخ کیا۔

1865م میں وہ فیصل بن ترکی سے ملنے آیا۔ فیصل بن ترکی دوسری سعودی حکومت کا بانی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خطے میں علی پاشا کے تسلط کے بعد، آل سعود اور آل ابن عبد الوہاب میں سے کئی بڑے گروہ قاہرہ بھیج دیے گئے۔ ان میں سے بعض کو استنبول اور قاہره میں پھانسی دی گئی۔ اور بعض كو مجبور کیا گیا کہ الازہر میں تعلیم حاصل کریں۔ اور کچھ دوسرے عمدہ گروپس کو دور دارز علاقوں میں، جیسے بحرین، قطیف اور عمان، بھیج دیے گئے۔ باوجود اس کے کہ فیصل بن ترکی ایک کمزور اور لاچار بادشاہ تھا اور پہلی حکومت کے اپنے گزشتہ گان کے ساتھ قابل مقایسہ نہیں تھا، لیکن عملی طور پر حکومت کو زندہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس وقت، عثمانی بادشاہت اور محمد علی پاشا مصر میں دیگر مشکلات سے دوچار تھے، جسکی وجہ سے حجاز پر توجہ نہیں دے سکے۔ اور اسی سبب کی خاطر سعودیوں نے مرکزی قدرت کی کمزروی سے فائدہ اٹھایا اور اپنی حکومت کی بنیاد رکھی۔

حجاز میں برطانیہ کا فوجی نمائندہ لوئیس پلی نے فیصل سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے دوران تاریخ کا ایک اہم اتفاق رونما ہوا۔ اور یہ اہم اتفاق فیصل بن ترکی اور لوئیس پلی کی نمائندگی میں، برطانیہ اور سعودی کمزور حکومت کے درمیان دوستی، مفادات اور ہمپیانی کی قراداد پر دستخط تھا۔   ماجرا یہ ہے کہ دوسری سعودی حکومت کے زمانے میں، نجد کے شمال میں آل رشید کی حکومت اور کمزور وناتوان  آل سعود جسکا سربراہ فیصل بن ترکی تھا، کے درمیان اختلافات وجود میں آگئے؛ آل رشید جو منطقہ حائل ميں تهے، کو عثمانی کی حمایت حاصل تھی اور آل سعود کو برطانیہ کی۔

لیکن دوسری حکومت یعنی آل سعود، کی خواہش تھی کہ یہ حمایت جاری رہے؛ اسی وجہ سے یہ ڈیل ہوگئی تھی جسکی وجہ سے بعد میں خطے کے اندر اختلافات وجود میں آگئے۔

رد نویسی میں ایک اہم نظام ہے جسکے کئی اثرات ہیں، لیکن اس کے بارے میں بحث کرنے کی گنجائش نہیں۔ وہابیت پر رد نویسی کے لحاظ سے، اس دوران کئی اہم چہرے سامنے آگئے۔ ان میں سے ایک چہرہ جسکی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے، وہ چالرز داوٹی ہے۔ اپنے فیلڈ میں تحقیقات کی وجہ سے اس کى مکتوبات بہت اہم ہیں۔  وہ آٹھ سال مشرق وسطی میں رہا۔ اور شبہ جزیرہ کے تمام دور ونزدیک علاقوں کا سفر کیا۔ ان خطے میں اس کا وجود مغرب کی طرف سے اس خطے میں ایک لمبی گیم کا سفر ہے۔ داوٹی  نے عربوں کے آداب ورسوم اور عقائد کے بارے میں تحقیق کی جو کہ بہت اہم ہے۔ اس تحقیق کا نتیجہ 1921م کو، لندن میں ایک کتاب کی شکل میں چھپ گیا۔   

اس دوران چالرز داوٹی کے علاوہ، ایک میاں اور بیوی بنام ویلفرڈ اور لیڈی آن بلنٹ کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مشرقی آداب ورسوم اور عربوں کے طور وطریقے سے آشنا ہونے کے لیئے اس خطے کا رخ کیا۔ ان دونوں کا سفرنامہ "الحج الی نجد، مھد العنصر العربی" ہے۔ اور اس وقت یہ سفرنامہ اس علاقے کے ممالک کی یونیورسٹیز کے اصلی منابع (ریفرینسز) میں شمار ہوتا ہے۔  خصوصا سعودی عرب کے اندر، ماڈرن ازم کے ظہور سے پہلے،  آداب ورسوم وطوایف اور عرب قبائل کے تجزیہ و تحلیل میں اس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔  

بیسویں صدی اور دوسری جنگ عظیم کی ابتدا میں، اس خطے کی فضا مکمل سیاسی بن گئی۔

عثمانی بادشاہت کی کمزوری اور اسلام پسند تحریکیں جو شام اور مصر میں وجود میں آگئیں، یورپی ممالک کے لیئے ایک نئی پریشانی بن گئیں۔  دوسری طرف سے، برطانیہ نے جرمنی اور دوسرے ممالک جو خطے میں اپنے اثر ورسوخ کے خواہاں تھے، کے ساتھ حالات خراب کر دیے۔ ان اختلافات کے ساتھ ساتھ انہیں اسلام پسند تحریکوں یا اصلاح پسند مسلمانوں سے بھی خوف تھا چونکہ انہیں یہ احتمال تھا کہ یہ تحریکیں ایک انقلاب کی شکل اختیار کرینگی اور ان کے مفادات کو روند دینگی۔

اس طرح کی فضا میں برطانوی نمائندے ایک مزید پررنگ فوجی چہرے کے ساتھ حجاز میں داخل ہوتے گئے اور حائل میں آل رشید کی حکومت سے مذاکرات کیئے۔ ان مذاکرات سے ان کا ہدف، اختلافات كو کم کرنا تھا۔ کیپٹین شکسپیر ایک نمائندہ تھا جو 1934م میں رياض آیا۔ اور خود عبد العزیز سے ملاقات کی۔ اس دوران، آل رشید اور دوسری سعودی حکومت کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے۔ اور ملک عبد العزیز کے ہاتھوں ایک تیسری طاقتور سعودی حکومت کی بنیاد رکھی گئی۔ ہیری سینٹ جون فیلبی کی رپورٹ بہت شہرت رکھتی ہے، وہ انہی برطانوی نمائندوں میں سے ایک ہے جو اس خطے میں آگئے۔ اس نے خود  ملک عبد العزیز کے ساتھ  قدرے  اچھے تعلقات بنائے جسکی وجہ سے ملک عبد العزیز نے اسے اپنا مشاور بنایا۔

حافظ وھبہ جو کہ اصل میں مصری ہے، اس خطے میں آیا اور کئی سال عبد العزیز کا مشاور بن کر فعالیت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  اس نے تربیتی فیلڈ میں تقریبا وہی کام کیا جو حسن رشدیہ نے ایران میں کیا۔

اور یہی سے اہل سنت وہابی علماء اور حکومت کے اندر موجود ماڈرنسٹ افراد کے درمیان ایک دائمی ٹکراو شروع ہوا۔ عبد العزیز نے مغربی طاقتوں جیسے برطانیہ اور اس اسکے بعد امریکا، کے ساتھ ملکر حکومت کی تجدید کرنا چاہا، اور ٹیکنالوجی کو ملک میں داخل کیا اور ایک نیا ڈھانچہ پیش کیا۔ لیکن قدامت پسند وہابی علماء  نے شدت سے ان اقدامات کا مقابلہ کیا۔ اور ہر جدید چیز کو بدعت قرار دیا۔ قدامت پسندی جس سے ہم آشنا ہیں، یہی سے شروع ہوئی۔ سعودی سلاطین یا بادشاہان بھی خطے میں موجود غیر ملکی افراد کے زریعے نئی آئیڈیالوجی سے واقف ہوئے۔ اور ان غیرملکی افراد میں سے ایک وہی فیلبی ہے جو بالاخر مسلمان ہوا اور اپنا نام عبد اللہ رکھا۔

فیلبی کے سفرنامے اور اسکی چند مکتوب کتابوں کے مطالعے سے قدامت پسند وہابی علماء اور جدت پسند افراد (ماڈرنسٹ) کے درمیان دائمی ٹکراو کو سمجھ سکتے ہیں۔ البتہ یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ اس خطے میں اس کے اقدامات خیرخواہانہ نہیں تھے، بلکہ اپنے ملک کے مفادات کی خاطر تھے۔ لیکن دلچسپ نکتہ یہ ہے كہ وہ برطانیہ کی نمائندگی سے منصرف ہوگیا اور سعودی حکومت میں ایک نمائندہ اور مشاور کی حیثیت سے کام کیا۔ عرب اس شخصیت کو پسند کرتے ہیں۔ اور اس کے بارے میں کئی تحقیقات انجام دی ہیں۔ البتہ ہیری سینٹ جون فیلبی کے قدامات کے حوالے سے، سعودی مورخین دو گروہوں میں تقسیم ہیں: ایک گروہ اس کا طرفدار ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ تاریخ سعودی عرب میں فیلبی کا بڑا اثر ہے اور ثقافتی لحاظ سے اس ملک کو ماڈرن ازم کے دور میں داخل کیا۔ لیکن دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ وہ ایک جاسوس اور برطانیہ کا نمائندہ تھا اور اس خطے کی کوئی مدد نہیں کی۔

ایک اور شخص جس کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے، وہ ٹوماس ایڈوررڈ لاورنس ہے، عثمانی حکومت کے خاتمے اور برطانیہ اور  شریف حسین اور وہابیوں کے درميان دو طرفہ تعلقات قائم کرانے میں اس کا بڑا کردار تھا۔ اس شخص کے بارے میں بات کرنے کے لیئے میرے پاس فرصت نہیں۔ کیونکہ میرا ہدف رپورٹ پیش کرنا ہے نہ کہ ایک ایک شخصیت پر بات کرنا اور انکے منفی یا مثبت کردار کو بیان کرنا۔

جس طرح آپ نے دیکھا، کہ اس حصے میں اکثر برطانوی نمائندوں کے بارے میں بات ہوگئی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حجاز میں دوسری طاقتوں کا وجود نہیں تھا۔ فرانسیسیوں نے بھی آہستہ آہستہ لبنان، شام اور فلسطین میں سكولز اور مراكز بنائے، اور عربی ثقافت سے آشنا سٹوڈنس سے استفادہ کیا اور انہیں اس خطے کی طرف بھیجا۔ اور اسی طریقے سے وہ اس سرزمین میں اثرورسوخ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ الویی موسل جو کہ ان چہروں میں سے ایک چہرہ ہے۔ اور ایک مستعار نام شیخ موسی کے ساتھ شمال کی طرف سے اس خطے میں داخل ہوا اور حائل پہونچ گیا۔ وه حکومت آل رشید کے دور میں موجود تھا۔ اور اپنی مکتوبات میں ان کے باقی ماندگان کے بارے میں بات کی ہے۔ اور اس دور حکومت کے بارے میں ہمیں اہم معلومات دی ہیں۔ اس کے باوجود، فرانسیسوں کی کوشش برطانوی کوششوں کی طرح سنجیدہ نہیں۔

دوسرا حصہ: وہابیت کے ظہور کے متعلق مغربی دنیا میں موجودہ مطالعات۔

ہمارا علمی ادراک مغربی مطالعات کے زریعے ہونا چاہیئے جو کسی کتاب، یا دایرة المعارف (انسائيكلوپيڈيا) اور مقالات کی شکل میں موجود ہیں۔ یا تواریخ کے مطالعہ کے زریعے ہونا چاہیئے۔ لیکن ذاتا ہم وہابی تاريخ نگاروں کے ہم فکر نہیں ہیں۔ اور مستقل تاریخ نگاری کی تعداد اور وہابی باتوں سے ہٹ کر، دوسری حکومت کے اول سے آخر تک، یا تو اصلا اسکا وجود ہی نہیں یا نہایت محدود اور کم ہے۔ مصر میں عبد الرحمن جبرتی کی کتاب ان نمونوں میں سے ایک نمونہ ہے۔ وہ کبھی بھی حجاز نہیں گیا، صرف کوچہ اور بازاروں کی رپورٹس کا مطالعہ کیا ہے۔ میں نے عبد الرحمن جبرتی کی کتاب اور اس کے فوائد کے  بارے میں ایک تحقیق انجام دی ہے جو کہ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں چھپ جائے گی۔ کلی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب میں موجود معلومات مفید ہیں لیکن وہابی تاریخ نگاری نہیں۔

کتاب "لمع الشھاب فی سیرة محمد بن عبد الوهاب" بھی وہابی گفتگو سے خارج ہے۔ لیکن اس کتاب کو بعنوان متن تاریخ نگاری قبول نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ یہ کتاب بذات خود مجعول (من گھڑت) ہے اور اسکے مطالب کسی اور زمانے کے لیئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہم نہیں جانتے کہ اس کا منصنف کون ہے۔ اور اس کے لکھنے کے اسباب کو بڑی مشکل سے مشخص کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب تضادات کا ایک مجموعہ ہے۔ دوسری جانب سے، کتاب بالاخر مل گئی اور اس کے ملنے کی نوعیت اور اس کے بارے میں موجود ڈائريکیشنز، ہمارے ہاتھ میں ایک صاف وشفاف تاریخی متن نہیں دے سکتیں۔

یہ تمام مطالب جو عرض کر رہا ہوں وہ در اصل اس بات کے لیئے مقدمہ ہیں کہ آپ کے سامنے یہ بات ثابت کر سکوں کہ ظہور وہابیت کے بارے میں مغربی اکیڈیمک ریسرچز کس حد تک مکتب وہابیت کی شناخت، تاریخ آل سعود اور اس کے بعد انکے بارے میں ہماری طرف سے بہتر مواقف اختیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

 سلفی اسلام شناسی اور گزشتہ دور کے اسلام پسندوں کے نقطہ نظر کے درمیان کیا فرق ہے۔ مثال کے طور متن فیلبی اور ہنری لائیویسٹ کے درمیان کیا فرق ہے؟ یہ ایک جدا بحث ہے اس کو بیان کرنے کے لیئے ابھی فرصت نہیں۔ لیکن میں اس فرض کے ساتھ كہ ہم اس فرق سے آگاہ ہیں، دوسری بحث میں داخل ہوتا ہوں۔

پہلا شخص جس نے وہابیت کے ظہور کے بارے میں تحقیقی کام انجام دیا، وہ ڈیوڈ سموئل مارگولیوث نامی ايك شخص تھا۔ اس سے پہلے کہ  اس شخص اور اس کی مکتوبات کے بارے میں بات کروں، ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کرونگا، اور وہ ہے عنوان "وہابی" اور "وہابیت"۔ وہابیت ایک متنازعہ عنوان ہے جسے خود وہابی پسند نہیں کرتے۔ در اصل، وہ ہماری طرح نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے لیئے عنوان "شیعہ" کو قبول کیا اور اس کے استعمال سے لطف اٹھاتے ہیں۔ بلکہ وہ نام گذاری میں اپنے لیئے دوسرے عناوین جیسے "تحریک موحدون" جو کہ نمونہ (موڈلسٹ) ہے، سے استفادہ کرتے ہیں۔ عنوان "وہابی" کو سب سے پہلے ان کے مخالفین نے استعمال کیا ہے لیکن بعد میں خصوصا رشید رضا جو کہ طرفدار وہابیت تھا، نے اپنی کتاب میں  عبارت (الوہابیون والحجاز) کو اتنا استعمال کیا کہ بعد میں یہ ایک رواج بن گیا۔ اور آخر کار  وہابی اس پر عمل کرنے اور اسے قبول کرنے پر مجبور ہوگئے۔

مارگلیوث نے اسلامی انسائیکلوپیڈیا Encyclopedia of islam کی پہلی ترمیم میں  وہابیت کے بارے میں مقدمہ لکھا اور اس میں کتاب لمع الشھاب سے استفادہ کیا۔ اس کام نے ایک  تنازعہ کھڑا کر دیا  اور جو لوگ اس طرح کی کتاب سے آشنا نہیں تھے وہ بھی اس کا مطالعہ کرنے لگے اور ایسے ماجرا وجود میں لائے جو بعد میں بھی جاری رہے۔

اس کے بعد لائوسٹ کا تذکرہ کرینگے  جو کہ ایک مشہور مستشرق ہے اور فرانس میں اسلام شناسی کی تحقیق میں جنبلی فقاہت کے بارے میں بہت دقیق تحقیقات انجام دی ہیں۔ اس نے بھی اپنی تحقیقات میں عنوان وہابی سے استفادہ کیا ہے۔ اس کے بعد اس عنوان كو مغرب میں اسلام شناسی کی روش میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

لائوسٹ کی کتابیں بہت زیادہ ہیں ان میں سے ایک کتاب "سیاست اور غزالی" کے عنوان سے ہے۔ اور فارسی زبان میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ لائوسٹ کی تحقیقات ابن تیمیہ اور ابن جماعہ کے بارے میں ہیں جن کا فرانسیسی زبان سے عربی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ، جہاں تک میری معلومات ہیں فارسی میں اس کا ترجمہ نہیں ہوا۔

موجودہ روايتى روش کے بارے میں بحث کرنے سے پہلے، اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ مذکوره دو اسلام شناس آنے والی گروہ بندی میں کہیں شامل نہیں۔

مکتب وہابیت کے بارے ميں مغربی محققین کی گروہ بندی

مغربی محققین جو مکتب وہابیت کے بارے میں تحقیقی کام انجام دیتے ہیں، کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ 

1۔ ان محققین میں سے ایک گروہ کو "خالص محقق وہابی" کا عنوان دیا جا سکتا ہے چونکہ وہ صرف مکتب وہابیت کی تحقیق پر لگ گئے اور  فقط تاریخ نگاری کا کام انجام دیا، اور اس کام کو انجام تک پہونچانے کے بعد اس فیلڈ سے خارج ہوگئے۔ اس گروہ کا کسی خاص بات سے تعلق نہیں تھا کہ بعد میں بھی مکتب وہابیت کے روبرو ہوجائے۔

گروه "خالص محققین وہابی" کا پہلا چہرہ مائیکل کوک نامی ایک شخص تھا۔ ممکن ہے اسکو گزشتہ دور کے مغربی خالص اسلامی تحقیقات انجام دینے والے قدیم باقی ماندہ افراد میں سے شمار کیا جائے۔ اور ابھی اس طرح کے افراد باقی نہیں ہیں۔ وہابیت کے بارے میں کوک کی تحقیقات کا نتیجہ چار مقالوں کی شکل میں موجود ہے۔ اور یہ چار مقالے مختلف انتشارات میں چھپ چکے ہیں۔  اس کے بعد ورنر آنڈے کی تحقیقات  کا اصل منبع بن گئے جو اسلامی انسائیکلوپیڈیا کی دوسری طبع کے مقدمے  "وہابیت" ميں ذکر ہوئے ہیں، یعنی جب آپ اس کے ریفرنسسز پہ نگاہ کرینگے تو شروع میں یہی چار مقالے دیکھینگے۔

اس نے واضح اور ناقابل انکار شکل میں اس کی تحقیقات سے استفادہ کیا ہے۔ لیکن مائیکل کوک نے ان چار مقالوں ميں کونسا کارنامہ انجام دیا ہے؟

ان چار مقالوں میں اس نے چار نہایت حساس موضوعات پر بات کی ہے۔ جس وقت تحریک وہابیت پروان چڑھ رہی تھی سفر ابن عبد الوہاب - اس بات سے ہٹ کر کہ وہ ایران گیا کہ نہیں؟ اور کہاں کہاں سفر کیا؟ - ایک نہایت تاثیر گزار اور متنازعہ موضوع تھا؛ کیونکہ اس بنیاد پر ابن عبد الوہاب کے نظریات کو بڑی آسانی سے مشخص کر سکتے ہیں۔ اس وقت نجد میں، ایک بے نام ونشان اور قبائلی اشرافیت سے دور، محمد ابن عبد الوہاب جیسا شخص اتنا بے اہمیت تھا کہ موجودہ تاریخ نگاری کے کسی متن میں اس کا نام تک ذکر نہیں۔ اور  تاریخ نگاری میں وہابیت کی شکل گیری کے بعد، کوئی بھی متن باقی نہیں بچا جو وہابیوں کی تاثیر اور جرح وتعدیل سے پاک ہو؛ اسی وجہ سے مائیکل کوک نے اس مسئلے پر توجہ دی۔ اور ان سوالات کے جوابات سے معلوم ہوا کہ ابن عبد الوہاب نے اپنی دعوت کے اعلان سے پہلے، کس طرح کی زندگی گزاری، اور کہاں سفر کیا؟   اور اس کے تلخ عقائد کہاں ہیں؟

  اس نے اس متن میں، اس موضوع پر غیر جانبدار نگاہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔  لیکن آخر میں، کسی خاص نتیجے تک نہیں پہونچا۔ آغای مدرسی طبابائی جو کہ بزرگ اساتذہ میں سے ہیں، نے امریکہ جانے سے پہلے ایک مقالہ "ایران کے روابط حکومت نجد کے ساتھ" کے نام سے چھپوایا۔ اس مقالے میں انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ابن عبد الوہاب نے ایران کا سفر کیا تھا۔ اس موضوع کو ثابت کرنے کے لیئے انہوں نے تاریخی متون سے شواہد پیش کیئے ہیں۔ لیکن مائیکل کوک نے اس مقالے میں انکی آراء پر نقد کیا ہے اور ابن عبد الوہاب کا ایران، اصفہان، قم، تہران اور کردستان سفر کو مکمل رد کیا ہے۔

 اس مقالے میں مائیکل کوک کا خیال ہے کہ ابن عبد الوہاب نے بصره اور بغداد کا سفر کیا اور شام جانے کا ارادہ کیا کیونکہ شام مکتب وہابیت کے عقائد کا مرکز تھا، لیکن آخر کار مالی مشکلات کی وجہ سے دوبارہ از طریق احساء نجد واپس لوٹا اور وہی پر اپنی دعوت کا اعلان کیا۔ کلی طور پر کہا جا سکتا ہے كہ یہ مقالہ بہت قیمتی ہے اور شاید اپنی جگہ بے نظیر ہے۔

مائیکل کوک کا دوسرا مقالہ بھی نہایت اہم ہے۔ اس مقالے كے تقریبا ساٹھ، ستر صفحات برنارڈ لوئیس کے جشن نامے کے لیئے لکھے گئے ہیں۔ اس مقالے میں واضح کیا ہے کہ مکتب وہابیت اور آل سعود اپنی وسعت کے لیئے منطقہ ہمجوار وشم میں کئی سال بڑی محنت کی۔ (منطقہ ہمجوار نجد ہے اور نجد کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ اور یہ پہلا ہدف ہے جسکی خاطر وہابی اپنی حکومت اور دعوت کی توسیع  کے لیئے وہاں چلے گئے)۔

کوک اس مسئلے کو بیان کرنے کے بعد اس عمدہ سوال کو وہابی تاریخ سے پوچھتا ہے: آپکی گفتگو کے مطابق، شبہ جزیرہ کے تمام لوگوں نے ابن عبد الوہاب کی دعوت کا بڑا استقبال کیا، پس اس سارے عرصے میں  ایک دائمی جنگ رہی اور آخر کار کسی نے بھی اس مکتب کو قبول نہیں کیا، بلکہ تنازعات اور قبائلی صلح صفائی کے زریعے آپس میں اتفاق کیا۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے  جو وہابی تاریخ کے منابع پر مورد نقد ہے۔ اس نے ان مقالات میں استشراق کی بنیاد پر ایک علمی کام کیا ہے اور اسی جہت سے کہتا ہے: ان متون کو سلفی عقیدہ کے مطابق جرح وتعدیل کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ اب ہمیں چاہیئے کہ ہم اصل تاریخ کو ان کے اندر سے باہر لے آئیں۔

مائیکل کوک کا تیسرا مقالہ کتاب لمع الشہاب کے باب "توثیق" (اصلیت کی پہچان) سے مربوط ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں۔ اس مقالے میں دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ یہ محقق وہابیت جو اصالتا برطانوی ہے،  یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کتاب کو ایک شخص بنام حسین بن جمال ریگی جو کہ ایرانی الاصل ہے، نے کپیٹین ٹیلور کے ليئے لکھی ہے، وہ (حسین بن جمال) شیعہ عقائد کی طرف مائل تھا اور اس کا ٹھکانہ بوشہر میں بندر ریگ تھا یا مشرقی شبہ جزیرہ کے علاقے احزاب میں رہائش پذیر تھا۔

اسی طرح وہ پہلی بار بیان کرتا ہے کہ یہ کتاب کیپٹین رابرٹ ٹیلور کے لیئے ایک قسم کی رپورٹ تھی جو ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں کام کرتا تھا اور اس کے بعد بھی اس خطے میں کچھ مسوولیات انجام دیتا تھا۔ در اصل، اس کتاب کے ایرانی الاصل رائٹر نے اسکو کیپٹن ٹیلور کی فرمائش پر لکھی ہے۔ اس وقت تک نہ عربوں نے اس موضوع کی طرف اشارہ کیا تھا اور نہ برطانویوں نے۔ یہ مائیکل کوک تھا جس نے اس دعوے کو بیان کیا اور اس کو ثابت کیا تاکہ برطانوی اس مسئلے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ اس بنا پر،  لگتا ہے کہ ہم -اس پیش بینی کے ساتھ کہ وہ حتما اپنے منفی عقائد کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور خود کو پاک وصاف ظاہر کرتے ہیں- ان منابع کے روبرو نہ ہوجائیں۔ وہ اس لیئے کہ ہمارے پاس مشخص شواہد موجود ہیں۔

مائیکل کوک کا چوتھا مقالہ وہابیت سے پہلے نجد کی تاریخ کی جانچ پڑتال کے ساتھ مختص ہے۔ اس مقالے میں اس نے واضح کیا ہے کہ نجد میں وہابیت سے پہلے کتنے تاریخی متون ہیں۔ در اصل، یہ مقالہ وہابیوں کے ظہور سے پہلے، تاریخ وہابیت کے باب میں ایک  تحقیقی کام ہے۔

2۔ دوسرا گروہ جہان اسلام میں اصلاح پسندی اور حیات نو کے نقطہ نظر کے ساتھ، مکتب وہابیت کے روبرو ہوا۔

یہ گروہ جس نے اس فیلڈ میں بہت زیادہ آثار وجود میں لایا، جغرافیائی لحاظ سے زیادہ تر امریکہ میں متمرکز ہے۔ وہ سب سے پہلے، انقلابی مکاتب فکر یعنی وہ مکاتب فکر جو اسلامی سرزمینوں میں انقلاب، تبدیلی اور اصلاح کے خواہاں تھے، کی شناخت کی خاطر اس فیلڈ میں داخل ہوئے۔ لیکن بعد میں مکتب وہابیت کے روبرو ہوئے۔

اس گروہ کا عمدہ رجحان، جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی بیان، اور اصلاح پسند اعمال کی تجزیہ و تحلیل ہے۔

دوسرے الفاظ میں، اگر جہان اسلام میں کوئی انقلاب آجاتا ہے  تو یہ گروہ اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ یہ ماڈرن ازم سے مقابلے کے نتیجے میں جہان اسلام میں وجود میں آیا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ سید جمال الدین اسد آبادی، محمد عبدہ، رشید رضا، عرابی پاشا اور دوسرے مختلف مکاتب فکر کو، زوال کا زمانہ گزارنے کے بعد، جہان اسلام کا مغربی ماڈرن ازم سے روبرو ہونے کا نتیجہ شمار کرتے ہیں۔ اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ اس انقلاب کے خواہاں تھے تاکہ ان مفاہیم (مغربی مفاہیم) تک پہونچ سکیں۔ اس طرح کی تحقیقات کے معروف چہروں میں سے جون اسپوزیٹیو، جون وول اور نیم نیٹانا ڈی لونگ باس (جو ہمیشہ خطےميں خصوصا سعودی عرب میں تقرير کرتا ہے) ہیں۔ برنارڈ ہیکل جو کہ ایک زمانے میں امریکہ کا وزیر خارجہ تھا، بھی کسی طرح اس فیلڈ میں شامل ہے۔ عرب دنیا کے محققین کے درمیان اس گروہ کا نفوذ، ان محققین کی تحققیات میں اس طرح کا عمل متسلط ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ احمد دلال جو کہ کئی سال تک  بیروت میں امریکن یونیورسٹی کے صدر رہے اور شام میں تازہ پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے امریکن یونیورسٹیز کے سٹودنٹس نے اس کے خلاف شورش کی۔ اور بشیر نافع جو کہ ایک ڈاکٹر ہے اور سلفی رجحانات کے ساتھ کام کرتا ہے، ان آثار کے شاہد ہيں۔

اس حصے کے آخر میں جون اسپوزیٹیو اور جون وول میں سے کسی ایک کے آثار کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے جو کہ "جنبش ھای اسلامی معاصر اور اسلام ودموکراسی" کےعنوان سے فارسی ترجمے کے ساتھ نشر ہو چکے ہیں۔

3۔ تیسرے گروہ کو میں "محققین تصوف" کا نام دونگا۔  یہ گروہ تحقیقی مکاتب سے منسلک ہے جس نے متاخر اسلامی صدیوں کے تصوف پر ایک تعین کردہ اور اثرگزار گروہ کی حیثیت سے توجہ دی۔ تصوف کے محققین کی تحقیقات جغفرافیائی لحاظ سے مقبوضہ فلسطین میں متمرکز ہیں۔ اور اہم چہرے جیسے آلبرٹ حوارنی اس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔  اور آلبرٹ حورانی کے ساتھ دوسرے افراد جیسے پطرس ابو منہ، جورج مقدسی اور اسحاق  وایز مین کا نام لینا بھی ضروری ہے۔

جس وقت وہابیت کے بارے میں بات ہوگئی اور محمد بن عبد اللہ نے کتاب التوحید میں اپنے نظریات بیان کر دیے، تو واضح ہوگیا کہ یہ مکتب فکر جہان اسلام کے دو اصل مکاتب یعنی تصوف اور تشیع، سے بہت اختلاف رکھتا ہے۔  اور انہیں بدعت کے اصلی مصادیق شمار کرتا ہے۔ لیکن بعد والے عرصے میں خصوصا عراق حتی یمن میں بھی، وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرنے لگے۔ اصلاح پسند مکاتب فکر اور سلفی ابن عبد الوہاب سے پہلے مکتب تصوف کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے تھے۔ اور سب کے سب تصوف سے ایک قسم کا لگاو رکھتے تھے۔

 

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ