محمد اسماعیل المقدم اسکندریہ میں مکتب الدعوۃ السلفیہ کے بانی اور معنوی باپ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ اسی طرح وہ سلفی گروہوں کے درمیان بڑی شہرت رکھتے ہیں اور ان گنے چنے افراد میں سے ہیں جسے مختلف اسلامی تحریکیں اور تنظیمیں چاہے سیاسی ہوں یا جہادی مانتی ہیں۔
ملک :  مصر

اسماعیل مقدم  اسکندریہ میں سلفیت کے معنوی باپ

محمد اسماعیل المقدم جو ابی فرج سے معروف ہیں 1952 کو اسکندریہ میں پیدا ہوئے۔ وہی نشو نما پائی اور تنظیم " انصار السنه المحمدیه" کے چاہنے والوں میں سے تھے جو اس دور میں مصر میں مقبول رہی تھی۔ انہوں نے میڈیکل کالج کے سرجری کے شعبہ میں اپنی تعلیم کاآغاز کیا اور اسکے بعد الازہر یونیورسٹی میں فقہ کے موضوع میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔ میڈیکل کالج میں طالب علمی کے دوران انکی قابل ذکر تعداد میں علمی تحقیقات شائع ہوئیں۔ مسجد عبدالرحمن جو اسکندریہ میں سلفیت کے سب سے پہلے مرکز کے طور پر پہچانی جاتی ہے، میں بہت ساری دینی کلاسیں پڑھاتے تھے اور اسی طرح جیزہ شہر میں بھی کلاسیں پڑھاتے تھے۔

1970عیسوی کی دہائی کے آغاز میں مصر کی یونیورسٹیاں الجامعه الاسلامیه کے نام سے بڑھتی ہوئی سیاسی اسلام کی تحریک سے آگاہ ہو گئیں۔ اس تحریک کے اہم ترین افراد کے نام یہ تھے: عصام العریان، عبدالمنعم ابوالفتوح ، حلمی الجزار، محمد عبدالفتاح ابو ادریس، ناجح ابراهیم، کرم زهدی ، ابوالعلا ماضی، عصام سلطان   

المقدم نے جوانوں کو اسلامی گروپ کا ممبر بنانے کے لیے کیمپ لگانے اور اسکو منظم کرنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ لیکن  انور سادات کے حکم سے اخوان المسلمین کے بہت سارے لیڈروں کی جیل سے آزادی کے بعد اخوان المسلمین نے جوانوں کو کنٹرول کرنے اور اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور جوانوں کی قابل ذکر تعداد اخوان المسلمین میں شامل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور بچے کچے جوان کرم زھدی کی بنائی ہوئی اسلامی تنظیم میں شامل ہو گئے۔

اس دور میں اسماعیل مقدم نے احمد فرید، سعید عبدالعظیم، محمد عبدالفتاح ابو ادریس، کے ساتھ ملکر 1977 میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جو آج تک الدعوة السلفیه کہلاتی ہے۔ حزب النور انکا سیاسی بازو تھا جو واحد اسلامی سیاسی پارٹی تھی جس نے مصر کی پارلیمنٹ میں چند سیٹیں حاصل کی تھیں۔

اسماعیل مقدم اور جهیمان العتیبی کی تحریک

اسماعیل المقدم ، المهدی المنتظر کے واقعہ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار ہو گئے جو جهیمان العتیبی کے ذریعے مسجد الحرام میں رونما ہوا تھا لیکن بہت سارے علماء من جملہ سعودی عرب کے مفتی بن باز نے انکی آزادی کے لیے کردار ادا کیا۔ اسی طرح 1947 کو خفیہ ادارے کے تحت چلنے والے فوجی سکول میں پیش آنے والے واقعہ میں بھی المقدم کا نام لیا گیا۔

اسماعیل مقدم اپنے دروس اور کتابوں میں حالات حاضرہ پر گفتگو کرنے کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ فقط  اجتماعی اور سیاسی موضوعات پہ درس دیتے ہیں۔ وہ "سلفی تحریکوں کو تجویز" کے عنوان سے اپنے ایک درس میں سلفی گروہوں کو شدت آمیز رویہ کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے جہادی گروہوں کے شبہات جیسے مفہوم جہاد اور حاکموں کے خلاف قیام میں خلط پر بحث کی ہے۔ اسی طرح وہ ایمن الظواهری کے مقابلے جواب دینے کے مقام پر آگئے و نیز مسلمان ممالک کو کافر قرار دینے کا جو دعوے کرتا ہے انکا جواب دیا۔

حزب الله  کے خلاف آتشی خطاب

2006 کو لبنان پر اسرائیلی حملہ کے دوران المقدم نے سید حسن نصر الله کی رہبری میں چلنے والی تنظیم حزب اللہ کے خلاف ایک سخت تقریر کی۔ اس تقریر کے نتیجہ میں اخوان المسلمین کے اعضاء نے ان پر حملہ کیا۔ اس دور میں اخوان المسلمین فلسطین کے اھداف کی حمایت کرتی تھی اور نصر اللہ کو فلسطین کے دفاع کی علامت کے طور پر معرفی کرتے تھے۔ لیکن یہ حملہ مقدم کو ایران کے شیعہ منصوبہ کے خلاف انکے منفی موقف سے دست بردار نہ کر سکا۔ اس نے اس موضوع پر بہت ساری تقریریں کی اور اپنے مکتوبات میں عرب علاقوں میں ایران کے منصوبہ پر بہت لکھا۔

سیاسی نقطہ نظر میں تبدیلی

25 جنوری 2011 کے انقلاب سے پہلے المقدم بے فائدہ ہونے کے بہانے مظاہروں کی مخالفت کرتا تھا۔ جبکہ انقلاب کے بعد  الدعوه السلفیه تحریک نے حسنی مبارک کی زبردستی استعفا سے استفادہ کیا۔ المقدم نے شیخ یاسر برهامی ، سعید عبدالعظیم، علی حاتم ، محمد عبدالفتاح ابی ادریس، دکتر احمد فرید، احمد هتیبه  کے ساتھ ملکر "الدعوة السلفیه" اکیڈمی کی بنیاد رکھی ہے۔  محمد عبدالفتاح ابی ادریس، اکیڈمی کے پرنسپل کے عنوان سے اور یاسر برهامی اور اسماعیل المقدم دو معاون کے عنوان سے منتخب ہو گئے۔

 انقلاب سے پہلے المقدم معتقد تھا کہ سیاسی فعالیت سے وقت بھی اور ادارہ بھی ضائع ہو جاتا ہے لیکن انقلاب کے بعد 25 جنوری کو مصر میں الدعوة السلفیه کو سیاسی زندگی میں پہچنوانے کے لیے ایک سیاسی پارٹی بنانے کی طرف مائل ہوئے۔ اسی لیے 12 مئی 2011 کو حزب النور کی بنیاد رکھی گئی اور الدعوة السلفیه کی واحد ترجمان بن گئی اور انقلاب کے بعد ہونے والے  پارلیمنٹ کے پہلے انتخابات میں 20٪ ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئی اور پارلیمنٹ میں 111 سیٹیں حاصل کر لیں۔

30 جون 2013 کے واقعات اور محمد مرسی کا اقتدار سے برطرف کیے جانے کے بعد اسماعیل المقدم نے اپنے دروس اور فتووں کی چھٹی کر دی اور اعلان کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک فراڈ اور دھوکہ ہے اور وہ اپنی تمام فعالتوں سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے۔ الدعوة السلفیه نے بھی اعلان کر دیا کہ المقدم نے اس ادارے میں کام کرنا چھوڑ دیا ہے جو اسکی جو اسکی صحت سے مربوط ہے۔

المقدم 2013 سے سوائے دو دفعہ کے وہ بھی تقریر کرنے کے لیے، ہرگز عوام کے سامنے نہیں آئے۔

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ