ملک :  --

 

شيخ محمد ناصر الدين بن حاج نوح البانی  جو کہ معروف ہے«الباني» کے نام سے، فرزند ہے حاج نوح  کا  اورسال۱۳۳۳هـش /۱۹۱۴م  کو شهر «آشکودره » میں پیدا ہوا جو کہ البانیہ کا دار الحکومت ہے۔ اپنے والد کے ہمراہ شام چلا گیا[1] اور وہاں پر مدرسہ اسعاف خیری  دمشق میں اپنے دروس مکمل کیے اور ابتدائی دورہ مکمل کرنے کے بعدان کے والد نے اس ابتدائی دورے کو اپنے بیٹے کےلئے کافی نہیں سمجھا اور اس کو ایک خاص دقیق علمی طریقے  سے قرآن،تجوید،نحو و صرف اور فقہ مذہب حنفی پڑھایا۔یہاں تک کہ اس نے قرائت حفص از عاصم کو حفظ کیا ۔اسی طرح اس نے فقہ حنفی اور کچھ بلاغت اور لغت کے دروس سعید برہانی کے پاس پڑھے اور حلب کے محدث شیخ محمد طباخ سے روایت کرنے کی اجازت لی[2].

البانی  ابھی ۲۰ سال کا بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے  شیخ رشید رضا کےالمنار میگزین کا مطالعہ کیا  اور اس سے متاثر ہوکر علم حدیث کی طرف آیا۔اور كتاب « المغني عن حمل الأسفار في تخريج ما في الإحياء من الأخبار" للحافظ العراقی » کا مطالعہ، تحلیل اور نسخہ برداری کی جو کہ شیخ محمد ناصر کےلیے ایک بڑے علمی  کام کا آغاز تھا تاکہ  وہ علوم حدیث  پر زیادہ توجہ دے  سکے۔آلبانی کو تاریخی اعتبار سے   حدیث اور علوم حدیث کے ساتھ اس کے لگاو کی وجہ سے اہل حدیث کہا جاسکتا ہے۔ البانی کی شخصیت نے اسے دوسرے تقلیدی فقہی مدارس سے ممتاز کردیا  اس حد تک کہ اسے  سنت نبوی اور  علوم نبوی میں   اہل  حدیث کے عقاید کے علاوہ بھی کچھ  اور موارد کا اضافہ کرنے کی وجہ سےاس نئے تخصص کا بانی کہا جاسکتا ہے۔جیسا کہ ابن تیمیہ اور اس کے شاگردوں نے یہ کام انجام دیا ہے۔البانی نے صرف علوم نظری حدیثی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ لوگوں کو سلفیت کی طرف دعوت دینا شروع کردیا۔البانی کے اہم کاموں  میں سے ایک اردن میں اس کا قیام  تھا   ۔ مسلم دنیا میں ان کا سب سے زیادہ اثر تھا،جہاں پر اس نے شام کے تقلیدی علما کی مخالفت کی اور جس کی وجہ سے اسے دو دفعہ جیل ہوگئی۔ جب علم، دعوت اور اسلوب و منہج میں البانی  مرجع بنا  تو جدید  سلفی تفکر کی بنیاد  ڈالی گئی۔ البانی اور دوسروں کے درمیان فرق یہ ہے کہ  البانی کا خطاب عمومی ہے اور وہ ہے  احیاء العودة الی الکتاب والسنة منہج محدد کے مطابق جو کہ وہی منہج سلفی ہے جو کہ البانی میں تبدیلی کا معیار بنا جب اس نے دیکھا  کہ اسلامک سوسائٹی جمود کا شکار ہوچکی ہے اور سیاسی معاشرے نے اسے مسترد کردیا ہے۔ لیکن البانی کی تبدیلی سیاسی نہیں تھی بلکہ سلفی اسلام    کی فکر میں تبدیلی تھی اور یہی سے اس نے توحید،شرک اور بدعت کے مسائل بیان کرنا شروع کردیا۔پس یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ البانی کی دعوت عمومی تھی جس کی بنیاد نصوص اور فہم  نصوص تھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ البانی سے متاثر افراد مختلف ہیں جیسے جہادی،تکفیری جہیمانی اور حتی جامیہ، یہ سب کے سب منہج البانی کی پیروی کرتے تھے لیکن ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے تھے۔ لگتا کچھ یوں ہے کہ البانی کی تبدیلی سیاسی تھی لیکن عملا وہ سیاست نہیں کرتا  تھا اور یہ سبب بنا کہ  مختلف سلفی اس کی طرف جذب ہوں۔جیسا کہ البانی کے شاگرد عبدالرحمن عبدالخالق کہتا ہے البانی اپنی پوری زندگی میں کسی خاص گروہ کا طرفدار نہیں رہا اور کسی خاص گروہ سے دشمنی بھی نہیں کی اور سب کو نصیحت کرتا  تھا۔اسی وجہ سے آپ دیکھ رہے ہو کہ اس کے شاگرد اخوان المسلمین سے بھی ہیں،جماعت حزب التحریر، جماعت عبادالرحمن اور سلفی بھی ہیں اور ایک فرقہ نہ بنانے کی خاص وجہ یہ تھی کہ سارے گروہ اس کے علم سے استفادہ کریں۔

البانی کی سوچ اسلام ناب محمدی کا احیا تھا [3] اور جب البانی نے علمی پیشرفت کی تو مسلم دنیا پر اس  کا گہرا اثر  پڑا   اور متضاد جماعتوں کے افکار کی نسبت البانی کی طرف دی جاتی تھی اور البانی کی یہ سوچ سبب بنی کہ مختلف جہادی گروہ جیسے مصر میں الجهاد والجماعة الاسلامیه اور سلفی جماعتیں ہندوستان اور افریقہ میں بنیں۔ان میں سے بعض گروہ البانی کے بعض نظریات سے اختلاف رکھتے تھے لیکن کتاب وسنت کی طرف رجوع کرتے  وقت البانی کی فہم کی پیروی کرتے تھے۔کتاب معجم الجامع میں جو کہ علمائے معاصر کے حالات زندگی  کے بارے میں لکھی گئی ہے، علوم حدیث کے متعلق البانی کے مطالعات اور تحقیق کے بارے میں یوں آیا ہے کہ اس نے اس حد تک پیشرفت کی کہ دمشق  کی لائبریری نے ایک کمرہ اس کے ساتھ خاص کردیا اور لائبریری کی ایک چابی اس کے حوالہ کردی تاکہ وہ اپنی تحقیق جاری رکھ سکے۔البانی کی زیادہ تر تحقیق پیامبر اسلام کی احادیث کے بارے میں تھی۔اس نے ابن تیمیہ، ابن قیم شاگرد ابن تیمیہ اور سلفی بزرگوں کی کتابوں کا وہابی نگاہ سے دقیق مطالعہ کیا  اور اس مطالعہ کے آثار اس کی کتابوں میں نظر آتے ہیں ۔وہابیوں کے نزدیک اس کی اپنی علمی اور تحقیقی شہرت کی وجہ سے  مدینہ کی اسلامی یونیورسٹی کی طرف سے اسے علوم حدیث پڑھانے کی دعوت ملی اور تین سال تک اس نے وہاں پر تدریس کے فرائض انجام دیئے[4]۔ یونیورسٹی کے نائب صدر جس کے البانی کے ساتھ شخصی تعلقات تھے وہ عبدالعزیز بن باز تھا وہ بھی البانی کی طرح سعد بن عتیق کی تعلیمات سے متاثر تھا جو کہ ہند کے اہل حدیث علما میں سے تھا.[5] بن باز اور البانی کے درمیان فکری نزدیکی سبب بنی کہ وہ بن باز کی دعوت پر مدینہ یونیورسٹی میں پڑھانے کےلیے سفر کرے۔ لیکن یہ سفر البانی اور علماء کے درمیان علمی مناقشات اور مباحثوں کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکا چونکہ بعض لوگ جیسے محمد ابراہیم آل شیخ نے شدت سے اس کی مخالفت کی اور البانی کی شخصیت کو اجتہاد اور مذہب فقہی کےلیے بہت بڑا خظرہ قرار دیا.[6] البانی کے زیادہ تر فتاوی سعودیہ کے دینی موسسے  کےخلاف تھے اور ان کو بہت ناراض کیا یہاں تک کہ اس نے ایک کتاب لکھی بنام «حجاب المرأة المسلمة»۔ اس کتاب میں  اس نے ایک فتوی دیا کہ عورت کا چہرہ عورت شمار نہیں ہوتا اور یہ مذہب حنبلی اور وہابی نظر کے خلاف تھا اور سعودی علما نے اسے قبول نہیں کیا ۔یہ فتوی احمد حنبل اور وہابی علما کے فتوی کے مطابق نہیں تھا ۔کتاب صفة صلاة النبیبھی البانی کے کچھ فقہی فتاوی پر مشتمل ہے جو کہ وہابی فقہ کے خلاف ہیں جیسے ہفتے کے دن روزہ رکھنا حرام ہے مگر یہ کہ روزہ رکھنا واجب ہو  یا  محلق سونے کا استعمال خواتین کےلیے حرام ہے۔ اس قسم کے فتوے لگانے کے بعد بعض وہابی علما جیسےشیخ محمد بن ابراهیم انصاری ، شیخ حمود بن عبدالله تویجری، مصطفی العدوی، ممدوح جابر عبدالسلام کو موقع ملا کہ وہ البانی کی کھل کر مخالفت کریں  اور اس پر رد لکھیں۔ اسی وجہ سے محمد بن ابراہیم آل شیخ نے   بغیر کسی خاص وجہ کے مدینہ یونیورسٹی میں  اس کے تدریس کی قراردار مسترد کردی اور شام واپس لوٹنے کے بعد اس کو جیل ہوگئی۔[7]

اگر ہم چاہیں محمد بن الوہاب کے بارے میں یا کلی طور پر وہابیت کے بارے میں اس کے نظریے کوبیان کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ محمد بن وہاب کے بارے میں اس کا نظریہ یہ تھا کہ اس کا عقیدہ وہابی سلفی تھا  اور وہ مذہب احمد بن حنبل کا مقلد تھا۔[8] البانی نے اپنی زندگی میں بہت سارے شاگردوں کی پرورش کی ۔،حمد ابو رمان اپنے ایک مضمون میں البانی کے کئی شاگردوں کا نام لیتا ہےجنہوں  نے مسلم دنیا کے ایک بڑے جغرافیائی علاقے کو کور کیا ہے۔ان میں سے  حمدی عبدالمجید عراق میں  ہیں ، عبدالرحمن عبدالخالق کویت میں ،مقبل بن هادی الوادعی یمن میں ، ابو اسحاق الحوینی مصر میں ، سالم بن الشهال لبنان میں ، محمد ابرهیم شقرةاردن میں اور مدخلی عربستان  میں ہیں  .[9]

البانی کا رشید رضا سے متاثر ہونا

البانی کی  شخصیت کا دقیق مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ وہ رشید رضا اور جمال الدین القاسمی سے بے حد متاثر تھا۔ایک دن البانی ایک بازار سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر مجلہ المنار پر پڑی اور اس نے وہ مجلہ خرید لیا اور اس کے بعد رشید رضا  سے متاثر ہوا۔رشید رضا    کی  زندگی میں اس کے اعتقادات میں تبدیلی آتی رہی ہے یہاں تک کہ آخر میں وہ وہابیت کی طرف تمایل پیدا کرتا ہے، اسی وجہ سے اس نے نجد کے علما کی بہت ساری کتابیں چھپوائیں ہیں  اور ابن تیم اور اس کے شاگرد ابن قیم کی کتابوں سے اسے بہت دلچسپی تھی[10]۔ البانی نے ایک نئی قسم کی سلفیت بنائی ہے جو پہلے شام میں موجود نہیں تھی اور اسے سلفیہ علمیہ احیائیہ کہا جاتا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے البانی کا رشید رضا سے متاثر ہونے کا۔لیکن البانی رشید رضا سے سو فیصد متاثر نہیں تھا  وہ صرف نص اور نقل میں رشید رضا سے متاثر تھا،عقل اور تاویل میں اس سے متاثر نہیں تھا۔ غیب اور تاویل پر اعتقاد کی بحث میں  وہ رشید رضا پر تعجب کرتا ہے۔.[11]

 

البانی ماجرا کی حدیں

البانی ماجرا کی پھیلاوٹ اور اس کے شاگردوں   کے  افکار میں اس کے نفوذ نے کئی اور قضایا کو جنم دیا اور وہ اہل حدیث کے نئے مرجع کے طور پر متعارف ہوا۔سیاست کے بارے میں البانی  نے جس نظریئے کا انتخاب کیا تھا :«من السیاسیة ترک السیاسة»اس کے شاگرد اس نظریئے کے متعلق دو حصوں میں بٹ گیے، کہا جاسکتا ہے کہ ان دو گروپوں کی اصل بنیاد  خود البانی ہے۔شاگردوں کے پہلے گروہ نے سیاست سے مکمل کنارہ کشی کی اور ان کو «التیار الرفضی» کا نام ملا۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جو کہ حکومت کے مخالف نہیں تھے اور ایک طرح سے حکومت کے حامی تھے ان کو «جریان جامیه» نام دیا گیا۔ان دو گروپوں اصل منبع و مصدر البانی کے افکار تھے۔«التیار الرفضی» سیاسی سرگرمیوں کی مخالفت اور مکمل بائیکاٹ کے علاوہ سعودی حکومت کو بھی غیر قانونی سمجتا تھا اور ان کی تکفیر کرتا تھا۔اخوان جھیمان اس گروپ کا رہنما بنا جس نے اپنے کچھ پیروکاروں کے ساتھ مسجد الحرام پر دو ہفتوں کےلیے قبضہ کرلیا۔جھیمان نے اپنے قیام کا آغازمحمد عبداللہ القحطانی کی بعنوان امام زمان  بیعت  کے ساتھ رکن اور مقام کے درمیان سے  کیا[12] دوسرا گروہ جریان جامیہ ہے۔ اخوان جھیمان کی طرف سے بھاری ضرب لگانے کے بعد دو  لوگ حکومت کی حمایت میں وارد میدان ہوئے۔محمد امان جامی اور اس کے پیروکار زیادہ تر اعتقادات میں البانی کے پیرو تھے اور البانی سے صرف اس  بات پر اختلاف تھا کہ حاکم شرع صرف قریش سے ہو لیکن پھر بھی حکومت کے اچھے حامی تھے۔جریان جامیہ  کویت پر عراقی حملے میں اسی طرح  سعودیی سرزمین میں امریکی فوج کے داخل ہونے پر حکومت کے موقف کے حامی تھے اور «الصحوة» و «اخوان المسلمین»کے مقابلے میں کھڑے تھے.[13] اس لحاظ سے البانی ماجرا میں موجود شمولی خطاب نے البانی کے افکار سے متاثر سب گروہوں کو جهادی، تکفیری، جامیه و جهیمانی کو اکھٹا کیا۔ اگرچہ ان گروہوں کا آپس میں اختلاف تھا اور اختلاف بھی البانی کے ان اولویات کے بارے میں تھا جو کہ اس نے بیان کیے تھے،ان اولویات کی تقدیم اور تاخیر میں ان کو اختلاف تھا۔.[14]

جن کلیات کا اس نے اپنی دعوت میں انتخاب کیا تھا جیسے توحید، تفکر اسلامی کا احیاء ،تقلید اور جمود مذہبی  سے دوری جو کہ لوگوں کو خالص دین  سے دور کرتے ہیں،یہ سبب بنا کہ اس کی دعوت  اچھی خاصی اہمیت کی حامل ہو (اس کی دعوت اساس نصوص اور استنباط نصوص تھی)۔یہی سبب بنا کہ بہت سارے گروپ اس کی طرف مایل ہوجایں جیسے جہادی،تکفیری، جھیمانی اور حتی جامیہ سے بھی لوگ البانی سے متاثر ہوئے۔جو چیز ان گروہوں کے درمیان اختلاف کا سبب بنی وہ البانی کی اولویات تھیں کہ جن کے تقدم اور تاخر میں ان گروہوں کے درمیان اختلاف ہوا۔.[15]

  

البانی کے فکری مبانی

باب معنی شناسی میں تین مفاہیم پر بہت تاکید کی جاتی ہے جو کہ کچھ اسباب کی وجہ سے وہابیوں کے تمام دھڑوں کے اندر موجود ہیں اور یہ تین مندرجہ ذیل ہیں:

توحید،اتباع اور تجزیہ،

تصفیہ و تربیت

تزکیہ کا مسئلہ البانی کے بنیادی اصول میں سے ہے اور یہ  ْْقرآن و سنت میں تکیہ پر زیادہ تاکید کی وجہ سے ہے، چونکہ بعثت اور ارسال رسل  کا اصلی مقصد تزکیہ بیان ہوا ہے۔البانی کے نظریئے کے مطابق  تزکیہ کا مطلب  نفس انسان کو برائیوں سے پاک کرنا ہے اور یہ تزکیہ انسان کے بعض اعمال کے ساتھ  خاص نہیں بلکہ تمام اعمال کو شامل ہے۔ مقصد تک  پہنچنے اور سیاست سے دور رہنے  کا واحد راستہ تصفیہ اور تزکیہ پر توجہ کرنا ہے جو کہ ماسلف کی پیروی کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔البانی جہان اسلام کے زوال کو سلف سے دور ہونا بیان کرتا ہے،اور اس طہارت اور پاکیزگی کا حصول تب ہی ممکن ہے جب ہم کتاب و سنت کی طرف واپس پلٹیں۔ اسی وجہ سے وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اسلامی حکومت کی تشکیل تصفیہ اور تربیت کے بغیر ممکن نہیں بلکہ محال ہے۔[17]۔ تصفیہ اور تربیت کی زیادہ اہمیت کی وجہ سے محمد ناصر الدین البانی نے اس موضوع پر الگ سے کتاب لکھی ہے اور اس کتاب کا نام ہے التصفیہ و التربیہ اور اس نظریئے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

اجتہاد، تقلید اور  پیروی

 البانی کےلیے مسئلہ اجتہاد اور تقلید میں جو منہج بیان کیا گیا ہے  وہ قرآن اور سنت کی اتباع ہے.[18]اس بیان کے ساتھ البانی نے آئمہ مذہب کی پیروی کو ترک کرلیا ہے۔ اتباع سے اس کی مراد باب معنی شناسی میں یہ ہے کہ ہمیں  اسلام ناب کی طرف پلٹنا چاہیے اور اس واپسی کےلیے ایک راستے کی ضرورت ہے جو کہ متاخرین کا طریق اور راستہ نہیں ہوسکتا بلکہ سلفیہ راستہ اپنانا پڑے گا  جو کہ وحی کے گواہ تھے، اس پر ایمان لائے اور اسلام لانے میں سب سے آگے تھے۔لیکن وہ سلف کو ایک خاص گروہ اور جماعت نہیں سمجھتا  بلکہ اس کو ایک راستہ اور طریق کے طور پر بیان کرتا ہے.[19]

جو بات واضح ہے وہ یہ کہ البانی اور موجودہ سلفی گروہ ایک طرح سے اجتہاد اور تقلید کے درمیان میں ہیں اور انہیں اتباع نام دیا جاتا ہے جوکہ چار اماموں میں سے کسی پر  بھی اعتماد  نہیں رکھتا اور کسی مذہب کے قائل نہیں بلکہ مذہب اور تقلید کے خلاف ہیں اور یہ گروہ قرآن اور سنت سے مستقیما رجوع کرتا ہے اور قیاس سے کام لیتا ہے۔اتباع کا مطلب قرآن اور سنت سے کسی دلیل پر حتما عمل کرنا اور صرف پیامبر اسلام کی پیروی کو معتبر ماننا اور صرف پیامبر کو ہی مبلغ اسلام ماننا۔ لیکن بعض نے پیامبر اسلام کی پیروی کے علاوہ خیر القرون کی اقتدا کو بھی بیان کیا ہے۔اس وجہ سے اس نے محمد بن الوہاب پر یہ اشکال کیا ہے کہ عقیدے سے سلفی تھا لیکن فقہ میں سلفی نہیں تھا اور احمد بن حنبل کا مقلد تھا۔[20] 

ستیفان لاکرو کے مطابق وہابیت پر البانی کے اشکالات کی اصل وجہ  اہل حدیث کی سعودیہ میں موجود گی ہے۔وہ اہل حدیث کو ایک گروہ کہتا ہے جو کہ بہت سارے مسائل میں وہابیت سے شباہت رکھتے ہیں اور بہت سارے مسائل میں ان سے اختلاف رکھتے ہیں،ان اختلافات میں سے مسئلہ تقلید اور مذہب حنبلی سے اختلاف ہے۔ستیفان لاکرو کے  کہنے کے مطابق اہل حدیث کا یہ اختلاف سبب بنا کہ وہ  وہابیوں پر اشکال کرے اور مسئلہ تقلید میں شدت سے مخالفت کرے۔.[21]

البانی نے اپنی تمام کتابوں میں اتباع اور ترک بدعت کی بات کی ہے اور اس کا یہ عمل ایک ایسے گروہ کے مقابلے میں تھا  جو کہ اہل بدعت تھے اور اہل رائی کو مقدم جانتے تھے اور اس کی نظر میں یہ واحد مصدر جن کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے اہل حدیث ہیں اور ان کا شمار اعتقادی مسائل میں مصدر و منبع کے طور پر ہوتا ہے۔البانی کے مطابق اہل حدیث وہی لوگ ہیں جو سلف صالح کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ان سے منسلک رہنا ہی صحیح اسلام تک پینچنے کا اصلی عامل ہے۔ اور یہی تقلید اور مذہب  گرائی سے دور ہونا ہے۔وہ مذید لکھتا ہے کہ تنہا حل دین کی طرف رجوع ہے۔ دین اکیلا کافی ہے شرح،تاویل اور اجتہاد کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی صرف پیامبر اسلامی کی پیروی ہونی چاہیے وہ بھی «اشهدان لا اله الا الله» کی خاطر اور یہ صرف آنحضرت پر ایمان لانے سے ہی پورا ہوجاتا ہے.[22]

البانی اپنے فتاوی کے مجموعے میں تقلید کے بارے میں  اپنی نظر یوں بیان کرتا ہے کہ تقلید جزء ضرورات نہیں اور اجتہاد بھی ہر شخص پر واجب نہیں،بلکہ جو چیز تمام لوگوں پر واجب ہے،اسے اتباع کہا جاتا ہے جو کہ اجتہاد اور تقلید کے درمیان میں ہے۔اس نے اس بیان کے ذریعے نہ صرف تقلید کو حرام قرار دیا ہے بلکہ  جو شخص اجتہاد کی قدرت رکھتا ہے  اس پر اجتہاد واجب قرار نہیں دیا ہے اور زیادہ تر لوگوں پر اتباع کو واجب قرار دیا ہے اور یہ وہی لا مذہبیت ہے جس کی پیروی مذہب اربعہ  کے پیروکاروں میں سے کوئی بھی انجام نہ دے۔.[23]

مروان شہادہ اپنے مقالے میں جو کہ کتاب تحولات الخطاب السلفی  میں چھپا ہے، لکھتا ہے صحابہ اور تابعین  کے اصول،منہج علمی و عملی کی طرف رجوع(قران وسنت ) کرنا ، گروہوں  کی طرف رجحان پیدا نہ کرنا اور صرف تربیت نفوس پر اکتفا کرنا یہ البانی کا شعار ہے۔ اگرچہ البانی دوسرے سلفی مدارس سے اعتقاد کے باب میں  اور انفتاح باب علمی کے حوالے سے ہماہنگ ہے لیکن جزئی مسائل میں اور اسی طرح سے امور سیاسی اور اجتماعی میں اختلاف رکھتا ہے.[24]

البانی کی   اہل سنت  علماءکی توہین کرنا

البانی جسے وہابی علما پسند کرتے ہیں،نہ صرف اہل سنت کی اہم کتابیں مانند صحيح مسلم و صحيح بخاري، اس سے امان میں ہیں .[25]بلکہ اس نے اہل سنت کے مشہور علما کو بھی نہیں چھوڑا،ان کو گالیاں دی ہیں،ان کی توہین کی ہے۔نمونے کے طور پر کچھ موارد یہاں پر بیان کرتے ہیں: الباني نے افرادجیسےعبد البر، ابن حزم، ذهبي، ابن حجر، صنعاني[26] پر خطا کا الزام لگایا ہے اور ذہبی پر تناقض گوئی کی تہمیت لگائی ہے[27] اور محدث مناوی [28]کو ایک متعصب کے طور پر متعارف کروایا ہے[29] اور اس کے بارے میں کہتا ہے: حیرت کی بات یہ ہے کہ مناوی کی زیادہ تر باتیں تضاد کا شکار ہیں[30]۔

البانی کے بارے میں سنی علماء کی مذمتیں اور مخالفتیں

اگرچہ وہابی علما نے شیخ ناصر الدین کے بارے میں غلو سے کام لیا ہے اور اس کو امام اور علامہ کا خطاب دیا ہے لیکن بعض اہل سنت علماء نے البانی کی بہت سرزنش کی ہے اور اس کی وجہ اس کا ابن تیمیہ کی حمایت کرنا ہے اور اسی طرح تصحیح و تضعیف روایات میں اس کاعدم تخصص،دین کے خلاف اعتقاد اور علما کی اہانت کرنا ہے۔یہاں پر چند ایک موارد بیان کرتے ہیں:

الف:البانی کا خائن اور بدعتی ہونا

ابن صديق غماري[31] اہل سنت کے موجودہ علما میں سے ہے۔وہ البانی کے بارے میں یوں لکھتا ہے:

الف: البانی ایسا شخص ہے جو کہ تصحیح اور تضعیف میں قابل اعتماد نہیں ہے،بلکہ اس میدان میں اس نے کلمات علما کے نقل میں خیانت ااور تحریف سے کام لیا ہے اور وہ اجماع کی مخالفت اور بغیر دلیل کے نسخ کے ادعا کی جرات کرتا ہے اور یہ علم اصول اور قواعد استنباط سے آشنا نہ ہونے کی دلیل ہے۔

ب۔ شیخ ناصر الدین مدعی ہے کہ وہ  بدعتوں [32] جیسے پیامبر اسلام سے توسل سے لٹڑتا ہے۔وہ پیامبر پر درود و سلام اور میت پر قرآن تلاوت کرنے کے مخالف ہے لیکن حلال الہی کو حرام قرار دے کر،اپنے دشمنوں اور مخالفین کو گالیاں دے کروہ بدترین بدعتوں کا مرتکب ہوگیا ہے اور اس کا حال ابن تیمیہ والا ہے،اس نے بعض علما کی تکفیر کی ہے، اور کچھ کو بدعتی کہا ہے لیکن خود بھی دو بدعتوں کا مرتکب ہوا ہے: ایک عالم کے قدیم ہونے پر اس کا اعتقاد جو کہ بدعت کفری ہے اور دوسرا مولا علی علیہ السلام سے اس کا انحراف۔ اسی وجہ سے اس کے ہم عصر علما نے اس کو منافق کہا ہے۔ان کی دلیل قول پیامبر ہے کہ علی سے فرمایا : یا علی تجھے دوست نہیں رکھتا مگر مومن اور تم سے دشمنی نہیں کرتا مگر منافق۔

د۔ البانی نے کیسے ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کا لقب دیا ہے جب کہ وہ عقیدہ اسلام میں تناقض کا قائل ہے۔ غماری ان قضایا کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: میں گمان کرتا ہوں بلکہ میرا یقین ہے کہ حافظ ابن ناصر کو اگر اس کے عقیدے کی  اور اس کے مفاسد کی اطلاع ہوتی تو وہ کھبی بھی اس کے دفاع میں كتاب «الردّ الوافر» نہ لکھتا؛ چونکہ اس نے کتاب ایک ایسی حالت میں لکھی ہے جب وہ اس کی تعریف کرنے میں دیوانہ تھا۔اور اسی طرح نعمان آلوسی فرزند صاحب تفسیر کو اگر ابن تیمیہ کے بارے میں حقیقی معرفت ہوتی تو اس کے بارے میں «جلاء العينين»[33] نہ لکھتا.[34]

ب۔تصحیح  اور تضعیف روایات میں البانی کے غلط اجتہادات اور بہانے

غماری کا البانی کے اجتہادات کے متعلق عقیدہ یہ ہے کہ تصحیح اور تضعیف روایات میں اس کے غلط اجتہادات، حیلے اور خیانت  اصل میں  اس کی  اپنے  نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے کی وجہ سے ہے۔اسی طرح سے اہل سنت کا یہ محدث اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ البانی کا مسلمان علما ءکی اہانت کرنا ،خدا وند کی طرف سے اس پر عقاب ہے جبکہ وہ اس بات سے بے خبر ہے اور اپنی کتاب میں اس بات کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے کہ شیخ ناصر الدین ان لوگوں میں سے ہے جو کہ یہ  سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی اچھا کام انجام دے رہے ہیں  حب کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ ہم اللہ تعالی سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں اس چیز سے نجات دے جس میں وہ مبتلا ہے اور ہر برائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں.[35]

ج۔ البانی اور علم حدیث میں اس کی نا اہلی

سقاف[36] شافعی علما میں سے ہے۔البانی کے بارے میں اس کی رای کچھ یوں ہے:البانی تصحیح اور تضعیف احادیث میں اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے ۔ وہ علم جرح و تعدیل کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق کھیلتا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس علم شریف کا اہل نہیں ہے اور کسی کےلیے بھی جائز نہیں کہ وہ اس کے قول پر عمل کرے.[37] اس بنا پر اہل سنت علما البانی کی ابن تیمیہ کی حمایت کرنے کی وجہ سے،دین میں اس کی بدعت گزاری،دین کے خلاف فتوے دینے کی وجہ سے اس پر لعن طعن کرتے ہیں ۔

اہل سنت علما کا البانی کے خلاف  سخت موقف

بہت سارے اہل سنت علماء جیسا کہ انہوں ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے خلاد سخت موقف اپنایا ہے اس طرح  البانی  جو کہ ان کا پیرو کار ہے،کے خلاف بھی ان کا موقف سخت ہے۔انہوں نے بہت ساری کتابیں ان کی رد میں لکھی ہیں۔یہاں ان کی اہم کی کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

  1. ۔ قاموس شتائم الألبانى»، حسن بن على سقاف شافعى.
  2. القول المقنع فى الردّ على الألبانى المبتدع»، علامه شيخ عبدالله بن صديق غمارى

 3۔ تنبيه المسلم الى تعدى الالبانى على صحيح مسلم»، علامه محدث شيخ محمّد سعيد شافعى.

  1. . «وصول التهانى باثبات سنية السبحة و الرد على الألبانى» علامه محدث شيخ محمّد سعيد شافعى.

5۔البشارة و الاتحاف فى ما بين ابن تيمية و الألبانى فى العقيدة و الاختلاف» حسن بن على سقاف شافعى.

6۔تناقضات البانى الواضحات» حسن بن على سقاف شافعى

7۔الشماطيط فى ما يهذى به الألبانى فى مقدماته من تخبطات و تخليط» ، حسن بن على سقاف شافعى.

  1. ۔ الالبانى؛ شذوذه و اخطاؤه» ، علامه محدث شيخ حبيب الرحمان اعظمی
  2. «كتاب مفتوح الى الشيخ ناصر الدين الالبانى» ، شاگردش محمود مهدى استانبولى

 

البانی کی شیعہ اور امام خمینی رح کی اہانت کرنا

البانی کی شیعہ علماء کی اہانت  -چاہے کتاب کی شکل میں ہو یا کیسٹ کی شکل میں-اس کی کتابوں میں صاف نظر آتی ہے۔البانی ایک سوال کے جواب میں، جو کہ اس سے ایک ایسے فرقے کے بارے میں پوچھا گیا ہے جو  کہ وہابیوں کی رد لکھتا ہے اور ان کے خلاف بولتا ہے،[38]‌ اس نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم وہابیوں کے نزدیک،شیعہ اور وہ لوگ جنہیں رافضی کہا جاتا ہے،یہ کہ ان کے اکثر علما جیسے امام خمینی کافر اور گمراہ ہیں اس پر ہمیں کوئی شک نہیں۔.[39]ایک اور جگہ وہ شیعوں پر یہ تہمت لگاتا ہے کہ  شیعہ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں اور کہتا ہےاہل بیت قرآن کی صریح آیت کے مطابق  حقیقت میں پیامبر اسلام کی زوجات ہیں،لیکن شیعہ اس کی نسبت على و فاطمه و حسن و حسين (ع) کی طرف دیتے ہیں اور ان سے خاص کرتے ہیں اور اس کو شامل زوجات پیامبر  اسلام نہیں سمجھتے،یہ قرآن کی آیتوں میں شیعوں کی تحریف ہے جو وہ اپنی خواہشات نفسانی کی تسکین کےلیے انجام دیتے ہیں[40]۔

 

ابراهیم کاظمی

 


 

حوالہ جات:

 [1] . سمهوری، رائد، الوهابیة والسلفیه، ص136

[2] . المجذوب، محمد، علماء و مفکرون عرفتهم، ص287

[3] . سمهوری، رائد، الوهابیة والسلفیه، ص139

[4] . یوسف الدینی، الاحتراب علی تمثیل السلفیه بین الالبانیة و خصومها، مجموعه مقالات رماح الصحائف ص9الی 10

[5] . توماس، هیغهامر، ستیفان، لاکروا، حتی لا یعود جهیمان، ص84.الشیخ عبدالعزیز بن باز نایب رئیس الجامعه الذی کانت تربطه بالالبانی علاقات شخصیه و فکریه. و کما وضحنا آنفا فان ابن باز کان متأثرا بشدة بتعالیم سعد بن عتیق الذی کان یتبع تیار اهل الحدیث الهندی بعد مکوثه الطویل فی الهند. و کان یشارکه البانی فی اهتمامه بضرورة تجدید علم الحدیث.

[6] . دوبارہ، ص84

[7] . دوبارہ، ص84

[8] . ستیفان، لاکروا، زمن الصحوة، ص115.

[9] . ابورمان، محمد، الحرکات الاسلامیة فی الوطن العربی،"السلفیة فی المشرق العربیة"ج1 ص1154

[10]. مجموعه مقالات المسبار،رماح الصحائف السلفیة الالبانیة و خصومها، ص63

[11] . توماس، هیغهامر، ستیفان، لاکروا، حتی لا یعود جهیمان، ص82

[12] . توماس، هیغهامر، ستیفان، لاکروا، حتی لا یعود جهیمان،92.

[13] . توماس، هیغهامر، ستیفان، لاکروا، حتی لا یعود جهیمان،ص94.

[14] . یوسف الدینی، الاحتراب علی تمثیل السلفیه بین الالبانیة و خصومها، مجموعه مقالات رماح الصحائف، ص11. کل هولاء ینطلقون من منهجیة الالبانی التحرریة لکنهم یختلفون فی النتایج و الاختلاف فی النتایج انما یأتی فقط من الاختلاف عن الالبانی فی فهم الاولویات المعاصرة و تقدیمها.

[15] . یوسف الدینی، الاحتراب علی تمثیل السلفیه بین الالبانیة و خصومها، مجموعه مقالات رماح الصحائف، ص13.

[16]. مروان شحادة ، تحولات الخطاب السلفی ، ص46

[17]. الاصلاح السیاسی فی الفکر الاسلامی مولف محمدابو رمان چاپ اول بیروت ص251

[18] . الحارثي، عبدالرحمن بن سيف، جهود الشیخ البانی فی الدعوة الی الله، ص115

[19] . مروان شحادة ، تحولات الخطاب السلفی، ص116و120

[20] . سمهوری، رائد، الوهابیة والسلفیه، ص140. ان سلفیه الالبانی الاصلاحیه کانت تأبی الانتساب لغیر الکتاب و السنه و لو کان الامام محمد بن عبدالوهاب

[21] . توماس، هیغهامر، ستیفان، لاکروا، حتی لا یعود جهیمان، ص81.80

[22] شحاده، مروان،تحولات الخطاب السلفی، چاپ اول، بیروت، ص53

[23] . البانی، ناصر الدین، مجموعه فتاوی، ج2ص167

[24] شحاده، مروان،تحولات الخطاب السلفی، چاپ اول، بیروت، ص48

[25] . سلفي،‌ ارشد ، الباني وشذوذه وأخطاؤه ص 2

[26] . دوبارہ، ص2

[27] . ألباني ، محمد ناصر الدين بن الحاج نوح ، سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الامة، ‌رياض - الممكلة العربية السعودية: دار المعارف،1412 هـ / 1992 م، چاپ اول ، ج 4ص 442 «فتأمل مبلغ تناقض الذهبي !لتحرص على العلم الصحيح ، وتنجومن تقليد الرجال»

[28] . علامه مناوي از محدثين مشهور اهل سنت وصاحب كتاب معروف فيض القدير است.

[29] . الباني ، سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئفي الامة ،ج2 ص345 «بل هو من تعصب المناوي عليه»

[30] . دوبارہ،  ج4 ص34« وإن من عجائب المناوي التي لا أعرف لها وجها ، أنه في كثير من الأحيان يناقض نفسه»

[31] . غماري اہل سنت کا محدث اور اصولی ہے جس نے البانی کے نظریات کے اوپر رد لکھی ہے۔ ان میں سے ایک کتاب اس کی  كتاب ارغام المبتدع ہے جو کہ  پيامبر (ص) سے توسل کے جواز کے بارے میں ہے جسے الباني جايز نہیں سمجھتا تھا۔

[32] . وہابیوں کے نزدیک بدعت یہ ہے کہ جو چیز پہلے اسلام میں داخل نہیں تھی اس کو اسلام میں داخل کریں۔

[33] . نعمان بن محمد آلوسي دراين كتاب شروع به تمجيد از ابن تيميه كرده و مدح هايي كه از علماء درباره ابن تيميه شده است را جمع كرده است.

[34] . غماري، عبد الله بن محمد الغماري الحسني ابن الصديق،‌ إرغام المبتدع الغبي بجواز التوسل بالنبي ( ص )، تحقيق : تقديم وتعليق : حسن بن علي السقاف،‌ عمان - الأردن ناشر : دار الإمام النووي ، 1412 - 1992 م، چاپ دوم، ص21-22 «الألباني غير مؤتمن في تصحيحه وتضعيفه ، بل يستعملفي ذلك أنواعا من التدليس والخيانة في النقل ، والتحريف في كلام العلماء ، معجرأته على مخالفة الإجماع * ، وعلى دعوى النسخ بدون دليل ، وهذا يرجع إلىجهله بعلم الأصول ، وقواعد الاستنباط ، ويدعى أنه يحارب البدع مثل التوسل بالنبي صلى الله عليه وسلم وتسويده في الصلاة عليه فأكفر طائفة من العلماء ، وبدع طائفة أخرى ، ثم اعتنق هو بدعتين لا يوجد أقبحمنهما : إحداهما قوله بقدم العالم وهي بدعة كفرية»

[35] . سقاف، علماي معاصر میں سے ہے جس نے وہابیت کی رد میں بڑی کوششیں کی ہیں اور بہت ساری کتابیں اس سلسلے میں لکھی ہیں۔

[36] . دوبارہ، ص23«شواذ الألباني في اجتهاداته الآثمة ، وغشه وخيانته في التصحيح والتضعيف حسب الهوى ، واستطالته على العلماء وأفاضل المسلمين . كل ذلك عقوبة من الله له »

[37] . السقاف،‌ حسن بن علي، تناقضات الألباني الواضحات، عمان – الأردن، ناشر : دار الإمام النووي ،1413 - 1992 م، چاپ : دوم ،ج2 ص304 «فتأملوا كيف يسلك الألباني سبيل الهوى والمزاجية في التصحيحوالتضعيف فيتلاعب بعلم الجرح والتعديل حسب ما يملي عليه رأيه ! !وكل ما قدمناه يبرهن بأنه ليس أهلا لان يشتغل بهذا العلم الشريففيصحح ويضعف ولا يحل لاحد أن يعتمد قوله لما تقدم»

[38] . الباني اس سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اس فرقے کے متعلق حکم نہائی یہ ہے کہ یہ گمراہ ہے اگرچہ اس فرقے کے ہر ہر فرد پر گمراہی کا الزام لگانا ظلم ہے لیکن کلی طور پر ان کو گمراہ سمجھتا ہے۔

[39] . الباني، محمد ناصر الدين الألباني (المتوفى : 1420هـ)، ‌دروس للشيخ محمد ناصر الدين الألباني، درس شماره 29 ص6، «مثلاً الشيعة ومن يقال فيهم الرافضة ، كثير من علمائهم لا نشك في كفرهم وضلالهم كـ الخميني مثلاً»

[40] . الباني ، سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، الرياض ، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، ج4 ص359 «وتخصيص الشيعة (أهل البيت) في الآية بعلي وفاطمة والحسن والحسين رضيالله عنهم دون نسائه صلى الله عليه وسلم من تحريفهم لآيات الله تعالى انتصارالأهوائهم كما هو مشروح في موضعه»

 

 

 

بنیادی الفاظ:

 

 

 

 

 

 

 

لنک: http://www.alwahabiyah.com/fa/Mostabser/View/5088/

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ