ملک :  --

شیخ جعفر بن خضر بن یحیى مالکی[1] جناجی[2] نجفی، جو کاشف‌الغطا سے معروف ہیں 1154ہجری کو نجف اشرف میں پیدا ہوئے .انکا شمار وہابیت کی مخالف شخصیات میں ہوتا ہے۔

حیات علمی

شیخ جعفر کاشف‌الغطا بچپن سے ہی دینی علوم حاصل کرنے لگے اور مقدماتی علوم کی تعلیم اپنے والد، شیخ خضر حلی سے حاصل کی، اس کے بعد وحید بهبهانی، سید مهدی بحرالعلوم، شیخ محمدتقی دورقی و سیدصادق فحام و غیرہ جیسے اس دور کے بزرگوں سے کسب فیض کیا .[3]

وہ شیعوں کے بڑے مشہور دانش مندوں، فقہاء اور مجتہدوں میں سے ہیں انکو «شیخ اکبر»، «شیخ نجفی»، «شیخ‌الفقها» اور  «صاحب کشف ‌الغطا» جیسے القابات سے پکارا جاتا ہے۔ وہ مشہور علمی اور عملی مقامات کے حامل ہیں جو تراجم کی کتابوں میں ذکر کیے گئے ہیں.[4] وہ کتاب کشف الغطاء عن مبهمات الشریعة الغراء کو تالیف کرنے کی وجہ سے «کاشف‌الغطا» کے نام سے مشہور ہو گئے ہیں، حتی اسکی نسل بھی اسی عنوان سے معروف ہے۔ انہوں نے یہ کتاب سفر میں لکھی ہے جبکہ انکے پاس سوائے علامہ حلی کی قواعد یا شرح قواعد اور ایک دوسری فقہی کتاب کے علاوہ کوئی کتاب نہیں تھی۔ یہ کتاب اپنے مصنف کے بلند علمی درجات کی معرفی کرتی ہے اور انکی کثرت علم و فہم،زیرکی، سلیقہ مندی اور وسعت علمی کی عکاسی کرتی ہے اور اصول دین اور فروع دین پر مشتمل ہے۔ شیخ مرتضى انصارى سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے فرمایا: " جو شخص اس کتاب کے اصولی قواعد کو اچھی طرح سمجھ چکا ہو تو میری نظر میں مسلم مجتہد ہے».[5] خود کاشف الغطاء کا دعوا تھا کہ اگر تمام فقہی کتابیں ضائع کی جائیں تو بھی وہ طہارت سے لے دیات تک تمام فقہی ابواب اور مباحث کو اپنے ذہن سے لکھ سکتا ہے.[6]

بحرالعلوم کی رحلت کے بعد عراق، ایران اور دیگر ممالک کے شیعوں کی رہبری انہوں نے سنبھالی اور انکی سماجی شہرت اور مقبولیت میں اضافہ ہوا اور عملی طور پر دنیا بھر کے شیعوں کے مرجع بن گئے.[7]

اساتید

کاشف‌الغطاء نے شروع میں اپنے والد کے علمی دسترخوان سے استفادہ کیا اس کے بعد شیخ محمدتقی دورقی اور سیدصادق فحام کے حضور زانو تلمذ تہہ کیا۔ انہوں نے علم آموزی کا سب سے طویل دورانیہ اپنے استاد شیخ محمدمهدی فتونی عاملی نجفی کے حضور میں گذارا. انکے دیگر ممتاز اساتید میں سے محمد باقر بهبهانی اور سید مهدى بحرالعلوم طباطبایی کا نام لیا جاسکتا ہے.[8]

تلامذہ

کاشف‌الغطاء نے اپنے علم و دانش کے دامن میں بہت سارے شاگردوں کی تربیت کی، ان میں سے بعض شاگرد شیعہ دنیا کے برجستہ اور نامور علماء میں سے ہیں۔ من جملہ ان کے شاگردوں میں سے  شیخ موسى، شیخ علی، شیخ حسن کے نام سے انکے تین فرزند، اسی طرح شیخ اسدالله تستری کاظمی صاحب المقاییس، شیخ محمدتقی رازی صاحب حاشیة المعالم، سید صدرالدین عاملی، سیدجواد عاملی صاحب مفتاح الکرامة، شیخ محمدحسن نجفی صاحب جواهر الکلام، سید محمدباقر صاحب الأنوار، حاج محمدابراهیم کرباسی صاحب الإشارات، شیخ قاسم محیی‌الدین عاملی نجفی، ملا زین‌العابدین سلماسی، شیخ عبدالحسین اعسم، سیدباقر قزوینی، آقاجمال اور کچھ دیگر عرب اور ایرنی شاگردوں کا نام لیا جاسکتا ہے.[9]

شیخ جعفر کے بارے میں علماء کا نظریہ

صاحب مفتاح الکرامۃ نے ایک عبارت میں شیخ جعفر کاشف الغطاء کی یوں تعریف کی ہے: «الشیخ الأکبر أفقه المتأخّرین المحقّق المدّقق الشیخ جعفر صاحب کتاب کشف الغطاء الّذی اشتهر لأجل تألیف هذا الکتاب العظیم فی فنّه المتقن فی بیانه المبتکر فی کثیر من آرائه ب «کاشف الغطاء». شیخ اکبر، علمائے متأخر میں سب سے ماہر فقیہ اور باریک بین محقق ہیں و....».[10]

حسن عیسی حکیم، نے کتاب تاریخ نجف میں کاشف الغطاء کی علمی شخصیت کے بارے میں لکھا ہے : « فهو عندي مجتهد» وہ میری نظر میں مجتہد ہیں.[11]

صاحب مستدرک الوسائل(ره) مرحوم استاد میرزا حسین نورى، کاشف الغطاء کی اس طرح  ستایش اور توصیف کرتے ہیں:  یہ بات درست کہ ہر دور میں ایسے بڑے علماء موجود تھے جو علم اور تقوی کے لحاظ سے کم نظیر تھے اور کوئی انکا ہم پلہ نہیں تھا لیکن آج ایک ایسی عالی شان اور بلند مرتبہ شخصیت کی بات ہو رہی ہے جس نے اپنی گراں بہا کتاب «کشف الغطاء» کے توسط سے فقہی دشواریوں کو ایسے حل کر دیا جیسے کشتی سمندر میں پانی کے بلبلوں کو چیرتی ہے۔ اس بزرگ ہستی کا نام جعفر بن شیخ خضر جناجى نجفى ہے جو ‏«کاشف الغطاء» سے معروف ہیں.[12]

مکاسب محرمہ میں شیخ انصاری، شیخ جعفر کاشف الغطاء کے لیے: «بعض الاساطین» کی عبارت استعمال کرتے ہیں جو اس بات کی عکاس ہے کہ شیخ انصاری کے نزدیک کاشف الغطاء کا بڑا مقام ہے.[13]

شیخ کاشف الغطاء کے نظریات

مرحوم شیخ جعفر کاشف الغطاء اپنی کتاب «منهج الرشاد لمن اراد السداد» میں اختلافی موضوعات کے بارے میں شیعہ نظریات اور ان پر کیے جانے والے اعتراضات کو بیان کر کے محکم جوابات دیے ہیں، یہاں اختصار کے ساتھ انکے اصل نظریات ذکر کیے گئے ہیں:

کفر

شیخ جعفر نے کفر کو کئی اقسام میں تقسیم کیا ہے:

1-  کفر انکار جو خدا کے وجود کا انکار کرنے اور اللہ کے سوا کسی دوسرے خدا کو اثبات کرنے، معاد کا انکار کرنے اور بلند مرتبہ ترین انسانوں کی نبوت کا انکار کرنے سے ثابت ہوتا ہے۔

2- کفر شرک جو خداوند واحد اور قہار کے لیے شریک قرار دینے یا اللہ کے برگزیدہ نبی کے لیے شریک قرار دینے سے ثابت ہوتا ہے۔

3- کفر شک جو اسلام کے تین بنیادی اصول میں سے کسی ایک میں شک کرنے سے پیدا ہوتا ہے ایسا شک جس کی کوئی گنجائش نہ ہو فقط ذاتی تصورات سے وجود میں آیا ہو۔

4- کفر ہتک جو بے حرمتی کرنے سے وجود میں آتا ہے نمونہ کے طور پر (نعوذ باللہ) قرآن پر یا کعبہ میں پیشاپ کرنے یا خاتم النیین کو گالی دینے سے ہو جاتا ہے

5- کفر جحود یہ ہے کہ انسان زبان کے ساتھ اصول اسلام کا انکار کرے لیکن دل سے ان پر یقین رکھتا ہو۔

6- کفر نفاق یہ ہے کہ انسان دل میں ایمان نہ ہو لیکن زبان سے اپنے آپ کو ایمان دار ظاہر کرے۔

7- کفر عناد کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے ایمان دار ہونے کا اعتراف کرے اور دل سے یقین بھی رکھتا ہو لیکن عملی طور پر اللہ کی بندگی نہ کرے بلکہ ابلیس کی طرح اللہ کی بارگاہ میں گستاخی کرے۔

8- کفر نعمت یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو حقیر سمجھے اور اپنے آپ کو اللہ کا احسان مند شمار نہ کرے۔

9- کفر انکار ضروریات۔ جیسے نماز، روزہ اور حج کا انکا کرے جنکا شمار ضروریات دین میں سے ہوتا ہے۔

10- خالقیت میں کفر: تخلیق اور آفرینش کی نسبت غیر خدا کی طرف دینا۔

 انہوں نے کفر کے اقسام بیان کرنے بعد بعض واجبات کو ترک کرنے والوں کے کافر ہونے پر دلالت کرنے والی روایات کو بیان کیاہے اور لکھا ہے: بہت کم گناہ بچے ہیں جن کو کفر نہیں کہا گیا ہے. [14] رسول اللہ (ص) کی اس روایت کو ذکر کر کے جس میں کلمہ پڑھنے تک جنگ جاری رکھنے کا کہتے ہیں اور اس موضوع پر دیگر روایات کو ذکر کر کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو لوگ زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں کافر نہیں ہیں، ان روایات کو وہابی نظریات کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے روایت میں ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ مسلمانوں کی طرف کفر کی نسبت دینا کفر ہے.[15]

عبادت

مراد وہ عبادت ہے جو فقط خدا کے لیے ہو جس نے بھی غیر خدا کی عبادت کی اس نے کفر کیا، ہر قسم کا خضوع وخشوع اور ہر قسم کی اطاعت کفر نہیں ہے۔ یہ حقیقت اہل لغت کی باتوں سے عیاں ہوتی ہے ورنہ غلاموں، مزدوروں اور حکمرانوں کے تمام خادموں کا کام کفر شمار ہوگا بلکہ اولاد کا اپنے باپ کی تعظیم کرنا اور جو بھی اپنے بھائیوں اور نیک لوگوں کے سامنے تواضع اور فروتنی کرے تو کفر شمار ہوگا۔ حقیقت میں کفر کا سبب یہ ہے کہ اللہ کے بعض بندوں کی اطاعت اس اعتقاد کے ساتھ کی جائے کہ خدا کے حکم کے بغیر وہ ذاتی طور پر اس اطاعت کے لائق ہیں و نیز تدبیر اور اختیار کے مالک ہیں۔ کہنا پڑے گا کہ نیت بدلنے سے عبادت میں بھی تبدیلی آجاتی ہے پس جو بھی خود ساختہ اور بدعت کے طور پر اور رب کے فرمان کی مخالفت میں عبادت کرے تو کافر ہے چاہے اللہ کے قریب ہونے کی نیت کی ہو یا ایسی نیت نہ کی ہو.[16]

غیرالله کے لیے ذبح

کسی مسلمان کو شک نہیں ہے کہ جو بھی غیر خدا کے لیے اسکی عبادت اور پرشتش کرنے کی نیت سے قربانی کرے تو  دائرہ اسلام سے خارج ہے چاہے بتوں کی الوہیت کا اعتقاد رکھتا ہو یا ان سے قریب ہوکر اللہ سے نزدیک ہونے کا قصد کیا ہو، کیونکہ اس طرح کی قربانی کرنا غیراللہ کی عبادت ہے۔ لیکن جو شخص پیغبروں اور انکے جانشینوں یا مومنوں کی جانب سے قربانی کرے تاکہ اسکا ثواب انکو ملے تو اس کام میں بہت بڑا ثواب پوشیدہ ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) سے روایت ہوئی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: اے اللہ یہ قربانی میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے جو قربانی نہیں کرتے ہیں۔ اس حدیث کو احمد، ابوداود اور ترمذی نے نقل کیا ہے۔ سنن ابوداود میں ذکر ہے کہ علی (علیہ السلام) پیغمبر (صلی الله علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ایک بھیڑ ذبح کرتے تھے اور فرماتے تھے، پیغمبر(ص) نے مجھ وصیت کی ہے کہ ہمیشہ انکی طرف سے قربانی کروں۔ بنابریں ہوتا یہ ہے کہ انکی طرف سے قربانی کی جاتی ہے نہ انکے لیے.[17] اس لیے غیر خدا کے لیے ںذر کرنے کا مطلب فقط یہی بنتا ہے کہ اولیاء الہی کو صدقہ دیا جائے۔ پیغمبر کے لیے نذر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ دیا جائے تاکہ صدقہ کا ثواب انکو ہدیہ کریں اور اولیاء الہی کے لیے ںذر کرنا بھی اسی طرح ہے اور جو شخص ماں باپ کے لیے نذر کرتا ہے اور قسم کھاتا ہے یا عہد کرتا ہے کہ انکی طرف سے صدقہ دے دیگا وہ بھی اس عمل کے ثواب کو اپنے والدین کے لیے ہدیہ دینے کے سوا کچھ نہیں کرتا.[18]

غیر خدا کی قسم کھانا

اس بات پر کسی مسلمان کو شک نہیں کہ غیر خدا کو عظمت، کبریا، ملکوت، قدرت اور جبروت کا مالک سمجھ کر اسکی قسم کھانا دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ فقط کسی بات کی تاکید کرنے کے لیے غیر خدا کی قسم کھانا کفر اور شرک کا سبب نہیں بنتا ہے۔ کیونکہ کفر کا معیار عبارتیں نہیں۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ، تابعین کے گفتار میں بلکہ پیغمبر کی بیویوں کے گفتار میں غیر خدا کی قسم کھانا تواتر کے ساتھ نقل ہوا ہے۔ امیرالمومنین اپنے ایک خط میں معاویہ کو لکھتے ہیں: میری جان کی قسم اگر اپنی عقل سے رجوع کرو اور نفس کی خواہشات سے صرف نظر کرو سمجھ جاو گے کہ بیشک عثمان کے قتل کے حوالے سے بے گناہ ترین شخص میں ہوں.[19]

استغاثہ

مخلوقات کو فاعل مختار سمجھ کر ان سے استغاثہ کرنا اور مدد مانگنا، مدد مانگنے والے ایک قسم کے کفر میں غرق کرتا ہے اور استغاثہ سے مراد صرف شفاعت کرنا اور دعا کی درخواست کرنا نہیں ہے۔ عثمان بن حنیف اور دوسرے خلیفہ کی روایت اور دیگر روایات کو مؤلف نے دعا اور شفاعت طلب کرنے کے لیے بیان کیا۔ وہ مقامات جہاں پر مستغیث اور مدد طلب کرنے والا شخص مخلوقات سے دعا اور شفاعت طلب کرے کوئی بری بات نہیں ہے اور اگر امور کی نسبت فقط مخلوق کی طرف دے تو اس سے مسلمان بیزاری کا اظہار کرتے ہیں .[20] بنابریں کتاب کے مؤلف کی نظر میں استغاثہ کا مطلب فقط یہ ہے کہ جس سے استغاثہ کیا جاتا ہے اس سے دعا طلب کی جائے اور اس بات کی بنیاد وہ حدیث قدسی ہے جس میں پروردگار فرماتا ہے، اے موسی مجھ ایسی زبان سے پکارو جس سے گناہ نہیں کیا ہو تو موسی نے عرض کی، اے پروردگار ایسی زبان کہاں سے لاؤں تو پروردگار نے فرمایا دوسروں کی زبان۔ استغاثہ کرنے والا مستغاث کو مستقل سمجھ کر کوئی چیز مانگے تو اس سے مربوط تمام امور مستغاث کے حوالے کیا جاتے ہیں ورنہ حقیقت میں مستغاث وہ شخص ہے جسکو بالآخرہ امور پر اختیار حاصل ہے ۔ دعا کرتے وقت اگر یہ قصد کی جائے کہ جس سے مانگا جا رہا ہے وہ ایک فاعل مختار ہے جسکو امور پر اختیار حاصل ہے تو یہ کام اللہ کی نسبت کفر کرنے کا باعث  ہے اور اگر اس سے مجاز کا ارادہ کیا جائے تو حقیقت دعا کا مصداق نہیں بنتا ہے. [21]

توسل

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ توسل کرنا رسولوں اور سلف صالح کی سیرت میں سے ہے روایات اس بات کی گواہ ہیں۔ جیسے آدم (علیہ السلام) کا پیغمبر اکرم (صلی الله علیہ و آلہ وسلم) سے توسل کرنے کی روایت، عثمان بن حنیف اور دوسرے خلیفہ کا پیغمر کے چچا سے توسل کرنے کی روایت من جملہ ان روایات میں سے ہیں جنکو مؤلف نے اپنا نظریہ ثابت کرنے کے لیے بیان کیا ہے۔ متعدد روایات کو بیان کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی عظیم اور محترم چیز جسے قرآن ، پیغمبر، نیک بندہ یا کسی محترم جگہ یا اس طرح کی دوسری چیزوں کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ بنا دے تو اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ اس نے ایک شائستہ کام کیا ہے۔ مخلوقات کے درمیان آپس میں حق اور جائز واسطے اختیار کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ مولا اپنے غلام پر مالکیت کا حق اور غلام اپنے مولا پر حق مملوکیت رکھتا ہے اور خادم، خدمت کا حق، رشتہ دار، رشتہ داری کا حق، دوست، دوستی کا حق، ہمسایہ، ہمسائگی کا حق، اور ہم نشین، ہم نشینی حق، رکھتا ہے؛ کیونکہ حق نام ہے اس تعلق کا جو کسی بھی وجہ سے وجود میں آیا ہے، پیغمبر اکرم (صلی الله علیہ و آلہ وسلم) کے زمانے سے اب تک کے لوگوں کی یہی روش رہی ہے اور کسی مسلمان نے اس کا انکار نہیں کیا ہے.[22]

شفاعت

شفاعت حقیقت میں ایک قسم کی دعا اور امید ہے، پیغمبروں اور اوصیاء کی خصوصیات میں نہیں ہے، اللہ تعالی کا کسی کی شفاعت قبول کرنا حتمی نہیں ہے بلکہ شفاعت فقط خدا کا لطف اور احسان ہے اسکی اجازت اور رضایت کے بغیر نہیں ہوتی اور روایات اسکے حوالے سے متواتر ہیں۔ محمد بن عمرو بن عاص پیغمبر سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا کہ جو بھی اللہ تعالی سے میرے لیے بلندی درجات کی دعا کرے تو وہ شفاعت کا مستحق ہو جاتا ہے اس روایت کو مسلم نے نقل کیا ہے.[23]

اگر شفاعت دعا کی طرح ہو تو انبیاء اور اولیاء سے التماس دعا کی شکل میں طلب کی جاتی ہے اور دنیا اور آخرت کے امور میں دوسروں کی نجات اور انکی حاجت روائی کے لیے ایک مخصوص دعا کی شکل میں ہوگی۔ اس بیان کی بنیاد پر کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا ہے کہ اس قسم کا طلب ہر شخص کے لیے جائز ہے اور یہ ایسا ہے جسے اپنے بھائیوں سے دعا کی درخواست کرتے ہو۔ اس حوالے سے زندوں اور مردوں میں بھی کوئی فرق نہیں ہےاور اسکی دلیل وہ متوتر روایات ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ مردے سنتے ہیں۔

اگر شفاعت سے مراد ایسا منصب ہو جو اللہ تعالی نے اپنے پیغمبروں اور اولیاء کو عطا کیا ہے اور وہ اللہ تعلی کی عمومی اجازت کی بنا پر لوگوں کو جہنم سے نجات دیتے ہیں اس معنی میں کہ اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کو عمومی اجازت دی ہوئی ہے کہ  قیامت کے دن بعض جہنمیوں کو جہنم کی آگ سے نجات دے۔ یہ والی شفاعت قیامت سے مخصوص ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دنیا میں ہر شخص جب پیغمبر اور اولیاء سے شفاعت طلب کرتا ہے تو اسکی مراد شفاعت کا پہلا معنی ہوتا ہے.[24]

مؤلف آگے لکھتا ہے کہ کاش میں جانتا کہ طلب شفاعت میں کس چیز سے انکار کیا جاتا ہے؟ آیا مردوں سے مخاطب ہونے کی وجہ سے ہے جو اگر عیب ہو بھی تو کفر و شرک نہیں ہے۔ یا اس امر کی نسبت غیر اللہ کی طرف دینے کی وجہ سے شفاعت کا انکار کیا جاتا ہے؟ یہ بات بھی پہلی والی بات سے زیادہ تعجب انگیز ہے کیونکہ اگر کوئی شخص ایسے شخص کے لیے دعا کرے یا اس کی حاجت روائی کے لیے کوشش کرے جو اپنے مولا سے کوئی حاجت طلب کرتا ہے تو ایسا شخص عبودیت سے خارج نہیں ہوتا ہے اور خاص طور جب اس مولا کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہو۔ اس کے علاوہ احادیث میں ایسے امور بھی نظر آتے ہیں جو اس بات پر گواہ ہیں کہ شفاعت سے دنیاوی اور اخروی نقصانات سے نجات مل جاتی ہے.[25]

آثار

شیخ جعفر کاشف‌الغطا نے علمی اور عملی دونوں محاذوں میں وہابیت کا مقابلہ کیا ۔ انہوں نے وہابیت کے مقابلے میں شہر نجف کے دفاع کرتے ہوئے جنگ لڑی۔ جب وہابیت کا فتنہ عراق تک پہنچ گیا اور کربلا اور نجف پر انہوں نے حملہ کیا تو شیخ جعفر کاشف‌الغطا، شہر نجف، اسکے مقدسات اور وہاں کے مومنین کا دفاع کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسلحہ ہاتھ میں لیا اور دیگر علماء، طلاب اور لوگوں کو بھی مسلح کیا۔ انہوں نے حملہ آوروں کے ساتھ جنگ کی اور بالآخرہ انکو بھاگنے پر مجبور کیا۔ اسکے بعد حکم دیا کہ شہر کے گرد دیوار بنائیں تاکہ وہابیوں کے حملے سے لوگ محفوظ رہیں.[26] انہوں نے علمی مقابلے میں بھی «منهج الرّشاد لمن أراد السّداد» کے عنوان سے ایک کتاب لکھ کر وہابیوں کے نظریات پر تنقید کی

کاشف‌الغطاء نے فقه، اصول اور کلام میں متعدد کتابیں تالیف کی ہیں۔ اسکی اہم ترین کتاب کا نام کشف الغطاء ہےاسی کتاب کو لکھنے کی وجہ سے «کاشف‌الغطا» کے نام سے مشہور ہوا۔ اسکی دیگر مشہور کتابوں میں سے ایک منهج الرشاد لمن أراد السّداد ہے جو وہابی نظریات کی رد میں لکھی گئی ہے۔ ذیل میں کاشف‌الغطاء کی بعض تالیفات کا نام لکھا جا رہا ہے:

۱. إثبات الفرقة الناجیة بین الفرق الإسلامیة؛

۲. أحکام الأموات؛

۳. بغیةالطالب في معرفة المفروض و الواجب؛

۴. الحق المبین في تصویب المجتهدین و تخطئة جهال الأخباریین؛

۵. شرح قواعد علامهحلی، که کاشف‌الغطا بر برخی ابواب مکاسبِ آن تا مبحث خیارات، شرح زده است؛

۶. العقائد الجعفریة؛

۷. کشف الغطاء عن مبهمات الشریعة الغراء؛

۸. منهج الرشاد لمن أراد السّداد.[27]

"منهج الرشاد لمن أراد السّداد" سب سے پہلی کتاب ہے جو شیعہ علماء کی طرف سے محمد بن عبدالوهاب کے نظریات کی رد میں لکھی گئی ہے۔ مؤلف نے اس کتاب میں محمد بن عبدالوهاب کے تمام نظریات کو جمع کر کے ان پر تنقید کی ہے۔ "منهج الرشاد لمن أراد السّداد" کو لکھنے کا ماجرا یہ ہے کہ عبدالعزیز بن محمد بن سعود[28]" نے شیخ جعفر کاشف الغطاء کو ایک خط لکھا اور اس میں شیعوں کو عقیدہ اور رفتار میں شرک کرنے کی تہمت لگائی۔ شیخ جعفر کاشف الغطاء نے عبدالعزیز خط کے جواب میں "منهج الرشاد لمن أراد السّداد" کے عنوان سے کتاب لکھی۔

"عبد العزيز بن محمّد بن علي آل عبد اللطيف" نے کتاب "دعاوي المناوئين لدعوة الشيخ محمّد بن عبد الوهّاب"  میں لکھا ہے: (( و كتب جعفر النجفي مؤلفات بعنوان (منهج الرشاد لمن أراد السداد) ، وكان سبب تألفيه هو اطلاعه على كتاب من عبد العزيز بن سعود - كما ذكر ذلك في مقدمة كتابه -، فصنف هذا الكتاب،)) شیخ جعفر کاشف الغطاء نے " منهج الرشاد لمن أراد السداد" کے عنوان سے کچھ مطالب لکھے ہیں، شیخ جعفر کا عبدالعزیز کی تحریر سے آگاہ ہونا سبب بنا کہ وہ یہ کتاب لکھے۔ عبدالعزیز کے خط کا متن دستیاب نہیں ہے، شیخ جعفر کاشف الغطاء نے اپنے خط میں عبدالعزیز کے خط کے فقط کچھ حصوں کو ذکر کیا ہے اس طرح عبدالعزیز کے خط کے کچھ حصوں سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ شیخ جعفر کاشف الغطاء نے یہ خط 1210 ہجری کو وہابیوں کا کربلا پر حملہ کرنے سے آٹھ سال پہلے اور انکا نجف پر حملہ کرنے سے گیارہ سال پہلے لکھا ہے۔

موضوع میں رہنا، علمیت، ادب کی رعایت، کاشف الغطاء کی طرف سے عبدالعزیز لکھے گئے خط کی نمایاں خصوصیات میں سے ہیں۔ شیخ جعفر کاشف الغطاء، اس کتاب میں عبدالعزیز سے مخاطب ہوئے ہیں اور اس سے مخاطب ہوتے ہوئے "اخی" (میرے بھائی)، "اقسم علیک" (آپ کی قسم) جیسے محبت آمیز جملوں سے استفادہ کیا ہے.[29] انہوں مسلسل وعظ اور نصیحت کے اسلوب سے استفادہ کیا ہے اور عبدالعزیز کو موت اور دنیاوی زندگی کے زوال سے متنبہ کیا ہے۔ کاشف الغطاء نے اس کتاب میں احتجاج اور جدل کے قواعد کے مطابق بات کی ہے اور عبدالعزیز کے نزدیک جو چیزیں مسلم اور مقبول ہیں ان سے استفادہ کیا ہے؛ انہوں نے فقط ان احادیث سے استفادہ کیا ہے جو اہل سنت کی صحاح ستہ میں ذکر ہوئی ہیں۔

یہ کتاب مقدمہ، مقاصد اور خاتمہ پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا مقدمہ تین فصلوں پر مشتمل ہے، ان فصلوں میں « نیت کا مسئلہ»،« آیات کے ظواہر اور روایات میں اختلاف »، اور اسی طرح «مشتبہ امور میں تشخیص کا معیار» جیسے موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔

مقاصد کے حصہ میں آٹھ موضوعات کی چھان بین کی گئی ہے : 1.کفر کی اقسام؛ 2.عبادت کا معنی؛ 3.غیرخدا کے لیے ذبح کرنا؛ 4.غیرخدا کے لیے نذر کرنا؛ 5.غیرخدا کی قسم کھانا؛ 6. استغاثہ؛ 7. توسل؛ 8. شفاعت.

اس کتاب کا خاتمہ بھی چار ابواب پر مشتمل ہے، پہلا باب «موت کے بعد مردوں کی زندگی»، کے بارے میں، دوسرا باب « قبور کی زیارت کے بارے میں»، تیسرا باب «قبور اور ان جیسی چیزوں سے تبرک کرنے»، کے بارے میں ہے اور بالآخرہ چوتھا باب «قبور کے اوپر عمارت تعمیر کرنے کے بارے میں» لکھا گیا ہے.[30]

کاشف الغطاء نے اس کتاب کے ایک حصہ میں کہا ہے: (( کسی مسلمان کو اس بات پر شک نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص عبادت کی نیت سے ایک حیوان غیر خدا کے لیے قربانی کرے، مثال کے طور پر بت پرست جو اپنے بتوں کے لیے قربانی کرتے تھے اور قربانی کرتے وقت اس بت کا نام زبان پر جاری کرتے تھے، یقینا ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے؛ چاہے اس غیرخدا کی الوہیت اور خدائی کا معتقد ہو یا نہ ہو، یا اسکی نیت یہ ہو کہ غیر خدا اور یہ قربانی انکو خدا کے نزدیک کرے یا اس طرح کی نیت نہ ہو؛ کیونکہ خود یہ عمل غیر خدا کی عبادت ہے، لیکن اگر کوئی پیغمبروں یا اوصیاء اور مومنیں کی نیابت میں قربانی کرے تاکہ اس عمل کا ثواب انکو ملے، جیسے کہ ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں یا نماز پڑھتے ہیں اور اسکا ثواب مختلف اشخاص کے نام ہدیہ کرتے ہیں یا انکے لیے دعا کرتے ہیں اور تمام نیک کاموں کو اس نیت سے انجام دیتے ہیں اور ان تمام اعمال کا بہت بڑا ثواب ہے اور پیغمبروں، اوصیاء اور مومنین کے لیے قربانی کرنے والا یا کسی بھی غیراللہ کے لیے قربانی کرنے والے کی نیت فقط یہی ہوتی ہے کہ اس کا ثواب انکو ملے۔۔۔۔ اور میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جب سے اپنے آپ کو پہچانا ہے اس وقت سے لے کر آج تک میں نے نہ دیکھا ہے نہ سنا ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی نے کسی حیوان کو ذبح یا نحر کیا ہو اور قربانی کرتے وقت پیغمبر یا وصی یا خدا کے کسی نیک بندہ کا نام لیا ہو اور اسکی نیت صرف یہ ہو کہ اس قربانی کا ثواب ان بزرگوں کو ہدیہ کرے۔ اب آپ کی طرف سے اقتدار سنبھالنے سے پہلے کچھ لوگ آپ کے اطراف میں ایسے عقائد اور اعمال کے ساتھ تھے تو گھر کا مالک جو کچھ گھر میں ہے اس سے وہ خود ہی زیادہ آگاہ ہے.))[31]

وفات

سرانجام شیخ جعفر کاشف الغطاء مذہب اور امت اسلام کی خدمت کرتے ہوئے ایک عمر گذارنے کے بعد  1227 یا 1228ہجری کو اپنی ولادت کی جگہ نجف اشرف میں 74 سال کی بابرکت زندگی گذارنے کے بعد پروردگار سے جا ملے اور اپنی ابدی زندگی کا آغاز کیا اور عمارہ محلہ میں دفن ہوئے.[32]

 


 کتابنامه

۱. امین، سیدمحسن، أعیانالشیعة، تحقیق: حسن امین، بیروت: دار التعارف، 1403ق.

۲. حبیب‌آبادی، محمدعلی، مکارمالآثار در احوال رجال دو قرن 13 و 14، اصفهان: نفائس مخطوطات اصفهان، چاپ اول، 1364ش.

۳. کاشف‌الغطا، جعفر، منهج الرشاد لمن أراد السّداد، لبنان: مرکز الغدیر للدراسات الإسلامیة، چاپاول، 1420ق.

۴. مدرس تبریزی، محمدعلی، ریحانةالأدب؛ في تراجم المعروفین بالکنیة و اللقب، تهران: کتابفروشی خیام، چاپ چهارم، 1374ش.

۵. نوری، حسین، خاتمة مستدرك الوسائل، تحقیق: مؤسسة آلالبیت(، قم: مؤسسة آل البیت(، 1415ق.

۶. کاشف الغطاء، جعفر، ترجمه منهج الرشادلمن اراده السداد، ناشر: آستان قدس رضوی، مترجم: تقدمی صابری، محمد، مشهد،1387.

 

[1]. قبیلہ «بنی‌مالک» سے منسوب جو عراق کے ایک قبیلہ سے منسوب ہے اور اس وقت«آل‌علی» کے نان سے معروف ہے۔  (امین، سیدمحسن، أعیان الشیعة، ج4، ص99).

[2].  «جناجیہ» منسوب ہے یا «جناجیا» سے جو شہر حلہ کا ایک دیہات ہے (ایضا).

[3]. حبیب‌آبادی، محمدعلی، مکارم الآثار در احوال رجال دو قرن 13 و 14، ج3، ص854.

[4]. مدرس تبریزی، محمدعلی، ریحانة الأدب، ج5، ص24.

[5]. نک: همان؛ نوری، حسین، خاتمة مستدرك الوسائل، ج٢، ص117.

[6]. مدرس تبریزی، محمدعلی، ریحانة الأدب، ج5، ص24 و 25.

[7]. امین، سیدمحسن، أعیان الشیعة، ج4، ص100.

[8]. همان، ص103؛ مدرس تبریزی، محمدعلی، ریحانة الأدب، ج5، ص24؛ حبیب‌آبادی، محمدعلی، مکارم الآثار در احوال رجال دو قرن 13 و 14، ج3، ص853 و 854.

[9]. امین، سیدمحسن، أعیان الشیعة، ج4، ص103 و 104؛ مدرس تبریزی، محمدعلی، ریحانة الأدب، ج5، ص24.

[10] . حسینی عاملی، سید جواد، مفتاح الكرامة في شرح قواعد العلامة للفقيه، تحقیق: محمدبافر، خالصی، ناشر: آل البیت علیهم السلام، قم، بی تا، ج1، ص3.

[11] . حكيم، حسن عيسى، المفصل في تاريخ النجف الأشرف، 10جلد، المكتبة الحيدرية - ايران - قم، چاپ: 1، 1427 ه.ق. ج‏5 ؛ ص98

[12] . خاتمه مستدرک الوسائل.

[13] . انصاری، شیخ مرتضی، مکاسب المحرمة، تحقیق: محمد جواد رحمتی، ناشر: دارالذخائر، قم 1411ه.ق.ج1، ص56

[14] . کاشف الغطاء، جعفر، ترجمه منهج الرشادلمن اراده السداد، ص55.

[15] . همان، ص56.

[16] . همان، ص65

[17] . همان، ص68.

[18] . همان، ص72.

[19] . همان، ص76.

[20] . همان، ص83

[21] . همان، ص86

[22] . همان، ص 93.

[23] . همان، ص 94.

[24] . همان، ص98.

[25] . همان، ص99.

[26]. امین، سیدمحسن، أعیان الشیعة، ج4، ص100 و 101.

[27]. همان، ص104؛ همان.

[28] .  ۱۷۶۵ سے۱۸۰۳ کے سالوں میں سعودی عرب کی پہلی حکومت کا دوسرا حکمران جو سعود کا پوتا ہے.

[29] . کاشف الغطاء، شیخ جعفر، منهج الرشاد لمن أراد السداد، تحقیق: الدكتور جودت القزويني، ناشر: مركز الأبحاث العقائدية،ص7.

[30]. کاشف‌الغطا، جعفر، منهج الرشاد لمن أراد السّداد، ص121 و 122.

[31] . همان، ص80 و 83

[32]. امین، سیدمحسن، أعیان الشیعة، ج4، ص99؛ مدرس تبریزی، محمدعلی، ریحانة الأدب، ج5، ص24.

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ