ملک :  --

علامہ محمد بن زاہد  بن حسن حلمي کوثري حنفی جو ایک محدث، فقیہ اور ایک تبصرہ لکھنے والے مورخ ہیں، اہل سنت کے بڑے علماء میں سے ایک اور وہابیت کے مخالف ہیں

وہ  بروز منگل 27 شوال  1296ق کی صبح  ترکیہ کے "دوزجہ" نامی گاوں میں پیدا ہوئے۔ ([1])

زندگی نامہ

"ْچرکس" کے ایک "کوثر"  نامی قبیلہ سے نسبت کی وجہ سے کوثری کہا جاتا ہے، قفقاز " پر روسیوں کے قبضہ کے بعد انکے والد شیخ زاہد نے اپنے دین کی حفاظت اور روسیوں کے ستم سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنے علاقے سے ہجرت کی اور اسلامی خلافت کے دارالخلافہ (ترکیہ) کے نزدیک ایک گاوں میں ساکن ہوئے۔ وہ ایک  دینی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، اپنے والد شیخ زاہد  کی شاگردی کی  اور سب سے زیادہ  ان سے کسب فیض کیا۔ ان کے والد سو سال کی عمر میں وفات پاگئے (1345ق)  اور   اللہ نے انکے والد کو جو لمبی عمر دی تھی اس سے انہوں نے جتنا ہوسکتا تھا استفادہ کیا۔  علامہ محمد زاہد کوثری  نے اپنے والد کے علاوہ اپنی پیدائش کی جگہ دیگر اساتیذ سے بھی کسب فیض کیا ۔ ([2]

 علامہ کوثری،  پندرہ سال  کی عمر میں "آستانہ" شہر  میں آگئے  اور دار الحدیث میں رہنے لگے۔وہاں پر مسجد  سلطان محمد فاتح میں بہت ساروں سے علم  و  دانش حاصل کرنے لگے۔ ان کے اساتیذ میں من جملہ  شيخ ابراهيم حفي الران (م 1318ق) او ر شيخ زين العابدين الصوني (م 1326ق) تھے۔ 

1325ق  کو   29 سال کی عمر میں علمی مدارج طے کرنے کے بعد  فاتح یونیورسٹی میں پڑھانے لگے۔ اور پہلی عالمی جنگ تک یہی فعالیت جاری رکھی۔ وہ اس مدت میں علمی مدارج کو طے کرسکا تھا اور عثمانی  بزرگوں کی کونسل (وکيل المشيخة العثمانيه) کے نمائندہ منتخب ہو سکے۔ یہ عہدہ مصر  کے شیخ الازہر کے عہدے سے اہم عہدہ ہے۔ ([3]) وہ اس دوران کتابیں لکھنے لگے۔  علامہ کوثری ، شیخ احمد بن مصطفی حلبی مفتی لشکر عثمانی، شیخ محمد بن سالم شرقاوی، سید احمد رافع طهطاوی، سید محمد عبدالحی کتانی، محمد حبیب الله شنقیطی، محمد خضر شنقیطی جیسے اساتیذ   اور دیگر بزرگوں سے حدیث سنتے تھے۔ ([4])  علامہ کوثری  نے اپنے روایت کے اساتیذ اور انکے طبقات کو  اپنی  کتاب " التحریر الوجیز فیما یبتغیه المستجیز" میں ذکر کیا ہے

 وہ  1341 کو مصر میں داخل ہوئے  لیکن وہاں پر  ایک سال   سے بھی کم رہے اور مصر  سے شام کی طرف  ہجرت کی اور تقریبا ایک سال تک وہاں پر قیام کیا  تاکہ اس دوران "ظاہریہ " کتب خانہ  کے خطی نسخوں اور دیگر منابع سے  استفادہ کر سکے۔ شام میں یہی مختصر عرصہ رہنے کے بعد  واپس مصر آئے اور تا حیات وہی پر زندگی گذاری۔ علامہ کوثری  نے اپنی زندگی میں بہت سارے شاگردوں کی تربیت کی ۔ ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں : حاجی جمال الصونی، سید حسام الدین قدسی، شیخ حسین بن اسماعیل، سید عزت عطار حسینی، شیخ محمد ابراهیم ختنی، استاد محمد امین سراج، استاد محمد رشاد عبدالمطلب، شیخ مصطفی عاصم و شیخ عبدالفتاح ابو غده۔ ابوغدہ ، انکے سب سے مشہور  شاگرد شمار ہوتے ہیں ۔ عبدالفتاح  کا محمد زاہد   کوثری کے پاس آنا جانا تھا اور ان سے شدید محبت کرتے تھے یہاں تک کہ اپنے نسب میں اپنے استاد کا  نام لیتے تھے اور اپنا   تعارف  «عبدالفتاح ابوغدۀ حنفی کوثری» سے  کراتے تھے۔ ([5])

 

علامہ کوثری  علماء کی نظر میں

شیخ محمد ابو زہرہ  کہتے ہیں : میں حالیہ سالوں میں امام کوثری کے سوا   کسی  ایسے دانشمند کو نہیں پہچانتا جس کی موت سے اس کا خلا پر نہ ہو سکے۔ وہ اس روایت" علماء  انبیاء کے وارث ہیں " کے مصداق  تھے۔ یہ محترم  عالم ، نہ کسی جدید مذہب کے پیروکار تھے  ، نہ ہی کسی نئے نظریہ کے مبلغ  اور نہ ہی ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جن کو لوگ مجدد کہتے ہیں؛ بلکہ وہ ایسے لوگوں سے بیزار تھے اور بدعت ایجاد کرنے کے بجائے پیروکار تھے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ حقیقی معنوں میں ایک مجدد تھے، کیونکہ جدت پسندی ، عوام کے تصور کے برخلاف ، ہر چیز کی نفی کرنے اور پیامبر(ص) کے دور کو رد کرنے کا نام نہیں ہے  بلکہ جدت پسندی ، دین کو  دوبارہ  رونق بخشنے  اور خرافات سے پاک کرنے نام ہے تاکہ دین شفافیت کے ساتھ جیسے ہے ویسے لوگوں کے لیے بیان کیا جائے۔ ([6])  قاہرہ کا واعظ، شيخ محمد اسماعيل عبده ، کہتا ہے: 1371 هجري قمري کو اتوار کے دن  ، مصر کے العباسیہ علاقے میں ، ایک عالمی دانشمند، ہوشیار، زبردست اور بلند نظر محقق،  نابغه  مفسر  اور ایسے مناظر   جس پر  ہرگز  کوئی  غالب نہ آسکا،  ملحدوں اور گمراہ فرقوں کی گردن پر لٹکتی تلوار، قدرتمند تریں شخص اور  سنت نبوی کے مددگار، دین کے درست اعتقادات کا دفاع کرنے والے، ہر علم  میں قیمتی اور مفید تالیفات کے مالک اور   مختلف علوم اور فنون میں صاحب رائے شخص ، رحلت کر گئے۔ ([7])

عبدالله بن صدیق غماری،  نے کوثری کو  «فقه و اصول»  اور « علم کلام و رجال»  کا  عالم قرار  دیا ہے اور کہتا ہے: علم حدیث میں اسقدر مقتدر ہے کہ جانتا ہے  کہ حدیث کے بارے میں کیسے بحث کرنی ہے، اور  علم جرح و تعدیل میں اس قدر ماہر ہیں کہ  راویوں کے بارے میں بخوبی اپنا نظریہ  بیان کرسکتے ہیں ۔ ( [8])

 

نظریات

1-قبر پیامبر(ص) کی  زیارت کرنے کے لیے  سفر کرنا جائزہے: یہی وجہ ہے کہ علامہ کوثری معتقد تھے کہ ابن تیمہ کے اکثر فتوے نفسانی خواہشات پر مبنی تھے اور دین الہی کو کھلونا بنایا تھا۔([9])

2- پیامبر (ص) کی حیات اور ممات میں ان سے متوسل ہونا جائز ہے: لہذا  وہ   اپنی  " محق التقول في مسألة التوسل" نامی کتاب میں  اس حوالے سے لکھتے ہیں :

3- سماع  مَوتیٰ  (مْردوں کا   زندوں کی آواز سننے کی قدرت رکھنا): علامہ کوثری  کی نظر مردے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ([10])

4- علامہ کوثری معتقد ہیں کہ  ابن تیمیہ اسلام اور مسلمانوں  کے لیے سب سے زیادہ  مضر ہے  یہاں تک کہ ان آخری ادوار کے دوران  مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے  کے لحاذ سے  اسلام نے ابن تیمیہ سے زیادہ مضر شخص نہیں دیکھا ہے۔([11]) ایک اور جگہ لکھتے ہیں : اگر ابن تیمیہ  اسی طرح شیخ الاسلام کے طور پر پہچانے جاتے رہے  تو اسلام سے خدا حافظی کرنا ہوگا(یعنی اسلام نابود ہوگا)۔ ([12])

- علامہ کوثری معتقد ہیں کہ ابن قیم جیسے افراد  اہل علم اور  علماء کے  لیے نمونہ عمل اور پیشوا ہوں تو  علم کا خدا حافظ ہے( یعنی علم نابود ہو جائے گا) ۔([13])

6- کسی مذہب کی پیروی نہ کرنا ، لادینیت کی طرف پل ہے: علامہ کوثری کسی اسلامی مذہب کی پیروی نہ کرنے کے مخالف تھے  وہ معتقد  تھے کہ اسلامی مذاہب،  دنیا میں سعادت اور آخرت میں بہشت جانے کے باعث ہوتے ہیں۔([14])

7- تنزیہ کا عقیدہ :  علامه کوثری،   توحید  کی  بحث میں       اهل‌حدیث پر تنقید کرتے تھے  اور ان میں سے بعض کو  مشبہ اور مجسم قرار دیتے تھے۔ نمونہ کے طور پر  وہ ابن خزیمہ کو مجسم اور اصول دین سے ناواقف سمجھتے تھے اور اسکی " کتاب التوحید" کو " کتاب الشرک " کہتے تھے۔([15])

8-  علامہ کوثری کی شاہ  محدث دہلوی پر شدید تنقید: علامہ کوثری ، شاہ  محدث دہلوی کے بارے میں لکھتے ہیں: متقدمین کی کتابوں کے بارے میں اس کی معلومات کم ہیں  ۔  احادیث کے راویوں  اور تاریخ علوم  اور مذاہب کے بارے میں اسکی شناخت کمزور ہے اس حد تک کہ بہت علمی مباحث میں لغزشوں سے دوچار ہے۔([16])آگے لکھتے ہیں : وہ عقائد اور فقہ میں قدیم حنفیوں کے پیروکار تھے لیکن جب سے حجاز چلا گیا  اور  شیخ ابوطاهر بن ابراهیم کورانی شافعی کے شاگردوں  کے حلقہ میں شامل ہو گیا ، حنفیوں کے درست راستے سے ہٹ گیا اور توحید کے بارے میں  ہندوستان میں اپنے استاد  شيخ احمد بن عبد الاحد سرهندى  -جو امام ربانی سے معروف ہیں- کے نظریہ (توحید شہودی) سے  نظریہ تجلی کے ذریعے، وحدت    وجود کی طرف متمائل ہوگئے۔ کوثری کہتا ہے کہ اس نظریہ کا  نتیجہ اتحاد اور حلول ہے جو مفکرین کی نظر میں ایک باطل نظریہ ہے ۔ وہ  بحث کو  جاری رکھتے ہوئے  دہلوی پر لا مذہبیت کا الزام لگاتے ہوئے کہتا ہے کہ  اس نے تقلید کو چھوڑ کر  حنفی فرقہ حشویہ  کی ایک نایاب اور  منحرف شاخ  کے عقائد اور فقہ کی تبلغ کرنے  لگا جس کے نتیجہ  برصغیر میں لامذہبیت اور بے دینی عام ہوگئی ۔([17])

سیاسی اور سماجی فعالیت

1-یہودیوں کے اثر و رسوخ کا مقابلہ : "دونمہ" یہودیوں ([18])  اور دوسروں ( عیسائیوں اور ارمنیوں ) نے  ترکی کی اسلامی فوج  اور تربیتی میدانوں اور مطبوعات  پر تسلط  اور ترک عوامل کو  خریدنے کے ذریعے  دینی علوم کو محدود اور علماء پر ظلم و ستم کا   آغاز کردیا اور بالآخر  اسلامی خلافت کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ علامہ کوثری نے اس لہر کے مقابلہ میں اسلام کا دفاع کیا جس کی وجہ سے انکو اپنے عہدہ سے برطرف  کرکے  ان کے لیے سزائے موت  سنائی گئی  جس کے نتیجہ میں انہوں نے اس سرزمیں سے ہجرت کی اور  رشتداروں اور جائیداد کو خیر آباد  کہہ دیا۔([19])

2- وکیل مشیخۀ عثمانی( عثمانی بزرگان  کی کونسل کے نمائندہ) تھے:  تعلیم، مدارس اور  علماء پر نظارت کرنا اسکی ذمہ داری تھی اور اس کا عہدہ مصر کے شیخ الازہر سے  زیادہ اہم تھا۔([20])

3- تحقیقات شرعیہ کے سربراہ تھے: قضات کی تقرری اور انکی برطرفی اور ان پر نظارت اسکی ذمہ داری تھی۔ ([21])

سلفیت اور وہابیت کے خلاف تالیفات

محمد زاهد کوثری   کی تالیفات دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں : پہلا حصہ  : وہ تالیفات جو شہر آستانہ سے ہجرت کرنے سے پہلے تالیف کی ہیں ۔ دوسرا حصہ : وہ  تالیفات جو  شہر آستانہ سے  ہجرت  کرنے بعد تالیف کی ہیں ۔ اسکی دوسرے حصہ کی تالیفات کے برخلاف  پہلے حصہ کی  بیشتر تالیفات   ابھی بھی خطی شکل میں باقی رہ گئی ہیں۔([22])  اہل سنت کے بزرگ عالم دین  ، علامہ کوثری نے   سلفیت اور وہابیت کے خلاف کئی کتابیں لکھی  ہیں ، اس کی کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے  ضمنا ان باتوں کی  طرف بھی اشارہ کیا جائے گا ، اسکی آثار اور تالیفات مندرجہ ذیل ہیں۔

1- محق التقول في مسألة التوسل: علامہ کوثری اس کتاب میں رسول خدا اور اسکے اہل بیت اطہار سے متوسل ہونے والوں پر  شرک کے الزام کو رد  کرتے ہیں اور ان کو  خدا سے ارتباط کا حقیقی واسطہ سمجھتے ہیں ۔ ([23]) وہ اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ  بعض حشویہ  ، قبور کی زیارت اور توسل کرنے کی  وجہ سے مسلمانوں کو شرک  کا الزام لگاتے ہیں  اور قرآن ، سنت ، عقل اور مسلمانوں(صحابہ ، تابعین، علماء) کی سیرت  سے توسل کے دلائل بیان کر کے اسکا جواز ثابت کرتے ہیں ۔

2-  التعقب الحثیث لما ینفیه ابن تیمیة من الحدیث (خطی): ابن تیمیہ نے "منهاج السنة"  میں بعض موضوعات کے بارے میں روایات کی موجودگی کا انکار کیا ہے  ۔کوثری نے اس کتاب میں ابن تیمیہ کی لکھی ہوئی باتوں پر تبصرہ لکھا ہے۔([24])   یہ کتاب ان تالیفات میں سے ہے جو شہر آستانہ سے ہجرت کرنے سے پہلے تالیف کی ہے اور خطی نسخہ ہے اور ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہے۔ سعید ممدوح لکھتا ہے کہ ممکن ہے یہ کتاب مفقود ہو گئی ہو۔([25])

3- الاشفاق علي احکام الطلاق: «مجلة الاسلام» چاپخانہ نے اس کتاب کو   شائع  کیا ہے۔ یہ کتاب ، شيخ احمد شاکر   کی لکھی ہوئی کتاب  "نظام الطلاق" کا جواب ہے ۔([26])  وہ اس کتاب میں ابن‌تیمیه  او ر ابن‌قیم جوزی  کے نظریات اور انکے دلائل پر  تنقید  کرتا ہے۔

4- تبدید الظلام المخیم من نونیة ابن القیم: یہ کتاب بھی «السيف الصقيل في الرد علي ابن زفيل للسبکي الکبير»  نامی کتاب پر مقدمہ اور تعلیقہ  ہے ۔ علامہ کوثری اس کتاب میں لکھتا ہے: ابن تیمیہ نے مذہب حشویہ کی طرف دعوت دی اور ابن قیم اسکا مقلد ہے۔ ([27])

4- البحوث الوفیة في مفردات ابن تیمیة (خطی): یہ کتاب بھی ان آثار میں سے ہے  جن کو محمد زاہد کوثری نے  شہر آستانہ آنے سے پہلے ابن تیمیہ کے نظریات کی تنقید میں لکھی ہے اور ابھی تک خطی شکل میں باقی ہے، طبع  نہیں ہوئی ہے۔ ([28])

دیگر تالیفات

1- التحرير الوجيز فيما يبتغيه المستجيز: یہ کتاب  1360 قمري  کو    چاپخانه «الانوار»  نے 45 صفحوں میں منتشر کی  تھی ۔ اس کتاب میں مرحوم کوثری کے اساتیذ کے نام اور اسکے اساتیذ کے استادوں کے نام درج ہیں اور بہت سوں کا زندگی نامہ بھی لکھا ہے۔ یہ کتاب چھوٹی ہونے باوجود  بہت فائدہ مند ہے۔([29])

2- تأنيب الخطيب علي ما ساقه في ترجمة ابي حنيفة من الاکاذيب:([30])

3- نظم عوامل الاعراب ( فارسي  زبان میں). یہ خطی  کتاب ، انکی سب سے پہلی کتاب ہے۔([31])

4- ازاحة شبهة المعمم عن عبارة المحرم (خطي):  نحو کی ایک کتاب  "کافيه ابن حاجب" ہے  ، عبدالرحمان جامي  نے اس کی شرح لکھی ہے ،" محرم " نام کا  عالم اس شرح کی بھی شرح لکھتاہے   اور  باب "ندبہ" میں ایک عبارت  لکھتا ہے .  کوثری ایک شاگرد کو دیکھتا ہے کہ اس نے "محرم " کی لکھی ہوئی عبارت کے چند سطر  حذف کیا ہے تاکہ اسکی نظر میں  کتاب کی عبارت کا معنی درست ہو۔ لیکن علامہ کوثری کی نظر میں عبارت کو اپنی جگہ رکھ کر  اسکی درست تاویل کی جاسکتی  تھی لہذا  اس نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے دس صفحوں کا رسالہ لکھا۔( [32])

5- الجواب الوفيّ في الرّدّ علي الواعظ الاوفي (خطي): بحیرہ اسود کے ساحل میں "اوف" نام کی سرزمین ہے .  اس  علاقہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں خطیب زیادہ ہیں ۔ وہاں کا ایک خطیب  علامہ کوثری کے شہر میں چلا گیا اور خطابت کر  رہا تھا  اور خطابت میں مشہور ہو گیا۔ ایک دن علامہ کوثری  ، اسکی تقریر سننے گیا ، اس دن اس خطیب نے  صوفیوں پر سخت تنقید کی ، تقریر  شام کے وقت ہوتی تھی ، چونکہ مرحوم کوثری  ، اس وقت صوفیوں کے حامی تھے  جلسہ سے باہر نکل کر   اپنے گھر چلے گئے  اور اگلے دن ظہر  سے پہلے  تک بیس صفحوں پر مشتمل رسالہ لکھ دیا۔ یہ رسالہ  خطیب  کی باتوں کے جواب میں لکھا تھا۔ دوسرے دن ظہر سے پہلے رسالہ،  خطیب ،  کو پکڑا دیا تو خطیب کی زبان بند ہوگئی اور صوفیوں کے خلاف بولنا چھوڑ دیا۔([33])

۶. تفريج البال بحل تاريخ ابن الکمال (خطي).

  1. الصحف المنشرة في شرح الاصول العشرة لنجم الدين الطامة الکبري (خطي).

۸. ترويض القريحة بموازين الفکر الصحيحة في المنطق (خطي).

۹. قرة النواظر في آداب المناظر (خطي).

۱۰. النظم العتيد في توسل المريد: یہ کتاب اسکی زندگی کے آخری ایام میں شائع ہوگئی جو چھ صفحوں پر مشمل تھی ۔ 1318ق کو 34  بیت لکھے ۔([34])

۱۱. ارغام المَريد في شرح النظم العتيد لتوسل المُريد: یہ کتاب آستانہ میں 1328 قمري کو  114 صفحوں میں بغیر فہرست اور تصحیح کے شائع ہوگئی۔ ([35])  

۱۲. ا صعاد الراقي في المراقي (خطي):  1320 ق  کو  تاليف   ہو گئی ہے

۱۳. النقد الطامي علي العقد النامي علي شرح الجامي (خطي): "العقد النامي" کو     آستانہ کے عالم  شيخ محمد رحمي الکيني  نے ایک  جلد  میں لکھی ہے جو "الفوائد الضيائية، شرح الکافية لعبدالرحمان جامي" پر ایک تعلیقہ ہے  ،  لیکن علامہ کوثری نے " عقد نامی" پر نقد لکھا اور اپنی نقد کا نام  "النقد الطامي"  رکھا ۔([36])

. الفوائد الکافية في العروض والقافية: یہ کتاب شائع ہوگئی ہے  لیکن مؤلف کا  نام اس کے اوپر درج نہیں ہے۔

۱۵. تدريب الوصيف علي قواعد التصريف (خطي).

۱۶. تدريب الطلاب علي قواعد الاعراب (خطي).

۱۷. حنين المتفجع وانين المتوجع، قصيدة في ويلات الحرب العظمي الاولي (مطبوعہ).

۱۸. ابداء وجوه التعدي في کامل ابن عدي (خطي).

۱۹. نقد کتاب الضعفاء (خطي).

۲۰. الروض الناظر الوردي في ترجمة الامام الرباني السرهندي (وفات: 1034ق): انہوں نے یہ کتاب قسطمونی میں لکھی۔ یہ  واحد کتاب ہے جو  ترکی زبان میں لکھی ہے۔ ([37])  (خطی)

۲۱. المدخل العام لعلوم القرآن (خطي): یہ دو جلدوں پر مشتمل کتاب ہے جو آستانہ میں تالیف کی ہے۔ یہ کتاب تحقیقی اور دقیق ہونے کی وجہ سے علامہ کوثری کی اہم تریں کتاب شمار ہوتی ہے۔ رجالی اور تفسیری متون کے لحاذ سے مفسرین کے درمیان تطبیقی جائزہ  اور قرآن کا ادوار ثلاثہ  (پيامبر (صلّي الله عليه وآله وسلّم) کا دور ، ابوبکر  کا  دور ا و ر  عثمان کا دور) میں جمع آوری سے متعلق مطالب  کو بیان کرنا، خط قرآن، چودہ قرائتیں اور  قاریوں کے طبقات  کے متعلق مطالب کو بیان کرنا، و نیز قرائت   اور قرآنی رسم الخط کے حوالے سے لکھی گئی کتابوں کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کرنا،  تاریخی ترتیب کے ساتھ مفسروں کی  شرح حال بیان کرنا ، اس کتاب کی خصوصیات میں سے ہے۔ کوثری کسی چیز پر اتنا افسوس نہیں کرتے تھے جتنا اس کتاب کے مفقود ہونے پر کرتے تھے۔اس کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کتاب کہاں ہے اور اس پر کیا بیتی ہے۔([38])

۲۲. رفع الريبة عن تخبطات ابن قتيبة (خطي): ( [39])

۲۳. صفعات البرهان علي صفحات العدوان: یہ کتاب ان مکتوبات کا جواب ہے جو سيد محب الدين خطيب  نے "الزهراء" مجلہ میں لکھا ہے۔([40])

۲۴. بلوغ الاماني في سيرة الامام محمد بن الحسن الشيباني:  یہ کتاب 72 صفحوں میں بغیر فہرست اور تصحیح کے  ان نایاب رسالوں کے ضمن میں منتشر ہوگئی  ہےجنہیں خانجی شائع کرتا تھا ۔ ([41])

۲۵. احقاق الحق بابطال الباطل في مغيث الخلق: یہ  کتاب "مغيث الخلق" نامی کتاب میں لکھی گئی غلط باتوں کا جواب دیتی ہے  کیونکہ اس  کتاب کے گیارویں اور بارہویں صفحہ میں حنفیوں کے بارے میں ناشائستہ مطالب بیان کیے گئے ہیں۔([42])

۲۶. اقوم المسالک في بحث رواية مالک عن ابي حنيفة و رواية ابي حنيفة عن مالک: یہ کتاب «إحقاق الحق» کے آخر میں  نشر ہوگئی ہے۔([43])

۲۷. تذهيب التاج اللجيني في ترجمة البدر العيني (وفات: 855ق): انہوں نے بخاری پر لکھی ہوئی اپنی شرح کو تلخیص کر کے اس کی ابتدا میں اس کتاب کو   طبع و نشر کیا ہے۔([44])

۲۸. الاهتمام بترجمة ابن الهمام (وفات: 861 ق): یہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔

۲۹. عتب المغترين بدجاجلة المعمرين (خطي).

۳۰. تحذير الخلف من مخازي أدعياء السلف (خطي).

۳۱. قطرات الغيث من حياة الليث (وفات: 175 ق) (خطي).

  1. الحاوي في سيرة الامام ابي جعفر الطحاوي (وفات: 321 ق): یہ کتاب 1368 قمري کو " الانوار" چاپخانه سے 43  صفحوں میں شائی ہوئی ۔([45])

۳۳. فصل المقال في بحث الاوعال:  اس کتاب کو بعد میں «فصل المقال في تمحيص أحدوثة الأوعال» کہا گیا۔(خطی)۔اس  میں اس کتاب میں اس  خرافاتی حدیث کا  جواب دیا گیا  ہے جو کہتی ہے  کہ  عرش کو   مینڈھا اٹھایا ہوا ہے، یہ کتاب 12  سال  سے  مصر میں تنازع کا باعث بنی ہوئی ہے۔([46])

۳۴. البحوث السّنية عن بعض رجال اسانيد الطريقة الخلوتية (خطي  اور مطبوعہ): علامہ کوثری نے  یہ  کتاب ،   شيخ عبدالخالق بشراوي (وفات: 1366ه‍.ق)  کے حکم سے   1362  ق  کے  ربيع الثاني  میں  لکھی ۔ اس کتاب میں  دس بڑے صفحوں پر شیخ خلوتی کا زندگی نامہ لکھا گیا ہے ، اس کتاب کا اصل نسخہ ان کے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔([47])

۳۵. نظرة عابرة في مزاعم من ينکر نزول عيسي (عليه السلام).

۳۶. نبراس المهتدي في اجتلاء انباء العارف دمرداش المحمدي (وفات: 929 ق).

۳۷. النکت الطريفة في التحدث عن ردود ابن أبي شيبة علي ابي حنيفة۔ ([48])

۳۵. نظرة عابرة في مزاعم من ينکر نزول عيسي (عليه السلام).

۳۶. نبراس المهتدي في اجتلاء أنباء العارف دمرداش المحمدي (وفات: 929 ق).

۳۷. النکت الطريفة في التحدث عن ردود ابن أبي شيبة علي ابي حنيفة[48].

۳۸. رفع الاشتباه عن مسألتي کشف الرؤوس و لبس النعال في الصلاة.

۳۹. ترجمة العلامة محمد منيب العنتابي (وفات: 1238 ق) (خطي).

۴۰. من عبر التاريخ.

۴۱. حسن التقاضي في سيرة الإمام ابي يوسف القاضي (وفات: 182ق).

۴۲. لمحات النظر في سيرة الامام زفر (وفات: 158 ق).

۴۳. الامتاع بسيرة الامامين الحسن بن زياد (وفات: 204 ق) و صاحبه محمد بن شجاع (وفات: 266 ق).

۴۴. الترحيب بنقد التانيب.

۴۵. تعطير الانفاس بذکر سند ابن ارکماس: یہ کتاب ایک مجموعہ کے ضمن میں شائع ہوئی ہے

۴۶. الافصاح عن حکم الاکراه في الطلاق والنکاح.

۴۷. الاستبصار في التحدث عن الجبر والاختيار:  یہ انکی  وہ تالیف ہے  جو  سب سے آخر میں شائع ہو گئی ہے  البته ممکن ہے  انکی آخري تأليف بھی ہو۔ ([49])

۴۸. لفت اللّحظ إلي ما في اللفظ:  یہ مکتوب  ، ابن قتيبه کی   کتاب «الاختلاف في اللفظ و الردّ علي الجهمية و المشبهة»  پر ایک مقدمہ اور تعلیقہ ہے ۔  اس کتاب کو قدسی نے  مصر میں چاپخانہ  "سعادت " سے  فہرست کے ساتھ 86  صفحوں میں شائع کیا ہے۔([50])

مقالات

کوثری نے  مختلف موضوعات  پر  کثیر تعداد میں مقالے لکھے ہیں ، ان مقالات میں سے ہر مقالہ اپنے مخاطبین کو مفید سبق سکھاتا ہے ، یہ مقالات ایسے مجلوں میں شائع ہوتے تھے جو مقالات کی روش سے ہماہنگ تھے ۔ پہلے نمبر پر  «الاسلام» مجلہ  اور اسکے بعد مجله «الشرق العربي» نے سب سے زیادہ اسکے مقالات شائع کیے ہیں۔ انکے بعض  فاضل  شاگردوں نے  بھی ایک علیحدہ مجموعہ میں انکے مقالات  جمع کیے ہیں اور اسکے شروع میں انکا  زندگی نامہ شائع کیا ہے ۔ یہاں  پر اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا  چلوں کہ  محمد زاهد کوثري  کے بہت سارے علمی رسالے ہیں  جو  دنیا میں پراکندہ  ہونے کی وجہ سے انکو جمع کرنا آسان نہیں ہے ۔ یہ رسالے، سوال کرنے والوں کا جواب لکھ کر انکو بھیجا جاتا تھا۔ ([51]) ان مقالات میں ایسے مقالات بھی ہیں  جو  وہابی اور سلفی تفکر کے خلاف ہیں ، ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں :

. اللامذهبیة قنطرة اللادینیة؛

۲. بناء مساجد علی القبور و الصلاة إلیها؛

۳. خطورة القول بالجهة فضلاً عن القول باالتجسیم الصریح؛

۴. ابن عبد الوهاب و الشیخ محمد عبده؛

۱. المولد الشریف النبوي.

وفات

علامه کوثری، نے زندگی کے آخری ایام ،قاہرہ شہر میں گزارے ،  وہ 19 ذیقعدہ 1371 ھ  اتوار کے دن، عصر کے وقت   75 سال کی عمر میں  رحلت کر گئے جبکہ اس کی عقل اور حواس خمسہ  مکمل طور پر سالم تھے اور مشہور متکلم ابو العباس طوسی کی قبر کے نزدیک دفن ہوگئے ۔([52] )  احمد خیری لکھتا ہے: علامہ کوثری کے ساتھ میری آخری ملاقات میں انہوں نے مجھ سے کہاکہ یہ شعر میری قبر پر لکھ دیں ۔ ([53])

یا واقفا بشفیر اللحد معتبرا                                                                 قد صار زائر امس الیوم قد قبرا    

    اے قبر پر کھڑے معتبر  شخص ، کل کا زائر آج مدفون ہوا ہے

فالموت حتم فلا تغفل وکن حذرا                                       من الفجاءة وادع للذی عبرا 

پس موت حتمی ہے غفلت نہ کرنا  اور ناگہانی موت سے ڈرتے رہنا  اور جو دنیا سے گذر گیا ہے اس کے لیے دعا کرنا

فالزاهد الکوثری ثاو بمرقده                                                           مسترحما  ضارعا للعفو منتظرا   

پس زاہد کوثری اپنی قبر میں لیٹا ہوا   خضوع و خشوع کے ساتھ اللہ کی رحمت کا طلبگار اور عفو کو منتظر ہے۔

 

مقالہ نگار: سید مصطفی عبدالله زاده

کليدي  کلمات : علامه كوثری،         وهابیت   کے مخالف علماء ،           اهل سنت کے علماء

فارسی مقالہ  کی لینک

 


 

[1] الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، دار الکتب العلمیه، بیروت، طبع اول، 1425 ق. ص 18- کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، با مقدمۀ: وهبی سلیمان غاوجی، دار البشائر، دمشق طبع اول، 1424 ق. ص27.

[2] کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، ص 27.

[3] وہی کتاب، ص 27 و 28.

[4] کوثری، محمد زاهد، التحریر الوجیز فیما یبتغیه المستجیز، مطبعة الانوار، ص 4.

[5] الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 64 تا 66.

[6] کوثری، محمد زاهد، تأنيب الخطيب علي ما ساقه في ترجمة ابي حنيفة من الأکاذيب، 1410 ق. ص: ج، د

[7] کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، ص 30.

[8] غماری، عبدالله بن محمد، سبیل التوفیق؛ في ترجمة عبد الله بن الصدیق الغماري، قاهره: نشر مکتبة القاهرة، طبع سوم، 1433ق. ص 38.

[9] الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 29.

[10] کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، ص 22.

[11] کوثری، محمد زاهد، الأشفاق على أحكام الطلاق، ص 67.

[12] ایضاً، ص 70.

[13] ایضاً۔

[14] الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 60.

[15] کوثری، محمد زاهد، مقالات الکوثري، قاهره: مکتبة التوفیقیة، بی‌تا. ص 301- ابن ابی‌العز، علی بن علی، شرح العقیدة الطحاویة، تحقیق: محمد ناصرالدین البانی، ص50

[16] محمد زاهد الکوثری، حسن التقاضی فی سیره الامام ابی یوسف القاضی، مکتبه الازهریه للتراث، ص96.

[17] ایضاً، ص 97 و 98.

[18] مہاجر یہودیوں کا وہ گروہ جو عثمانی حکومت(ترکی) کی سرحد کے قریبی علاقوں ساکن ہوئے اور بہ ظاہر اسلام قبول کیا ۔ انہوں نے عثمانی سلطنت کے ارکان میں اثر و رسوخ کے ذریعے کلیدی عہدے اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد عثمانی سلطنت کو کمزور کرکے اس کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

[19] کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، ص 28.

[20] کوثری، محمد زاهد، تأنيب الخطيب علي ما ساقه في ترجمة ابي حنيفة من الأکاذيب، 1410 ق. ص: و- الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 25.

[21] الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 25.

[22] کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، ص 35- الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 40.

[23] ایضاً۔ ص 44۔

[24] ایضاً، ص 41.

[25] ممدوح، محمود سعید، رفع المنارة، ص22.

[26] کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، ص 38- الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 42.

[27] تقی الدین سبکی، السيف الصقيل في الرَّدِّ عَلَى ابنِ زَنجفِيل، علامه کوثری، ص 4 و 6.

[28] کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، ص 37- الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 41.

[29] ایضاً، ص 42۔

[30] ایضاً، ص 43۔

[31] ایضاً، ص 40۔

[32] ایضاً۔

[33] ایضاً۔

[34] ایضاً۔ ص 41۔

[35] ایضاً۔

[36] ایضاً۔ ص 41۔

[37] ایضاً۔

[38] ایضاً۔ ص 42۔

[39] ایضاً۔

[40] ایضاً۔

[41] ایضاً۔

[42] ایضاً۔ ص 43۔

[43] ایضاً۔

[44] ایضاً۔

[45] ایضاً۔

[46] ایضاً۔

[47] ایضاً۔

[48] ایضاً۔

[49] ایضاً۔ ، ص 45۔

[50] ایضاً۔

[51] کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، ص 49 و 50- الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 49 و 50.

[52] کوثری، محمد زاهد، تأنيب الخطيب علي ما ساقه في ترجمة ابي حنيفة من الأکاذيب، 1410 ق. ص ب- کوثری، محمد زاهد، مَحقُ التقوّل في مسألة التوسل، ص 28- الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 15- کوثری، محمد زاهد، التحریر الوجیز فیما یبتغیه المستجیز، ص 22.

[53] الفقه و أصول الفقه من أعمال محمد زاهد الکوثري، الامام الکوثری، احمد خیری، ص 22.

کلمات کليدي: علامه كوثری    علماء اهل سنت

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ