ملک :  مصر

 

محمود سعید بن محمد ممدوح بن عبدالحمید بن محمد بن سلیمان قاهری مصری، اہل سنت  شافعی، محدث اور عالم  ہے اور معاصرین میں سے ہے۔ سال 1371ق ماه جمادی الاولی میں قاہرہ کے نواح میں واقع کوبری میں پیدا ہوا۔اس کا شمار وہابیت کے مخالفین میں ہوتا ہے۔

زندگی نامه

وہ  ہائی سکول کا ایک جوان تھا جب اس کی ملاقات ابراہیم یحیی سے ہوئی اور یہ ملاقات اور آشنائی  سبب بنی کہ وہ  علوم حدیث کی طرف راغب ہو اور اس نے آہستہ آہستہ حدیث کا مطالعہ شروع کردیا۔کچھ عرصے بعد  وہ علم حدیث کے استاد احمد محمد صقر کے پاس چلا گیا اور پہلے کی نسبت زیادہ  دلچسپی سے حدیث کے کچھ دروس ان کے پاس پڑھے۔محمود سعید ممدوح نے بہت سارے اساتید اور مشایخ کے  پاس درس پڑھا  لیکن دو اساتید ان میں سے ایسے تھے جنہوں نے  ممدوح کو متاثر کیا اور وہ تھے عبدالعزیز و عبدالله غماری۔

اس شافعی عالم نے سال 1405ه.ق میں ملک محمد الخامس المغرب یونیورسٹی سے «الاتجاهات الحدیثیة فی القرن الرابع عشر» کے موضوع پر اپنی پی ایچ ڈی کی  ڈگری مکمل کی۔.[1]

وہ سال ۱۴۰۱ میں عربستان چلا گیا اور ۱۴۰۱ سے ۱۴۰۶ کے دوران  وہ مکہ مکرمہ  میں رہا،خانہ خدا کے جوار میں۔ اور اس دوران شافعی علماء جیسے عبدالله لحجی، شیخ اسماعیل الزین، شیخ احمد جابر، شیخ محمد عوض منقش زبیدی کے دروس میں حاضر ہوا اور علوم جیسے حدیث، فقه شافعی، توحید، نحو، صرف و بلاغت ان سے سیکھے۔ممدوح  نے مکہ میں اپنی اس سکونت کے دوران بہت سارے رسائل اور کتابیں   لکھیں  جیسے«وصول التَّهاني - سُنية السُّبحة  و تنبيه المسلم بتعدي الألباني على صحيح مسلم»۔ اس کی علمی قابلیت کی وجہ سے  مدرسہ دار العلوم مکہ میں اس کو تدریس کا موقع ملا ۔لیکن یہ سلسلہ جاری نہیں  رہ  سکا۔بعض وہابیوں کی جاسوسی  اور تہمت کی  وجہ سے گرفتار ہوا اور دو ہفتے تک جیل میں رہا۔ سال ۱۴۰۶ میں مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوا  اور دبئی چلا گیا۔ وہاں پر وزارت اوقاف امارات میں محقق کے طور پر کام  شروع کیا ۔ ممدوح نے اپنی کتاب "نثر الجواهر و الدرر فی علماء القرن الرابع عشر"  میں مکہ سے نکلنے کے بارے میں لکھا ہے: ((واجبرت علی الخروج من مکة المکرمة، اخرجنی منها..... هدانی الله و ایاهم)) ممدوح دبئی میں بھی ذیادہ دیر نہیں رہ  سکا اور مجبورا وہاں سے مصر چلا گیا۔ محمد سعید ممدوح سال ۱۴۲۷  ہ۔ق۔ میں  مصر لوٹا اور ۱۴۲۸ سے ۱۴۳۵  تک بعنوان مشاور موسسہ اقراء میں کام میں مشغول ہوگیا۔.[2]

سعید ممدوح از نظر علما

محمد بن عمر السالک الشنقیطی:وہ کتاب «الإعلام باستحباب شد الرحل لزیارة قبر خیر الانام علیه الصلاة و السلام» کی تعریف میں جسے ممدوح نے وہابیوں کی نقد میں لکھی ہے، لکھتے ہیں: میں نے دیکھا ہے برادر فاضل شیخ محمود سعید ممدوح نے اس عنوان کے ساتھ ایک رسالہ لکھا ہے جس کا نام  اس کے مدعی کے مطابق ہے ، اس سے پہلے بھی بزرگان نے  جیسے تقی الدین سبکی نے اس موضوع کے متعلق کتابیں لکھیں ہیں۔امید ہے خدا وند متعال اس کو  اس کی اس کوشش میں کامیابی عطا کرے گا  اور اس کی غلطیوں کو چھپا ئے گا۔.[3]

 

محمود سعید ممدوح کے نظریات

حجیت خبر واحد

محمود سعید ممدوح چونکہ حدیث میں ایک ماہر شخص تھے وہ بھی  دوسرے محدثین کی طرح  صحیحین کو  قبول کرتے ہیں۔ اس نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے «تنبیه المسلم الی تعدی الالبانی علی صحیح مسلم»، اس کتاب میں اس نے احادیث اہل سنت کا دفاع کیا ہے اور صحیح مسلم پر البانی کے اشکالات کا جواب دیا ہے۔ البانی کی طرف سے روایات مسلم کی تضعیف کو اس نے اجماع کے خلاف قرار دیا ہے اور لکھتا ہے تمام  اہل سنت اس بات کے قائل ہیں کہ صحیحین کی روایتیں متفق علیہ ہیں  اور البانی اس اجماع کے خلاف کھڑا ہوا ہے۔ وہ  صحیحین کی احادیث کی صحت اور قبولیت  کی ہمایت میں ابن صلاح کی کچھ عبارتیں  اس کتاب میں  ذکر کرتا ہے :

« و حاصل معه لاتفاق الامة علی تلقی ما اتفقا علیه بالقبول و هذا القسم مقطوع بصحته ...وقد کنت امیل الی هذا واحسبه قویا ثم بان لی ان المذهب الذی اخترناه اولا هو الصحیح لأن الظن من هو معصوم من الخطاء لا یخطیء والامة فی اجماعها معصومة من الخطأ»

 بعض قائل ہیں کہ جو احادیث صحیح میں وارد ہوئی ہیں وہ مفید ظن ہیں لیکن جب امت نے ان کو قبول کیا ہو تو اس صورت میں ان پر عمل واجب ہے اور اس قول کی طرف میرا بھی رجحان ہے چونکہ اس شخص کا ظن جو کہ خطاء سے پاک ہو وہ خطا نہیں کرسکتا اور امت بھی خطاءسے پاک ہے۔اس بناء پرمحمود سعید ممدوح کی عبارت سے دو نکتے سامنے آتے ہیں:

۱۔ وہ خبر واحد کو مفید ظن سمجھتا ہے اور ان کے  ظنی الصدور ہونے کو اصل قرار دیتا ہے۔

۲۔ خبر واحد جو کہ ظنی الصدور ہو اگر صحیحین میں اس کا ذکر ہوا ہو اور امت نے انہیں قبول کیا ہو وہ اخبار واجب ہونگی، چونکہ امت معصوم ہے اگر امت   انہیں  قبول تلقی  کرےتو پھر اس خبر پر عمل کرنا واجب ہوجاتا ہے.[4]

ایمان و کفر

اس نے ایمان کو دو عناصر پر مشتمل جانا ہے:پہلا یہ کہ  اللہ تعالی کی معرفت پر ایمان رکھنا اور دوسرا یہ کہ فاسد اعتقادات کو ترک کرنا۔اس بناء پر ممدوح نے  مذاہب اسلامی کے دیگر بزرگان کی مانند  ایمان کی تعریف امر قلبی اور تصدیق باطنی سے کی ہے اور عمل کو ایمان کی تعریف میں بیان نہیں کیا ہے،وہابیوں اور سلفیوں کے برعکس  جنہوں نے عمل کو ایمان میں داخل کیا ہے اور جس کی وجہ سے بہت سارے محذورات کا شکار ہوگئے ہیں۔اسی طرح سے وہ کفر کی تعریف میں یوں لکھتا ہے:زمانہ جاہلیت میں کفر کا معنی  اس آیت کی روشنی میں :« فلا تجعلوا لله اندادا و انتم تعلمون»[5]  اور دوسری آیات کی روشنی میں یہ تھا کہ مشرکین اپنے معبودوں کو خدا کا ہمتا قرار دیتے تھے۔اس بناء پر کیا ممکن ہے زمانہ جاہلیت کے مشرکین جو اپنے معبودوں کو خدا کا ہمتا قرار دیتے تھے  ان کو کہیں کہ وہ ربوبیت میں موحد تھے؟ یہ واضح طور پر قرآن کے خلاف ہے:«و ما قدروا الله حق قدره اذ قالوا ما انزل الله علی بشر من شیء»[6] ا۔ ابن عباس کہتا ہے ان  مشرکین کا خدا کے قادر ہونے پر ایمان نہیں تھا.[7] اس بناء پر محمد بن عبد الوہاب کا یہ کہنا ہمارے زمانے کے مشرکین کا کفر، پیامبر اسلام کے زمانے کے مشرکین سے شدیدتر ہے ، یہ بالکل غلط ہے۔.[8]

مفهوم عبادت

وہ علماء کی طرف سے عبادت کی تعریف کو بیان کرنے کے بعد لکھتا ہے:عبادت  کی  دو قسمیں ہیں: قلبی اور قالبی: قلبی یعنی اللہ پر ایمان رکھنا ہے اور قالبی عبارت ہے قیام، رکوع، سجود اور دعا سے۔اس بنا پر اگر قالب  ہو  تو اعتقاد قلبی کے بغیر یہ عبادت شمار نہیں ہوتی۔لہذا اگر کہیں نظر آتا ہے کہ بعض علماء  بت کےلئے سجدہ اور صلیب کو کفر جانتے ہیں اور سجدہ کرنے والے شخص کو کافر قرار دیتے ہیں  تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا سجدہ کفر کی علامت ہے خود کفر نہیں۔کلام خدا بھی : «و خروا له سجدا» یوسف کو سجدہ کرنے والوں کے عدم کفر پر ہے.[10]

توسل و شد رحال

اہل سنت اور ان کے علما کے اعتقادات میں سے ایک توسل اور زیارت کو جائز سمجھنا ہے۔ اس بارے میں انہوں نے بہت ساری  کتابیں لکھی ہیں۔ان کتابوں میں سے ایک «رفع المنارة لتخریج احادیث التوسل و الزیارة» ہے۔اس کتاب میں وہ لکھتا ہے کہ توسل اور زیارت کا مسئلہ ان مسائل میں سے ایک ہے جس کے متعلق بہت ساری کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔جو کتابیں تازہ توسل کے بارے میں لکھی گئی ہیں  ان میں سے ایک کتاب اس عنوان«الأخطاء الاساسیة فی توحید الالوهیة الواقعة فی فتح الباری» کے ساتھ لکھی گئی ہے۔اس کتاب کا مولف اپنی اس کتاب میں ابن حجر کی بہت مذمت کرتا ہے جوکہ مولف کی جہالت،تعصب اور غلو کی نشاندہی کرتا ہے۔اس کتاب میں خدا وند متعال کے فضل و کرم سے  توسل اور زیارت کے متعلق ساری حدیثیں میں نے جمع کی ہیں۔اس کتاب کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ میں ثابت کرسکوں کہ توسل میں اختلاف فروعات میں اختلاف شمار ہوتا ہے۔علمائے اسلا م کی طرف سے جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اور اجماع بھی اس پر موجود ہے کہ قبر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت ہے شد الرحال ہو یا اس کے بغیر ہو مستحب  ہے۔ اس بناء پر شد رحال کو حرام جاننا ایک بدعت ہے اور نصوص صریح اور اجماع علماء کے خلاف ہے۔[11]

وہ توسل کی تعریف میں لکھتا ہے: متوسل ہونے والا شخص صرف خدا کو پکارتا ہے اور خدا ہے جو کہ عطا کرنے والا،منع کرنے والا،نفع پہنچانے والا اور ضرر پہنچانے والا ہے لیکن متوسل دعا کی قبولیت کے لیے کسی کو وسیلہ قرار دیتا ہے جو کہ جائز ہے۔انہوں نے وسیلہ کو قربت کے معنی میں لیا ہے اور قربت بھی ایک امر مشروع ہے۔لیکن جس مورد کو اس نے مورد نزاع قرار دیا ہے وہ یہ ہے : نبی یا ولی یا اس کے مقام و منزلت کا واسطہ دینا۔وہ کہتا ہےجس مورد میں انہوں نے اختلاف کیا ہے اقوال سلف میں اس کا ذکر نہیں ہوا  کہ انہوں نے اسے حرام قرار دیا ہو بلکہ اس حرمت کی بدعت ساتویں صدی کے بعد شروع ہوگئی ہے.[12]

سماع موتی

محمود سعید  ممدوح نے تمام ان روایات کو جمع کیا ہے جو کہ پیامبر اسلام  کی قبر مبارک کی زیارت کے بارے میں ہیں اور ان روایات کے ثقہ ہونے کو ثابت کیا ہے۔ذیل میں ان میں سے چند ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

 ۱۔"من زارنی فی مماتی کان کمن زارنی فی حیاتی ومن زارنی حتی ینتهی الی قبری کنت له شهیدا یوم القیامة" اس حدیث کی تحقیق کے بعد وہ کہتا ہے کہ اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ اس روایت کی سند میں ایک راوی موجود ہے جو کہ مجہول ہےاور دار قطنی،ذھبی نے اس کی توثیق کی ہے  اور  ابن حبان نے اس کی تصحیح کی ہے.[13]

۲۔ "من صلی علیّ عند قبری سمعته ومن صلی علی نائیا ابلغته" خلاصہ یہ کہ اس حدیث کی سند بہت زبردست ہے اور جو شخص بھی اس حدیث کے وضعی ہونے کا حکم لگائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ابی شیخ کی روایت کا علم نہیں رکھتا۔اس بنا پر یہ حدیث ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں کے ادعا کو باطل کرتی ہے.[14]

۳۔ ما من احد یسلم علی الا رد الله علی روحی حتی ارد علیه» اس حدیث کو احمد، ابو داود اور بیھقی نے سنن کبری میں ذکر کیا ہے اور اس حدیث کی سند ابی صخر حمیدبن زیاد و یزید بن عبدالله بن قسیط نے ابی هریره  سے نقل کیا ہے۔اشکال یہاں پر حمید بن زیاد کی وجہ سے ہے جس کے بارے میں مصنف کہتا ہے کہ اس شخص کی روایات کو مسلم نے صحیح میں ذکر کیا ہے اور امت نے بھی ان احادیث کو قبول کیا ہے اور اسی وجہ سے حسن بن زیاد حسن الحدیث ہے۔لیکن یزید بن عبدالله نسائی و ابن حبان و ابن عبدالبر نے اس کی توثیق کی ہے.[15]

 

قبریں تعمیر کرنا

وہ قبر کو مسجد کے طور پر اپنانے کی  روایت کو  اس معنی میں کہ وہ قبر کے کنارے مسجد بنانے سے منع کرتی ہے،رد کرتا ہے اور لکھتا ہے:اگر یہ خیال کیا جائے کہ جو روایات اتخاذ قبر سے منع کرتی ہیں ان سے مراد قبروں کی تعمیر ہے تو یہ خیال غلط ہے اور غیر معقول ہے چونکہ  پہلی بات تو یہ ہے کہ صحابہ  اور تابعین ، مختلف زمانوں میں عقیدہ اور مذہب میں اختلاف کے باوجود  مسجد نبوی میں قبر بنانے کے جواز کے قائل تھے۔دوسری بات یہ ہے حضرت نے خود  خبر دی تھی کہ ان کی قبر مبارک  مسجد کے اندر ہوگی۔«مابین قبری و منبری روضة من ریاض الجنة»اور تیسری بات یہ کہ بہت ہی معتبر اسناد سے ثابت ہواہے کہ بہت سارے انبیاء مسجد خیف کے اندر دفن ہیں ۔چوتھی بات یہ کہ  صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضرت اسمائیل اور دیگر انبیاء مسجد الحرام میں دفن ہیں۔پانچویں بات یہ کہ صحابہ نے  مجاہد ابی بصیر  کی قبر  یا اس کی قبر کے کنارے عمارت بنائی ہے۔چھٹی بات یہ کہ نقل ہوا ہے حضرت عائشہ  جس کمرے میں پیامبر اسلام کی قبر مبارک تھی اس میں نماز پڑھتی تھی۔ساتویں بات یہ کہ  امت اس بات پر متفق ہے کہ میت کو ایک ایسی عمارت جس کی چھت ہو اس میں  دفن کرنا جائز ہے اور جمہور علماء نے ایسی عمارت میں نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے.[16]

لہذا البانی نے اپنی کتاب « تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد» میں مسجد کی تعمیر سے تین معانی جو بیان کیے ہیں : قبر پر سجدہ،قبر کی طرف سجدہ اور قبر پر مسجد تعمیر کرنا، ان کو  غلط کہا ہے۔ بلکہ عائشہ کی روایت سے پہلے والے دو معانی استفادہ ہوتے ہیں۔.[17]

تالیفات

اس نے ایک محدث کے عنوان سے بہت ساری کتابیں لکھی ہیں اور البانی نے  باب اعتقادات میں جن روایات سے تمسک کرکے غلط مطلب نکالا ہے ان پر تنقید کی ہے۔یہاں پر چند ایک موارد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

۱۔تنبيه المسلم إلى تعدي الألباني على صحيح مسلم» یہ کتاب اس نے صحیح مسلم کے بارے میں جو جسارت اور جرات کی تھی اس کی رد میں لکھی ہے۔

۲۔رفع المنارة لتخريج أحاديث التوسل والزيارة» یہ کتاب اس نے وہابیوں  کے باب توسل اور زیارت میں نظریات کی رد میں لکھی ہے۔اس بات کاذکر کرنا یہاں ضروری ہے کہ کتاب کئی دفعہ چھپ چکی ہے  اور ایران میں یہ کتاب نشر مشعر کے توسط سے ترجمہ ہوچکی ہے۔

۳۔ كشف السُتور عما أشكل من أحاديث القبور» یہ کتاب باب توسل اور قبروں کی تعمیر کے باب میں وہابیوں کے نظریات کی رد میں لکھی گی ہے۔

۴۔الإعلام باستحباب شد الرِّحال لزيارة قبر خير الأنام عليه وعلى آله الصَّلاة والسَّلام» یہ کتاب باب شدرحال اور زیارت قبور کےلیے قصد سفر میں، وہابیوں کے نظریات کی رد میں لکھی ہے۔محمد بن عمر السالک الشنقیطی: وہ کتاب «الإعلام باستحباب شد الرحل لزیارة قبر خیر الانام علیه الصلاة و السلام» کی تعریف میں جسے ممدوح نے وہابیوں کی نقد میں لکھا ہے، لکھتے ہیں: میں نے دیکھا ہے برادر فاضل شیخ محمود سعید ممدوح نے اس عنوان کے ساتھ ایک رسالہ لکھا ہے جس کا نام  اس کے مدعی کے مطابق ہے ، اس سے پہلے بھی بزرگان نے  جیسے تقی الدین سبکی نے اس موضوع کے متعلق کتابیں لکھیں ہیں۔امید ہے خدا وند متعال اس کو  اس کی اس کوشش میں کامیابی عطا کرے گا  اور اس کی غلطیوں کو چھپا ئے گا۔.[18]

۵۔القول المستوفي في توثيق عطية العَوفي» یہ کتاب باب وثاقت عطیہ عوفی کے بارے میں وہابیوں کے نظریات کی رد میں لکھی ہے۔

۶۔مباحثة السَّائرين بحديث اللهم إني أسالك بحق السَّائلين» یہ کتاب حدیث توسل کے دفاع میں لکھی ہے۔

۷۔إتحاف الأكابر بتصحيح حديث الطائر».یہ کتاب حدیث الطیر پر تحقیق ہے اور اس حدیث کی سند پر وارد کیے گئے اشکالات کے جواب دئے گئے ہیں۔

۸۔ وصول التَّهاني بإثبات سُنية السُّبحة والرد على الألباني».

۹۔الاحتفال بمعرفة الرُّوات الثِّقات الذين ليسوا في تهذيب الكمال»

۱۰۔ التَّعريف بأوهام من قسم السُّنن إلى صحيح وضعيف» در 6جلد.

۱۱۔ الاتجاهات الحدِّيثية في القرن الرَّابع عشر» یہ کتاب اصل میں شیخ محمود سعید ممدوح کا پی ایچ ڈی کا تھیسز تھا اور ابھی تک دو دفعہ چھپ چکا ہے۔

  • . «غاية التَّبجيل وترك القطع بالتَّفضيل»
  • . «تشنيف الأسماع بشيوخ الإجازة والسَّماع»، باب علم مصطلح الحدیث میں، کتاب دو جلدوں میں چھپ چکی ہے
  • . دراسات حديثية «تخريج» حول «مجمع الزوائد» للحافظ الهيتمي دس جلدوں میں
  • . دراسات حديثية «تخريج» على «زوائد السُّنن الخمسة على الصَّحيحن»، دو جلدوں میں.
  • «طي القرطاس يتعيين مذهب إدريس بن إدريس صاحب فاس».
  • . «المختصر في مراتب المشتغلين بالحديث في القرن الرابع عشر»
  • «المسعى الرَّجيح بتتميم النَّقد الصحيح».
  • «البغية والأمل في الجمع في الجرح والتَّعديل بين النَّصِ والعمل».
  • . «التَّعقيب اللطيف والانتصار لكتاب التَّعريف»
  • . «والمقصد الشَّريف لكتاب التَّعريف».
  • . «بشارة المؤمن بتصحيح حديث اتقوا فراسة المؤمن».
  • . «توجيه اللائمة لفتاوى اللجنة الدائمة».
  • . «تزيين الألفاظ بتتميم تذكرة الحفاظ».
  • . «إعلام القاصي والداني ببعض ما علا من أسانيد الفاداني».
  • . «تحذير السَّلف من كتب موضوعه على السَّلف»، أو «الأسانيد أنساب الكتب».
  • . «إسعاف المُلحين بترتيب أحاديث إحياء علوم الدين».
  • . «حصول المأمول بتفصيل أحوال الرَّاوي المجهول».
  • . «الشَّذا الفواح من أخبار سيدي الشيخ عبد الفتاح». طُبع مرات.
  • . «فتح العزيز بأسانيد السيد عبد العزيز».
  • . «ارتشاف الرَّحيق من أسانيد عبد الله بن الصَّدِّيق».
  • . «مسامرة الصديق ببعض أخبار سيدي أحمد بن الصديق».

 

حوالہ جات

ممدوح، محمود سعید، الاتجاهات الحدیثیة فی القرن الرابع عشر،ناشر: دار البصائر، قاهره، چاپ اول، 1430ه.ق. ص1.

[2] . المرعشلی، یوسف، نثر الجواهر و الدرر فی علماء القرن الرابع عشر، ص2154 و 2155.

[3] . الممدوح، محمود سعید، الإعلام باستحباب شد الرحل لزیارة قبر خیر الانام علیه الصلاة و السلام، ص9.

[4] . ممدوح، محمود سعید، تنبیه المسلم الی تعدی الالبانی، ناشر: مکتبة مجلد العربی، چاپ دوم، 1432ه.ق.ص10

[5] . سوره بقره، آیه 22.

[6] . سوره انعام، آیه 91.

[7] . ممدوح، محمود سعید، کشف الستور عما اشکل من احکام القبور،ناشر: دارالکتب المصریه،چاپ دوم 1429ه.ق. ص15الی 18.

[8] . ایضا. ص25.

[9] . سوره یوسف، آیه 100.

[10] . ممدوح، محمود سعید، کشف الستور عما اشکل من احکام القبور،ص 39.

[11] . ممدوم، محمود سعید، رفع المنارة لتخریج احادیث التوسل و الزیارة، ناشر: المکتبة الازهریه للتراث، قاهره، 2006م. ص15

[12] . ایضا، ص18.

[13] . ایضا ، ص 320الی 323.

[14] . ایضا ، ص351الی 354.

[15] . ایضا ، ص355و 356.

[16] . ممدوح، محمود سعید، کشف الستور عما اشکل من احکام القبور،68

[17] . ایضا ، ص74.

[18] . الممدوح، محمود سعید، الإعلام باستحباب شد الرحل لزیارة قبر خیر الانام علیه الصلاة و السلام، ص9. 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ