سویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد "وسطی ایشیا میں بنیاد پرستی اور تشدد میں اضافہ" ان مسائل میں سے ایک ہے جس سے اس خطہ کے ممالک روبرو تھے ؛ اس مسئلہ کو مختلف زاویوں سے جانچا گیا ہے اور مختلف محققین نے اس مسئلہ کے وجود میں آنے کے " سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی وجوہات " کی نشاندہی کی ہے۔ اس تحقیق کا مقصد بیرونی عوامل کی جانچ پڑتال من جملہ وسطی ایشا میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی میں سعودی عرب کا کردار ہے۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سعودی عرب نے وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر کوشش کی ہے؛ زیادہ تر کوششیں، تشخص اور شناخت کی بحالی کے حربہ سے استفادہ کرکے وسطی ایشیا کے خطہ میں سعودی عرب کے مدنظر گروپوں کی فعالیت کوکنٹرول میں رکھنے سے متعلق تھیں۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کے سالوں میں ان گروپوں کی بیشتر فعالیت ایسی سوچ پر مبنی تھی جس کی جڑوں کو سعودی عرب کے فکری محفلوں میں تلاش کرنا چاہیے؛ اس تحقیق کا بنیادی سوال یہ ہے کہ " سعودی عرب کی حکمت عملی، کس طرح وسطی ایشیا میں تشدد بڑھانے کا باعث بنی ؟ " تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے سویت کے ٹوٹنے کے بعد سعودی عرب نے اس خطہ میں وہابیت پھیلانے کے ذریعے وسطی ایشیا کے اسلامی گروپوں کو اپنا تشخص بحال کرنے سے منحرف کر دیا، دوسرے گروپوں کے مقابلے میں وہابی مکتب فکر کی اہم خصوصیت تحمل اور برداشت کا نہ ہوںا ہے اور یہی بات وسطی ایشیا میں تشدد کے بڑھ جانے کا باعث بنی ہوئی ہے۔
مصنف :  مهدی هدایتی شهیدانی1؛ عسگر صفری2  1 گیلان یونیورسٹی کےعلوم سیاسی گروپ کا استاد  2 گیلان یونورسٹی میں بین الاقوامی روابط میں پی ایچ ڈی کا طالب علم

 

 بنیاد پرستی کی نشو نما اور اس کے نتیجے میں وسطی ایشیا میں شدت پسندی کا پھیلاؤ، ان موضوعات میں سے ایک ہے جسکو خطہ کے ممالک نے سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد مختلف شکلوں میں دیکھا ہے؛ آج تک ان ممالک کے اہم ترین اہداف میں سے ایک شدت پسندی کے سنگین نتائج کو روکنا ہے۔ لسانی، سیاسی، دہشت گردانہ اور انقلابی شدت پسندی من جملہ ان شدت پسندیوں میں سے ہے جو سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کے سالوں میں وسطی اشیا کے خطہ میں یکے بعد دیگرے دیکھا گیا ہے، اس دوران محققین نے  مختلف مطالعات میں شدت پسندی کے وجود میں آنے کے سیاسی ، اقتصادی ، ثقافتی، اجتماعی وجوہات  اور اسی طرح بیرونی عوامل کے کردار جو کہ امریکہ جیسے عالمی سطح کے قدرتمند کھلاڑی کے اقدامات کو خاص طور پر 11 ستمبر کے بعد آنے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا ہے؛ اس قسم کی تحقیقات میں جس چیز سے غفلت کی گئی ہے وہ اپنی شناخت کے لیے لڑنے والوں کے کردار کو نظرانداز کرنا، خاص طور پر سعودی عرب جیسے ممالک  کا وسطی ایشیا میں اسلام پسند تحریکوں کو منحرف کرنے اور انکو خطہ میں شدت پسندانہ کاروائیوں کی ترغیب دینا ہے؛ اس تحقیق کا مقصد، وسطی ایشا سے متعلق مطالعات میں موجود اس خلا کو پر کرنا ہے۔

سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد وسطی ایشیا میں شناخت اور تشخص کا خلا پیدا ہونے کی وجہ سے خطہ اور خطے سے وسیع پیمانے کے متعدد کھلاڑیوں نے یہ کوشش کی کہ اپنی ثقافت اور تشخص، وسطی ایشیا کے خطہ تک پھیلا دیں۔ وسطی ایشیا اور قفقاز کے خطہ کی اسلامی تاریخی حیثیت کی وجہ سے ایران، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان جیسے ممالک من جملہ ان ممالک میں سے تھے جو سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ اس خطہ میں اپنی مرضی کا اسلام رائج کرنے کے ذریعے خطہ کی اسلامی تحریکوں کو اپنے مفاد میں استعمال کرسکیں، ایران اور ترکی ان ممالک میں تھے جو وسطی ایشیا کے ساتھ سویت یونین کی تشکیل سے پہلے تاریخی اور ثقافتی روابط کی وجہ سے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط برقرار کرنے کے لیے مناسب ذرائع سے بہرہ مند تھے؛ سعودی عرب اور پاکستان مذکورہ ممالک کے برخلاف چونکہ ثانوی کھلاڑی شمار ہوتے تھے وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے مجبور تھے کہ ایسے گروہوں سے روابط قائم کریں جو بہت سے میدانوں میں اجتماعی امور سے دور رکھے گئے تھے اور شدت پسند اقدامات میں ان کا ہاتھ ہوتا تھا؛ اس بات کے پیش نظر یہ تحقیقی مقالہ اس سوال کا جواب دینے کے درپے ہے کہ " سعودی عرب، وسطی ایشیا میں کس طرح شدت پسندی کے پھیلاؤ کا باعث بنا ہے ؟ "

اس تحقیق میں وسطی ایشیا میں سعودی عرب کی فعالیت کا تجزیہ و تحلیل کے لیے کنسٹرکٹویزم کے نظریہ سے استفادہ کیا گیا ہے کیونکہ اس بات کے معتقد ہیں کہ  بین الاقوامی روابط کے حوالے سے بہت نظریے جیسے ریالیزم اپنی تمام اقسام کے ساتھ اور لبرل ازم  وغیرہ  جیسے نظریوں میں وسطی ایشیا اور قفقاز کے داخلی مسائل کا تجزیہ و تحلیل کی قدرت میں کمی ہے، ان نظریوں کی بنیاد پر وسطی ایشیا اور قفقاز میں فعال افراد کے تشخص اور شدت پسندی کے وجود میں آنے میں سعودی عرب کے کردار جیسے مسائل کا تجزیہ و تحلیل نہیں کر سکتے

الف- نظری بنیادیں: کنسٹرکٹویزم

بین الاقوامی روابط سے متعلق نظریوں کی ادبیات میں کنسٹرکٹویزم ان مکاتب فکری میں سے ایک ہے جو استدلال کرتا ہے، بین الاقوامی روابط کی قابل توجہ مقدار، تاریخی ہے اور اجتماعی صورت میں تشکیل پائی ہے کنسٹرکٹویزم کی بنیاد وہ تیسرا مناظرہ ہے جو 1980 میں بین الاقوامی روابط کے متعلق عقلانیت پسند نظریوں اور انتقادی نظریوں کے درمیان جاری تھا؛ اس مناظرہ میں کنسٹرکٹویزم نے دیگر انتقادی نظریوں -جیسے  مابعد تجدد، فمینیسٹ نظریات اور کوپنہاگ کا مکتب فکرـ کے ساتھ  اپنی بعض مشترکہ خصوصیات کی وجہ سے عقلانیت پسندوں پر بعض اعتراضات کیے ہیں۔

کنسٹرکٹویزم، تین اہم جہات میں عقلانیت پسندی کے مقابلے میں قرار پاتی ہے

پہلی جہت یہ ہے کہ عقلانیت پسند یہ فرض کرتے ہیں کہ فعال افراد خود محور یونٹس ہیں لیکن  کنسٹرکٹویزم کے حامی، فعال افراد کو شدت سے اجتماعی سمجھتے ہیں

دوسری جہت یہ ہے کہ کنسٹرکٹویزم کے معتقد افراد بہ جائے اس کے فعال افراد کے مفادات کے لیے بیرون زائی کے قائل ہوجائیں یعنی مفادات کی تشکیل کو اجمتاعی تعامل پر مقدم سمجھیں، ان تعاملات کی نسبت مفادات کو درونی سمجھتے ہیں یعنی معتقد ہیں کہ تشخص حاصل کرنے کے نتیجہ میں مفادات حاصل ہوتے ہیں، ارتباطاتی عمل کے راستے، تجربوں پر غور فکر اور منصوبوں پرعمل درآمد کرنے کا ہنر سیکھا جاتا ہے

تیسری جہت یہ ہے کہ عقلانیت پسند افراد سماج کوایک اسٹریٹجک میدان سمجھتے ہیں یعنی ایسا مقام  جہاں پر فعال افراد عقلانی انداز میں اپنے مفادات کے درپے ہیں، جبکہ کنسٹرکٹویزم کے معتقد افراد اسکو ایک تکوینی اور قدرتی محدودہ سمجھتے ہیں یعنی ایسا میدان جو فعالوں کو اجتماعی اور سیاسی کارکنوں کے طور پر سامنے لاتا ہے؛ ایسا میدان جو انکو وہی بناتا ہے جو وہ ہیں۔

 (Burchill et all, 2005: 199)

کنسٹرکٹویزم سے متعلق نظریوں کا مرکزی نقطہ ہستی شناسی کے مباحث سے تشکیل پاتا ہے۔ کنسٹرکٹویزم، نے معرفت شناسی( ماڈرن ازم کے دوران غالب تفکر) سے بحث کی سطح  کو بلند کرکے بحث کا موضوع ہستی شناسی تک لایا،ہستی کی موجودیت ، معرفت، انسان، اخلاق ، کو ذاتی سمجھنے سے قواعد اور حقیقت کو ایسے موضوع میں تبدیل کرتا ہے جس کر بارے میں سوچا جائے اور ہستی اور اسکی موجودیت کو اس نگاہ سے دیکھنے کی طرف مائل ہے کہ ہستی وجود میں آرہی ہے نہ کہ ایک ثابت موجود ہے۔(معینی علمداری، راسخی، 1389: 191)  

 مشیر زادہ معتقد ہے کہ کنسٹرکٹویزم کے حامیوں کی توجہ تفکرات، معانی، قواعد، ارزشوں اور رویوں کی طرف ہے کنسٹرکٹویزم، کے حامی، فکری عوامل کے تکوینی کردار پر زور دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بین الاقوامی روابط پر حاکم مادہ گرائی کے مقابلے میں لا کھڑا کرتی ہے اور ساتھ ساتھ مادیت کی واقعیت کو ماننے کی وجہ سے ما بعد قالب گرائی کا نظریہ رکھنے والوں سے جدا کرتی ہے۔(مشیرزاده، 1389: 324). مادی عوامل کے مقابلے میں فکری اور ارزشی قالبوں کی اہمیت، فعالوں کے تشخص، قالب اور کارگزار کی بحث، ہستی شناسی کی ان مباحث میں سے ہے جن کے بارے میں کنسٹرکٹویزم،  نظریات بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ھویت[1]  اور تشخص ان موضوعات میں سے ایک ہے جس کو کنسٹرکٹویزم کا ںظریہ بہت اہمیت دیتا ہے۔ ونٹ معتقد ہے اپنے بارے میں سوچ اور توقعات کا ایک خاص کردار ہے۔ تشخص کو سماج سے جدا نہیں کر سکتے ہیں، اجتماعی تشخص، معانی کا مجموعہ ہے جسے ایک سیاسی کھلاڑی دوسروں کے ساتھ مقایسہ کرتے ہوئے اپنی طرف نسبت دیتا ہے جو اپنے لحاظ سے ایک اجتماعی موضوع ہے، سیاسی کھلاڑی،بہت ساری اجتماعی ھویتوں کے حامل ہیں جو بہت سارے مقامات پر رک جاتی ہیں، اسکے علاوہ اجتماعی تشخص، فردی و اجتماعی قالبی خصوصیات کا حامل ہے؛ یہ خصوصیات، سیاسی کھلاڑیوں کی شناخت کے حوالے سے بنیادی معلومات ہیں جو سیاسی کھلاڑیوں کے لیے اجتماعی ڈھانچے میں اپنا کردار ادا کرنے کو ممکن بناتی ہیں جسکی وجہ سے وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اپنے آپ سے پوچھیں کہ میں کوں ہوں؟ / ہم کون ہیں؟ (هادیان، 1382: 921).

ونٹ جیسے کنسٹرکٹویزم کا نظریہ رکھنے والوں کی نگاہ میں حکومتوں اور افراد کے مفادات تشکیل دینے میں بنیادی کردار ھویت اور تشخص کا ہے، سیاسی کھلاڑیوں کے پاس منافع حاصل کرنے کے لیے پہلے سے تیار شدہ  ایسے منصوبے نہیں ہیں جن سے مستقل طور پر اجتماعی میدان میں استفادہ کریں، اس کے بجائے، سیاسی کھلاڑی اپنی منزلت کو پہچنواتے ہوئے اپنے مفادات، حاصل کرتے ہیں

محرکات ایسے درجہ کی عکاسی کرتے ہیں جس میں افراد بشر، اجتماعی عمل میں شرکت کرنے والوں کے عنوان سے ضرورت کے مطابق اپنے آپ کو دوبارہ پہچنواکر مشکل صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہی طریقہ ہے جو خاص اقدامات کے لیے راہ ہموار کرتا ہے؛ یہ اقدامات عام طور پر کم یا زیادہ پیش بینی کے ساتھ اس اقدام کے نتائج کے ہمراہ ہے۔ جب اپنے  مقام کی تعریف انجام پائے تو انسان کے اعضاء، کام انجام دینے اور منافع حاصل کرنے کے لیے لازم انرژی کو آزاد کرتے ہیں۔(Wendt, 1992: 398)

کنسٹرکٹویزم کا نظریہ رکھنے والے استدلال کرتے ہیں کہ افراد یا حکومتیں داخلی یا بین الاقوامی میدان میں جس قسم کا بھی تشخص اختیار کریں ایک طرح کے مفادات کا حامل ہوتا ہے؛ نمونہ کے طور پر یونیورسٹی سے منسلک ہونے سے انسان کے لیے خاص مفادات حاصل ہوتے ہیں(مثال کے طور پر تحقیق اور اسکو منتشر کرنا)  اور ایک بادشاہ کا تا حیات بادشاہ ہونا بہت سارے مفادات کا حامل ہے( مثلا اپنی سرزمیں میں مذہب کو کنٹرول کرنا،اس سرزمین میں جانشینی کے حقوق سے بہرہ مندی اور قوم پرست تحریکوں کو کچلنا) اسی طرح آج کے دور میں لبرل ڈیموکریٹ ہونا، اقتدار پسند حکومتوں کے مقابلے سستی نہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور ایسی سرمایہ داری کو ترجیح دیتا یے جس میں اجناس کی قیمت حکومتی قوانیں کے کنٹرول میں نہ ہو  (برچیل و همکاران، 1391: 185). کنسٹرکٹویزم کا نظریہ رکھنے والوں کی نگاہ میں ہر قسم کا اجتماعی کام من جملہ مفادات کے حصول کے لیے جد و جہد کرنا ، تفسیر، جواب گوئی اور علامت بھیجنے کے عمل پر مشتمل ہے جس میں مشترکہ آگاہی حاصل ہو کر ممکن ہے اجتماعی علم حاصل ہو؛ بنابریں مفادات، ایک تعاملی عمل پر مشتمل ہیں اور اجتماعی روابط کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں

کنسٹرکٹویزم کا نظریہ رکھنے والے من جملہ ونٹ، سیاسی کھلاڑیوں(افراد اور حکومتیں) کے مفادات کے  تعین کے حوالے سے تشخص اور ھویت کی ایک سادہ تعریف کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اکثر و بیشتر اپنے آپ کو دوسروں کے ساتھ مقایسہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے؛ اس نظریہ کے مطابق تشخص اور ھویتیں سیاسی کھلاڑیوں کے مفادات ہیں جو اپنی جگہ سیاسی کھلاڑیوں کی رفتار پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں؛ دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں: کنسٹرکٹویزم کا نظریہ رکھنے والوں کی نظر میں تشخص اور ھویتیں سیاسی کھلاڑیوں کے مفادات ہیں اور مفادات، رفتار اور اقدامات کا سرچشمہ ہیں؛ اسی وجہ سے، حکومتوں کے ایسے مفادات نہیں ہیں جو اجتماعی حالات کے گرد گھومیں بلکہ اپنے مفادات کو حالات کے ساتھ ساتھ اور جو کردار ادا کرتے ہیں اسی حساب سے معین کرتے ہیں،در اصل جب ایک حکومت داخلی یا خارجی تبدیلیوں کی وجہ سے اپنا سابقہ تشخص کھو بیٹھے تو وہ تشخص اور ھویت کے بحران سے دوچار ہوتی ہے،ان میدانوں میں سے ایک اہم ترین میدان جہاں یہ بحران پیدا ہوتا ہے وہ خارجی رفتار اور تبدیلیاں ہیں۔(حسینی و همکاران، 1395:84).

 

شکل 1، بین الاقوامی میدان میں حکومتی مفادات پر تشخص اور ھویت کی تاثیر کی کیفیت کو دکھاتا ہے                 

(Alexsandrov, 2003: 38)

کنسٹرکٹویزم کے تفکر میں تشخص کی تبدیلی اور نئے تشخص کے تشکیل پانے کا عمل، حکومتوں کی اجتماعی زندگی کا بیشتر حصہ ہے ، کنسٹرکٹویزم کے معتقد افراد من جملہ ونٹ معتقد ہے کہ تشخص چونکہ معاشرے سے وجود میں آتا ہے لھذا نسبی ہے جس کی وجہ سے رفتہ رفتہ اس میں تبدیلی بھی آسکتی ہے،ونٹ کی نظر میں  تشخص کی تبدیلی کے لیے بہترین طریقہ تشخص کے لیے آگاہانہ تلاش و کوشش پر مبنی ہے، ممکن ہے کہ انسان  ارادہ کرے اور نئے کام انجام دے۔ چونکہ تعامل کے دوران جدید رفتار، مخاطب پر اثر انداز ہوتا ہے اور یہی امر جدید روش کے ساتھ رفتار میں تبدیلی کا باعث ہے یہ سلسلہ فقط رفتار کی تبدیلی سے مربوط نہیں ہے بلکہ تشخص کی تبدیلی پر مشتمل ہے، چونکہ تبدیل شدہ تشخص انسان کے اعمال کی عکاسی کرتا ہے، اعمال کی تبدیلی اپنے مفہوم اور دیگر مفاہیم پر اثرانداز ہوتا ہے

 (.Guzzini and Leander, 2005:99)

کنسٹرکٹویزم کے معتقد افراد کے نقطہ نظرات سے خاص طور پر ونٹ کے نقطہ نظر سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر حکومتوں کی رفتار کا تعین کے لیے مہمترین عامل تشخص ہے، اس کی نظر میں تشخص ایسی خصوصیت ہے کہ حکومتیں غرض مند فعالوں کے عنوان سے اس کی حامل ہیں جو انکی تمایلات اور رفتار کی باعث ہوتی ہے، دوسرے الفاظ میں تشخص ایک سطح کی خصوصیت ہے جس کی بنیاد پر فعال افراد کو سمجھا جاتا ہے اور ایک خاص دنیا کے دائرے میں اجتماعی طور پر تشکیل پاتا ہے اور معنی پیدا کرتا ہے (منصوری مقدم، 1391: 81)

 اس طرح کے عمل کو وسطی ایشیا میں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے لیے تصور کیا جاسکتا ہے۔ خطہ کے دیگر سیاسی کھلاڑیوں خاص طور پر ایران  کے مقابلے میں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ایک منفرد تشخص سے متاثر ہے جسے سعودی عرب  اپنے لیے منتخب کرتا ہے۔ عثمانی سلطنت کا خاتمہ موجب بنا کہ مشرق وسطی کے ممالک اپنے ھویتی اور آیئڈیالوجی کے خلا کو مذہب سے پر کریں؛ اسی وجہ  عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب  کو ھویت اور تشخص بخشنے میں مذہب کا کردار نمایا ہے؛ اس وقت جس چیز نے اس حکومت کے تشخص کو خطہ کے دیگر ممالک، خاص طور پر ایران کی شیعہ حکومت سے متمایز کیا ہے وہ مذہبی نظام ہے جو وہابی آئین اور افکار پر مبنی ہے۔ سعودی عرب نے اپنے قومی اور عربی تشخص سے تمسک کر کے سب سے پہلے اپنے آپ کو خطہ کے غیر عرب ممالک یعنی ایران، ترکی اور اسرائیل سے جدا کیا، پھر دین کو تشخص دینے والے اصلی سرچشمہ کے عنوان سے تقویت دے کر عربوں کے درمیان اپنے لیے ایک "منفرد تشخص" ایجاد کردیا (اختیاری امیری، 1394: 131)

یہی منفرد اور متمایز تشخص بہت حد تک بہت سارے علاقوں میں من جملہ وسطی ایشیا میں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی تعیین کرنے کا باعث ہوتا ہے؛ وسطی ایشیا میں تشخص کے لیے فعالیت کرنے والوں کے مقابلے میں سعودی عرب کی اس پالیسی میں اتار چڑھاؤ مختلف اوقات میں مختلف تھا لیکن ایران کے مقابلے میں خاص طور پر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایک ثابت پالیسی رہی ہے۔ سویت یونین کے خاتمہ کے بعد وسطی ایشیا میں ھویت اور تشخص کا خلا پیدا ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کوشش کر رہا تھا کہ اپنا منفرد تشخص ادھر بھیج کر ایران کے شیعہ اسلامی تشخص کے مقابلے میں وسطی ایشیا میں ایک نیا توازن ایجاد کرے؛ وسطی ایشیا میں فعالیت کرنے والوں کی ھویت تبدیل کرنے کے سعودی عرب کی یہ کوشش، خطہ میں عمدہ تبدیلیوں کی باعث بنی جس کے اہم ترین نتائج میں سے ایک وسطی ایشیا میں شدت پسندی میں اضافہ  اور مزید تشدد بڑھنے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ اصلی بحث( وسطی ایشیا میں شدت پسندی کے مزید مواقع فراہم کرنے میں سعودی عرب کا کردار) کو شروع کرنے سے پہلے وسطی ایشیا میں سویت یونین کے بعد شدت پسندی اور اسکے بڑھاؤ کے حوالے سے تاریخی پس منظر بیان کرنا ضروری ہے

 

ب-  وسطی ایشیا میں شدت پسندی وجود میں آنے کے مواقع: ایک تاریخی نظر

وسطی ایشیا کا خطہ ان خطوں میں سے ایک ہے جو اپنے خاص محل وقوع  اور منفرد اجتماعی حیثیت کی وجہ سے ہمیشہ شدت پسندی وجود میں آنے کے لیے آمادہ ہے؛ وسطی ایشیا میں مختلف ادوار میں اس شدت پسندی کو بڑھانے کے مواقع ۔ اقتصادی، مذہبی ، سیاسی، اجتماعی اور بین الاقوامی جیسے مختلف عوامل سے متاثر تھے؛ اسلام سے پہلے ، وسطی ایشیا میں انواع و اقسام کی  شدت پسندی، اقتصادی مقاصد کے لیے تھی، اس دواران خانہ بدوش گروہ شہروں پر حملہ کرکے رہائشی علاقوں میں پائے جانے والے اجناس کو لوٹتے تھے؛ یہ اقدامات  اعتقادات کی وجہ سے انجام پاتے تھے جو اس طرح کے طرززندگی کی حمایت کرتے تھے، وسطی ایشیا میں اسلام کے داخل ہونے اور وسطی ایشیا کا کنٹرل اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے  مختلف سلطنتوں کے درمیان رقابت کی فضا قائم ہونے سے اس خطہ میں تشدد کو ہوا دینے والے عوامل کا  رخ مذہبی اور دینی موضوعات کی طرف ہوا(Ian Ross, 2011: 63۔

 وسطی ایشیا پر تسلط جمانے کے لیے عباسی خلیفہ  اور چین کے ٹانگ خاندان کے درمیان ہونے والی تالاس کی جنگ، خطہ میں عوامی سظح پر اسلام کی طرف آنے کا اہم موڑ ہے۔(Haghnavaz and Alerasoul, 2014:127 ) دسویں صدی میں ترک کے خانوں نے اسلام قبول کیا، تیرویں صدی میں مغلوں نے وسطی ایشیا پر حملہ کیا اور یہ خطہ مغل حکومت کے تحت آگیا۔ ملکوں کو فتح کرنے کے لیے مغل حکمرانوں کی جاہ طلبیوں اور مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کی وجہ سے وسطی ایشیا، ایک مدت تک خانہ جنگی اور فسادات کا شکار رہا۔

وسطی ایشیا پر مغلوں کا حملہ تین ادوار میں تقسیم ہوتا ہے

پہلا دور (1206 تا 1227): چنگیزخان کا وسطی ایشیا میں داخل ہونا اور خوارزمشاہی سلطنت پر قبضہ جمانا 

 دوسرا دور(1229 تا 1241): وسطی ایشیا میں مغل حکومت کی پایہ داری اورپھیلاؤ اور اکتای کی حکمرنی کا دور

تیسرا دور (1249 تا 1251): منگوک خان اور کوبیلای خان کی حکمرانی کا دور ہے جو مغل حکومت کے صلح کا دور ہے(Marley, 2013: 4۔

وسطی ایشیا میں شدت پسندی کو بڑھانے والے عوامل میں سے ایک عامل، وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے  عثمانی سلطنت اورایران کے صفوی خاندان کے درمیان رسہ کشی اور رقابت تھی۔ صفوی حکومت، عثمانی سلطنت کی عالمی جاہ طلبیوں کا مقابلہ کرتی تھی  جن میں سے ایک وسطی ایشیا تھا، بہت سے مقامات پر عثمانی سلطنت صفوی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے صفوی حکومت کے دیگر دشمنوں کا دامن تھام لیتی تھی، من جملہ شمال میں شیبانیوں اور بحرہند کے ساحل میں مقامی حکمرانوں اوردہلی کے سنی مذہب، مغل حکمرانوں سے مدد لیتی تھی۔(.(Aksan,2014:31

صفوی حکومت کی طرح عثمانی سلطنت بھی وسطی ایشیامیں اپنا نفوذ بڑھانے کے درپے تھی، عثمانی سلطنت کی تشکیل سے ہی اس سلطنت کے بادشاہون نے سمرقند، بخارا، بلخ، اور خیوہ اور اسی طرح ایران اور وسطی ایشیاکے کے درمیان واقع علاقوں کے ساتھ ڈیپلومیٹک روابط قائم کرنے کی کوشش کی ہے؛ اسکی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ عثمانی سلطنت ان علاقوں میں تخت و تاج حاصل کرکے مشترکہ دشمن ( پہلے ایران اور بعد کے سالوں میں روس) پر حملہ کرنا چاہتی تھی (Quataert, 2005: 86 )

وسطی ایشیا میں روس کی تزاری سلطنت کا اثر و رسوخ بڑھنے سے وسطی ایشیا میں شدت پسندی کی راہیں مزید ہموار ہونے لگیں، وسطی ایشیا میں تزاری سلطنت کے قدم رکھنے کے بعد اس خطہ میں بڑی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ بڑھانے کی رقابت تھی بلکہ مذہبی، اور قومی موضوعات کے حوالے سے تزاری سلطنت کی پالیسیاں مذہبی اوراینٹی روس تحریکیں وجود میں آنے کی باعث ہوئیں جو بالآخرہ لسانی اختلافات کا باعث ہوئیں، انیسویں صدی میں  پورے وسطی ایشیا میں اینٹی روس تحریکیں روس کی حاکمیت کے خلاف ایک رد عمل کے طور پر سامنے آئیں، اہم ترین ہنگامے 1916 کو ہوئے جس کے دوران قزاق اور روسی پناہ گزین زمین اور پانی کے حوالے سے  لسانی جھگڑوں کے تحت ایک دوسروں سے روبرو ہوئے، روس کی تزاری فوج نے ان اختلافات کے حوالے سے سخت رد عمل دکھایا اور تین لاکھ قزاق کو پہاڑوں یا دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا  (‌Peimani, 2009:124)

سویت یونین میں بالشویک کی حکومت آنے سے وسطی ایشیا میں شدت پسندی کے شکل و صورت کے مختلف پہلو سامنے آئے؛ درحقیقت سویت یونین ، برسر اقتدار آنے کے بعد، اس حکومت نے بہت سارے ادروں ، اور دینی اعتقادات من جملہ اسلامی اعتقادات پر خطہ میں پاپندی لگا دی، ثقافتی اور لسانی اختلاف سے قطٰع نظر تمام شہریوں کو ایک گروپ میں قرار دیا اور اراضی کی اصلاحات  کے ذریعے زراعتی زمینوں کو دوبارہ تقسیم کر دیا  تمام تر توجہ زراعت اور مال مویشی کی پرورش پر مرکوز کرنے سے قحط پڑ گئی جس کے نتیجےمیں ہزاروں افراد مرگئے یا چین اورمغولستان و غیرہ جیسے ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت کی، سویت یونین کے راہنماؤں من جملہ اسٹالین کی طرف سے لوگوں کو دبانے کی پالیسی، مقامی راہنما،  برجستہ افراد اور ثقافتی اور اجتماعی بنیادوں کی نابودی کا باعث بنی  (Sievers, 2013: 5).

سویت یونین کے بکھرنے اور اسکے نتیجے میں وسطی ایشیا کے ممالک کو آزادی ملنے سے وسطی ایشیا میں  نہ صرف شدت پسندی کے مواقع نابود نہیں ہو گئے بلکہ نئے چلینجزوجود میں آنے کی وجہ سے وسطی ایشیامیں شدت پسندی کی مقدار میں اضافہ ہوا۔

وسطی ایشیا میں شدت پسندی کی افزائش میں مؤثر، اہم ترین امور مندرجہ ذیل ہیں: "وسطی ایشیا میں مدنی معاشرہ جنینیی مرحلے میں تھا" اور وسطی ایشیا کی حکومتیں مرکزی اقتدار کا خلا پر نہیں کر سکتی تھیں ؛ مخالف نظریات کو دبانا اور بہت سے مقامات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا، سماجی بےثباتی کا باعث بنا تھا، بنیادی صنعتوں کے فقدان کے ساتھ ساتھ بہت سے علاقوں میں بے فائدہ زراعت،ایسی آبادی وجود میں آنے کا باعث ہنی جو اپنے اخراجات پورا نہیں کر سکتی تھی؛ قدرتی وسائل(من جملہ تیل، گیس اور پانی) کی غیرعادلانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ ان سے درست استفادہ نہ کرنا اور صحیح مدیریت کا فقدان، اقتصاد اور جیوپولیٹیکس میں اختلافات کا باعث بنا تھا ، پورے خطہ میں جا بجا مختلف اقوام کی موجودگی اور ایک متحدہ اور منطقی سوچ کے فقدان نے قومی اور ثقافتی اختلافات کو مزید بڑھا دیا تھا، سویت یونین کے بکھرنے کے بعد مذہبی اعتقادات کا احیاء من جملہ اسلام ، سے مذہبی شدت پسندی کے لیے راہ ہموار ہوئی تھی (Kortunov, ، 1998: 2-4).

سویت یونین کے بکھرنے اور  اسکے بعد کے سالوں کو شدت پسندی کی ماہیت تبدیل ہونے کا مرحلہ قرار دے سکتے ہیں، اس معنی میں کہ اگر سویت یونین کے بکھرنے سے پہلے ، اقتصادی، سیاسی اوراجتماعی مسائل، شدت پسندی کی نوعیت اور مقدار کو متعین کرتے تھے تو اس مرحلہ کے بعد ھویت اور تشخص سے متعلق مسائل بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، سویت یونین کے بکھرنے سے لین دین کی فضا(کنسٹرکٹویزم کے نظریہ کے مطابق) متزلزل ہوگئی، قومی تشخص کی ناقص شکل و صورت اور اسکے نتیجے میں قومی تشخص کی ایک واضح تعریف کا نہ ہونا، باعث بنا کہ خطہ کی مختلف ھویتوں(اسلامی، روسی اور ترکی) کا وسطی اشیا میں سب بڑے مکتب میں تبدیل ہونے کی کوشش سے وسطی ایشیا میں شدت پسندی میں اضافہ ہو

1-سویت یونین کا بکھرنا اور وسطی ایشیا میں ھویتی مسائل(شدت پسندی کو بڑھانے والے ایک  مسئلہ کے عنوان سے)

سویت یونین کا بکھرنا من جملہ اہمترین تبدیلیوں میں سے ایک ہے جو وسطی ایشیا میں ھویتی مسائل سامنے آنے کے متعلق اہم کردار رکھتا ہے، سویت یونین کے بکھرنے کا مطلب صرف ایک حاکم، سیاسی اور اقتصادی نظام بکھرنا نہیں تھا بلکہ ثقافتی اور آئڈیالوجی کی بنیادیں بھی بکھر گئی تھیں، سویت یونین کے بکھرنے سے پہلے وسطی ایشیا اور قفقاز کے خطہ میں بہت ساری اخلاقی، اجتماعی اورھویتی بنیادیں بھی نابود ہوگئی؛ سویت یونین کے بکھرنے سے پہلے وسطی ایشیا کے خطہ میں بہت ساری چھوٹی چھوٹی ثقافتیں من جملہ مذہبی ھویت، قومی ھویت(  ترکی، ایرانی، روسی وغیرہ) سویت یونین میں ضم ہوگئی تھیں اور اپنا وجود ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتی تھیں؛ اس متحدہ نظام کے بکھرنے کے بعد دبائی ہوئی اقلیتی ھویتیں ایک دوسرے کے بعد سر اٹھانے لگیں اور وسطی اشیا میں ھویتی مسائل کا باعث بنی؛  اس ثقافتی ، آئیڈیالوجی اور سماجی طور پر پیدا ہونے والے ناگہانی خلا میں وسطی ایشیا کے بہت سارے لوگ مختلف علاقوں کے لوگوں کی حمایت کے درپے تھے؛ ان میں سے بہت سارے لوگ اپنی ثقافتی اور تاریخی بنیادوں کی طرف واپس آئے لیکن یہ واپسی، وسطی ایشیا میں قوم پرستی کے ہمراہ تھی؛ وسطی ایشیا کے ممالک نے بہت جلد اپنی تاریخ اور قومی ثقافت کی بنیاد پر ایک نئے قومی تشخص کی بنیاد رکھی ، وہ لوگ جو تاریخی اور ثقافتی مشترکہ خصوصیات رکھتے تھے اور زیادہ تر فقط زندہ رہنے اور بقاء حیات جیسے مسائل سے دوچار تھے ، ایسے حال میں آداب و رسوم اور اپنے اعتقادات کو بچانے کے لیے قومی اور خاندانی وابستگی کا سہارا لیا۔(‌Pultr, 2013: 210)

گراہم فولر کہتاہے: سویت یونین کی سلطنت بکھرنے کے بعد تشخص اور ھویت کے مسئلہ کے حوالے سے کچھ سوال تھے جن سے وسطی ایشیا میں تازہ آزادشدہ ممالک روبرو تھے؛ وہ معتقد ہے: وسطی ایشیا کے ممالک کو چاہیے کہ وہ اس سوال  کا جواب دیں کہ وسطی ایشیا کے خطہ میں ساکن مقامی باشندے در حقیقت کون ہیں؟ وسطی ایشیا کے بیشتر لوگ مسلمان تھے ایک ہزار سال سے زیادہ اس علاقے کا تشخص، اسلامی تھا، قومیتی لحاظ سے ان میں سے بہت سارے لوگ ترک تھے، سرحدی علاقہ جو یوگوسلاویہ سے مغولستان تک پھیلا ہوا تھا میں قومی اور مذہبی گروہوں کے اعضاء موجود تھے، قومیت کے لحاظ سے ان میں سے بہت سارے لوگ ترک تھے، اسی طرح وہ لوگ ترکستان کے خطہ میں بھی تھے اورخطہ( جو ترکی اور فارسی خصوصیات کا حامل تھا) کی ہزار سالہ ثقافت کو دوام بخشنے کے لیے فعال کردار ادا کیا تھا اور اسی طرح روسی سلطنت کا ایک حصہ تھے جو بعد میں سویت یونین سلطنت میں تبدیل ہوگئی، اس حوالے سے کم از کم ان ممالک کے بر جستہ افراد روسی ثقافت کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے تھے؛ اس طرح وہ لوگ مسلسل کئی عشروں تک سویت یونین کے مشترک اعضاء تھے۔ (Fuller, 1992: 5.

سویت یونین کے بکھرنے سے وسطی ایشیا میں موجود اقلیتوں کے لیے رونما ہونے والی مشکلات کے  ساتھ ساتھ  بین الاقوامی سیاسی کھلاڑیوں کی اس خواہش کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے جو وہ سویت یونین کے بکھرنے کے بعد پیدا ہونے والے ھویتی خلا کو پر کرنے کے حوالے سے رکھتے  ہیں، یہ سیاسی کھلاڑی جو وسطی ایشیا کے ساتھ  مشترکہ تاریخی اور ثقافتی روابط رکھتے تھے لیکن سویت یونین کے بکھرنے سے پہلے تک ان روابط کو مستحکم کرنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے ، لیکن سویت یونین کے بکھرنے بعد  اسلامی، ترکی، روسی جیسی چھوٹی ثقافتوں کے تشخص کو بحال کرنے کے لیے نئی کوشش کا آغاز کر دیا؛ سویت یونین کی بکھرنے اور اسکے نتیجے میں وسطئ ایشیا میں مستقل ریاستوں کے قیام سے اس خطہ میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے رقابت کی فضا قائم ہوگئی جس کو وسطی اشیا کی تبدیلیوں کے بارے مں لکھی گئی کتابوں میں جدید بڑا کھیل کا نام دیا گیا ہے؛ اس جدید بڑے کھیل کے دائرے میں مختلف ممالک نے وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ اور اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے مختلف درجوں کی قدرت کے ساتھ کوششیں کرتے رہے؛ ان اہداف میں سے ایک اہم ترین ہدف وسطی ایشیا کے خطہ میں تشخص حاصل کرنے کے لیے فعالیت کرنے والے گروہوں جیسے اسلامی گروہ، پان ترکی اور خطہ میں تشخص حاصل کرنے کےلیے فعال دیگر گروہ، پر اثر انداز ہونا تھا،  خطہ کے ان سیاسی کھلاڑیوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے

1- بڑی طاقتیں (روس اورامریکا )  2- خطہ کے داخلی سیاسی کھلاڑی ( پاکستاں، ایران اور ترکی)   3- خطہ کے بیرونی سیاسی کھلاڑی ( سعودی عرب اوراسرائیل) تحقیق کے موضوع کے مطابق، ذیل میں وسطی ایشیا میں شدت پسندی کے عوامل بڑھنے میں سعودی عرب کے کردار پر بات کی جائے گی؛ لیکن اس سے پہلے اسلام اور وسطی ایشیا میں ھویت کے مسئلہ پر مختصر وضاحت کرنا ضروری ہے۔

2- اسلام اور وسطی ایشیا میں ھویت کا مسئلہ (شدت پسدی میں مؤثر عامل)

 روس میں بالشویک پارٹی کی حکومت قائم ہونے اور کمیونسٹ آئیڈیالوجی سے پہلے اسلامی نظریہ اور اعتقادات، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی، حتی وسطی ایشیا ، ترکمنستان اور ولگا اور قفقاز کے اکثر علاقوں میں گھریلو زندگی منظم کرنے والا بنیادی عنصر اسلامی تفکر اور اعتقادات تھے، تاریخ میں پہلی بار سویت یونین کی قدرت نے نہ صرف وسطی ایشیا کے معاشروں کی روحانی اور اجتماعی زندگی منظم کرنے کے لیے اسلام کے حق کا انکار کردیا بلکہ اسلام کی بنیادوں کو ختم کر کے اس کی جگہ کمیونیسٹ آئیڈیالوجی لانے کی کوشش کی؛ تمام سیاسی، قانونی اور اجتماعی اداروں اور احزاب اور تعلیمی نظام کی تمام فعالیتیں اسی ہدف کے مطابق منظم کی گئی؛ اسلام اور مسلمان ستر سال سے زیادہ عرصے تک سرکوبی اور گھٹن کی فضا تحمل کرنے پر مجبور تھے، 1917 سے 1985 تک کے دوران کی خصوصیت یہ ہے کہ اس دوران ، مذہب اور مذہبی اداروں کو کشمکش میں مبتلا کر کے انکی سرکوبی اور انہیں شکنجہ کیا گیا ہے(Kerimov, 1996: 183).

سویت یونین کے بکھرنے اور وسطی ایشیا میں مسلمانوں کو سرکوبی کی فضا سے نجات ملنے سے خطہ میں اسلام کو سیاسی اور اجتماعی ڈھانچہ کو منظم کرنے والی طاقت کے عنوان سے دوبارہ احیاء کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے؛  سویت یونین کے بکھرنے سے خطہ کے لوگ، یونین بکھرنے کی وجہ پیدا ہونے والی سیاسی – اقتصادی اور اجتماعی سختیوں سے دوچار ہونے کے علاوہ ھویتی الجھن اور پریشانی کا بھی شکار تھے؛ ان پریشان حالات میں کچھ مقامی فعال لوگ ڈیموکریٹک اصلاحی تحریکوں سے لڑنے لگے اور کچھ اور لوگ قومی تحریکوں اور قومی اسلامی تحریکوں میں فعالیت کرتے تھے۔ وسطی ایشیا میں موجود ڈیموکریٹک تنظیمیں اور احزاب میں سے  «احزاب بیرلیک[2]  اور ارِک[3]  ازبکستان میں ، قرقیزستان میں ڈیمو کریٹک تحریک،[4] حزب ڈیموکریٹک،[5] حزب رستاخیز[6] اور حزب لالی بدخشان[7]»  تاجیکستان میں، کا ذکر کیا جاسکتا ہے؛ لیکن ان احزاب کی عمر بہت کم تھی جو بہت جلد یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی یا حکومت نے انکو فعالیت سے محروم کر دیا۔ 1993 سے 1994 تک اسلام کے طاقتور ہونے سے وسطی ایشیا کے ممالک کے راہنما اسلام کو قومی حاکمیت کے لیے سب سے بہترین مددگار سمجھتے تھے، وسطی ایشیائی ممالک کی قانون سازاسمبلیوں، من جملہ ازبکستان، تاجکستان اور قرقیزستان کی اسمبلیوں نے مذہبی قوانیں پاس کیے ہیں جو مذہبی فعالیت کی راہ متعین کرتی ہے؛ ان قوانین کی بنیاد پر، قرآن کا مطالعہ، شریعت اور فقہ و نیز حج انجام دینے کو رسمی قرار دیا گیا ہے،اسی طرح ان قوانین کے مطابق مذہبی ادارے اور بیرونی خطباء کو اجازت مل گئی کہ آزادانہ طور پر وسطی ایشیائی ممالک میں فعالیت کرتے ہیں؛ اس بات کے پیش نظر بہت سے مذہبی ادرے من جملہ سعودی عرب، ترکی،اور پاکستان کے ادارے وسطی ایشیا میں اور خاص طور پر فرغانہ درہ میں فعالیت کرنے لگے۔ (Yemelianova, 2009: 17-20)

وسطی ایشیا میں تشخص اور ھویت کے لیے فعالیت کرنے والوں - من جملہ اسلامی گروہوں و نیز وسطی ایشیا کی تازہ تشکیل پانے والی ریاستوں- کا اسلام کو اپنے تشخص اور ھویت کی بنیاد قرار دینے کی طرف میلان رکھنا سبب بنا کہ خطہ سے باہر کے سیاسی کھلاڑی - من جملہ ایران ، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان- وسطی ایشیا میں تشخص کی تحریکوں کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے بہت کوشش کریں، مذکورہ ممالک میں سے سعودی عرب کچھ وجوہات کی بناہر دوسرے ممالک کی نسبت وسطی ایشیا کو زیادہ توجہ دیتا تھا۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ سویت یونین کے بکھرنے سے سعودی عرب کے لیے ایک نیا دروازہ کھلا تھا جسکی وجہ سے سعودی عرب وسطی ایشیا کے حالات پر اثر اندازہونے کے ذریعے جہان اسلام کی رہبری کرنے کی اپنی دیرینہ خواہش پوری کرنے کے لیے راہ ہموار کر سکتا تھا؛ وسطی ایشیا تک رسائی کا مطلب سابق سویت یونین کی سلطنت کے دائرے میں موجود ایک وسیع علاقے کے اسلامی گروہوں سے روابط برقرار کرنا تھا  

دوسری وجہ یہ تھی کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی، سعودی عرب کی نظر میں آئندہ کے لیے ایک خطرہ شمار ہوتی تھی، 1357 میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی تک ایسی قدرتمند اسلامی تحریک وجود میں نہیں ائی تھی جو وسطی ایشیا کے مسلمانوں کو اپنا تشخص حاصل کرنے میں مدد کرے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور افغانستان پر سویت یونین کے قبضہ کے مقابلہ میں افغان مجاہدین کی مقاومت سے سویت یونین کی اسلامی ریاستیں اک نئی فضا سے روبرو ہوگئیں؛ وہ اس خیال میں تھیں کہ عالم اسلام کے حدود سے کٹ گئی ہیں اور سرکوب ہوتی ہیں بنابرایں ان ریاستوں نے فیصلہ کیا تھا کی اپنے اسلامی تشخص کی پہلے سے زیادہ حفاظت کریں۔ (Kemper, 2009:7)

تیسری وجہ یہ ہے کہ ایران اور ترکی کے مقابلے میں  وسطئ ایشیا کے ساتھ  سعودی عرب کے تاریخی اور ثقافتی مشترکات کم ہیں، بنابرایں سعودی عرب مجبور تھا کہ اسلامی گروہوں-جیسے ریڈیکل اسلامی گروہ- کو مستحکم کرکے وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھائے، ان اقدامات کے نتیجہ میں وسطی ایشیا میں شدت پسندی کے لیے مزید راہ ہموار ہوگئی۔

 3- وسطی ایشیا کے خطہ میں اسلامی تشخص کے عمل میں انحراف اور سعودی عرب( شدت پسندی کی تقویت کرنے والے ایک عامل کے عنوان سے)

جیسا کہ تشخص کی بحث، کنسٹرکٹویزم کی بحث میں ہوئی، وہ تشخص جسے اندرونی اور بین الاقوامی فعال اپناتے ہیں، وہ خاص منافع حاصل کرنے کے لیے بنیاد ہے؛ اس حوالے سے سویت یونین کے بکھرنے کے بعد کی تبدیلیاں اور تشخص کے حوالے سے سامنے آنے والی مشکلات کو کنسٹرکٹویزم، کی نگاہ سے پرکھا جائے تو سعودی عرب نے وسطئ ایشیا کے خطہ میں اسلامی گروہوں پر اثر اندازہونے کے ذریعے ان کے ذہن میں مخصوص مفادات حاصل کرنے کی بات ڈالنے کی کوشش کی ہے، بہت سے مقامات پر دیگر فعالیت کرنے والوں- من جملہ وسطی ایشیا کی حکومتوں- کے مطالبات کے خلاف ہے۔ سویت یونین کے بکھرنے کے زمانے سے سعودی عرب وسطی ایشیا کی حکومتوں کے ساتھ روابط رکھنے سے زیادہ اسلامی گروہوں خاص طور پر ریڈیکل گروہوں سے مرتبط تھا۔ سعودی عرب نے ان اسلامی گروہوں کے توسط سے تشخص کو وجود میں لانے کے عمل اور خاص مفادات کے حصول کے لیے جد و جہد کو چند مرحلوں میں انجام دیا ہے

1-3- خطہ میں وہابی تفکر کا پھیلاؤ( اسلامی گروہوں کے لیے تشخص کا منبع کے عنوان سے)

سویت یونین کے بکھرنے کے نتیجے میں وسطی ایشیا میں تشخص کے حوالے سے  مشکلات وجود میں آنے کے پیش نظر اس خطہ میں سعودی عرب کا اہمترین ہدف، ایک طرح کی ھویتی بنیاد تشکیل دینا تھا جس کے اوپر خطہ میں موجود اسلامی گروہ اپنی ھویت اور تشخص کو تشکیل دے سکیں،؛ اس ہدف کے حصول کے لیے وسطی ایشیا میں وہابیت کی تقویت کے درپے تھا جیسا کہ سویت یونین کے بکھرنے سے پہلے بھی اس خطہ میں اس ہدف کے درپے تھا

وہابیت کی اصطلاح سعودی عرب میں موجود سلفیت کےتفکر کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ وہابیت کا لفظ محمد بن عبد الوہاب کے نام سے لیا گیا ہے جو اٹھارویں صدی مں سعودی عرب میں رہتا تھا؛ در حقیقت، آج وہابیت، وسیع پیمانے پر ان سنی اسلامی تحریکوں پر اطلاق ہوتا ہے جو حقیقی اسلام کے درپے اور محمد (ص) اور صحابہ کی  تعلیمات میں ہر قسم کی جدت اور انحراف لانے سے پاک صاف ہیں                    

محمد بن عبداللوہاب نے  1703 سے 1791 کے دوران ایک مذہبی تحریک کے عنوان سے سعودی عرب میں اس تفکر کی بنیاد رکھی، اوربہت سے اسلامی اعتقادات اور اعمال کو شرک قرار دے کر مذمت کی، اوراکثر سنتی اور خالص اعمال کی طرف ترغیب دینے کے درپے تھا، اس کا عنوان، اصول اسلام کہلاتا تھا ، اسکی نظر میں یہ اصول، قرآن اورحضرت محمد(ص) کی زندگی سے لیے گئے ہیں، آج کے آل سعود کے آبا واجداد کی سرزمین نے جزیرۃ العرب کے پراکندہ قبائل کو متحد کرنے کے لیےوسیع پیمانے پر عبدالوہاب کے ساتھ ہمکاری کی، اس ہمکاری نے آل سعود کی اولاد کے درمیان سیاسی روابط کے لیے ایک مستحکم بنیاد قائم کی تھی جو ابھی تک برقرار ہے، اگرچہ وہابی مسلک محمد بن عبدالوہاب کے نام سے مشہور ہوگئی ہے، در حقیقت عبدالوہاب نے ابن تیمیہ کے آثار کا مطالعہ کرکے ان کا معتقد ہوا اور اعتقادات کے دائرے میں کوئی نئی چیزشامل نہیں کی بلکہ ابن تیمیہ کی افکار کو اعتقادات کے دائرے سے نکال کرعمل کے میدان میں لایا(Blanchard, 2008:2)..

وہابی مکتب نے سعودی عرب کی مالی امداد کے ذریعے دنیا کے بہت سے علاقوں( جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر وسطی ایشیا، قفقاز، اور حتی بہت سارے مغربی ممالک) میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دے دیا تھا، وسطی ایشیا اور قفقاز میں بھی پہلی عالمی جنگ کے زمانے سے ہی وہابی تفکر موجود تھا؛ اور عالمی جنگ کے بعد کے زمانے میں بھی اس خطہ کے بہت سے ممالک میں فوجی اور سیاسی ڈھانچوں کی ذمہ داری، وہابیت کے ہاتھ میں تھی؛ وہ سعودی عرب کی مالی مدد سے استفادہ کرکے وسطی ایشیا اور قفقاز کے مختلف جگہوں میں اپنی سیاسی اور مذہبی فعالیت کو وسعت دے سکے ہیں۔ وہابیوں کی ریڈیکل فعالیتیں چچینیا، داغستان ، اینگوش کے مسلمانوں اور بعض اسلامی صوفیوں میں مخالفت کی لہر اٹھنے کا باعث ہوئیں اور مختلف علاقوں من جملہ چچینیا میں بدامنی اور بحران پیدا کیا۔

چچینیا کے شدت پسند راہنما جیسے  باسایف،[8] سلمان رادیف[9] و مولاری ادگایف[10] من جملہ ان لوگوں میں سے ہیں جو کھل کر چچینیا میں وہابیت کی حمایت کرتے ہیں؛ ان راہنماؤں میں ، صرف ساسخادف[11]  تھا جس نے وہابیت کی مخالفت کی لیکن بہ قدر کافی قدرت نہ رکھنے کی وجہ سے اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکا (معینی‌فر، خیری، 1389: 57).

سویت یونین کے بکھرنے کے بعد بھی سعودی عرب، دو طریقوں کے ساتھ، وسطی ایشیا میں وہابی تفکر کی ترویج کے درپے رہا: پہلا طریقہ؛  سعودی عرب میں مقیم وسطی ایشیا کے مہاجروں کو مذہبی مبلغوں کے عنوان سے اپنے علاقوں میں بھیجنا، انکی ذمہ داری بہت آسان تھی ان سے یہ توقع رکھی جاتی تھی کہ اسلام کا پیغام ، مساجد اور اپنے قوم ، قبیلہ میں بیان کریں ؛ ان مذہبی مبلغوں میں سے بہت ساروں نے اپنے علاقوں میں واپس جا کر اسلامی تعلیمات کی ترویج کی جو سعودی عرب کی حکمت عملی کے مطابق تھی؛ ان مذہبی مبلغوں کا اقدام، وسطی ایشیا میں وہابیت کے پھیلاؤ کے لیے بڑی مدد سمجھا جاتا تھا؛ اگرچہ شروع میں وسطی ایشیایی ممالک کی حکومتیں ان مذہبی مبلغوں کو برداشت کرتی تھیں، لیکن وسطی ایشیا کی حکومتوں کے لیے خطرے کے پیش نظر بہت دفعہ ان کو وسطی ایشیا کے ملکوں سے نکالا جاتا تھا؛

دوسرا طریقہ؛ وسطی ایشیا کے خطہ میں وہابیت کی ترویج کے لیے دوسرا اہم طریقہ، سعودی عرب میں مدینہ کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں جاکر تعلیم حاصل کرنا تھا، سویت یونین کے بکھرنے کے بعد بہت سے لوگوں کے لیے من جملہ  وسطی ایشیائی خطہ  کے طالب علموں کے لیے اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ سویت یونین کے بکھرنے بعد ازبکستان، تاجیکستان، داغستان اور دیگر علاقوں سے بہت سارے افراد سعودی عرب جا کر تعلیم حاصل کرنے لگے(‌Schlyter, 2005: 249).

وہابیت سے متاثر گروپس جو آج وسطی ایشیا میں فعال ہیں  جیسے ازبکستان کی حرکت اسلامی،حزب التحریر اوراس سے جدا ہونے والی شاخیں جیسے اکرامیہ اور حزب النصرۃ (Baran et all, 2006: 19) کا نام لیا جاسکتا ہے جو وسطی ایشیا میں سلفیت کی ترویج کے درپے ہیں؛ اس طرح وسطی ایشیا میں وہابیت کا پھیلاو، اسلامی گروہوں کا تشخص متعین کرنے کی تحریکوں پر اثر انداز ہوا۔ وہابیت کی بعض خصوصیات ہیں جو بہت سے مقامات پر دوسرے فعال افراد کے ساتھ تعامل کی فضا میں شدت اختیار کرنے پر منتج ہوتی ہیں، اگر وسطی ایشیا کو ایک تعاملی فضا کے طور پر دیکھا جائے تومتعدد فعالیت کرنے والے من جملہ وسطی ایشیا کی حکومتیں، خطہ سے باہر کے سیاسی کھلاڑی و نیز مختلف اقوام مختلف مذہبی اعتقادات کے ساتھ اس میں حاضر ہیں؛ اس تعاملی فضا میں وہابیت سے متاثر ریڈیکل گروپس ،تشخص کی ایسی خصوصیات پیش کرتے ہیں جو تشخص کے لیے فعالیت کرنے والے دیگر گروپس کی خصوصیات کیے ساتھ متضاد ہیں، سیکولر ازم ، پان ترک ازم ، شیعیت پسندی، قوم پرستی، روس پرستی، وسطی ایشیا کے خطہ میں تشخص کی ان خصوصیات میں سے ہیں جن کو وہابیت سے متاثر ریڈیکل گروپ، برداشت نہیں کرتے اور یہ عدم برداشت بعض اوقات وسطی ایشیا کے خطہ میں شدت پسندی پر منتج ہوتی ہے۔

2-3- دیگر ھویتی گروپس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا

وسطی ایشیا کے خطہ کے تشخص کے تعین میں اثراندازہونے کے لیے سعودی عرب کا  اگلا قدم، اسلامی گروہوں کے لیے دیگر ھویتوں کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا خاص طور پر وسطی ایشیا کے خطہ میں شیعہ تفکر اور پان ترک ازم کے  پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے خطرے کو برجستہ کرنا  تھا۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی، اور شیعہ تفکر کا اس ملک میں اقتدار میں آنے اور مختلف علاقوں من جملہ وسطی ایشیا میں اسلامی تحریکوں پر اس تفکر کے اثرانداز ہونے کے پیش نظر سعودی عرب، وسطی ایشیا کے ساتھ ایران کے روابط، بڑھنے سے پریشان تھا اور کوشش کرتا تھا کہ شیعہ ہراسی اور ایران ہراسی کے ذریعے وسطی ایشیا میں ایران کے اثر ورسوخ کو روک دے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے سعودی عرب کی سابقہ حکمت عملی کے توسط سے تشکیل پانے والا تعلق - جو سنی اسلامی تشخص کی تقویت پر مبنی تھا تا کہ وسطی ایشیا میں امام خمینی کے تفکر اور شیعیت کی تجدید حیات کو فیل کیا جاسکے- دوبارہ زندہ ہوا۔ سعودی عرب نے فرقہ پرستی کی ترغیب دینا شروع کیا اور اس کوشش میں تھا کہ وسطی ایشیا کے خطہ میں شیعہ تشخص کے مقابلے میں ایک گہرا سنی تشخص سامنے لائے۔سعودی عرب نے سنی حکومتوں کو ترغیب دی کہ شیعہ تشخص سے متاثر اسلامی فعالیتوں اور سیاسی اصلاحات کے لیے ہر قسم کی کوشش کو دبا دیں، سنیوں کے مدافع اور مستحکم سنی تشخص( شیعہ تشخص کے مقابلے میں) وجود میں لانے والے کے عنوان سے سعودی عرب کے اس چہرے نے وہابیت کو ایک ایسی سمت دھکیل دیا جس کے نتائج خطہ کے لیے زیادہ خطرناک ہو سکتے تھے۔ خطہ کی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے بہت سے ماہرین نے خطہ میں فرقہ پرستی کی پالیسی اور سنی انتہا پسندی کے درمیان پائے جانے والے رابطہ کے معقول شواہد پیش کرتے ہیں(Grumet, 2015: 57).

انوشروان احتشامی معتقد ہے کہ سویت یونین کے بکھرنے کے بعد والے دور میں سعودی عرب ، وسطی ایشیا میں تین اہداف کے حصول کے در پے تھا،

پہلا ہدف: وسطی ایشیا میں سعودی عرب کا پہلا ہدف اس خطہ میں حاکم حکومتوں کو متزلزل کرنا تھا، کیونکہ وہ تمام حکومتیں سابق سویت یونین نظام کی وارث تھیں جس کی وجہ سے ان کی کوشش ہوتی تھی کہ سیکولر سیاسی –اجتماعی نظام کو اپنائیں؛ اس کے باوجود، بے ثباتی اور تزلزل ایجاد کرنا ایک ہربہ تھا اور کسی بھی گروہ کو تشکیل دے کر کنٹرول کرنے کے قابل تھا؛ سعودی عرب کا دوسرا ہدف ، وسطی ایشیا، خاص طور پر ایسے خطہ جن سے ایران بین الاقوامی پر بہرہ مند ہوسکتا تھا، سے ایران کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا تھا؛ اسلا م کی نئی تفسیر کی ترویج و تقویت اور اسی دوران وسطی ایشیا کا اسلامی بنیاد پرستی کی طرف راغب ہونا،اس کے مصادیق میں سے ایک ہے۔ سعودی عرب ایسے حالات کے لیے راہ ہموار کرنے کے درپے تھا کہ ایران اس کے ساتھ رقابت کرنے پر قادر نہ ہو۔

سعودی عرب کا تیسرا ہدف مالی امورکے دائرے میں اس کے ابداع اور ابتکار سے مربوط تھا؛ سعودی عرب ، پاکستان کے راستوں اور بندرگاہوں کی تقویت اور اسکو وسطی ایشیا کے ساتھ جوڑنے کے درپے تھا؛ اس کا مقصد ایران کے ساتھ  وسطی ایشیا کے رابطے کے راستوں کو نابود کرنا اور وسطی ایشیا میں  ایران کے ابتکاری عمل کو روکنا تھا جو اس خطہ کے ممالک کے ساتھ دوطرفہ روابط کے ذریعہ انجام دے رہا تھا (Ehteshami, 1994: 43)

سعودی عرب کی پریشانی کا ایک اور حصہ، ترکی کے پان ترکی ازم اور اسلامی اعتدال پسندوں کے متعلق تھی، جسکو ترکی سویت یونین کے بکھرنے کے بعد وسطی ایشیا میں رائج کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سویت یونین کے بکھرنے سے ترکی کی خارجہ پالیسی پر پان ترکی ازم کی ترویج کرنے کا وسوسہ سوار ہوا؛ یہ امر سبب بنا کہ ترکی اپنے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی منصوبوں کو تازہ آزاد شدہ ریاستوں کے ساتھ روابط بڑھانے کی راہ میں منظم کرے؛ ترکی کا خاص منصوبہ یہ تھا کہ مغربی ممالک کے ساتھ  ان ممالک کے روابط بحال کرنے کے لیے واسطہ کا کام کرے اور مغرب سے مدد لے کر ان ممالک کی اقتصادی پیش رفت میں شریک ہوکر ان ممالک میں اپنے  ثقافتی، سیاسی اوراقتصادی اثر و رسوخ کی راہ ہموار کرے؛ یہی وجہ ہے کہ سویت یونین کے بکھرنے کے ابتدائی سالوں سے ہی اس حوالے سے کچھ اقدامات کیے۔ ترکی کا ہدف یہ تھا کہ یورپی ممالک اور امریکہ سے زیادہ نزدیک ہوکر یہ دکھا دے کہ تازہ آزادشدہ ریاستوں کو اسلامی بنیاد پرستی اور روس سے دور کرنے کا بہترین راستہ انقرہ کی سیکولر حکومت کو اپنے لیے نمونہ عمل بنانا ہے، اس طرح ترکی بھی مغرب کی امداد سے بہرہ مند ہوسکتا تھا  اور مغربی ممالک کو پان ترکی ازم کے اہداف تک پہنچنے کے وسیلہ کے طور بھی استعمال کرے(احمدی، 1388: 4 و5)

ترکی سعودی عرب کی نسبت وسطی ایشیا میں اسلام کے ایک معتدل نسخہ کی تبلیغ کر رہا تھا؛ ترکی کا یہ معتدل اسلام  بعض خصوصیات کا حامل تھا جو سعودی عرب کی جانب سے اسلامی بنیاد پرستی کے حوالے سے بیان کی جانے والی تفسیر کے لیے خطرہ تھیں۔ معتدل اسلام کے حامی، مدنی معاشرے میں ڈیموکریسی کو امت کی کامیابی کا ذریعہ سمجھتے اور تاکید کرتے ہیں کہ اسلامی تفکر میں شورا ، اجتماع اور بیعت جیسے مفاہیم سے معلوم ہوتا ہے کہ  مدنی معاشرہ اور ڈیمو کریسی کے لیے اسلام میں جگہ ہے اور اسلام کی ایک ڈیموکریٹک تفسیر کی جا سکتی ہے اور اسلام کو ڈیموکریسی پر تطبیق دیا جا سکتا ہے؛ اسلام کی یہ تفسیر اسلام اور ڈیموکریسی کو ایک دوسروں کے متضاد نہیں سمجھتی ہے؛ کھلی فضا، رقابت، رواداری اور جدت، دینی اقدارمیں بھی موجود ہے جو اسلام اور ڈیموکریسی میں سازگاری کی دلیل ہے؛ مسلمانوں کے اس گروہ کے نقطہ نظر کی بنیاد پر جن کے درمیان فتح‌الله گولن[12] اور علی بولاچ[13]  جیسے متفکرین کا نام بھی لیا جاسکتا ہے، اسلام بذات خود، معتدل اور روادار ہے؛ البتہ اسلام میں ڈیموکریسی اور عوامی شرکت کی بات اس معنی میں نہیں ہے کہ ڈیموکریسی ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کے بارے میں قرآن و سنت میں بحث ہوئی ہو بلکہ اس معنی میں ہے کہ ڈیموکریسی کی مختلف شکلیں اور اسکی اقدار اسلامی تعلیمات پر منطبق اور ان کے ساتھ سازگار ہیں (موثقی گیلانی و نیری، 1389: 37 و 38).

وہ اہم ترین وجوہات جو ترکی کو وسطی ایشیا میں معتدل اسلام کی ترویج کے لیے ترغیب دیتے تھے، عمل پسندی اور آئیڈیالوجی کی طرف رغبت پر مبنی ہیں. عمل پسندی کی نگاہ سے ترکی اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ وسطی ایشیا میں مفادات کی افزائش کا مطلب یہ ہے کہ اگر ترکی، اپنے من پسند اسلامی نسخہ کی خطہ میں ترویج نہ کرے تو سعودی عرب، ایران اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ اسلام ، سویت یونین کے بکھرنے کے بعد پیدا ہونے والی ھویتی فضا کو پر کرے گا جس کے نتیجہ میں وسطی ایشیا میں ترکی کو آئندہ حاصل ہونے والا مقام خطرے میں پڑ جائے گا؛ آئڈیالوجی کی نگاہ سے بھی بہت سارے مذہبی ادارے  ونیز مذہبی راہنما من جملہ مهمت ییلماز[14]  ترکی کے قومی تشخص کی اسلامی بنیادوں پر یقین رکھتا تھا اور معتقد تھا کہ وسطی ایشیا میں اسلام کی ترویج کے ذریعے وہاں پر ترکی کے تشخص کی روح کو بھی عام کیا جاسکتا ہے۔ ترکی ، اسلامی فعالیتوں کے اصلی مرکز اور وسطی ایشیا کی ترک اور مسلمان آبادیوں کی حمایت کا سرچشمہ میں تبدیل ہونے کے درپے تھا۔ Van Wie Davis and Azizian, 2007: 197)

معتدل اسلام کو اکسپورٹ کرنے کے لیے ترکی کی کوشش و نیز سنی مذہب کی رہبری کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا میں ایران کی فعالیت، سعودی عرب کے لیے اہم پریشانی کا سرچشمہ تھا؛ دیگر ممالک کی طرف سے اس قسم کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کا اہم ترین ذریعہ مادی منابع سے استفادہ کرکے ایسےگروہوں کی حمایت کرنا تھا جووسطی ایشیا میں سعودی عرب کے مفادات کا تحفظ کر سکیں؛ جیسا کہ پہلے بھی بحث ہوئی کہ اس بات کے پیش نظر کہ سعودی عرب ، ایران اور ترکی کی نسبت خطہ میں ایک دوسرے درجہ کا سیاسی کھلاڑی شمار ہوتا ہے، اسکے پاس محدود آپشنز تھے اور یہی محدویت سبب بنی کہ ریڈیکل گروہوں کی طرف تمایل رکھے، سعودی عرب کی جانب سے وسطی ایشیا کے خطہ کے ریڈیکل اسلامی گروہوں کی مالی اور معنوی حمایت سبب بنی کہ وسطی ایشیا میں تشخص کے حوالے سے اختلافات  کا رخ شدت پسندی اور مسلح جھگڑوں کی طرف ہو۔

شکل 2، خطہ کے ریڈیکل اسلامی گروہوں کے تشخص حاصل کرنے اور تشکیل کے عمل میں سعودی عرب کے اثرانداز ہونے کا عمل دکھا رہا ہے 

نتیجہ بحث

اس تحقیقی مقالہ میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ وسطی ایشیا میں شدت پسدی وجود میں آنے اور اس کے بڑھنے کے، خارجی عوامل(سعودی عرب کا میدان میں آنا) کے کردار کی تحلیل تجزیہ کرے؛اسی مبنی کے مطابق، تحقیق کا بنیادی  استدلال  کا زور اس بات پر تھا سعودی عرب نے وسطی ایشیا کے خطہ میں اسلامی گروہوں کی ھویت یابی میں انحراف پیدا کرنے ذریعے وسطی ایشیا میں شدت پسندی کو ہوا دی ہے؛ اس قسم کے موضوع  پر تحقیق کے لیے ایک موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو اس موضوع کے تجزیہ و تحلیل کے لیے لازم عناصر اور وسائل کا حامل ہو اسی وجہ سے کنسٹرکٹیوزم کا موقف انتخاب کیا گیا۔ کنسٹرکٹیوذم استلال کرتا ہے کہ تشخص مفادات کی بنیاد ہے اور تشخص کے ذریعے اثرانداز ہوکر سیاسی کھلاڑیوں من جملہ افراد اور حکومتوں کے مفادات تشکیل پاتے ہیں۔                                                                                                                                                                                                                                      

اس بنیادی استدلال کی بنیاد پر تحقیق سے معلوم ہو گیا کہ سویت یونین کے بکھرنے کے بعد دوران، وسطی ایشیا میں تشخص کا جو خلا پیدا ہو گیا تھا تو مختلف سیاسی کھلاڑی من جملہ سعودی عرب کوشش کرتے تھے کہ اس خطہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے ذریعے تشخص کے اس خلا کو پر کریں؛ حکومتی اور غیر حکومتی افراد کو اپنے آپ کودوسروں سے متمائزکرنے لیے ایک تشخص کا سرچشمہ  پیش کرنا ، ایک اہم قدم ہے اور سعودی عرب نے وسطی ایشیا میں وہابیت کو پھلا کر ھویت کے سرچشمہ کو پیش کر دیا؛ اہداف تک پہنچنے کے لیے اگلا قدم خطہ کی دیگر ھویتوں کے خطرے کو برجستہ کرنا تھا۔ سعودی عرب، وسطی ایشیائی خطہ  کے سیاسی کھلاڑیوں کے لیے ایران کی شیعہ ھویت اور ترکی کی ترک ھویت کے خطرے کو  برجستہ کرنے کے ذریعے  کوشش کرتا تھا کہ انکو ایک دوسروں سے روبروکرے۔

تحقیق میں سعودی عرب کی توسط سے اسلامی گروہوں کی ھویت یابی میں جس انحراف کی بات ہوئی وہ اسلام کی ایک ناقص اور شدت پسند تصویر پیش کرنا ہے جو وہابیت کی تعلیمات کے قالب میں وسطی ایشیا میں داخل ہوئی۔ سویت یونین کے بکھرنے کے بعد اپنی سابقہ تاریخ کی وجہ سے وسطی ایشیا کے خطہ مییں اسلامی تشخص ایک مسلط اور غالب تشخص میں تبدیل ہو گیا تھا۔ حکومتی اور غیر حکومتی سیاسی کھلاڑیوں کی جانب سے اس طرح کی ھویت اپنانے کی امید رکھی جاتی تھی، آئندہ کے سالوں میں اسلامی ھویت، وسطی ایشیا کے دیگر ھویتوں پر اثراندازہونے کے ذریعے اجتماعی انسجام کو وجود میں لائے ؛ اس کے باوجود سعودی عرب جیسے ممالک کے اقدامات  من جملہ ریڈیکل اسلامی گروپوں کی  مادی اور معنوی                  

حمایت کرنا ، وسطی ایشیا کے خطہ میں اسلامی ھویت کو نقصان پہنچنے کا سبب بنا، ایران اور ترکی کے مقابلے میں، سعودی عرب ایک ھویتی منبع پیش کرنے  اور تاریخی اور ثقافتی روابط کے لحاظ سے ایک دوسرے درجے کا کھلاڑٰی شمار ہوتا ہے اس لیے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ریڈکل اسلامی گروہوں کے ذریعے وہابیت کی ترویج کا راستہ اپنایا۔ وہابی تفکر کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک، دوسری ھویتوں کے حوالے سے عدم رواداری ہے۔ وسطی ایشیا کی ناہماہنگ اوراختلاف  کے لیے تیار فضا میں اس قسم کے تفکر کی ترویج، شدت پسندی کو وجود میں لاتا ہے۔ 

1. Alexander Wendt

1. Birlik party

2. Erk democrat party

3. Democratic movement of Kyrgyzstan

4. Democratic party

5. Rastakhiz Party

6. Lali Badakhshan party

1. Basayef

2. Radief

3. Mulary edgayev

1. Saskhadev

1. Fethullah Gülen

2. Ali bulac

3. Mehmet Yilmaz

مراجع

-    احمدی، حمید (1388)؛ «ترکیه، پان‌ترک ام اور وسطی ایشیا»، مطالعات اوراسیای مرکزی؛ مرکز مطالعات عالی بین‌المللی، دانشکده حقوق و علوم سیاسی (ویژه همایش مطالعات منطقه‌ای)، سال دوم، ش 5، ص 1 تا 22.

 -اختیاری امیری، رضا (1394)؛ «تأثیر تقابل وهابیت سعودی با گفتمان انقلاب اسلامی ایران بر ژئوپلیتیک جدید خاورمیانه»، فصلنــامه اندیشه سیاسی در اسلام؛ دوره 2، ش 6، ص 125 تا 149.

-      برچیل، اسکات و دیگران (1391)؛ «نظریه‌های روابط بین‌الملل»؛ ترجمه حمیرا مشیرزاده و روح‌الله طالبی آرانی؛ تهران: نشر میزان.

-      حسینی، سید کرامت؛ عباس حمادپور و وحید پروین (1395)؛ «هویت و سیاست خارجی روسیه»، علوم انسانی اسلامی؛ ش 31، ص 7 تا 313.

-      هادیان، ناصر (1382)؛ «سازه‌انگاری، از روابط بین‌الملل تا سیاست خارجی»، فصلنامه سیاست خارجی؛ سال هفدهم، ش 4، ص 915 تا 945.

-      مشیرزاده، حمیرا (1389)؛ تحول در نظریه‌های روابط بین‌الملل؛ تهران: انتشارات سمت.

-   موثقی گیلانی، سید احمد و هومن نیری (1389)؛ «اسلام  میانه‌رو و دموکراسی در ترکیه»، فصلنامه تحقیقات سیاسی بین‌المللی؛ دانشگاه آزاد اسلامی واحد شهرضا، ش 5، ص 33 تا 63.

-   منصوری مقدم، محمد (1391)؛ «مؤلفه هویت و تأثیر آن بر سیاست خارجی عربستان سعودی در قبال جمهوری اسلامی ایران»، فصلنامه مجلس و راهبرد؛ دوره 19، ش 72، ص 79 تا 99.

-      معینی‌فر، حشمت‌السادات و مهری خیری (1389)؛ «نقش و تأثیر وهابیت در بحران چچن»، فصلنامه مطالعات اوراسیای مرکزی؛ سال سوم، ش 7.

-   معینی علمداری، جهانگیر و عبدالله راسخی (1388)؛ «روش‌شناسی سازه‌انگاری در حوزه روابط بین‌الملل»، فصلنامه تحقیقات سیاسی و بین‌المللی؛ دوره 1، ش 4، ص 183 تا 214.

-        Alexsandrov, M, (2003), “The Concept of State Identity in International Relations: A Theoretical Analysis”, Journal of International Development and Cooperation, Vol.10, No.1, pp. 33–46

-        Aksan. H. V, (2014), “Ottoman Wars, 1700-1870: An Empire Besieged”, London and New York. Routledge,

-        Blanchard. Ch. (2008) “The Islamic traditions of Wahhabism and salafiyye” congressional research service, CRS. Report. No. 21695.

-        Burchill, S, Linklater. R, Devetak. R, Donnelly. J, Paterson. M, Reus-smith. CH, True. J, (2005), “Theories of international relation”, third edition, New York, Palgrave.

-        Baran, Z, Starr, S, Cornell, S,(2006)” , Islamic Radicalism in Central Asia and the Caucasus:

-        Implications for the EU”, Central Asia-Caucasus Institute, Silk Road program,

-        Ehteshami, A, (1994), “From the Gulf to Central Asia: Players in the New Great Game”, United Kingdom, University of Exeter Press

-        Fuller, E. G, (1992), “Central Asia, the new geopolitics”, California, National defense research institute (RAND), 

-        Grumet,R.T, (2015), “New Middle East Cold War: Saudi Arabia and Iran s Rivalry”, M.A thesis , The Faculty of the Joseph Korbel School of International Studies University of Denver

-        Guzzini,S, Leander, A, (2005), “Constructivism and International Relations: Alexander Wendt and His Critic”, New York, Routledge.

-        Ian Ross, J, (2011), “Religion and Violence: An Encyclopedia of Faith and Conflict from Antiquity to the Present”, New York, Routledge publication.

-        Kemper, M. (2009), “ Studying Islam in the Soviet Union”,  Amsterdam, Poland, Vossiuspers UvA press,   Van Wie Davis, E, Azizian, R, (2007), " slam, Oil, and Geopolitics: Central Asia After  September 11”, LanhamMaryland, Rowman & Littlefield,

-        Kerimov, G, (1996), “Islam and Muslims in Russia since the Collapse of the Soviet Union”, Religion, State & Society, Vol. 24 Nos. 2/3, PP.183-192.

-        Kortunov, A, (1998), “ unlocking the assets: energy and future of central Asia and the Caucasus”, prepared in conjunction  with an energy study by the cemter for international politics and the  JAMES A. BAKER III institute for public policy , rice university .

-        Marley, T, W, (2013), “The Mongol invasion and occupation of central asia: 1200- 1260CE, an Islamic analysis “, M.A thesis, international Islamic university, Malaysia.

-         Peimani, H, (2009), “Conflict and Security in Central Asia and the Caucasus”, California, United States ABC-CLIO publisher.

-        Pultar, G, (2013), “Imagined Identities: Identity Formation in the Age of Globalization”, New York Syracuse University Press.

-        Quataert, D, (2005), "The Ottoman Empire, 1700–1922, Volume 34 of New Approaches to European History”, Cambridge University Press

-        Schlyter, B, (2005), “Prospects for Democracy in Central Asia”, Swedish Research Institute in Istanbul

-        Sievers, E. W (2013), “The Post-Soviet Decline of Central Asia: Sustainable Development and Comprehensive Capita”, New York, Routledge.

-        Wendt, A, (1992), “Anarchy is what States Make of it: The Social Construction of Power Politics”, International Organization, Vol. 46, No. 2. pp. 391-425.

-        Wendt, A, (1994), “Collective Identity Formation and the International State”, the American Political Science Review, Vol. 88, No., pp. 384-396.

-        Yemelianova, G.M, (2009),” Radical Islam in the Former Soviet Union”, USA and Canada, Rutledge.

-       Haghnavaz, J, Alerasoul , S.J(2014), “ A history of Islam in central Asia”, American International Journal of Research in Humanities, Arts and Social Sciences, Available online at http://www.iasir.net , pp. 127-130

 

کلمات کليدي: عربستان     آل سعود      وهابیت       آسیای میانه     آسیا          هویت اسلامی    خشونت     تروریسم

 

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ