اندراج کی تاریخ  10/20/2019
کل مشاہدات  609
ابو الحسنات محمد عبد الحي بن محمد عبد الحلیم الانصاری اللکنوی (1) الھندی، حنفی علماء میں سے ہیں۔ اور 1264 ق۔ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی عبد الحلیم مدرسہ نواب کے اساتذہ میں سے تھے۔ لکھنوی کا شجرہ نسب ابو ایوب انصاری سے جا ملتا ہے۔ لکھنوی کے اجداد مدینہ سے ہرات اور ہرات سے لاہور آئے پھر لاہور سےدہلی سے اور دہلی سے لکھنو آئے۔
ملک :  --

زندگی نامہ

لکھنوی نے پانچ سال کی عمر میں قاسم علی لکھنوی کے پاس قرآن حفظ کرنا شروع کیا۔ اور حفظ قرآن کے بعد دس سال کی عمر میں نماز تراویح کے امام جماعت بن گئے۔ اور گیارہ سال کی عمر میں شہر جونفور میں اپنے والد جو کہ استاد تھے، کے پاس دینی علوم حاصل کرنا شروع کیا۔ اور 17 سال کی عمر تک انہوں نے بہت سے دینی علوم جیسے فقہ، حدیث، اصول، تفسیر اور ادبیات وغیرہ سیکھ لیئے۔ اسی طرح لکھنوی نے طب وحکمت اور ریاضی کو بھی اس فن کے اساتذه کے پاس پڑھا۔ لکھنوی نے اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر جوانی میں ہی تدریس اور تالیف کرنا شروع کیا۔ اور جو بھی کتاب پڑھتے تھے بعد میں اس کو پڑہاتے تھے۔ اور جو کتابیں انہوں نے بغیر استاد کے پڑھی تھیں ان میں سے خواجہ نصیر الدین طوسی کی کتابیں، جیسے شرح الہیات وتجرید اور انکی دوسری کتابیں تھیں۔ جس طرح انہوں نے خواجہ نصیر الدین طوسی کو اچھی طرح دیکھا اور علمی مشکلات کے بارے میں ان سے پوچھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لکھنوی علمی ابحاث میں مذہبی تعصب نہیں رکھتے تھے۔ اور کئی شیعہ کتابوں کا مطالعہ بھی کیا ہے۔ لکھنوی نے مکہ میں زینی دحلان ، مفتی شافعی مکہ، سے تمام اسانید ہدایہ مرغینانی کی اجازت لی تھی۔ اسی طرح حدیث کی کئی کتابوں (جیسے موطا محمد شیبانی) کے بارے میں اپنے اساتذه سے اجازت لی ہوئی تھی۔
لکھنوی نے علم صرف، نحو، حکمت، علم مناظرہ، تاریخ، فقہ، سیرت اور حدیث میں کئی کتابیں لکھیں ہیں جو مجموعی طور پر 100 کتابیں بنتی ہیں۔ شیخ عبد الفتاح نے لکھنوی کی کتابوں کے نام کتاب رفع وتکمیل جس کا حاشیہ لکھا ہے، کے مقدمے میں ذکر کیئے ہیں۔ لکھنوی کی کتابیں ان کتابوں میں سے تھیں کہ جنہیں علامہ محمد زاہدی کوثری نے عبد الفتاح ابو غدہ سے پڑھنے کی سفارش کی تھی۔

لکھنوی علمائے اہل سنت کی نظر میں  

عبد الحي حسنی طالبی لکھنوی کے بارے میں لکھتا ہے: لکھنوی علوم عقلی اور نقلی میں ماہر تھے۔ اور شرعی مسائل سے آگاہ تھے۔ اور علم فتوی میں منفرد تھے۔ اسی طرح اصول اور فروع میں احاطہ رکھتے تھے۔ اور ہمارے زمانے کے عجائب اور ہندوستان کے بہترین علماء میں سے تھے۔ اور تمام علماء نے اس کے فضل کا اعتراف کیا ہے۔(2)
محمد بن عبد اللہ حنبلی نے انکے بارے میں لکھا ہے: انسان کا دل لکھنوی کی ہمنشینی سے خوشحال ہوتا ہے کیونکہ لکھنوی احادیث نبوی پر تسلط رکھتے ہیں اور مختلف علوم میں ماہر ہیں۔(3)

صدیق حسن خان، باوجود اسکے کہ وہ لکھنوی کے مخالف ہے، لکھنوی کی موت کی خبر سن کر رونے لگے اور کہا: آج علم کا سورج غروب ہوگیا۔ (4). کوثری لکھنوی کے بارے میں کہتا ہے: لکھنوی احکام احادیث کے حوالے سے اپنے زمانے کے اعلم علماء میں سے تھے (5)۔

ابو الحسن ندوی کہتا ہے: لکھنوی علامہ ہند اور فخر متاخرین تھے (6)۔ بہت سارے علماء نے لکھنوی کی تعریف کی ہے اور ڈاکٹر ولی الدین ندوی نے اس کے بارے میں بزرگ علماء کے اقوال اپنی کتاب بنام الامام عبد الحي اللکنوی میں جمع کیئے ہیں۔


نظریات  
لکھنوی صدیق حسن خان کی طرح ہندوستان کے حنفی مکتب کے بزرگ علماء میں سے تھے اور غیر مقلدین کے مخالف تھے۔(7) اور ائمہ اربعہ کی تقلید کو واجب سمجھتے تھے کیونکہ ائمہ اربعہ جزء سلف ہیں۔ اور ابن تیمیہ اور شوکانی وغیرہ جزء خلف ہیں۔ قبر پیغمبر (ص) کی زیارت کی خاطر سفر کرنے کا استحباب لکھنوی کے عقائد میں سے ہے۔ لہذا اس نے تین رسالے ان لوگوں کی رد میں لکھے ہیں جو حج پر جاکر قبر پیغبر کی زیارت کرنے نہیں گئے۔ اسی طرح روایات قبر پیغمبر (ص) کو صحیح یا حسن شمار کرتے ہیں۔ اور اپنی کئی کتابوں میں مسئلہ شد رحال اور زیارت قبر پیغمبر (ص) پر ابن تیمہ کے اشکالات اور ردود کی طرف اشارہ کیا ہے اور ابن تیمیہ کے باطل اقوال میں سے یہ ہے کہ وہ زیارت قبر پیغمبر (ص) کی خاطر سفر کرنا حرام  سمجهتا ہے (8)۔ اور کتاب رفع وتکمیل میں اس بات کے قائل ہیں کہ جو بھی حدیث زیارت پیغمبر (ص) کو ضعیف شمار کرتا ہے وہ گمراہ ہے۔ لکھنوی کا خیال ہے کہ ابن تیمہ جرح روایان حدیث (9) میں متشدد ہیں اور جو احادیث موضوع (گھڑی ہوئی) نہیں ہیں انکو گھڑی ہوئی احادیث میں شمار کیا ہے۔ (10)

سیاسی سرگرمیاں

لکھنوی نے اپنی عمر کے پہلے دس سال اس وقت گزارے جب ہندوستان انگریزوں کے زیر تسلط تھا۔ اسی لیئے کچھ مسائل (جیسے مسلمانوں کا انگریزوں کے ساتھ تعامل کرنا جائز ہے یا نہیں) کے بارے میں جواب اور فتوے دے دیے اور لوگوں نے اس حوالے سے ان سے سوالات پوچهے۔ اور يہ فتوے ایک مجموعے  بنام "مجموع الفتاوی" میں جمع کیئے گئے ہیں۔ (11) اسی طرح اپنی بعض کتابوں میں انگریزوں کے تسلط کو، فتنہ ہند سے تعبیر کیا ہے۔

تالیفات
لکھنوی کی اہم ترین کتابیں جو ویابیت اور غیر مقلدین کی رد میں لکھی ہیں، یہ ہیں:

  1. ۱. السعي المشكور في رد المذهب المأثور
  2. ۲. الكلام المبرور في رد القول المنصور
  3. ۳. الكلام المبرم في نقض القول المحكم

لکھنوی نے یہ تین کتابیں زیارت قبر پیغمبر (ص) اور شد رحال (سفر براے زیارت قبر پیغمبر (ص) کے بارے میں لکھی ہیں۔ اور یہ تینوں کتابیں محمد بشیر سہموانی پر ایک رد ہیں کہ جب سہوانی حج پہ جاتا ہے تو قبر پیغمبر (ص) کی زیارت کے لیئے نہیں جاتا۔ اور قبر پیغمبر (ص) کی زیارت کے منع پر کئی رسائل بھی لکھے ہیں (12)

1.4 نقد أوهام صديق حسن خان المسمى إبراز الغي الواقع في شفاء العي
لکھنوی نے یہ کتاب الاتحاف والاکسیر والحطہ کے مولف (صدیق حسن خان) کی رد میں لکھی ہے۔ اور ذکر کیا ہے کہ صدیق حسن خان کے پاس انحرافات ہیں جن سے دور رہنا لازم ہے۔ (13)۔
اسی طرح صدیق حسن کے انحرافات (جیسے اہل سنت کے ائمہ اربعہ کی تقلید نہ کرنا اور قبر پیغمبر (ص) کی زیارت نہ کرناوغیرہ) کا جواب دیا ہے۔

  1. ۱. إقامة الحجة على أن الإكثار من التعبد ليس ببدعة

یہ کتاب عبد الحي لکھنوی کی ہے جس میں وہابی اور برصغیر کے اہل حدیث کے عقائد پر رد کیا ہے۔ اور عبد الفتاح ابو غدہ نے اسکی تحقیق ہے۔ لکھنوی اس کتاب میں لکھتے ہیں: کبھی بھی اشاعرہ اور ماتریدیہ نے اختلافی مسائل میں ایکدوسرے کی طرف بدعت اور گمراہی کی نسبت نہیں دی، اس کے برعکس آج کے متعصبین فرعی اور فقہی مسائل میں ایک دوسرے کی طرف بدعت کی نسبت دیتے ہیں۔ اسی طرح لکھا ہے: آجکل بہت سارے جاہل ہر اس فعل کو بدعت سمجھتے ہیں جسے صحابہ نے انجام نہیں دیا اور جس کے رد پر کوئی دلیل نہ ہو۔

وفات
لکھنوی سال 1304 ق۔ کو اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف کوچ کرگئے۔ اور اپنے آبائی قبرستان میں مدفون ہیں.
عبد الفتاح نقل کرتا ہے کہ میں لکھنوی کے قبر پر گیا، اس کی قبر پر اسکے شاگردوں میں سے ایک شاگرد بنام عبد العی المدارسی نے کلام خدا (سلام علی عبادہ الذین اصطفی) کے بعد لکھا تھا:

ایها الزوَّار قف واقرأ علی هذا المزار      سورهَ الاخلاص والسبعَ المثانی والقنوت

فیه عبدالحی مولانا امام العالمین       إنه علامه فی کل علم بالثبوت

أرَّخ الآسی أسیا آسیاً فی فوته           فات عبدُ الحیِ والقیوم حیٌّ لا یموت

 


 

[1] - لكنهو (Lucknow).كى طرف منسوب ہے.

[2]- حسني طالبي، عبد الحي بن فخر الدين (م 1341)، الإعلام بمن في تاريخ الهند من الأعلام المسمى بـ (نزهة الخواطر وبهجة المسامع والنواظر)، دار ابن حزم، بيروت، چاپ اوّل، 1420 هـ.ق. ج 8، ص 1268.

[3]- دکتر ولی الدین ندوی، الامام عبدالحی اللکنوی، دار القلم، چاپ اول، 1415 ق. ص 84.

[4]- ايضا

[5]ايضا  ص 85.

[6]- ايضا.

[7]  جو لوگ فقہى مذاهب كے ائمہ اربعہ كى تقليد كو جائز نہيں سمجهتے اور شرك شمار كرتے ہيں.

[8]- الإمام محمد عبد الحي اللكنوي (ت1304هـ)، إبراز الغي الواقع في شفاء العي، محقق: الدكتور صلاح محمد أبو الحاج، ناشر : دار الفتح، عمان، الأردن، چاپ اول، 2000م. ص 68- محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ)، التعليق الممجد على موطأ محمد (شرح لموطأ مالك برواية محمد بن الحسن)، تعليق وتحقيق: تقي الدين الندوي أستاذ الحديث الشريف بجامعة الإمارات العربية المتحدة، ناشر: دار القلم، دمشق، چاپ چهارم، 1426 هـ - 2005 م. ج 3، ص 482.

[9]- وه رواى جو  ثقہ ہيں اور علماء نے انكى توثيق كى ہے، كا جرح كيا ہے.

[10]- ايضا، ج 1، ص 26.

[11]- دکتر ولی الدین ندوی، الامام عبدالحی اللکنوی، ص 36.

[12]- محمد عبد الحي اللكنوي، الرفع والتكميل في الجرح والتعديل، محقق: عبد الفتاح أبو غدة، ناشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، چاپ سوم، 1407ق. ص 211 و 212.

[13]- الإمام محمد عبد الحي اللكنوي (ت1304هـ)، إبراز الغي الواقع في شفاء العي، محقق : الدكتور صلاح محمد أبو الحاج، ناشر: دار الفتح، عمان، الأردن، چاپ اول، 2000م. ص 6 و 7.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ