ملک :  كویت

یوسف بن سید هاشم رفاعی 1351 ہجری (1932عیسوی) کو کویت میں پیدا ہوئے. انہوں نے کویت کی ادبیات کالج سے تاریخ کے موضوع میں اپنی تعلیم مکمل کی ۔ رفاعی کے عہدوں میں من جملہ دو دفعہ کویت کی پارلیمنٹ کا ممبر منتخب ہونا اور پوسٹ اور بجلی کی وزارت سنبھالنے کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ «معهد الإیمان الشرعی»،«الاتحاد العالمی الإسلامی للدعوة و الإعلام» اور « الجمعیة الکویتیة لمساعدة مسلمی ینجلادش» جیسے مدرسے بنانا اور «البلاغ» مجلہ اور روزنامہ «جریدة السیاسية» کی بنیاد رکھنا انکی دیگر فعالیتوں میں شمار ہوتی ہیں۔ اسی طرح وہ کویت کی صوفیہ رفاعیہ کی طریقت کے سربراہ بھی ہیں.[1]

رفاعی کے تمام مکتوب آثار وہابی نظریات کے مقابلے میں لکھے گئے ہیں۔ انکی کتاب «الصوفیة و التصوف  ضوء الکتاب و السنة» تصوف کے بارے میں وہابیت کی طرف سے اٹھائے گئے شہبات کا جواب دینے کے لیے لکھ گئی ہے۔ اس کتاب میں تصوف کے بارے میں کیے گئے استفتاء کے وہ جوابات بھی ذکر ہوئے ہیں جو شام،اردن، مصر،امارات اور لبنان کے مفتیوں نے دیے ہیں، ان تمام مفتیوں نے صراحت سے کہا ہے کہ دین اسلام تصوف کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ہے۔

رفاعی کی  ایک دوسری کتاب «نصیحة لإخواننا علماء نجد» ہے جو شام کے ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی کے مقدمہ کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ رفاعی نے اس کتاب میں سعودی عرب کے معاصر وہابی علماء کے اعتقاد اور عمل پر اپنے 57 اعتراضات بیان کیے ہیں ۔ ان اعتراضات میں سے اہم ترین اعتراضات اہل سنت کے تمام گروہوں کی تکفیر کرنا، مکہ و مدینہ میں اسلامی آثار کو مٹانا، کتابوں میں تحریف اور شعائر اسلامی کی مخالفت کرنا- مثلا قبر مطہر رسول اللہ کی زیارت-ہیں۔

رفاعی کی تیسری کتاب «الرد المحکم المنیع»یا«عقیدة أهل السنة والجماعة» کے نام سے ہے جو وہابیت کے بعض معاصر لکھاریوں کی جانب سے سید محمد بن علوی المالکی کے نظریات پر کیے گئے اعتراضات کے جواب میں لکھی گئی ہے.  

[1] http://www.rifaieonline.com/index.php?page=36&thepage=4

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ